Explained with ayahs 40–43
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 64
یہاں سے آخر پیراگراف تک کی پوری عبارت آیت ما سبق کی تشریح کے طور پر ہے۔
سورة الشُّوْرٰی 65
یہ پہلا اصولی قاعدہ ہے جسے بدلہ لینے میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ بدلے کی جائز حد یہ ہے کہ جتنی برائی کسی کے ساتھ کی گئی ہو، اتنی ہی برائی وہ اس کے ساتھ کرلے، اس سے زیادہ برائی کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا۔
سورة الشُّوْرٰی 66
یہ دوسرا قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے سے بدلہ لے لینا اگرچہ جائز ہے، لیکن جہاں معاف کردینا اصلاح کا موجب ہوسکتا ہو وہاں اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کے بجائے معاف کردینا زیادہ بہتر ہے۔ اور چونکہ یہ معافی انسان اپنے نفس پر جبر کر کے دیتا ہے، اس لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
ساتویں صفت
(آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے…
Read the full tafseer →وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لاحب الظلمین (40)
انتقام میں توازن
پھر یہ کہ بدلہ لیتے بھی ہیں تو یہ نہیں کرتے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کیں۔ بلکہ وہ اس معاملے میں بھی پورا توازن قائم رکھتے ہیں۔ جواب میں صرف اتنی ہی کارروائی کرتے ہیں جو برائی کے ہم وزن ہو۔
کوئی انتقامی کارروائیں کوئی برائی نہیں ہے بلکہ قصاص ہے لیکن یہاں اس کو سیئۃ کے لفظ سے عربی زبان کے اس اسلوب کے مطابق تعبیر کیا گیا ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ بعض اوقات الفاظ مجانست کے اصول پر استعمال ہوتے ہیں، مثلاً دناھم کمادنورا، ظاہر ہے کہ اس میں کما دانوا بالکل کما فعلوا کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
40۔ 1 یہ (قصاص (بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…
Read the full tafseer →4 بدلہ کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتا نہیں محض سورة ً برائی ہوتی ہے۔ " سیئۃٍ " کا اطلاق اس پر مشاکلۃً کیا گیا۔
5 یعنی ظلم اور زیادتی تو اللہ کے ہاں کسی حالت میں پسند نہیں۔ بہترین خصلت یہ ہے کہ آدمی جتنا بدلہ لے سکتا ہے اس سے بھی درگزر کرے۔ بشرطیکہ درگزر کرنے میں بات سنورتی ہو۔
Read the full tafseer →آیت 40 { وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا } ”اور کسی برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے“
یہاں تقابل کے لیے سورة حٰمٓ السجدۃ کا یہ حکم ایک مرتبہ پھر ملاحظہ ہو : { وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } آیت 34 ”اور دیکھو ! اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے ‘ لہٰذا تم مدافعت کرو اس طریقے سے جو بہترین ہو“۔ اب بظاہر تو ان دونوں احکام میں تضاد contrast نظر آتا ہے ‘ لیکن قرآن کے ایسے مقامات کا مطالعہ اگر حضور ﷺ کی تحریک کے مختلف ادوار کے زمینی حقائق کی روشنی میں کیا جائے اور اس حوالے سے مکی اور مدنی ادوار کے حالات کے فرق کو مد نظر رکھا جائے تو تمام…
Read the full tafseer →58 یعنی اگر کوئی برائی اور زیادتی کا بدلہ لینا ہی چاہے تو اتنا ہی لے جتنی اس پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر اس کے معاف کردینے سے آپس میں صلح ہوسکتی ہو یا بگڑے ہوئے حالات سنور سکتے ہوں اور حالات کے بہتر ہوجانے کی بنا پر معاف کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا۔
59 یعنی اگر وہ بدلہ لینے میں زیادتی کرے گا تو وہ مظلوم ہونے کے بجائے خود ظالم بن جائے گا اور اللہ ظالموں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →45۔ (خواہ وہ ظالم، ظلم کی ابتداء کرنے والے ہوں یا جواب وانتقام میں حدود سے تجاوز کرجانے والے ہوں) (آیت) ” جزؤا ..... مثلھا “۔ جزائے سیۂ کو سئیہ کہنا ظاہر ہے کہ مجازا ہے۔ ورنہ درحقیقت یہ تو برائی کی سزا ہوئی نہ کہ خود کوئی برائی۔ (آیت) ” واصلح “ یعنی اپنے باہمی معاملات کو درست کرلیا۔ اے بینہ وبین خصمہ بالعفو والاغضاء (مدارک) (آیت) ” مثلھا “۔ یعنی سزائے جرم بھی درجہ جرم کی مناسبت ہی سے دی جائے۔ اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔ والمعنی انہ یجب اذا قوبلت الاساء ۃ ان تقابل بمثلھا من غیر زیادہ (مدارک) ھذہ الایۃ اصل کبیر فی علم الفقہ فان مقتضاھا ان تقابل کل جنایۃ بمثلھا (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →وجزؤ سیءۃ سیءۃ مثلھا فمن عفاواصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظلمین اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ‘ لیکن جو شخص معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ اللہ ظالوں کو پسند نہیں کرتا۔
اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ‘ البغی ظلم ‘ زنادتی۔ یَنْتَصِرُوْنَ یعنی برابر برابر انتقام لیتے ہیں ‘ زیادتی نہیں کرتے۔
ابن زید نے کہا : اللہ نے مؤمنوں کی دو قسمیں قائم کی ہیں : ایک وہ جو ظالموں سے ان کے ظلم کے برابر بدلہ لیتے ہیں ‘ دوسری قسم ان مؤمنوں کی ہے جو ظالموں کے ظلم کو معاف کردیتے ہیں۔ آیت میں اول الذکر صنف کا بیان ہے۔
اس آیت کی تشریح میں ابراہیم نے کہا : یہ لوگ ذلت کو پسند نہیں کرتے ‘…
Read the full tafseer →اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسے ہی جو شخص ظالم کے ظلم کو معاف کردے اور اس کا بدلہ نہ لے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →(1) وجزوا سیئۃ سیئۃ مثلھا : سرکشی کرنے والوں سے انتقام کا ذکر مدح کے انداز میں کرنے پر خطرہ تھا کہ انتقام میں حد سے تجاوز نہ ہوجائے اس لئے اس آیت میں کئی طرح سے زیادتی سے باز رکھنے کا اہتمام فرمایا، سب سے پہلے تو یہ کہہ کر ”جزوا سیئہ سیئۃ“ (برائی کا بدلا برائی ہے) حالانکہ بدلا تو برائی نہیں، مگر دونوں کی صورت ایک ہونے کی وجہ سے بدلے پر بھی ”سیئۃ“ کا لفظ بولا۔ پھر یہ پابندی لگائی کہ انتقام زیادتی کے عین برابر ہو، اس سے زیادہ نہ ہو ، جیسا کہ فرمایا :(فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدی علیکم) (البقرۃ :193)”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 2 ۔ وجزؤ ا سیئۃ سیئۃ مثلھا علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دو قسمیں بنائی ہیں ایک قسم ہے جو ظالموں کو معاف کردیتی ہے اللہ تعایلٰ نے اس ارشاد کے ساتھ ان کے ذکر کا آغاز کیا واذا ماغضبوا ھم یغفرون۔ ایک قسم ایسی ہے جو ظالم سے انتقام لیتے ہیں پھر اس ارشاد وجز ؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا کے ساتھ انتقام کی حد بیان کی۔ جو آدمی ان پر ظلم کرتا ہے وہ ظالم سے انتقام لیتے ہیں مگر کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔ مقاتل اور ہشام بن تجیر نے کہا : یہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جس کو زخمی کیا گیا ہو زخمی کرے والے سے قصاص لے کر انتقام لیا جائے گا (3) ‘ جس نے سب و شتم کی ہے اس سے اتقام نہیں لیا جائے گا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ (کہ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے) دنیا میں جو لوگ ایکدوسرے سے تکلیف اٹھاتے ہیں اور (بدلے میں) قصاص لیا جاتا ہے۔
2:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں جو کچھ کہتے ہیں تو اس کے گناہ ابتداء کرنے والے پر ہیں یہاں تک یہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔ پھر یہ (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ تلاوت کی۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے (آیت ) ” وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ جب تجھ کو گالی دی جاتی ہے تو بھی اس کو اسی طرح کی گالی دیدے مگر اس سے…
Read the full tafseer →وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ [ اور کسی برائی کا بدلہ ] سَيِّئَةٌ [ ایک برائی ہے ] مِّثْلُهَا ۚ [ اس کی جیسی ] فَمَنْ عَفَا [ پھر جس نے معاف کیا ] وَاَصْلَحَ [ اور اصلاح کی ] فَاَجْرُهٗ [ تو اس کا اجر ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [ اللہ پر ہے ] اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ [ یقینا وہ پسند نہیں کرتا ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →برائی کا بدلہ برائی کے برابر لے سکتے ہیں، معاف کرنے اور صلح کرنے کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے
پہلے جو آیات مذکور ہوئیں ان میں سے آخری آیت میں نیک بندوں کی صفات میں یہ بتایا تھا کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لے لیتے ہیں اس میں چونکہ کمی و بیشی کا ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ معاف کردینا اور بدلہ نہ لینا افضل ہے اس لیے بطور استدراک ان آیات میں اولاً تو یہ بتایا کہ برائی کا بدلہ بس اسی قدر لینا جائز ہے جتنی زیادتی دوسرے فریق نے کی ہو، اگر کسی نے اس سے زیادہ بدلہ لے لیا جو اس پر زیادتی کی گئی تھی تو اب وہ اسی قدر ظلم کرنے والا ہوجائے گا۔ ثانیاً یہ فرمایا کہ بدلہ لینا جائز تو ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
33:۔ ” وجزاء سیئۃ “ اس میں قانون انتقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص سے برائی کی جائے اگر وہ اس کا بدلہ لے تو جائز ہے لیکن زیادتی نہ کرے اور جو شخص دوسرے کے ظلم و زیادتی کو معاف کردے اور اس سے بدلہ نہ لے، بلکہ اس سے صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اجر عطا فرمائے گا اور اس کا یہ عفو و احسان ضائع نہ ہوگا ایسے لوگوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ من ترک القصاص واصلح بینہ وین الظالم بالعفو (اجفرہ علی اللہ) ای ان اللہ یاجرہ علی ذلک (قرطبی ج 16 ص 40) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔
کبائر اور فواحش سے اجتناب
اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…
Read the full tafseer →وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَۃٍ سَيِّئَۃٌ مِّثْلُہَا 0 ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَي اللہِ 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِـمِيْنَ 40
جزا
الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ،
( ج ز ی ) الجزاء ( ض )
کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ترکیب : وجزاء سیئۃ بالاضافۃ مبتداء سیئۃ مع صفتہا خبرہ، فمن شرطیۃ عفاواصلح شرط فاجرہ الجملۃ جواب الشرط، ویمکن ان یکون موصلۃ متضمنۃ لمعنی الشرط وقس علیھا، ولمن انتصرولمن شرطیۃ صبرو غفرفی محل الجزم بھا ان ذلک الجملۃ جواب الشرط وقد حذف الفاء۔
تفسیر : معاف کرنے اور بدلہ لینے کا تذکرہ آگیا تھا اس لیے اس کی تشریح کرنی مناسب ہوئی فقال و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا کہ ہم نے پہلے جو بیان فرمایا ہے کہ الذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون اس بدلہ لینے سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کچھ یا ایک محدودتعدی کی ہو تو بدلہ اس سے ایسا لیا جاوے کہ جوش و طیش میں آکر اس کو برباد کردیا جاوے اور بیحد اس پر تعدی کی جاوے بلکہ بدلہ لیا…
Read the full tafseer →وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْـلُھَا ج فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّـہٗ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الشوری : 40)
(اور برائی کا بدلہ ویسے ہی برائی ہے، پس جس نے درگزر کی اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، بیشک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ )
انتقام کا ادب
اوپر کی آیت میں جس بدلے اور انتقام کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اسے اصحابِ ایمان کی خصلت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا ادب سکھایا گیا ہے کہ مسلمان اگر کسی سرکش آدمی کی سرکشی اور زیادتی کا بدلہ لیتے ہیں تو وہ ہمیشہ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ برائی کا بدلہ برائی کے مطابق ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔
اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر…
Read the full tafseer →بدلہ کی حدود :
40: پھر بدلہ کی حد کو بیان فرمایا وَجَزٰٓ ؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا (اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے) پہلا لفظ سیئہ تو اپنے حقیقی معنی میں ہے اور دوسرا حقیقی معنی میں نہیں۔ بلکہ جزاء سیئہ کو سئیہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ وہ برائی و زیادتی کرتا ہے اور اس شخص پر جس پر وہ اترتی ہے اس لئے اس کو سیئہ کہہ دیا اور اس وجہ سے بھی کہ اگر پہلی زیادتی نہ ہوتی تو دوسری سیئہ بنتی اس صورت میں وہ ایذاء دینا شمارہوتا۔ وہ غیر کی وجہ سے حسنہ بنی ہے تو اصل کا لحاظ کر کے اس کو سیئہ کہہ د یا۔ نمبر 3۔ دوسری کو سیئہ کا نام اس لئے دیا گیا کہ عفو اولیٰ (وان تعفوا اقرب للتقویٰ…
Read the full tafseer →39، والذین اذا صابھم البغی، ظلم اور سرکشی ، ھم ینتصرون، وہ اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں لیکن حد سے نہیں بڑھتے ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی دوقسمیں بنائی ہیں ایک قسم اپنے ظالم کو معاف کرتی ہے تو ان کے ذکر سے ابتداء کی اور فرمایا۔
، واذا ماغضبو اھم یغفرون، اور ایک قسم اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں اور یہ وہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے ۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں کہ وہ لوگ ذلت کو ناپسند کرتے ہیں۔ پس جب قدرت پاتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤ من ہیں جن کو کفارنے مکہ سے نکال دیا۔
اور ان پر سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →83 برائی کا بدلہ برابر سرابر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے "۔ برائی کا بدلہ تو برائی نہیں ہوتا بلکہ وہ قصاص ہوتا ہے جس کی شریعت میں اجازت ہے۔ مگر " مشاکلہ " یعنی دونوں کے باہم مشابہ اور ہمشکل ہونے کی بنا پر برائی کے جواب کو بھی برائی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے اس طرف اشارہ بھی نکلتا ہے کہ بدلہ لینے سے معاف کردینا بہرحال بہتر ہے الا یہ کہ اس سے کوئی اور فساد پیدا ہوتا ہو۔ بہرکیف اہل جنت کی صفات کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ برائی کا بدلہ برابر سرابر لیتے ہیں۔ اس کی کوشش نہیں کرتے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں کہ یہ طریقہ ظلم و زیادتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی بدلہ لینے میں اس قاعدہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جس قدر زبانی ہوئی ہے اس سے بڑھ کر بدلہ نہ لے۔
10 یعنی اللہ تعالیٰ اسے اجر عطا فرمائے گا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز منادی ہوگی کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں جن کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پھر وہی لوگ کھڑے ہونگے جنہوں نے دنیا میں لوگوں کے قصور معاف کئے تھے۔ ( شوکانی)
11 ظالم وہ ہے جو برائی کی ابتداء کرے یا برائی کا بدلہ لینے میں اس سے زیادہ برائی کا ارتکاب کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو دو شخص اہم گالم گلوچ کریں تو اس کا سارا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک کہ دوسرا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
Read the full tafseer →(42:40) وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا : سیئۃ برائی ، برا کام ۔ گناہ، اس کی جمع سیئات ہے۔ س و ء مادہ۔ واؤ عاطفہ ہے جزاء سیئۃ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر مبتداء مثلہا مضاف مضاف الیہ مل کر سیئۃ کی صفت موصوف و صفت مل کر خبر اپنے مبتداء کی ۔ (مثلہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع سیئۃ ہے) اور برائی کا بدلہ برائی ہے (اسی طرح کی، اسی قدر) مقاتل نے کہا ہے کہ :۔ جزاء سیئۃ سے مراد قتل اور زخمی کرنے کا بدلہ۔ مجاہد اور سدی کے نزدیک گالی گلوچ یا برے الفاظ کا بدلہ مراد ہے۔ لیکن ساتھ ہی فرما دیا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللّٰہ۔ لیکن جو شخص معاف کر دے اور صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔
عفا : ماضی واحد مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
[23] بدلے کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتاً نہیں محض صورۃً برائی ہے درحقیت یہ تو برائی کی سزا ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
آیت 37 تا 43:
حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔
اہل عقبے
1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…
Read the full tafseer →(40) اوربرائی کی پاداش اسی برائی کی مثل ہے پھر جو شخص درگزر کرے اور باہم صلح و صفائی کرلے اور قفیے کو یہاں سے انتقام اور بدلے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا کہ برائی کرنے والوں کو اتنی ہی برائی پہنچائو جتنی اس نے برائی کی ہے انتقام میں زیادتی نہ ہونے پائے اور سیئہ کے مقابلے میں انتقامی کاروائی کی گئی اس کو بھی سیئہ فرمایا حالانکہ پہلی سیئہ تو حقیقت میں سیئہ ہے لیکن جواباً جو عمل ہو وہ سیئہ نہیں بلکہ وہ تو آئندہ کی روک تھام کی غرض سے کیا گیا ہے تو اس کی وجہ شاید یہ ہو جیسا کہ علماء نے کہا ہے کہ چونکہ یہ سئیہ کا بدلا ہے اس لئے اس کو سیئہ فرمایا۔ یا اس لئے کہ یہ دوسرا فعل پہلے فعل کے مشابہ اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 9۔ بشرطیکہ وہ فعل فی نفسہ معصیت نہ ہو۔
Read the full tafseer →برائی کے عوض میں اس کے برابر ہی بدلہ ہو سکتا ہے اور معاف کردینا بہادری ہے
40 ؎ برائی کا عوض یعنی نتیجہ تو ظاہر ہے کہ کبھی اچھا ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی نیکی برائی کا بدلہ ہو سکتی ہے اس لیے اگر کسی شخص کو بھی برائی کے نتیجہ سے دوچار کیا جائے تو ظاہر ہے کہ وہ وہی کچھ جو ہو سکتا ہے اس لیے اس کو برائی ہی سے تعبیر کیا گیا ہے جو عین فطرت کے مطابق ہے اگرچہ وہ برائی کا عوض دینے والے نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا بلکہ اس کی کی ہوئی برائی کے نتیجہ سے دوچار ہونا پڑا ہے تاہم اس کو نیکی نہیں کہا جاسکتا ہاں ! اس کے بدلہ میں کوئی نیکی کرے گا تو اس کو عفو و درگزر کے نام سے موسوم کیا جائے گا کہ جس شخص کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
Seventh virtue:۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ (and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves - 39.) The original word used in the text is ` yantasirun' which may be translated as ` defend themselves' and also as ` retaliate'. In the latter case, retaliation must be equal, and should in no case exceed the limit of equality. This quality, in reality, is a further elaboration of the third virtue, i.e forgiving the opponents. It means that though forgiveness is a good quality, yet one may face certain situations where the mischief gets a…
Read the full tafseer →64. The passage from here to the end of (verse 43) is an explanation of verse 39.
65. This is the first fundamental principle which must be borne in mind in retaliation. The right limit of retaliation is that one should return the same sort of ill treatment that he has received; he has no right to return a greater ill treatment.
66. This is the second principle. It means: Although it is permissible to retaliate against the one who has committed a violence, wherever pardoning can be conducive to reconcilement, pardoning is better for the sake of reconcilement than retaliation. And since man…
Read the full tafseer →