Explained with ayahs 40–43
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) اور آیت میں ہے (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہوجائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة الشُّوْرٰی 68
واضح رہے کہ ان آیات میں اہل ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت عملاً رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں میں موجود تھیں، اور کفار مکہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار کو یہ بتایا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی بسر کرنے کا جو سر و سامان پاکر تم آپے سے باہر ہوئے جاتے ہو، اصل دولت وہ نہیں ہے بلکہ اصل دولت یہ اخلاق اور اوصاف ہیں جو قرآن کی رہنمائی قبول کر کے تمہارے ہی معاشرے کے ان مومنوں نے اپنے اندر پیدا کیے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
ساتویں صفت
(آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل وانما السبیل عل الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر ط اولئک لھم عذاب الیم (42-41)
بعد ظلمہ میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے جس طرح سورة روم کی آیت وھم من بعد غلبھم سیغلبون (3) ہے۔
ان لوگوں کے شبہ کا جواب جو انتقام کو دینداری کے خلاف سمجھتے ہیں
یہ ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو دینداری کا ایک تقاضا یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آدمی دوسروں کے ہاتھوں پٹتا رہے اور ان سے کوئی انتقام نہ لے۔ اگر کوئی اتنقام لے تو یہ چیز دینداری کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور اس کو بھی برابر کا مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اس طرح کے معاملات میں الزام ان لوگوں پر نہیں ہے جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
45۔ 1 یعنی دنیا میں یہ کافر ہمیں بیوقوف اور دنیاوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جب کہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے۔ وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کیے رکھا اور آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جس سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
8: یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…
Read the full tafseer →6 یعنی مظلوم ظالم سے بدلہ لینا چاہے تو اس میں الزام اور گناہ کچھ نہیں۔ ہاں معاف کردینا افضل و احسن ہے۔
Read the full tafseer →آیت 41 { وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”اور جو کوئی بدلہ لے اس کے بعد کہ اس پر ظلم کیا گیا ہو تو ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔“
سورة النساء کی آیت 148 میں یہی اصول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : { لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلاَّ مَنْ ظُلِمَط } یعنی اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں کہ کوئی شخص کوئی بری بات بلند آواز سے کہے مگر مظلوم اس سے مستثنیٰ ہے ‘ بدلہ لینا بہرحال مظلوم کا حق ہے۔ اگر وہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا بدلہ ہی لینا چاہتا ہے تو اسے معاف کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ دیکھئے ان آیات کا اسلوب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
60 زیادتی کا بدلہ لینے کے اصول :۔ یعنی جو لوگ بدلہ لینا ہی چاہیں مگر بدلہ لینے میں زیادتی نہ کریں وہ مورد الزام نہیں۔ مورد الزام وہ لوگ ہیں جو ظلم کی ابتدا کرتے ہیں اور بلاوجہ کرتے ہیں۔ پھر اگر بدلہ لیں تو بدلہ لینے میں بھی حد سے بڑھ جاتے اور مزید ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دراصل فسادی ہیں جن کا بدلہ دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →46۔ یہاں دو اصول ارشاد ہوئے ہیں :
(1) ایک قانون عدل، کہ جو جیسا کرے گا، ویسا پائے گا۔ مثلا دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ، لیکن یہاں بھی یہ شرط ہے کہ وہ شے فی نفسہ ممنوع و حرام نہ ہو۔ مثلا لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا، کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
(2) دوسرا قانون فضل۔ یعنی رحم ورعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔ ؛ ومقتضی ذلک اباحۃ الانتصار لا الامربہ (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل اور جو اپنے اوپر ظلم ہو چکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
بَعْدَ ظُلْمِہٖ ان کے مظلوم ہونے کے بعد۔ ظلم کی اضافت مفعول کی جانب ہے ‘ یعنی بعد اس کے کہ ظالم نے اس پر ظلم کیا ہو۔
مَا عَلَیْھِمْ یعنی انتقام لینے والوں کے خلاف کوئی راہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ ان کو برا کہا جائے گا ‘ نہ ان سے مؤخذاہ ہوگا۔
Read the full tafseer →اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد پورا پورا بدلہ لے لے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
Read the full tafseer →ولمن انتصر بعدظلمہ…: یعنی مظلوم ظالم سے بدلا لے لے تو اس پر کوئی مواخذہ یا ملامت نہیں، کیونکہ اس نے اپنا حق لیا ہے ، کوئی زیادتی نہیں کی، بشرطیکہ اتنا ہی بدلا لے جتنا اس پر ظلم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 4 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ جو مسلمان کا فر سے بدلہ لے تو اس مسلمان پر ملامت کرے کی کوئی صورت نہیں بلکہ مسلمان کی اس وجہ سے تعریف کی جائے گی ‘ اگر کوئی مسلمان مسلمان ظلام سے بدلہ لے تو پھر بھی اس پر کوئی ملامت نہیں۔ کافر سے انتقام لینا حتمی بات ہے اور مسلمان سے بدلہ لینا مباح ہے اور معاف کردینا مستحب ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ فا ولئک ما علیھم من سبیل۔ اس امر پر دلیل ہے کہ وہ انپا پورا پورا بدلہ لے۔ یہ تین قسموں میں منقسم ہے (1) وہ بدن میں قصاص ہو جس کا ایک آدمی مستحق ہوتا ہے اگر وہ زیادتی کے بغیر پورا پورا حق لیتا ہے اور حکام کے نزدیک اس کا حق ثابت ہوتا ہے تو اس پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل “ (جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم معمولی زخموں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑے سے واقع ہوتا ہے جس پر کوئی سزا نہیں ہوتی اور اگر کوئی آدمی تجھ پر ظلم کرے تو اس پر ظلم نہ کر اور اگر وہ تجھ کو برا بھلانہ کہہ اور اگر وہ تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر کیونکہ مؤمن پورا پورا ادا کرنے والا ہوتا ہے اور بدکار آدمی خیانت کرنے والا اور دھوکہ دینے والا ہوتا…
Read the full tafseer →وَلَمَنِ انْتَصَرَ [ اور بیشک جس نے بدلہ لیا ] بَعْدَ ظُلْمِهٖ [ اپنے پر ظلم کیے جانے کے بعد ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں کہ ] مَا عَلَيْهِمْ [ جن پر نہیں ہے ] مِّنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی الزام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
قیامت کے دن ظالموں کی بدحالی، ہلاکت اور ذلت کا سامنا
یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے یعنی ہدایت سے محروم فرما دے تو اس کے لیے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کا ولی اور کارساز بنے، کوئی شخص اسے ہدایت نہیں دے سکتا اور کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا پھر ظالموں یعنی کافروں کی بدحالی کا تذکرہ فرمایا کہ قیامت کے دن جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کہ کیا ایسا کوئی راستہ ہے کہ ہم واپس کردئیے جائیں یعنی دنیا میں چلے جائیں پھر وہاں ایمان لائیں کفر اختیار نہ کریں، لیکن وہاں سے واپسی کا کوئی قانون نہیں مزید فرمایا کہ یہ لوگ جب دوزخ پر پیش کیے جائیں گے یعنی اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…
Read the full tafseer →34:۔ ” ولمن انتصر بعد ظلمہ “ یہ گذشتہ آیت کے مضمون کی تنویر ہے جو شخص مظلوم ہو اگر وہ ظالم سے ظلم کا بدلہ لے لے تو وہ طعن وملامت کا مستحق نہیں، ” انما السبیل الخ “ یہ ظالم و طاغی کیلئے تخویف اخروی ہے اور یہ پہلی صورت کے مقابلہ میں انتقام کی دوسری صورت ہے۔ یا بتداء ظلم وتعدی کرنے والے مراد ہیں۔ جو لوگ اپنا انتقام لیتے وقت یا ابتداء ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق شر و فساد بپا کرتے اور شرک پھیلاتے ہیں ایسے لوگ قابل مواخذہ ہیں اور ان کے لیے نہایت دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ولمن صبر وغفر الخ “ اس میں عفو و درگذر کی ترغیب ہے جو شخص ظالم سے درگذر کرے اور صبر کرے اور اس سے انتقام نہ لے، تو یہ ایک عمل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔
کبائر اور فواحش سے اجتناب
اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…
Read the full tafseer →وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْہِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ 41 ۭ
انْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ
وَالانْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ : طلب النُّصْرَة وَالَّذِينَ إِذا أَصابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ [ الشوری/ 39] ، وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ [ الأنفال/ 72] ، وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ [ الشوری/ 41] ، فَدَعا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ [ القمر/ 10] وإنما قال :«فَانْتَصِرْ» ولم يقل : انْصُرْ تنبيهاً أنّ ما يلحقني يلحقک من حيث إنّي جئتهم بأمرك، فإذا نَصَرْتَنِي فقد انْتَصَرْتَ لنفسک، وَالتَّنَاصُرُ : التَّعاوُن . قال تعالی: ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ترکیب : وجزاء سیئۃ بالاضافۃ مبتداء سیئۃ مع صفتہا خبرہ، فمن شرطیۃ عفاواصلح شرط فاجرہ الجملۃ جواب الشرط، ویمکن ان یکون موصلۃ متضمنۃ لمعنی الشرط وقس علیھا، ولمن انتصرولمن شرطیۃ صبرو غفرفی محل الجزم بھا ان ذلک الجملۃ جواب الشرط وقد حذف الفاء۔
تفسیر : معاف کرنے اور بدلہ لینے کا تذکرہ آگیا تھا اس لیے اس کی تشریح کرنی مناسب ہوئی فقال و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا کہ ہم نے پہلے جو بیان فرمایا ہے کہ الذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون اس بدلہ لینے سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کچھ یا ایک محدودتعدی کی ہو تو بدلہ اس سے ایسا لیا جاوے کہ جوش و طیش میں آکر اس کو برباد کردیا جاوے اور بیحد اس پر تعدی کی جاوے بلکہ بدلہ لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وَلَمَنِ انْـتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ مَاعَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الشوری : 41، 42)
(اور جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا تو ان کے اوپر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ )
ان لوگوں کے شبے کا جواب جو انتقام کو دنیاداری سمجھتے ہیں
پیشِ نظر دونوں آیتوں میں ایک شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے جو بالعموم نیک لوگوں میں پایا جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
فہم القرآن
ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔
اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر…
Read the full tafseer →41: وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ (اور جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لے لے) اس نے ظلم کیے جانے کے بعد اپنا حق لیا۔
فائدہ : یہاں مصدر کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔
فَاُولٰٓپکَ مَا عَلَیْھِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ (تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) اولئک کا اشارہ من ؔ کے معنی کی طرف مشیر ہے نہ کہ لفظ کی طرف بدلہ لینے والے پر کوئی الزام نہیں اور نہ ہی معاتب و معایب پر کیوں کہ ان سے اس کا بدلہ چکا لیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 40۔ ، وجزاء سیئۃ مثلھا، بدلہ کو بھی سیئہ کا نام دیا گیا ہے۔ اگر چہ یہ سیئہ نہیں ہے اس لیے کہ ان کی صورت ایک جیسی ہے مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی زخموں اور خون میں قصاص۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے بری بات کا جواب دینا مراد ہے۔ جب کوئی تجھے کہے رسواکرے تو تو بھی کہہ اللہ تجھے رسواکرے اور جب تجھے برا بھلاک ہے تو تو بھی اسی کی مثل برابھلا کہہ لیکن حد سے نہ بڑھ۔ سفیان بن عیینہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری (رح) سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، کی تفسیر کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی تجھے برابھلا کہے تو تو اس کو برابھلا کہہ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
آیت 41
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مرتاب بیان کئے ہیں، عقوبات کے تین مرتاب ہیں : عدل، فضل اور ظلم
(1) کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اس جیسی برئای، متربہ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اور اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔
(2) برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبہ فضل ہے، اس لئے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) ” پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عضو کے لائق نہ ہو اور مصلحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →85 مظلوم پر بدلہ لینے میں کوئی الزام نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے اس پر کوئی الزام نہیں کہ اس نے تو اپنا حق لیا۔ اور اپنے اوپر روا رکھے جانے والے ظلم کا بدلہ لیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی جرم نہیں۔ سو اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ کوئی ظلم سہنے کے باوجود بدلہ نہ لے اور ظالم کے ہاتھوں یونہی پٹتا رہے اور اس سے کوئی بدلہ نہ لے۔ نہیں اسلام ایسے نامعقول رویے کی تعلیم کبھی نہیں دیتا۔ سو اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے جو انتقام کو دینداری کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے -
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →ف 12 بشرطیکہ اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس پر ظلم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(42:41) ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیہم من سبیل واؤ عاطفہ لمن شرطیہ اور جملہ لمن انتصر بعد ظلمہ شرط۔ فاولئک ما علیہم من سبیل جواب شرط۔
انتصر ماضی واحد مذکر غائب انتصار (افتعال) مصدر۔ اس نے مدد طلب کی۔ انتصار کے معنی مدد طلب کرنے کے ہیں۔ ظالم سے انتصار کے معنی اس کو سزا دینا اور اس سے انتقام لینے کے ہیں باب استفعال سے بھی مدد مانگنا کے معنی آتے ہیں۔ مثلا وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر (8:72) اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم۔
سبیل : راستہ ۔ واہ۔ سبیل اس راہ کو کہتے ہیں جو واضح ہو اور اس میں سہولت ہو۔ پھر سبیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…
Read the full tafseer →[24] یہاں دو قانون بیان ہوئے ہیں۔ قانون عدل اور قانون فضل۔ قانون عدل یہ کہ جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا مثلاً دانت کا بدلہ دانت اور آنکھ کا بدلہ آنکھ۔ لیکن یہاں یہ بھی شرط ہے کہ وہ شے بذات خود ممنوع اور حرام نہ ہو۔ مثلاً لوٹ کا بدلہ لوٹ اور زنا کے عوض زنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قانون فضل یعنی رحم و رعایت کا قانون۔ آیت سے انتقام کا صرف جواز نکلتا ہے نہ کہ اس کی ماموریت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
آیت 37 تا 43:
حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔
اہل عقبے
1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…
Read the full tafseer →(41) اور جو اپنے ظلم کئے جانے کے بعد مناسب بدلا لے لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ یعنی جب برابر سرابر بدلہ لینے کی اجازت ہے تو بدلا لینے والوں پر کوئی الزام نہیں۔ یعنی جب برابرسرابربدلہ لینے کی اجازت ہے تو بدلا لینے والوں پر کوئی الزام نہیں بشرطیکہ مثل سے زیادہ نہ ہو اور بہرحال معاف کردینے سے ثواب کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 9۔ بشرطیکہ وہ فعل فی نفسہ معصیت نہ ہو۔
Read the full tafseer →ظلم کا بدلہ لینے والوں کو ملامت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا
41 ؎ برائی کے بدلے برائی کی وضاحت در وضاحت ہوتی چلی آرہی ہے تاکہ مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ بدلہ کی جائز صورت یہ ہے کہ جتنی برائی کسی کے ساتھ کی گئی ہو اتنا ہی بدلہ وہ اس سے لے لے اس سے زیادہ بدلہ نہ لیا جائے تو پھر دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ بدلہ لینا اگرچہ جائز اور درست ہے تاہم معاف کردینا اور درگزر کر جانا زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ اس میں اصلاح کا پہلو موجود ہو۔ اب زیرنظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ابتداً ظلم کرنا ہی اصل ظلم ہے اگر کوئی شخص کسی کے ظلم کے بدلہ میں اس سے انتقامی کارروائی کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
Seventh virtue:۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ (and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves - 39.) The original word used in the text is ` yantasirun' which may be translated as ` defend themselves' and also as ` retaliate'. In the latter case, retaliation must be equal, and should in no case exceed the limit of equality. This quality, in reality, is a further elaboration of the third virtue, i.e forgiving the opponents. It means that though forgiveness is a good quality, yet one may face certain situations where the mischief gets a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
68. One should note that the qualities of the believers that have been mentioned in these verses, practically existed in the lives of the Prophet (peace be upon him) and his companions, and the disbelievers of Makkah were their eye-witnesses. Thus, Allah has, in fact, told the disbelievers: The real wealth is not the provisions that you have received for passing the transitory life of the world, and are bursting with pride of it, but the real wealth are the morals and characteristics which the believers from your own society have developed by accepting the guidance given by the Quran.
Read the full tafseer →