Ash-Shura 42:39

Ash-Shura · from ayah 39

42:39

وَالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡىُ هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who, when tyranny strikes them, they defend themselves,

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:39

اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان پر ﻇلم (و زیادتی) ہو تو وه صرف بدلہ لے لیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان پر کوئی زیادتی ہوتی ہے تو وہ اپنا دفاع کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ کہ جب انہیں (کسی ظالم و جابر) سے ظلم پہنچتا ہے تو (اس سے) بدلہ لیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم کی اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان پر زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کہ جو انتقام لیتے ہیں اس وقت جب ان پر تعدی ہوتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان سے کوئی (ظلم اور) زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اس کا (مقابلہ کرتے اور) بدلہ لیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا) بدلہ لے لیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان پر ظلم اور زیادتی ہو تو مناسب طریقے سے بدلہ لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who, when a wrong is done to them, seek its redress.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves.

— Muhammad Taqi Usmani

and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who, when great wrong is done to them, defend themselves,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who, when tyranny strikes them, they defend themselves,

— Saheeh International

and those who, when suffering a great injustice, seek to defend themselves.

— Muhammad Sarwar

And those who, when great wrong afflicts them, defend themselves.

— Muhammad Habib Shakir

And those who, when they are oppressed vindicate themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who, when an oppressive wrong is inflicted on them, (are not cowed but) help and defend themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–39

درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 63 یہ بھی اہل ایمان کی بہترین صفات میں سے ہے۔ وہ ظالموں اور جباروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے۔ ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی انہیں بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بنکر رہنا نہیں سکھایا گیا ہے۔ ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کردیں، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے در گزریں، اور جب کسی زیر دست یا کمزور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو اس سے چشم پوشی کر جائیں، لیکن کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس کے دانت کھٹے کردیں۔ مومن کبھی ظالم سے نہیں دبتا اور متکبر کے آگے نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–43

ساتویں صفت (آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین اذا صابھم البغی ھم ینتصرون (39) اوپر آیت 37 میں یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ ”واذا ماغضبوا ھم یغفرون ‘ یہ اسی پر ایک قسم کا استدراک ہے کہ اول تو وہ مخالفوں کی غصہ دلانے والوں باتوں سے درگزر کرتے ہیں اور اگر کوئی جوابی کارروائی کرتے بھی ہیں تو اس وقت جب ان پر کوئی صریح زیادتی کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کس تعدی کے دفاع اور اس کے انتقا مکا حق ہر شخص کو حاصل ہے اور اس حق سے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن یہ نہیں ہے کہ ہر بات کو کسی اقدام کا بہانہ بنا لیں بلکہ وہ بدلہ لیتے ہیں تو کسی بغی کا لیتے ہیں۔ بغی مخالف کی کسی کھلی ہوئی تعدی، سرکشی اور زیادتی کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 39–40

40۔ 1 یہ (قصاص (بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–43

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جہاں معاف کرنا مناسب ہو معاف کرے مثلاً ایک شخص کی حرکت پر غصہ آیا اور اس نے ندامت کے ساتھ اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے معاف کردیا۔ یہ محمود ہے اور جہاں بدلہ لینا مصلحت ہو مثلاً کوئی شخص خواہ مخواہ چڑھتا ہی چلا آئے اور ظلم و زور سے دبانے کی کوشش کرے، یا جواب نہ دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے یا ہماری شخصی حیثیت سے قطع نظر کر کے دین کی اہانت یا جماعت مسلمین کی تذلیل ہوتی ہے، ایسی حالت میں بدلہ لیتے ہیں، وہ بھی بقدر اس کی زیادتی کے جرم سے زائد سزا نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 { وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنْتَصِرُوْنَ } ”اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔“ یعنی اقامت دین کی جدوجہد جب ”قتال“ کے مرحلے میں داخل ہوجائے تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حکم ہے۔ سورة البقرۃ میں اس حکمت عملی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ } آیت 191 ”اور قتل کر دو انہیں جہاں کہیں بھی تم انہیں پائو اور نکال باہر کرو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا“۔ گویا جب ایک دفعہ آگے بڑھ کر باطل کو چیلنج کردیا گیا تو پھر فیصلہ کن فتح تک اس جنگ کو سختی سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اور ظالم سے بدلہ لینا :۔ یعنی متکبر اور جابر قسم کے لوگ ان پر زیادتی کرتے ہیں تو وہ ان کے آگے دبتے نہیں بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ کمزوری نہیں دکھاتے جیسا کہ مکہ میں مسلمانوں نے کافروں کے مصائب برداشت کئے مگر ان کے آگے جھکے نہیں۔ اور اگر ان میں بدلہ لینے کی ہمت ہو تو بدلہ لے کے چھوڑتے ہیں۔ ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب غالب ہوں تو اگر چاہیں تو مغلوب کو معاف بھی کردیں اور چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لے لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہو اور معاف کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں کسی ظالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ (اور ظلم و زیادتی کے جواب وانتقام میں خود بھی ظلم و زیادتی نہیں کرنے لگتے) آیت کے یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ معاف کرنا نہیں جانتے۔ والمعنی ان یقتصروا فی الانتصار علی ما یجعلہ اللہ لھم ولا یتعدونہ (کبیر) انھم الاخصاء بالانتصار وغیرھم یعدوا ویتجاوز (روح) وقال السدی معناہ ممن بغی علیھم من غیر ان یتعدو اعلیھم (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم (کسی کی طرف سے) واقع ہوجاتا ہے تو برابر کا بدلہ لیتے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو ان پر کسی کی طرف سے ظلم ہوتا ہے تو پورا پورا بدلہ لیتے ہیں کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

والذین اذا اصابھم البغی …: یہ چوتھا وصف ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے ان کا وصف غصے کے وقت معاف کردینا ذکر فرمایا ہے اور یہاں انتقام کو ان کی خوبی قرار دیا ہے، تطبیق کیا ہے ؟ اس کا بہترین جواب مشہور تابعی ابراہیم نخعی نے دیا ہے، انہوں نے صحابہ کرام ؓ کا طرز عمل بیان کرتے ہئے فرمایا :”کان المومنون یکرھون ان یستدلوا و کانوا اذا قدروا عفواً (ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم : 18386 وقال حکمت بن بشیر مسندہ صحیح)”مومن یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ذلت قبول کریں، مگر جب قدرت پاتے تو معاف کردیتے تھے۔“ خلاصہ یہ ہے کہ اگر معاف کرنا مجرم کے جرم سے باز آنے کا باعث ہو تو عضو افضل ہے، لیکن اگر معاف کرنے سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت نمبر 39 to 42) ان میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین اذ آ اصابھم البغی یعنی مشرکوں کی جانب سے ان پر زیادتی کی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کی وجہ یہ بنی کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر بغاوت کی انہیں اذیتیں دیں اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نکلنے کی اجازت دی ‘ زمین میں انہیں اختیار دیا اور جنہوں نے بغاوت کی تھی ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد کی اللہ تعلایٰ کے اس فرمان : اذن للذین یقتلون با نھم ظلموا وان اللہ علی نصر ھم لقدیر۔ الذین اخرجوا (الحجض کا یہی مصداق ہے۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے : یہ ہر باغی میں عام ہے خواہ وہ کافر ہو یا مومن یعنی جب انہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ (اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو برابر کا بدلہ لیتے ہیں) اس سے مراد ہے کہ مؤمن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ وہ ظالم کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور جب وہ قدرت رکھے تو درگزر کے معاملات کرے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے اس (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مؤمن اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل ؔ ظاہر کریں اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ اِذَآ [ اور وہ لوگ کہ جب کبھی ] اَصَابَهُمُ [ آلگتی ہے ان کو ] الْبَغْيُ [ زیادتی ] هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ [ تو وہ لوگ بدلہ لیتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–39

آخر میں فرمایا ﴿وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 0039﴾ (جب ان کو ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں) اس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دی ہے سیاق کلام سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ جتنا ظلم ہوا ہے اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے مزید تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر کے ذیل میں پڑھئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–43

بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

33:۔ ” وجزاء سیئۃ “ اس میں قانون انتقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص سے برائی کی جائے اگر وہ اس کا بدلہ لے تو جائز ہے لیکن زیادتی نہ کرے اور جو شخص دوسرے کے ظلم و زیادتی کو معاف کردے اور اس سے بدلہ نہ لے، بلکہ اس سے صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اجر عطا فرمائے گا اور اس کا یہ عفو و احسان ضائع نہ ہوگا ایسے لوگوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ من ترک القصاص واصلح بینہ وین الظالم بالعفو (اجفرہ علی اللہ) ای ان اللہ یاجرہ علی ذلک (قرطبی ج 16 ص 40) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–43

ربط آیات گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔ کبائر اور فواحش سے اجتناب اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَہُمُ الْبَغْيُ ہُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۝ 39 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–39

ترکیب : موصولہ متضمنۃ المعنی الشرط لان اتیاء ما اوتواسبب للتمتع بہ فی الدنیا فجاءت الفاء فی الجواب فمتاع ای فھو متاع و ماعنداللہ ماموصولۃ مع صل تھا فی محل الرفع لکونہ مبتداء خبر وابقی خبرہ والذین فی موضع خبر بدلامن الذین امنوا کبائر جمع کبیرۃ ھم مبتداء یغفرون خبرہ و الجملۃ جواب اذا و الشورٰی مصدر شاورۃ مثل البشرٰی والقربیٰ والجمل کلھا من الذین استجابواوالذین اذا اصابہم الخ بدل من الذین آمنوا۔ تفسیر : دنیا حسب مراد حاصل نہ ہونے اور مصائب نازل ہونے کی وجہ بیان فرما کر اب دنیا کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس کے غرور میں انسان خدا سے سرکشی کرتا ہے اور تلف ہونے اور نہ ملنے پر کیا بےچین ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشوری : 39) (اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا انتقام لیتے ہیں۔ ) ایک اور مزاجی خصوصیت بلا شبہ یہ لوگ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے۔ اگر مسلمانوں کی کسی بات پر غصہ بھی آتا ہے تو وہ اسے معاف کردیتے ہیں۔ اور غیرمسلموں سے بھی ہمیشہ حُسنِ سلوک کرتے اور خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان سے توہین آمیز سلوک کرتا ہے، فرعونیت کا صور پھونکتا ہے اور خودسری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–43

فہم القرآن ربط کلام : اہل ایمان کی نویں صفت۔ اہل ایمان کی یہ بھی صفت ہے کہ ان پر کوئی جارحیّت کرئے تو وہ پوری غیرت کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس سے پہلے اہل ایمان کی چوتھی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے کو معاف کرنا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن جو لوگ اہل ایمان کو کمزور سمجھ کر دبانے اور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ جارحیّت کرنے والوں کا پوری جرأت کے ساتھ جواب دیں۔ جارحیّت کرنے والوں سے مراد کافر بھی ہیں اور وہ مسلمان بھی جو کمزوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کا ہاتھ روکنا لازم ہے۔ اگر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بغی پر انتقام : 39: وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَھُمْ الْبَغْیُ (اور ان لوگوں پر جب ظلم واقع ہوتا ہے) ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ (وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں) وہ اس ظالم سے انتقام لیتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بدلہ اس کا مقرر فرمایا ہے۔ اس پر وہ اکتفاء کرتے ہیں۔ اس سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ اپنے آپ کو اس میں ملوث کرنے کو تیار نہ تھے مگر فساق نے ان پر جرأت کی تو وہ بدلہ پر آمادہ ہوئے۔ ایک نکتہ : یہاں ان کی بدلہ لینے پر تعریف کی گئی ہے کیونکہ جس نے بدلہ لیا اور حق لیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز نہ کیا اگر وہ ولی دم تھا تو اس نے قتل میں اسراف نہ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38، الذین استجابوالربھم، جب وہ ان کو اپنی طاعت کی طرف بلائے تو وہ اس کو لبیک کہتے ہیں۔ ، واقاموا الصلوۃ وامرھم شوری بینھم، جو معاملہ پیش آئے باہم مشورہ کرتے ہیں، جلد بازی نہیں کرتے۔ ، ومما رزقناھم ینفقون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–43

36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–40

آیت 36 اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–53

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–39

82 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی وہ ظالم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے والے اور ظالم سے اس کے کئے کا پورا بدلہ لینے والے ہیں۔ ہاں جس حد تک ذاتی غصے کا تعلق ہے اس میں عضو سے کام لینا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:39) والذین اذا ۔۔ ینتصرون۔ اس کا عطف بھی الذین امنوا پر ہے۔ ذا جب، ظرف زمان ہے۔ شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اصابھم البغی : اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر وہ پہنچا۔ وہ اپڑا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ آپڑنے والی۔ البغی۔ سرکشی ، ظلم، زیادتی۔ البغی (باب ضرب) سے مصدر۔ بغی کے اصل معنی میانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کے ہیں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک محمود۔ جیسے عدل کی بجائے احسان کرنا۔ اور فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی پابند رہنا۔ دوسرے مذموم : جیسے حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ شبہات میں پڑنا : جیسے قرآن مجید میں اکثر مواقع پر بغی کا استعمال مذموم معنی میں ہی ہوا ہے۔ بغی (باب ضرب)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–44

کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[23] بدلے کے طور پر جو برائی کی جائے وہ حقیقتاً نہیں محض صورۃً برائی ہے درحقیت یہ تو برائی کی سزا ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–43

آیت 37 تا 43: حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔ اہل عقبے 1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے اور ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو ہے تو وہ مناسب بدلا لیتے ہیں۔ یعنی دین کے بارے میں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے تو مناسب یعنی برابر کا بدلا لیتے ہیں اوپر کی آیت میں درگزر کرنے پر تعریف تھی یہاں انتقام پر ان کی مدح فرمائی یعنی اپنے حق میں درگزر اور عفوکا شیوہ رکھتے ہیں لیکن دین کے بارے میں سخت گیر اور منتقم ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافروں سے جہاد کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اگر کسی کمزور پر کوئی ظلم کرتے تو قبیلے کے بزرگ جمع ہوکر ظالم سے بدلا لیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں پر جب زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں 39 ؎ گزشتہ آیت 36 میں جو احکام بیان ہوئے ہیں ان میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو { اذا ما غضبوا ہم یغفرون } ” جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو اس کو پی جاتے ہیں۔ “ یعنی جس پر غصہ آئے یا جو ان کو غصہ دلائے اس سے درگزر کر جاتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے تاکہ اس کا مطلب کوئی غلط نہ سمجھ لے اور اس کا نتیجہ غلط نہ نکلنا شروع ہوجائے۔ فطرتِ انسانی ہے کہ اس کو غصہ آتا ہی اسی وقت ہے جب اس کے سامنے اس کی طاقت و قوت سے کم ہو اور وہ اس پر اپنے غصہ کو نکال سکے اپنے سے طاقتور پر اتنا جلدی غصہ نہیں آتا اور اگر آ بھی جائے تو جلد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–44

Seventh virtue:۔ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُ‌ونَ (and those who, when they are subjected to aggression, defend themselves - 39.) The original word used in the text is ` yantasirun' which may be translated as ` defend themselves' and also as ` retaliate'. In the latter case, retaliation must be equal, and should in no case exceed the limit of equality. This quality, in reality, is a further elaboration of the third virtue, i.e forgiving the opponents. It means that though forgiveness is a good quality, yet one may face certain situations where the mischief gets a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

63. This also is one of the best characteristics of the believers, they do not fall a prey to the tyrants. Their tender heartedness and forgiving nature is not the result of any weakness. They have not been taught to live humbly and meekly like the hermits and ascetics. Their nobility demands that when they are victors they should forgive the errors of the vanquished. When they possess the power, they should avoid vengefulness and when a weak or subdued person happens to commit a mistake they should overlook it. But when a powerful person, drunk with authority, commits violence against them,…

Read the full tafseer →