Ash-Shura 42:38

Ash-Shura · from ayah 38

42:38

وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۪— وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَیْنَهُمْ ۪— وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۟ۚوَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوا لِرَبِّهِمۡ وَاَقَامُوۡا الصَّلٰوةَۖ وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡۖ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‌ۚ

اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who have responded to their lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:38

جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی بات مانی ہے اور نماز قائم کی ہے اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے ،۔ اس میں سے وہ (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے کام باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہی اور نماز کا اہتمام کیا اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور قائم رکھتے ہیں (فریضہ) نماز کو اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں اور وہ خرچ کرتے ہیں (ہماری رضاء و خوشنودی کے لئے) اس میں سے جو ہم نے ان کو دیا ہوتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا یہ اہم) کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا اور نماز قائم کی۔ اور ان کا کام آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔ اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے رب کا حکم مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who obey their Lord and establish Prayer; who conduct their affairs by consultation, and spend out of what We have bestowed upon them;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who have responded to their Lord (in submission to Him), and have established Salah, and whose affairs are (settled) with mutual consultation between them, and who spend out of what We have given to them,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who have responded to their Lord (in submission to Him), and have established Salah, and whose affairs are (settled) with mutual consultation between them, and who spend out of what We have given to them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who answer the Call of their Lord, and perform the Salah, and who (conduct) their affairs by mutual consultation, and who spend of what We have bestowed on them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who answer the call of their Lord and establish worship, and whose affairs are a matter of counsel, and who spend of what We have bestowed on them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who have responded to their lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend.

— Saheeh International

who have pledged their obedience to the Lord, who are steadfast in prayer, who conduct their affairs with consultation among themselves, who spend for the cause of God out of what We have given them,

— Muhammad Sarwar

And those who respond to their Lord and keep up prayer, and their rule is to take counsel among themselves, and who spend out of what We have given them.

— Muhammad Habib Shakir

And those who answer the call of their Lord and establish prayer and whose affair being matter of counsel among themselves, and who of that wherewith We have provided them expend.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who hearken to their Lord, and establish regular Prayer; who (conduct) their affairs by mutual Consultation; who spend out of what We bestow on them for Sustenance;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–39

درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 60 لفظی ترجمہ ہوگا " اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہیں " یعنی جس کام کے لیے بھی اللہ بلاتا ہے اس کے لیے دوڑ پڑتے ہیں، اور جس چیز کی بھی اللہ دعوت دیتا ہے اسے قبول کرتے ہیں۔ سورة الشُّوْرٰی 61 اس چیز کو یہاں اہل ایمان کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے، اور سورة آل عمران (آیت 159) میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بنا پر مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے، اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی گئی ہے ؟ اس کے وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی صفت وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠۔ استجابت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملے اس کو فوراً بےچون و چرا اور بےتامل قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجائے وہ اپنی طبیعت کے مطابق ہو یا مخالف، ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ اس میں اسلام کے تمام فرائض کی ادائیگی اور تمام محرمات و مکروہات سے بچنے کی پابندی شامل ہے مگر فرائض میں چونکہ نماز سب سے اہم فرض ہے۔ اور اس میں یہ خاصہ بھی ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دوسرے فرائض کی پابندی اور ممنوع چیزوں سے بچنے کی توفیق بھی ہوجاتی ہے اس لئے اس کو ممتاز کر کے فرما دیا، واقاموا الصلوٰة یعنی یہ لوگ نماز کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

والذین استجابوا الربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوریٰ بینھم ومما رزقنھم ینفقون (38) وہ صفات جن سے مذکورہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں یہ ان صفات کا بیان ہے جن سے ان کے ادنر وہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں جن کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جو اس کے رسول کے واسطہ سے ان کو پہنچی ہے۔ قریش کے متکبرین کی طرح انہوں نے اس کو جھٹلانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی اسی خوبی کی طرف اوپر آیت 26 میں اشارہ فرمایا ہے۔ ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ (اور اس کو قبول کر رہے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ ان کے لئے اپنے فضل میں افزونی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38۔ 1 یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اسکے حکم کو نہ ماننے سے پرہیز کرتے ہیں 38۔ 2 نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادت میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–39

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–43

آیت نمبر 36 تا 43 اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 مشورہ سے کام کرنا اللہ کو پسند ہے دین کا ہو یا دنیا کا۔ نبی کریم ﷺ مہمات امور میں برابر اصحاب ؓ سے مشورہ فرماتے تھے اور صحابہ آپس میں مشورہ کرتے تھے حروب وغیرہ کے متعلق بھی اور بعض مسائل و احکام کی نسبت بھی۔ بلکہ خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوریٰ پر قائم تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ مشورہ کی ضرورت ان کاموں میں ہے جو مہتم بالشان ہوں اور جو قرآن و سنت میں منصوص نہ ہوں۔ جو چیز منصوص ہو اس میں رائے و مشورہ کے کوئی معنی نہیں۔ اور ہر چھوٹے بڑے کام میں اگر مشورہ ایسے شخص سے لیا جائے جو عاقل و عابد ہو۔ ورنہ اس کی بیوقوفی یا بددیانتی سے کام خراب ہوجانے کا اندیشہ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 { وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا اور نماز قائم کی۔“ یہ کون سی پکار ہے ؟ اس حوالے سے یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اس سورت میں اب تک جمع کے صیغے میں فعل امر ایک ہی مرتبہ آیا ہے ‘ یعنی { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } اور جمع کے صیغے میں اب تک ایک ہی مرتبہ فعل نہی آیا ہے ‘ یعنی { وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ }۔ چناچہ یہی وہ پکار یا حکم ہے جس کی استجابت کا ذکر یہاں ہوا ہے ‘ یعنی : { اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِط } آیت 13 ”دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو“۔ اور اسی کے بارے میں حضور ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 مشورہ اور اس کے متعلقات :۔ مشورہ سے متعلق قابل ذکر امور یہ ہیں : (1) مشورہ انفرادی امور میں کیا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ نے واقعہ افک کے دوران کئی صحابہ سے مشورہ لیا اور اجتماعی امور میں بھی جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔ (2) مشورہ صرف اسی سے لینا چاہئے جو مشورہ دینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ ہر کس و ناکس سے نہ مشورہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کوئی لیتا ہے۔ اجتماعی امور میں مومنوں کا امیر مجلس شوریٰ منتخب کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔ (3) مشورہ صرف ایسے امور میں کیا جاسکتا ہے۔ جہاں کتاب و سنت میں کوئی صریح حکم موجود نہ ہو۔ اور اس کا تعلق بالعموم تدبیری امور سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے اسارٰی بدر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ یہ سارے اوصاف مومنین صادقین کے بیان ہورہے ہیں۔ انفرادی واجتماعی دونوں قسم کی نیکیاں ان میں آگئیں۔ (آیت) ” وامرھم شوری بینھم “۔ باہمی مشورہ کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ شوری کا ذکر نماز وزکوۃ کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔.... اجتماعی صورت میں اس حکم کی تعمیل کی صورت یہ ہے کہ حکومت، حکومت شوری ہو، جیسی کہ خفاء راشدین کی تھی، فقہاء مفسرین نے شوری کی اہمیت کو خوب سمجھا ہے۔ یدل علی جلالۃ موقع المشورۃ لذکرہ لھا مع الایمان واقامۃ الصلوۃ ویدل علی انا ما مورون بھا (جصاص) البتہ شوری کے سلسلہ میں یہ یاد رہے کہ مشورہ صرف انہیں امور میں پسندیدہ ہے، جو بجائے خود قابل مشورہ ہوں گے، اور جو چیزیں احکام قطعی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–43

آیت نمبر 30 تا 43 ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوری بینھم اور (ان لوگوں کیلئے) جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا (ہر) کام (جس میں کوئی خاص نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے۔ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا اس کا عطف بھی یَجْتَنِببُوْنَ پر ہے ‘ اور ھُمْ یَغْفِرُوْنَ میں لفظ ھُم سے یہ بتانا ہے کہ وہی غصہ کے وقت (بھی) معاف کردینے کے اہل ہیں۔ وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا اور انہوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ‘ یعنی رب کے حکم پر چلے۔ وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی ‘ شورٰی مصدر ہے جیسا فتینا۔ شورٰی کا معنی ہے باہم مشورہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان کی اپنی رائے ہوتی ہے ‘ اس پر عمل کرنے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو لوگ توحید و اطاعت کی تعمیل میں اپنے رب کا کہنا مانتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو باہم مشورہ کر کے پھر اس پر عمل کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) والذین استجابوا لربھم : واجب الاجتناب چیزوں کے بعد ان اوصاف کا ذکر فرمایا جن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ وہ چار ہیں، جن پر عمل اتحاد امت کا اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اجابت اور اسجابت دونوں کا معنی ”قبول کرنا“ ہے۔ مگر استجابت میں حروف زائد ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا رب انھیں جس کام کے لئے بلاتا ہے وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، نہ دیر کرتے ہیں نہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ ان کے رب کا ان سے تقاضا بھی یہی ہے۔ دیکھیے سورة انفال (24)۔ (2) واقاموا الصلوۃ : ان چار اوصاف میں سے سبسے پہلے نماز قائم کرنے کا ذکر فرمایا، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین سائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس سے مراد مدینہ طیبہ کے انصار ہیں (1) ‘ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر ایمان لانے کی جب انہیں دعوت دی گئی تو انہوں نے اس پر لبیک کہی جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے قبل انہیں میں سے بارہ نقیب ان کی طرف روانہ کیے تھے۔ واقاموا الصلوۃ یعنی انہوں نے نماز کو اس کے اوقات میں شروط اور ہئیتوں کے ساتھ ادا کیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وامرھم شوری بینھم وہ امور میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ شوری ‘ شاورتہ کا مصدر ہے جس طرح بشری اور ذکری وغیرہ نبی کریم ﷺ کے انصار مدینہ کے پاس آنے سے پہلے انصار کا یہ معمول تھا کہ جب وہ کسی امر کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) نے الادب میں وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ کسی قوم نے (آپس میں) مشورہ نہیں کیا مگر ان کو ہدایت دی گئی اور ان کا معاملہ درست ہوگیا۔ یہ (آیت ) ’ ’ وامرھم شوری بینہم “ (اور ان کا ہر کام آپس میں مشورہ سے ہوتا ہے) آپس کے صلح و مشورے کی اہمیت : 2:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایک ایسا معاملہ جو آپ کے بعد ہم پر آجائے جس کے بارے میں نہ قرآن نازل ہوا اور نہ اس کے بارے میں آپ سے بھی کوئی بات سنی گئی (تو پھر کیا کریں) آپ نے فرمایا اس مسئلہ کے لئے میری امت میں سے ایک عبادت کرنے والے کے پاس جمع…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا [ اور جن لوگوں نے جواب دیا (حکم مانا) ] لِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کا ] وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۠ [ اور جنھوں نے قائم کی نماز ] وَاَمْرُهُمْ [ اور جن کا معاملہ ] شُوْرٰى [مشورہ کرنا ہے ] بَيْنَهُمْ ۠ [ اپنے درمیان ] وَمِمَّا [ اور اس میں سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ ہم نے روزی دی ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [ وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–39

آخر میں فرمایا ﴿وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 0039﴾ (جب ان کو ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں) اس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دی ہے سیاق کلام سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ جتنا ظلم ہوا ہے اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے مزید تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر کے ذیل میں پڑھئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–43

بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–38

32:۔ ” والذین استجابوا “ اس میں دوسرے عنوان سے امور ثلاثہ کا اعادہ کیا گیا ہے برائے تاکید۔ اپنے رب کا حکمنامہ قبول کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے تمام امور باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔ یہ امر اول ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور لوگوں پر احسان کرتے ہیں۔ یہ امر ثانی ہے اور جب ان پر کوئی زیادتی کرتے تو وہ صرف زیادتی کا بدلہ ہی لیتے ہیں لیکن اپنی طرف سے ظلم زیادتی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–43

ربط آیات گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔ کبائر اور فواحش سے اجتناب اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝ 0 ۠ وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝ 0 ۠ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝ 38 ۚ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26] وَالَّذِينَ اسْتَجابُوا لِرَبِّهِمْ [ الشوری/ 38] ، وقال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–39

ترکیب : موصولہ متضمنۃ المعنی الشرط لان اتیاء ما اوتواسبب للتمتع بہ فی الدنیا فجاءت الفاء فی الجواب فمتاع ای فھو متاع و ماعنداللہ ماموصولۃ مع صل تھا فی محل الرفع لکونہ مبتداء خبر وابقی خبرہ والذین فی موضع خبر بدلامن الذین امنوا کبائر جمع کبیرۃ ھم مبتداء یغفرون خبرہ و الجملۃ جواب اذا و الشورٰی مصدر شاورۃ مثل البشرٰی والقربیٰ والجمل کلھا من الذین استجابواوالذین اذا اصابہم الخ بدل من الذین آمنوا۔ تفسیر : دنیا حسب مراد حاصل نہ ہونے اور مصائب نازل ہونے کی وجہ بیان فرما کر اب دنیا کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس کے غرور میں انسان خدا سے سرکشی کرتا ہے اور تلف ہونے اور نہ ملنے پر کیا بےچین ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ص وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَـھُمْ ص وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الشوری : 38) (اور وہ لوگ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ) اصحابِ ایمان کی چند مزاجی خصوصیات گزشتہ آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ پر عموماً اور اشرارِ قریش پر خصوصاً تنقید کرتے ہوئے ان کے بعض اخلاقی امراض کی نشاندہی فرمائی تھی جس نے ان کے سیرت و کردار اور فکری دنیا کو بالکل تہہ وبالا کرکے رکھ دیا تھا۔ پھر اس کے فوراً بعد ان لوگوں کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے نیک بندوں کے مزید اوصاف۔ مشاورت کی اہمیت اور اس کی غرض وغایت : قرآن پاک نے مسلمانوں کو مشاورت کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مسلمان اجتماعی مسائل کو اجتماعی انداز میں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرز عمل کے بیک وقت کئی فوائد ہیں۔ ایک طرف اہل دانش کی دلجوئی ہے اور دوسری جانب ان کی صلاحیتوں سے اجتماعی فائدہ اٹھانا اور ان کی انفرادی فکر کو اجتماعی سوچ میں ڈھالنا اور باہمی فکرو عمل کا موقع فراہم کرنا ہے۔ یہ ایسا خیرو برکت سے بھرپور عمل ہے جس سے نبی اکرم ﷺ کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔ حالانکہ آپ مسلسل اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایات میں زندگی گزارتے ہوئے لوگوں کی راہنمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انصارِ مدینہ کی طاعت شعاری : 38: وَالَّذِیْنَ اسْتَجَا بُوْا لِرَبِّھِمْ (اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا) یہ آیت انصار مدینہ کے متعلق نازل ہوئی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی طرف بلایا اور طاعت کی دعوت دی تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کا حکم مان لیا۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور وہ نماز کے پابند ہیں) وہ پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ وَاَمْرُھُمْ شُورٰی بَیْنَہُمْ (اورا نکا ہر کام آپس کے مشورہ سے ہوتا ہے) ای ذو شوری۔ وہ کسی رائے میں انفرادیت اختیار نہیں کرتے جب تک اس پر اتفاق نہ کرلیں۔ قولِ حسن (رح) : جس قوم نے مشورہ سے کام لیا وہ سب سے بہتر کام کی طرف ہدایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37، والذین یجتنبون کبائرالاثم، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے، کبیر الا ثم، پڑھا ہے۔ مفرد کا صیغہ یہاں بھی اور سورة النجم میں بھی اور دیگر حضرات نے ، کبائر، جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور تحقیق ہم کبائر کا معنی سورة النساء میں ذکر کرچکے ہیں۔ ، والفواحش، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مرادزنا ہے۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ گناہ جو حدواجب کرتاہو۔ ، واذاما غضبواھم یغفرون، برداشت کرتے ہیں اور غصہ کو پی جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–43

36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–40

آیت 36 اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

باہمی مشاورت کی اہمیت قول باری ہے (والذین استجابوالربھم واقاموا الصلوٰۃ وامرھم شوریٰ بینھم۔ اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا (یہ اہم) کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے) یہ قول باری باہمی مشورہ کی عظمت اور اس کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ایمان اور اقامت کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے ۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ہم باہمی مشورہ پر مامور ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–39

82 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–43

مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–43

آیات 30 تا 43۔ اسرار ومعارف۔ اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔ اور اس کی عظمت کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی وہ اپنے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کرتے ہیں اور اس چیز کو اسلامی نظام اجتماعی کی ہم امتیازی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ سورة آل عمران ( آیت 159) میں آنحضرت ﷺ احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ ؓ سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر ؓ کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا۔ موجود دور کی جمہوریت اور اسلامی شورائی نظام میں اہم بنیادی فرق یہ ہے کہ جدید جمہوریت میں نمائندگان جمہور قانون سازی کے غیر محدود اختیارات رکھتے ہیں، لیکن اسلام میں کتاب و سنت کے نصوص کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:38) والذین استجابوا۔ معطوف ہے الذین پر۔ استجابوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ استجاب (استفعال) مصدر۔ جوب مادہ۔ انہوں نے مانا ۔ انہوں نے قبول کیا۔ اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں۔ واقاموا الصلوۃ۔ اور نماز قائم کرتے ہیں۔ معطوف ہے الذین امنوا پر۔ وامرھم شوری بینھم : شوری مشورہ کرنا۔ یہ باب مفاعلۃ سے مصدر ہے جیسے بشری و ذکری۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے الذین امنوا۔ اور ان کے سارے کام باہمی مشورے سے ہوتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون : معطوف علی الذین امنوا۔ مما : من حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ اس میں سے جو (رزق ہم نے عطا کیا) ۔ ینفقون مضارع جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–43

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–44

کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[22] اس آیت میں اسلامی نظام زندگی کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ اس میں وہ تمام اجتماعی امور جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہوں مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ یہاں شوری کی کوئی خاص شکل متعین نہیں کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے احکام ساری دنیا کے لئے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ہیں لہذا شوریٰ کا ایک خاص طریقہ ہر سوسائٹی اور ہر تمدن کے لئے یکساں موزوں نہیں ہوسکتا۔ البتہ شوریٰ کا قاعدہ جو آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اصولاً تین باتوں کا مقتضی ہے : ایک یہ کہ معاملہ جن لوگوں کے اجتماعی کام سے متعلق ہو ان سب کو مشورے میں شریک ہونا چاہئے خواہ وہ براہ راست شریک ہوں یا اپنے نمائندوں کے واسطے سے شریک ہوں۔ دوسرے یہ کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 37–43

آیت 37 تا 43: حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔ اہل عقبے 1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) اور وہ اپنے پروردگار کا حکم مانتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اپنے پروردگار کا جو حکم ہوا اس کو قبول کرتے ہیں جیسے مدینے کے انصار اور نماز کے پابند رہتے ہیں اور ہر اہم کام میں آپس میں مشورہ کرنے کے بعد کرتے ہیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری کا مشہور قول ہے کہ جس قوم نے باہم مشورے سے کام کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت علی ؓ مرفوعاً فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ بعض دفعہ ہم کو ایسے امور اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ ہر کام سے مراد ہر مہتم بالشان کام ہے، اس لئے کہ معمولی کاموں میں مشورہ منقول نہیں، جیسے دو وقت کا کھانا کھانا وغیرہ۔ اور نص نہ ہونے کی قید اس لئے کہ منصوصات متعینہ میں بھی مشورہ نہیں، جیسے یہ مشورہ کہ پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو یا نہ پڑھا کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

38 ؎ ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے احکام مانتے ہیں اس حکم میں الفاظ صرف دو ہیں لیکن انسان کی پوری زندگی پر یہ دونوں الفاظ مکمل طور پر محیط ہیں یعنی ایمان لانے والوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جب ان کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے اس کام سے منع کیا یا یہ کہ اللہ نے اس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے تو پھر نہ تو وہ اپنی مرضی اور خواہش کی پیروی کرتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو چھوڑ کر وہ اپنی مرضی پر تل جائیں اور نہ ہی غیر اللہ میں سے کسی کی خواہش کا وہ احترام کرتے ہیں خواہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو۔ قرآن کریم میں اگر آپ اس کی مثال دیکھنا چاہیں تو فرعون نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Fourth virtue: وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ (and those who have responded to their Lord [ in submission to Him ] and have established Salah - 38,). ` Responding to the Lord' means to accept Allah's orders immediately, without questioning them, and get ready to obey them, irrespective of whether the order is or is not according to one's liking. This includes carrying out all the obligatory duties and avoiding all the things considered unlawful and undesirable in Islam. But salah being the most important of all the obligations, and having the quality of enabling…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

60. Literally:“Who answer the call of their Lord”, that is they hasten to do whatever Allah enjoins them to do, and accept whatever Allah invites them to accept. 61. This thing has been counted here as the best quality of the believers and has been enjoined in(Surah Aal-Imran, Ayat 159). On this basis, consultation is an important pillar of the Islamic way of life, and to conduct the affairs of collective life without consultation is not only the way of ignorance but also an express violation of the law prescribed by Allah. When we consider why consultation has been given such importance in…

Read the full tafseer →