Explained with ayahs 36–39
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 57
اللہ پر توکل کو یہاں ایمان لانے کا لازمی تقاضا، اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف قرار دیا گیا ہے۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ اولاً ، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں وہی بر حق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ ثانیاً ، آدمی کا بھروسہ اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر، اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے…
Read the full tafseer →دوسری صفت، (آیت) وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ۔ یعنی جو کبیرہ گناہوں سے خصوصاً بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ اس کی تفصیل سورة نساء وغیرہ میں پہلے بیان ہوچکی اور احقر نے ایک مختصر سے رسالہ میں کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی پوری فہرست بھی لکھ دی ہے۔ جو گناہ بےلذت کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔
کبیرہ گناہوں میں سبھی گناہ داخل تھے، ان میں سے فواحش کو الگ کر کے بیان فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ فواحش کا گناہ عام کبیرہ گناہوں سے زیادہ سخت بھی ہے اور وہ ایک مرض متعدف ہوتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں فواحش کا لفظ ان کاموں کے لئے بولا…
Read the full tafseer →-6 آگے کا مضمون …آیات 43-37
آگے کی آیات میں مذکورہ بالا اجر کے مستحقین کی کچھ اور صفتیں بیان فرمائی ہیں جن سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو مسلمان اس دور میں قریش کے مغروروں کے ہاتھوں ہر قسم کے مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے یہاں تک کہ ان کے مظالم سے تنگ آ کر اپنے گھر ور چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے، وہی اس کے اصلی حق دار ہیں۔ یہ سورة ، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، ہجرت کے بالکل قریب نازل ہوئی ہے اس وجہ سے ان صفات کے بیان کا انداز کچھ اس طرح کا ہے جس میں مسلمانوں کے لئے فتح یاب کی بشارت بھی ہے اور آگے کے مراحل میں ان کے فرائض اور ان کی ذمہ داریوں سے متعلق بعض ضروری ہدایات بھی گویا ہجرت سے پہلے ان کو یہ بتا…
Read the full tafseer →37۔ 1 یعنی لوگوں سے عفو و درگزر کرنا ان کے مزاج و طبیعت کا حصہ ہے نہ کہ انتقام اور بدلہ لینا جس طرح نبی ﷺ کے بارے میں آتا ہے ' نبی ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا، ہاں اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کا توڑا جانا آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…
Read the full tafseer →1 اس کا بیان سورة " نسا " کی آیت " اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ " کے فوائد میں گزر چکا، وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ شاید یہاں " کبائر الاثم " سے وہ بڑے گناہ مراد ہوں جو قوت نظریہ کی غلط کاری سے پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً عقائد بدعیہ اور " فواحش " وہ گناہ جن میں قوت شہوانیہ کی بےاعتدالی کو دخل ہو۔ آگے (وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ ) 42 ۔ الشوری :37) میں تو ظاہر ہے کہ قوت غضبیہ کی روک تھام کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 37 { وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ } ”اور وہ لوگ کہ جو اجتناب کرتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے“
ظاہر ہے اس مقدس فریضہ کو نبھانے کا حلف اٹھانے والے رضاکار اگر اپنے دامن ِکردار کو ایسی نجاستوں سے بچا کر نہیں رکھیں گے تو وہ اس میدان میں آگے کیسے بڑھ سکیں گے۔ یہی مضمون سورة النساء کے اندر ہم ان الفاظ میں پڑھ چکے ہیں : { اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُـکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا۔ } ”اگر تم اجتناب کرتے رہو گے ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں…
Read the full tafseer →53 بڑے بڑے گناہوں کی تفصیل کے لیے سورة نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے :
54 فحاشی اور اس کا دائرہ :۔ فحاشی سے مراد ہر وہ کام ہے جو انسان کی قوت شہوانیہ سے تعلق رکھتا ہو۔ اسلام نے جنسی چھیڑ چھاڑ اور حاجت پوری کرنے کے لیے شرعی نکاح کی راہ کھول دی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی طریقے ممکن ہیں ان سب پر پابندی لگا دی ہے۔ مثلاً زنا، اغلام، لواطت، مشت زنی، عورتوں کی عورتوں سے ہمبستری۔ جانوروں سے بدفعلی وغیرہ۔ سب حرام اور بدترین جرم ہیں۔ اور ان سب کو (فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ 19) 4 ۔ النسآء :19) کہا جاتا ہے اور جو باتیں زنا سے قریب لے جانے والی ہیں وہ سب فواحش میں داخل ہیں۔ مثلاً بدنظری یا غیر…
Read the full tafseer →42۔ آیت کے الفاظ قابل غور ہیں۔ (آیت) ” یجتنبون کبئر الاثم “۔ بڑے چھوڑے سارے گناہوں سے ہمیشہ بچے رہنا صالحین غیر معصوم کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس لئے بشریت کی اس کمزوری کی رعایت سے ممدوحین تک کیلئے یہ قید لگا دی کہ وہ وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ (آیت) ” واذا ما غضبوا ھم یغفرون “۔ اسی طرح موقع مدح وتحسین پر ہی یہ ارشاد نہیں ہوتا کہ صالحین و ابرار کو غصہ سرے سے آتا ہی نہیں۔ غصہ کا اپنے موقع ومحل پر نہ آنا دلیل حلم نہیں، دلیل جبن وبے حمیتی ہے۔ کمال نہیں، نقص ہے، ہنر نہیں عیب ہے، کمال اور ہنر صرف یہ ہے کہ بندہ کہ جب بےمحل وبیجا غصہ آجائے تو اس کے مقتضا پر عمل نہ کرے، بلکہ اپنی طبیعت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →والذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش اور جو کبیرہ گناہوں سے اور (ان میں سے خصوصاً ) بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔
وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کا عطف اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ پر ہے ‘ یعنی ثواب آخرت ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ فواحش بھی کبیرہ گناہ ہی ہوتے ہیں۔ سدی نے کہا : اس سے مراد زنا ہے۔ مقاتل نے کہا : کبائر وہ گناہ ہیں جن کی شرعاً جسمانی سزا مقرر ہے۔ سورة نساء میں ہم نے کبائر کی تفصیل بیان کردی ہے۔
واذا ما غضبوا ھم یغفرون۔ اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
Read the full tafseer →اور جو شرک اور زنا اور گناہوں سے بچتے ہیں اور جب ان کو ظلم اور زیادتی پر غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →(1) والذین یجتبون کبیر الاثم والفواحش : ایمان و توکل کے بعد پہلے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جن سے اجتناب ضروری ہے، وہ ہیں کبائر و فواحش اور غضب۔ ”کبائر“ کی تعریف کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیت (31)۔ ”الفواحش“ (فاحشۃ“ کی جمع ہے، کوئی بھی قول یا فعل جس کی قباحت حد سے بڑھی ہوئی ہو، مثلاً زنا، قوم لوط کا عمل اور شدید بخل وغیرہ۔ (دیکھیے سورة بقر :268) آیت میں ”کبائر“ کا لفظ عام ہے، جس میں فواحش بھی آجاتے ہیں، مگر ”فواحش“ کا ذکر ان سے نفرت دلانے کے لئے خاص طور پر الگ بھی فرمایا۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا کہ فواحش ان بڑے گناہوں کو کہتے ہیں جنکی رغبت انسانی طبیعت میں پائی جاتی ہو۔ مزید دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 37)
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: والذین یجتنبون اسم موصول محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف للذین امنوا پر ہے یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ گناہ کبیرہ کے بارے میں بحث سورة النساء میں گذرچ کی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے کبیر الاثم پڑھا ہے اضافت کے وقت واحد سے بھی جمع کا ارادہ کیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم :34) جس طرح حدیث طیبہ میں ہے منعت العراق درھمھا و قفیر ھا (3) محل استدلال درھمھا اور قفیزھا ہے۔ باقی قراء نے یہاں اور سورة نجم میں جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔
والفواحش سدی نے کہا : اس سے مراد زنا ہے (4) ؛ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیظللن رواکد علی ظہرہ “ (تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں) یعنی نہ وہ حرکت کرتی تھیں اور نہ وہ سمندر میں چلتی تھیں۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواکد “ سے مراد ہے وہ ٹھہر جاتی ہیں ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو ہلاک کردیتا ہے۔
5:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو غر ق کردے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ ان کو ہلاک کردے۔
7:۔ ابن…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ [ اور جو لوگ دور رہتے ہیں ] كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے بڑوں سے ] وَالْـفَوَاحِشَ [ اور بےحیاؤں سے ] وَاِذَا مَا [ اور جس وقت ] غَضِبُوْا [ وہ غضبناک ہوتے ہیں ] هُمْ يَغْفِرُوْنَ [ تو وہ لوگ بخش دیتے ہیں ]
نوٹ ۔ 1: یہاں (آیت ۔ 37) برائیوں کے صرف کبائر سے بچنے کا ذکر ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انسان خیر وشر کے دو متضاد داعیات کی کشمکش کے اندر امتحان میں ڈالا گیا ہے ۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اس سے یہ نہیں ہے کہ وہ بالکل معصوم ہوکر زندگی گزارے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرے ۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آخر میں فرمایا ﴿وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 0039﴾ (جب ان کو ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں) اس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دی ہے سیاق کلام سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ جتنا ظلم ہوا ہے اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے مزید تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر کے ذیل میں پڑھئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
32:۔ ” والذین استجابوا “ اس میں دوسرے عنوان سے امور ثلاثہ کا اعادہ کیا گیا ہے برائے تاکید۔ اپنے رب کا حکمنامہ قبول کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے تمام امور باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔ یہ امر اول ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور لوگوں پر احسان کرتے ہیں۔ یہ امر ثانی ہے اور جب ان پر کوئی زیادتی کرتے تو وہ صرف زیادتی کا بدلہ ہی لیتے ہیں لیکن اپنی طرف سے ظلم زیادتی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
ربط آیات
گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔
کبائر اور فواحش سے اجتناب
اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ يَغْفِرُوْنَ 37 ۚ
اجتباء
: الجمع علی طریق الاصطفاء . قال عزّ وجل : فَاجْتَباهُ رَبُّهُ [ القلم/ 50] ، وقال تعالی: وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] ، أي : يقولون : هلّا جمعتها، تعریضا منهم بأنک تخترع هذه الآیات ولیست من اللہ . واجتباء اللہ العبد : تخصیصه إياه بفیض إلهيّ يتحصل له منه أنواع من النعم بلا سعي من العبد، وذلک للأنبیاء وبعض من يقاربهم من الصدیقین والشهداء، كما قال تعالی: وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ [يوسف/ 6] ، فَاجْتَباهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ترکیب : موصولہ متضمنۃ المعنی الشرط لان اتیاء ما اوتواسبب للتمتع بہ فی الدنیا فجاءت الفاء فی الجواب فمتاع ای فھو متاع و ماعنداللہ ماموصولۃ مع صل تھا فی محل الرفع لکونہ مبتداء خبر وابقی خبرہ والذین فی موضع خبر بدلامن الذین امنوا کبائر جمع کبیرۃ ھم مبتداء یغفرون خبرہ و الجملۃ جواب اذا و الشورٰی مصدر شاورۃ مثل البشرٰی والقربیٰ والجمل کلھا من الذین استجابواوالذین اذا اصابہم الخ بدل من الذین آمنوا۔
تفسیر : دنیا حسب مراد حاصل نہ ہونے اور مصائب نازل ہونے کی وجہ بیان فرما کر اب دنیا کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس کے غرور میں انسان خدا سے سرکشی کرتا ہے اور تلف ہونے اور نہ ملنے پر کیا بےچین ہوتا ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَالْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَاغَضِبُوْا ھُمْ یَغْفِرُوْنَ ۔ (الشوری : 37)
(اور جو بچتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے، اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ )
ایمان اور توکل سے پیدا ہونے والی تین مزید صفات
صاحبِ ایمان لوگوں کی مزید ان صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو ایمان اور توکل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو کہنے کو تو تین قسم کی صفات ہیں، لیکن حقیقت میں زندگی کے تمام منفی روئیوں کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ انسانی سیرت و کردار میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو فکری گمراہیوں کے ساتھ ساتھ جو عملی کو تاہیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سب سے پہلی چیز یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کے احکام اور ارشادات کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی اور اس کا سازو سامان قلیل اور عارضی ہے۔ اس لیے ” اللہ “ کے نیک بندے کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے اجتناب کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کے ساتھ معاف کردینے کا اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ انسان غصے کی حالت میں دوسرے پر زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ قتل نفس کا واقعہ بھی پیش آجاتا ہے جو کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
جس دنیا کے اسباب و وسائل پر لوگ اتراتے اور اپنے رب کے احکام کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →37: وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ (اور وہ لوگ جو پرہیز کرتے ہیں)
نحو : اس کا عطف الذین ٰامنوا پر ہے اور اسی طرح اس کا مابعد کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ (بڑے گناہوں سے) یعنی بڑے گناہ جو اس جنس سے ہیں۔
قراءت : علی، حمزہ نے کبیر الاثم پڑھا ہے۔ قول ابن عباس ؓ کبیرالاثم سے شرک مراد ہے۔
وَالْفَوَاحِشَ (اور بےحیائی کی باتوں سے) ایک قول یہ ہے جس کی قباحت زیادہ ہو وہ فاحشہ ہے جیسے زنا وَاِذَا مَاغَضِبُوْا (اور جب ان کو غصہ آتا ہے) اپنے کسی دنیاوی معاملے میں ھُمْ یَغْفِرُوْنَ (وہ معاف کردیتے ہیں) وہ غصہ کی حالت میں معاف کرنے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔
نحو : آیت میں ھمؔ اور پھر اس کو بطور مبتدأ لانا۔ اور یغفرون کی…
Read the full tafseer →36، فما اوتیتم من شیئ، دنیا کی آسائشوں میں سے ، فمتاع الحیوۃ الدنیا، یہ آخرت کا سرخرچ نہیں ہے ۔ ، وما عند اللہ ، ثواب
، خیر وابقی للذین امنواوعلی ربھم یتوکلون، اس میں بیان ہے کہ مؤمن وکافراس بات میں برابر ہیں کہ دنیا ان کے لیے تھوڑاسانفع ہے جس دنیا میں دونوں لطف اندوزہو رہے ہیں۔ پس جب دونوں آخرت میں جائیں گے تو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ مؤمن کیلئے بہت رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
82 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی وہ اعلیٰ درجہ کا بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی جبکہ دنیا کا مال و متاع اس کے مقابلے میں معمولی نوعیت کا بھی ہے اور عارضی بھی۔
4 بڑے گناہوں کی تشریح کے لئے ( دیکھئے سورة نساء آیت 31)
5 غصہ کو پی کر لوگوں کی خطا معاف کردینا انسان کے بہترین اوصاف میں سے ہے۔ ( دیکھئے آل عمران :130، 133) صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا البتہ جب اللہ کی قائم کردہ حرمتوں میں سے کسی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ ﷺ انتقام لیتے تھے۔ ( ابن کثیر) اور در گزر کا وصف آنحضرت ﷺ کے بعد خلفائے راشدین ؓ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(42:37) والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش : اس کا عطف بھی الذین امنوا پے ہے۔ یجتنبون مضارع جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر وہ پرہیز رکھتے ہیں ۔ کبئر جمع کبیرۃ کی صفت مشبہ جمع مؤنث مضاف الاثم (گناہ) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول یجتنبون کا۔ الفواحش ، فاحشۃ کی جمع مفعول ثانی۔ اور جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں بیحیائیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں۔
فائدہ : حدیث شریف میں مندرجہ ذیل گناہ کبیرہ بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ کسی پر جادو کرنا۔ قتل ناجزئ۔ سود خوری۔ یتیم کا مال کھانا۔ جہاد سے بھاگنا۔ پاکدامنوں پر تہمت لگانا۔ (متفق علیہ)
فواحش میں مندرجہ ذیل مندرج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[21] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
آیت 37 تا 43:
حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔
اہل عقبے
1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں…
Read the full tafseer →(37) اور وہ کبیرہ گناہوں سے بےحیائی کے کاموں سے بچتے اور اجتناب کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو قصور وار کو معاف کردیتے ہیں۔ کبائر الاثم سے حضرت ابن عباس نے شرک مراد لیا ہے اور جس میں برائی ہو وہ فاحشہ ہے جیسے زنا۔ اور مقاتل نے فرمایا بےحیائی اور فواحش وہ گناہ ہیں جن پر شریعت نے حد مقرر فرمائی ہے اور جب ان کو غصہ آئے تو غضب کی حالت میں معاف کردیا کرتے ہیں یعنی اپنے ذاتی معاملات میں اور دنیوی قصوں میں انتقام کی خواہش نہیں کرتے بلکہ عفو اور درگزر کردیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 5۔ اور خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجاوے گا۔
6۔ پس دنیا کی طلب چھوڑ کر آخرت کی طلب کرو۔
Read the full tafseer →کیا ہی ہیں وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں سے بچتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے ہیں
37 ؎ گزشتہ آیت میں ایمان باللہ کا ذکر تھا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے دونوں کا واضح فرق کیا ہے اور زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ ایمان والے کون ہیں ؟ وہی جو بڑے بڑے گناہوں سے جن کو کبائر کا نام دیا گان ہے اجتناب کرتے ہیں اور بدکاریوں اور بےحیائیوں کے قریب بھی نہیں جاتے اور ایسے حال میں کہ جب ان کو کوئی غصہ دلاتا ہے اور اس غصہ کے اثر سے غضبناک ہوجاتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غصہ دلانے والوں پر اپنے غصہ کا اظہار نہیں ہونے دیتے بلکہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور غصہ دلانے…
Read the full tafseer →Second virtue: الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ (those who abstain from the major sins and from shameless acts - 37). What are major sins? Details have already been stated in the commentary of Surah Nisa'; the author has also given a complete list of major and minor sins in his booklet in Urdu published under the little of "Gunah-e- bay ladhdhat گناہ بےلذّت .
The wisdom behind specially mentioning shameless acts, apart from all the other major sins, is that they are not only graver, but also infectious in that they influence others also. Shameless acts include…
Read the full tafseer →58. For explanation, see (Surah An-Nisa, Ayat 31); (Surah Al-Anaam, Ayat 151); (Surah An-Naml, Ayat 90); (Surah An- Najm, Ayat 32 and the E.Ns).
59. That is, they are not wrathful and crazy but are temperate and cool minded. They are not revengeful but forbearing and forgiving by nature. If ever they feel angry at something they control their rage. This characteristic is the best of man’s qualities, which has been highly commended in the Quran (Surah Aal-Imran, Ayat 134) and regarded as a major factor of the Prophet’s (peace be upon him) success (Surah Aal-Imran, Ayat 159). According to…
Read the full tafseer →