Explained with ayahs 36–39
درگذر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےقدری اور اسکی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر کمی کو زیادتی پر ترجیح دینا عقلمندی نہیں اب اس ثواب کے حاصل کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں کہ ایمان مضبوط ہو تاکہ دنیاوی لذتوں کے ترک پر صبر ہو سکے اللہ پر کامل بھروسہ ہو تاکہ صبر پر اس کی امداد ملے اور احکام الٰہی کی بجا آوری اور نافرمانیوں سے اجتناب آسان ہوجائے کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے پرہیز چاہیے۔ اس جملہ کی تفسیر…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 55
یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر آدمی پھول جائے۔ بڑی سے بڑی دولت بھی جو دنیا میں کسی شخص کو ملی ہے، ایک تھوڑی سی مدت ہی کے لیے ملی ہے۔ چند سال وہ اس کو برت لیتا ہے اور پھر سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوجاتا ہے۔ پھر وہ دولت بھی چاہے بہی کھاتوں میں کتنی ہی بڑی ہو، عملاً اس کا ایک قلیل سا حصہ ہی آدمی کے اپنے استعمال میں آتا ہے۔ اس مال پر اترانا کسی ایسے انسان کا کام نہیں ہے جو اپنی اور اس مال و دولت کی، اور خود اس دنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔
سورة الشُّوْرٰی 56
یعنی وہ دولت اپنی نوعیت و کیفیت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ درجے کی ہے، اور پھر وقتی و عارضی بھی نہیں ہے بلکہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور تم اوپر سن چکے ہو کہ طالب دنیا کی ہر دنیوی تمنا پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہتا ہے اور طالب آخرت کو ترقی ہوتی ہے۔ نیز سن چکے ہو کہ زیادہ متاع دنیا کا انجام اچھا نہیں، اکثر اس سے اعمال مضرہ پیدا ہوتے ہیں) سو (اس سے ثابت ہوا کہ مطلوب بنانے کے قابل دنیا نہیں، بلکہ آخرت ہے، اور باقی دنیا کی چیزوں میں سے) جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے (وہ محض چند روزہ) دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے (کہ عمر کے خاتمہ کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور جو (اجر وثواب آخرت میں) اللہ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے (کیفیت کے اعتبار سے بھی) بہتر ہے اور (کمیت کے لحاظ سے بھی) زیادہ پائیدار (یعنی ہمیشہ…
Read the full tafseer →فما اوتیتم من شیء ممتاع الحیوۃ الدینا وما عند اللہ خیر وا بقی للذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون (36)
خلاصہ بحث
یہ آخر میں اوپر والی بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کی جو نعمتیں تمہیں ملی ہیں، اترانے اور فخر کرنے کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اس حیات چند روزہ کی متاع ہیں۔ ایک دن بالآخر یہ زندگی بھی ختم ہوجائے گی اور اس کا یہ سرور سامان بھی۔ البتہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور ابدی ہے جو ان لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس کے چاہنے والے بنو۔ اس دنیا کی متاع حقیر کے پیچھے کیوں اپنی عاقبت برباد کر رہے…
Read the full tafseer →36۔ 1 یعنی معمولی اور حقیر ہے، چاہے قارون کا خزانہ ہی کیوں نہ ہو، اس لئے اس سے دھوکے میں مبتلا نہ ہونا کہ یہ عارضی اور فانی ہے۔
36۔ 2 یعنی نیکیوں کا جو اجر وثواب اللہ کے ہاں ملے گا وہ متاع دنیا سے کہیں بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، کیونکہ اس کو زوال اور فنا نہیں، مطلب ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح مت دو ، ایسا کرو گے تو پچھتاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–39
7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنا رہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگا دیتا ، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹا دیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
آیت نمبر 36 تا 43
اس سورت میں اس سے قبل قرآن مجید نے انسانیت کی حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اہل کتاب نے علم آجانے کے باوجود باہم اختلافات کئے اور یہ اختلافات غلط فہمی اور جہالت پر مبنی نہ تھے۔ حالانکہ ان کے پاس کتاب الٰہی صاف صاف آگئی تھی۔ بلکہ انہوں نے باہم یہ تفرقہ حسد اور دشمنی کی وجہ سے کیا۔ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عہد نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے لوگوں کے لئے وہ آسمانی دین اور ایک منہاج اور نظام زندگی مقرر کردیا گیا تھا۔ اور یہ وصیت بھی کی گئی تھی کہ اسے قائم کرو۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جن لوگوں نے حسد اور دشمنی کی وجہ سے منہاج الٰہی میں اختلاف…
Read the full tafseer →12 یعنی یہ تمام باتیں سننے کے بعد انسان کو چاہیے کہ اللہ کو راضی رکھنے کی فکر کرے اس چند روزہ زندگانی اور عیش فانی پر مغرور نہ ہو۔ اور خوب سمجھ لے ایمانداروں کو جو عیش و آرام اللہ کے ہاں ملے گا وہ اس دنیا کے عیش و آرام سے بہتر ہے اور پائدار بھی۔ نہ اس میں کسی طرح کی کدورت ہوگی نہ فناء وزوال کا کھٹکا ہوگا۔
Read the full tafseer →گزشتہ آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین مثلاً مشرکین کے ساتھ ردوکدح ‘ آخرت کی جزا و سزا اور اللہ کی نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ تھا ‘ لیکن اس کے بعد موضوع پھر سے سورت کے عمود یا مرکزی مضمون کی طرف لوٹ رہا ہے۔ چناچہ آئندہ آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے افراد کی سیرت کے لیے ناگزیز ہیں۔ انہی اوصاف کو اپنانے سے دراصل ایک ایسے مرد مومن کے کردار کا نقشہ تیار ہوتا ہے جو اس میدانِ کارزار میں قدم رکھتے ہوئے طے کرلیتا ہے کہ : { اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } الانعام ”میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور…
Read the full tafseer →51 یعنی دنیا میں جتنا بھی مال و دولت اور سامان عیش و عشرت کسی کو مل جائے۔ اس سے وہ زیادہ سے زیادہ اپنی موت تک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بالآخر اسے بالکل خالی ہاتھ اس دنیا سے رخصت ہونا ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں ایمانداروں کو جو آخرت میں سامان عیش و عشرت ملے گا۔ وہ سامان بھی لافانی اور لازوال ہوگا اور ایماندار لوگ ان اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہذا عقلمند انسان وہ ہے جو ناپائیدار اور فنا ہونے والے سامان کے بجائے دائمی اور پائیدار زندگی اور اس کے سامان کی فکر کرے۔
52 توکل کا معنی اور یہ مومن کی اہم صفت ہے :۔ یعنی جب ظاہری اسباب مفقود نظر آرہے ہوں، حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
41۔ (کہ خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور اسی سے ظاہر ہے کہ مطلوب ومقصود بنانے کے قابل دنیا نہیں صرف آخرت ہے۔ (آیت) ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “۔ حیات دنیا کے ساتھ متاع کا لفظ اس کی ذلت و حقارت کے لئے ہے۔ سماہ متاع تنبیھا علی قلتہ وحقارتہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیت نمبر 30 تا 43
ترجمہ : اور جو کچھ تمہیں مصیبت بلا اور شدت پہنچتی ہے خطاب مومنین کو ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہے یعنی کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے (گناہوں) کو ہاتھوں کے کرتوت سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ اکثر اعمال کے وجود میں ہاتھوں کی کوشش شامل ہوتی ہے، اور بہت سے گناہوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے کہ اس کی سزا نہیں دیتا، اللہ تعالیٰ بڑا کرم کرنے والا ہے، اس سے کہ آخرت میں کسی جرم کی سزا دوبارہ دے، رہے بےقصور، تو ان کو دنیا میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ آخرت میں ان کے درجات کو بلند کرنے کے لئے ہے اور اے مشرکو ! تم بھاگ کر اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے کہ اس سے بچ کر نکل جاؤ اور…
Read the full tafseer →فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا وما عند اللہ خیر وابقی للذین امنوا وعلی ربھم
یتوکلون سو جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے ‘ وہ (محض چند روزہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے اور (آخرت میں) جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے ‘ وہ بدرجہا بہتر اور زیادہ پائیدار ہے (اور یہ) ان لوگوں کیلئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
فَمَآ اُوْتِیْتُمْ یعنی دنیا میں جو کچھ تم کو دیا گیا ہے۔
فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ سو وہ دنیوی زندگی میں برتنے کا سامان ہے ‘ اس زندگی میں اس سے فائدہ اندوز ہوسکتے ہو ‘ لیکن دنیوی زندگی فناپذیر ہے ‘ یہ سامان آخرت کیلئے توشہ نہیں ہے ‘ اسلئے تو بقدر ضرورت اس میں سے لے لو اور جو چیز آخرت…
Read the full tafseer →اور جو کچھ تمہیں مال و متاع دیا گیا ہے وہ عارضی ہے باقی نہیں رہ سکتا ہے یعنی کہ وہ فانی ہے اور اجر وثواب بدرجہا اس متاع دنیوی سے بہتر اور دیرپا ہے اور یہ اجر وثواب ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لے آئے یعنی حضرت ابوبکر صدیق وغیرہ اور اپنے رب پر توکل اور بھروسا کرتے ہیں۔ دنیاوی مال پر کسی قسم کا بھروسا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(1) فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا :”متاع“ وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے، برتنے کی چیز جو جلدی ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت و سلطنت کے دلائل مثلاً بندوں کے لئے بارش برسانے انھیں حسب حکمت رزق عطا فرمانے، آسمان و زمین کو پیدا کرنے، ان میں بیشمار جان داروں کو پھیلانے، سمندروں میں پہاڑوں جیسے بلند جہازوں کے چلنے اور انھیں پیش آنے والے احوال ذکر کرنے کے بعد دنیا کی زندگی کے ساز و سامان کے بےوقعت اور عارضی ہونے کا ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا کی زیب و زینت ہی انسان کو دلائل پر غور و فکر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوگا اور وہ اس کی نگاہ میں حقیر ہوگی تو…
Read the full tafseer →من شیء سے مراد دنیا میں غنا اور خوشحالی ہے فمتاع یہ چند دنوں کا سامان ہے جو دن ختم ہوجائیں گے اس لیے مناسب نہیں کہ کوئی اس پر فخر کرے ‘ خطاب مشرکوں کو ہے۔ وما عند اللہ خیر و ابقی سے مراد اطاعت پر ثواب ہے للذین امنوا جنہوں نے تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا وعلی ربھم یتوکلون۔ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کردیا تو لوگوں نے آ پکو ملامت کی۔ حدیث طیبہ میں آیا ہے ” انہوں نے اسی ہزار خرچ کیا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطا کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیظللن رواکد علی ظہرہ “ (تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے رہ جائیں) یعنی نہ وہ حرکت کرتی تھیں اور نہ وہ سمندر میں چلتی تھیں۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” رواکد “ سے مراد ہے وہ ٹھہر جاتی ہیں ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو ہلاک کردیتا ہے۔
5:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ وہ ان کو غر ق کردے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویوبقھن “ سے مراد ہے کہ ان کو ہلاک کردے۔
7:۔ ابن…
Read the full tafseer →فَمَآ اُوْتِيْتُمْ [ اور جو دی جاتی ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ شَيْءٍ [ کوئی بھی چیز ] فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [ تو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے ] وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ [ اور جو اللہ کے پاس ہے ] خَيْرٌ [(وہ) بہتر ہے ] وَّاَبْقٰى [ اور زیادہ باقی رہنے والا ہے ] لِلَّذِيْنَ [ ان لوگوں کیلئے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَلٰي رَبِّهِمْ [ اور اپنے رب پر ہی ] يَتَوَكَّلُوْنَ [ جو لوگ بھروسہ کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اہل ایمان اور اہل توکل کے لیے بہتر ہے
ان آیات میں دنیا کے بےثباتی بتائی ہے اور آخرت کے اجور اور ثمرات کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ بہتر ہیں اور زیادہ باقی رہنے والے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ اجور وثمرات اہل ایمان کو ملیں گے پھر اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمائے (1) یہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (2) کبیرہ گناہوں سے اور فحش باتوں اور فحش کاموں سے پرہیز کرتے ہیں (3) اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں (4) اور یہ لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں یعنی دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں (5) اور نماز قائم کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–36
پیغام بشارت و رحمت برائے بندگان خدا درحالت یأس وناامیدی وذکر دلائل قدرت :
قال اللہ تعالیٰ : وھوالذی ینزل الغیث .......... الی ......... وعلی ربھم یتوکلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ایسے مجرمین ونافرمانوں کی مذمت تھی، جو خداوند عالم پر چھوٹ بہتان باندھتے ہوں اور ان کی ناکامی و محرومی کا بیان تھا اب ان آیات میں اللہ رب العالمین اپنی ایک خاص رحمت و عنایت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ پروردگار عالم اپنی شان ربوبیت کے کس طرح اپنے بندوں پر مایوسی کے عالم میں بھی اپنی رحمت فرماتا ہے اس مضمون سے ایک طرف تو مجرمین کے بالمقابل مطیعین کے لیے رحمت و عنایت کا بیان ہے دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک سے اس رنج وغم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
31:۔ ” وما عنداللہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور یہاں ان تین امور کا بیان بھی ہے جو عذاب خداوندی سے بچاتے ہیں (1) شرک نہ کرو۔ (2) ظلم نہ کرو اور (3) اھسان کرو۔ اللہ کی توحید پر ایمان لانے والوں، شرک نہ کرنے والوں اور ہر معاملے میں اپنے خدا پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جو اجر وثواب اور انعام وعطاء محفوط ہے وہ دنیوی ساز و سامان سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ اس میں عذاب سے بچنے کیلئے امر اول کا بیان ہے۔ ” والذین یجتنبون الخ “ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ ظلم بھی کبیر گناہ ہے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ جب ان کو غصہ آجائے تو احسان کرتے اور درگذر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
مصائب نتیجہ اعمال
دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی…
Read the full tafseer →فَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۚ وَمَا عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ 36 ۚ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» .
والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله :
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ترکیب : موصولہ متضمنۃ المعنی الشرط لان اتیاء ما اوتواسبب للتمتع بہ فی الدنیا فجاءت الفاء فی الجواب فمتاع ای فھو متاع و ماعنداللہ ماموصولۃ مع صل تھا فی محل الرفع لکونہ مبتداء خبر وابقی خبرہ والذین فی موضع خبر بدلامن الذین امنوا کبائر جمع کبیرۃ ھم مبتداء یغفرون خبرہ و الجملۃ جواب اذا و الشورٰی مصدر شاورۃ مثل البشرٰی والقربیٰ والجمل کلھا من الذین استجابواوالذین اذا اصابہم الخ بدل من الذین آمنوا۔
تفسیر : دنیا حسب مراد حاصل نہ ہونے اور مصائب نازل ہونے کی وجہ بیان فرما کر اب دنیا کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس کے غرور میں انسان خدا سے سرکشی کرتا ہے اور تلف ہونے اور نہ ملنے پر کیا بےچین ہوتا ہے…
Read the full tafseer →فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌوَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (الشوری : 36)
(پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ )
خلاصہ بحث
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ زندگی کی ناکامیوں کا دوسرا نام اگر صبر و شکر کا فقدان ہے تو پھر اے مکہ کے لوگو ! تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے چاہے وہ تمہارے باغات ہوں یا درہم و دینار کا خزانہ۔ کیا ان میں سے ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اپنے رب کے احکام اور ارشادات کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی اور اس کا سازو سامان قلیل اور عارضی ہے۔ اس لیے ” اللہ “ کے نیک بندے کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے اجتناب کرتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کے ساتھ معاف کردینے کا اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ انسان غصے کی حالت میں دوسرے پر زیادتی کرتا ہے۔ یہاں تک کہ قتل نفس کا واقعہ بھی پیش آجاتا ہے جو کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
جس دنیا کے اسباب و وسائل پر لوگ اتراتے اور اپنے رب کے احکام کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →36: فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَاعِنْدَ اللّٰہِ (پس جو کچھ تم کو ملا ہوا ہے وہ صرف دنیوی زندگی کے استعمال کیلئے ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) یعنی ثواب خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے وہ ان لوگوں کیلئے ہے جو ایمان لے آئے اور اپنے رب پر وہ توکل کرتے ہیں)
نحو : ماؔ پہلا شرط کے معنی کو متضمن ہے اسی لئے اس کے جواب میں فاء آئی ہے اور دوسرا ماؔ شرط کا معنی نہیں رکھتا اسی لئے اس کے جواب میں فاء نہیں یہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا سارا مال راہ…
Read the full tafseer →35، ویعلم، اہل مدینہ اور اہل شام نے، ویعلم، میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے استئاف کی بناء پر جی سے اللہ تعالیٰ کا قول سورة برأۃ میں ہے، ویتوب اللہ علی من یشاء ، اور دیگر حضرات نے نصب (زبر) کے ساتھ پڑھا ہے صرف اور جزم کی بناء پر جب اس کا معطوف اس سے پھیر اجائے تو اس پر نصب ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، ویعلم الصابرین، اس کو جزم کی حالت سے نصب کی طرف پھیراگیا ہے استخفاف (ہلکا) کرنے کے لیے اور لگا تارجزم آنے کونا پسند سمجھنے کی وجہ سے۔
، الذین یجادلون فی آیاتنا مالھم من محیص، یعنی ان لوگوں کو جانتا ہے جو قرآن کی تکذیب کرتے ہیں جب وہ بعث کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹیں گے تو اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
36۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
آیت 36
اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیار کرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، لہٰذا فرمایا : فما اوتیتم من شیء) ” پس جو کہ تمہیں دیا گیا ہے۔ “ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ (فمتاع الحیوۃ الدنیا) ” پس یہ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ “ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے (وما عندا اللہ) ” اور جو اللہ کے پاس ہے۔ “ بےپایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ (خیر) لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیاوی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ (وابقی) ” اور زیادہ پائیدار ہے۔ “ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–37
محبت برائے قرابت
قول باری ہے (قل لا اسئلکو علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم مجھ سے اس بنا پر محبت رکھو کہ تمہارے ساتھ میری رشتہ داری اور قرابت ہے۔ “ ان حضرات کا قول ہے کہ قریش کے تمام خاندانوں اور حضور ﷺ کے درمیان قرابت تھی۔ علی بن الحسین اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ” مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔ “ حسن کا قول ہے۔” مگر یہ کہ عمل صالح کے ذریعے تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی دوستی حاصل کرو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
82 اہل جنت کی چند اہم صفات کا ذکر وبیان : سو اہل جنت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے۔ اور جب ان کو غضہ آجائے تو وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں۔ جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور وہ قائم رکھتے ہیں فریضہ نماز کو۔ اور جن کے اہم معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اور جو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اور جب ان سے کوئی ظلم اور زیادتی کرے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی وہ غصہ آنے پر معاف کردینے کی عادت تو رکھتے ہیں مگر وہاں جہاں کہ اس کا موقع ہو۔ اور اس کا اچھا نتیجہ نکلتا ہو۔ اور فتنہ و فساد فرو ہوتا ہو۔ ورنہ وہ ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
مصیبتیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہی آتی ہیں
تشریح : ان آیات میں بیشمار حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو سمجھ لینا اور ان پر عمل کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ زندگی کو آسان بناتا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ کچھ قدرتی آفات تو اللہ کے حکم سے فضائی رد و بدل کے لیے آتی ہیں۔ کچھ گناہوں کی سزا کے طور پر قدرتی آفات کی شکل میں آتی ہیں مثلاً طوفان نوح وغیرہ اور بہت سی ایسی آفات ہیں جو انسان خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1945 میں امریکہ نے ناگا سا کی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر ظلم و ستم اور دہشت و بربریت کی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
آیات 30 تا 43۔
اسرار ومعارف۔
اور جو مصیبت بھی لوگوں پر آتی ہے وہ ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اگرچہ بہت سے گناہوں سے درگزر کی جاتی ہے تو اکثر مصائب گناہ کی سزا کے طور پر آتے ہیں اور مومن کے لیے گناہ سے توبہ اور گزشتہ کی بخشش کا سبب بن جاتے ہیں اسی طرح باطنی اور قلبی طور پر بھی ایک گناہ ہوجائے تو وہ دوسرے کا سبب بن جاتا ہے تاآنکہ اس سے توبہ نصیب ہو یہ عام قاعدہ ہے اور اگر اللہ کریم معاف نہ فرماتے اور درگزر کا معاملہ نہ فرماتے تو لوگ زمین میں بھاگ بھاگ کر یا کہیں چھپ چھپ کر اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے تھے اور نہ ہی انہیں کوئی ایسامدد کرنے والایادوست ہاتھ آتا جو انہیں بچاسکتا۔
اور اس کی عظمت کی…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے پاکر انسان اخروی زندگی سے بےپروا ہوجائے۔
Read the full tafseer →(42:36) فما اوتیتم من شیءعاطفہ۔ ما موصولہ متضمن یہ شرط فمتاع الحیوۃ الدنیا میںجواب شرط کے لئے ہے جملہ اول شرط ۔ جملہ ثانی جواب شرط۔ پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (ناپائدار) سامان ہے۔
وما عند اللّٰہ خیر وابقی : واؤ عاطفہ۔ ماعند اللّٰہ ما موصولہ بمع صلہ۔ دونوں مل کر مبتدا خیر وابقی خبر۔ اور (آخرت میں) جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور سدا رہنے والا ہے۔ ابقی بقاء (باب سمع) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ دیر تک رہنے والا جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کا معنی ” سدا رہنے والا “ ہوگا۔
للذین امنوا۔ خبر مبتدا محذوف : ای ذلک للذین امنوا۔ یہ ثواب ان کے لئے ہے جو ایمان لائے۔
وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–43
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
دنیا چند روزہ ہے۔
(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے یہ سب دنیا کی جیتی دم کی زینت اور آراستگی ہیں کچھ باقی نہ رہے گا اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ان سب دنیا کی نعمتوں سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کو کبھی فنا نہیں جانتے ہو کس کے لیے ہے۔
کامل مسلمان کی خوبیاں۔
ہاں وہ ان کے لیے ہے جو رسول قرآن پر ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر ہر بات میں بھروسہ رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زناوغیرہ سے دور بھاگتے ہیں ، احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور جب کسی بات پر غصہ ہوتے ہیں تو بردباری کرتے ہیں بدلہ نہیں لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[21] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–36
آیت 27 تا 36:
حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔
مادیات میں غور وفکر
1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا…
Read the full tafseer →(36) سو تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا وہ محض دنیوی زندگی کے لئے برتنا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یعنی یہاں جو کچھ عطا ہوا ہے وہ عارضی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ رب العزت کے ہاں جو سامان اہل ایمان اور اہل توکل کو ملنے والا ہے وہ ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے اوپر دنیا کی کھیتی اور آخرت کی کھیتی کا ذکر آیا تھا یہ اسی کا شاید تتمہ ہو دنیوی مال ومتاع کی اور یہاں کے فوائد جس میں مومن اور منکر دونوں برابر ہیں بلکہ منکر کچھ زائد ہیں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 5۔ اور خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجاوے گا۔
6۔ پس دنیا کی طلب چھوڑ کر آخرت کی طلب کرو۔
Read the full tafseer →دنیا کیا ہے ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات
36۔ انسان کو جو کچھ دیا گیا اور جو کچھ اس نے ایجاد کیا اس کی حقیقت ہی آخر کیا ہے ؟ یہی کہ جو چار دن کی زندگی اس کو دی گئی ہے اس نے اسی ادھیڑ بن میں خرچ کردی ادھر سے اٹھاتا اور ادھر لگاتا رہا اور اس نے بہت ہی کچھ کامیابی حاصل کی تو یہی کہ دولت و ثروت کے ڈھیر اکٹھے کر لئے۔ رہنے کے لیے کو ٹھیاں اور محل تعمیر کیے ، قلعے اور بارہ دریاں تعمیر کرلیں ، سواری کے لیے ریل گاڑیاں ، کاری ، بسیں اور ہوائی جہاز تیار کیے۔ روشنیوں کے لیے توانائی پیدا کی اور قمقمے جلا لیے لیکن آخر یہ جو کچھ ہے اس سب کی حقیقت کیا ہے ؟ یہی کہ چار دن کی زندگی کی آسانیاں پیدا کرلیں…
Read the full tafseer →Commentary
The above verses state the imperfection and temporary nature of the blessings of this world, as against the perfection and permanence of the blessings of the Hereafter. The most important and major condition for obtaining the heavenly blessings in the Hereafter is faith and belief, without which nobody can get them. However, if in addition to faith, one has taken full care of virtuous deeds as well, then one will get the heavenly blessings right from the beginning, otherwise one would get them after being punished for one's sins and shortcomings. That is why the first condition…
Read the full tafseer →55. That is, it is not a thing at which man should exult whatever worldly wealth a person has in his possession, he has it only for a short time. He uses it for a few years and then leaves the world empty-handed. Then, although the amount of the wealth may be very high in the ledgers, practically only a fraction of it is used by the man himself. To exult at such wealth does not behoove a man who understands the truth about himself, about his wealth and this world itself.
56. That is, that wealth is far more superior as regards to its nature and quality and is also eternal and everlasting.
57.…
Read the full tafseer →