Explained with ayahs 40–43
عذاب وثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا۔
الحاد کے معنی ابن عباس سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں اور قتادہ وغیرہ سے الحاد کے معنی کفر وعناد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کردینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو ! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں، ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے…
Read the full tafseer →سورة حٰمٓ السَّجْدَة 53
یعنی یہ اس کا حلم اور عفو و درگزر ہی ہے کہ اس کے رسولوں کو جھٹلایا گیا، گالیاں دی گئیں، اذیتیں پہنچائی گئیں اور پھر بھی وہ سالہا سال تک مخالفین کو محبت دیتا چلا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
(آیت) لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ۔ آگے اس کتاب کے لئے منجانب اللہ حفاظت کا بیان ہے۔ قتاوہ اور سدی نے فرمایا کہ باطل سے مراد شیطان ہے اور مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ یعنی نہ سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے، اس سے مراد تمام جوانب ہیں۔ مطلب یہ کہ شیطان کا کوئی تصرف و تدبیر اس کتاب میں نہیں چلتی کہ وہ اس کتاب میں کمی و بیشی یا کوئی تحریف کرسکے۔
تفسیر مظہری میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ شیطان اس جگہ عام ہے شیطان الجن ہو یا آدمی شیطان کسی کی تحریف و تبدیل قرآن میں نہیں چلتی جیسے بعض روافض نے قرآن میں دس پاروں کا، بعض نے خاص خاص آیات کا اضافہ کرنا…
Read the full tafseer →درشتی و نرمی بہم در براست
یقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک، ان ربک لذو مغفرۃ و ذوعقاب الیم (43)
آنحضرت صلعم کو تسلی
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ نہ گمان کرو کہ یہ خاص تمہاری ہی قوم نے تمہارے ہی ساتھ یہ رویہ اختیار کیا ہے بلکہ جس طرح کی باتیں تمہیں کہی جا رہی ہیں اسی طرح کی باتیں دوسری امتوں کے اشرار اپنے اپنے رسولوں کو کہہ چکے ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی یہ ایک مشترک روایت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمہاری کسی خامی کا نتیجہ نہیں ہے کہ قوم کے اشرار تمہارے دشمن بن گئے ہیں بلکہ ہمیشہ سے رسولوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے تو جس طرح دوسرے اولوالعزم رسولوں نے اپنی قوموں کے ایذا رسانیوں کا صبر کے…
Read the full tafseer →43۔ 1 یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے جو کچھ کہا یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نے بھی آپ کو کہا۔ یہ گویا آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپکی تکذیب اور آپ کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ اَتَوَاصَوْا بِهٖ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ 53ۚ) 51۔ الزایات :53-52) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
17: ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے، اور یہ بھی کہ انہیں غلط سلط معنی پہنائے جائیں۔ آیت کی وعید دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
Read the full tafseer →ما یقال لک ۔۔۔۔۔ وذوا عقاب الیم (41 : 43) “ اے نبی ﷺ ، تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے ، اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔ بیشک تمہارا رب بڑا درگزر کرنے والا ہے ، اور اس کے ساتھ بڑی درد ناک سزا دینے والا بھی ہے ”۔ ایک ہی وحی ، ایک ہی رسالت ، ایک ہی عقیدہ اور پوری تاریخ میں انسانوں کا اس کے مقابلے میں ایک ہی رد عمل رہا ہے۔ سب لوگوں نے تکذیب کی ، سب نے ایک جیسا اعتراض کیا۔ لہٰذا تمام انبیاء کے درمیان ایک ہی پختہ رشتہ ہے ، ایک شجرۂ نسب ہے ، ایک ہی خاندان ہے ، دکھ اور درد بھی ایک ہے۔ تجربات بھی ایک ہی طرح کے ہیں اور مقاصد بھی ایک ہی جیسے اور راستہ بھی…
Read the full tafseer →4 یعنی منکرین کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہے، یہ ہی ہر زمانہ کے منکرین کا پیغمبروں کے ساتھ رہا ہے پیغمبروں نے ہمیشہ خیر خواہی کی ہے، انہوں نے اس کے جواب میں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ پھر جس طرح پیغمبروں نے سختیوں پر صبر کیا، آپ بھی صبر کرتے رہیے نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ لوگ توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں گے جن کے لیے خدا کے ہاں معافی ہے اور کچھ اپنی کجروی اور ضد پر قائم رہیں گے جو آخرکار دردناک سزا کے مستوجب ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 43{ مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ”اے نبی ﷺ ! نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا۔“
{ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ } ”یقینا آپ کا رب مغفرت والا بھی ہے اور دردناک سزا دینے والا بھی۔“
Read the full tafseer →53 رسولوں کو قوم سے کیا کچھ سننا پڑا ؟ :۔ اس طرح کی آیات کا نزول وقتاً فوقتاً ہوا اور بارہا ہوا اور ہونا چاہئے بھی تھا۔ کیونکہ تیرہ سالہ دور نبوت سارے کا سارا ہی کفار کے ہاتھوں ایذا رسانیوں میں گزرا۔ جن کی ایک قسم استہزاء اور اعتراضات بھی تھے۔ استہزاء اللہ کی آیات سے ہوتا تھا۔ اللہ کے رسول سے بھی اور مسلمانوں سے بھی۔ مثلاً یہی کہ کیا یہی شخص اللہ کو رسالت کے لیے ملا تھا ؟ یہ تو جادوگر ہے، کاہن، شاعر ہے مجنون ہے۔ اسی طرح یہ کہ اگر تم اپنے اس کام سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا مار ہی ڈالیں گے۔ یا یہ کہ تمہارے پیروکار کچھ کمینے اور رذیل سے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ ہم تو ان کی…
Read the full tafseer →42۔ یعنی جس طرح ان کی تکذیب کی گئی اور انہیں اذیت پہنچائی گئی، وہی سب آپ کے لئے بھی پیش آرہا ہے تو جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔
43۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ اصل صفت تو غفوریت ہی کی ہے، لیکن اگر مشرکین ومکذبین عناد سے باز آکر مستحق مغفرت نہ ہوگئے تو پھر سزا بھی ان کے لئے شدید دردناک رکھی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیت نمبر 33 تا 44
ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…
Read the full tafseer →ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک (کافروں کی طرف سے) آپ کو وہی (تکذیب و ایذا
کی) باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے پیغمبروں سے کہی جا چکی ہیں۔
اس آیت میں تلقین تسکین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہ کفار مکہ جو آپ کو ساحر کذاب کہتے ہیں ‘ یہ نئی بات نہیں ‘ گذشتہ پیغمبروں کو بھی کافروں نے یہی کہا تھا لیکن انہوں نے صبر کیا ‘ آپ بھی صبر کریں ‘ رنجیدہ نہ ہوں۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے پاس وحی کے ذریعہ سے جو پیام توحید آیا تھا اور اصول دین بتائے گئے تھے اور مؤمنوں سے سعادت دارین کا وعدہ کیا گیا تھا اور کافروں کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا ‘ وہی سب سے کہا جا رہا ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →اے محمد آپ کو اسی طرح برا بھلا کہا جاتا ہے اور جھٹلایا جاتا ہے جیسا کہ آپ سے پہلے رسولوں کو کہا گیا اور ان کی تکذیب کی گئی۔
یا یہ کہ آپ کو اسی تبلیغ رسالت کا حکم دیا جاتا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کو دیا گیا اور آپ کا رب ایسے شخص کی بڑی مغفرت فرمانے والا ہے جو کفر سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور کفر پر مرنے والے کو دردناک سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کو جادوگر، شاعر، کاہن، دیوانہ، کذاب، متکبر یا اس قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کر کے آپ کو ایذا دیتے ہیں تو آپ اطمینان رکھیں، ان کے رکھے ہوئے ناموں میں سے کوئی ایسی چیز نہیں جس کا طعنہ آپ سے پہلے رسولوں کو نہ مل چکا ہو، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور نہ پہلے شخص ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔ سورة ذاریات میں فرمایا (کذلک ما الی الذین من قبلھم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون اتوا صوا بہ بل ھم قوم طاعون) (الذریات :52، 53)”اسی طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے، کوئی رسول نہیں…
Read the full tafseer →ما یقال لک اذیت اور تکذیب میں سے جو بات کی جاتی ہے الا ماقد قیل للرسل من قبلک اس میں اپنے نبی کو تسلی دینا مقصود ہے ان ربک لذو مغفرۃ تجھے اور تیرے صحابہ کو بخشنے والا ہے ذو عقاب الیم۔ تیرے دشمنوں کے لیے دردناک عذاب دینے والا ہے۔
ایک قو کیا گیا ہے : آپ کو جو یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزم : 65) یعنی آپ انہیں دعوت نہ دیں مگر اسی کی طرف جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں اس لیے وہ آپ کا انکار کرتے ہیں اس کا کوئی معنی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ استفہام ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) مایقال لک “ (جو کچھ کہا گیا تیرے لئے) جھٹلانے میں سے (آیت ) ” الا ما قد قیل للرسل من قبلک “ (مگر یہ کہا جاچکا رسولوں کے لئے آپ سے پہلے) جیسے آپ کو جھٹلایا گیا (اسی طرح دوسرے رسول بھی جھٹلائے گئے اور جیسے انہوں نے اپنی قوم میں تکلیفوں پر صبر کیا آپ بھی اپنی قوم کی تکلیف پر صبر کیجئے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا ما قد قیل للرسل من قبلک “ آپ سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے پیغمبروں سے کہی جا چکی ہیں۔ یعنی جو اذیت دی گئی۔
3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت…
Read the full tafseer →مَا يُقَالُ لَكَ [ نہیں کہا جاتا آپ سے ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] قَدْ قِيْلَ [ کہا گیا ہے ] لِلرُّسُلِ [رسولوں سے ] مِنْ قَبْلِكَ ۭ [ آپ سے پہلے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] لَذُوْ مَغْفِرَةٍ [یقینا مغفرت کرنے والا ہے ] وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ [ اور دردناک سزا دینے والا ہے ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو تسلی
(مَا یُقَالُ لَکَ اِِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ ) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے بارے میں جو کافر لوگ معاندانہ طریقے پر کچھ کہتے ہیں جس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں (اِِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَۃٍ ) (بلاشبہ آپ کا رب بڑی مغفرت والا ہے) (وَّذُو عِقَابٍ اَلِیْمٍ ) (اور درد ناک عذاب والا ہے) آپ کے مخالفین اگر اپنی حرکتوں سے باز آگئے اور ایمان قبول کرلیا تو دیگر اہل ایمان کے ساتھ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی اور اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–46
بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
40:۔ ” ما یقال لک “ یہ تیسرا شکوی ہے علی سبیل الترقی اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ جب آپ نرمی اور حسن اخلاق سے ان کو قرآن سنائیں گے۔ تو وہ سن تو لیں گے لیکن سن کر اس سے متاثر ہونے کے بجائے اس پر اعتراض کریں گے۔ اور خواہ مخواہ اس میں شبہات نکالیں گے۔ آپ ان کی اس روش سے تنگدل اور آزردہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ انبیاء و رسل سابقین (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ان کے ہمعصر معاندین نے یہی سلوک کیا اور ان پر بھی اسی قسم کے اعتراضات کیے گئے۔ تمہارا پروردگار مومنوں کے لیے معاف کنند اور مہربان ہے۔ اور معاندین کو دردناک عذاب دینے والا ہے، اب آگے مشرکین کے تین شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس پروردگار عالم کے سامنے ریزہ ہو جائو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ فرمایا اگر مشرک لوگ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس کو مقرب مخلوق ملائکہ موجود ہیں جو صبح و شام اس کی تسبیح تحمید بیان کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جس طرح خشک زمین پر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے ۔ یعنی مردہ زمین کو زندگی بخشا ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ،…
Read the full tafseer →مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ 43
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
تفسیر : دعوت الی اللہ اور اس کے طرق اقامۃ الدلائل کے بعد یہ بیان کرتا ہے کہ جو آیات الٰہیہ میں کجروی کرتے ہیں۔ وہ ہم پر مخفی نہیں، یعنی دنیا و آخرت میں سزا یاب ہوں گے، آخرت میں آگ میں ڈالے جائیں گے، پھر جو آگ میں ڈالا جائے گا، اس کے برابر ہوسکتا ہے، جو امن سے آوے گا ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ دونوں طریقوں کی برائی بھلائی تم کو خوب معلوم ہوگئی۔ اللہ کے رستہ کی بھی اور آیات اللہ میں کجروی کی بھی۔ اب تم کو اختیار ہے جو چاہو سو کرو، کیونکہ وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ الالحاد المیل والعدول و منہ اللحد فی البقرلانہ امیل الی ناحیۃ منہ یقال الحد فی دین اللہ اے مال عنہ۔ الالحاد فی الآیات کے معنی ہیں ان میں…
Read the full tafseer →مَایُقَالُ لَـکَ اِلاَّ مَاقَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ ط اِنَّ رَبَّـکَ لَذُوْمَغْفِرَۃٍ وَّذُوْعِقَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 43)
(اے پیغمبر ! آپ کو وہی کچھ کہا جارہا ہے جو آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کو کہا گیا ہے، بیشک آپ کا رب بڑی مغفرت والا بھی ہے اور دردناک عذاب دینے والا بھی۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ یہ گمان نہ کریں کہ آپ کی قوم نے آپ کے ساتھ جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اور نہایت دریدہ دہنی اور سنگدلی کا جو معاملہ آپ کے ساتھ کیا جارہا ہے یہ تاریخِ مذہب میں شاید پہلا واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں کج روی تلاش کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت قائم ہونے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں اور باربار لوگوں کو سمجھایا ہے کہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم اپنے رب کے ارشادات کو قبول کرو اور ان کے مطابق عمل کرتے رہو۔ اور یقین کرو کہ قیامت کے دن تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ لیکن لوگ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس قرآن عزیز پہنچ چکا ہے۔ جس پر باطل کسی اعتبار سے دخل انداز نہیں ہوسکتا۔ یہ قرآن اس رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو بڑا ہی حکمت والا اور صاحب تعریف ہے۔…
Read the full tafseer →تسلی رسول ﷺ : مَا يُقَالُ لَكَ (اور آپ کو وہی باتیں کہی جاتی ہیں) جو کہ آپ کو آپ کی قوم کے کافر لوگ کہتے ہیں۔
اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ (جو آپ سے پہلے رسولوں کو کہی گئی ہیں) اسی طرح کی باتیں ہیں جو رسولوں کو ان کی کافر اقوام نے ایذاء دینے کے لیے کہیں اور آسمانوں سے نازل شدہ کتابوں پر طعن وتشنیع کی۔ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ (بیشک آپ کا رب بڑی مغفرت والا ہے) اور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرنے والا ہے۔ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ (اور دردناک سزا دینے والا ہے) ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے دشمنوں کو اور یہ بھی درست ہے کہ اس طرح مطلب لیا جائے آپ کو اللہ…
Read the full tafseer →42، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ، قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ باطل وہ شیطان ہے جو اس کو تبدیل کرنے یا اس میں کمی و زیادتی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کمی کیے جانے سے محفوظ ہے کہ باطل اس کے سامنے سے آجائے اور زیادتی کیے جانے سے محفوظ ہے کہ باطل اس کے پیچھے سے آجائے اور اس معنی پر باطل کمی اور زیادتی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی تکذیب پہلی کتابوں سے نہیں آئی اور نہ اس کے بعد کوئی کتاب آئے گی جو اس کو باطل کردے۔ ، تنزیل من حکیم حمید، پھر ان کی تذیب پر اپنے نبی ﷺ کو تسلی دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
40۔ 43۔ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم بہرے ہیں قرآن کی آیتیں ہم نہیں سن سکتے اور اوپر سے دل سے کچھ بہروں کی طرح سن بھی لیں تو ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس واسطے آیتوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ان آیتوں میں ان ہی لوگوں کو فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ سرکشی سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت…
Read the full tafseer →آیت نمبر (43)
” نہیں کہا جاتا ہے آپ سے ” رسول ! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عنادرکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ مگر وہی جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا “ یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے بلکہ باساوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی مثلا ان گیاء ومرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص اللہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے تم ہماری ہی برح بشرہو۔ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الٖفاظ جو اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟
قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو)
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…
Read the full tafseer →76 پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کو اے پیغمبر ! اپنی قوم کی طرف سے جس طعن وتشنیع اور ایذا رسانی کا سامنا ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیائے کرام سے بھی ایسے ہی ہوتے رہا ہے اور ان کو بھی اپنی کافر قوموں کی طرف سے اسی طرح کی باتیں سننا پڑی ہیں۔ اور ان کو بھی ویسی ہی ایذا رسانیوں سے سابقہ و واسطہ پڑا جیسا کہ آج آپ ﷺ کو پڑ رہا ہے۔ لہٰذا آپ بھی ویسے ہی صبر و استقامت ہی سے کام لیں جیسا کہ انہوں نے صبر سے کام لیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے
تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
آیات 33 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو
اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔
اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی کفار مکہ اگر آپ ﷺ کو جادو گر، شاعر، دیوانہ، کاہن یا اسی قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کر کے آپ ﷺ کی دعوت کو زک دینا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ اطمینان رکھیں۔ ان کے رکھے ہوئے ناموں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا طعنہ آپ ﷺ سے پہلے پیغمبروں کو نہ مل چکا ہو۔ لیکن پیغمبروں ( علیہ السلام) نے ہمیشہ صبر کیا اور پوری ہمت سے اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی فرض آپ ﷺ کا اس وقت ہے۔3 بخشنے والا ان لوگوں کے لئے ہے جو انبیاء ( علیہ السلام) کے ہاتھ پر اسلامی دعوت قبول کرکے توحید کے قائل ہوگئے اور تکلیف دہ عذاب ان لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔
Read the full tafseer →(41:43) مایقال مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب قول (باب نصر) مصدر سے نہیں کہا جاتا ہے لک آپ کے متعلق ۔ ما یقال لک آپ کے متعلق (اس کے سوا) کچھ نہیں کہا جاتا۔
الا ما قد قیل : الا حرف استثناء ما موصولہ قدقیل ماضی مجہول قریب۔ مگر وہی باتیں جو کہی جا چکی ہیں۔
ما یقال لک ۔۔ من قبلک : آپ کے متعلق کچھ نہیں کہا جاتا ماسوائے ان باتوں کے (جو ایذاء رسانی اور تکذیب کے لئے منکرین حق کہتے رہتے ہیں) جو آپ سے پہلے رسولوں کے متعلق کہی جاتی رہی ہیں۔ یعنی جس طرح پیغمبران سلف کی تکذیب کی گئی اور ان کو اذیت پہنچائی گئی وہی سب آپ کو بھی پیش آرہا ہے تو جس طرح انہوں نے صبر کیا تھا آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔
یا اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 26 : ذوعقاب ( سزا دینے والا) اعجمی (جو عربی نہ ہو ، عجمی ہو) ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اصل میں جو لوگ زندگی کے معاملات میں سنجیدہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں لیکن غیر سنجیدہ لوگ جن میں تدبر کی کمی ہوتی ہے وہ ہمیشہ حق و صداقت کی بات کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کی زبان عربی ہے اس میں کسی کلام کو گھڑ لینے میں کیا دیر لگتی ہے ( نعوذ باللہ) اگر یہ کتاب اور کلام کسی عجمی زبان میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ واقعی آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
مشرکین کو جواب ، بےمثل قرآن مجید۔
(ف 1) شان نزول : قرآن پاک کو دیکھ کر بڑے بڑے فصحائے عرب کی زبانوں پر تالے پڑگئے تھے لیکن اپنی بڑائی سے باز نہیں آتے تھے آخرکار کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں کیوں نازل کیا، ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر سواعربی کے کسی اور زبان میں قرآن کو اتارا جاتا تو کفار کہتے کہ عربی میں کیوں نہیں اترا، یہ ایسا کیوں نہیں اترا کہ ہم سمجھتے اس کی آیتیں مفصل عربی میں کیوں نہیں ہوئیں اور اعتراض کرتے کہ وہ رسول توعربی زبان والے ہیں اور قرآن عجمی ہے اے محبوب ﷺ تم کہہ دو کہ یہ قرآن تو ایمان والوں کے لیے ہدایت ہے گمراہی سے نجات ہے ان کے دلوں کی…
Read the full tafseer →[19] یعنی جس طرح ان کی تکذیب کی گئی اور انہیں اذیت پہنچائی گئی وہی سب آپ کو بھی پیش آ رہا ہے۔ تو جس طرح انہوں نے صبر کیا تھا آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
قرآن عزیز
1: مکہ والوں کی یہ انتہائی بدبختی اور محرومی تھی ۔ کہ وہ اس قرآن عزیز سے استفادہ نہ کرسکے ۔ ورنہ نفس کتاب کی خوبیاں اور درجہ نمایاں ہیں ۔ کہ ان میں قطعاً شاب وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ عربی میں عزیز کے دو معنے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ اپنے انداز بیان کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی کتاب فصاحت اور بلاغت میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ اسے دلائل کا وہ استحکام حاصل ہے جس کی وجہ سے تمام مذہبی اور اپنی صحیفوں پر غالب اور مفتخر ہے ۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس کے لئے دلیل نہ ہو ۔ اور عقل و دانش کے قرین نہ ہو ۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ اس میں تحریف وتبدیلی کسی عنوان بھی راہ نہیں پاسکتی ۔ اور…
Read the full tafseer →(43) اے پیغمبر آپ کی شان میں نہیں کہی جاتیں مگر وہی باتیں جو آپ سے پہلے سب رسولوں کے لئے کہی جاتی رہی ہیں بلا شبہ آپ کا پروردگار بڑا صاحب مغفرت اور بخشنے والا ہے اور دردناک سزا دینے والا ہے۔ یعنی جو تکلیف اور ایذارسانی آپ کے ساتھ یہ کفار کررہے ہیں یہ سب وہی باتیں ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ کی جاچکی ہیں۔ اگر دین حق کے منکر آپ کو ستانے سے باز آجائیں تو آپ کا پروردگار ان کی خطائیں معاف فرمادے گا کیونکہ وہ بڑی مغفرت والا ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو ان کو سخت سزا دی جائے گی کیونکہ وہ مغفرت کے ساتھ دردناک سزا بھی دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 2۔ خلاصہ یہ کہ اب جو قرآن عربی ہے تو کہتے ہیں کہ عجمی کیوں نہیں، اور اگر عجمی ہوتا تو کہتے عربی کیوں نہیں، کسی حال پر ان کو قرار نہیں، پھر عجمی ہونے سے کیا فائدہ ہوتا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے لیے وہی کچھ کہا جا رہا ہے جو پہلے رسولوں کو کہا گیا
43 ؎ یہ فطرتِ انسانی کا بیان ہے کہ ایک انسان کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کی تسلی کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا پہلے بھی فلاں فلاں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے چونکہ کفار مکہ آپ کو کبھی ساحر اور کبھی سحرزدہ ، کبھی کذاب اور کبھی شاعر و مجنون کے الفاظ سے یاد کرتے تھے اس لیے آپ ﷺ کو بطور تسلی کہا جا رہا ہے کہ یہ جو کچھ آپ ﷺ کو کہہ رہے ہیں یہ سب کچھ آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کو بھی کہا گیا ہے اور جس طرح انہوں نے اپنے اپنے وقت مخالفین و معاندین سے اس طرح کی باتیں سن کر صبرو ثبات سے کام لیا آپ ﷺ کو بھی لینا ہوگا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (that cannot be approached by falsehood, neither from its front, nor from its behind.) Qatadah and Suddi have stated that ` batil' (falsehood) in this verse means Shaitan (Satan), and ` neither from its front, nor from its behind' means ` from any side'. To sum up, Satan's manipulation and contrivance just do not work on this Book; Shaitan cannot distort this Book by adding something to it, or deleting something from it.
The author of Tafsir Mazhari, after quoting this explanation, has added that Satan here includes the satans…
Read the full tafseer →53 That is, "It is all due to His clemency and forgiveness that although His Messengers were opposed, abused and persecuted yet He went on giving respite to their opponents for years and years on end. "
Read the full tafseer →