Fussilat 41:42

Fussilat · from ayah 42

41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ؕ— تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ ۟لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ‌ؕ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Fussilat

All translations of 41:42

باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے (اللہ) کی طرف سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس تک باطل کی کوئی رسائی نہیں ہے نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے یہ اس ذات کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

باطل اِس (قرآن) کے پاس نہ اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے، (یہ) بڑی حکمت والے، بڑی حمد والے (رب) کی طرف سے اتارا ہوا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس میں باطل نہ آگے سے راہ پاسکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔ یہ حکمت والے اور لائق ستائش اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں باطل نہ اس کے آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ خدائے حکیم وحمید کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری گئی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس پر باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے یہ سراسر اتارا ہوا کلام ہے اس (ذات اقدس و اعلیٰ) کی طرف سے جو نہایت ہی حکمت والی اور ہر خوبی کی سزاوار ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں باطل نہ آگے سے آسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (یہ کلام) نازل ہوا ہے (خدائے) باحکمت وپرحمد کی طرف سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

باطل اس پر حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا نہ اس کے سامنے سے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔ اس کا اتارا جانا ہے ایک حکیم اور حمید ہستی کی طرف سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے یہ دانا اور خوبیوں والے اللہ کی اتری ہوئی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Falsehood may not enter it from the front or from the rear. It is a revelation that has been sent down from the Most Wise, the Immensely Praiseworthy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that cannot be approached by falsehood, neither from its front, nor from its behind __a revelation from the All-Wise, the Ever-Praised.

— Muhammad Taqi Usmani

that cannot be approached by falsehood, neither from its front, nor from its behind __a revelation from the All-Wise, the Ever-Praised.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Falsehood cannot come to it from before it or behind it, (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Falsehood cannot come at it from before it or from behind it. (It is) a revelation from the Wise, the Owner of Praise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.

— Saheeh International

Falsehood can not reach it from any direction. It is the revelation from the All-wise, Praiseworthy One.

— Muhammad Sarwar

Falsehood shall not come to it from before it nor from behind it; a revelation from the Wise, the Praised One.

— Muhammad Habib Shakir

Falsehood cannot come at it from before it or behind it It, a revelation from One Wise and Praiseworthy.

— Abdul Majid Daryabadi

No falsehood can approach it from before or behind it: It is sent down by One Full of Wisdom, Worthy of all Praise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 41:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–43

عذاب وثواب نہ ہوتا تو عمل نہ ہوتا۔ الحاد کے معنی ابن عباس سے کلام کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنے کے مروی ہیں اور قتادہ وغیرہ سے الحاد کے معنی کفر وعناد ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ملحد لوگ ہم سے مخفی نہیں۔ ہمارے اسماء وصفات کو ادھر ادھر کردینے والے ہماری نگاہوں میں ہیں۔ انہیں ہم بدترین سزائیں دیں گے۔ سمجھ لو کہ کیا جہنم واصل ہونے والا اور تمام خطروں سے بچ رہنے والا برابر ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بدکار کافرو ! جو چاہو عمل کرتے چلے جاؤ۔ مجھ سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔ باریک سے باریک چیز بھی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں، ذکر سے مراد بقول ضحاک سدی اور قتادہ قرآن ہے، وہ باعزت باتوقیر ہے اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة حٰمٓ السَّجْدَة 52 سامنے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر براہ راست حملہ کر کے اگر کوئی شخص اس کی کسی بات کو غلط اور کسی تعلیم کو باطل و فاسد ثابت کرنا چاہے تو اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ پیچھے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کوئی حقیقت و صداقت ایسی منکشف نہیں ہو سکتی جو قرآن کے پیش کردہ حقائق کے خلاف ہو، کوئی علم ایسا نہیں آسکتا جو فی الواقع " علم " ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو، کوئی تجربہ اور مشاہدہ ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ ثابت کر دے کہ قرآن نے عقائد، اخلاق، قانون، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست و تمدن کے باب میں انسان کو جو رہنمائی دی ہے وہ غلط ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

(آیت) لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ۔ آگے اس کتاب کے لئے منجانب اللہ حفاظت کا بیان ہے۔ قتاوہ اور سدی نے فرمایا کہ باطل سے مراد شیطان ہے اور مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ یعنی نہ سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے، اس سے مراد تمام جوانب ہیں۔ مطلب یہ کہ شیطان کا کوئی تصرف و تدبیر اس کتاب میں نہیں چلتی کہ وہ اس کتاب میں کمی و بیشی یا کوئی تحریف کرسکے۔ تفسیر مظہری میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ شیطان اس جگہ عام ہے شیطان الجن ہو یا آدمی شیطان کسی کی تحریف و تبدیل قرآن میں نہیں چلتی جیسے بعض روافض نے قرآن میں دس پاروں کا، بعض نے خاص خاص آیات کا اضافہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

ایک بلیغ حذف ان الذین کفروا بالذکر لما جآء ھم وانہ لکتب عزیز، لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید (42-41) ذکر سے مراد قرآن مجید ہے اس کو ذکر سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر اس کے محل میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ اسی مضمون کو از سر نو لے لیا ہے جو سورة کے شروع میں گزر چاک ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں جب کہ وہ ان کے پاس آ چا ہے، وہ … اس کے بعد اس کی خبر حذف کردی ہے اور اس حذف میں بڑیبلاغت ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ ان کی بد انجامی ظاہر کرنے کے لئے ان کے اس جرم کی سنگینی ہی کافی ہے۔ اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وہی روز بد دیکھیں گے جو ان سے پہلے رسولوں اور ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی وہ ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آ کر اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کوئی تغیر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں یعنی اچھے اور مفید ہیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–43

17: ٹیڑھا راستہ اختیار کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے، اور یہ بھی کہ انہیں غلط سلط معنی پہنائے جائیں۔ آیت کی وعید دونوں صورتوں کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور پھر یہ کتاب۔ تنزیل من حکیم حمید (41 : 42) “ یہ حمید و حکیم کی نازل کردہ ہے ”۔ اس کی تعمیر ہی میں حکمت پنہان ہے۔ اس کے طریق نزول اور اس کی ہدایات سے حکمت عیاں ہے۔ لہٰذا جس رب تعالیٰ نے اسے نازل کیا ہے ، وہ حمد کثیر کا مستحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار حمد و ثنا کے لئے ابھارا گیا ہے۔ اب قرآن کو کتب سابقہ کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے ۔ رسول اللہ اور تمام انبیائے سابقہ کے درمیان ایسا تعلق قائم کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی محفل ہے ، ایک خاندان ہے ، ان کی بات بھی ایک ہے ، ان کی روح اور قلب بھی ایک ہیں۔ طریقہ دعوت بھی ایک ہے۔ یوں ہر ایک مسلمان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے درخت کا پتہ ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اس کی اتاری ہوئی کتاب میں جھوٹ آئے تو کدھر سے آئے۔ اور جس کتاب کی حفاظت کا وہ ذمہ دار ہو، باطل کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس پھٹک سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42{ لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ } ”باطل اس پر حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا ‘ نہ اس کے سامنے سے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔“ اس دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران بار بار میں مثالیں دیتا رہا ہوں کہ قرآن کس طرح اپنی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح ان لوگوں کے عزائم کو ناکام بناتا ہے جو اس کی آیات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں یا کسی آیت کی تعبیر اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ { تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ } ”اس کا اتارا جانا ہے ایک حکیم اور حمید ہستی کی طرف سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 قرآن میں باطل کی عدم مداخلت کے مختلف پہلو :۔ یہ آیت کتاب اللہ کے زبردست ہونے کی وجہ یہ بتارہی ہے کہ اس میں نہ آگے سے، نہ پیچھے سے، نہ اوپر سے، نہ نیچے سے غرض کسی طرف سے بھی باطل داخل نہیں ہوسکتا اور اس جملہ کے بھی کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا کلام ہے جسے اللہ نے جبرئیل کے ذریعہ رسول اللہ کے دل پر نازل کیا۔ جبرئیل فرشتہ ایسا ہے جو امین بھی ہے اور قوی بھی۔ یعنی نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں خود کوئی کمی بیشی کرتا ہے اور نہ کوئی جن یا شیطان یا کوئی دوسری طاقت اس سے کسی کلام کا کچھ حصہ چھین سکتی یا اس میں آمیزش کرسکتی ہے۔ پھر جب جبرئیل نے آپ کے دل پر اتار دیا اور آپ کی صداقت و دیانت پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

41۔ (اور مصنف ہی جل وعلا کا پرتو تصنیف شریف میں بھی نظر آرہا ہے) (آیت) ” لا ..... خلفہ “۔ سے اسی کتاب آسمانی میں کسی پہلو اور کسی جہت سے بھی تحریف وتلبیس کا امکان نہیں۔ بعض علماء راسخین نے یہیں سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ اس طرح قرآن سے تمسک کرنے والے بھی باطل سے محفوظ رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–44

آیت نمبر 33 تا 44 ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ باطل (شیطان) اسکے پاس نہیں آسکتا ‘ نہ آگے سے ‘ نہ پیچھے سے۔ قتادہ اور سدی نے کہا : باطل سے مراد شیطان ہے ‘ شیطان قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تبدیل تغییر نہیں کرسکتا۔ شیطان انس ہو یا جن ‘ سب ہی کو لفظ باطل حاوی ہے۔ فرقۂ شیعہ نے قرآن میں دس پاروں کا اضافہ کیا تھا ‘ لیکن کامیاب نہیں ہوئے ‘ قرآن انکے پاس بھی تیس ہی پاروں کا رہا۔ پھر بعض آیات میں الفاظ کی کمی بیشی کی ‘ جیسے لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ کے آکر میں لفظ عَلِی بڑھا دیا اور سیعلم الذین ظلموا کے آخر میں آل محمد کا لفظ زیادہ کیا۔ لیکن اللہ نے ان کی اس کوشش کو بارآور نہیں ہونے دیا اور بڑھائے ہوئے الفاظ جزء…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) ابو جہل اور اس کے ساتھی جو قرآن حکیم کا جبکہ رسول اکرم اسے ان کے پاس لے کر آئے انکار کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ قرآن حکیم تو بڑی باوقعت کتاب ہے۔ جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی وہ اچھا ہے یا وہ ذات جو قیامت کے دن عذاب سے امن وامان کے ساتھ آئے گی یعنی رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام بطور وعید کے اللہ تعالیٰ ان سے فرما رہا ہے کہ مکہ والو جو چاہو سو کرلو تمہارے اعمال کا تمہیں پورا پورا بدلہ ملے گا۔ جو کہ ان تمام کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یعنی توریت و انجیل اور زبور کی مخالفت کرنے والی نہیں اور نہ اپنے بعد والی کسی کتاب کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ : اس کے پاس نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ باطل آکر اس پر غلبہ نہیں پاسکتا، یعنی باطل کی مجال نہیں کہ کسی پہلو سے آکر اس پر غلبہ پا سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آکر اور نہ چوری چھپے پیچھے سے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے کی کوئی کتاب یا تحقیق اس قرآن کی کسی بات کو غلط یا باطل ثابت نہیں کرسکتی اور نہ ہی بعد کی کوئی کتاب یا تحقیق اس کی کسی بات کو غلط ثابت کرسکے گی، اور یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں باطل کی آمیزش نہ کوئی کھلم کھلا کرسکتا ہے نہ چوری چھپے، جیسا پہلی کتابوں کے ساتھ ہوا، بلکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، فرمایا :(انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–42

آیت نمبر 40, 41.42 ان الذین یلجدون فی ایتنا یعنی ہمارے دلائل میں حق سے دو گردانی کرتے ہیں۔ الحاد کا معنی ایک طرف جھکنا اور صراط مستقیم کو چھوڑنا ہے اسی سے قبر میں لحد ہے کیونکہ اسے قبر سے ایک طرف بنایا گیا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : الحد فی دین اللہ یعنی اس سے ایک طرف ہوگیا لحد اس میں ایک لغت ہے یہ کلام بھی انہیں کے متعلق ہے جنہوں نے کہا : لا تسمعوا لھذ القرآن والغوا فیہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیات میں الحاد کیا اور حق سے ایک طرف جھک گئے انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہے وہ شعر ہے یا جادو ہے۔ آیات سے مراد قرآن کی آیات ہیں۔ مجاہد نے کہا : یلجدون فی ایتنا سے مراد ہے وہ قرآن کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ سے سوال پوچھا اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ہے جس کے نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے باطل ہوتا ہے (آیت ) ” تنزیل من حکیم حمید “ (اتارا گیا ہے حکمت والے اور خوبیوں والے کی طرف سے) 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن سعد ؓ سے روایت کیا کہ اور میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ مسند روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کی مثال اور لوگوں کی مثال زمین اور بارش کی طرح ہے۔ اس درمیان کہ زمین مردہ اور خشک ہوتی ہے۔ پھر لگا تار بارشیں ہوتی ہیں یہاں تک کہ بیچ بویا جاتا ہے اور کھیتی اگتی ہے اور کا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَّا يَاْتِيْهِ [ نہیں پہنچے گا جس کے پاس ] الْبَاطِلُ [ باطل ] مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ [ اس کے سامنے سے ] وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭ[ اور نہ ہی اس کے پیچھے سے ] تَنْزِيْلٌ [ (یہ ) اتاری ہوئی ہے ] مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ [ ایک حکمت والے حمد کئے ہوئے (کی طرف) سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(لاَ یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہِ ) (باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ اس کے پیچھے سے) یعنی کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں (تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ) وہ اتاری گئی ہے حکمت والے کی طرف سے جس کی ذات وصفات محمود ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–46

بیان دلائل وقدرت وتنبیہ وتہدید برائے ملحدین درآیات و احکام خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن ایتہ انک تری الارض ...... الی ...... بظلام للعبید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دعوت الی اللہ کے مضمون کے ضمن میں معاندین کے مقابلہ اور ان کی رکاوٹوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ، اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ذکر فرما رہے ہیں جن کو تصور کرکے داعی الی اللہ کو کسی بھی مرحلہ پر مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ طبعی طور سے یہ ممکن ہے کہ داعی الی اللہ مخاطبین کی بےبسی غفلت عناد اور بغاوت کا رنگ دیکھ کر مایوس ہوجائے تو اس کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت کی قدرت کی یہ نشانیاں دیکھنی چاہئے کہ زمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

40:۔ ” ما یقال لک “ یہ تیسرا شکوی ہے علی سبیل الترقی اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ جب آپ نرمی اور حسن اخلاق سے ان کو قرآن سنائیں گے۔ تو وہ سن تو لیں گے لیکن سن کر اس سے متاثر ہونے کے بجائے اس پر اعتراض کریں گے۔ اور خواہ مخواہ اس میں شبہات نکالیں گے۔ آپ ان کی اس روش سے تنگدل اور آزردہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ انبیاء و رسل سابقین (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ان کے ہمعصر معاندین نے یہی سلوک کیا اور ان پر بھی اسی قسم کے اعتراضات کیے گئے۔ تمہارا پروردگار مومنوں کے لیے معاف کنند اور مہربان ہے۔ اور معاندین کو دردناک عذاب دینے والا ہے، اب آگے مشرکین کے تین شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–46

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس پروردگار عالم کے سامنے ریزہ ہو جائو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ فرمایا اگر مشرک لوگ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس کو مقرب مخلوق ملائکہ موجود ہیں جو صبح و شام اس کی تسبیح تحمید بیان کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جس طرح خشک زمین پر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے ۔ یعنی مردہ زمین کو زندگی بخشا ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَّا يَاْتِيْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ۝ 0 ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۝ 42 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 40–44

تفسیر : دعوت الی اللہ اور اس کے طرق اقامۃ الدلائل کے بعد یہ بیان کرتا ہے کہ جو آیات الٰہیہ میں کجروی کرتے ہیں۔ وہ ہم پر مخفی نہیں، یعنی دنیا و آخرت میں سزا یاب ہوں گے، آخرت میں آگ میں ڈالے جائیں گے، پھر جو آگ میں ڈالا جائے گا، اس کے برابر ہوسکتا ہے، جو امن سے آوے گا ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ دونوں طریقوں کی برائی بھلائی تم کو خوب معلوم ہوگئی۔ اللہ کے رستہ کی بھی اور آیات اللہ میں کجروی کی بھی۔ اب تم کو اختیار ہے جو چاہو سو کرو، کیونکہ وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ الالحاد المیل والعدول و منہ اللحد فی البقرلانہ امیل الی ناحیۃ منہ یقال الحد فی دین اللہ اے مال عنہ۔ الالحاد فی الآیات کے معنی ہیں ان میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

اِنَّ الَّذْیِنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَـآئَ ھُمْ ج وَاِنَّـہٗ لَـکِتٰبٌ عَزِیْزٌ۔ لاَّیَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَ مِنْ خَلْفِہٖ ط تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ۔ (حٰـمٓ السجدۃ : 41، 42) (بےشک جن لوگوں نے قرآن کریم کو ماننے سے انکار کیا جب وہ ان کے پاس آگیا، (تو انھوں نے اپنی قسمت پھوڑ لی) بیشک وہ ایک نادر کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ سامنے سے داخل ہوسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ خدائے حکیم وحمید کی طرف سے اتاری گئی ہے۔ ) قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کے انکار پر اظہارِتعجب آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین پر ایک طرح سے اتمامِ حجت کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–43

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں کج روی تلاش کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور قیامت قائم ہونے کے سینکڑوں دلائل دیئے ہیں اور باربار لوگوں کو سمجھایا ہے کہ تمہاری بہتری اسی بات میں ہے کہ تم اپنے رب کے ارشادات کو قبول کرو اور ان کے مطابق عمل کرتے رہو۔ اور یقین کرو کہ قیامت کے دن تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ لیکن لوگ اپنے رب کی نصیحت کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس قرآن عزیز پہنچ چکا ہے۔ جس پر باطل کسی اعتبار سے دخل انداز نہیں ہوسکتا۔ یہ قرآن اس رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو بڑا ہی حکمت والا اور صاحب تعریف ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن منافقین سے بری : لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ (اس میں غیر واقعی بات نہیں آسکتی) ۔ باطل سے تبدیلی یا تناقض مراد ہے۔ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ (نہ اس کے آگے کی طرف سے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے) یعنی کسی بھی وجہ سے۔ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ (یہ اللہ تعالیٰ جو حکیم وحمید ہیں ان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے) حمید وہ ذات ہے جو حمد کی مستحق ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41، ان الذین کفروابالذکر، قرآن کا، لماجاء ھم، پھر ذکر کے وصف کو شروع کردیا اور، ان الذین کفروا، کے جواب کو چھوڑدیا ہے اس تقدیرپر کہ جو لوگ قرآن کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے کفرکابدلہ دیئے جائیں گے اور کہا گیا ہے کہ اس کی خبرباری تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس کے بعد ہے، اولئک ینادون من مکان بعید، وانہ لکتاب عزیز، کلبی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں معزز ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عزت دی ہے۔ پس باطل اس کی طرف راہ نہیں پائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–43

40۔ 43۔ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم بہرے ہیں قرآن کی آیتیں ہم نہیں سن سکتے اور اوپر سے دل سے کچھ بہروں کی طرح سن بھی لیں تو ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس واسطے آیتوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ان آیتوں میں ان ہی لوگوں کو فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ سرکشی سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر (42) اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق وصواب سے ہٹادینا۔ یا تو ان آیات الہٰی کا انکار کردینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا یا ان آیات الہیٰ کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک وتعالٰی نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہے اور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزادے گا۔ بنا بریں فرمایا :” کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا “ مثلا اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–43

یہاں مقام سجدہ کونسا ہے ؟ قول باری ہے (واسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اور صرف اللہ کے لئے سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا اگر تم واقعی اس کے پرستار ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس سورت میں مقام سجدہ کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس، مسروق اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (وھم یسامون۔ اور وہ اکتاتے نہیں) مقام سجدہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے اصحاب ، حسن اور ابوعبدالرحمان سے مروی ہے کہ قول باری (ان کنتم ایاہ تعبدون) مقام سجدہ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر صورت تو یہی ہے کہ دونوں آیتوں کا اختتام مقام سجدہ قرار دیا جائے کیونکہ سلسلہ کلام کا اختتام وہیں جاکر ہوتا ہے۔ اسے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

74 قرآن حکیم کی عظمت شان کے بعض اہم پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کتاب عزیز پر باطل نہ اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے "۔ یعنی باطل اس پر کسی بھی طرف سے نہیں آسکتا۔ یعنی یہ تعمیم جہات سے کنایہ ہے۔ جیسا کہ صبح و شام بول کر پورے دن سے کنایہ مراد لیا جاتا ہے۔ نیز اس میں یہ بھی داخل ہے کہ باطل نہ تو اس کی گزشتہ خبروں کے بارے میں راہ پاسکتا ہے اور نہ آئندہ کے بارے میں۔ نیز اس کے کسی ارشاد وبیان کی تکذیب نہ اس سے پہلے آنے والی آسمانی کتابوں یعنی توراۃ و انجیل وغیرہ میں سے کوئی کتاب کرسکتی ہے اور نہ اس کے بعد کسی ایسی کتاب کا آنا ممکن ہے جو اس کی کسی بات کی تکذیب و تردید کرسکے۔ نیز نہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–46

غرور کی ضرورت نہیں سجدہ ہی بہترین ہے تشریح : سب سے پہلے تو صرف اللہ کے آگے سجدہ کرنے کی اہمیت بتائی گئــی ہے جیسا کہ سورة الفاتحہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ کسی کے آگے جھک جانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو ہر طرح سے عاجز اور کم تر سمجھ لینا اور جس کے آگے جھکے اس کو ہر ہر صورت سے اپنا مالک، برتر اور مشکل کشاء سمجھ لینا۔ جیسے بچہ ماں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ سہارا لیتے ہوئے سہارا کس قدر مضبوط اور معقول ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنی پیدائش کے معجزانہ عمل کو غور سے دیکھتے ہیں ان کو یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور تمام مخلوقات ہر صورت صرف اللہ ہی کی محتاج…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–44

آیات 33 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ سب سے اعلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف اللہ کے بندوں کو دعوت دی جائے زبانی عمل یاتحریری کسی بھی صورت میں نہ صرف خوار ایمان قبول کرکے بیٹھ رہنا بلکہ اصلی کام یہ ہے کہ دعوت ایمان کو عام کرے حتی کہ اگر کوئی محض اللہ کے لیے اذان بھی دے دولت کا طمع نہ ہو تو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ہر مبلغ جو خلوص سے تبلیغ کرے اس سے دولت کا حصول یا اقتدار مقصود نہ ہو تو یہ سب سے اعلی بات ہے جو دار دنیا میں کی جاسکتی ہے نیز تبلیغ دین عمل سے آزادی نہیں دیتی بلکہ تبلیغ کے ساتھ کود اس کا کردار بھی صالح ہو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔ اور اس بات پر فخر ہو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو کہ میں مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 1 یعنی باطل کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس پر کسی پہلو سے حملہ آور ہو سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آ کر اور نہ چوری چھپے پیچے سے۔ سو قرآن نقص و زیارت سے محفوظ ہے یا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابیں بھی قرآن کو باطل نہیں کرتیں اور نہ کوئی کتاب پیچھے آئے گی جو اس کو جھٹلا دے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(41:42) لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ۔ باطل اس کے پاس نہیں آسکتا نہ آگے سے اور نہ پیچھے سے۔ اس کی وضاحت مختلف صورتوں میں کی گئی ہے :۔ (1) باطل سے مراد شیطان ہے۔ شیطان انس ہو یا جن قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تغیر و تبدل نہیں کرسکتا۔ (قتادہ، سدی) (2) آگے سے باطل نہ آسکنے کا معنی ہے کمی نہ ہونا۔ اور پیچھے سے باطل نہ آنے کا معنی ہے زیادتی نہ ہونا۔ (زجاج) (3) کتب سابقہ سے اس کی تکذیب نہیں ہوتی نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آئے گی جو قرآن کو باطل اور منسوخ کردے۔ (مقاتل) (4) جھوٹ نہ اس کی ماضی کی خبروں میں داخ (رح) ہوسکتا ہے اور نہ آئندہ امور میں۔ لایتطرق الیہ الباطل مما فیہ من الاخبار…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–46

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 26 : ذوعقاب ( سزا دینے والا) اعجمی (جو عربی نہ ہو ، عجمی ہو) ظلام (بہت زیادہ ظلم کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 41 تا 46 : اصل میں جو لوگ زندگی کے معاملات میں سنجیدہ اور سمجھ دار ہوتے ہیں وہ بات کو سمجھنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے ہیں لیکن غیر سنجیدہ لوگ جن میں تدبر کی کمی ہوتی ہے وہ ہمیشہ حق و صداقت کی بات کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ بات اور کیا ہوگی کہ وہ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کی زبان عربی ہے اس میں کسی کلام کو گھڑ لینے میں کیا دیر لگتی ہے ( نعوذ باللہ) اگر یہ کتاب اور کلام کسی عجمی زبان میں ہوتا تو ہم سمجھتے کہ واقعی آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–44

مشرکین کو جواب ، بےمثل قرآن مجید۔ (ف 1) شان نزول : قرآن پاک کو دیکھ کر بڑے بڑے فصحائے عرب کی زبانوں پر تالے پڑگئے تھے لیکن اپنی بڑائی سے باز نہیں آتے تھے آخرکار کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں کیوں نازل کیا، ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر سواعربی کے کسی اور زبان میں قرآن کو اتارا جاتا تو کفار کہتے کہ عربی میں کیوں نہیں اترا، یہ ایسا کیوں نہیں اترا کہ ہم سمجھتے اس کی آیتیں مفصل عربی میں کیوں نہیں ہوئیں اور اعتراض کرتے کہ وہ رسول توعربی زبان والے ہیں اور قرآن عجمی ہے اے محبوب ﷺ تم کہہ دو کہ یہ قرآن تو ایمان والوں کے لیے ہدایت ہے گمراہی سے نجات ہے ان کے دلوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[18] یہ قرآن کی عظمت اور اس کے شرف کا ایک جامع بیان ہے جس کے کئی پہلو ہیں مگر ان میں سے دو خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن اپنے آگے اور پیچھے والوں کی طرف سے محفوظ ہے۔ اس کا اتارنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کو لانے والے جبرائیل امین ہیں، اس کے حامل محمد ﷺ ہیں اور اس کو نقل و قبول کرنے والے پاکیزہ ترین اخیار و صالحین ہیں۔ گویا ابتداء سے انتہا تک '' این خانہ ہمہ آفتاب است '' اس میں شیطان کی دراندازی کے لئے کوئی روزن نہیں۔ نہ اس کے آغاز کی طرف سے نہ اس کی انتہا کی طرف سے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن پر براہ راست حملہ کر کے کوئی شخص اس کی کسی بات کو غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ یہ مطلب ہے اس کے آگے سے نہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–43

قرآن عزیز 1: مکہ والوں کی یہ انتہائی بدبختی اور محرومی تھی ۔ کہ وہ اس قرآن عزیز سے استفادہ نہ کرسکے ۔ ورنہ نفس کتاب کی خوبیاں اور درجہ نمایاں ہیں ۔ کہ ان میں قطعاً شاب وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ عربی میں عزیز کے دو معنے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ اپنے انداز بیان کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی کتاب فصاحت اور بلاغت میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ اسے دلائل کا وہ استحکام حاصل ہے جس کی وجہ سے تمام مذہبی اور اپنی صحیفوں پر غالب اور مفتخر ہے ۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس کے لئے دلیل نہ ہو ۔ اور عقل و دانش کے قرین نہ ہو ۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ اس میں تحریف وتبدیلی کسی عنوان بھی راہ نہیں پاسکتی ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) جس میں باطل کو مطلق رسائی نہیں کوئی غیر واقعی بات اور غلط اور بیہودہ بات اور باطل بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے نہ پیچھے سے آسکتی ہے وہ کتاب اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اتاری گئی ہے جو کمال حکمت کا نہ مانا تو ان لوگوں نے بڑی کوتاہی اور عدم تدبر کا ثبوت دیا اور اس کتاب کی عظمت کو نہ سمجھا حالانکہ یہ کتاب بڑی گرامی قدر اور باوقعت ہے اور ہر قسم کے ناجائز تصرف سے محفوظ ہے کیونکہ اس میں باطل اور لغویات کسی جانب سے بھی داخل نہیں ہوسکتی۔ مجاہد نے باطل کی تفسیر میں شیطان کہا ہے یعنی شیطان کو اس کتاب میں تصرف کا کوئی حق نہیں اور شیطان کا اثر کسی جانب سے بھی اس کتاب میں نفوذ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–42

ف 1۔ یعنی اس میں کسی پہلو اور کسی جہت سے اس کا احتمال نہیں کہ یہ قرآن منزل من اللہ نہ ہو، اور پھر خلاف واقع اس کو منزل من اللہ کہہ دیا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم وہ کتاب ہے جو آگے اور پیچھے دونوں طرف سے محفوظ ہے 42 ؎ قرآن کریم کے آگے اور پیچھے دونوں طرف سے محفوظ ہونے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ کتاب ہے جو اللہ ربِّ الجلال والا کرام کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس کے لانے ولاے جبریل امین ہیں اور جن کی طرف سے یہ کتاب بھیجی گئی ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ان کی امانت و دیانت اور سچائی و صداقت بھی ضرب المثل ہے اس لیے بحمد اللہ یہ کتاب دونوں طرف سے محفوظ ہے ، اس میں کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی دوسری کتابیں ہیں جن کو یہود و عیسائی اور خود مکہ کے لوگ بھی تسلمی کرتے ہیں جیسے صحائف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ (that cannot be approached by falsehood, neither from its front, nor from its behind.) Qatadah and Suddi have stated that ` batil' (falsehood) in this verse means Shaitan (Satan), and ` neither from its front, nor from its behind' means ` from any side'. To sum up, Satan's manipulation and contrivance just do not work on this Book; Shaitan cannot distort this Book by adding something to it, or deleting something from it. The author of Tafsir Mazhari, after quoting this explanation, has added that Satan here includes the satans…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 "Falsehood . . . . from before it" means that none can succeed in proving anything wrong or any teaching false in the Qur'an by making a frontal attack on it; . . . . nor from behind it" means that nothing can be discovered till Resurrection which may be opposed to the truths and realities presented by the Qur'an; no new science, if it is really a "science", can be propounded, which may contradict the knowledge contained in the Qur'an; no new experiment or observation can be made to prove that the guidance given to man by the Qur'an in respect of the beliefs, morality, law, civilization or…

Read the full tafseer →