Explained with ayahs 1–3
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں
یذکرنی حم والرمح شاجر
فھلا تلا حم قبل التقدم
یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الْمُؤْمِن 1
یہ تقریر کی تمہید ہے جس کے ذریعہ سے سامعین کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا ہے کہ یہ کلام جو ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کسی معمولی ہستی کا کلام نہیں ہے، بلکہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ پھر پے در پے اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان کی گئی ہیں جو آگے کے مضمون سے گہری مناسبت رکھتی ہیں
اول یہ کہ وہ " زبردست " ہے، یعنی سب پر غالب ہے۔ اس کا جو فیصلہ بھی کسی کے حق میں ہو، نافذ ہو کر رہتا ہے، کوئی اس سے لڑ کر جیت نہیں سکتا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو، اور اس کے رسول سے جھگڑا کر کے یہ امید…
Read the full tafseer →(آیت) غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ۔ غافر الذنب کے لفظی معنی ہیں گناہ پر پردہ ڈالنے والا، اور قابل التوب کے معنی توبہ قبول کرنے والا، یہ دو لفظ الگ الگ لائے گئے ہیں اگرچہ مفہوم دونوں کا تقریباً ایک معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ غافر الذنب میں اشارہ اس طرف کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر بھی قدرت ہے کہ کسی بندے کا گناہ بغیر توبہ کے بھی معاف کر دے اور توبہ کرنے والوں کو معافی دینا دوسرا وصف ہے۔ (مظہری)
ذی الطول۔ طول کے لفظی معنی وسعت و غنا کے ہیں اور قدرت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ فضل و احسان کے معنیٰ میں بھی۔ (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول ط لا الہ الا ھو ط الیہ المصیر (1۔ 3)
تمام حوا میم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں
حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھئے کہ یہ سورة اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔
مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ
تنزیل الکتب … الآیۃ، یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →3۔ 1 گزشتہ گناہ معاف کرنے والا اور مستقبل میں ہونے والی کوتاہیوں پر توبہ قبول کرنے والا ہے یا اپنے دوستوں کے لئے غافر ہے اور کافر اور مشرک اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
3۔ 2 ان کے لیے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں اور تمردو طغیان کا راستہ اختیار کریں یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہی ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ 50) 15۔ الحجر :49) میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں غفور و رحیم ہوں اور میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے قرآن کریم میں اکثر جگہ یہ دونوں وصف ساتھ ساتھ بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان خوف اور رجا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
درس نمبر 223 تشریح آیات
آیت نمبر 1 تا 3
﷽
یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔
ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
5 یعنی توبہ قبول کر کے گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردینا ہے۔ گویا کبھی گناہ کیا نہ تھا۔ اور مزید برآں توبہ کو مستقل طاعت قرار دے کر اس پر اجر عنایت فرماتا ہے۔
6 یعنی بیحد قدرت و وسعت اور غنا والا جو بندوں پر انعام و احسان کی بارشیں کرتا رہتا ہے۔
7 جہاں پہنچ کر ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت 3 { غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ } ”وہ اللہ کہ جو بخشنے والا ہے گناہ کا ‘ قبول کرنے والا ہے توبہ کا ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے ‘ وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔“
یہاں اللہ تعالیٰ کی چار شانوں کا ذکر مرکب اضافی کی صورت میں ہوا ہے۔ آگے چل کر بھی اس سورت میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے یہ انداز اور اسلوب نظر آئے گا۔
{ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَط اِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ } ”اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“
یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت میں ”توبہ“ اور ”استغفار“ کا ذکر بار بار آئے گا ‘ بلکہ اس حوالے سے فرشتوں کا ذکر…
Read the full tafseer →1 قرآن کو نازل کرنے والے کی چند جامع صفات :۔ آیت نمبر 2 اور 3 اس سورة کی تمہید ہیں۔ جن میں مکہ کے حالات حاضرہ اور حق و باطل کے جھگڑوں کا ذکر بھی آگیا ہے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چند متعلقہ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہاری اپنی اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم اپنے کلمہ کو سربلند اور نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ قرآن مجید کے نازل کرنے والے کے اسماء صفات قرآن مجید میں کسی اور جگہ بجز سورة حشر کے آخر کے یکجانہ ملیں گے۔ اور ان میں سے ہر صفت قابل غور ولحاظ ہے۔ (آیت) ’ العزیز “۔ وہ غلبہ والا ہے۔ ہر چیز پر قادر۔ جو چاہے کر ڈالے۔ (آیت) ” العلیم “۔ صاحب علم کامل ہے۔ جس پر کتاب اتاری ہے، اس سے اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے جو اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے، جو اور جتنی بھی اس کے اندر حکمتیں اور مصلحتیں رکھ دی ہیں ان سے، غرض ان سب سے خوب واقف ہے۔ (آیت) ” غافر الذنب “۔ گناہوں کو محض اپنے ارادہ ومشیت سے بخش دینے والا نہ کسی قانون عدل سے مجبور نہ ” کفارہ “۔ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…
Read the full tafseer →غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے ‘ سخت سزا دینے والا ہے ‘ قدرت والا ہے۔
تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی کتاب ہے۔
الْعَزِیْز جو اپنی حکومت میں غالب ہے۔
الْعَلِیْم یعنی اپنی مخلوق کو جاننے والا ہے۔ قرآن مجید کا اعجاز اور اس کا پر حکمت ہونا اللہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر دلالت کر رہا ہے ‘ شاید اسی وجہ سے تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ کے بعد اللہ کی ان دو صفتوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔
غَافِرِ الذَّنْبِم وَقَابِلِ التَّوْبِ یعنی اہل ایمان کے گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ توب ‘ تَابَ ‘ یَتُوْبُ کا مصدر ہے۔ بعض کے…
Read the full tafseer →گناہ کو بخشنے والا اور شرک سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا اور جو شرک کی حالت میں مرے اسے سخت سزا دینے والا مومنوں کے لیے فضل و احسان کرنے والا اور کافر پر قدرت رکھنے والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مومن و کافر سب کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(1) تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم …اس سورت میں توحید، قیامت اور اسلام کے بنیادی عقائد اور کفار کے مسلمانوں کے ساتھ ناحق جھگڑے اور کج بحثی کا ذکر ہے۔ ان دو آیات میں اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چھ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ اس کتاب پر کفار کے تمام اعتراضات کا جامع جواب آگیا۔
مفسر عبدالرحمٰن کیلانی ؒ لکھتے ہیں :”کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں، بلکہ تمہاری اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو العزیز ہے، یعنی) کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور…
Read the full tafseer →ذی الطول یہ بدل یا صفت کے طور پر محل جر میں ہے کیونکہ یہ معرفہ ہے۔ کیونکہ یہ معرفہ ہے۔ طویل کا اصل معنی انعام اور فضل ہے اسی معنی میں یہ دعا کی جاتی ہے : اللھم طل علینا یعنی اے اللہ ! ہم پر انعام فرما اور فضل فرما۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ذی الطول کا معنی ہے نعمتوں والا۔ مجاہد نے کہا : معنی غنا اور وسعت والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : ذی الطول یعنی جو اللہ الہ الا اللہ نہیں کہتا اس سے غنی ہے۔ عکرمہ نے کہا : ذی الطول کا معنی ہے احسان والا (2) ۔ جوہری نے
1 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 50۔ 149 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 142
کہا : طول کا معنی احسان ہے، اسی معنی میں یہ قول کیا جاتا…
Read the full tafseer →شرابی کی توبہ کا قبول ہونا :
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے یزید بن اصم (رح) سے روایت کیا کہ ایک شامی آدمی بڑا طاقتور تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو گم پایا تو اس کے بارے میں پوچھا تو ان سے کہا گیا کہ وہ شراب پینے میں لگا ہوا ہے۔ عمر ؓ نے اپنے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا لکھو : عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف، تم پر سلام ہو، میں تمہارے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت ) ” غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول، لا الہ الا ھو، الیہ المصیر “ (گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کرنے والا سخت عذاب دینے والا بڑی قدرت اور نعمت والا اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں اس کے…
Read the full tafseer →غَافِرِ الذَّنْۢبِ [ جو گناہ کو بخشنے والا ہے ] وَقَابِلِ التَّوْبِ [ اور جو توبہ کو قبول کرنے والا ہے ] شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ [ جو سزا دینے کا سخت ہے ] ذِي الطَّوْلِ ۭ [ جو جود و کرم والا ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۭ [ مگر وہ ] اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ [اس کی طرف ہی لوٹنا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ گناہ بخشنے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت عذاب والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں
یہاں سے سورة المومن شروع ہو رہی ہے جس کا دوسرا نام سورة الغافر بھی ہے یہ پہلی سورت ہے جو حٰمٓ سے شروع ہوئی ہے اس کے بعد حٰآ سجدہ اور سورة الشوریٰ اور سورة الزخرف اور سورة الدخان اور سورة الجاثیہ اور سورة الاحقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہیں انہیں حوامیم سبعہ کہا جاتا ہے روح المعانی نے بحوالہ فضائل القرآن لابی عبید حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے اور بلاشبہ قرآن کا خلاصہ وہ سورتیں ہیں جو حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے صبح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ’ تزنیل الکتب الخ “ یہاں سے لے کر ” فالحکم للہ العلی الکبیر “ (رکوع 2) تک تمہید ہے جو چار عنوانات پر مشتمل ہے۔ عنوان اول ” تنزیل الکتب “ تا ” الیہ المصیر “ اور یہ دلیل وحی بھی ہے۔ یہ حکمانہ بڑے شہنشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب جاننے والا ہے۔ جو اس کے حکمنامے کو مان لیں اور اس کی طرف رجوع وانابت کریں ان کے گناہ معاف فرماتا اور ان کے رجوع کو قبول کرتا ہے، لیکن یہ بھی خیال رہے کہ سرکشوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور وہ صاحب دسترس ہے جب چاہے مجرموں کو پکڑ لے کوئی اس کی دسترس سے باہر نہیں اور توبہ قبول کرنے اور گناہ معاف کرنے کی بھی دسترس اور قدرت اسی کو حاصل ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن…
Read the full tafseer →غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ 0 ۙ ذِي الطَّوْلِ 0 ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۭ اِلَيْہِ الْمَصِيْرُ 3
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِالذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِالْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ط اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 1 تا 3)
(ح۔ م اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ )
کتاب کا نزول احسان بھی ہے اور مخالفین کے لیے تنبیہ بھی
حٰـمٓ … حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة فاتحہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
سورۃ الزمر کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کو جہنم میں داخل کرے گا اور ایماندار لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ جنتی اپنے اعمال کے بدلے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش کے نتیجے میں جنت میں جائیں گے اور جہنمی برے اعمال کے نتیجے میں جہنّم میں داخل کیے جائیں گے۔ سورة المومن کی ابتدا میں کھلے الفاظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہی ظالموں کو سخت عذاب دینے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
قرآن مجید کی ترتیب کے مطابق اب تک یہ پہلی سورة ہے جو حٰمٓ سے شروع ہورہی ہے۔ یہ لفظ بھی حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس…
Read the full tafseer →غَافِرِ الذَّنْۢبِ ، وہ گناہ کا بخشنے والا ہے۔ گناہ گاروں کے تمام گناہ بخشنے والا ہے۔ وَقَابِلِ التَّوْبِ ، اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے، رجوع کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ، سخت سزا دینے والا ہے، ان کو جو مخالفت کرنے والے ہیں۔ ذِي الطَّوْلِ ، قدرت والا ہے، مغفرت والوں پر فضل برسانے والا ہے یا ہر ایک سے بےپرواہ ہے۔
قول ابن عباس ؓ : گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا تو مومنوں کیلئے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا، شدید العقاب ان کے حق میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کو قبول نہیں کیا۔ اور التوب، الثوب، الاوب یہ تینوں الفاظ ہم معنی ہیں ان سب کا معنی رجوع ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تفسیر 1۔ ، حم، حروف تہجی کے بارے میں کلام پہلے گزرچکی ہے۔ سدی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ، حم، اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اور عکر مہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، الرو ثم ، اور نون رحمن کے حروف تہجی ہیں اور سعید بن جبیر اور عطاء خراسانی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حکیم ، حمید، حی ، حلیم، حنان کا پہلاحرف ہے اور میم اس کے اسماء ملک ، مجید، منان کا پہلاحرف ہے اور ضحاک وکسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو چیزیں آئندہ ہونے والی ہیں اللہ نے ان کا فیصلہ کردیا ہے۔ گویا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کا معنی ، حم، حاء کے پیش اور میم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 3۔ سورتوں کے شروع کے لفظ متشابہات میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے ہیں۔ اس لئے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور معجزوں کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن کا ایک ایسا معجزہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ (العزیز) جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ (العلیم) وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (غافر الذنب) ” وہ گناہ بخش دینے والا “ گناہ گاروں کے (وقابل التوب) توبہ کرنے والوں کی ” توبہ قبول کرنے والا “ (شدید العاقب) جو گناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے (ذی الطول) ” فضل و احاسن کا مالک ہے “ یعنی ایسا فضل و احاسن جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →2 اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عقاب کی دونوں شانوں کا ذکر۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا بھی ہے اور بڑا ہی سخت عذاب دینے والا بھی "۔ یعنی وہ ان سب کے گناہ بخشنے والا اور ان پر اپنی رحمت فرمانے والا ہے جو صدق دل سے توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ان لوگوں کو پکڑنے والا اور ان کو سخت سزا اور عذاب دینے والا بھی ہے جو کہ اڑے رہیں گے اپنی بغاوت و سرکشی اور ظلم و معصیت پر۔ تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بھر پوربدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ سو اس سے ترغیب و ترہیب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
توحید و قرآن کی سچائی
تشریح : جب اوپر آیات میں اللہ کی صفات میں سے کچھ تھوڑی سی صفات کو ہم غور سے سمجھ جاتے ہیں تو پھر اللہ کو ایک ماننا اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن پر یقین کرنا کوئی مشکل بات نہیں رہ جاتی۔ ہم پر توحید کی وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر یوں یقین کرنا کہ کوئی دوسرا اس میں کسی صورت اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔
2۔ اس لیے صرف اور صرف اسی کی عبادت لازم ہے۔
3۔ جب عبادت اسی کی ہوگی تو ہر قسم کی دعا اور پکار بھی اسی سے ہی ہوگی۔ وہی دعائیں سنتا اور پوری کرتا ہے۔
4۔ اس پر اس قدر مضبوط بھروسہ ہونا ضروری ہے جس قدر حضرت موسیٰ نے فرعون کے مقابلے میں اللہ پر بھروسہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔
سورۃ المومن
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9:
اسرار و معارف :
اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی مردہ یا زندہ ہستی کے عبادت نہ کی جائے۔11 نہ کسی اور کی طرف۔
Read the full tafseer →(40:3) غافر الذنب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ غافر اسم فاعل واحد مذکر ۔ الغفر (باب ضرب) کے معنی ہیں کسی شے کو کسی ایسی چیز میں چھپا دینا جو اسے میل کچیل سے بچا سکے۔ چناچہ محاورہ ہے اغفرثوبک فی الوعاء اپنے کپڑے صندوق وغیرہ میں چھپا کر رکھ لو۔
خدا کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی بندے کو عذاب سے بچا لینا ہے یا معاف کردینا ہے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ومن یغفر الذنوب الا اللّٰہ (3:135) اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے ؟ غافر الذنب گناہ بخشنے والا۔
قابل التوب : مضاف مضاف الیہ۔ قابل، قبول، و قبول مصدر باب سمع سے۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت جر ہے قبول کرنے والا۔ توب تاب یتوب (باب نصر) سے مصدر ہے بعض کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :۔ عزیز ( زبردست ، سب پر غالب ، قوت والا) علیم (بہت کچھ جاننے والا ، سب کچھ جاننے والا) غافر الذنب (گناہوں کو بخشنے والا) قابل التوب (توبہ قبول کرنے والا) شدید العقاب (سخت سزا دینے والا) ذی الطول (بڑے فضل والا) المصیر ( ٹھکانہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :۔ سورة المومن ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کی ابتداء ” حم “ سے کی گئی ہے۔ ” حم “ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔
” حم “ سے شروع کی گئیں سات سورتوں کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغز حم والی سورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قرآن خدا کا کلام ہے۔
(ف 1) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ قران محمد ﷺ نے خود بنالیا ہے اور اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ امی نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ امی شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیرآسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلاسکتے اس لیے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا۔ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پھر فرمایا ان سیدھی سیدھی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی مخالفت سے باز نہ آویں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے بہت سی پچھلی سرکش قوموں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة مومن
1: کتاب اللہ کے تعارف سے سورة کا آغاز فرمایا ہے ۔ کہ یہ صحیفہ رشدوہدایت اس اللہ کی جانب سے ہے ۔ جو صاحب عزت وعلم ہے ۔ گناہوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے ۔ توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور سرکشوں کے حق میں سخت سزا دینے والا ہے ۔ اور قدرت واقتدار کا مالک ہے ۔ یعنی اس کتاب میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اپنے ماننے والے کو عزت و غلبہ بخشتی ہے ۔ اس میں اللہ کے بےپایاں علم کا مظاہرہ ہے ۔ گناہوں سے تھکے ہارے لوگوں کے لئے اس میں تسکین ہے ۔ وہ آئیں اور اس کی اطاعت کا عہد کریں ۔ تمام گناہ ان کے بخش دیئے جائیں گے ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے بھی سامان طمانیت ہے ۔ جو مسلمان ہیں اور بتقاضائے بشریت ان سے معصیت کا صدور…
Read the full tafseer →(3) گناہ کا بخشنے والا توبہ کا قبول کرنے والا سخت سزا دینے والا اور بڑی قدرت وفضل کا مالک اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی طرف پھرجانا ہے۔ ینی صاحب مغفرت بھی اور توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرنے والا بھی یعنی توبہ قبول کرکے گناہ گار کو ایسا کردیتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا سزا میں سخت ہے یعنی اس کا عذاب بہت سخت ہے اور اس کی گرفت شدید ہے طورل فضل ماغنیی قدرت والا۔ صاحب فضل اور غیر محتاج و بےنیاز سب معنی طول کے ہوسکتے ہیں۔
حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا توبہ کرنے والے کے گناہ بخشنے والا اور توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول فرمانے والا ثابت بنائی حضرت مصعب بن عمیر کے ساتھ کوفہ کے نواحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 3۔ یہاں سے سورة احقاف تک متصل سات سورتیں حم سے شروع ہوئی ہیں، اور عجیب لطیفہ ہے کہ ساتوں قرآن مجید کے منزل و موحی من اللہ ہونے کے مضمون سے شروع ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →ہاں ! اس کا نازل کرنے والا گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا بھی ہے۔
3۔ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات بیان کی گئی تھیں ، ایک یہ کہ وہ زبردست ہے اور دوسری یہ کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ زیر نظر آیت میں تین مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ گناہوں کو بخشنے ولا۔ توبہ قبول کرنے والا۔ سخت سزا دینے والا ہے جو صاحب قدرت بھی ہے اور صاحب احسان بھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ سورة الزمر کے آخر میں کفار کے ہولناک انجام کا ذکر کیا گیا تھا اب اپنی مغفرت ورحمت کی نوید سنائی جا رہی ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ وہ غافر الذنب یعنی گناہوں کا معاف کرنے والا بھی ہے اگر کوئی معافی طلب کرے بلاشبہ…
Read the full tafseer →The expression: غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ (ghafiridh-dhanb) in verse 3: all literally means the one who puts a cover on sins (in the sense that they are no more seen or known by anyone), and: قَابِلِ التَّوْبِ (gabilit-tawb) means: He who accepts taubah or repentance. These two expressions appear separately, though the sense of both appears to be almost the same. The reason is that by saying: غَافِرِ الذَّنبِ (ghafiridh-dhanb), the purpose is to indicate that Allah Ta’ ala does already possess the standing authority and power to forgive the sin of a servant even without taubah -…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 This is the introduction to the discourse. By this the listener has been forewarned to the effect: °What is being presented before you, is not the word of an ordinary being but of that God Who has infinite power." After this, some of Allah's attributes have been mentioned, one after the other, which bear a deep relevance to the following theme: First, that He is "All-Mighty", i.e. He is Dominant over everything. His every decree concerning anybody is always enforced; none can fight Him and win; none can escape His grasp. Therefore, a person who expects to be successful after turning away…
Read the full tafseer →