Al-Ghaafir 40:2

Al-Ghaafir · from ayah 2

40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۟ۙتَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِۙ

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The revelation of the Book is from Allah, the Exalted in Might, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:2

اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جا رہی ہے جو بڑا صاحب اقدار، بڑے علم کا مالک ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، علم والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو غالب ہے سب کچھ جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کتاب کی تنزیل خدائے عزیز وعلیم کی طرف سے ہے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ کتاب محض اتاری ہوئی ہے اللہ کی طرف سے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت ہی علم والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے علم والا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نازل کیا جانا ہے اس کتاب کا اس اللہ کی جانب سے جو زبردست ہے صاحب علم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب و دانا کی طرف سے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

This Book is a revelation from Allah, the All-Mighty, the All-Knowing;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is revelation of the Book from Allah, the Mighty, the All-Knowing,

— Muhammad Taqi Usmani

This is revelation of the Book from Allah, the Mighty, the All-Knowing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The revelation of the Scripture is from Allah, the Mighty, the Knower,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The revelation of the Book is from Allah, the Exalted in Might, the Knowing.

— Saheeh International

This Book is a revelation from God, the Majestic and All-knowing

— Muhammad Sarwar

The revelation of the Book is from Allah, the Mighty, the Knowing,

— Muhammad Habib Shakir

The revelation of the Book is from Allah, the Mighty, the Knower. Forgiver of sin, and Accepter of repentance, severe in chastisement, Lord of power. There is no god but He; Unto Him is the journeying.

— Abdul Majid Daryabadi

The revelation of this Book is from Allah, Exalted in Power, Full of Knowledge,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الْمُؤْمِن 1 یہ تقریر کی تمہید ہے جس کے ذریعہ سے سامعین کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا ہے کہ یہ کلام جو ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کسی معمولی ہستی کا کلام نہیں ہے، بلکہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ پھر پے در پے اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان کی گئی ہیں جو آگے کے مضمون سے گہری مناسبت رکھتی ہیں اول یہ کہ وہ " زبردست " ہے، یعنی سب پر غالب ہے۔ اس کا جو فیصلہ بھی کسی کے حق میں ہو، نافذ ہو کر رہتا ہے، کوئی اس سے لڑ کر جیت نہیں سکتا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو، اور اس کے رسول سے جھگڑا کر کے یہ امید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل سورة مومن کی خصوصیات اور فضائل وغیرہ یہاں سے سورة احقاف تک سات سورتیں حم سے شروع ہوتی ہیں ان کو آل حم یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ آل حم دیباج القرآن ہے (دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ مراد اس سے زینت ہے) اور مسعر بن کدام فرماتے ہیں کہ ان کو عرائس کہا جاتا ہے۔ یعنی دلہنیں۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک مغز اور خلاصہ ہوتا ہے۔ قرآن کا خلاصہ آل حم ہیں یا فرمایا کہ حوامیم ہیں۔ یہ سب روایتیں امام عالم ابوعبید قاسم بن سلام نے پانی کتاب فضائل القرآن میں لکھی ہیں۔ اور حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ قرآن کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنے اہل و عیال کی رہائش…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول ط لا الہ الا ھو ط الیہ المصیر (1۔ 3) تمام حوا میم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھئے کہ یہ سورة اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔ مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ تنزیل الکتب … الآیۃ، یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

اس سورت کو سورة غافر اور سورة ، الطول بھی کہتے ہیں ۔ 2۔ 1 تَنْزِیْل مُنَزَّل کے معنی میں ہے، یعنی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جس میں جھوٹ نہیں 2۔ 2 جو غالب ہے، اس کی قوت اور غلبے کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا۔ علیم ہے، اس سے کوئی ذرہ تک پوشیدہ نہیں چاہے وہ کتنے بھی کثیف پردوں میں چھپا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

درس نمبر 223 تشریح آیات آیت نمبر 1 تا 3 ﷽ یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔ ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

5 یعنی توبہ قبول کر کے گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردینا ہے۔ گویا کبھی گناہ کیا نہ تھا۔ اور مزید برآں توبہ کو مستقل طاعت قرار دے کر اس پر اجر عنایت فرماتا ہے۔ 6 یعنی بیحد قدرت و وسعت اور غنا والا جو بندوں پر انعام و احسان کی بارشیں کرتا رہتا ہے۔ 7 جہاں پہنچ کر ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”نازل کیا جانا ہے اس کتاب کا اس اللہ کی جانب سے جو زبردست ہے ‘ صاحب علم ہے۔“

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ قرآن مجید کے نازل کرنے والے کے اسماء صفات قرآن مجید میں کسی اور جگہ بجز سورة حشر کے آخر کے یکجانہ ملیں گے۔ اور ان میں سے ہر صفت قابل غور ولحاظ ہے۔ (آیت) ’ العزیز “۔ وہ غلبہ والا ہے۔ ہر چیز پر قادر۔ جو چاہے کر ڈالے۔ (آیت) ” العلیم “۔ صاحب علم کامل ہے۔ جس پر کتاب اتاری ہے، اس سے اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے جو اور جس غرض سے اتاری ہے اس سے، جو ان کے مخاطب ہیں، ان سے، جو اور جتنی بھی اس کے اندر حکمتیں اور مصلحتیں رکھ دی ہیں ان سے، غرض ان سب سے خوب واقف ہے۔ (آیت) ” غافر الذنب “۔ گناہوں کو محض اپنے ارادہ ومشیت سے بخش دینے والا نہ کسی قانون عدل سے مجبور نہ ” کفارہ “۔ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہے جو زبردست ہے ‘ ہر چیز کا جاننے والا ہے ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ قرآن کریم رسول اکرم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا ہے جو کہ کافروں کو سزا دینے میں زبردست اور مومن و کافر سب کو جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

(1) تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم …اس سورت میں توحید، قیامت اور اسلام کے بنیادی عقائد اور کفار کے مسلمانوں کے ساتھ ناحق جھگڑے اور کج بحثی کا ذکر ہے۔ ان دو آیات میں اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چھ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ اس کتاب پر کفار کے تمام اعتراضات کا جامع جواب آگیا۔ مفسر عبدالرحمٰن کیلانی ؒ لکھتے ہیں :”کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں، بلکہ تمہاری اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو العزیز ہے، یعنی) کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

(حم۔۔۔۔۔۔۔ ) حم۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ عکرمہ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حم اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے یہ تیرے رب کے خزانوں کی چابیاں ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حم اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ الرحم وزن یہ رحمن کے حروف ہیں جو الگ الگ ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورتوں کے آغاز ہیں۔ عطاء خراسانی نے کہا : حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حمید، حنان، حلیم اور حکیم کا آغاز ہے میم اس کے اسم ملک، محید، منان، مکتبر اور مصور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1:۔ ابن الضریس (رح) نے اسحاق بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر درخت کیلئے پھل ہے اور قرآن کے پھل حم (والی سورتیں) ہیں ایسے باغات میں سے جو سرسبز شاداب گھاس والے ہیں اور قریب قریب ہیں جس کو یہ پسند ہو کہ وہ جنت کے باغوں میں خوب چرے تو اس کو چاہئے کہ حا میم (والی سورتیں) پڑھے اور جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھے گا تو وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ وہ بخشا ہوا ہوگا۔ اور جو شخص (آیت) الم تنزیل “ السجدہ اور (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک “ دن میں یا رات میں پڑھے گا تو گویا کہ اس نے لیلۃ القدر کی موافقت کی اور جس نے (آیت ) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارا جانا ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ [ جو بالا دست ہے جو جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ’ تزنیل الکتب الخ “ یہاں سے لے کر ” فالحکم للہ العلی الکبیر “ (رکوع 2) تک تمہید ہے جو چار عنوانات پر مشتمل ہے۔ عنوان اول ” تنزیل الکتب “ تا ” الیہ المصیر “ اور یہ دلیل وحی بھی ہے۔ یہ حکمانہ بڑے شہنشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب جاننے والا ہے۔ جو اس کے حکمنامے کو مان لیں اور اس کی طرف رجوع وانابت کریں ان کے گناہ معاف فرماتا اور ان کے رجوع کو قبول کرتا ہے، لیکن یہ بھی خیال رہے کہ سرکشوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور وہ صاحب دسترس ہے جب چاہے مجرموں کو پکڑ لے کوئی اس کی دسترس سے باہر نہیں اور توبہ قبول کرنے اور گناہ معاف کرنے کی بھی دسترس اور قدرت اسی کو حاصل ہے اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ۝ 2ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِالذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِالْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ط اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 1 تا 3) (ح۔ م اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) کتاب کا نزول احسان بھی ہے اور مخالفین کے لیے تنبیہ بھی حٰـمٓ … حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة فاتحہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–3

فہم القرآن سورۃ الزمر کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کو جہنم میں داخل کرے گا اور ایماندار لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ جنتی اپنے اعمال کے بدلے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش کے نتیجے میں جنت میں جائیں گے اور جہنمی برے اعمال کے نتیجے میں جہنّم میں داخل کیے جائیں گے۔ سورة المومن کی ابتدا میں کھلے الفاظ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہی ظالموں کو سخت عذاب دینے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب کے مطابق اب تک یہ پہلی سورة ہے جو حٰمٓ سے شروع ہورہی ہے۔ یہ لفظ بھی حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ ، اس کتاب کا اتارا جانا۔ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ ، وہ اپنے دبدبے کی وجہ سے اس بات سے محفوط ہے کہ کوئی اس کے بارے میں بات کرے کوئی الزام لگانے والا۔ العلیم، وہ اس کو جاننے والا ہے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اور تکذیب کی اس میں مشرکین کو ڈرایا گیا ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 2–3

تفسیر 1۔ ، حم، حروف تہجی کے بارے میں کلام پہلے گزرچکی ہے۔ سدی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ، حم، اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اور عکر مہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، الرو ثم ، اور نون رحمن کے حروف تہجی ہیں اور سعید بن جبیر اور عطاء خراسانی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حکیم ، حمید، حی ، حلیم، حنان کا پہلاحرف ہے اور میم اس کے اسماء ملک ، مجید، منان کا پہلاحرف ہے اور ضحاک وکسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو چیزیں آئندہ ہونے والی ہیں اللہ نے ان کا فیصلہ کردیا ہے۔ گویا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کا معنی ، حم، حاء کے پیش اور میم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ سورتوں کے شروع کے لفظ متشابہات میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے ہیں۔ اس لئے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور معجزوں کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن کا ایک ایسا معجزہ دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ (العزیز) جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ (العلیم) وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (غافر الذنب) ” وہ گناہ بخش دینے والا “ گناہ گاروں کے (وقابل التوب) توبہ کرنے والوں کی ” توبہ قبول کرنے والا “ (شدید العاقب) جو گناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے (ذی الطول) ” فضل و احاسن کا مالک ہے “ یعنی ایسا فضل و احاسن جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن حکیم خالص اتاری ہوئی کتاب : سو اس ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ یہ محض اتاری ہوئی کتاب ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی یہاں پر " مُنزّل " نہیں " تَنِزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ سو یہ کتاب محض نازل کردہ کتاب ہے اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے۔ اس میں کسی بھی دوسری ہستی کی طرف سے کسی بھی طرح کی کسی آمیزش یا دخل اندازی کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ پس اس ارشاد عالی میں ایک طرف تو مخالفین کیلئے اظہار انتباہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کی ہدایت و راہنمائی کیلئے یہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب نازل فرمائی اور اس قدر اہتمام کے ساتھ نازل فرمائی تاکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

توحید و قرآن کی سچائی تشریح : جب اوپر آیات میں اللہ کی صفات میں سے کچھ تھوڑی سی صفات کو ہم غور سے سمجھ جاتے ہیں تو پھر اللہ کو ایک ماننا اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن پر یقین کرنا کوئی مشکل بات نہیں رہ جاتی۔ ہم پر توحید کی وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر یوں یقین کرنا کہ کوئی دوسرا اس میں کسی صورت اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔ 2۔ اس لیے صرف اور صرف اسی کی عبادت لازم ہے۔ 3۔ جب عبادت اسی کی ہوگی تو ہر قسم کی دعا اور پکار بھی اسی سے ہی ہوگی۔ وہی دعائیں سنتا اور پوری کرتا ہے۔ 4۔ اس پر اس قدر مضبوط بھروسہ ہونا ضروری ہے جس قدر حضرت موسیٰ نے فرعون کے مقابلے میں اللہ پر بھروسہ کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔ سورۃ المومن رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9: اسرار و معارف : اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی مردہ یا زندہ ہستی کے عبادت نہ کی جائے۔11 نہ کسی اور کی طرف۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:2) تنزیل الکتب من اللّٰہ العزیز العلیم ۔ تنزیل بروزن تفعیل مصدر ہے۔ اتارنا۔ نازل کرنا۔ مضاف الکتب مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء من اللّٰہ اس کی خبر۔ العزیز العلیم اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ الکتب سے مراد یہ سورة ہے یا قرآن ہے۔ العزیز (اپنی حکومت میں) سب پر غالب۔ العلم (اپنی مخلوق سے پوری طرح) جاننے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :۔ عزیز ( زبردست ، سب پر غالب ، قوت والا) علیم (بہت کچھ جاننے والا ، سب کچھ جاننے والا) غافر الذنب (گناہوں کو بخشنے والا) قابل التوب (توبہ قبول کرنے والا) شدید العقاب (سخت سزا دینے والا) ذی الطول (بڑے فضل والا) المصیر ( ٹھکانہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :۔ سورة المومن ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کی ابتداء ” حم “ سے کی گئی ہے۔ ” حم “ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ ” حم “ سے شروع کی گئیں سات سورتوں کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغز حم والی سورتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–3

قرآن خدا کا کلام ہے۔ (ف 1) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ قران محمد ﷺ نے خود بنالیا ہے اور اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ امی نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ امی شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیرآسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلاسکتے اس لیے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا۔ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پھر فرمایا ان سیدھی سیدھی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی مخالفت سے باز نہ آویں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے بہت سی پچھلی سرکش قوموں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–7

[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة مومن 1: کتاب اللہ کے تعارف سے سورة کا آغاز فرمایا ہے ۔ کہ یہ صحیفہ رشدوہدایت اس اللہ کی جانب سے ہے ۔ جو صاحب عزت وعلم ہے ۔ گناہوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے ۔ توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور سرکشوں کے حق میں سخت سزا دینے والا ہے ۔ اور قدرت واقتدار کا مالک ہے ۔ یعنی اس کتاب میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اپنے ماننے والے کو عزت و غلبہ بخشتی ہے ۔ اس میں اللہ کے بےپایاں علم کا مظاہرہ ہے ۔ گناہوں سے تھکے ہارے لوگوں کے لئے اس میں تسکین ہے ۔ وہ آئیں اور اس کی اطاعت کا عہد کریں ۔ تمام گناہ ان کے بخش دیئے جائیں گے ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے بھی سامان طمانیت ہے ۔ جو مسلمان ہیں اور بتقاضائے بشریت ان سے معصیت کا صدور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔ یعنی زبردست ہے خبردار دانا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ یہاں سے سورة احقاف تک متصل سات سورتیں حم سے شروع ہوئی ہیں، اور عجیب لطیفہ ہے کہ ساتوں قرآن مجید کے منزل و موحی من اللہ ہونے کے مضمون سے شروع ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ کتاب غالب آنے والے اور سب کچھ جاننے والے سے نازل کی گئی ہے 2۔ سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کی ہے کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے آخری پیغام ہدایت ہے وہ سارے مخالفین کی ہدایت کا اہتمام کرتا ہے اور ہدایت کے اہتمام کے ساتھ مخالفین کے لیے ایک طرح کی تنبیہ بھی ہے۔ بلاشبہ یہ اس لیے اتارا گیا ہے کہ لوگ اس کی قدر کریں اور اس سے ہدایت و راہنمائی حاصل کریں لیکن اگر انہوں نے اس سے ہدایت و راہنمائی حاصل نہ کی تو ایسا کرکے وہ قرآن کریم کا یا اس کے بھیجنے والے کا یا جس کے سینہ اقدس پر وہ نازل ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Surah A1-Mu'min: Characteristics and Merits From here (40) to Surah Al-Ahqaf (46) starts a series of seven Surahs that begin with the isolated letters: حم (Ha Meem). These are called: اَل حٰمٓ('Al Ha Mim) or حوامیم (hawamim). Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ said, اَل حٰم ('Al Ha Mim) is: دیباج القرآن (dibaj-ul- Qur’ an): Dibaj, in Arabic, is the cloth of pure silk, and here it signifies embellishment. Mis'ar Ibn Kidam says, 'These are called: عَرَایٔس (ara'is: brides).' Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said, 'Every thing has an essence. The essence of the Qur'an lies in اَل حٰم ('Al Ha Mim)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 This is the introduction to the discourse. By this the listener has been forewarned to the effect: °What is being presented before you, is not the word of an ordinary being but of that God Who has infinite power." After this, some of Allah's attributes have been mentioned, one after the other, which bear a deep relevance to the following theme: First, that He is "All-Mighty", i.e. He is Dominant over everything. His every decree concerning anybody is always enforced; none can fight Him and win; none can escape His grasp. Therefore, a person who expects to be successful after turning away…

Read the full tafseer →