Al-Ghaafir 40:1

40. Al-Ghaafirغافر

The Forgiver · Meccan · 85 ayahs · 9 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

40:1

حٰمٓ ۟ۚحٰمٓ‌

حٰم

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ha, Meem.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:1

حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حٰـمۗ۔ حروف مقطعات میں سے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Ha. Mim.

— Muhammad Sarwar

Tafseer of 40:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الْمُؤْمِن 1 یہ تقریر کی تمہید ہے جس کے ذریعہ سے سامعین کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا ہے کہ یہ کلام جو ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے کسی معمولی ہستی کا کلام نہیں ہے، بلکہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ پھر پے در پے اللہ تعالیٰ کی چند صفات بیان کی گئی ہیں جو آگے کے مضمون سے گہری مناسبت رکھتی ہیں اول یہ کہ وہ " زبردست " ہے، یعنی سب پر غالب ہے۔ اس کا جو فیصلہ بھی کسی کے حق میں ہو، نافذ ہو کر رہتا ہے، کوئی اس سے لڑ کر جیت نہیں سکتا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے فرمان سے منہ موڑ کر اگر کوئی شخص کامیابی کی توقع رکھتا ہو، اور اس کے رسول سے جھگڑا کر کے یہ امید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ گناہ بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔ قدرت والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اس کے پاس (سب کو) جانا ہے (پس قرآن مجید اور توحید کی حقیقت کا مقتضا یہ ہے کہ اس میں انکار وجدال نہ کیا جاوے مگر پھر بھی) اللہ تعالیٰ کی ان آیتوں میں (یعنی قرآن میں جو توحید پر بھی مشتمل ہے) وہی لوگ (ناحق کے) جھگڑے نکالتے ہیں جو (اس کے) منکر ہیں (اور اس انکار کا مقتضا یہ ہے کہ ان کو سزا دی جاتی، لیکن عاجلا سزا نہ ہونا استدراج یعنی چند روزہ مہلت دینا ہے) سو ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول ط لا الہ الا ھو ط الیہ المصیر (1۔ 3) تمام حوا میم نام کی طرح مزاج میں بھی بالکل یکساں ہیں حٰمٓ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ حروف مقطعات پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھئے کہ یہ سورة اور اس کے بعد کی تمام مکی سورتیں، جو اس گروپ میں شامل ہیں، سب اسی نام سے موسوم بھی ہیں اور سب کا مزاج بھی بالکل یکساں ہے۔ مخالفین پر امتنان اور ان کو تنبیہ تنزیل الکتب … الآیۃ، یہ قرآن کے مخالفین پر امتنان بھی ہے اور ان کو تنبیہ بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

اس سورت کو سورة غافر اور سورة ، الطول بھی کہتے ہیں ۔ 2۔ 1 تَنْزِیْل مُنَزَّل کے معنی میں ہے، یعنی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جس میں جھوٹ نہیں 2۔ 2 جو غالب ہے، اس کی قوت اور غلبے کے سامنے کوئی پر نہیں مار سکتا۔ علیم ہے، اس سے کوئی ذرہ تک پوشیدہ نہیں چاہے وہ کتنے بھی کثیف پردوں میں چھپا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

درس نمبر 223 تشریح آیات آیت نمبر 1 تا 3 ﷽ یہ سورت ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جن کا آغاز حا اور میم کے حروف مقعات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک سورت ایسی ہے جس میں حا ۔ میم کے بعد عین ، سین اور قاف بھی آیا ہے۔ حرف مقطعات کے بارے میں ہم تمام سورتوں میں کہہ آئے ہیں کہ ان میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کلام انہی حروف تہجی سے بنا ہے اور یہ ایک معجز کلام ہے حالانکہ یہ حروف تہجی تمہاری دسترس میں ہیں۔ یہ تمہاری زبان کے حروف ہیں اور اس زبان کو تم بولتے بھی ہو ، لکھتے بھی ہو۔ ان حروف کے بعد پھر نزول کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو اکثر مکی سورتوں کے اغاز میں کہی جاتی ہے جن کا مضمون اکثر اسلامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

5 یعنی توبہ قبول کر کے گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردینا ہے۔ گویا کبھی گناہ کیا نہ تھا۔ اور مزید برآں توبہ کو مستقل طاعت قرار دے کر اس پر اجر عنایت فرماتا ہے۔ 6 یعنی بیحد قدرت و وسعت اور غنا والا جو بندوں پر انعام و احسان کی بارشیں کرتا رہتا ہے۔ 7 جہاں پہنچ کر ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ (آیت) ” حم ٓ “۔ حروف مقطعات کے لیے ملاحظہ ہو سورة البقرۃ کا حاشیہ (آیت) ” ا آآ “۔ پر۔ ابن عباس ؓ صحابی سے اس کے تین معنی نقل ہوئے ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ کا اسم اعظم ہے، دوسرا یہ کہ یہ قسم کے معنی میں ہے تیسرا یہ کہ الرحمن کا مخفف ہے اور یہی قول زجاج لغوی کا بھی ہے (روح) سعید بن جبیر (رح) تابعی اور عطاء خراسانی سے مروی ہے کہ ح مخفف ہے اسماء الہی حکیم۔ حمید۔ حی۔ حلیم۔ حنان، کا اور م مخفف ہے اسماء الہی۔ ملک۔ مجید۔ منان۔ کا (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حٰمٓ حروف مقطعات کی بحث پہلے گذر چکی ہے ‘ بغوی نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ حٰمٓ اللہ کا اسم اعظم ہے۔ عکرمہ سے منقول ہے کہ الرحمن (مرکب ہے اس) کے حروف مقطعات ال ر ح م ن ہیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء خراسانی نے کہا : حٰآ (سے اللہ کے اسماء کی طرف اشارہ ہے اس) کی حَ آغاز ہے اللہ کے اسماء حکیم ‘ حمید ‘ حئی اور حیان کا اور مَ آغاز ہے ملک ‘ مجید ‘ منان کا۔ کسائی نے کہا : حٰآ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ ہونے والا ہے ‘ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ کسائی کے اس قول میں گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حٰمٓ کا مطلب ہے حُمُّ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حم۔ یعنی قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا فیصلہ فرما دیا یا یہ کہ اسے بیان فرما دیا یا یہ کہ یہ لفظ تاکید کے طور پر ایک قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–2

(حم۔۔۔۔۔۔۔ ) حم۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ عکرمہ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حم اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے یہ تیرے رب کے خزانوں کی چابیاں ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حم اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ الرحم وزن یہ رحمن کے حروف ہیں جو الگ الگ ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورتوں کے آغاز ہیں۔ عطاء خراسانی نے کہا : حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حمید، حنان، حلیم اور حکیم کا آغاز ہے میم اس کے اسم ملک، محید، منان، مکتبر اور مصور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1:۔ ابن الضریس (رح) نے اسحاق بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر درخت کیلئے پھل ہے اور قرآن کے پھل حم (والی سورتیں) ہیں ایسے باغات میں سے جو سرسبز شاداب گھاس والے ہیں اور قریب قریب ہیں جس کو یہ پسند ہو کہ وہ جنت کے باغوں میں خوب چرے تو اس کو چاہئے کہ حا میم (والی سورتیں) پڑھے اور جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھے گا تو وہ صبح اس حال میں کرے گا کہ وہ بخشا ہوا ہوگا۔ اور جو شخص (آیت) الم تنزیل “ السجدہ اور (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک “ دن میں یا رات میں پڑھے گا تو گویا کہ اس نے لیلۃ القدر کی موافقت کی اور جس نے (آیت ) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

حٰمۗ نوٹ ۔ 1: یہاں سے (یعنی سورة المؤمن ) سے سورة احقاف تک سات سورتیں حم سے شروع ہوتی ہیں ۔ ان کو حوامیم کہتے ہیں ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حوامیم دیباج القرآن ہیں ۔ دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں ۔ مراد اس سے زنیت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک مغز اور خلاصہ ہوتا ہے قرآن کا خلاصہ حوامیم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شروع دن میں آیۃ الکرسی اور سورة مومن کی پہلی تین آیتیں پڑھ لے وہ اس دن ہر برائی اور تکلیف سے محفوظ رہے گا ۔ (معارف القرآن ) نوٹ۔ 2: کٹ حجتی کا مطلب یہ الٹے سیدھے اعتراضات جرنا ۔ سیاق وسباق سے الگ کرکے کوئی ایک لفظ یا فقرہ لے اڑنا اور اس سے طرح طرح کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” حم “ سورة مومن حوامیم سبعہ میں سے پہلی ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ” حم “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ قال ابن عباس حم اسم اللہ الاعظم (قرطبی، مدارک، معالم، خازن) ۔ حضرت ابن عباس ہی سے منقول ہے کہ ہر چیز کا مغرز اور خلاصہ ہوتا ہے اور قرآن مجید کا خلاصہ حوامیم ہیں۔ یعنی مصائب و حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو ان لکل شیء لبابا وان لباب القران الحوامیم (روح ج 24 ص 39، خازن و معالم ج 6 ص 73) ۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” الدعاء مخ العبادۃ “ مصائب و حاجات میں پکارنا ہی عبادت کا مغز اور لب لباب ہے اور حوامیم میں چونکہ اسی مغز عبادت کا بیان ہے۔ اس لیے حضرت ابن عباس ؓ نے حوامیم کو سارے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ۝ 2ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِالذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِالْعِقَابِ لا ذِی الطَّوْلِ ط لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ط اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 1 تا 3) (ح۔ م اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ ) کتاب کا نزول احسان بھی ہے اور مخالفین کے لیے تنبیہ بھی حٰـمٓ … حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة فاتحہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ اس کے بعد سب سے پہلے قرآن کریم کا تعارف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قول ابن عباس : حوامیم سبعہ مکیہ ہیں : حم، تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ، غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ ذِي الطَّوْلِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ، حم یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو زبردست ہے۔ ہر چیز کا جاننے والا، گناہ کا بخشنے والا ہے اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے۔ سخت سزا دینے والا ہے۔ قدرت والا ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اسی کے پاس جانا ہے۔ حٰم، اس کا مابعد امالہ سے حمزہ، علی، خلف، یحیی، حماد رحمہم اللہ نے پڑھا ہے۔ اور مدنی نے فتحہ و کسرہ کے مابین پڑھا۔ جبکہ دیگر قراء نے تفخیم سے پڑھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

خواص سورة غافر 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص جنت کے سرسبز باغات کا مالک بننا چاہتا ہے تو اسے وہ ، حم، والی سورتوں کو پڑھنا چاہیے۔ 2، حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہر شی کا مغزہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغزحم دالی سورتیں ہیں۔ 3، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص حم المومن سے لے کر الیہ المصیر تک اور آیۃ الکرسی صبح کے وقت پڑھے وہ شام تک محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھے وہ صبح تک حفاظت میں رہے گا۔ 4، اور اسی طرح دعامانگنی چاہیے۔ یاغافر الذنب اعفرلی یا قابل التوب تقبل توبتی یاشدید العقاب اعف عنی یاذا الطول تطول علی بخیرک 5 اگر یہ سورة رات کے وقت لکھ کر باغ یادکان کی دیوار لگائی جائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ سورتوں کے شروع کے لفظ متشابہات میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے ہیں۔ اس لئے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور معجزوں کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن کا ایک ایسا معجزہ دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ (العزیز) جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ (العلیم) وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (غافر الذنب) ” وہ گناہ بخش دینے والا “ گناہ گاروں کے (وقابل التوب) توبہ کرنے والوں کی ” توبہ قبول کرنے والا “ (شدید العاقب) جو گناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے (ذی الطول) ” فضل و احاسن کا مالک ہے “ یعنی ایسا فضل و احاسن جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 قرآن حکیم خالص اتاری ہوئی کتاب : سو اس ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ یہ محض اتاری ہوئی کتاب ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی یہاں پر " مُنزّل " نہیں " تَنِزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ سو یہ کتاب محض نازل کردہ کتاب ہے اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے۔ اس میں کسی بھی دوسری ہستی کی طرف سے کسی بھی طرح کی کسی آمیزش یا دخل اندازی کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ پس اس ارشاد عالی میں ایک طرف تو مخالفین کیلئے اظہار انتباہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کی ہدایت و راہنمائی کیلئے یہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب نازل فرمائی اور اس قدر اہتمام کے ساتھ نازل فرمائی تاکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–3

توحید و قرآن کی سچائی تشریح : جب اوپر آیات میں اللہ کی صفات میں سے کچھ تھوڑی سی صفات کو ہم غور سے سمجھ جاتے ہیں تو پھر اللہ کو ایک ماننا اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن پر یقین کرنا کوئی مشکل بات نہیں رہ جاتی۔ ہم پر توحید کی وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر یوں یقین کرنا کہ کوئی دوسرا اس میں کسی صورت اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔ 2۔ اس لیے صرف اور صرف اسی کی عبادت لازم ہے۔ 3۔ جب عبادت اسی کی ہوگی تو ہر قسم کی دعا اور پکار بھی اسی سے ہی ہوگی۔ وہی دعائیں سنتا اور پوری کرتا ہے۔ 4۔ اس پر اس قدر مضبوط بھروسہ ہونا ضروری ہے جس قدر حضرت موسیٰ نے فرعون کے مقابلے میں اللہ پر بھروسہ کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔ سورۃ المومن رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9: اسرار و معارف : اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی مردہ یا زندہ ہستی کے عبادت نہ کی جائے۔11 نہ کسی اور کی طرف۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–3

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 :۔ عزیز ( زبردست ، سب پر غالب ، قوت والا) علیم (بہت کچھ جاننے والا ، سب کچھ جاننے والا) غافر الذنب (گناہوں کو بخشنے والا) قابل التوب (توبہ قبول کرنے والا) شدید العقاب (سخت سزا دینے والا) ذی الطول (بڑے فضل والا) المصیر ( ٹھکانہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :۔ سورة المومن ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کی ابتداء ” حم “ سے کی گئی ہے۔ ” حم “ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ ” حم “ سے شروع کی گئیں سات سورتوں کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغز حم والی سورتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–7

[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة مومن 1: کتاب اللہ کے تعارف سے سورة کا آغاز فرمایا ہے ۔ کہ یہ صحیفہ رشدوہدایت اس اللہ کی جانب سے ہے ۔ جو صاحب عزت وعلم ہے ۔ گناہوں پر نگاہ کرم رکھتا ہے ۔ توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور سرکشوں کے حق میں سخت سزا دینے والا ہے ۔ اور قدرت واقتدار کا مالک ہے ۔ یعنی اس کتاب میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اپنے ماننے والے کو عزت و غلبہ بخشتی ہے ۔ اس میں اللہ کے بےپایاں علم کا مظاہرہ ہے ۔ گناہوں سے تھکے ہارے لوگوں کے لئے اس میں تسکین ہے ۔ وہ آئیں اور اس کی اطاعت کا عہد کریں ۔ تمام گناہ ان کے بخش دیئے جائیں گے ۔ اس میں ان لوگوں کے لئے بھی سامان طمانیت ہے ۔ جو مسلمان ہیں اور بتقاضائے بشریت ان سے معصیت کا صدور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 3۔ یہاں سے سورة احقاف تک متصل سات سورتیں حم سے شروع ہوئی ہیں، اور عجیب لطیفہ ہے کہ ساتوں قرآن مجید کے منزل و موحی من اللہ ہونے کے مضمون سے شروع ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

1۔ حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کی پہلی آیت کے تحت گزر چکی ہے اگر یاد نہ رہی ہو تو وہیں سے ایک بار پھر ملاحظہ کرلیں۔ (حم) سے شروع ہونے والی اس جگہ مسلسل سات سورتیں ہیں اور ساتوں مکی ہیں اور ساتوں ہی کا مزاج یکساں ہے اور ایک ہی جیسے مضمون ان میں بیان کیے گئے ہیں اگرچہ معروف ناموں کے لحاظ سے وہ الگ الگ ہیں اور ان سب کا دیباچہ سورة الزمر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary Surah A1-Mu'min: Characteristics and Merits From here (40) to Surah Al-Ahqaf (46) starts a series of seven Surahs that begin with the isolated letters: حم (Ha Meem). These are called: اَل حٰمٓ('Al Ha Mim) or حوامیم (hawamim). Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ said, اَل حٰم ('Al Ha Mim) is: دیباج القرآن (dibaj-ul- Qur’ an): Dibaj, in Arabic, is the cloth of pure silk, and here it signifies embellishment. Mis'ar Ibn Kidam says, 'These are called: عَرَایٔس (ara'is: brides).' Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said, 'Every thing has an essence. The essence of the Qur'an lies in اَل حٰم ('Al Ha Mim)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 This is the introduction to the discourse. By this the listener has been forewarned to the effect: °What is being presented before you, is not the word of an ordinary being but of that God Who has infinite power." After this, some of Allah's attributes have been mentioned, one after the other, which bear a deep relevance to the following theme: First, that He is "All-Mighty", i.e. He is Dominant over everything. His every decree concerning anybody is always enforced; none can fight Him and win; none can escape His grasp. Therefore, a person who expects to be successful after turning away…

Read the full tafseer →