جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کردیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے۔ ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہوچکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ الحمد للہ رب العالمین چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لئے یہاں…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 85
یعنی پوری کائنات اللہ کی حمد پکار اٹھے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(آیت) نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کے لئے اپنے اپنے مکانات محلات اور باغات تو ہوں گے ہی، ان کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ دوسرے اہل جنت کے پاس ملاقات و تفریح کے لئے جایا کریں، طبرانی۔ ابونعیم اور ضیاء نے سند حسن کے ساتھ حضرت عائشہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے آپ سے اتنی محبت ہے کہ اپنے گھر بھی جاتا ہوں تو آپ ہی کو یاد کرتا رہتا ہوں اور جب تک پھر حاضر خدمت نہ ہوجاؤں مجھے صبر نہیں آتا۔ مگر جب میں اپنی موت کو یاد کرتا ہوں اور آپ کی وفات کو یاد کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ تو جنت…
Read the full tafseer →آیت 75
قیامت ہوا میں فرشتوں کا حال
قرنیہ دلیل ہے کہ یہ آیت اوپر آیت 69 واشرقت الارض بنوددبھا … الایۃ سے متصل ہے اور ملائکہ سے مراد حاملین عرش اور ان کے زمرہ کے ملائکہ ہیں، جیسا کہ حآفین من حول بعرش کے الفاظ سے نمایاں ہوتا ہے۔ ان کا ذکر آگے والی سورة … سورة مومن … میں ان الفاظ سے آیا ہے۔ الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمدربھم ویومنون بہ ویستغفرون اللذین امنوا ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما فاغفر للذین قابوا وا تبعوا سبیک وقھم عذاب الجحیم (7) (جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی، اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ ایمان والوں کے لئے استغفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
75۔ 1 قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشۃ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح وتحمید میں مصروف ہوں گے۔
75۔ 2۔ یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت نمبر 74
یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی حق تعالیٰ جب حساب کتاب کے لیے نزول اجلال فرمائیں گے۔ اس وقت فرشتے عرش کے گردا گرد حلقہ باندھے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے اور تمام بندوں میں ٹھیک ٹھیک انصاف کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ جس پر ہر طرف سے جوش و خروش کے ساتھ " الحمدللہ رب العالمین " کا نعرہ بلند ہوگا۔ یعنی ساری خوبیاں اس خدا کو زیبا ہیں جو تمام عالم کا پروردگار ہے (جس نے سارے جہان کا ایسا عمدہ فیصلہ کیا) اسی نعرہ تحسین پر دربار برخاست ہوجائے گا۔ عموماً مفسرین نے آیت کا یہ ہی مطلب بیان کیا ہے لیکن حضرت شاہ صاحب نے آیت کو حالت راہنہ پر حمل کیا اور قضی بینہم کی ضمیر ملائکہ کی طرف راجع کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ " فرشتوں میں…
Read the full tafseer →آیت 75 { وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ } ”اور تم دیکھو گے ‘ فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے ‘ اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ۔“
{ وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ } ”اور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا“
یہاں پر بَیْنَہُمْ سے کچھ مفسرین نے تو انسان ہی مرادلیے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ یہاں گویا وہی بات دہرائی گئی ہے جو قبل ازیں چھٹے رکوع میں بایں الفاظ بیان ہوچکی ہے :ـ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ }۔ لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق یہاں پر وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ کا…
Read the full tafseer →96 دربار برخواست ہونے پر الحمدللہ رب العالمین کی صدائیں :۔ یعنی جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے میدان محشر میں نزول اجلال فرمائے گا اس وقت فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان علی رؤس الاشہاد مبنی برانصاف فیصلہ فرماچکے گا تو ہر طرف سے جوش و خروش کے ساتھ (ألْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) کا نعرہ بلند ہوگا۔ اسی نعرہ تحسین پر اللہ تعالیٰ کا دربار برخاست ہوگا۔ پھر تمام لوگوں کو ان کے فیصلہ کے مطابق ان کے ٹھکانوں پر بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ دن موجودہ دن رات کے حساب سے پچاس ہزار برس کا ہوگا۔
Read the full tafseer →92۔ (جس نے اتنا بہتر فیصلہ کیا ! ) (آیت) ” حافین من حول العرش “۔ یہ عین اجلاس عدالت حشر کے وقت ہوگا۔ (آیت) ” یسبحون بحمد ربھم “۔ یہ تسبیح وتحمید تو فرشتوں کی گویا غذا ہی ہے۔ (آیت) ” قیل ..... العلمین “۔ اس نعرۂ مسرت و انبساط میں فرشتے اور انسان سب ہی شریک ہوں گے اور عجب نہیں جو اسی پر اجلاس عدالت برخاست ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت نمبر 71 تا 75
ترجمہ : اور کافروں کے غول کے غول مختلف گروہوں میں شدت کے ساتھ جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے جب وہ جہنم کے پا سپہنچ جائیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے (فتحت ابوابھا) اذا کا جواب ہے، وہاں نگران ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں قرآن وغیرہ پڑھ کر سناتے تھے ؟ اور تمہیں ان دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے، یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے، لیکن کلمہ عذاب یعنی لاملان جھنم (الآیۃ) کافروں پر ثابت ہوگیا حکم دیا جائے گا اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، جہاں ہمیشہ رہو گے، حال یہ کہ خلود مقدر ہوچکا پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا…
Read the full tafseer →وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل
الحمد اللہ رب العلمین اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ (حساب کے وقت) عرش کے گرداگرد حلقہ باندھے ہوں گے (اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے اور تمام بندوں میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ساری خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
حَآفِّیْنَ گھیرے ہوئے ‘ حلقہ بنائے ہوئے۔
یُسَبِّحُوْنَ فرشتوں کی یہ تسبیح ‘ تسبیح عبادت نہ ہوگی ‘ عبادت کا حکم تو اس وقت ساقط ہوچکا ہوگا ‘ بلکہ تسبیح تلذذ ہوگی ‘ فرشتے اس تسبیح سے لذت اندوز ہوں گے۔
بَیْنَھُمْ یعنی مخلوق کے درمیان۔
بِالْحَقِّ انصاف کے ساتھ ‘ یعنی…
Read the full tafseer →اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ عرش کے گردا گرد حلقہ باندھے ہوں گے اور اپنے پروردگار کے حکم سے اس کی تسبیح کرتے ہوں گے۔
اور انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے درمیان ٹھیک ٹحیک فیصلہ کردیا جائے گا اور ان سے حساب سے فراغت کے بعد کہا جائے گا کہ کہو کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو جن و انس کا پروردگار ہے اور اس پر کہ اس نے ہمارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان فرق فرمایا۔
Read the full tafseer →وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ حَاۗفِّيْنَ۔۔ : یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نزول فرمائے گا اس وقت فرشتے عرش کو اردگرد سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس منظر کو دوسرے مقام پر کچھ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے : (فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ) [ الحآقۃ : 13 تا…
Read the full tafseer →وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم اے محمد ﷺ ! آپ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ اس روز عرش کو گھیرے ہوئے ہونگے وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہوں گے وہ اس سے لذت حاصل کر رہے ہونگے نہ کہ عبادت کی غرض سے ایسا کریں گے یعنی وہ اپنے رب کا شکر بجا لاتے ہوئے عرش کے ارد گرد نماز پڑھ رہے ہونگے، حافون سے مراد ہے کسی شے کی جانب اور طرف کو پکڑلینا۔ اخفش نے کہا : اس کا واحد حاف ہے۔ فراء نے کہا : اس کا کوئی واحد نہیں ان کے لیے اسم واقع نہیں ہوتا مگر جب وہ جمع ہوں حول کے لفظ پر من داخل ہوا ہے کیونکہ حول ظرف ہے اور فعل ظرف کی طرف حرف جار اور حرف جار کے بغیر متعدی ہوتا ہے۔ اخفش نے کہا : من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واورثنا الارض “ (اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا) یعنی جنت کی زمین کا۔
2:۔ امام ہناد نے ابوالعالیہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” نتبوا من الجنۃ حیث نشآء “ (کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں گے قیام کریں گے) یعنی ان کی مشقت وہاں تک پہنچے گی جو ان کو عطا کیا گیا۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ سے جنت کی زمین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ سفید اور صاف شفاف ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ [اور آپ ﷺ دیکھیں گے فرشتوں کو ] حَاۗفِّيْنَ [پرے باندھنے والے ہوتے ہوئے ] مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ [عرش کے اردگرد سے ] يُسَبِّحُوْنَ [تسبیح کرتے ہوئے ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۚ [اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ [اور فیصلہ کیا جائے گا ان لوگوں کے درمیان ] بِالْحَقِّ [حق کے ساتھ ] وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] الْحَـمْدُ [تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [جو تمام جہانوں کا رب ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
(فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (سو برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا) تکبر نے ان لوگوں کا ناس کھویا اور حق قبول کرنے نہ دیا، کافر جب دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے تو اس کے دروازے بند کردئیے جائیں گے اور وہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ (وَمَاھُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ) اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ گروہ ہو کر جنت کی طرف لے جائیں گے تقویٰ کا ابتدائی درجہ تو یہ ہے کہ کفر کو چھوڑ کر ایمان قبول کرے پھر اعمال صالحہ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے مختلف درجات ہیں اور ان میں فرق مراتب ہے ان درجات کے مراتب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
بیان انجام حقارت وتذلیل کفار ومجرمین وانعام واکرام اہل ایمان ومطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” وسیق الذین کفروا ........ الی ....... الحمد للہ رب العلمین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین و کفار کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ شرک ونافرمانی سے باز نہ آئیں گے، تو زندگی میں کیے ہوئے تمام اعمال حبط وبرباد ہوں گے اور انسان کو نہ قیامت سے بےفکر ہونا چاہئے اور نہ محاسبہ سے لاپرواہی برتنی چاہئے، قیامت بھی برحق ہے، محاسبۂ اعمال بھی۔ اعمال اس پروردگار پر پورشیدہ نہیں وہ اعمال کو دیکھتا اور جانتا ہے، اس نے ہر انسان کا نامہ اعمال بھی تیار کر رکھا ہے، اعمال پر گواہ بھی ہیں اس نوعیت سے مجرم کو اعمال کی…
Read the full tafseer →72:۔ ” و تری الخ “ اللہ تعالیٰ کی شان عظمت و جبروت کا بیان ہے قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہوں گے اور اپنے مالک حقیقی کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوں گے تمام فرشتوں کی زبانوں پر جاری ہوگا کہ اللہ کی ذات گرامی ہر شریک سے پاک اور تمام صفات کمال سے متصف ہے ایسے جاہ و جلال کے باوجود کہ کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی۔ اور ہر فیصلہ عدل و انصاف سے ہوگا۔ ” وقیل الحمد للہ رب العالمین “ اس وقت ہر طرف سے مالک کائنات اور رب ہر دوسرا کی حمد و ثنا کا غلغلہ بلند ہوگا۔ فرشتے اور مومنین بول اٹھیں گے ہر حمد وثناء اس ذات پاک اور رب جہاں کو زیبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ربط آیات :
گذشتہ درس میں دو دفعہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہوا ہے پہلے صور پر ہر چیز بیہوش ہو جائیگی ، اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی ، اعمال نامے سامنے رکھ دیے جائیں گے ، نبی اور گواہ آئیں گے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی جزائے عمل کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اس کی کیفیت بھی بیان کی ہے کہ نافرمان لوگ جہنم تک اور اہل ایمان جنت تک کیسے پہنچیں گے ۔
(کفار کی جہنم کی طرف روانگی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی…
Read the full tafseer →وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَۃَ حَاۗفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ 0ۚ وَقُضِيَ بَيْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 75ۧ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ترکیب : زمرا جمع زمرۃ وھی الجماعۃ، حال فی الموضعین و فتحت الوا و زائدۃ عند قوم لان الکلام جواب حتی اذا ولیست زائدہ عند قوم فالجواب محذوف ای دخلو ھا نتبوا حال من الفاعل او المفعول وحیث مفعول بہ حافین حال من الملائکہ یسبحون حال منھا۔
تفسیر : فیصلہ ہونے کے بعد کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ کفار کی جماعتیں جہنم کی طرف ہان کی جاویں گی، وہاں فرشتے ان سے ملامت کے طور پر پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس دنیا میں رسول نہ آئے تھے جو آیات الٰہی سنایا کرتے اور اس روز کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں آئے تھے مگر تقدیر میں یہی تھا، فرشتے کہیں گے تو جہنم میں گرو کہ ہمیشہ وہاں رہا کرو گے جو بری جگہ ہے…
Read the full tafseer →وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِرَبِّہِمْ ج وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الزمر : 75)
(اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش الٰہی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہیں، اپنے رب کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ کرتے ہوئے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ سب خوبی اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ )
حاملینِ عرش کا حال
جب جزاء و سزا کا عمل جاری ہوگا، اصحابِ ایمان و عمل اور اصحابِ تقویٰ کو جنت میں پہنچا دیا جائے گا اور اہل کفر کو جہنم کی نذر کیا جارہا ہوگا تو تم فرشتوں کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے بعد عدالت کبریٰ کا اختتام۔
جب جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو عدالت کبریٰ برخاست ہوجائے گی۔ جہنمیوں کے انجام اور جنتیوں کے انعام کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا اے رسول ﷺ ! آپ دیکھیں گے کہ ملائکہ اپنے رب کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوئے اپنے رب کی حمد کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ہر چیز پکار اٹھے گی کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جونہی رب ذوالجلال عدالت کبریٰ قائم فرمائیں گے تو ملائکہ کی ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →فرشتے عرش کے گرد صف اندھنے ہوں گے اور حق کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ وَتَرَى الْمَلٰۗىِٕكَةَ حَاۗفِّيْنَ ، اور آپ فرشتوں کو دیھیں گے کہ حلقہ باندھے ہوں گے۔
نحو : حافین یہ الملائکہ سے حال ہے۔
مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ ، عرش کے گردا گرد، یعنی اس کے گرد نظریں جمائے ہوں گے۔ من یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے یعنی ان کے حلقہ باندھنے کی ابتداء عرش کے گردا گرد سے شروع ہو کر وہاں تک ہوگی جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ يُسَبِّحُوْنَ ، وہ تسبیح کرنے والے ہوں گے۔
نحو : یہ حافین کی ضمیر سے حال ہے۔
بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ، اپنے رب کی تحمید کے ساتھ، یعنی وہ کہہ رہے ہوں گے۔ سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر،…
Read the full tafseer →تفسیر 74۔ ، وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض ، یعنی جنت کی زمین کا اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصالحون،۔۔۔۔۔۔ ، نتبوا، ہم ٹھکانہ بنائیں گے۔ ، من الجنۃ حیث نشاء فنعم اجرالعملین (74) وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل الحمد للہ رب العلمین، فرمانبرداروں کا ثواب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
74۔ 75۔ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب تعریف اس خدا کو ہے جس نے سچا کیا ہم سے وعدہ اپنا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں کہ جو نہ ہم نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جنتی لوگوں کو جنت میں وہ نعمتیں ملیں گی کہ جو نہ انہوں نے کبھی آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کردی جائے گی جس طرح انہوں نے دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا، چناچہ فرمایا : (وسیق الذین کفروآ الی جھنم) ” اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ “ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ، یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →141 جنت سے سرفرازی کا اصل ذریعہ و وسیلہ اپنا عمل : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت سے سرفرازی کا اصل ذریعہ ذریعہ و وسیلہ اپنا عمل ہے نہ کہ دوسرے خود ساختہ مفروضے۔ جس طرح کہ بہت سے زائغین نے سمجھ رکھا ہے۔ سو اہل جنت اپنی سرفرازی کے سلسلے میں مزید کہیں گے کہ " کیا ہی عمدہ بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا "۔ یعنی جنت تو بیشک اللہ پاک کا کرم و احسان اور محض اس کا فضل و انعام ہے مگر یہ کرم واحسان ہمیں نصیب اپنے انہی اعمال صالحہ کی بنا پر ہوا ہے جو دنیا میں ہم اس مالک الملک کی توفیق و عنایت سے بجا لاتے رہے۔ سو عمل کرنے والوں کی شان بہت بڑی اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ پس عاملین کے اس لفظ سے واضح فرما دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
نیکوں اور بدکاروں کا اخروی انجام
تشریح : جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں اگر ہمارے اندر توحید کی سچائی اور توحید کا نور موجود ہو تو واقعی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔ کتنا عظیم دربار ہوگا اور کتنا عظیم جج ہوگا یہ صرف ہم قرآنی آیات کے کھینچے ہوئے نقشہ کو تصور کی آنکھ سے اور روح کی پاکیزگی سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گناہگار خوف و ہراس سے پریشان ہوں گے اور جب جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا تو کیا حال ہوگا ؟ کوئی سفارش، کوئی مال، کوئی اولاد، کوئی بادشاہ، کوئی وزیر اور کوئی بڑے سے بڑا لیڈر عذاب سے بچا نہ سکے گا۔ بڑے انصاف سے سزا دی جائے گی۔ بےانصافی کرنا تو صرف بندوں کا کام ہے رب العزت کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 71 تا 75:
اسرار و معارف :
تب فیصلہ ہونے کے بعد کفار کے گروہ یعنی ہر جرم کے لوگ ایک ایک گروہ بن کر دوزخ کی طرف ہنکائے جائیں گے جہاں پہلے سے دروازہ کھولے فرشتے منتظر ہوں گے اور ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے مبعوث نہ ہوئے تھے کہ تمہیں تمہارے پروردگار کا پیغام پہنچاتے اور آج کی اس مشکل گھڑی سے بروقت خبردار کرتے۔ کہیں گے آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا لہذا ہمارے کفر کے سبب ہم پر یہ عذاب آیا اور عذاب کا حکم کافروں پہ نافذ ہوجائے گا۔ اور انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا کہ چلو اب دوزخ میں جہاں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے داخل ہوجاؤ کہ تکبر کرنے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی ان میں سے بعض کو جنت میں اور بعض کو دوزخ میں بھیج کر ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔8 یعنی ہر طرف فرشتے اور اہل ایمان اللہ رب العالمین کے عدل و انصاف پر اس کی حمد وثناء کر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →(39:75) حافین من حول العرش : حافین اسم فاعل جمع مذکر حف یحف وحف یحف (نصر ، ضرب) حف وحفاف گھیرنا
الحف کے معنی کسی چیز کو حافتین یعنی دونوں جانب سے گھیرنے یا احاط کرلینے کے ہیں جیسے قرآن مجید میں ہے وحففناہما بنخل (18:32) اور ہم نے ان دونوں کے گرداگرد کھجوروں کے درخت لگا دئیے تھے۔
حافین گرداگرد گھیرنے والے۔ گھیرے ہوئے۔ حلقہ بنائے ہوئے الملئکۃ سے حال ہے۔
حول العرش مضاف مضاف الیہ عرش کے گرد۔ حال یحول (نصر) سے مصدر ہے۔
یسبحون بحمد ربھم۔ اپنے رب کی حمد اور پاکی بیان کرتے ہوئے ۔ جملہ حالیہ ہے۔ فرشتوں کی یہ تسبیح، تسبیح عبادت نہ ہوگی۔ عبادت کا حکم تو اس وقت ساقط ہوچکا ہوگا۔ بلکہ یہ تسبیح تلذذ ہوگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 : وسیق (اس نے کھینچا ، گھسیٹا) زمر (جماعت ، گروہ) خزنۃ (نگران ، دیکھ بھال کرنے والا) حقت (ثابت ہوگئی) طبتم (تمہیں مبارک ہو) اور ثنا (ہمیں مالک بنا دیا) نعم ( بہترین) حافین (گھیرنے والے) حول العرش (عرش کے اردگرد)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 75 : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے میدان حشر کا نقشہ کھینچ کر بتا دیا تھا کہ یہ وہ انصاف کا دن ہوگا جس میں ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ کفار و مشرکین کو اس دن ذلت و رسوائی اور اہل ایمان کو عزت و عظمت نصیب ہوگی چناچہ مشرکین ، کفار اور منافقین کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر جہنم کے دروازوں تک پہنچا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوش خبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں جو ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا، اور ہم کو جنت کی زمین کا مالک بنایا، جہاں چاہیں ہم رہیں بیٹھیں، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتی لوگ جنت کی نعمتیں دیکھ کر ادھر اللہ کی حمدوثنا بیان کررہے ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
[37] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1: جہاں منکرین کا استقبال زجروتوبیخ کے الفاظ سے ہوگا ۔ وہاں پاکبازوں کہ عزت واحترام کے ساتھ جنت کے دروازوں تک لایا جائے گا ۔ جب یہ دروازے ان کے خیر مقدم میں کھلیں گے ۔ تو فرشتے مسرت اور خوشی کا اظہار کرینگے ۔ اور کہیں گے کہ اللہ کی تم پر سل امتی ہو ۔ خوشحالی اور فارغ البالی سے جنت میں رہو ۔ ادھر یہ اللہ کی حمد و ستائش میں مصروف ہوجائیں گے ۔ اور اس کا شکر ادا کریں گے ۔ کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ اور جنت میں ان کے لئے ہر قسم کی آسودگی مہیا کی ۔ انہیں آزادی بخشی ۔ کہ جہاں چاہیں اپنے لئے تمام تجویز کرلیں ۔
حل لغات :۔ زمرا ۔ جمع زمرہ آدمیوں کے متفرق گروہ ۔ گروہ درگروہ خزنتھا ۔ محافظ حافین ۔…
Read the full tafseer →(75) اور اے پیغمبر اپنے فرشتوں کو دیکھیں گے کہ عرش کے چاروہ طرف حلقہ باندھے ہوئے اپنے پروردگار کی حمدوثناء کے ساتھ پاکی بیان کررہے ہوں گے اور تم مخلوق کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجائے گا اور کہا جائے گا سب تعریفیں اور سب خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہیں جو تمام عالموں کا مالک اور پروردگار ہے۔ شاید نزول اجلال کی کیفیت مذکور ہے کیونکہ اس وقت تمام مخلوق کے مابین فیصلہ ہوگا۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ ملا۔ اعلیٰ یعنی فرشتوں کے باہمی بحث ومباحثے کے فیصلے کی طرف اشارہ ہے مخلوق کے فیصلے کے وقت شاید لوگ کہیں گے۔ الحمد اللہ رب العلمین یا ملائکہ کی بات پر کوئی فیصلہ صادر ہوتا ہے تو اس پر کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1۔ یعنی ہر شخص کو خوف فراغت کی جگہ ملی ہے۔
2۔ یہ یا تو ان ہی کا کلام ہے یا اللہ تعالیٰ کا ہو۔
Read the full tafseer →75۔ یہ اس منظر کا زکر ہے جس منظر میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے عرش جلالت پر جلوہ افروز ہوں گے اور فرشتے عرش کو گھیرے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور تہلیل کے ترانے گاتے ہوں گے اور تمام لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ بیان استعارہ ہے جلالت ِشان کے لیے تاکہ انجان بھی جان جائیں کہ اس سلسلہ میں کوئی بات سوائے استعارہ واشعارہ کے نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک ان دیکھی ، ان سمجھی ذات اقدس کے بیان کے لیے دیکھے اور سمجھے الفاظ ہی بیان کئے جاسکتے ہیں ان دیکھے اور ان سمجھے الفاظ ہماری استطاعت سے بالکل باہر ہیں اس لیے اس کی حقیقت پر بحث نہیں کی جاسکتی جب یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
In verse 74, it was said: نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ (we can dwell anywhere we wish in Jannah). The sense is that, apart from their own special dwelling places, the people of Jannah will be allowed to visit others there and take pleasure trips around. Tabarani, Abu Nu'aym and Diya', have reported, through a chain rated as 'hasan', from Sayyidah ` A'ishah ؓ that someone came to the Holy Prophet ﷺ and said to him, 'ya rasulAllah, I love you so much that I keep thinking of you even when I go back home and I remain uncomfortable and impatient until I return to you. But, when I…
Read the full tafseer →85 That is, the entire Universe will proclaim the praises of Allah Almighty.
Read the full tafseer →