39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الزمر۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ الزمر ہجرت حبشہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل کی گئی ۔ ٭ یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار مکہ کے ظلم و زیادتی اور تشدد کی انتہاء ہوچکی تھی ۔ اہل ایمان پر چاروں طرف سے ہر طرح کے حملے کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے بعض صحابہ کرام (رض) بیت اللہ کی سر زمین چھوڑ کر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ہجرت اپنی جان کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کے لئے کی تھی۔ (یہ سورة مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار و مشرکین نے تشدد اور ظلم و زیادتی کی انتہاء کردی تھی ۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مکہ کی سر زمین چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی تھی) ۔ ٭ اس سورة میں قریش مکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ گزری ہوئی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور نقصان پہنچنے سے پہلے ایمان لا کر اپنی اصلاح کرلیں ۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر سوائے شرمندگی ، پچھتاوے اور دین و دنیا کے نقصان کے اور کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا ۔ اس سورة میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ صبر سے کام لے کر اللہ کے دین پر مضبوطی سے جمے رہیں۔ دین و دنیا کی ساری بھلائیوں سے ان کا دامن بھر دیا جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کریں ۔ اللہ کی عبادت و بندگی اس طرح کریں کہ اس میں کسی دوسرے کی عبادت و بندگی کا شائبہ تک نہ ہو۔ (اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں ، اسی سے ڈریں اور ساری دنیا سے بےپرواہ ہو کر اللہ کا دین ساری دنیا میں پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز تر کردیں۔ ) ٭اللہ تعالیٰ نے توحید کی حقانیت کو بیان کر کے اس کے بہتر نتائج اور شرک کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اور عمل صالح اختیار کر کے صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیں کہ کفار کا ظلم و ستم ان کو اپنے نیک مقاصد سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹا سکے گا ) ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے کفار پر یہ ثابت کردیں کہ وہ کتنا بھی ظلم و تشدد کرلیں لیکن اہل ایمان ایک قدم بھی توحیدخالص سے پیچھے نہ ہٹیں گے اور جو مقصد اور مش لے کر چلے ہیں اس سے دنیا کے اندھیروں کو دور کر کے رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ یہ کفار و مشرکین جن معبودوں پر بھروسہ کر کے ان کی عبادت و بندگی کرتے اور ان کو اپنا مشکل کشا مانتے ہیں جب وہ کسی طوفان ، مصیبت یا کسی سمندری بھنور میں پھنس جاتے ہیں تو اس وقت صرف ایک اللہ سے فریاد کرتے ہیں اور جب وہ اس مصیبت سے نکل جاتے ہیں تو پھر سے اللہ کو بھول کر اپنے کفر و شرک میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں کا تضاد ثابت کرتا ہے کہ ان کو بھی اپنے جھوٹے معبودوں پر کسی طرح کا اطمینان اور یقین نہیں ہے بلکہ وہ اپنے باپ دادا کی پیروی میں ان بتوں کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین میں سے وہ لوگ جن کے دل اسلام کی عظمت کے لئے کھول دیئے گئے ہیں جن کا ہر قدم اللہ کی عطاء کی ہوئی روشنی میں اٹھتا ہے وہ کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو زندگی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پتھر دل ہوچکے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نا کام ترین لوگ ہیں اور وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے جو نور ایمانی سے اپنے دلوں کو روشن ومنور کرچکے ہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تا کہ ہر شخص اپنی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اتار کر مرنے سے پہلے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلے۔ فرمایا کہ اس کے باوجود اگر یہ کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹکنے والے تو بہ نہیں کرتے تو اس انجام کو سامنے رکھیں کہ ان کے مال و اسباب ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور آخرت کے شدید نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی کو اختیار کرتے ہیں اللہ خود ان کی حفاظت فرماتا ہے ، لہٰذا دین حق پر چلنے والوں کو کسی سے ڈرنے یا کسی سے دبنے کی ضرورت نہیں ہے انہیں اللہ پر مکمل بھروسہ کر کے دین اسلام کی عظمت کو ساری دنیا تک پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز کردینا چاہیے۔ جب اللہ خود محافظ ہے تو پھر کسی نقصان کا اندیشہ نہیں کرنا چاہیے اگر اس راستے میں مشکلات آئیں یا کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بن جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کے مسلسل انکار ، مذاق اڑانے اور دین کی سچائیوں کو جھٹلانے سے رنجیدہ نہ ہوں ، نہ کسی کی پرواہ کریں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کے برے اعمال کے ذمے دار نہیں ہیں ۔ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان اور صالح زندگی کو اپنائے گا اس کا طرز عمل اس کو فائدہ دے گا لیکن جو کفر و شرک پر اصرار کرے گا اور ایمان و عمل صالح کی طرف نہیں آئے گا وہ برے انجام سے نہیں بچ سکتا اور اس کا وبال اس پر ہی پڑے گا ۔ ٭فرمایا کہ زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی قادر مطلق ہے جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے وہی قیامت کے دن کا مالک و مختار ہے۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین کا وہ حال دیکھنے کے قابل ہوگا جب عذاب ان کے سامنے آجائے گا تو وہ لوگ جو دنیا کی معمولی دولت کو اپنا سب کچھ سمجھ کر کفر و شرک میں مبتلا تھے وہ تمنا کریں گے کہ کاش ساری دنیا اور اس سے بھی زیادہ دنیاؤں کی دولت اگر ان کے پاس ہوتی تو وہ اس کو دے کر اس شدید عذاب سے بچ جاتے لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوگی اور ان کو شدید عذاب دیا جائے گا ۔ ٭ فرمایا کہ اہل ایمان کو اللہ کی رحمت سے مایوں نہیں ہونا چاہیے اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے یا زمانہ کفر و جہالت میں ان سے کوئی بڑا گناہ ہوگیا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ سارے گناہ معاف کر دے گا لیکن اگر کوئی شخص اپنے گناہوں اور کفر و شرک پر جما رہے گا تو آخرت میں اس کو سوائے شرمندگی اور پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ قیامت کے دن ساری حاکمیت اور حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہوگی۔ جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو جتنے بھی لوگ ہوں گے ان کے ہوش و حواس اڑ جائیں گے اور سب چیزوں پر فنا چھا جائے گی لیکن دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد سب کے سب لوگ زندہ ہو کر حیران و پریشان چاروں طرف دیکھیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائیں گے تو اس کے نور و تجلی سے ساری کائنات جگمگا اٹھے گی ۔ پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا ۔ سب کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ہر ایک کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا ۔ اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہ فرمائیں گے بلکہ ان کے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہر ایک کے درمیان صحیح صحیح فیصلے فرما دیں گے۔ ٭آخر میں فرمایا کہ آخرت میں دو گروہ بن جائیں گے ایک اہل ایمان جنت والوں کا اور ایک اہل کفر جہنم والوں کا ۔ سب سے پہلے کفار کو ( جانوروں کی طرح) فرشتے جہنم کی طرف گروہ در گروہ گھسیٹ کرلے جائیں گے اور ان پر طنز کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ ٭کیا تمہارے پاس اللہ کے نبی اور رسول نہیں آئے تھے ؟ ٭کیا وہ اللہ کا پیغام نہیں لائے تھے ؟ ٭کیا تمہیں راہ ہدایت کی طرف انہوں نے متوجہ نہیں کیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک وہ پیغمبر آئے تھے انہوں نے ہمیں راہ راست کی تلقین کی تھی مگر ہماری بد قسمتی تھی کہ ہم نے ان کی بات نہیں مانی ، اس اقرار کے بعد فرشتے ان کفار کی جماعتوں کو لے کر چلیں گے۔ جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ وہ اس جہنم میں داخل ہوجائیں جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ فرمایا کہ دوسری طرف اہل تقویٰ مومنین کے گروہ ہوں گے فرشتے ان کو پورے اعزازو اکرام کے ساتھ بہترین سواریوں پر سوار کر کے لے کر چلیں گے تو جنت کے دروازے ان پر کھول دیئے جائیں گے فرشتے ان کو سلام کریں گے اور مبارک باد پیش کریں گے اور کہیں گے کہ اب تم سب اس جنت میں داخل ہو جائو جہاں تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ اس پر وہ اہل جنت اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ الحمد للہ ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا ۔ اب ہمیں وہ تمام نعمتیں حاصل ہوگئی ہیں جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اس دن تمام فرشتے حلقہ باندھے ہوئے اللہ کی اور تسبیح و حمد کرتے ہوں گے اور اس دن اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلے فرما دیں گے اور ہر طرف سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی ہوگی الحمد للہ رب العالمین۔

Ayahs 39:1–6

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اللہ جو زبردست اور غالب حکمت والا ہے اسی نے اس کتاب ( قرآن مجید) کو نازل کیا ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! بیشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف ” حق “ کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اسی اللہ کی عبادت و بندگی ۔ دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے کیجئے۔

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یاد رکھو ! عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا دوست بنا رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان ( غیر اللہ) کی عبادت و بندگی صرف اس لئے کرتے ہیں تا کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ بے شک اللہ ہی ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں اختلاف کر رہے ہیں۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کسی جھوٹے اور نا شکرے کو ہدایت نہیں دکھاتا۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا ( لیکن حقیقت یہ ہے کہ) اس اللہ کی ذات ان عیبوں سے پاک ہے۔ وہ اللہ ایک ہے اور زبردست ( طاقتوں کا مالک)

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے۔ وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ( گھاٹابڑھاتا ہے) اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے جو ہر ایک اپنی مقرر مدت تک چلتا رہے گا۔ سنو ! کہ وہی غالب ہے اور معاف کرنے والا ہے۔

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تمہیں ایک جان ( آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا ہے پھر اس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنا یا ۔ اس نے چوپائے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے ( نر اور مادہ) پیدا کئے وہی تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ میں تخلیق کرتا ہے۔ تین اندھیروں کے اندر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لے جاتا ہے ( لوگو ! ) یہ ہے تمہارا رب ، اسی کی بادشاہت ہے ، اس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر تم کہاں پھرے جا رہے ہو ( یعنی بھٹک رہے ہو) ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو) تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین اسلام کی وجہ سے کفار کے ہاتھوں شدید تکلیفیں برداشت کر رہے تھے اور کفار مکہ کے ظلم و ستم نے انہیں بیت اللہ کی سر زمین چھوڑ کر حبش اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت پر مجبور کردیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے پوری امت کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جس قرآن حکیم کو نازل کیا ہے وہ اس اللہ کی طرف سے ہے جو ہر طرح کی طاقتیں اور قوتیں رکھتا ہے اور ہر بات اور ہر چیز کی مصلحت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ پوری انسانیت سے اس قرآن مجید کا مطالبہ ہے کہ 1۔ اس ذات کی عبادت و بندگی اس طرح کی جائے کہ اس میں کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ یا ملاوٹ تک نہ ہو۔ عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی مقصود ہو۔ 2۔ اہل ایمان کا طرز عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ ہی کو طاقت و قوت مان کر اس کی عبادت کریں اور ان کفار عرب کی طرح نہ ہوجائیں جو اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ساری قوت و طاقت کا سر چشمہ اللہ کی ذات ہے لیکن وہ عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک کر کے ان بےحقیقت بتوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں جو کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کی کوئی اہلیت نہیں رکھتے۔ وہ ان بتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور جو اہل ایمان اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ فرمایا کہ اس دنیا میں شاید اس کا فیصلہ نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا فیصلہ فرما دیں گے۔ بہر حال اللہ ایسے لوگوں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا جو کفر و انکار کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 3۔ اسی طرح وہ لوگ بھی راہ ہدایت سے بہت دور ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹھا سمجھ رکھا ہے ۔ یہ اللہ کی ذات پر ایک بہت بڑا الزام ہے کیونکہ وہ اس کائنات کا نظام چلانے میں قادر مطلق ہے وہ اس کو چلانے کے لئے کسی بیٹے ، بیٹی یا بیوی کا محتاج نہیں ہے۔ 4۔ زمین و آسمان اور چاند ، سورج ، ستارے یہ سب اسی نے بر حق پیدا کئے ہیں ۔ وہی رات اور دن اور ان کے الٹ پھیر کو پیدا کرنے والا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم کے تابع ہے وہ جس طرح چاہتا ہے ان سے کام لیتا ہے۔ وہی زبردست قوتوں کا مالک ہے اور لوگوں کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔ 5۔ انسان اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی نے اپنی قدرت کا ملہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کے وجود ہی سے ان کی بیوی حضرت حوا (علیہ السلام) کو پیدا کر کے تمام انسانوں کو دنیا میں پھیلا یا۔ 6۔ وہی ایک ذات ہے جس نے مویشوں یعنی بھیڑ ، بکری ، اونٹ اور گائے میں نر اور مادہ پیدا کئے تا کہ ان کی نسلیں چلیں اور وہ انسانوں کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ 7۔ یہ اسی کی قدرت ہے کہ اس نے انسان کو تین اندھیروں میں رکھ کر پرورش کیا ۔ ماں کے پیٹ کا اندھیرا ، رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرے اس جھلی کا اندھیرا جس جھلی میں انسانی بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ ہے وہ تمہارا پروردگار جس کی حکمرانی ہر چیز پر غائب ہے ۔ وہی ایک معبود ہے اس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے۔ یہی سیدھا راستہ ہے لیکن وہ لوگ جو اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چل رہے ہیں وہ کبھی منزل تک نہ پہنچ سکیں گے۔ خوش نصیب وہی لوگ ہیں جو صراط مستقیم پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارتے اور بناتے ہیں اور جنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔
Ayahs 39:7–20

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم نا شکری کرو گے تو بیشک اللہ تم سے بےنیاز ہے۔ وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا ۔ اسے یہی پسند ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو ، اور اگر بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہیں اسی رب کی طرف لوٹنا ہے ۔ تب وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔ بیشک وہ دلوں کے حال کو جانتا ہے

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی سختی یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف جھک کر (عاجزی اور بےبسی کے ساتھ) پکارتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو نعمت دے دیتا ہے تو وہ ( اپنے اس پروردگار کو) بھول جاتا ہے جسے وہ پکارتا رہا تھا ۔ اور اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک بنا لیتا ہے تا کہ اس کے راستے سے گمراہ کرے۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے کفر ( اور نا شکری) سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو پھر بیشک تم جہنم والوں میں سے ہو جائو گے۔

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام میں راتوں کو عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید رکھتا ہے ( کیا وہ اس نا شکرے آدمی کے برابر ہے) آپ کہہ دیجئے کہ جو علم رکھنے والے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا ایک دوسرے کے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ایسی باتوں سے عقل سلیم رکھنے والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیجئے جو ایمان لے آئے ہیں کہ وہ صرف مجھ سے ہی ڈریں کیونکہ جنہوں نے اس دنیا میں بہترین کام کئے ہیں ان کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اللہ کی زمین نہایت وسیع ہے۔ صبر کرنے والوں کو ان کا پورا پورا اجر وثواب بےحساب دیا جائے گا ۔

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو خالص اللہ کے لئے کر کے اسی کی عبادت و بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم ( اللہ کا فرماں بردار ) بنوں۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تو دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے اسی کی بندگی کرتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہے بندگی کرتے پھرو۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ بیشک نقصان اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان کو ڈالنے والے ہیں ، سنو یہی وہ لوگ ہیں جو کھلا ہوا نقصان اٹھانے والے ہیں۔

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے آگ کی چادریں ، یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے، اے میرے بندو ! تم مجھ سے ہی ڈرو۔

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

جو لوگ شیطان کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا تو انکے لئے خوش خبری ہے۔ ( اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو لوگ پوری توجہ سے سنتے ہیں پھر اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ جسے عذاب دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے کیا آپ اس کو آگ سے ( جہنم سے) بچا لیں گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بالا خانے ہیں اور ان کے اوپر بھی بلند وبالا عمارتیں ہیں ۔ ان کے نیچے سے تہریں بہتی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ کا احسان مان کر شکر کرتا ہے تو اس انسان کی شان تو بڑھ جاتی و ہے لیکن اگر ساری دنیا مل کر بھی اس کا شکر ادا نہ کرے تو اللہ کی عظمت و شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا فرمایا کہ اللہ کو اپنے ان بندوں میں سے وہ لوگ بہت پسند ہیں جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور کسی طرح کی نا شکری نہیں کرتے ۔ (2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی خوشی کی خاطر گناہ کر بیٹھتے ہیں اور اسے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ایسے لوگ اس سے ناواقف ہیں کہ کل قیامت میں جب یہ گناہوں کے بوجھ لاد کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کوئی کسی کا نہ تو بوجھ اٹھائے گا اور نہ ان میں سے کوئی ان کے کام آسکے گا ۔ (3) تیسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ہر شخص کو آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ اللہ جو دلوں کے چھپے ہوئے جذبوں سے بھی واقف ہے ان کے سامنے ان کی زندگی کے اعمال نامے رکھ کر ان سے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا ۔ (4) چوتھی بات یہ فرمائی کہ جھوٹے معبودوں کو اپنا مشکل کشا ماننے والے اور زندگی بھر جھوٹے سہاروں کے ساتھ جینے والے جب کسی مصیبت یا مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو وہاں ان کو مٹی ، پتھر اور لکڑی سے بنائے گئے معبود یاد نہیں آتے بلکہ وہ دل کی گہرائیوں سے اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور جب وہ مشکلات کے بھنور سے نکل آتے ہیں تو پھر سے کفر و شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے نا شکرے لوگ کچھ دن دنیا کے مزے اڑا لیں پھر وہ وقت دور نہیں ہے جب ان کو جہنم کی ابدی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور وہاں بھی ان کے جھوٹے معبود ان کو جہنم کی آگ سے نہ بچا سکیں گے۔ (5) پانچویں بات یہ ارشاد فرمائی کہ ایک طرف تو یہ نا شکرے لوگ ہیں جو کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹک رہے ہیں دوسری طرف اللہ کے وہ نیک بندے ہیں جو دن رات اللہ کے سامنے سجدے کر رہے ہیں اور ادب سے کھڑے رہتے ہیں آخرت کے برے انجام سے ڈرتے اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنے والے ہیں ۔ اللہ انہیں دنیا اور آخرت کی ہر کامیابی عطاء فرمائے گا ۔ (6) اللہ نے چھٹی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اس بات پر ہر شخص غور کرسکتا ہے کہ اللہ کی نا شکری کرنے والے اور اس کا احسان مان کر دن رات اسی کی عبادت و بندگی کرنے والے یکساں اور برابر کیسے ہو سکتے ہیں ؟ یقینا دونوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہے ۔ اللہ ان لوگوں کو ہر طرح کی کامیابیاں عطاء فرمائے گا جو اس کے اطاعت گزار اور شکر گزار بندے ہیں لیکن ان کے لئے ابدی جہنم ہے جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور کفر و شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ (7) اللہ نے ساتویں بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ میرے ان صاحبان ایمان بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ صرف مجھ سے ہی ڈریں کیونکہ اللہ ایسے نیکو کاروں کو ان کے حسن عمل پر بہترین صلہ اور بدلہ عطاء فرمائے گا ۔ (8) آٹھویں بات یہ ارشاد فرمائی کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لئے ہجرت کر جائیں گے تا کہ اپنا ایمان بچاسکیں تو ایسے لوگ اپنے لئے زمین کو تنگ نہیں بلکہ وسیع تر پائیں گے۔ ایسے لوگ عظیم اجر کے مستحق ہیں کیونکہ حق و صداقت پر جم جانے والے بےحساب اجر عظیم کے مستحق ہیں۔
Ayahs 39:21–23

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ۔ اس نے اس ( پانی کو) چشمے بنا کر زمین پر چلایا ۔ پھر ان سے مختلف رنگوں کی کھیتیاں اگائیں ۔ پھر جب وہ کھیتیاں پک کر شک ہوجاتی ہیں پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئی ہیں اور پھر وہ ان کو چورہ چورہ کردیتا ہے۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی ( حاصل کرلیتا) ہے ۔ کیا وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے سخت ہوچکا ہے ؟ یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام نازل کیا یعنی ایک کتاب نازل کی جس کی آیتیں ملتی جلتی اور بار بار دھرائی جانے والی ہیں ۔ ان سے ان لوگوں کے بدل کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ پھر ان کی جلدی ( کھالیں) اور دل نرم پڑجاتے ہیں اور اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ ہدایت ہے جسے اللہ جس کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا ۔

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23 :۔ سلک ( وہ چلا) ینابیع ( چشمے) زرع ( کھیتی) الوان (لون) (رنگ) یھیج (وہ خشک کرتا ہے) مصفر ( زرد) حطام (چورہ چورہ) شرح (اس نے کھول دیا) صدر ( سینہ) قسیۃ ( سخت) احسن الحدیث ( بہترین کلام) مثانی ( بار بار) تقشعر (وہ رونگٹے کھڑے کرتا ہے) جلود ( جلد) ( کھالیں) تلین ( نرم پڑجانا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہنما) تشریح : آیت نمبر 21 تا 23 :۔ ان آیات میں خاص طور پر تین باتوں کو بیان کیا گیا ہے ٭دنیا کی بےثباتی اور اس میں دن رات کے انقلابات ٭ شرح صدر کی حقیقت٭کلام اللہ کی عظمت اور اس کی صفات ٭اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےثباتی اور آئے دن کے انقلابات کو اس مثال سے ذہن نشین فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تم دن رات دیکھتے ہو کہ بلندیوں سے پانی برستا ہے پھر اس میں سے کچھ تو زمین کے اندر چلا جاتا ہے اور کچھ ندل نالوں اور چشموں کی شکل میں بہہ کر خشک زمین کو سیراب کرتا اور جان داروں کی پیاس کو بچھاتا ہے ۔ جب یہ پانی کھیتوں اور باغات میں پہنچتا ہے تو اس سے طرح طرح کا غلہ اور پھل پھول پیدا ہوتا ہے۔ جب کھیتاں پک جاتی ہیں اور ان کے رنگ زرد ہوجاتے ہیں تو پھر ان کھیتوں کو کاٹ لیا جاتا ہے۔ اور پھر وہی سر سبز و شاداب کھیتاں زرد اور خشک ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہیں ۔ دانہ گندم اور اس کے غلے کو نکال کر انسانوں کی غذا بنا دی جاتی ہے اور بھوسہ جانوروں کی غذا بن جاتا ہے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے کہ وہ نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں رہنے کے بعد بچپن ، جوانی اور بڑھاپے تک پہنچ جاتا ہے اور پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات میں کسی چیز کو قرار نہیں ہے۔ یہ انقلابات اس بات کی علامت ہیں کہ اس پورے نظام کائنات کو کوئی ہستی کنٹرول کر کے چلا رہی ہے اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے ۔ اب یہ انسان کی بےعقلی ہے کہ وہ وقتی سج دھج اور رونق کو حقیقی سمجھ کر اپنے خالق ومالک اللہ سے غافل ہوجاتا ہے اور یہ نہیں سوچتا کہ اس کے ہاتھ میں جو بھی چیزیں ہیں ایک وقت آنے پر ختم ہوجائیں گی ۔ حالانکہ اگر وہ پانی کے برسنے ، کھیتوں کے با رونق ہو کر کٹنے تک کی تمام تفصیلات کو ذہن میں رکھ کر سوچے تو اس کی عقل خود فیصلہ کر دے گی کہ وقتی اور عارضی چیزوں پر مر مٹنا اور ان تمام چیزوں کے مالک اللہ رب العالمین کو بھول جانا سب سے بڑی غلطی ہے جو اس کو آخرت میں رسوا اور ذلیل کر کے رکھ دی گی۔ ٭فرمایا کہ جن لوگوں کو صحیح رہنمائی اور شرح قلب نصیب ہوجاتا ہے اور ان کے دل نور ایمانی سے جگمگا اٹھے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے فائدے حاصل کرتے ہیں ۔ شرح قلب کیا ہے اس کی صحیح وضاحت حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ کی یہ روایت ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ نے قرآن کریم کی یہ آیت ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “ تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا آپ نے فرمایا کہ جب ایمان کا نور قلب میں داخل ہوجاتا ہے تو اس کا قلب بڑا وسیع ہوجاتا ہے ( جس سے احکامات الٰہی کو قبول کرنے کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے ) پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس شرح صدر کی علامت کیا ہے تو آپ نے فرمایا ہمیشہ رہنے والے گھر ( جنت ، آخرت) کی طرف پوری طرح رغبت پیدا ہوجانا اور دھوکے کے گھر ( دنیا) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو یہ شرح صدر حاصل ہوگیا وہ اور جن لوگوں نے اپنے دلوں کو پتھر دل بنا لیا ہے وہ ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں اللہ سے ڈرنے والوں اور نادانوں کا انجام یکساں کیسے ہو سکتا ہے ؟ ٭در حقیقت وہی لوگ خوش نصیب ہیں جو اللہ کے نازل کئے ہوئے قانون اور احکامات کی پابندی کرتے ہیں یعنی اللہ کے اس کلام ( قرآن مجید) پر عمل کرتے ہیں جو کلاموں میں سب سے بہتر کلام ہے جسے اللہ نے احسن الحدیث ( یعنی جس سے بہتر کوئی کلام نہیں ہے) فرمایا ۔ جس کے مضامین میں کوئی اختلاف نہیں ہے ایک مضمون دوسرے مضمون کی تائید و تصدیق کرتا ہے ۔ بار بار بیان کئے جانے کے باوجود مضامین قرآن میں دلچسپی اور دلکشی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ یہ کلام ہے جس کی تلاوت سے اور اس کلام کی عظمت کی وجہ سے مومنوں کے دل کانپ اٹھتے ہیں ان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان پر رعب اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کا قلب اور ان کا ظاہر و باطن دونوں اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہدایت کے نور کو بڑھاتا چلا جاتا ہے لیکن اس کلام کی عظمت اور شان کے باوجود اگر کوئی پھر بھی آنکھیں بند کر کے چلتا ہے تو اس کو راہ ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ اور سچ ہے کہ جس کو اللہ ہی راہ سے بھٹکا دے اسے کوئی راستہ نہیں دکھا سکتا ۔
Ayahs 39:24–31

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا پھر وہ لوگ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس عذاب سے بچا سکیں گے ۔ ایسے ظالموں سے ( ظالموں کے دن) کہا جائے گا کہ تم جو کچھ کرتے تھے اس کا مزہ چکھو ۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

اس سے پہلے انہوں نے (رسولوں کو) جھٹلایا تھا تو ان پر ہمارا عذاب ایسی جگہ سے آیا تھا جہاں ان کا خیال و گمان بھی نہ گیا تھا۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا ۔ اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ہوگا ۔ کاش وہ (اس حقیقت کو) پہلے سے جان لیتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تا کہ وہ ان پر دھیان دیں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

یہ قرآن عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی ( ٹیڑھا پن) نہیں ہے انہیں چاہیے کہ وہ پرہیز گاری اختیار کریں۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ نے ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی ہے جس کے کئی بد اخلاق آقا ہیں ان میں سے ہر ایک اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک دوسرا غلام ہے جس کا ایک ہی آقا ہے کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ اکثر وہ لوگ جانتے نہیں ہیں ۔

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! بیشک آپ بھی انتقال کریں گے اور ( کفار بھی) مریں گے ۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر بیشک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب مسلط کیا گیا کہ وہ دیکھتے ہی رہ گئے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ اس طرح اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و رسوا کیا اور آخرت میں تو ان کو اتنا شدید عذاب دیا جائے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ کاش وہ دنیا اور آخرت کا عذاب آنے سے پہلے ہی کچھ سوچ لیتے اور توحید خالص کو اختیار کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم واضح عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جس میں نہ کوئی فلسفیانہ انداز ہے اور نہ کوئی ٹیڑھا پن ہے بلکہ روز مرہ کی صاف صاف مثالوں کے ذریعہ بتا دیا گیا ہے کہ توحید خالص پر نہ چلنے والوں کو دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی رسوائی ، ذلت اور عذاب کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو توبہ اور توحید خالص پر عمل کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ ایک اللہ کو چھوڑ کر ہر ایک کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں اور ان سے اپنی حاجتوں کے پورے ہونے کی توقع رکھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں انہیں کبھی سکون قلبی حاصل نہ ہو سکے گا ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص بہت سے ضدی ، بد اخلاق آقاؤں کا غلام ہو ہر آقا اس کو اس طرح اپنی طرف کھینچتا ہوں ، مصروف رکھتا ہو کہ وہ دوسروں کا حق ادا نہ کرسکتا ہو اور ہر وقت ان کی خوشامد میں لگا رہتا ہو کیا یہ غلام اس غلام کی طرح ہو سکتا ہے جس کا ایک ہی مہربان آقا ہو اور وہ ایک ہی آقا کی خدمت میں لگا رہتا ہو ۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا اسی طرح جو آدمی ایک اللہ کا غلام بن گیا وہی سکون و اطمینان سے رہے گا اس کو ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں گی لیکن جو بہت سے آقاؤں کا غلام ہوگا اس کو کبھی سکون و اطمینان حاصل نہ ہو سکے گا ۔ آخر میں فرمایا کہ مکہ کے وہ کفار جو اس بات کی تمنا رکھتے ہیں کہ آپ پر موت طاری ہوجائے تا کہ وہ آئے روز کی نصیحتوں سے بچ جائیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر مجھ پر موت طاری ہوجائے تو کیا تم ہمیشہ اسی دنیا میں رہو گے ؟ یقینا موت کے اس دروازے سے سب کو گزرنا ہے البتہ ہر ایک آدمی اپنا اپنا نامہ اعمال ساتھ لے کر جائے گا ۔ سب اللہ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اپنے حق کے لئے لڑیں گے اور اللہ سب کے درمیان انصاف کر کے نہ صرف فیصلہ فرمائیں گے بلکہ ہر شخص نے جو بھی کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ عطاء فرمائیں گے ۔ حضرت زبیر ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” انک میت “ وانھم میتون٭ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ تو میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارے وہ جھگڑے جو دنیا میں تھے وہ قیامت میں بھی دہرائے جائیں گے۔ آپ نے فرمایا وہاں وہ ضرور دھرائے جائیں گے اور ہر شخص کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذمے کسی کا حق ہے اس کو چاہیے کہ وہ اسی دنیا میں ادا کر دے یا معاف کرا لے کیونکہ آخرت میں درہم و دینار نہ ہوں گے۔ اگر ظالم اور زیادتی کرنے والوں کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہوں گے تو اس ظلم و زیادتی کے بدلے میں اسکے اعمال مظلوم کو دیدئے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اور برائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔ ( بخاری شریف) صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے سوال کیا ، کیا تم جانتے ہو مفلس و غریب کون ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم تو غریب و مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس نہ تو نقد رقم ہو اور نہ اس کی ضروریات کا سامان ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اصل میں غریب و مفلس میری امت کا وہ شخص ہوگا جو قیامت میں بہت سے نیک اعمال نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ لے کر آئے گا مگر اس کا حال یہ ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھایا ہوگا ، کسی کو قتل کیا ہوگا ، کسی کو ستایا ہوگا یہ سب مظلوم اللہ کی بارگاہ میں اپنے مظالم اور زیادتیوں کا مطالبہ کریں گے۔ اس طرح اس شخص کی نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی ۔ پھر جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور مظلوموں کے حق باقی ہوں گے تو مظلوموں کے گناہ اس زیادتی کرنے والے پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اس شخص کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ اور اس طرح یہ شخص نیکیوں کا بہت سا سامان ہونے کے باوجود قیامت کے دن خالی ہاتھ رہ جائے گا ۔ یوں تو ہر ایک ظلم کا دعویٰ کیا جائے گا اور مظلوموں کی فریاد سنی جائے گی لیکن جس نے کسی مظلوم کو ناحق خون بہایا ہوگا سب سے پہلے اس کا حساب لیا جائے گا چناچہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کے باہمی معاملات میں سب سے پہلے جو ( ناحق) خون بہائے گئے ہوں گے ان کا حساب ہوگا۔ ( بخاری و مسلم)
Ayahs 39:32–37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی ( پوری طرح) اس کے سامنے آگئی تو اس نے اسے بھی جھٹلا دیا ۔ کیا ایسے منکرین کے لئے جہنم کے سوا کوئی اور ٹھکانہ ہے ؟

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

(ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے) اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جن لوگوں نے اس کو تسلیم کیا یہی وہ لوگ ہیں جو متقی اور پرہیز گار ہیں ۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کی وہ خواہش کریں گے ۔ یہی نیکو کاروں کا بدلہ ہو گا

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تا کہ اللہ ان کے ان تمام ناپسندیدہ کاموں کو ان سے دور کر دے جو وہ کرتے رہے تھے اور جو کچھ انہوں نے بہترین اعمال کئے تھے انہیں ان سے بہتر اجر عطاء کردیا جائے

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہیں حالانکہ جسے اللہ ہی نے بھٹکا دیا ہوا سے کوئی راہ ہدایت دکھانے والا نہیں ہے

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے وہی ہدایت دے دے اس کو ( راہ ہدایت سے) بھٹکانے والا کوئی نہیں ہے۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے ؟

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا) تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی یا غلطی ہوگئی ہوگی تو اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کی غلطیوں کو معاف فرما دے گا بلکہ ان کی ہر نیکی قبول فرمائے گا ۔ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ کو اس بات سے ڈراتے تھے کہ وہ ان کے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں اور اپنی زبان کو اس سے روک لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بت ناراض ہو کر انہیں بد حوال اور دیوانہ بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور حق و صداقت کے راستے پر چلنے والے صحابہ کرام ؓ کو ایک خاص تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں آپ اس کا غم نہ کریں نہ ان سے انتقام کی فکر کریں کیونکہ ان کے لئے جہنم کی سزا ہی کافی ہے اور جس کی حفاظت اللہ کی طرف سے ہو رہی ہو اسے ویسے بھی کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ کفار و مشرکین کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو شخص اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ فرمایا کہ یہ لوگ راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بھٹکا رکھا ہے ان کو راہ ہدایت دکھانے والا کوئی نہیں ہے اور جسے اللہ ہدایت کے راستے پر چلاتا ہے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ، لہٰذا اے نبی ﷺ ! آپ تمام حالات پر صبر کیجئے انتقام اور بدلہ لینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے وہ خود ان سے انتقام لے لے گا کیونکہ اہل ایمان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سب لوگوں سے زیادہ طاقت ور ہوجائے تو اسے اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور جو شخص چاہتا ہے کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے۔ بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے ہاتھ میں ہے اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ بہت زیادہ عزت والا ہوجائے تو اس کو صرف اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے “۔ ابن ابی حاتم)