39. Surah Az-Zumar
الزمرThe Groups · 75 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الزمر۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭سورۃ الزمر ہجرت حبشہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل کی گئی ۔ ٭ یہ سورت مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار مکہ کے ظلم و زیادتی اور تشدد کی انتہاء ہوچکی تھی ۔ اہل ایمان پر چاروں طرف سے ہر طرح کے حملے کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے بعض صحابہ کرام (رض) بیت اللہ کی سر زمین چھوڑ کر ملک حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ہجرت اپنی جان کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت کے لئے کی تھی۔ (یہ سورة مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل کی گئی جب کفار و مشرکین نے تشدد اور ظلم و زیادتی کی انتہاء کردی تھی ۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے مکہ کی سر زمین چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی تھی) ۔ ٭ اس سورة میں قریش مکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ گزری ہوئی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور نقصان پہنچنے سے پہلے ایمان لا کر اپنی اصلاح کرلیں ۔ اگر یہ وقت نکل گیا تو پھر سوائے شرمندگی ، پچھتاوے اور دین و دنیا کے نقصان کے اور کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا ۔ اس سورة میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ وہ صبر سے کام لے کر اللہ کے دین پر مضبوطی سے جمے رہیں۔ دین و دنیا کی ساری بھلائیوں سے ان کا دامن بھر دیا جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہ کریں ۔ اللہ کی عبادت و بندگی اس طرح کریں کہ اس میں کسی دوسرے کی عبادت و بندگی کا شائبہ تک نہ ہو۔ (اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں ، اسی سے ڈریں اور ساری دنیا سے بےپرواہ ہو کر اللہ کا دین ساری دنیا میں پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز تر کردیں۔ ) ٭اللہ تعالیٰ نے توحید کی حقانیت کو بیان کر کے اس کے بہتر نتائج اور شرک کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے بیٹھے ہیں ان کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر اور عمل صالح اختیار کر کے صراط مستقیم پر چل پڑیں۔ (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیں کہ کفار کا ظلم و ستم ان کو اپنے نیک مقاصد سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹا سکے گا ) ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے طرز عمل سے کفار پر یہ ثابت کردیں کہ وہ کتنا بھی ظلم و تشدد کرلیں لیکن اہل ایمان ایک قدم بھی توحیدخالص سے پیچھے نہ ہٹیں گے اور جو مقصد اور مش لے کر چلے ہیں اس سے دنیا کے اندھیروں کو دور کر کے رہیں گے۔ ٭فرمایا کہ یہ کفار و مشرکین جن معبودوں پر بھروسہ کر کے ان کی عبادت و بندگی کرتے اور ان کو اپنا مشکل کشا مانتے ہیں جب وہ کسی طوفان ، مصیبت یا کسی سمندری بھنور میں پھنس جاتے ہیں تو اس وقت صرف ایک اللہ سے فریاد کرتے ہیں اور جب وہ اس مصیبت سے نکل جاتے ہیں تو پھر سے اللہ کو بھول کر اپنے کفر و شرک میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ان کی زندگیوں کا تضاد ثابت کرتا ہے کہ ان کو بھی اپنے جھوٹے معبودوں پر کسی طرح کا اطمینان اور یقین نہیں ہے بلکہ وہ اپنے باپ دادا کی پیروی میں ان بتوں کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین میں سے وہ لوگ جن کے دل اسلام کی عظمت کے لئے کھول دیئے گئے ہیں جن کا ہر قدم اللہ کی عطاء کی ہوئی روشنی میں اٹھتا ہے وہ کامیاب و بامراد لوگ ہیں۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو زندگی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پتھر دل ہوچکے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں نا کام ترین لوگ ہیں اور وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے جو نور ایمانی سے اپنے دلوں کو روشن ومنور کرچکے ہیں۔ ٭اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تا کہ ہر شخص اپنی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اتار کر مرنے سے پہلے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلے۔ فرمایا کہ اس کے باوجود اگر یہ کفر و شرک کی وادیوں میں بھٹکنے والے تو بہ نہیں کرتے تو اس انجام کو سامنے رکھیں کہ ان کے مال و اسباب ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور آخرت کے شدید نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ ٭ اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی کو اختیار کرتے ہیں اللہ خود ان کی حفاظت فرماتا ہے ، لہٰذا دین حق پر چلنے والوں کو کسی سے ڈرنے یا کسی سے دبنے کی ضرورت نہیں ہے انہیں اللہ پر مکمل بھروسہ کر کے دین اسلام کی عظمت کو ساری دنیا تک پھیلانے کی جدوجہد کو اور تیز کردینا چاہیے۔ جب اللہ خود محافظ ہے تو پھر کسی نقصان کا اندیشہ نہیں کرنا چاہیے اگر اس راستے میں مشکلات آئیں یا کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بن جائے گا ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار و مشرکین کے مسلسل انکار ، مذاق اڑانے اور دین کی سچائیوں کو جھٹلانے سے رنجیدہ نہ ہوں ، نہ کسی کی پرواہ کریں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کے برے اعمال کے ذمے دار نہیں ہیں ۔ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان اور صالح زندگی کو اپنائے گا اس کا طرز عمل اس کو فائدہ دے گا لیکن جو کفر و شرک پر اصرار کرے گا اور ایمان و عمل صالح کی طرف نہیں آئے گا وہ برے انجام سے نہیں بچ سکتا اور اس کا وبال اس پر ہی پڑے گا ۔ ٭فرمایا کہ زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی قادر مطلق ہے جو ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے وہی قیامت کے دن کا مالک و مختار ہے۔ فرمایا کہ ان کفار و مشرکین کا وہ حال دیکھنے کے قابل ہوگا جب عذاب ان کے سامنے آجائے گا تو وہ لوگ جو دنیا کی معمولی دولت کو اپنا سب کچھ سمجھ کر کفر و شرک میں مبتلا تھے وہ تمنا کریں گے کہ کاش ساری دنیا اور اس سے بھی زیادہ دنیاؤں کی دولت اگر ان کے پاس ہوتی تو وہ اس کو دے کر اس شدید عذاب سے بچ جاتے لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوگی اور ان کو شدید عذاب دیا جائے گا ۔ ٭ فرمایا کہ اہل ایمان کو اللہ کی رحمت سے مایوں نہیں ہونا چاہیے اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے یا زمانہ کفر و جہالت میں ان سے کوئی بڑا گناہ ہوگیا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ سارے گناہ معاف کر دے گا لیکن اگر کوئی شخص اپنے گناہوں اور کفر و شرک پر جما رہے گا تو آخرت میں اس کو سوائے شرمندگی اور پچھتاوے کے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا ۔ ٭فرمایا کہ قیامت کے دن ساری حاکمیت اور حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہوگی۔ جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو جتنے بھی لوگ ہوں گے ان کے ہوش و حواس اڑ جائیں گے اور سب چیزوں پر فنا چھا جائے گی لیکن دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد سب کے سب لوگ زندہ ہو کر حیران و پریشان چاروں طرف دیکھیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائیں گے تو اس کے نور و تجلی سے ساری کائنات جگمگا اٹھے گی ۔ پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا ۔ سب کے نامہ اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ہر ایک کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا ۔ اللہ کسی پر ظلم و زیادتی نہ فرمائیں گے بلکہ ان کے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہر ایک کے درمیان صحیح صحیح فیصلے فرما دیں گے۔ ٭آخر میں فرمایا کہ آخرت میں دو گروہ بن جائیں گے ایک اہل ایمان جنت والوں کا اور ایک اہل کفر جہنم والوں کا ۔ سب سے پہلے کفار کو ( جانوروں کی طرح) فرشتے جہنم کی طرف گروہ در گروہ گھسیٹ کرلے جائیں گے اور ان پر طنز کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ ٭کیا تمہارے پاس اللہ کے نبی اور رسول نہیں آئے تھے ؟ ٭کیا وہ اللہ کا پیغام نہیں لائے تھے ؟ ٭کیا تمہیں راہ ہدایت کی طرف انہوں نے متوجہ نہیں کیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک وہ پیغمبر آئے تھے انہوں نے ہمیں راہ راست کی تلقین کی تھی مگر ہماری بد قسمتی تھی کہ ہم نے ان کی بات نہیں مانی ، اس اقرار کے بعد فرشتے ان کفار کی جماعتوں کو لے کر چلیں گے۔ جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ وہ اس جہنم میں داخل ہوجائیں جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ فرمایا کہ دوسری طرف اہل تقویٰ مومنین کے گروہ ہوں گے فرشتے ان کو پورے اعزازو اکرام کے ساتھ بہترین سواریوں پر سوار کر کے لے کر چلیں گے تو جنت کے دروازے ان پر کھول دیئے جائیں گے فرشتے ان کو سلام کریں گے اور مبارک باد پیش کریں گے اور کہیں گے کہ اب تم سب اس جنت میں داخل ہو جائو جہاں تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ اس پر وہ اہل جنت اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ الحمد للہ ہمارے پروردگار نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا ۔ اب ہمیں وہ تمام نعمتیں حاصل ہوگئی ہیں جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اس دن تمام فرشتے حلقہ باندھے ہوئے اللہ کی اور تسبیح و حمد کرتے ہوں گے اور اس دن اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلے فرما دیں گے اور ہر طرف سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی ہوگی الحمد للہ رب العالمین۔
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader
اللہ جو زبردست اور غالب حکمت والا ہے اسی نے اس کتاب ( قرآن مجید) کو نازل کیا ہے
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ! بیشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف ” حق “ کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اسی اللہ کی عبادت و بندگی ۔ دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے کیجئے۔
اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader
یاد رکھو ! عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا دوست بنا رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان ( غیر اللہ) کی عبادت و بندگی صرف اس لئے کرتے ہیں تا کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ بے شک اللہ ہی ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں اختلاف کر رہے ہیں۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کسی جھوٹے اور نا شکرے کو ہدایت نہیں دکھاتا۔
لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader
اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا ( لیکن حقیقت یہ ہے کہ) اس اللہ کی ذات ان عیبوں سے پاک ہے۔ وہ اللہ ایک ہے اور زبردست ( طاقتوں کا مالک)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader
اس نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے۔ وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ( گھاٹابڑھاتا ہے) اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے جو ہر ایک اپنی مقرر مدت تک چلتا رہے گا۔ سنو ! کہ وہی غالب ہے اور معاف کرنے والا ہے۔
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader
اسی نے تمہیں ایک جان ( آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا ہے پھر اس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنا یا ۔ اس نے چوپائے جانوروں میں سے آٹھ جوڑے ( نر اور مادہ) پیدا کئے وہی تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹ میں تخلیق کرتا ہے۔ تین اندھیروں کے اندر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لے جاتا ہے ( لوگو ! ) یہ ہے تمہارا رب ، اسی کی بادشاہت ہے ، اس کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر تم کہاں پھرے جا رہے ہو ( یعنی بھٹک رہے ہو) ۔
اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader
اگر تم نا شکری کرو گے تو بیشک اللہ تم سے بےنیاز ہے۔ وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا ۔ اسے یہی پسند ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو ، اور اگر بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہیں اسی رب کی طرف لوٹنا ہے ۔ تب وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔ بیشک وہ دلوں کے حال کو جانتا ہے
وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader
اور جب انسان کو کوئی سختی یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف جھک کر (عاجزی اور بےبسی کے ساتھ) پکارتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو نعمت دے دیتا ہے تو وہ ( اپنے اس پروردگار کو) بھول جاتا ہے جسے وہ پکارتا رہا تھا ۔ اور اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک بنا لیتا ہے تا کہ اس کے راستے سے گمراہ کرے۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے کفر ( اور نا شکری) سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو پھر بیشک تم جہنم والوں میں سے ہو جائو گے۔
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader
کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام میں راتوں کو عبادت کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت سے امید رکھتا ہے ( کیا وہ اس نا شکرے آدمی کے برابر ہے) آپ کہہ دیجئے کہ جو علم رکھنے والے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا ایک دوسرے کے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ایسی باتوں سے عقل سلیم رکھنے والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیجئے جو ایمان لے آئے ہیں کہ وہ صرف مجھ سے ہی ڈریں کیونکہ جنہوں نے اس دنیا میں بہترین کام کئے ہیں ان کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ اللہ کی زمین نہایت وسیع ہے۔ صبر کرنے والوں کو ان کا پورا پورا اجر وثواب بےحساب دیا جائے گا ۔
قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو خالص اللہ کے لئے کر کے اسی کی عبادت و بندگی کروں
وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم ( اللہ کا فرماں بردار ) بنوں۔
قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تو دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے اسی کی بندگی کرتا ہوں
فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader
تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہے بندگی کرتے پھرو۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ بیشک نقصان اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان کو ڈالنے والے ہیں ، سنو یہی وہ لوگ ہیں جو کھلا ہوا نقصان اٹھانے والے ہیں۔
لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader
ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے آگ کی چادریں ، یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے، اے میرے بندو ! تم مجھ سے ہی ڈرو۔
وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader
جو لوگ شیطان کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا تو انکے لئے خوش خبری ہے۔ ( اے نبی ﷺ آپ میرے بندوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔
الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader
جو لوگ پوری توجہ سے سنتے ہیں پھر اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔
اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ جسے عذاب دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے کیا آپ اس کو آگ سے ( جہنم سے) بچا لیں گے ؟
لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader
البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بالا خانے ہیں اور ان کے اوپر بھی بلند وبالا عمارتیں ہیں ۔ ان کے نیچے سے تہریں بہتی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ۔ اس نے اس ( پانی کو) چشمے بنا کر زمین پر چلایا ۔ پھر ان سے مختلف رنگوں کی کھیتیاں اگائیں ۔ پھر جب وہ کھیتیاں پک کر شک ہوجاتی ہیں پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئی ہیں اور پھر وہ ان کو چورہ چورہ کردیتا ہے۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔
اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader
وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی ( حاصل کرلیتا) ہے ۔ کیا وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے سخت ہوچکا ہے ؟ یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader
اللہ نے بہترین کلام نازل کیا یعنی ایک کتاب نازل کی جس کی آیتیں ملتی جلتی اور بار بار دھرائی جانے والی ہیں ۔ ان سے ان لوگوں کے بدل کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ پھر ان کی جلدی ( کھالیں) اور دل نرم پڑجاتے ہیں اور اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ ہدایت ہے جسے اللہ جس کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا ۔
اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader
کیا پھر وہ لوگ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس عذاب سے بچا سکیں گے ۔ ایسے ظالموں سے ( ظالموں کے دن) کہا جائے گا کہ تم جو کچھ کرتے تھے اس کا مزہ چکھو ۔
كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader
اس سے پہلے انہوں نے (رسولوں کو) جھٹلایا تھا تو ان پر ہمارا عذاب ایسی جگہ سے آیا تھا جہاں ان کا خیال و گمان بھی نہ گیا تھا۔
فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader
پھر اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا ۔ اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑھ کر ہوگا ۔ کاش وہ (اس حقیقت کو) پہلے سے جان لیتے۔
وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader
اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تا کہ وہ ان پر دھیان دیں۔
قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader
یہ قرآن عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی ( ٹیڑھا پن) نہیں ہے انہیں چاہیے کہ وہ پرہیز گاری اختیار کریں۔
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader
اللہ نے ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی ہے جس کے کئی بد اخلاق آقا ہیں ان میں سے ہر ایک اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ایک دوسرا غلام ہے جس کا ایک ہی آقا ہے کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ اکثر وہ لوگ جانتے نہیں ہیں ۔
اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ! بیشک آپ بھی انتقال کریں گے اور ( کفار بھی) مریں گے ۔
ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader
پھر بیشک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader
پھر اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی ( پوری طرح) اس کے سامنے آگئی تو اس نے اسے بھی جھٹلا دیا ۔ کیا ایسے منکرین کے لئے جہنم کے سوا کوئی اور ٹھکانہ ہے ؟
وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader
(ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے) اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جن لوگوں نے اس کو تسلیم کیا یہی وہ لوگ ہیں جو متقی اور پرہیز گار ہیں ۔
لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader
ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کی وہ خواہش کریں گے ۔ یہی نیکو کاروں کا بدلہ ہو گا
لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader
تا کہ اللہ ان کے ان تمام ناپسندیدہ کاموں کو ان سے دور کر دے جو وہ کرتے رہے تھے اور جو کچھ انہوں نے بہترین اعمال کئے تھے انہیں ان سے بہتر اجر عطاء کردیا جائے
اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader
کیا اللہ اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہیں حالانکہ جسے اللہ ہی نے بھٹکا دیا ہوا سے کوئی راہ ہدایت دکھانے والا نہیں ہے
وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader
اور جسے وہی ہدایت دے دے اس کو ( راہ ہدایت سے) بھٹکانے والا کوئی نہیں ہے۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے ؟