39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 39:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اسکی عبادت کو (شرک سے) خالص کر کے

(1۔ 2) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس اللہ تعالیٰ کی جو کافروں کو سزا دینے میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اسی بنا پر اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے ہم نے صحیح طریقے پر بذریعہ جبریل امین اس کو تاب کو آپ پر نازل کیا ہے۔ سو آپ خالص اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اور اسی کی توحید کے قائل رہو۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا بیشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا

یاد رکھو کہ ایسی عبادت جو کہ شرک سے خالص ہو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو تمام انسانوں پر واجب ہے۔ اور ان کفار مکہ نے اللہ کے علاوہ جو اور شرکاء مثلا لات و عزی اور منات وغیرہ تجویز کر رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ مرتبہ اور سفارش میں یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا مصاحب بنا دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کے درمیان ان کے دینی اور باہمی اختلافات کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دین کا راستہ نہیں دکھاتا جو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہو اور اس کا منکر ہو اور یہ لوگ یہود و نصاری اور بنو ملیح اور مجوس اور تمام مشرکین عرب ہیں۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

اور اگر اللہ تعالیٰ فرشتوں یا انسانوں میں سے کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا جیسا یہود و نصاری اور بنو ملیح کا کہنا ہے تو وہ ضرور اپنی اس مخلوق ہی سے جو اس کے پاس جنت میں موجود ہے جسے چاہتا منتخب فرماتا یا یہ کہ فرشتوں میں سے منتخب فرماتا باقی وہ ان تمام عیوب سے پاک ہے اور وحدہ لاشریک اور اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ شان نزول : لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا (الخ) ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ تین قبائل عامر، کنانہ بن سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بتوں کو پوجتے تھے اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہاں مقرب بنا دیں۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے

اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے جس کی وجہ سے دن رات سے لمبا ہوجاتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے جس سے رات لمبی ہوجاتی ہے اور اس نے انسانوں کے لیے چاند و سورج کی روشنی کو مسخر کیا ان چاند سورج، رات اور دن میں سے ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ یاد رکھو وہ ذات جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہ کافروں کی گرفت فرمانے میں زبردست اور جو شرک سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے اس کو بڑا بخشنے والا ہے۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

اس نے تم لوگوں کو تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے اور پھر ان ہی سے یعنی ان کی سب سے چھوٹی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آٹھ نر و مادہ چار پایوں کے پیدا کیے یعنی بھیڑ اور دنبہ میں دو قسم نر و مادہ اور بکری میں دو قسم نر و مادہ اور ایسے ہی اونٹ میں دو قسم نر و مادہ اور گائے بھینس میں دو قسم نر و مادہ۔ وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے یعنی نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ اور پھر ہڈیاں تین تاریکیوں میں ہوتا ہے، ایک تاریکی شکم کی دوسری رحم کی تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے ان مور کا خالق تمہارا رب ہے اسی کی سلطنت ہے جو ہمیشہ رہے گی کبھی اس کو فنا نہیں اس کے علاوہ کوئی خالق و مصور نہیں پھر جھوٹ کی وجہ سے کہاں پھرے جاتے ہو یا یہ کہ پھر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کے کہاں اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

مکہ والو اگر تم رسول اکرم اور قرآن حکیم کا انکار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا محتاج نہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ چیز اس کے شایان نہیں اور اگر تم اس پر ایمان لے آؤ گے تو وہ تمہارے ایمان کو قبول فرمائے گا کیونکہ وہ اس کا پسندیدہ طریقہ ہے اور کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ یعنی کسی شخص کی دوسرے کے گناہ میں پکڑ نہیں ہوتی ہر ایک اپنے گناہوں کا ذمہ دار ہے یا یہ کہ کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا جاتا۔ اور پھر تمہیں اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے افعال و اقوال قیامت کے دن جتائے گا اور وہ دلوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں سب کا جاننے والا ہے۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اسکی طرف دل سے رجوع کرتا ہے پھر جب وہ اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستہ سے گمراہ کرے کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے پھر تو تو دوزخیوں میں ہوگا

اور جب آدمی کو جیسا کہ کافر ابو جہل ہے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار حقیقی کی طرف خاص توجہ کے ساتھ ہاتھ پھیلا کر تکلیف اور سختی کو دور کرنے کے لیے اسی کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ تکلیف کو نعمت کے ساتھ تبدیل کرتا تو اور اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گمراہ کرتا ہے۔ آپ ابوجہل وغیرہ سے فرما دیجیے کہ کفر کی بہار دنیاوی زندگی میں تھوڑے دنوں تک اور لوٹ لے تو پھر یہ دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں

بھلا وہ شخص جو رات کے وقت نماز میں سجدہ و قیام کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہو اور عذاب آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت یعنی جنت کی امید کرتا ہو ان خوبیوں کے مالک رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام ہیں تو یہ لوگ اور ابو جہل مشرک مذکور برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ شان نزول : اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ (الخ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ابن سعد نے کلبی کے طریق سے بواسطہ ابو صالح حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور جو بیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابن مسعود، عمار بن یاسر، سالم مولی بی حذیفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نیز عکرمہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور خدا کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا

آپ ان سے یہ بھی فرمایئے کہ کیا توحید خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی کو جاننے والے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ثواب و اطاعت اور درجہ میں کہیں برابر ہوسکتے ہیں۔ باقی قرآن کریم کی ان مثالوں سے وہ ہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو کہ عقل والے ہیں۔ نبی اکرم آپ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام سے فرما دیجیے چھوٹے بڑے تمام کاموں میں اپنے پروردگار کی پیروی کرتے رہو جو اس دنیا میں توحید پر قائم ہیں قیامت کے دن ان کو بدلے میں جنت ملے گی۔ اور سرزمین مدینہ منورہ دشمن وغیرہ سے محفوظ ہے اور یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے والوں کو ان کا صلہ بےحساب ملے گا۔
Ayahs 39:11–13

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسکی بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

(11۔ 12) اور آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے جبکہ وہ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ آپ ان کے آبائی دین کو اختیار کرلیں کہ مجھ کو بذریعہ قرآن کریم یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت و توحید کو اس کے لیے خالص رکھوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اسلام لانے میں سب سے پہلا میں ہوں۔ اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے دین کو (شرک سے) خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تو عبادت و توحید کو اسی کے لیے خالص رکھتا ہوں۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو کہہ دو نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا دیکھو یہی صریح نقصان ہے

سو اللہ کو چھوڑ کر جس کو چاہو تم پوجو یہ کفار کے لیے اللہ کی جانب سے وعید ہے اس سے پہلے کہ رسول اکرم کو جہاد کا حکم دیا گیا تھا آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ پورے خسارے میں وہ ہی لوگ ہیں جو دنیا کی بربادی کے ساتھ اپنی جانوں اور اپنے خدم و چشم اور منازل سے جنت میں نقصان میں رہے یاد رکھو سب سے بڑا واضح نقصان یہی ہے کہ دنیا و آخرت ہاتھوں سے جاتی رہے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے (اس کے) فرش ہوں گے یہ وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو

ان کفار مکہ کے اوپر بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کا بستر ہوگا یہ آگ کے وہ ہی شعلے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ بذریعہ قرآن کریم اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیو جن باتوں کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ان میں میری پیروی کرو۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا تو ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

اور جو لوگ شیطان اور بتوں کی عبادت سے بچتے ہیں اور توبہ و ایمان اور تمام نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ مرنے کے وقت جنت کی خوشخبری یا جنت کے دروازہ پر اعزاز خداوندی کی خوشخبری سنائے جانے کے حق دار ہیں۔ لہٰذا آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ (الخ) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت مبارکہ ان تین حضرات یعنی زید عمر بن نفیل، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں۔
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں اور پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر عمل کرتے ہیں یہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اچھے اچھے کاموں کی ہدایت فرمائی اور یہی وہ لوگ ہیں جو اہل عقل ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اور اسی طرح اہل سنت والجماعت سے وہ جو ان کے نقش قدم پر چلے۔ شان نزول : فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ (الخ) جبیر نے اپنی سند سے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ جس وقت آیت کریمہ لھا سبعۃ ابواب یعنی اس دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں نازل ہوئی تو ایک انصاری رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے سات غلام تھے میں نے دوزخ کے ساتوں دروازوں میں سے ہر ایک دروازہ کے بدلے ایک غلام کو آزاد کردیا تو اس انصاری کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجیے جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے ؟

بھلا جس پر عذاب لازم ہوچکا یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی تو کیا آپ ایسے دوزخی کو چھڑا سکتے ہیں۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (یہ) خدا کا وعدہ ہے خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا

لیکن جو لوگ توحید خداوندی کا اقرار کرتے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی ان کے لیے بالا خانے جن کے اوپر اور بالاخانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں چل رہی ہیں یہ اللہ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کتا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہو گئی ہے) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے

کیا بذریعہ قرآن کریم یہ نہیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس سے زمین میں چشمے اور نہریں بنائیں اور پھر اس پانی سے مختلف قسموں کے غلے پیدا کرتا ہے پھر وہ سبزی کے بعد خشک ہو کر زرد نظر آنے لگتی ہے پھر اس کے بعد اس کو چورا چورا کردیتا ہے اسی طرح دنیا بھی فنا ہوجائے گی۔ اس کا کوئی بھی نام و نشان باقی نہیں رہے گا اس فنا دنیا کی مثال میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

جس شخص کا دل اللہ تعالیٰ نے نور ایمان کے ساتھ فراخ کردیا تو وہ اپنے پروردگار کی عطا کردہ بزرگی اور ہدایت پر ہے اور وہ حضرت عمار بن یاسر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے دل کو کفر کے لیے کھول دیا تو کیا یہ دونوں برابر ہیں سو جن لوگوں کے دل سخت ہیں اور اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے جیسا کہ ابوجہل وغیرہ ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے جہنم خون اور پیپ کی وادی ہے اس کو بھی ویل کہتے ہیں اور اس قسم کے لوگ کھلے کفر میں مبتلا ہیں۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام یعنی قرآن حکیم نازل فرمایا کہ اس کے مضامین ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہیں یعنی وعدہ کامیابی رحمت و مغفرت عفو کی آیتیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور اسی وعید عذاب کے خوف میں یہ آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور یہ آیات بار بار دہرائی گئی ہیں اور دوہری ہیں کہ رحمت و عذاب وعدہ وعید امر و نہی ناسخ و منسوخ یا یہ کہ مکرر ہیں۔ کہ آیات عذاب و وعید سے ان لوگوں کے بدن جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں کانپ اٹھتے ہیں اور پھر ان کے بدن آیات رحمت سے نرم ہو کر اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ قرآن بیان خداوندی ہے جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے اپنے دین کی ہدایت فرماتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردے اسے کوئی اس کے دین پر لانے والا نہیں۔ شان نزول : اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ (الخ) اس آیت کریمہ کا شان نزول سورة یوسف میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو ؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اسکے مزے چکھو

بھلا وہ شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنا دے گا یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھی اپنے ہاتھوں کو اپنی گردنوں کی طرف لے جائیں گے اور اس طرح اپنے چہروں کو عذاب کی سپر بنائیں گے اور ابوجہل اور اس کے ساتھیوں سے دوزخ کے داروغہ کہیں گے کہ دنیا میں جو کچھ تم نافرمانیاں اور اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے اس کا عذاب چکھو۔
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی

محمد آپ کی قوم سے پہلے بھی قوم ہود و صالح اور قوم شعیب وغیرہ نے تکذیب کی ان پر اللہ کا عذاب اس طرح آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر ان کو خدا نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے

اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیوی زندگی میں بھی ان کو عذاب کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو دنیاوی عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے کاش یہ سمجھتے مگر یہ تو سمجھتے ہی نہیں۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے لئے) اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کیں ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

اور ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قرآن حکیم میں ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں

اور قرآن جس کی شان یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور توحید اور احکام اور بیان حدود میں توریت، انجیل، زبور اور تمام آسمانی کتب میں سے کسی کا مخالف نہیں اور سدی غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کلام خداوندی غیر مخلوق ہے تاکہ لوگ قرآن کریم کے ذریعے سے جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا ہے ان سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کی مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص ہے جس کے کئی مالک ہیں کہ جن میں آپسی مخالفت بھی ہے کہ ایک مالک تو ایک کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور دوسرا مالک اس سے روکتا ہے یہی حالت کافر کی ہے کہ مختلف معبودوں کو پوجتا ہے اور ایک اور شخص کہ خالص ایک ہی شخص کا غلام ہے یہ شان مسلمان کی ہے کہ خالص اپنے پروردگار وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہے اور اسی کے لیے اپنے اعمال کرتا ہے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں (مختلف المزاج اور) بدخو ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے بھلا دونوں کی حالت برابر ہے ؟ (نہیں) الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے

تو کیا ان دونوں کی حالت ایک جیسی ہوسکتی ہے اسی طرح مومن و کافر ہرگز برابر نہیں ہوسکتے الحمدللہ کہ وحدانیت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے مگر مگر اکثر ان میں سے قرآنی مثالوں کو نہیں سمجھتے۔
Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ تم بھی مرجاؤ گے اور یہ بھی مرجائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)

(30۔ 31) اور آپ ان کی باتوں پر غم نہ کریں عنقریب آپ کو بھی لوٹ کر جانا ہے اور ان کفار مکہ کو بھی، پھر قیامت کے دن تم حجت و دلیل کے ساتھ اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے یعنی حضرت نبی اکرم اور کفار مکہ۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ؟

ابو جہل اور اس کے ساتھیوں سے زیادہ اپنے کفر میں بےانصاف کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر قرآن کریم سن کر جھوٹ باندھے اور اس کے شریک ٹھہرائے اور اس کو صاحب اولاد بنائے اور قرآن کریم اور بیان توحید کو جبکہ اس کے پاس بذریعہ نبی کریم پہنچ گئی جھٹلائے کیا جہنم ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا ٹھکانا نہ ہوگا ؟ ضرور ہوگا۔
Ayahs 39:33–34

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے انکے پروردگار کے پاس (موجود) ہے نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

(33۔ 34) اور جو ذات توحید اور قرآن حکیم لے کر آئے یعنی نبی اکرم اور اس کی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں نے تصدیق کی ایسے ہی لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے جنت میں سب کچھ ہے۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کر دے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے انکو بدلہ دے

یہ موحدین کا اعزازو احترام ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور ان کے نیک کاموں کے بدلے ان کو ان کا ثواب دے۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں (یعنی خدا سے) ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص محمد کی حفاظت کے لیے یا یہ کہ حضرت خالد بن ولید کی حفاظت کے لیے کافی نہیں۔ اور یہ آپ کو ان جھوٹے معبودوں یعنی لات و عزی وغیرہ سے جو اللہ کے سوا ہیں ڈراتے ہیں۔ چناچہ آپ سے کہتے ہیں کہ ان بتوں کو برا بھلا مت کہو ورنہ آپ کو پریشان کردیں گے اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کرے یعنی ابوجہل وغیرہ اسے کوئی دین خداوندی کا راستہ بتانے والا نہیں۔ شان نزول : وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ (الخ) عبدالرزاق نے محمد سے روایت کی ہے کہ مجھے ایک شخص نے بیان کیا کہ کفار مکہ نے رسول اکرم سے کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنے سے باز آجائیں ورنہ ہم اپنے بتوں سے کہہ دیں گے وہ آپ کو پریشان کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی یہ لوگ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے سوا ہیں۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو خدا ہدایت دے اسکو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ہدایت فرمائے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام اور کہا گیا ہے کہ اس سے حضور ہی کی ذات بابرکت مراد ہے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت و سلطنت میں زبردست اور کافر سے انتقام لینے والا نہیں ؟
Ayahs 39:38–39

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے بھروسا رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا

اور اگر آپ کفار سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا تو پھر آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ جن معبودوں یعنی لات و عزی وغیرہ کو تم پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ لات و عزی اس کی دی ہوئی تکلیف و سختی کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں یا اللہ تعالیٰ مجھے عافیت میں رکھنا چاہیے تو کیا یہ تمہارے لات و عزی وغیرہ مجھ سے اس کی دی ہوئی عافیت کو روک سکتے ہیں کہ تم مجھے بھی ان کی پوجا کے لیے کہتے ہو ؟ آپ فرما دیجیے کہ بس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں یا یہ کہ مومنین کے لیے ضروری ہے کہ اسی ذات وحدی لاشریک پر بھروسا کریں۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو، اور مجھے نقصان پہنچانے کی تدابیر کرتے رہو، میں بھی اپنی حالت پر عمل کر رہا ہوں۔ ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب نازل ہوگا جو اسے ذلیل و ہلاک کردے گا اور اس کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہوگا یہ اللہ کی طرف سے کفار کے لیے وعید ہے۔