39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اتارا گیا ہے اس کتاب (حکیم) کو اللہ کی طرف سے جو سب پر غالب نہایت حکمت والا ہے

قرآن حکیم سراسر اتاری ہوئی کتاب : سو " تنزیل " کے لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے۔ پس اس کتاب حکیم میں کسی انسانی کد و کاوش کا کوئی حصہ اور شائبہ تک نہیں۔ اسی لئے یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ مصدر ہے۔ یعنی یہ سراسر اتاری گئی کتاب ہے۔ اور جس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے اس کو اتارا گیا ہے اس کی ایک صفت ہے عزیز۔ جس میں بیک وقت دو عظیم الشان درس ہیں۔ ایک یہ کہ جو کوئی اس کتاب عزیز پر صدق دل سے اور سچا پکا ایمان رکھے گا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنا راہبر و راہنما بنائے گا وہ ایسی سچی عزت اور ناموری سے سرفراز ہوگا جو اس کو دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح سے مشرف کر دے گی۔ اور دوسری عظیم الشان حقیقت جو اس صفت " عزیز " سے عیاں ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ جو کوئی اس کتاب عزیز سے اعراض و روگردانی کرے گا وہ اس عزیز مطلق کی گرفت و پکڑ سے کبھی اور کسی طرح بچ نہیں سکے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسری صفت اس قادر مطلق کی جو یہاں ذکر فرمائی گئی ہے وہ ہے " حکیم "۔ سو اس میں بھی دو عظیم الشان درس ہیں۔ ایک یہ کہ جس نے اس کتاب حکیم کے علوم و معارف کو صدق دل سے اور صحیح طور پر اپنایا اس نے حقیقی معنوں میں حکمت و دانائی کی دولت کو سمیٹ لیا۔ اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ حکمت و دانائی کی دولت سے یقینا محروم ہوا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوسرا درس عظیم جو " حکیم " کی اس صفت جلیلہ سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جو بھی کرتا ہے عین حکمت کے مطابق کرتا ہے۔ اپنے خاص مومن و مطیع بندوں سے بھی اور سرکش و طاغی لوگوں سے بھی۔ پس نہ تو اس کے مومن اور مخلص بندوں کو کبھی مایوس اور شکستہ دل ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کے باغی اور سرکش بندوں کے لئے اس کی ڈھیل اور چھوٹ پر خوش ہونے کا کوئی موقع ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ہر کسی نے اپنے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ بہرحال پاکر رہنا ہے کہ یہ اس حکیم مطلق کی حکمت مطلقہ کا تقاضا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ ﷺ کی طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ (اے پیغمبر ! ) پس تم بندگی کرو اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین کو4

2 قرآن حکیم قول فیصل : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ کی طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ "۔ پس جو کچھ اس میں فرمایا گیا وہ بھی حق و صدق ہے اور جس مقصد عظیم اور غایت کریمہ کے لئے اس کو نازل فرمایا گیا ہے وہ بھی سراسر حق و صدق ہے۔ اور جس خصوصی اور امتیازی شان کے ساتھ اس کو نازل فرمایا گیا ہے وہ بھی سراسر حق ہے۔ سو اس کتاب حکیم کو حق کے لئے اور حق کے ذریعے ہی نازل فرمایا گیا ہے ۔ فالحمدُ لِلّٰہِ ربِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ مبتدعین اور مشرکین نے توحید خداوندی کے عقیدئہ صافیہ کے بارے میں جو اختلافات پیدا کردیئے تھے اس کتاب حکیم نے اپنے قول فیصل کے ذریعے ان سب کا خاتمہ کردیا ہے اور حق کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ سو حق کا کلمہ کریمہ یہاں پر قول فیصل کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ پس یہ کلام حق قطعی طور پر ایک قول فیصل ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اِنَّہُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَمَا ہُوَ بالْہَزْلِ } ۔ (الطارق : 13-14) یعنی " یہ کلام حکیم قطعی طور پر ایک قول فیصل ہے "۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ اور پیغمبر کو خطاب کر کے یہ بات فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ اس قول فیصل اور کلام حق کے ذریعے راہ حق کو پوری طرح واضح کردیا گیا ہے۔ لہذا اب آپ اسی پر چلتے جائیں۔ کوئی اگر آپ کا ساتھ دیتا ہے تو ٹھیک نہیں تو آپ اس کی پروا نہ کریں کہ ایسوں کی آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ وقت آنے پر یہ اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے۔ 3 قول فیصل کا اہم مقتضیٰ کہ عبادت صرف اللہ کی : سو اس قول فیصل کے اصل مقصود اور اہم مقتضیٰ کی تعیین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم اللہ ہی کی بندگی کرو اسی کیلئے خاص کرتے ہوئے دین کو "۔ اس طور پر کہ اس کی عبادت و بندگی میں کسی بھی اور ہستی کے اشتراک کا کوئی شائبہ تک اس میں نہ ہو۔ نہ ارادئہ و نیت میں اور نہ عمل و ادا میں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَالسَّدَاد والثَّبَات ۔ کہ خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جو عبادت کا حقدار ہے وہی اطاعت مطلقہ کا حقدار ہے۔ سو توحید و وحدانیت خداوندی کے عقیدئہ صافیہ کو مشرکین و مبتدعین نے طرح طرح کی شرکیات کے جن شوائب سے آلودہ کردیا تھا۔ اس کتاب حکیم نے اس کو ان سب سے پاک اور صاف کردیا۔ اور ان کے ان تمام اختلافات کا فیصلہ کر کے عقیدئہ توحید کو پوری طرح نکھار دیا۔ پس اب تم عبادت اسی وحدہ لا شریک کی کرو جو کہ معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ اللہ ہی کے لئے ہے دین خالص اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور سرپرست (و کارساز) بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی بندگی و پوجا صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ رسائی کرا دیں ہماری اللہ تک بیشک اللہ ہی فیصلہ فرمائے گا ان کے (اور اہل حق کے) درمیان ان تمام باتوں کا جن میں یہ باہم اختلاف کرتے ہیں بلاشبہ اللہ ہدایت سے سرفراز نہیں فرماتا کسی ایسے شخص کو جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو1

4 اطاعت مطلقہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : " دین " کا لفظ یہاں پر اطاعت کے معنیٰ میں ہے اور اطاعت مطلقہ اللہ ہی کا حق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو کہ اللہ ہی کیلئے ہے دین خالص "۔ کہ معبود برحق بہرحال اور بہر طور وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور عبادت بھی خالص اسی کیلئے ہو اور ایسی خالص کہ اس میں کسی طرح کے شرک کا کوئی شائبہ تک نہ ہو۔ یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم میں سے کسی کے نزدیک بھی عبادت کی کوئی بھی قسم اور اس کی کوئی بھی شکل و صورت اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے جائز نہیں۔ اور اطاعت مطلقہ بھی صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ دوسری کسی بھی ہستی کی اطاعت صرف اسی صورت میں جائز ہوسکتی ہے جبکہ وہ اطاعت خداوندی کے ماتحت ہو ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے اور سب کا خالق ومالک بھی وہی اور سب پر حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے تو اطاعت مطلقہ بھی اسی وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ یہ تو ایک بالکل بےتکی اور نا معقول بات ہے کہ عبادت کا حقدار تو کوئی ہو اور اطاعت کا حقدار کوئی اور بن جائے۔ سو جس طرح عبادت و بندگی اور اس کی ہر قسم اور ہر شکل اللہ ہی کا حق ہے اسی طرح اطاعت مطلقہ بھی اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے خلاف کسی کی بھی اطاعت جائز نہیں ۔ " لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق " ۔ ایک اہم اور بنیادی قاعدہ اور ضابطہ ہے۔ 5 معبودانِ من دون اللہ سے مراد اور اس کا مفہوم ؟ : سو من دون اللہ سے مراد عام ہے خواہ وہ کوئی لکڑی پتھر کے بت ہوں جیسا کہ بت پرست لوگ ان کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ یا کوئی زندہ و مردہ انسان اور حضرات انبیاء اولیائے کرام کی پاکیزہ ہستیاں ہوں جن کی لوگوں نے ان کی مرضی کیخلاف پوجا کی ہو۔ جیسا کہ یہود نے حضرت عزیر کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دے کر ان کو خداوند تعالیٰ کی خدائی میں شریک اور حصے دار قرار دیا۔ اور جیسا کہ اس امت کے کلمہ گو مشرکوں نے اللہ پاک کے مختلف نیک بندوں کو حاجت روا و مشکل کشا مان کر مختلف شکلوں میں کاروبار شرک چلا رکھا ہے۔ سو ۔ { مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ۔ " اللہ کے سوا " ۔ کا عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ اسی لیے حضرات علماء و مفسرین کرام اس کی تفسیر و تشریح میں لکھتے ہیں ۔ " فہو عبارۃ عن کل معبود باطل کالملئکۃ و عیسیٰ (علیہ السلام) والاصنام " ۔ (روح المعانی، جامع البیان، الکبیر اور المراغی وغیرہ) ۔ اور حضرت امام رازی ۔ { ما نعبدھم } ۔ میں ضمیر منصوب کے مرجع کے بارے میں جزم و یقین سے کہتے ہیں کہ اس سے مراد صرف بت نہیں بلکہ اس سے مراد وہ عاقل معبود ہیں جنکی لوگوں نے ان کی تعلیمات کیخلاف پوجا کی۔ جیسے حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر اور ملائکہ کرام وغیرہ۔ اور جن لوگوں نے بتوں کی پوجا کی یا کر رہے ہیں وہ بھی ان کی پوجا محض اس بنا پر اور اس اعتبار سے نہیں کرتے کہ یہ لکڑی پتھر وغیرہ کی بےجان مورتیاں ہیں اور بس۔ نہیں بلکہ وہ ان کی پوجا اپنے اس خودساختہ مشرکانہ فلسفے کی بنا پر کرتے تھے اور کرتے ہیں کہ براہ راست اللہ کی عبادت کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ بلکہ ہم ان وسیلوں اور واسطوں کی پوجا کے ذریعے ہی اس معبود برحق کی عبادت و بندگی کرسکتے ہیں۔ سو یہی مشرکانہ فلسفہ ہمیشہ رہا اور قدیم و جدید سب ہی مشرکوں نے اس کو اپنایا۔ اور اسی کی تردید کیلئے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا گیا۔ (مراغی، ابن کثیر، کبیر، جامع البیان اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ 6 مشرکوں کا ایک قدیم مشرکانہ فلسفہ : سو ان مت کے ماروں اور عقل کے اندھوں اور اوندھوں کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ ہم اپنے ان خودساختہ معبودوں کی پوجا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ اور بعینہ اسی سخن سازی اور فلسفہ طرازی سے آج کا کلمہ گو مشرک بھی کام لیتا ہے۔ اور وہ صاف وصریح طور پر کہتا ہے کہ ہماری اس کی بارگہ تک براہ راست رسائی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر ہم وہاں پہنچ بھی جائیں تو اس کے یہاں ہماری شنوائی نہیں ہوسکتی۔ اور اس کے لئے وہ دنیاوی بادشاہوں اور حکمرانوں کی مثالیں گھڑ گھڑ کے پیش کرتا ہے۔ اور اس بنا پر وہ کہتا ہے کہ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے "۔ " وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ سب مفروضے ان کے اپنے من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔ اور نصوص قرآن و سنت کے خلاف اور ان سے متصادم و متعارض ہیں۔ اللہ پاک اپنی کتاب حکیم میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ " میں اپنے بندوں سے بہت قریب ہوں۔ ان کی دعا و پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتے ہیں " چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور صاف اور صریح طور پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قِرِیْبٌ، اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاع اِذَا دَعَانِ } ۔ (البقرۃ : 156) اور اس نے خود اپنے دین متین کی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے اپنے بندوں کو یہ سکھایا اور بتلایا ہے کہ اپنے رب کو براہ راست اور بغیر کسی واسطہ و وسیلہ کے پکارو۔ اور اسی کے مطابق اس کا ہر بندہ اپنی ہر نماز اور اس کی ہر رکعت میں براہ راست اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں عرض کرتا ہے ۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ " مالک ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے "۔ مگر اس سب کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک اس طرح کے خود ساختہ اور شرکیہ فلسفے بگھارتا اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب و پرچار کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشرکوں کا یہ مشرکانہ فلسفہ ہمیشہ رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ کھلے مشرکوں کا کہنا بھی یہی ہے اور کلمہ گو مشرکوں کا بھی یہی۔ اور جڑ بنیاد اس سارے فتنے کی یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کو اس کی مخلوق پر قیاس کرکے اس کے بارے میں بھی وہی کچھ سوچتے اور کہتے ہیں جو کہ مخلوق کے لائق ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو اس طرح ماننے کی ضرورت ہے جس طرح کہ وہ خود بتائے یا جس طرح اس کے بارے میں اس کے رسول بتائیں اور بس۔ اس کے بغیر اور اس کے خلاف ماننا گمراہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 7 جھوٹ اور ناشکری باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جھوٹوں اور ناشکروں کے لیے نور ہدایت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا کسی جھوٹے ناشکرے کو "۔ سو جھوٹ اور ناشکری محرومی اور بدبختی کا باعث ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر افسوس کہ جھوٹ اور ناشکری کی یہ دونوں بری خصلتیں آج مسلم معاشرے میں عام ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ حالانکہ یہ دونوں معاشرتی امن و سکون اور خیر و برکت کو تباہ کردینے والی دو آفتیں ہیں ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ سو جو لوگ اللہ تعالیٰ کیلئے شریک مانتے ہیں اور اپنی مشرکانہ فلسفہ طرازیوں اور سخن سازیوں سے مخلوق میں سے مختلف ہستیوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ پرلے درجے کے جھوٹے اور مفتری ہیں۔ اور اپنی اسی مشرکانہ افترا پردازی کی بنا پر یہ لوگ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنی انہی خودساختہ ہستیوں اور بناوٹی " سرکاروں " کی طرف منسوب کرتے ہیں اور انہی کے گن گاتے ہیں۔ ان کیلئے نذرانے پیش کرتے، بھینٹ چڑھاتے، انکے نام چبتے انکے آستانوں پر چڑھاوے چڑھاتے، حاضریاں دیتے اور چادریں ڈالتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ قطعی جھوٹ اور نرا افترا ہے۔ جھوٹ و افترا اور کفران نعمت یعنی ناشکری کی یہ دونوں بری خصلتیں ہر مشرک میں بیک وقت اور لازماً پائی جاتی ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ نور حق و ہدایت کی دولت سے کبھی سرفراز نہیں ہوسکتے الا یہ کہ ایسے لوگ ان بری خصلتوں سے سچے دل سے توبہ کرلیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کذب وکفر کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا (اس غرض کے لئے) خود ہی چن لیتا پاک ہے وہ وہی ہے اللہ یکتا انتہائی زبردست

8 اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پاک اور منزہ ہے "۔ سو وہ پاک و منزہ اور اعلیٰ وبالا ہے ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب اور شرکاء سے۔ وہ ایسی تمام نسبتوں اور ضرورتوں سے پاک و منزہ اور اعلیٰ وارفع ہے۔ اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ ہوسکتی ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات پر کنٹرول اور قابو رکھنے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے ان مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی گئی جنہوں نے اپنے مشرکانہ فلسفوں کی بنا پر اس کے لیے طرح طرح کے شریک گھڑ رکھے ہیں اور اپنے انہی من گھڑت اور بےبنیاد واسطوں کو انہوں نے اس کے یہاں تقرب کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اور اپنے طور پر وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں ۔ { وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } ۔ سو ایسے لوگ سخت دھوکے میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے تمام تصورات اور اس طرح کی جملہ نسبتوں سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے (اور تنہا اسی نے) پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو حق کے ساتھ اسی کی ہستی ہے جو رات کو لپیٹ دیتی ہے دن پر اور دن کو رات پر اور اسی نے کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں) کو ان میں سے ہر ایک چلے جا رہا ہے ایک مقررہ مدت تک آگاہ رہو وہی ہے زبردست انتہائی درگزر کرنے والاف 2

9 ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک رواں دواں ہے ایک مقرر مدت تک۔ جب تک کہ اللہ پاک کو منظور ہوگا۔ سو جب ان میں سے کسی بھی کام میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اللہ اس کائنات کو پیدا کرنے کے بعد کہیں اس سے الگ ہو کر بیٹھ گیا اور اسکا انتظام اس نے کچھ دوسری ہستیوں کے سپرد کردیا۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز اسی کے امر و ارشاد کی پابند ہے۔ اور اسکا ایک واضح ثبوت اور جلی مظہر دن رات کا یہ ادلنا بدلنا اور سورج و چاند کے ان دو عظیم الشان کروں کی اس قدر باقاعدگی اور پابندی سے آمدورفت ہے۔ سو وہی وحدہ لاشریک ہے جو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس قدر پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ رات کی سیاہ چادر کو دن کے اجالے پر ڈھانکتا ہے اور پھر دن کی سفید چادر کو رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے پر اڑھا دیتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں کو اس قدر پر حکمت طریقے سے کام میں لگا رکھا ہے جو اس قدر پابندی اور باقاعدگی سے رواں دواں ہیں۔ جس میں انسان کے بیشمار اور عظیم الشان فوائد و منافع ہیں۔ سو یہ دونوں عظیم الشان کرے اس کی تسخیر کے نتیجے میں اور اسی کے حکم وارشاد کے مطابق اپنے اپنے دائرے میں اسی کے مقرر کردہ نظام الاوقات کے مطابق گردش کر رہے ہیں۔ اور اس قدر پابندی و التزام کے ساتھ کہ ایک منٹ سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ اور جب تک اس کو منظور ہوگا یہ ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ 10 مشرکانہ فلسفہ طرازوں کے لیے ایک تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور " الا " کے حرف تنبیہ و تحضیض کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو اور کان کھول کر سن لو کہ وہ بڑا ہی زبردست انتہائی درگزر کرنے والا ہے "۔ اور یہ اس کی شان غفاری ہی کا مظہر ہے کہ اس نے باغی اور سرکش لوگوں کو اس طرح ڈھیل اور چھوٹ دے رکھی ہے ۔ تَبَارَکَ اسْمُہ وَتَعَالٰی جَدُّہ ۔ اور ان دونوں صفتوں کے ذکر سے پہلے " الا " کے حرف تنبیہ سے خبردار کرکے ارشاد فرمایا کہ کان کھول کر سن لو کہ وہ عزیز بھی ہے اور غفار بھی۔ اس لیے نہ تو کوئی اس کے اذن کے بغیر اس کے یہاں رسائی حاصل کرسکتا ہے اور نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکتا ہے۔ نیز جب وہ غفار ہے تو وہ ان لوگوں کی خود بخشش فرمانے والا ہے جو صدق دل سے اس کی بخشش کے طالب ہوں گے۔ اس لیے انکو سفارش ڈھونڈنے اور وسیلے اور واسطے تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سو اس تنبیہی ارشاد سے مشرکانہ فلسفہ طرازوں کو سخت تنبیہ فرما دی گئی کہ نہ تو وہ اپنے مشرکانہ تصور شفاعت پر مست و مگن ہو کر اپنا راستہ کھوٹا کریں کہ اس کے یہاں اس کے اذن کے بغیر نہ کسی کی رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور نہ کسی سفارش کی کوئی مجال و گنجائش ہے۔ اور نہ ہی اس کی مغفرت و بخشش سے سرفرازی کے لیے کسی واسطے اور وسیلے کی کوئی ضرورت ہے۔ بلکہ اس کے لیے اس کے یہاں صدق دل سے رجوع درکار ہے اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 39:6–7

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے پھر اسی نے بنایا اس جان سے اس کا جوڑا اور اسی نے اتارے تمہارے لئے مویشیوں میں سے (نر و مادہ کے) آٹھ جوڑے وہی تمہیں پیدا فرماتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (اس طور پر کہ) وہ تمہیں ایک پر ایک شکل دئیے چلا جاتا ہے تین تاریکیوں میں یہ ہے اللہ رب تم سب کا اسی کی ہے بادشاہی (اور فرمان روائی) کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس کے پھر تم لوگ کہاں (اور کیسے) پھرجاتے ہو راہ حق و صواب سے ؟

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم لوگ کفر کرو گے تو (اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے کہ) بیشک اللہ ہر طرح سے غنی (و بےنیاز) ہے تم سب سے (اے لوگوں ! ) مگر وہ پسند نہیں فرماتا اپنے بندوں کے لئے کفر (کی ظلمتوں) کو اور اگر تم شکر کرو گے تو اس کو وہ پسند فرماتا ہے تمہارے لیے (اور یاد رکھو کہ) کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ نہیں اٹھائے گا کسی دوسرے کا پھر (یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ) اپنے رب ہی کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے تم سب کو تب وہ بتادے گا تم لوگوں کو وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں) بیشک وہ پوری طرح جانتا ہے دلوں بھیدوں کو

11 اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے ۔ اے لوگو !- " جو کہ ایک عظیم الشان مظہر اور ثبوت ہے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا۔ سو اس کی معرفت سے سرفرازی کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم لوگ خود اپنے ہی وجود اور اپنی ہی جانوں میں غور کرلو۔ تو تم اس کی عظمت شان کے آگے جھک جھک جاؤ گے کہ کس عظیم الشان قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے اس نے تم لوگوں کو وجود بخشا اور نیست سے ہست کیا۔ اور اپنی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا اور تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور سوال اور مطالبہ کے بغیر محض اپنے کرم سے نوازا۔ جو کہ اس کا کرم بالائے کرم ہے۔ اور عطا و بخشش کے ان تمام مراحل میں جب اس کا کوئی بھی شریک نہیں اور کسی بھی درجے میں شریک نہیں تو پھر اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں آخر کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔ 12 صفت تزویج میں سامان غور وفکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے لیے اس کے جوڑے کی تخلیق حضرت خالق کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اسی نے اس جان سے اسکا جوڑا بنایا "۔ اور اس پر حکمت طریقی سے بنایا کہ ان میں سے ہر ایک کی تکمیل دوسرے سے وابستہ ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ادھوری اور ناقص ہے ۔ فسبحانَہ من اِلٰہٍ خالق عظیم جلّ وعلا ۔ سو جب خالق تم سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس حقیقت سے خود تم لوگوں کو بھی انکار نہیں تو پھر اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف انسان سے اس کے جوڑے کی تخلیق حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور اس کی رحمت و عنایت بےغایت کا ایک عظیم الشان اور بےمثال نمونہ و مظہر ہے۔ اور ایسا کہ اگر انسان اسی میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے تو اس کے لیے اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور اس میں اس کو اللہ پاک کی توحید و وحدانیت، اس کی عظمت ویکتائی، اس کے کلام حق ترجمان کی صداقت و حقانیت، اس کے رسول برحق کی رسالت کے اثبات اور بعث بعد الموت کے ثبوت و وجود اور قیام قیامت کی ضرورت، اس کے امکان، اس کے وقوع وغیرہ سے متعلق عظیم الشان دلائل مل سکتے ہیں۔ اور ایسے کہ اس کے نتیجے میں وہ اپنے خالق ومالک کے حضور دل و جان سے جھک جھک جائے ۔ { اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْریٰ لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ } ۔ ( ق :37) ۔ 13 مویشیوں میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت : سو انسانی قلب و ضمیر کے لیے دستک اور اس کو جھنجوڑنے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے تمہارے لیے اتارے مویشیوں کے آٹھ جوڑے "۔ یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کہ ان میں سے ہر ایک کے نر و مادہ مل کر کل آٹھ جوڑے ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک چونکہ دوسرے کے لئے " زوج " یعنی جوڑا ہے اس لئے اس کو " زوج " فرمایا گیا ہے۔ اور یہ وہی آٹھ قسمیں ہیں جن کا ذکر سورة انعام کی آیت نمبر 144 میں فرمایا گیا ہے۔ اور ان کے لئے " خلق " یعنی پیدا کرنے کی بجائے " انزال " یعنی اتارنے کا ذکر فرمایا گیا ہے جو کہ ان مویشیوں کے پیدا کرنے اور ان کو بندوں کے لئے مسخر کردینے کے ضمن میں خاص توجہ اور عنایت کا مظہر ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ کتنے کتنے عظیم الشان فائدے انسان ان مویشیوں سے حاصل کرتا ہے اور دن رات حاصل کرتا ہے۔ اور طرح طرح سے اور مسلسل و لگاتار حاصل کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ سے منہ موڑنا اور اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو اس کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرنا اور ان کو شرک و بغاوت میں استعمال کرنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی نمک حرامی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو " انزال " کے اس لفظ سے انسان کو یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ انسان کو جو بھی کچھ ملتا ہے اسی واہب مطلق کی طرف سے ملتا ہے جسکے لازمی نتیجے کے طور پر اس کا شکر اس پر واجب ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس انسان کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی ہے کہ یہ اس اصل منبع فیض کو بھول کر نعمت کے سبب قریب میں ہی اٹک کر اور الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اور اس واہب مطلق اور اس کی عنایات سے غافل ہوجاتا ہے۔ اور اس کے شکر کی بجائے کفران نعمت کے ہاویے میں گر کر دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے جو کہ سب سے بڑا اور حقیقی خسارہ ہے ۔ { ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ حق و حقیقت کے فہم و ادراک اور توفیق شکر سے سرشار و سرفراز رکھے ۔ آمین۔ 14 انسان کے خود اپنے وجود میں سامان غور و فکر : سو انسان کی خود اپنی تخلیق میں دعوت غور و فکر کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک پر ایک شکل دیئے چلا جاتا ہے "۔ یعنی " نْطُفَۃً " سے " عَلَقَۃً " اور " عَلَقَۃ " سے " مُضْغَۃً ‘ " اور اس سے بوٹی اور پھر ہڈیاں بنانا۔ پھر اس کی شکل و صورت بنانا۔ اس کی نک سک درست کرتا۔ اس میں بال کھال بنانا۔ ناک کان آنکھ کا نظام استوار کرنا۔ اس کے پورے جسم میں بال سے باریک رگوں کا ایک جال پھیلا دینا۔ اس میں دل و دماغ جیسی عظیم الشان نعمتوں کو نہایت ہی پر حکمت طریقے سے پیوست کردینا اور اس کو ایک خوبصورت شکل اور کامل انسان کی صورت میں ایک اور ہی قسم کی اور ایک نئی مخلوق بنادینا اس وحدہ لاشریک کی کس قدر عظیم الشان قدرت و حکمت اور بےپایاں رحمت و عنایت کا مظہر ہے ؟ اور یہ سب کچھ اس حیرت انگیز طریق سے پایہ تکمیل کو پہنچانا کہ جس ماں کے پیٹ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے اس کو بھی اس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اور پھر یہ سب کچھ نہایت باریکی اور انتہائی صحت و صفائی کے ساتھ ایک نہیں تین اندھیروں میں تکمیل پذیر ہوتا ہے۔ " مشیمہ " یعنی اس جھلی کا اندھیرا جس کو " غشا وہ " ۔ " ایک عظیم الشان پردہ " اور " وقایۃ " ۔ " ایک عظیم الشان بچاؤ " بھی کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے اوپر رحم مادر کا اندھیرا جس میں اس " مشیمہ " کو رکھا گیا ہوتا ہے۔ اور اس کے اوپر بطن مادر کا اندھیرا جس میں یہ رحم قرار پائے ہوتا ہے۔ سو کس قدر عظیم الشان اور حیرت انگیز قدرت و عنایت ہے یہ اس قادر مطلق جل و علا شانہ کی ؟ اور کس قدر ظالم اور بےانصاف ہے وہ انسان جو اس سب کے باوجود اس ربِّ رحیم و کریم سے منہ موڑتا یا اس کی ان عنایات میں کسی اور کو شریک وسہیم مانتا ہے ۔ { فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ } ۔ وَتَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا ۔ اور اس واہب مطلق کے آگے جھکنے کی بجائے یہ اکڑتا اور یہاں تک کہ طرح طرح سے شرک اور بغاوت کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 15 منکروں اور مشرکوں کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : سو ان عظیم الشان دلائل قدرت و وحدانیت کے باوجود منکروں اور مشرکوں کے اندھے اور اوندھے پن اور ان کے منکرانہ اور مشرکانہ رویے پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ کہاں اور کیسے پھرے جاتے ہو ؟ ۔ راہ حق و صواب سے اے مشرکو اور منکرو ۔ اور تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری جاتی ہے جو اس وحدہ لاشریک کے ساتھ اوروں کو اسکا شریک ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ اس کی ان اور ان قدرتوں، عنایتوں اور رحمتوں میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جس وہاب مطلق کی رحمتوں میں تم لوگ سرتاپا ڈوبے ہوئے ہو وہی تمہارا خالق ومالک اور آقا و مولیٰ ہے۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں اسی کی حکومت و بادشاہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ومالک ہے اور نہ کوئی عبادت و بندگی کے لائق۔ سو اس کے باوجود تم لوگوں نے اس کے شریک آخر کس طرح ٹھہرا رکھے ہیں ؟ آخر تمہاری عقلیں کہاں ماری جاتی ہیں اور تم لوگ کہاں اور کیسے اندھے اور اوندھے ہورہے ہو ؟ ۔ { تُصرفون } ۔ مجہول کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی " تم کہاں پھیرے جاتے ہو "۔ یعنی پتہ نہیں تمہاری باگیں کن کن شیطانوں کے ہاتھوں میں ہیں جو تمہیں اس طرح الٹا پھیر رہے ہیں اور تمہاری عقلوں پر پردہ ڈال کر تم کو راہ حق و صواب سے برگشتہ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ (سب فرضی معبودوں کو بھول کر) اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اسی کی طرف رجوع ہو کر مگر جب وہ اس کو (تکلیف کی بجائے) نواز دیتا ہے اپنی طرف سے کسی نعمت سے تو یہ بھول جاتا ہے اس (مصیبت و تکلیف) کو جس کی طرف وہ اس کو بلا (اور پکار) رہا تھا اس سے پہلے اور (اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ) وہ اللہ کے لئے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (اس طرح) وہ بہکائے اللہ کی راہ سے (دوسروں کو سو ایسوں سے) کہہ دو کہ تم مزے کرلو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑا سا عرصہ بلاشبہ (انجام کار) تم دوزخیوں میں سے ہو1

16 توحید خداوندی فطرت سلیمہ کی پکار : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید خداوندی فطرت سلیمہ کی پکار ہے۔ اس لیے مشرک انسان بھی مصیبت کے وقت اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سو یہ فطرت کی وہ صدا و پکار ہے جو ہر انسان کے اندر قدرت کی طرف سے ودیعت فرمائی گئی ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک نے اپنی فطرت سلیمہ کو اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا ہے کہ وہ سختی اور تکلیف کے ایسے مواقع پر بھی خدائے پاک کی بجائے اس کی عاجز مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے۔ کہیں وہ کہتا ہے " یا علی مدد "۔ کہیں " یا بہاؤ الحق بیڑا دھک "۔ کہیں " معین الدین اجمیری پار لگا دے کشتی میری " اور کہیں " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ نہیں آتا اس کی زبان پر تو " یا اللہ مدد " ہی نہیں آتا۔ حالانکہ اللہ پاک کے ان پیاروں نے خود ساری عمر اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ ہمیشہ اور ہر حال میں مدد امداد کے لئے اللہ ہی کو پکارو۔ اور وہ خود اپنی ہر نماز میں اور ہر نماز کی ہر رکعت میں اسی کے حضور دست بستہ عرض کرتے تھے ۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ مگر ہائے افسوس کہ شیطٰن کے اغواء وتلبیس کے باعث آج انہی پاکیزہ ہستیوں کے نام پر شرک کا کاروبار چلایا جا رہا ہے ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی وَھُوَ المُسْتعان فِیْ کل حِیْنٍ مِّنَ الْاحْیان وبکُلِّ حَالٍ مِّنَ الاحوال ۔ بہرکیف یہ اس تنگ نظر انسان کی مشرکانہ اور ناشکری کی نفسیات کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ مصیبت پر وہ اللہ ہی کو پکارتا ہے لیکن بعد میں اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔ بہرحال توحید خداوندی فطرت سلیمہ کی پکار ہے۔ اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے اور کرتے ہیں انہوں نے دراصل اپنی فطرت کو مسخ کردیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 17 انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ تنگ ظرف انسان کی کوتاہ ظرفی احسان فراموشی اور ناشکری کا ایک مظہر ہے کہ مصیبت میں تو وہ اللہ کو پکارتا ہے مگر بعد میں وہ پھرجاتا ہے۔ سو یہ انسان کے تنگ دل اور تھڑ حوصلہ ہونے کا ایک کھلا مظہر ہے۔ اسی لئے حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ نے اس کو " قتور "، " ہلُوْع " اور " جَزُوْع " فرمایا ہے۔ بہرکیف یہ اس تنگ ظرف اور کوتاہ نظر انسان کی تنگ نظری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو یہ بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس سے اس کی اس تکلیف کو دور کرکے اس کو اپنی کسی نعمت سے نواز دیتا ہے تو یہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے بخشے ہوئے فضل کو اپنے خودساختہ شریکوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے۔ اور اس طرح وہ خود بھی خدا تعالیٰ کی راہ سے منحرف اور برگشتہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے ہٹانے اور محروم کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور اس طرح وہ ضلال اور اضلال کے دونوں جرموں کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ خسارہ در خسارہ میں مبتلا ہوتا ہے مگر اس کو اس کا کوئی شعور و احساس بھی نہیں ہوتا جس سے اس کی محرومی اور بدبختی کی سیاہی اور پکی ہوتی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب اور زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین - 18 شرک کی سنگینی کے ایک اور پہلو کا ذکر : سو اس سے شرک کی سنگینی کے ایک اور پہلو کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ مشرک انسان اللہ کے فضل و کرم سے سرفرازی کے بعد شرک کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ مصیبت میں پھنسے ہوئے ایسے انسان کو جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نواز دیتا ہے تو وہ اپنی اس مصیبت کو بھول جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے فضل و کرم میں وہ اس کے شریک بنانے لگتا ہے۔ چناچہ آج بھی آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آج کا کلمہ گو مشرک جا کر کسی جبے قبے پر نذریں نیازیں دے گا، چڑھاوے چڑھائے گا اور کسی قبر پر دیگیں پکائے گا، مٹھائیاں تقسیم کرے گا۔ اور اس طرح کے کاروبار شرک کو فروغ دینے کے لئے طرح طرح کے جھوٹے قصے سنائے گا اور من گھڑت افسانے گھڑ گھڑ کہ پھیلائے گا کہ اجی یہ سب تو فلاں حضرت کا کرم اور فلاں سرکار کی عنایت ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کیسی ناشکری اور بےانصافی ہے جس کا ارتکاب ایسا تنگ ظرف اور ناشکرا انسان کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 19 مشرک انسان کے ڈبل جرم کا ذکر : کہ وہ ضلال کے ساتھ اضلال کے جرم کا بھی ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسا نا شکرا انسان اللہ کے لیے شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس طرح وہ بہکائے اللہ کی راہ سے ۔ دوسروں کو ۔ " کیونکہ جب دوسرے اس سے سنیں گے کہ ایسی مشکلات اور مصائب و آفات میں کام آنے والی ذات اللہ وحدہ لاشریک کی ذات نہیں بلکہ فلاں فلاں حضرات اور فلاں فلاں سرکاریں اور ہستیاں ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اللہ پاک وحدہ لاشریک کی بجائے انہی خودساختہ سرکاروں اور ہستیوں کی طرف رجوع کریں گے کہ حاجت روا و مشکل کشا تو یہی ہستیاں اور سرکاریں ہیں۔ سب کچھ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ تو پھر اللہ کی طرف جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بس انہی ہستیوں کو خوش کرو۔ انہی کے در پر حاضری دیتے رہو۔ یہی تمہارا سب کام بنادیں گی وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح ایسے ناشکرے اور بےانصاف لوگ ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی محروم کرتے ہیں۔ اور جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 20 کفر و شرک کے فائدے محض چند روزہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و شرک کے فائدے محض چند روزہ ہیں اور اس کے بعد ایسوں کے لیے دوزخ کا ہولناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کفر و شرک کے ان ماروں اور بطن و فرج کے تقاضوں کے ان پجاریوں سے کہو کہ مزے کرلو تم لوگ اپنے کفر کے ساتھ تھوڑا سا عرصہ کہ تم یقینا دوزخیوں میں سے ہو۔ یعنی چند روزہ دنیاوی زندگی کی اس محدود فرصت میں جو آج تم لوگوں کو ملی ہوئی ہے اور جو کہ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے مقابلے میں ایک دو منٹ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی کہ محدود کی لامحدود کے مقابلے میں کوئی نسبت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس میں اپنے کفر و شرک کے ذریعے مزے کرلو تم بہرحال دوزخی ہو۔ اور جب یہ فرصت حیات اس قدر محدود و مختصر ہے تو پھر اس کے مزوں اور عیش پرستیوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ جبکہ وہ آخرت کی ابدی زندگی کو بھول کر کئے جا رہے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسوں سے فرمایا گیا کہ اپنے کفر اور ناشکری کے باوجود تم لوگوں کو اس چند روزہ دنیاوی زندگی میں جو نعمتیں مل رہی ہیں ان سے فائدے اٹھا لو اور عیش کرلو۔ آخرکار تم نے دوزخ کا ایندھن بننا ہے۔ وہاں سب کسر نکل جائے گی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جن بدبختوں کا آخری انجام یہ ہونا ہو ان کا دنیاوی زندگی کے ان چند روزہ فائدوں پر مست ہونا کس قدر خسارے اور سخت خسارے کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 21 کفر و شرک کا انجام بہرحال دوزخ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ چند روزہ زندگی میں عیش کرلو۔ یقینا تم دوزخیوں میں سے ہو۔ سو جن بدبختوں کا انجام یہ ہونا ہے اور انہوں نے دوزخ کی اس ہولناک آگ کا اس طرح ایندھن بننا ہے تو ان کو آج اگر دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا۔ اور ان کی محرومی اور بدنصیبی کا ٹھکانا ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس تنبیہ و تذکیر میں بھی رحمت و عنایت خداوندی کا یہ پہلو ہے کہ اگر تم لوگوں کو اپنے اس ہولناک انجام سے بچنا ہے تو آج اس کی فکر و کوشش کرو کہ آج اسکا موقع موجود ہے کہ کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کی اپنی موجودہ روش ترک کرکے ایمان و اطاعت اور شکر خداوندی کی راہ کو اپناؤ۔ قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے۔ جس کے بعد تمہارے لیے حق و ہدایت کی طرف رجوع کا کوئی موقع باقی نہ رہے اور تم ہمیشہ کے اس خسارے میں مبتلا ہوجاؤ جسکی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت بھی تمہارے لیے ممکن نہ رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا (یہ شخص اور وہ ایک برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) جو فرمانبردار ہو (اپنے رب کا) جو رات کی گھڑیاں (اپنے رب کی رضا کیلئے) سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتا ہو جو آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو (کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) کہو (اتنا تو سوچو کہ) کیا باہم برابر ہوسکتے ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ؟ (نہیں اور ہرگز نہیں) نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں2

22 اللہ والوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے اللہ کے خاص اور مخلص بندوں کا نمونہ اور ان کی بعض خاص صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور عاجزی اور فروتنی کرنے والے، رات کی گھڑیاں اپنے رب کی رضا کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتے، آخرت سے ڈرتے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اس کی رحمت کا سب سے بڑا اور ہر اعتبار سے کامل مظہر اس واہب مطلق کی وہ جنت ہے جو اس نے اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اپنے مومن اور مخلص بندوں کے لئے تیار فرما رکھی ہے اور جس کی عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں کا اس جہان فانی میں تصور بھی ممکن نہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف یہاں پر اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا نمونہ سامنے رکھا گیا ہے اور ان کی بعض خاص صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا کیلئے راتوں کو جاگتے اور کبھی اس کے حضور قیام میں ہوتے ہیں اور کبھی رکوع و سجود کی حالت میں۔ وہ آخرت اور اس کی بازپرس سے ڈرتے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ تو کیا ان صفات اور اس شان کا مالک شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کی زندگی ان صفات سے عاری اور جن کی روش اس روش کے برعکس ہوتی ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر مومن اور کافر باہم برابر کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ان دونوں کے درمیان انکے عمل و کردار کے مطابق فیصلہ ہو اور ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں۔ سو اسی لیے قیامت بپا کی جائے گی کہ اس کے بغیر اس مقصد کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان مخلص اور خاص بندوں کی ان صفات کے ذکر سے ایک طرف تو اللہ والوں کا نمونہ و نقشہ پیش فرما دیا گیا اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں معیار و مدار فلاں ابن فلاں پر نہیں بلکہ وہاں پر معاملہ اوصاف و اخلاق پر ہے کہ کون کیا ہے اور کن اوصاف و خصال کا مالک ہے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 23 دو متضاد نمونے اور ان کے دو متضاد انجام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا علم والے اور علم سے محروم لوگوں کے یہ دونوں نمونے باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟۔ جب نہیں اور یقینا اور ہرگز نہیں تو پھر مومن و کافر، موحد و مشرک اور مطیع و عاصی کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ لازماً دونوں کا انجام مختلف اور یکسر مختلف ہوگا۔ اور اس کا ظہور کامل طور پر اور اپنی آخری شکل میں آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں ہی میں ہو سکے گا جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہے۔ جبکہ یہ دنیا ابتلاء و آزمائش کا دور ہے۔ سو نجات کا دارومدار و انحصار ایمان اور عمل صالح پر ہے نہ کہ شرکیہ شفاعت اور خودساختہ دیویوں، دیوتاؤں اور بناوٹی " سرکاروں " اور خودساختہ " ہستیوں " کی مداخلت وغیرہ پر۔ جیسا کہ مشرک لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے لوگوں کے دو متضاد نمونے پیش فرما دیے گئے جن کے نتیجے اور انجام بھی یقینا مختلف ہوں گے ۔ اللہ ہمیشہ اچھے نمونوں کو اپنانے کی توفیق بخشے اور راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 24 صحیح فہم و ادراک کا مدار عقل سلیم پر : سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں۔ اور جو عقل اس فرق و امتیاز کا ادراک نہیں کرسکتی وہ عقل عقل سلیم نہیں، عقل سقیم ہے۔ اسی لئے یہاں پر " اولوا العقول " نہیں " اولو الالباب " فرمایا گیا ہے جو کہ جمع ہے " لب " کی۔ جو کہ عبارت ہے عقل خالص و نقی سے۔ جو کہ ہویٰ و ہوس اور ہر طرح کے کفر و انکار اور زیغ و ضلال کی کدورات اور ان کے مفاسد و اثرات سے سالم و محفوظ ہوتی ہے۔ سو جن عقلوں کو ہویٰ و ہوس اور زیغ و ضلال کے زنگ کھاجاتے ہیں وہ عقلیں حق اور حقیقت کے صحیح فہم و ادراک سے عاجز اور قاصر ہوجاتی ہیں۔ اور ایسے لوگ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت محضہ کی حضیض مذلت میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور۔ { بل ہم اضل } ۔ کا مصداق بن کر رہ جاتے ہیں کہ اس طرح انکا نور فطرت بھی بالآخر بجھ جاتا ہے اور وہ ۔ { خسر الدنیا والآخرۃ } ۔ کے ہولناک انجام سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عقل سلیم ہی اصل میں معیار فضیلت اور صحیح فہم و ادراک کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور ایسے ہی لوگ حقائق کو ان کے صحیح روپ اور حقیقی رنگ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور وہی صحیح نتائج اخذ کرسکتے ہیں جبکہ عقول سقیمہ والے الٹے اندھے اور اوندھے ہوتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 39:10–11

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو ) میری طرف سے کہ (اے میرے وہ بندوں جو ایمان لائے ہو ڈرتے رہو تم اپنے رب سے جنہوں نے نیکی) اور اچھائی) کی اس دنیا میں ان کے لئے عظیم الشان بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے بیشک صبر کرنے والوں کو پورا دیا جائے گا ان کا اجر بغیر کسی حساب کے

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہو کہ بیشک مجھے بس تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے دین کو

25 ایمان وتقویٰ ہی باعث سرفرازی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ایمان اور تقویٰ و پرہیزگاری ہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ " اتِّقُوا " امر کا صیغہ ہے جو کہ ماخوذ ہے " اتقاء " سے جس کے اصل معنیٰ بچنے کے آتے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ تم ہر اس چیز سے بچو اور اس سے احتراز و اجتناب کی پابندی کرو جو تمہارے رب کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ کا باعث ہو کہ یہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ تم ہمیشہ اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر کرو۔ کہ اس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ پس اس کے تمام اوامرو فرامین کو صدق دل سے بجا لاؤ اور اس کی تمام منہیات سے ہمیشہ بچ کر رہو کہ اسی میں خود تمہارے لئے دارین کی فوز و فلاح ہے۔ سو ایمان اور تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہر لحظہ و لمحہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد میں پیغمبر کو خطاب کر کے ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ میرے ان بندوں کو یہ بات پہنچادو جو ایمان لائے ہیں کہ تم اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ یعنی احمق لوگوں نے تو شرک اور مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی مختلف راہیں نکال کر خداوند قدوس کے عدل و انصاف اور اس کی سزا و جزا کی اصل حقیقت کو بالکل بےمعنیٰ کردیا ہے لیکن تم اپنے رب کے عدل سے برابر ڈرتے رہو اور اس کے تقاضوں کی تعمیل و تکمیل کے لیے نیکی کرتے اور برائی سے بچتے رہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 26 اچھائی کرنے والوں کے لیے عظیم الشان اچھائی کی بشارت و خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اچھائی کی اس دنیا میں ان کیلئے ایک عظیم الشان اچھائی ہے "۔ یعنی جن خوش نصیبوں نے ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز و سرشار ہو کر اپنے باطن کا تزکیہ کرلیا اور نیک اعمال اور پاکیزہ اخلاق کی کمائی کے ذریعے اپنے آپ کو ایک پاکیزہ انسان بنا لیا ان کو دنیا کے اس دار فانی میں بھی اچھائی اور بھلائی نصیب ہوگی کہ وہ حیات طیبہ کی نعمت سے بہرہ ور و سرفراز ہوں گے اور آخرت میں ان کو نعیم جنت سے سرفرازی کی سدا بہار اور حقیقی کامیابی نصیب ہوگی۔ اور وہ اپنے رب کی رضا کی دولت سے مالا مال ہوں گے جو کہ سب سے بڑی دولت ہے ۔ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ ۔ اللہ اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں بھی نصیب فرما دے ۔ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزَُّالاَکْرَمُ ۔ سو اچھائی کا بدلہ بہرحال اچھا ہی ہے اور اچھائی کی اصل اساس اور بنیاد یہ ہے کہ انسان اپنے اس خالق ومالک کو یاد رکھے اور اسکا بندہ بن کر رہے جس نے اس کو وجود بخشا اور جسکی رحمتوں اور عنایتوں میں وہ سرتاپا ڈوبا ہوا ہے کہ اس پر سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق اسی وحدہ لاشریک کا عائد ہوتا ہے۔ سو سب سے پہلے وہ اسی خالق ومالک کے حقِّ بندگی کی ادائیگی کی فکر و کوشش کرے۔ اور اس کے بعد اس کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے۔ سو اس احسان اور بھلائی کے نتیجے میں ایسے انسان کو ایسی عظیم الشان بھلائی نصیب ہوگی جو اس پر دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی سایہ فگن رہے گی اور اس کے بدلے میں وہ آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی وہاں کی نعیم مقیم سے سرفراز و بہرہ ور ہوگا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم بنیادی حقیقت سے آگاہ فرما دیا گیا کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو نیکی اور بھلائی کے ساتھ گزارا ہوگا ان کے لیے بڑا اچھا اور عمدہ بدلہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اس کے برعکس جنہوں نے جھوٹی شفاعتوں کے بل پر جنت الحمقاء میں زندگی گزاری ہوگی وہ اپنی اس حماقت کا نتیجہ وانجام خود دیکھ لیں گے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 27 دین و ایمان کی حفاظت سب پر مقدم : اس لیے جہاں دین و ایمان محفوظ نہ ہو اس کو چھوڑ کر انسان کہیں اور چلا جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے "۔ پس اگر کسی ایک شہر یا ملک میں تمہیں اپنا دین و ایمان خطرے میں نظر آئے اور تم اپنے رب کی عبادت و بندگی کا فریضہ بھی حسب منشا بجا نہ لا سکو تو اس شہر اور ملک کو چھوڑ کر تم کسی اور ایسی جگہ جا بسو جہاں تمہیں اپنے دین و ایمان کی سلامتی بھی میسر ہو اور اپنے رب کی عبادت و بندگی بجا لانے کی آزادی بھی کہ اصل چیز تو دین و ایمان کی سلامتی اور اپنے رب کی عبادت و بندگی کی سعادت ہی ہے۔ اس لئے اس کی حفاظت سب سے اہم اور ہر شی پر مقدم ہے۔ اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 28 صبر والوں کے لیے اجر بےحساب کی بشارت : سو اس سے صبر والوں کے لیے عظیم الشان اور بےحد وحساب اجرو ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " صبر کرنے والوں کیلئے بےحساب اجر وثواب ہے "۔ پس ایمان والوں کو چاہیئے کہ وہ راہ حق میں پیش آنے والے مصائب و مشکلات سے نہ کبھی دل برداشتہ ہوں اور نہ کبھی ہمت ہاریں کہ ان کو ایسا بےحساب اجر وثواب ملنے والا ہے۔ پس وہ باطل اور اہل باطل کا مقابلہ کریں اور یقین رکھیں کہ ان کے لئے ناکامی کی کوئی صورت ہے ہی نہیں۔ سو راہ حق پر چلنا اگرچہ بڑا کٹھن اور صبر آزما ہے لیکن اس پر صبر و ثبات سے کام لینے پر اجر بھی بےحساب ملتا ہے۔ یعنی ان خوش نصیبوں کو حضرت واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کی طرف سے جو اجر وثواب ملے گا وہ ان کی توقعات اور ان کے اندازوں اور ان کے گمان و قیاس سے کہیں بڑھ کر ملے گا۔ اور اتنا اور اس قدر کہ آج یہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

نیز مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار بنوں1

29 مخالفوں سے بےنیازی اور لا تعلقی کا اعلان : سو مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بےنیازی اور لا تعلقی کا اعلان ہے۔ سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب ان لوگوں کی نازبرداری کی ضرورت نہیں۔ اس لیے ان کو صاف طور پر بتادو کہ مجھے تو بہرحال یہی حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں۔ اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ نیز مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلا فرمانبردار بنوں۔ تاکہ جس کی دعوت میں دوسروں کو دوں اس پر عمل کا نمونہ سب سے پہلے میں خود اپنی ذات سے پیش کروں اور دوسرے میرے اس عملی نمونے کو اپنا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں کہ حق و صداقت اور رشد و ہدایت کی راہ اب بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ سو پیغمبر کے فرض منصبی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جس دین ایمان کی دعوت وہ خلق کو دیتا ہے اس کو سب سے پہلے قبول کرنے والا بنتا ہے اور وہ اول المومنین اور اول المسلمین ہوتا ہے۔ سو میرا کام اور میرا اعلان تو بہرحال یہی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ دوسرے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہو میں تو سخت ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے

30 معصیت و نافرمانی سے تخویف وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ مجھے اپنے رب کی معصیت و نافرمانی پر ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے "۔ کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے۔ سو اگر مجھے بھی اس کا اس قدر خدشہ ہے تو پھر دوسروں کو سوچنا اور غور کرنا چاہیئے کہ ان کو اس بارے میں کس قدر ڈرنے اور خوف و خدشہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ میں تو اپنے رب کے حکم کی نافرمانی بہرحال نہیں کرسکتا کیونکہ میں اگر ایسے کروں تو مجھے اس کے عذاب کا سخت ڈر ہے۔ اور یہی حکم تمہارے لیے بھی ہے۔ اب تم جو چاہو کرو۔ تمہیں اس کی آزادی اور اختیار ہے۔ نہ میں تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا ہوں اور نہ میں تمہارے ایمان اور ہدایت کا ذمہ دار ہوں کہ میرا کام اور میری اصل ذمہ داری پیغام حق و ہدایت کو پہنچا دینا ہے اور بس۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہو کہ (میں تو بہرحال) اللہ ہی کی عبادت (و بندگی) کرتا رہوں گا اسی کے لئے خالص کر کے اپنے دین کو

31 عبادت اور اطاعت مطلقہ اللہ ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے مزید کہو کہ میں تو بہرحال اللہ ہی کی بندگی کرتا رہوں گا "۔ کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی کا حق ہے۔ سو میں اپنے دین اور اپنی اطاعت کو اللہ ہی کیلئے خالص کرکے اسی کی بندگی کرتا ہوں اور کرتا رہونگا۔ اور یہی دعوت تمہارے لیے بھی ہے۔ سو عبادت و بندگی بھی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے اور اطاعت مطلقہ بھی اسی کا حق ہے کہ اطاعت مطلقہ بھی عبادت و بندگی ہی ہے۔ پس یہ سب اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔