Ayah 39:1تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم یہ نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب ‘ حکمت والے کی طرف سے۔
تنزیل الکتابکا مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی یہ تنزیل الکتاب ہے ‘ یا تنزیل الکتابخود مبتداء ہے اور اس کی خبر من اللہ ہے۔ تَنْزِیْل (مصدر بمعنی اسم مفعول) یعنی نازل کی ہوئی۔ الْعَزِیْز اپنی حکومت میں (سب مخلوق پر) غالب۔ الْحَکِیْم اپنی صناعی میں حکمت والا۔ الْکِتٰب سے مراد یا صرف یہی سورت ہے یا قرآن مجید۔
Ayah 39:2انا انزلنا الیک الکتب بالحق یعنی ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے۔
بِالْحَقِّیعنی حامل حق کتاب ‘ یا ب سببیہ ہے یعنی حق کو ثابت کرنے ‘ ظاہر کرنے اور تفصیل سے بیان کرنے کیلئے یہ کتاب ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے۔
بظاہر یہ جملہ (مفہوم کے لحاظ سے پہلے جملے کی تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ) تکرار نہیں ہے ‘ اول جملہ میں تنزیل الکتاب تو عنوان کے طور پر فرمایا تھا اور اس جملہ میں اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبِ اس مضمون کو بیان کرنے کیلئے فرمایا۔
فاعبدوا اللہ مخلصا لہ الدین سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔
مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ یعنی شرک اور ریاء سے دین کو خالص رکھتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں۔
Ayah 39:3الا اللہ الدین الخالص سنو ! اطاعت جو شرک سے خالص ہو ‘ اللہ ہی کیلئے سزاوار ہے۔
لِلّٰہِ کو الدِّیْن سے پہلے ذکر کرنے سے خالص عبادت کی اللہ کے ساتھ خصوصیت پختہ ہوگئی اور چونکہ اللہ کے ساتھ عبادت خالصہ کے اختصاص کی دلائل وبراہین اتنی زیادہ اور ظاہر ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں ‘ اسلئے یہ مسئلہ گویا تسلیم شدہ ہے ‘ اسی بناء پر کلام کو کسی حرف تاکید سے مؤکد نہیں کیا گیا (مؤکد کلام تو اس موقعہ پر بولا جاتا ہے جب مخاطب کو انکار یا کم سے کم اس کلام میں شبہ ہو۔ کافروں کو خلوص دین کا انکار تو اس جگہ بھی تھا ‘ لیکن ان کا انکار بداہۃً اتنا غلط تھا کہ اس کا اعتبار ہی نہیں کیا گیا اور یہ مان لیا گیا کہ گویا ان کا اس کلام کی صداقت میں انکار تو کیا شبہ بھی نہیں ہے۔ مترجم)
والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی پوجا بس اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں۔
الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا سے مراد کفار ہیں۔ یہ پورا جملہ مبتداء ہے ‘ اس کی خبر انّ اللہ یحکم الخ ہے۔
مَا نَعْبُدُھُمْاور وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا صرف اسلئے کرتے ہیں۔ یہاں لفظ قالوا محذوف ہے (جس کا عطف اتّخذوا پر ہے۔ یہ قول ترجمہ کے مطابق ہوگا ‘ لیکن حضرت مفسر نے فرمایا کہ) قالواجو محذوف ہے ‘ وہ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْاسے بدل ہے ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا : اور جن لوگوں نے دوسروں کو اللہ کا ساجھی بنا رکھا ہے ‘ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا محض قرب خدا حاصل کرنے کیلئے کرتے ہیں۔
زُلْفٰی یہ مصدر ہے بمعنی قرب۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ اسم ہے جس کو مصدر کی جگہ استعمال کیا گیا ہے (یعنی لیقربونا کا مفعول مطلق ہے) ۔
ان اللہ یحکم بینھم فی ماھم فیہ یختلفون تو ان کے (اور ان کے مقابل اہل ایمان کے) باہمی اختلافات کا (قیامت کے روز) اللہ فیصلہ کر دے گا۔
بَیْنَھُمْ یعنی ان کے اور مسلمانوں کے باہم دینی اختلافات کا فیصلہ (قیامت کے روز) اللہ کرے گا (فیصلہ سے مراد ہے عملی فیصلۂ جزا و سزا) یعنی حق پرستوں کو جنت میں اور باطل پرستوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔
ھُمْضمیر کافروں اور ان کے مقابل مؤمنوں کے مجموعہ کی طرف راجع ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الَّذِیْنَ سے مراد ہوں باطل معبود ‘ ملائکہ ‘ حضرت عیسیٰ اور بت اور اتخذوا کے بعد ھم ضمیر مفعول محذوف ہو ‘ یعنی وہ باطل معبود جن کو ان لوگوں نے کارساز بنا رکھا ہے۔
جویبر کی روایت ہے کہ اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا نزول تین قبائل کے متعلق ہوا : بنی عامر ‘ بنی کنانہ اور بنی سلمہ۔ یہ قبائل بتوں کی پوجا کرتے تھے اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے اور کہتے تھے کہ ہم ان کی پوجا صرف اسلئے کرتی ہیں کہ ان کے ذریعے سے ہم خدا کے مقرب ہوجائیں۔
ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار یہ بات یقینی ہے کہ اللہ ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتا جو (قولاً ) جھوٹا اور (اعتقاداً ) کافر ہو۔
مِنْ ھُوَ کَاذِبٌ یعنی اللہ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے اور بتوں کو بارگاہ الٰہی میں اپنا سفارشی کہتا ہے۔
کَفَّار ناشکرا ‘ اللہ کا نعمتوں کا منکر۔ جب دوسروں کو اللہ کا شریک بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا منکر ہوا۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ایسے جھوٹے کافروں کو نہ ہدایت والا بنانا چاہا ‘ نہ وہ چاہتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو یہ جھوٹے کافر نہ جھوٹی بات کہتے ‘ نہ کفر کا عقیدہ رکھتے۔ یہ پورا جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 39:4لو اراد اللہ ان یتخذ ولدا لا صطفے مما یخلق ما یشاء سبحنہ ھو اللہ الواحد القھار اگر
(بالفرض) اللہ کسی کو اپنی اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو ضرور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ‘ منتخب فرماتا (مگر) وہ پاک ہے۔ وہ ایسا اللہ ہے جو واحد ہے ‘ زبردست ہے۔
یعنی اللہ اگر اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا ‘ کیونکہ جو چیز موجود ہے وہ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ دو واجبوں کا وجود محال ہے ‘ یہ بات دلائل سے ثابت ہے اور ہر موجود کا موجد وہی ہے ‘ ساری مخلوق اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور مخلوق خالق کی مثل نہیں ہوسکتی کہ خالق کی اولاد کے قائم مقام ہو سکے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنی مخلوق بنانا چاہتا تو اس کو اولاد بناتا جو اپنی مشیت کے مطابق تخلیق کرسکتی اور اللہ کے سوا کسی اور کا خالق ہونا ناممکن ہے ‘ اللہ متعدد نہیں ہوسکتے۔ اس صورت میں یہ آیت نفی ارادۂ ولد کی دلیل ہوجائے گی۔
سُبْحَانَہٗ یعنی اللہ اس بات سے پاک ہے کہ کوئی اس کی اولاد ہو۔
ھُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ یعنی الوہیت تو وجوب پر منبی ہے (جب کوئی دوسرا واجب نہیں ‘ ہر موجود مخلوق ہے اور ہر مخلوق ممکن ہے) تو اِلٰہ اپنی ذات وصفات میں واحد ہو ‘ نہ اس کا کوئی مثل ہو نہ شریک ‘ اور جب اس کی مثل کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا تو اس کی اولاد ہونا کس طرح ممکن ہے۔ اولاد تو باپ کے بعض اجزاء سے بنتی ہے ‘ اسلئے اپنے والد کی ہم جنس ہوتی ہے۔
الْقَھَّارُسب سے زبردست ‘ سب پر غالب ‘ ہمہ گیر قہاریت شرکت کی نفی کرتی ہے۔ اولاد کی حاجت تو اس کو ہوتی ہے جو روبہ زوال ہو اور اللہ قہار مطلق ہے ‘ ممکن الزوال نہیں ہے۔
Ayah 39:5خلق السموت والارض بالحق اسی نے آسمان و زمین برحق پیدا کئے۔ یعنی ان کو بیکار نہیں پیدا کیا ‘ بلکہ صناع
کے وجود پر دلیل بنا کر پیدا کیا (ان کی تخلیق وجود خالق کو ثابت کرتی ہے) ۔
یکور اللیل علی النھار ویکور النھار علی اللیل وہ رات (کی تاریکی) کو دن پر لپیٹ دیتا ہے (کہ دن
کی روشنی چھپ جاتی ہے) اور دن (کی روشنی) کو رات (کی تاریکی) پر لپیٹ دیتا ہے (کہ تاریکی دور ہوجاتی ہے) ۔
یعنی لباس کی طرح ہر ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیتا ہے ‘ یا ایک کو دوسرے کی وجہ سے چھپا دیتا ہے جیسے لفافہ اپنے اندر رکھی ہوئی چیز کو چھپا لیتا ہے۔
یا عمامہ کے پیچوں کی طرح مسلسل ایک کو دوسرے کے بعد اور اس کے اوپر لاتا رہتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ رات کو دن کے پیچھے اور دن کو رات کے پیچھے لاتا رہتا ہے۔ حسن و کلبی نے لپیٹنے کا یہ معنی بیان کیا کہ رات کو کم کرتا ہے ‘ دن کو بڑھاتا ہے اور دن کو کم کرتا اور رات کو بڑھاتا ہے۔
وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی الا ھو العزیز الغفار اور اسی نے سورج اور چاند
کو (ان کے) کام پر لگا رکھا ہے (ان میں سے) ہر ایک وقت مقرر (قیامت) تک چلتا رہے گا۔ یاد رکھو ! وہی زبردست ہے (اور) بڑا بخشنے والا بھی ہے۔
کُلٌّیَّجْرِیْ یعنی سورج اور چاند اپنے اپنے دائرہ میں چلتے رہیں گے۔
الْعَزِیْزُ سب پر غالب اور ہر چیز پر قادر۔
الْغَفَّار وہی بڑا بخشنے والا بھی ہے کہ نہ فوری سزا دیتا ہے ‘ نہ دنیوی نعمتیں سلب کرلیتا ہے کہ رحمت اور منفعت سے محروم کر دے۔
Ayah 39:6خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا اسی نے تم کو تن واحد سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔
نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ یعنی حضرت آدم جن کو اللہ نے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔
ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا عالم زیریں کی ایجاد کو پیش کر کے توحید کی یہ دوسری دلیل بیان فرمائی۔
(ظاہر ہے کہ نسل انسانی کی پیدائش کے بعد حضرت حواء کو آدم کا جوڑا نہیں بنایا گیا اور اس جملہ میں لفظ ثمّ اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ حضرت آدم سے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد حواء کو جوڑا بنایا گیا اور یہ واقعہ کے خلاف ہے ‘ اسلئے حضرت مفسر نے فرمایا :)
نمبر 1: لفظ ثم کا عطف فعل محذوف پر ہے (خلقکم پر نہیں ہے) یعنی اللہ نے نفس واحدہ کو پیدا کیا ‘ اسی سے اس کے جوڑے کو بنایا۔
نمبر 2: یا واحدۃٍ کے معنی پر عطف ہے ‘ یعنی ایک نفس کو پہلے اکیلا بنایا گیا پھر اس کا جوڑا بنا دیا اور دونوں سے تم لوگوں کو پیدا کردیا۔
نمبر 3: یا خلقکم پر ہی عطف ہے (لیکن اس سے تأخر زمانہ مراد نہیں بلکہ) ثم ذکر کرنے سے مراد ہے دونوں آیتوں کے تفاوت کا اظہار۔ پہلی آیت میں تو عام ضابطہ بتایا گیا اور دوسری آیت میں دوسری قسم کی تخلیق کو ظاہر کیا گیا۔
بعض علماء کے نزدیک خلقکم من نفس واحدۃ کا یہ مطلب ہے کہ روز میثاق میں تم سب کو آدم کی پشت سے برآمد کیا ‘ پھر اسی ایک نفس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا۔
وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج اور تمہارے نفع کیلئے آٹھ نر و مادہ (چار نر ‘ چار مادہ) چوپایوں کے پیدا کئے۔
اَنْزَلَ یعنی تمہارے نفع کیلئے چوپائے پیدا کرنے کا حکم دے دیا۔ اللہ کا فیصلہ اور حکم جو لوح محفوظ سے منتقل ہو کر جاری ہوتا ہے ‘ اس کو آسمان سے اتارنا کہہ دیا جاتا ہے (کیونکہ لوح محفوظ سے وہ حکم اترتا ہے) یا یہ مطلب ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ‘ جو آسمان اور عالم بالا سے نیچے آتے ہیں جیسے ستاروں کی شعاعیں ‘ بارش۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم کے ساتھ اللہ نے جنت کے اندر چوپائے بھی پیدا کر دئیے تھے ‘ پھر آپ ہی کے ساتھ ان کو نیچے اتارا۔
ثمٰنیۃ ازواج آٹھ نر و مادہ (ملا کر) اونٹ اونٹنی ‘ گائے بیل ‘ بھیڑا بھیڑی ‘ بکرا بکری۔
یخلقکم فی بطون امھتکم خلاق من بعد خلاق فی ظلمت ثلث تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک
کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے ‘ تین تاریکیوں میں۔
یَخْلُقُکُمْ یعنی انسانوں کو اور چوپاؤں کو ‘ تم سب کو۔ خطاب میں عقل والوں کو بےعقلوں پر ترجیح دی (مگر مراد دونوں ہیں) ۔
خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍیعنی پہلے نطفہ بنایا ‘ پھر بستہ خون ‘ پھر لوتھڑا ‘ پھر ہڈیاں بنائیں ‘ پھر ان پر گوشت کا لباس پہنایا ‘ پھر روح پھونکی۔
فِیْ ظُلَمٰتٍ ثَلٰثٍ ایک پیٹ کی تاریکی ‘ دوسری رحم کی تاریکی ‘ تیسری جھلی کی تاریکی۔ یا پشت کی تاریکی ‘ دوسری رحم کی تاریکی اور تیسری پیٹ کی تاریکی۔ یا پشت کی تاریکی اور پھر مٹی یا رحم مادر میں بھی تین طبقے ہیں۔
ذلکم اللہ ربکم لہ الملک لا الا الا ھو فانی تصرفون یہ ہے معبود برحق تمہارا رب ‘ اسی کی سلطنت
ہے ‘ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ‘ سو (ان دلائل کے بعد) تم کہاں (حق سے) پھرے جا رہے ہو۔
ذٰلِکُمْ یعنی یہ تمام کام کرنے والا اللہ ہے ‘ تمہارا رب ہے۔ ذلکم مبتداء ہے ‘ اللہ پہلی خبر ہے ‘ ربّکم دوسری خبر ‘ لَہُ الْمُلْکُ تیسری خبر ‘ لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَیعنی کوئی مخلوق چونکہ ان افعال میں اس کی شریک اور حصہ دار نہیں ‘ اسلئے عبادت کے لائق بھی اس کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَاس میں فسببی ہے اور استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ اس واضح و مکمل بیان کے بعد تم راہ حق سے پھرے جا رہے ہو اور اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف اپنا رخ کر رہے ہو۔
Ayah 39:7ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں۔ غَنِیٌّ عَنْکُمْ یعنی اللہ تم سے اور تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے ‘ وہ تمہارا اور تمہارے ایمان کا حاجتمند نہیں۔ اِنْ تَکْفُرُوْا کی جزا محذوف ہے ‘ فَاِنَّ اللّٰہَ غنِیٌّ عَنْکُمْ محذوف جزاء کے قائم مقام ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اگر تم کفر کرو گے تو کفر کا وبال تم پر ہی پڑے گا ‘ اللہ پر نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ تو تمہارا حاجتمند نہیں ‘ نہ تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو ‘ کفر سے تمہارا ہی ضرر ہوگا اور ایمان سے تمہارا ہی نفع ہوگا۔
ولا یرضی لعبادہ الکفر اور وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔
یعنی اس کو کفر پسند نہیں ‘ اگرچہ کفر و ایمان سب اسی کے ارادے (اور مشیت) سے ہوتا ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : مَنْ یُّرِد اللّٰہ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا 5 اللہ جس کو ہدایت یاب کرنا چاہتا ہے ‘ اس کا سینہ اسلام کیلئے کھول دیتا ہے (کشادہ دلی سے وہ اسلام کو قبول کرلیتا ہے) اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے سینہ کو تنگ ‘ بھچا ہوا کردیتا ہے (کہ اسلام اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوتا) علماء اسلاف کا یہی قول ہے ‘ تمام اہل سنت و جماعت کا اس پر اجماع ہے ‘ معتزلہ کا قول اس کے خلاف ہے (معتزلہ کہتے ہیں کہ معاصی اور کفر اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتے ‘ ان کے نزدیک حکم اور مشیت کا ایک ہی مفہوم ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور سدی نے اس آیت کا یہ معنی بیان کیا کہ اللہ اپنے مؤمن بندوں کیلئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بندے وہی ہیں جن کے متعلق اللہ نے (ابلیس سے) فرما دیا تھا : اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ اس تفسیر پر رضاء کو بمعنی ارادہ مجازاً اس جگہ قرار دیا جائے گا ‘ ورنہ حق بات یہ ہے کہ نہ رضا اور ارادہ ہم معنی لفظ ہیں ‘ نہ ارادہ کیلئے رضا ضروری ہے۔ ارادہ کا تعلق تو خیر و شر دونوں سے ہوتا ہے۔ اللہ نے جو چاہا وہ ہوا ‘ جو نہ چاہا نہیں ہوا۔ اللہ کا ارادہ جس چیز سے متعلق ہوگیا اس کا ہونا ضروری ہے ‘ نہ ہونا محال ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اذآا اَرَدْنٰہُ اَنْ تَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔
وان تشکروا یرضہ لکم اور اگر تم شکر کرو گے تو اللہ اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔
اِنْ تَشْکُرُوْا یعنی اپنے رب پر اگر تم ایمان لاؤ گے اور اس کی فرمانبرداری کرو گے تو وہ تم کو اس کا ثواب دے گا۔ رضا کیلئے ثواب دینا لازم ہے ‘ اسلئے رضا کا ترجمہ بعض علماء نے ثواب کیا ہے۔
ولا تزروا زرۃ وزر اخری اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا۔
اس میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ وبال کفر تم پر ہی پڑے گا ‘ کسی اور پر نہیں پڑے گا۔ تمہارے کافر رہنے سے رسول اللہ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں ‘ وہ تو تمہارے ہی فائدے کیلئے تم کو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔
ثم الی ربکم مرجعکم فینبئکم بما کنتم تعلمون پھر اپنے پروردگار کے پاس تم کو لوٹ کر جانا ہوگا ‘ پس وہ
تم کو تمہارے سب اعمال جتلا دے گا۔ یعنی جزا و سزا دے گا۔
انہ علیم بذات الصدور بلاشبہ وہ دلوں تک کی باتیں جاننے والا ہے۔ لہٰذا تمہاری نیتوں کے مطابق تمہارے اعمال
کا بدلہ دے گا (ثواب یا عذاب) ۔
Ayah 39:8واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ما کان یدعو الیہ من
قبل اور (کافر) آدمی کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کو اسکی طرف (دل سے) رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے ‘ پھر جب اللہ اپنی طرف سے اس کو نعمت (امن ‘ آسائش ‘ سکھ) عطا فرما دیتا ہے تو جس (دکھ کو دور کرنے) کیلئے پہلے وہ اللہ کو پکار رہا تھا ‘ اس کو بھول جاتا ہے۔
مُنِیْبًا رجوع کرنے والا ‘ فریاد کرنے والا۔
اِذَا خَوَّلَہٗ جب اللہ اس کو نعمت دے دیتا ہے ‘ یا صاحب حشمت اور خادموں والا بنا دیتا ہے۔
خَوَّل خدمتی لوگ۔ رسول اللہ ﷺ نے غلاموں کے بارے میں فرمایا تھا : یہ تمہارے بھائی ہیں ‘ تمہارے خدمت گذار ہیں ‘ اللہ نے ان کو تمہارے ہاتھ کے نیچے کردیا ہے۔
خَوَّلَہٗکا معنی ہے خبر گیری رکھنا ‘ نگرانی کرنا۔ ایک حدیث میں آیا ہے : رسول اللہ ﷺ وعظ کے ذریعے سے (یعنی وعظ فرما کر) ہماری دیکھ بھال رکھتے تھے۔
عرب کہتے ہیں : فلاں خائل مال ہے ‘ فلاں شخص مال کی دیکھ بھال رکھنے والا ہے ‘ یعنی مال کا انتظام ٹھیک رکھتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے ‘ کذا فی النہایۃ والقاموس۔
مَا کَانَ یَدْعُوْ اِلَیْہِ یعنی جس دکھ کو دور کرنے کیلئے وہ اللہ کو پکارتا تھا ‘ اس کو بھول جاتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے جس کے سامنے وہ پہلے گڑگڑاتا تھا۔ اس مطلب پر ما کان میں لفظ ما (جو بےعقل چیزوں کیلئے مستعمل ہے) بمعنی مَنْکے ہوگا (جو اصحاب عقل کیلئے مستعمل ہے) ایک آیت میں آیا ہے : وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی۔
وجعل اللہ اندادا لیضل عن سبیلہ اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ سے بھٹکا دے۔
یعنی دین اسلام سے گمراہ کر دے۔ چونکہ شریک قرار دینے کا لازمی نتیجہ خود گمراہ ہوجانا اور دوسروں کو گمراہ کردینا ہی ہوتا ہے کہ گمراہ کرنا گویا علت غائی اور اصل مقصد ہوجاتا ہے۔ ایک اور آیت میں بھی یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے ‘ فرمایا ہے : فالتقطہٗ اٰل فرعون لیکون لھم عدوًا وحزنًا حضرت موسیٰ کو فرعون والوں نے اٹھا لیا تاکہ حضرت موسیٰ ان کے دشمن اور باعث غم ہوجائیں۔
قل تمتع بکفرک قلیلا انک من اصحب النار (اے محمد ﷺ ! آپ اس کافر سے) کہہ
دیجئے کہ کچھ مدت اپنے کفر کے مزے اڑاتا رہ (آخرکار) تو دوزخیوں میں سے ہوگا ‘ اس میں کوئی شک نہیں۔
کچھ مدت مزے اڑانے سے مراد ہے ‘ دنیا میں مرنے کے وقت تک مزے اڑانا۔
یہ امر تمہیدی ہے جو آخرت میں کافروں کیلئے تمتع سے مایوسی آفریں ہے۔ بعض اہل روایت کا بیان ہے کہ اس آیت میں عیینہ بن ربیعہ کو خطاب کیا گیا ہے۔
مقاتل نے کہا : ابو حذیفہ بن مغیرہ مخزومی کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔
Ayah 39:9امن ھو قان اناء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجو رحمۃ ربہ بھلا جو شخص اوقات شب
میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کر رہا ہو ‘ آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہو۔
قَانِتٌ مقررہ عبادت کو پورا ادا کرنے والا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : قنوت سے مراد ہے تلاوت قرآن اور طول قیام۔
اَمَّنْ میں اَمْ منقطعہ ہے ‘ یعنی کیا سرگرمی سے عبادت میں مشغول رہنے والا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ شریک قرار دے رکھے ہیں ؟ یا اَمْ متصلہ ہے اور کچھ عبارت (حسب قرینہ) محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا وہ شخص جس نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا نہیں کرتا ‘ بہتر ہے یا شب بیدار عبادت گذار بہتر ہے ؟
اٰنَآءَ الَّیْلِ ساعات لیل ‘ اوقات شب۔
سَاجِدًا وَّقَآءِمًا یعنی نماز کی حالت میں۔ سجدہ اور قیام سے مراد ہے نماز کے اندر سجدہ اور قیام۔
یَحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ یعنی اپنے اعمال کی کوتاہی پر نظر کرتا ہے تو عذاب آخرت سے ڈرتا ہے اور (اگر اس کے اعمال اچھے بھی ہیں تب بھی) اعمال ہی پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ ڈرتا بھی ہے اور امید بھی رکھتا ہے ‘ نہ تنہا خوف اس پر اتنا غالب ہوتا ہے کہ اپنے رب سے ناامید ہوجائے ‘ کیونکہ لاَ یَایْءَسُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ الاَّ الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ اللہ کی رحمت سے ناامید تو صر فکافر لوگ ہوتے ہیں۔ نہ صرف امید پر ہی جیتا ہے کہ اللہ کے عذاب سے بےخوف اور مطمئن ہوجائے ‘ کیونکہ لاَ یَاْمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ الاَّ الْقَوْم الْخَاسِرُوْنَ ۔
اس آیت کا شان نزول کس کے حق میں ہوا ‘ اس سلسلہ میں مختلف روایا آئی ہیں :
(1) ضحاک کی روایت میں ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔
(2) کلبی نے بروایت ابوصالح بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت کا نزول حضرت عمار بن یاسر کے حق میں ہوا۔
(3) جویبر نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابن مسعود ‘ حضرت عمار اور حضرت سالم ‘ مولیٰ ابوحذیفہ کے حق میں اتری۔
(4) جویبر نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ اس آیت کا نزول حضرت عمار کے حق میں ہوا۔
(5) بغوی نے لکھا ہے کہ ضحاک نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ اس کا نزول حضرت عثمان کے بارے میں ہوا۔ ابن ابی حاتم نے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔
(6) کلبی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابن مسعود ‘ حضرت عمار اور حضرت سلمان فارسی کے حق میں نازل ہوئی۔
ان مختلف روایات (کو صحیح قرار دیتے ہوئے سب) کی وجہ جامع یہ ہوسکتی ہے کہ ان تمام حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی جن کا ذکر مختلف روایات میں آیا ہے۔
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون انما یتذکر اولو الالباب آپ کہہ دیجئے :
کیا عالم اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں ؟ وہی لوگ نصیحت پذیر ہوتے ہیں جو (صحیح اور سلیم) عقلوں والے ہیں۔
الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ یعنی جو خدا شناس ہیں ‘ اللہ کی صفات جلالی و جمالی کو مانتے ہیں ‘ اسلئے عذاب سے ڈرتے ہیں اور رحمت سے آس باندھے رکھتے ہیں ‘ حکم کی اطاعت کرتے ہیں اور گناہوں سے بچتے رہتے ہیں۔ آیت میں سوال انکاری ہے ‘ یعنی دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ جملہ سابق جملہ کے مضمون کی تائید کر رہا ہے اور پہلے جملہ کے مفہوم کی علت بھی ظاہر کر رہا ہے۔
بعض اہل علم نے کہا : یہ جملہ تاکیدی تو ہے لیکن بطور تشبیہ ہے ‘ یعنی جس طرح عالم اور جاہل برابر نہیں ‘ اسی طرح نافرمان اور فرمانبردار میں بھی مساوات نہیں ہوسکتی۔
بعض علماء کا قول ہے کہ پہلے جملہ میں قوت عملیہ کے لحاظ سے فریقین میں مساوات کی نفی کی تھی اور اس جملہ میں قوت علمیہ کے اعتبار سے برابر ہونے کی نفی کردی گئی ‘ اس طرح مساوات کی کامل نفی ہوگئی اور ایک فریق کی دوسرے فریق پر برتری واضح ہوگئی۔
بعض اہل روایت نے کہا : الذین یعلمون (سے) حضرت عمار بن یاسر (کی طرف اشارہ) اور الذین لا یعلمون (سے) ابو حذیفہ مخزومی (کی طرف اشارہ) ہے۔
اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ یعنی ان بیانات سے صرف سلیم عقل رکھنے والے ہی نصیحت اندوز ہوتے ہیں۔
Ayah 39:10قل یا عباد الذین امنوا اتقوا ربکم للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ آپ (میری طرف
سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے مؤمن بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ دنیا میں نیکی کرتے ہیں ‘ ان کیلئے اچھا بدلہ ہے۔
اَحْسَنُوْا یعنی ایمان لائے اور خشوع و خضوع کے ساتھ نیک اعمال کئے ‘ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : احسان ( عمل اور عبادت کی خوبی) یہ ہے کہ تم اپنے رب کی اس طرح عبادت کرو ‘ گویا تم اس کو (اپنے سامنے) دیکھ رہے ہو ‘ اگر یہ مشاہدہ تم کو حاصل نہ ہو تو (اتنا ہی سمجھ لو کہ پردۂ غیب سے) وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔
اَحْسَنُوْا آخرت میں اچھا صلہ ‘ یعنی جنت۔
سدی نے کہا : اس دنیا میں بھلائی ‘ صحت و عافیت ہے۔ لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ صحت و عافیت صرف مؤمن کو نہیں کافر کو بھی ملتی ہے بلکہ کبھی واقعہ برعکس ہوجاتا ہے (کافر کو صحت و عافیت ملتی ہے ‘ مؤمن کو نہیں ملتی) ۔
وارض اللہ واسعۃ اور اللہ کی زمین فراخ ہے۔
اسلئے کافروں کی مزاحمت کی وجہ سے عمل میں قصور کرنے والوں کیلئے کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔ آیت میں درپردہ اشارہ ہے اس امر کا کہ اگر کافروں کی مزاحمت کی وجہ سے کسی بستی میں مسلمان کا اچھی طرح عبادت کرنا دشوار ہو تو وہاں سے سکونت ترک کر دینی چاہئے ‘ اسلئے حضرت ابن عباس نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ مکہ سے کوچ کر جاؤ (یہی آیت کا مقصد ہے) مجاہد نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : اللہ نے فرما دیا کہ میری زمین فراخ ہے ‘ اسلئے ہجرت کر جاؤ اور (مکہ سے) الگ ہوجاؤ۔ سعید بن جبیر نے کہا : مراد یہ ہے کہ جس کو گناہ کرنے کا حکم دیا جائے ‘ اس کو وہاں سے بھاگ جانا چاہئے۔
انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب مستقل مزاج والوں کو ان کا صلہ بیشمار ہی ملے گا۔
الصّٰبِرُوْنَ یعنی وہ لوگ جو اپنے دین پر قائم رہے اور کافروں کی ایذا رسانی سے تنگ کر آکر دین کو نہ چھوڑ بیٹھے ‘ یا وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے احباب ‘ اقارب اور وطن کی جدائی پر صبر کیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا جو مکہ سے ہجرت کر کے حبش کو چلے گئے تھے ‘ دین کو نہ چھوڑا ‘ سخت دکھ اٹھائے مگر دین پر قائم رہے اور ہجرت کر کے چلے گئے۔
الفاظ میں عموم ہے ‘ مہاجرین حبشہ کو بھی شامل ہے اور تمام وہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو دکھوں پر صبر کریں ‘ دینی مشقتیں برداشت کریں اور گناہوں سے اپنے آپ کو روکتے رہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ ہر اطاعت گذار کو ناپ تول کر (اس کے اعمال کا) ثواب دیا جائے گا سوائے صابروں کے ‘ ان پر تو لپ بھر بھر کر ثواب پھینکا جائے گا۔
اصبہانی نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ترازوئیں نصب کی جائیں گی اور نمازیوں کو لایا جائے گا اور وزن کے مطابق ان کو پورا پورا ثواب دیا جائے گا اور صدقہ (خیرات ‘ فرض و نفل) دینے والوں کو لایا جائے گا ‘ ان کو بھی وزن کے موافق پورا پورا ثواب دیا جائے گا ‘ پھر حاجیوں کو لایا جائے گا اور ان کو بھی وزن کر کے پورا ثواب دیا جائے گا اور جو لوگ اہل بلاء (دکھی اور دین کی خاطر مصائب و شدائد اٹھانے والے) ہوں گے ‘ ان کو بلایا جائے گا ‘ لیکن ان کے اعمال کی وزن کشی کیلئے نہ کوئی ترازو کھڑی کی جائے گی ‘ نہ ان کے اعمال کا رجسٹر کھولا جائے گا ‘ ان پر تو بےگنتی ثواب کی بارش کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو دنیا میں عافیت سے رہے تھے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے اجسام قینچیوں سے کاٹے جاتے۔ یہ تمنا اس ثواب کو دیکھ کر کریں گے جو اہل بلاء کو ملا ہوگا اور یہی مطلب ہے اللہ کے قول اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ کا۔ بغوی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔
طبرانی اور ابو یعلیٰ نے ناقابل اعتراض سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن شہید کو لایا جائے گا اور حساب کیلئے اس کو کھڑا کیا جائے گا ‘ پھر زکوٰۃ دینے والے کو حساب کیلئے کھڑا کیا جائے گا ‘ پھر اہل بلاء کو لایا جائے گا اور ان کے حساب کیلئے نہ کوئی ترازو نصب کی جائے گی ‘ نہ ان کے اعمال کا رجسٹر کھولا جائے گا ‘ بلکہ ان پر ثواب کی خوب بارش کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ ان کے ثواب کو دیکھ کر لوگ مقام حساب میں تمنا کریں گے کہ کاش (دنیا میں) ان کے اجسام کو قینچیوں سے کاٹا جاتا۔
ترمذی اور ابن ابی الدنیا نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل بلاء کو جس وقت ثواب دیا جائے گا تو اس کو دیکھ کر (دنیا میں) عافیت سے رہنے والے دل سے خواستگار ہوں گے (یعنی آرزو کریں گے) کہ دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں (تو ان کو بھی اہل بلاء کا سا ثواب مل جاتا) ۔
میں کہتا ہوں کہ شاید اہل بلاء سے مراد ہیں عاشقان الٰہی ‘ کیونکہ حدیث میں شہداء کو اہل بلاء میں سے نہیں شمار کیا گیا باوجودیکہ سب سے بڑا دکھ قتل ہونا ہے اور شہید راہ خدا میں جان پر صبر کرتا ہے۔
Ayah 39:11قال انی امرت ان اعبد اللہ مخلصا لہ الدین۔ آپ کہہ دیجئے : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت اس طرح کروں کہ اسی کیلئے عبادت کو خالص رکھوں
Ayah 39:12وامرت لان اکون اول المسلمین اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ سب مسلمانوں میں اول میں ہوں۔
مُخْلِصًا لَہُ الدِّیْنَ یعنی تنہا اسی کی عبادت کروں۔
لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ یعنی مجھے اخلاص کا حکم اسلئے دیا گیا ہے کہ میں دنیا اور آخرت میں سب سے آگے بڑھ جاؤں ‘ کیونکہ سبقت کا مدار اخلاص پر ہے۔
یا اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ کا یہ مطلب ہے کہ قریش اور ان کے ہم نوا لوگوں میں سے جو مسلمان ہوں ‘ ان سب سے پہلے میں مسلم ہوں (اول صورت میں اولیت سے سبقت مرتبہ مراد ہوگی اور دوسرے مطلب پر اولیت زمانی مراد ہوگی۔ مترجم) اُمِرْتُ پر اُمِرْتُ کا عطف دونوں امروں میں مغایرت کو ظاہر کر رہا ہے ‘ اول امر کا تعلق تو اخلاص عبادت سے ہے اور دوسرے امر کا تعلق سبقت دینی سے ہے۔ فی نفسہٖ بھی عبادت کو صرف اللہ کیلئے خالص ہونا چاہئے اور اسلئے بھی اخلاص ضروری ہے کہ سبقت دینی حاصل ہوجائے۔
یہ بھی جائز ہے کہ لِاَنْ اَکُوْنَ میں لازم زائد ہو ‘ جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے اردت لان افعل کذا میں نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے خود مسلم ہوجانے اور خود اپنے نفس کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اور یہ اسی وقت ہوسکتا تھا کہ پہلے خود مسلم ہوں کہ دوسروں کو دعوت دینے کی بنیاد تو پہلے خود اس کو قبول کرنا ہے۔
اس اسلوب عبارت سے دوسروں کو اسلام کی طرف مال کرنا مقصود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم کو اس چیز کی دعوت دے رہا ہوں جو تمہارے لئے بہتر ہے ‘ اگر یہ بہتر نہ ہوتی تو میں اپنے لئے اس کو اختیار نہ کرتا۔
Ayah 39:13قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے ‘ اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانو۔
اِنْ عَصَیْتُ یعنی اگر میں اخلاص ترک کر دوں اور تمہاری طرح شرک اور اعمال بد کی طرف مائل ہوجاؤں تو مجھے عذاب کا ڈر ہے۔ سابق آیت کی طرح اس آیت میں مخاطبین کو اسلام کی طرف مائل کرنا اور نافرمانی (کے نتیجہ) سے ڈرانا مقصود ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب آپ کو باپ دادا کا دین اختیار کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
Ayah 39:14قل اللہ اعبد مخلصا لہ دینی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں ‘ اسی کیلئے اپنی عبادت کو خالص کرتا ہوں۔
Ayah 39:15فاعبدوا ما شئتم من دونہ اور تم لوگ اللہ کے سوا جس کی چاہو ‘ پوجا کرو۔ پہلے حکم دیا تھا کہ عبادت کرنے اور عبادت کو اللہ ہی کیلئے خالص بنانے پر مامور ہونے کی اطلاع دے دو ‘ اب اس آیت میں حکم دیا کہ اپنی عبادت کے خاص اللہ کیلئے ہونے کی (کافروں کو) خبر کر دو ۔ یہ ترتیب اسلئے رکھی کہ کافروں کو جو اپنے باپ دادا کے دین پر واپس آجانے کی حضور ﷺ کے متعلق کچھ امید تھی ‘ وہ بالکل منقطع ہوجائے ‘ اسلئے دھمکی کیلئے اور آس توڑ دینے کی غرض سے آخر میں فرمایا کہ تم جس کی چاہو پوجا کرو۔
فَاعْبُدُوا محذوف شرط کی جزا ہے ‘ مفصل کلام اس طرح تھا کہ تم اگر میری موافقت نہیں کرتے اور اللہ کی عبادت نہیں کرتے تو پھر اللہ کے علاوہ جس کو چاہو پوجتے پھرو۔ اس کے نتیجہ میں تم پر جو عذاب آئے گا اور نامراد ہو گے ‘ اس کو خود دیکھ لو گے۔
قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم یوم القیمۃ الا ذلک ھو الخسران المبین
کہہ دیجئے کہ پورے گھاٹے میں وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں اور اپنے متعلقین کے تعلق سے قیامت کے دن گھاٹے میں پڑگئے۔ یاد رکھو کہ یہی صریح خسارہ ہے۔
خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یعنی گمراہ ہو کر خود اپنی جانوں کو خسارہ میں ڈالا۔
وَاَھْلِیْھِمْ اور متعلقین کو گمراہ کر کے خود خسارہ پایا۔
اہل سے مراد ہیں متعلقین ‘ بیویاں ‘ اولاد اور خدمتگار وغیرہ۔ عربی محاورہ میں خَسِرَ التَّاجِر اس وقت کہا جاتا ہے جب تجارت میں تاجر کو گھاٹا ہوجائے۔ کافروں نے بھی اپنے اسی حصہ کو جو جنت میں (بشرط ایمان و عمل صالح) ان کیلئے مقرر تھا ‘ دوزخ کے اس حصہ سے بدل دیا جو اہل جنت کیلئے (بشرط کفر و شرک) مقرر تھا (یعنی کافر ہو کر مؤمنوں کو اپنی جنت والی جگہ دے دی اور دوزخ کے اندر وہ جگہ لے لی جو مؤمنوں کیلئے مقرر تھی ‘ اگر وہ ایمان نہ لاتے اور نیک کام نہ کرتے) خَسِرَ فعل لازم ہے لیکن آیت میں بطور فعل متعدی استعمال کیا گیا ہے (کیونکہ اَنْفُسَھُمْ وَاَھْلِیْھِمْ مفعول مذکور ہے) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے ہر آدمی کیلئے جنت میں ایک مکان اور متعلقین (بیوی وغیرہ) مقرر کر دئیے ہیں۔ اب اگر بندہ اطاعت گذار ہے تو وہ مکان اور متعلقین اس کو مل جائیں گے اور اگر نافرمان ہے تو وہ گھر اور متعلقین کسی دوسرے اطاعت گذار بندہ کو دے دئیے جائیں گے۔
میں کہتا ہوں : اس تشریح پر آیت خسِرُوْا کا معنی ہوگا فَوَّتُوْا یعنی خاسر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کھو دیا اپنی جانوں کو بھی اور متعلقین کو بھی۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ خسران اہل کی دو صورتیں ہیں : اگر اہل و عیال دوزخی ہیں تو اس شخص کے گمراہ ہونے کی وجہ سے دوزخی ہوئے اور اگر جنتی ہیں تو یہ (کافر دوزخی ہے) ان سے جاتا رہا ‘ ہمیشہ کیلئے الگ ہوگیا۔
الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ یعنی روز قیامت کا خسران ہی حقیقت میں خسران ہے (جو کبھی دور نہ ہوگا) دنیوی گھاٹا تو قابل تبدیل ہے (جا سکتا ہے) اسلئے آسان ہے۔ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ کی تفصیل اگلی آیت میں فرما دی۔
Ayah 39:16لھم من فوقھم ظلل من النار ومن تحتھم ظلل ذلک یخوف اللہ بہ عبادہ یعباد فاتقون
ان کیلئے ان کے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور نیچے سے بھی محیط شعلے ہوں گے۔ اسی (عذاب) سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو ! مجھ سے (یعنی میرے عذاب سے) ڈرو۔
ظُلَلٌ آگ اور دھوئیں کے محیط پردے ہوں گے اور نیچے سے بھی انتہائی گہرائی تک آگ کا فرش اور بستر ہوگا۔ فرش کو سائبان (ظل) اسلئے فرمایا کہ وہ فرش بھی دوسرے نیچے والوں کیلئے سائبان ہوگا۔
ذٰلِکَ یعنی یہ عذاب وہی ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے کہ وہ ایسے کاموں سے بچتے رہیں جو عذاب میں مبتلا کرنے والے ہیں۔
فَاتَّقُوْنِ یعنی فاتقونی مجھ سے ڈرو ‘ کوئی ایسا کام نہ کرو جو میری ناراضگی اور عذاب کا موجب ہو۔
Ayah 39:17والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا وانابوا الی اللہ لھم البشری فبشر عباد اور جو لوگ شیطان
(یعنی غیر اللہ) کی عبادت سے بچے رہتے ہیں اور (ہمہ تن) اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ خوشخبری کے مستحق ہیں ‘ سو آپ میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
الطَّاغُوْت طغیان (وسرکشی) میں حد سے بڑھا ہوا۔ طغیان میں حد سے بڑھا ہوا چونکہ شیطان ہے ‘ اسلئے طاغوت کا لفظ شیطان کیلئے مخصوص ہوگیا۔ بغوی نے طاغوت سے مراد لئے ہیں بت ‘ کیونکہ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا میں مؤنث کی ضمیر ان کی طرف راجع کی گئی ہے۔ اَنَابُوْا اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوئے اور اللہ کے سوا دوسروں سے کٹ گئے۔
لَھُمُ الْبُشْرٰی ان کیلئے بشارت ہے ‘ یعنی وہ بشارت کے مستحق ہیں ‘ دنیا میں پیغمبروں کی زبانی اور مرنے کے وقت ملائکہ کی زبانی۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ جب آیت لَھَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ اتری تو ایک انصاری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے سات غلام ہیں ‘ میں نے ایک ایک دروازہ (میں داخلہ) کیلئے ایک ایک غلام کو (علیحدہ علیحدہ) آزاد کردیا۔ اس پر آیت فَبَشِّرْ عِبَاد نازل ہوئی۔
Ayah 39:18الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھدھم اللہ واولئک ھم اولو الالباب
جو اس کلام (الٰہی) کو کان لگا کر سنتے ہیں ‘ پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت یاب بنایا اور یہی ہیں جو عقلوں والے ہیں۔
یعنی قرآن کو بھی سنتے ہیں اور دوسرے کلام کو بھی ‘ پھر قرآن کی ہدایتوں پر چلتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا کلام بھی سنتے ہیں اور کافروں کا کلام بھی ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر چلتے ہیں (اس مطلب پر القول سے عام کلام مراد ہوگا ‘ کسی کا ہو : اللہ کا ‘ رسول کا ‘ یا کسی اور کا اور احسن سے مراد ہوگا : قرآن مجید ‘ اور رسول اللہ ﷺ کا کلام۔ اس تفسیر پر اَحْسَنْ (اسم تفضیل) حَسَنْ (صفت مشبہ) کے معنی ہوگا (یعنی احسن کا ترجمہ بہت اچھا نہ ہوگا ‘ بلکہ اچھا ہوگا) کیونکہ کافروں کے کلام میں تو کوئی اچھائی نہیں ہوتی (کہ اس کے مقابلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے کلام کو بہت اچھا کہا جائے) ۔
رفتار عبارت کا تقاضا ہے کہ فَبَشِّرْ عِبَادِ کی جگہ فَبَشِّرْ ھُمْ کہا جاتا (کیونکہ ضمیر کا مرجع پہلے مذکور ہے) صراحت کے ساتھ عبادی کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ شیطان سے ان کے اجتناب کی اساس یہ ہے کہ وہ کلام کو پرکھنے والے ہیں ‘ گندے اور پاکیزہ کلام میں فرق کرتے ہیں ‘ برے اچھے کلام میں ان کو امتیاز ہے اور حسن و احسن کے فرق کی بھی شناخت ہے۔
عطاء نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر جب ایمان لے آئے تو حضرت عثمان ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ ‘ حضرت زبیر بن عوام ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید ؓ آپ کے پاس آئے اور مسلمان ہونے کی خبر معلوم کی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : ہاں ‘ میں ایمان لے آیا۔ اس پر یہ حضرات بھی مسلمان ہوگئے اور انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن زید کا قول ہے کہ ان دونوں آیات کا نزول تین آدمیوں کے متعلق ہوا ‘ جو عہد جاہلیت میں بھی لاَ اِلٰہَ الاّ اللہ کے قال تھے : نمبر 1 زید بن عمرو بن نفییل یا سعید بن زید ‘ نمبر 2 ابوذر غفاری ‘ نمبر 3 سلمان فارسی۔ اور احسن القول سے مراد لاَ اِلٰہَ الاّ اللہ ہے۔ سدی نے کہا : احسن سے مراد یہ ہے کہ جو احکام ان کو دئیے جاتے ہیں ‘ ان میں سب سے اچھے حکم پر وہ چلتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا کہ قرآن میں ظالم سے انتقام لینے کی اور معاف کردینے کی ‘ ہر ایک کو اجازت ہے ‘ لیکن دونوں میں سے معاف کردینا احسن ہے۔ قرآن میں عزائم کا بھی ذکر ہے اور رخصتوں کا بھی ‘ لیکن عزائم احسن ہیں (یعنی احسن میں حسن اضافی مراد ہے ‘ حسن واقعی مراد نہیں ہے ‘ حسن واقعی تو جانب مرجوع میں بھی ہوتا ہے۔ مترجم)
اُولُو الْاَلْبَابِ وہ اہل دانش جن کی عقلیں توہمات اور رواجوں سے پاک ہیں۔ اس آیت میں دلالت ہے اس امر پر کہ ہدایت کو پیدا کرنے والا تو اللہ ہے ‘ لیکن نفس انسانی اس کو قبول کرتا ہے۔ اگر تخلیق ہدایت نہ ہو ‘ یا نفس اس کو قبول نہ کرے تو آدمی ہدایت یاب نہیں ہوتا۔
Ayah 39:19افمن حق علیہ کلمۃ العذاب افانت تنقذمن فی النار بھلا جس شخص پر عذاب کا (ازلی تقدیری) حکم
محقق ہوچکا تو کیا ایسے شخص کو جو (علم الٰہی میں) دوزخ کے اندر ہے ‘ آپ چھڑا سکتے ہیں ؟
حَقَّ عَلَیْہِ یعنی اللہ کے علم قدیم میں عذاب اس کیلئے مقرر ہوچکا۔ کذا قال ابن عباس ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد ابولہب اور اس کا بیٹا ہیں۔ جملۂ شرطیہ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اسی طرح تھا : کیا آپ ان کے امور کے مالک و مختار ہیں کہ جس پر حکم عذاب محقق ہوچکا ‘ اس کو دوزخ سے چھڑا لیں گے ؟ مطلب یہ کہ ایسا ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ہمزۂ سوالیہ کی تکرار ‘ تاکید انکار کیلئے ہے اور بجائے تنقذھم کے تنقذ من فی النّار کا لفظ بھی اسی انکار کو پختہ کرنے کیلئے ہے۔ لفظ حَقَّ اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ جس پر عذاب کا حکم ہوگیا ‘ وہ ایسا ہی ہے جیسا عذاب میں مبتلا ہوگیا اور عذاب میں آگیا ‘ کیونکہ فیصلۂ خداوندی کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔
آیت سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو ان کو انتہائی کوشش کے ساتھ ایمان کی دعوت دی ‘ یہی دوزخ سے رہائی دینا ہے۔ ایک وہم ہوتا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی کوشش سے کوئی (ازلی کافر) دوزخ سے رہا نہیں ہوسکتا تو پھر آپ کی کوشش بےسود ہے۔ اس خیال کو دور کرنے کیلئے فرمایا :
Ayah 39:20لکن الذین اتقوا ربھم لھم غرف من فوقھا غرف مبنیۃ تجری من تحتھا الانھر لیکن جو
لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ‘ ان کیلئے جنت کے بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں۔ یعنی جن لوگوں کیلئے اللہ کا حکم رحمت محقق ہوچکا ہے اور اللہ کے علم (ازلی قدیم) میں یہ بات پہلے سے موجود ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں گے ‘ ان کیلئے جنت کے اندر بالاخانے ہیں۔
اتَّقَوْا بصیغۂ ماضی ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جن لوگوں کے متقی بننے کا فیصلہ (ا اللہ کے علم ازلی میں) ہوچکا ہے تو گویا وہ متقی ہو ہی گئے۔
غُرَفٌ جنت کے اندر بالاخانے۔ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ بالاخانوں کے اوپر بالاخانے ‘ جو پہلے بالاخانوں سے اونچے ہوں گے۔ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یعنی نچلے بالاخانوں کے نیچے بھی اور اوپر والے بالاخانوں کے نیچے بھی۔
وعد اللہ لا یخلف اللہ المیعاد یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا .... کیونکہ وعدہ کی خلاف وزری
عیب ہے اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت والے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم لوگ مشرقی اور مغربی افق پر باقی رہ جانے والے چمکدار جگمگاتے ستارے کو (دور سے) دیکھتے ہو۔ یہ صورت اہل جنت کے باہمی فرق مراتب کی ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ مکان تو انبیاء کے ہوں گے جہاں تک دوسروں کی رسائی نہ ہوگی۔ فرمایا : کیوں نہیں ‘ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور (تمام) پیغمبروں کو سچا مانا (وہ مکان ان کے بھی ہوں گے) اس موضوع کی جو احادیث آئی ہیں ‘ ہم سورة فرقان کی آیت اولٰٓءِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا کی تفسیر کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔
Ayah 39:21الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسل کہ ینابیع فی الارض ثم یخرج بہ زرعا مختلفا
الوانہ ثم یھیج فتراہ مصفرا ثم یجعلہ حطاما (اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اوپر سے پانی نازل کیا ‘ پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا ‘ اس کے بعد اللہ اس پانی کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی کھیتیاں پیدا کرتا ہے ‘ پھر کچھ مدت کے بعد وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے اور تجھے زرد دکھائی دیتی ہے ‘ اس سے کچھ مدت کے بعد اللہ اس کو چورا چورا کردیتا ہے (بھوسہ بنا دیتا ہے) ۔
اَلَمْ تَرَ میں استفہام انکاری ہے اور نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے (یعنی تو نے یہ بات ضرور دیکھی ہے) یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ یعنی زمین کے سوتوں میں۔ ینبوع چشمہ کو بھی کہتے ہیں اور چشمہ سے پھوٹنے والے پانی کو بھی۔ شعبی نے کہا : زمین میں جو پانی ہے ‘ وہ آسمان سے ہی آتا ہے۔
اَلْوَانُہٗ یعنی مختلف اصناف و اقسام گیہوں ‘ جو وغیرہ یا مختلف کیفیات اور رنگ سبزی ‘ سرخی وغیرہ۔
یَھِیْجُخشک ہوجاتی ہے۔ فَتَرٰں ہُ یعنی سرسبزی اور شادابی کے بعد تم کو وہ کھیتی پیلی دکھائی دیتی ہے۔ حُطَامًا ریزہ ریزہ ‘ چورا چورا۔
ان فی ذلک لذکری لاولی الالباب اس میں عقلمندوں کیلئے بڑی نصیحت ہے۔
فِیْ ذٰلِکَ یعنی اس ایجاد میں اور تغیرات میں۔ لَذِکْرٰی ‘ ذکرٰی بمعنی تذکیر ہے (یاددہانی) یعنی اس میں یاددہانی ہے ایسے خالق قدیم کی جس کی قدرت ہمہ گیر اور حکمت مدبر کل ہے اور اس بات کی بھی اس کے اندر یاددہانی ہے کہ حیات دنیا کھیتی کی طرح ہے (جس کا مآل نو بہ نو تغیرات کے بعد فنا ہے) اس پر فریفتہ نہیں ہونا چاہئے۔ لَاُولِی الْاَلْبَاب عقلمندوں کیلئے عبرت ہے۔ بےعقل لوگ اس سے نصیحت اندوز نہیں ہوتے اور جو عبرت اندوز نہیں ‘ وہ اہل عقل میں سے نہیں۔ وہ تو چوپایوں کی طرح ہیں ‘ بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ۔
Ayah 39:22افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے
کیلئے کھول دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے رب کے عطا کردہ نور پر ہے ‘ کیا وہ شخص اور وہ لوگ جن کے دل سخت (اور تاریک) ہیں ‘ برابر ہیں ؟
شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے بندہ کے دل میں ایک نور پیدا کیا جس کی چمک میں اس نے حق کو حق اور باطل کو باطل دیکھ لیا اور بغیر کسی تردد اور شک کے وہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آیا اور سب کی تصدیق کی۔ اس حالت کو شرح صدر سے اسلئے تعبیر کیا کہ سینہ ‘ دل اور روح کا مقام ہے اور دل ہی اسلام کو قبول کرتا ہے ‘ جب دل اسلام کے تمام احکام کو قبول کرلیتا ہے تو ایسا ہوجاتا ہے جیسے کوئی ظرف ہے جو مظروف کو اپنے اندر سمانے کیلئے فراخ ہوگیا ہو۔
نور سے مراد ہے بصیرت (دل کی بینائی) ۔
اَفَمَنْ میں استفہام انکاری ہے اور اس کا رجوع مضمون فاء سے ہے ‘ گویا پورا مضمون کلام اس طرح ہوا : جب مؤمن اور کافر میں فرق ثابت ہوگیا تو جس کا دل اللہ نے اسلام کو قبول کرنے کیلئے کھول دیا اور اس کے نتیجہ میں اس کو ایک خاص نور حاصل ہوگیا جس کی وجہ سے وہ ایمان لے آیا اور ہدایت یاب ہوگیا ‘ کیا ایسا شخص اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل پر اللہ نے چھاپ لگا دی ہے اور اس کا دل سخت ہوگیا ہے ؟ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖتلاوت فرمائی۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! سینہ کشادہ کیسے ہوجاتا ہے ؟ فرمایا : جب نور دل میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کشادہ اور فراخ ہوجاتا ہے۔ ہم نے عرض کیا : اس کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا : دارالخلد (یعنی آخرت) کی طرف ہمہ تن رجوع اور دارالغرور (مقام فریب یعنی دنیا) سے دوری اختیار کرنی اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنی ‘ رواہ البغوی والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان۔
فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلل مبین پس جن لوگوں نے دل ذکر خدا سے متاثر
نہیں ہوتے ان کیلئے بڑی خرابی ہے۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
فَوَیْلٌمیں فَ سببی ہے اور مِنْ ذِکْرِ اللہ میں مِنْ اجلیہ ہے ‘ یعنی جب اللہ کا ذکر انکے سامنے کیا جاتا ہے ‘ یا اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کی قسادت اور بڑھ جاتی ہے اور دلوں کی سختی شدید ہوجاتی ہے (گویا اللہ کا ذکر قسادت قلبی بڑھ جانے کی وجہ ہوجاتا ہے)
مسلم کا دل اللہ کے ذکر سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے اور کافر کے دل میں قسادت بڑھتی اور انکار میں اضافہ ہوتا ہے ‘ اسلئے جہاں شرح صدر کا ذکر کیا تو شرح صدر کرنے والا اللہ کو قرار دیا اور جہاں قسادت قلب کا ذکر کیا تو قسادت کی نسبت قلب کی طرف کردی گئی ‘ گویا اس آیت کا معنی اور آیت ذیل کا معنی ایک جیسا ہے۔ ایک اور آیت میں فرمایا ہے : وَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتَوْا وَھُمْ کَافِرُوْنَ بعض مفسرین کے نزدیک ذِکُر اللہ سے پہلے لفظ ترک محذوف ہے ‘ یعنی ان لوگوں کیلئے بڑی خرابی ہے جن کے دل اللہ کے ذکر کو ترک کرنے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہیں۔
مالک بن دینار نے کہا : قسادت قلب سے بڑھ کر کوئی سزا (عقوبت) بندہ کیلئے مقرر نہیں کی گئی اور اللہ کا غضب کسی قوم پر اسی وقت نازل ہوتا ہے جب ان کے دلوں سے نرمی ختم ہوجاتی ہے۔
حاکم وغیرہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک طویل مدت تک قرآن نازل ہوتا رہا اور آپ (برابر لوگوں کو) پڑھ کر سناتے رہے۔ آخر صحابہ نے (ایک روز) عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! (قرآن کے علاوہ) حضور کچھ اور بھی بیان فرمائیں (تو بہتر ہوگا) ۔ ابن جریر نے حضرت عون بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا کہ صحابہ کچھ اکتا گئے اور انہوں نے عرض کیا : کاش ! آپ (کچھ اور بھی) بیان فرماتے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔