39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 39:1–9

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب (قرآن) کا اتارا جانا اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ پر (یہ) کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی ہے تو آپ خالص اعتقاد کرکے اللہ کی عبادت کرتے رہیے

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یادرکھو خالص عبادت اللہ ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا مددگار اختیار کیے ہیں (کہتے ہیں) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہمیں اللہ کا کسی درجہ میں مقرب بنادیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں بیشک اللہ ان میں ان کا فیصلہ فرمادیں گے۔ بیشک اللہ اس کو جو جھوٹا (اور) ناشکرا ہو ہدایت نہیں دیتے

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتے چن لیے (مگر ایسا نہیں ہے) وہ پاک ہیں وہی اللہ واحد (اور) غالب ہیں

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور لپیٹتے ہیں رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتے ہیں دن کو اوپر رات کے اور سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا۔ یاد رکھو ! وہ زبردست ، بڑے بخشنے والے ہیں

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تم کو ایک شخص سے پیدا فرمایا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لئے آٹھ نر اور مادہ چار پایوں میں سے پیدا فرمائے وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت سے دوسری کیفیت پر بناتے ہیں تین تاریکیوں میں۔ یہ ہے اللہ تمہارے پروردگار ۔ اسی کی بادشاہی ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، سو تم کہاں پھرے جا رہے ہو

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو گے ، تو یقینا اللہ تمہارے حاجت مند نہیں اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں فرماتے۔ اور اگر تم شکر کروگے تو اس کو تمہارے لئے پسند فرمائیں گے۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے ، پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ تم کو بتائیں گے۔ بیشک وہ دلوں تک کی باتوں کے جاننے والے ہیں

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو جس کے لئے پہلے اسے پکارتا تھا اس کو بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستے سے گمراہ کرے فرمادیجئے کہ اپنے کفر کے ساتھ چندے فائدہ اٹھالے ، (پھر) یقینا تو تو دوزخیوں میں سے ہوگا

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا جو شخص رات کے اوقات میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کررہا ہو (اور) آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہو فرمادیجئے بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ یقینا نصیحت تو عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں

سورة زمر رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9: اسرار و معارف : اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے یا اللہ سے بات منوانے یا ہماری بات وہاں تک ہپنچانے کے لیے یہ ذریعہ اور واسطہ اختیار کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ بھی ہوجائے گا۔ آج تو اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں اور جھگڑ رہے ہیں مگر فیصلے کے دن انہیں پتہ چل جائے گا کہ غیر اللہ کی عبادت و اطاعت کا نتیجہ کیا ہے اور کوئی غلط فہمی نہ رہے گی یہ ایسے بدبخت ہیں کہ ان کی زبانوں پہ جھوٹ اور دل میں کفر ہے یعنی یہ بھی جھوٹ بولتے ہیں کہ قرب الہی کا وسیلہ بنا رکھے ہیں بھلا اللہ کو مانتے تو پھر اس کی اطاعت کیوں نہ کرتے یعنی رسومات اور رواجات کو بھی قرب الہی کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہوتے ہیں لوگ اپنی اغراض کی تکمیل کے لیے جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم قرب الہی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے دلوں میں کفر ہوتا ہے یعنی ہدایت کی طلب بھی نہیں ہوتی لہذا اللہ انہیں ہدایت نصیب نہیں فرماتے۔ کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا اور کبھی بیٹیاں بناتے ہیں بھلا اگر اللہ نے کسی کو اپنی اولاد بنانا ہوتا تو وہ اپنی مخلوق سے اولاد منتخب کرلیتا کیا بودا خیال ہے کہ اس کے علاوہ کوئی ان کا ہمسر نہیں سب مخلوق عاجز محتاج و بےبس تو وہ ان میں سے اولاد بنا لیتا۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے کوئی اس جیسا نہیں وہ اکیلا ہے سخت قہر والا ہے یعنی یہ عقیدہ اس کے قہر کو دعوت دینے والی بات ہے یہ سب اس کی صنعت ہے کہ پیدا کردیا آسمانوں کو اور زمین کو پھر ان میں شب و روز کا عجیب و غریب سلسلہ بنا دیا کبھی رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور پھر دن رات کو نگل لیتا ہے۔ سورج چاند وغیرہ کو لگا دیا مقرر اوقات اور مقرر راستوں پہ کہ ہر ایک طے شدہ راستہ وقت اور جگہ کے مطابق اپنے سفر میں ہے اور مخلوق اس مربوط نظام کی محتاج کہ ذرا اس میں گڑبڑ ہو تو ساری دنیا تباہ ہوجائے بھلا یہ اللہ کی اولاد کیسے ہوسکتے ہیں ہاں وہ غالب ہے ان سب میں سے کسی چیز کا مھتاج نہیں اور اگر اب بھی توبہ کرلو تو وہ بہت بڑا بخش دینے والا ہے۔ اپنی اصل تو دیکھو کہ تمہیں ایک وجود یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا پہلے ان کی اہلیہ اور پھر باری باری سب لوگ اور یوں جہاں آباد ہوا پھر قدرت کاملہ سے تمہیں جانوروں کی مختلف اقسام عطا فرمائیں اور ذرا اپنی تخلیق کا عمل دیکھو کہ کس طرح ماں کے پیٹ اور اس کے اندر رحم کے پردوں کے تاریک ترین مقام پر تدریجاً بچے کو بناتا چلا جاتا ہے اور اتنی تاریکیوں میں کس قدر باریک رگیں اعضا سمع و بصر عقل و خرد کے تمام تانے بانے جوڑتا اور ان میں احساس و شعور بھرتا چلا جاتا ہے۔ یہ ہے قادر مطلق تمہارا پروردگار جسے ساری بادشاہی اور اقتدار سزاوار ہے اور خوبجان لو نہ کوئی دوسرا اس جیسا ہے اور نہ ہی کوئی اور عبادت کا مستحق بھلا تم کہاں دھکے کھانے چلے ہو۔ اگر تم اس کی عمت کا انکار ہی کرتے رہے تو اسے تمہاری کوئی پرواہ ہے نہ ضرورت ہاں یہ یاد رکھو کہ وہ اپنے بندوں اور مخلوق سے کفر کو پسند نہیں کرتا اس پر اس کا غضب مرتب ہوتا ہے اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو ایمان لے آؤ اور اطاعت کی راہ اپناؤ کہ یہی طریق شکر ہے تو تم اس کی رضامندی حاصل کرسکوگے یعنی ادھر تمہارا نقصان اور ادھر تمہارا ہی نفع ہے۔ اور یاد رکھو اللہ کو چھوڑ کر جن سے تم نے امیدیں باندھ رکھی ہیں یہ کام نہ آئیں گے کہ ہر کوئی اپنے حساب کتاب کی فکر میں ہوگا اور کوئی کسی کا بوجھ نہ بانٹ سکے گا اور آخر کار تمہیں اللہ ہی کی جو پروردگار ہے بارگاہ میں لوٹنا ہے کہ ربوبیت کا تقاضا ہے کہ ہر کام اپنے انجام اور کمال کو پہنچے لہذا تم سارے عمل سے گزر کر وہاں پہنچوگے تو دیکھو گے کہ خود تمہیں جو باتیں بھول گئی ہیں وہ ان کو بھی جانتا ہے اور زندگی بھر کا کردار تمہیں بتائے گا بلکہ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے ۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ جو انسان بھی مبتلائے مصیبت ہو اور کسی طرف سے بھی امید نہ رہے تو اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ پھر جب اس کی مصیبت دور کردے اور مشکل حل فرما دے تو وہ ساری بات اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں کرنا بھول جاتا ہے اور اللہ کی راہ چھوڑ کر غیر اللہ سے امیدیں باندھ لیتا ہے گویا انہیں اللہ کا ہمسر مان لیا ہو۔ ایسے لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اللہ نے مہلت دی ہے عیش کرلو مگر یہ بہت کم مہلت ہے کہ کفر آخر کار تمہیں جہنم میں لے جائے نہیں تو کیا تمہیں ایسا اجر ملے گا یا جنت مل جائے گی ان لوگوں کی طرح جو خلوص دل سے عبادت کرتے اور راتوں کو سجدوں اور قیام سے سجاتے ہیں اور روز آخرت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار اور امدوار کرم بھی ہیں ہرگز نہیں بھلا کی اللہ کی معرفت سے روشن دل اور کفر و جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا کبھی برابر ہوسکتے ہیں لیکن یہ باتیں اہل خرد ہی جان سکتے ہیں اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 39:10–21

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

فرمادیجئے (میری طرف سے) کہ اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں بیشک ان کو بیشمار صلہ ملے گا

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ مجھے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کو خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ سب مسلمانوں میں سے اول میں ہوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ (یہ بھی) فرمادیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو بیشک مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ میں اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو اسی کے لئے خاص رکھتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

سو تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرو فرمادیجئے کہ بلا شبہ نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا۔ دیکھ ! یہی واضح نقصان ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے یہ ہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں اے میرے بندو ! سو مجھی سے ڈرو

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جو لوگ شیطان کی عبادت سے بچتے ہیں اور (ہمہ تن) اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے ، سو میرے بندوں کو خوشخبری سنادیجئے

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات (کلام الٰہی) کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہی عقل مند ہیں

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات صادر ہوچکی تو کیا آپ ایسے دوزخی کو مخلصی دے سکیں گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے (جنت کے) بالا خانے ہیں جن کے اوپر (اور) بالا خانے ہیں جو بنے ہوئے (تیار) ہیں ان کے تابع نہریں چل رہی ہیں (یہ) اللہ کا وعدہ ہے (اور) اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل فرمادیتے ہیں پھر اس سے کھیتیاں اگاتے ہیں جن کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو اس کو دیکھتے ہو کہ زرد (ہوگئی) پھر اس کو چورا چورا کردیتے ہیں۔ بیشک اس میں عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ بھی فرما دیجیے کہ مجھے تو خالص اور بغیر کسی لگی لپٹی کے اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہے۔ مفادات کی خاطر اس میں سمجھوتے کرنے کی گنجائش نہیں اور یہ بھی بتا دیجیے کہ میری شان تو یہ ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ماننے والا ، اعتبار و یقین رکھنے والا میں کود ہوں بلکہ یہ بتا دیجیے کہ اگر اس میں بھی خطا کروں حالانکہ ایسا ممکن ہیں تو پھر مجھے بھی آخرت کے عذاب کا اندیشہ ہوگا چہ جائیکہ تم لوگ دین کے بارے میں سمجھوتہ کرتے پھرو۔ آپ اعلان فرما دیجیے کہ خالص اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اور تمام امیدیں اسی سے رکھتا ہوں تم جس کی چاہو بندگی اور اطاعت کرتے رہو لیکن یہ جان لو کہ اگر وقتی طور پر دنیا کا کوئی معمولی فائدہ حاصل بھی کرلیا تو کیا کہ اصل نقصان تو اپنی جان اور خاندان تک کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرنے کا ہے جو تمہارے کفر کا نتیجہ ہوگا اور یہی حقیقی نقصان ہے۔ کافروں کو جہنم میں آگ ہی کا اوڑھنا ہوگا اور آگ ہی کا بچھونا بھی ۔ اسی بات سے اللہ اپنے بندوں کو خبردار فرمانا چاہتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو میرے ساتھ رشتہ محبت استوار کرو۔ جو لوگ شیطانی پھندوں سے بچ جائیں اور اس کی اطاعت نہ کریں تو ایسے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں اے میرے حبیب (ﷺ) میرے بندوں کو بشارت دیجیے ایسے لوگ جو انسانی علوم اور مذاہب دنیا کو سن تو لیتے ہیں جانتے ہیں مگر ان کے بودے پن کے باعث انہیں قبول نہیں کرتے بلکہ حق اور حسین بات کو کہ حق ہمیشہ احسن ہوتا ہے قبول کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ کریم ترقی درجات کے راستے کھول دیتے ہیں اور یہ لوگ ہی صاحب خرد یا عقلمند کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ بھلا جس نے کفر کیا اور اس کیلئے عذاب کا حکم جاری ہوگیا آپ اس کو کس طرح چھڑا سکتے ہیں آپ فکر میں کیوں مبتلا ہوئے جبکہ انہوں نے اپنے لیے خود یہی جگہ پسند کرلی ہے۔ ہاں آپ کی توجہ کی برکات تو انہیں نصیب ہیں جنہیں اللہ سے رشتہ محبت نصیب ہو ان کیلئے رہائش کی بہت ہی خوبصورت جگہیں ہیں کئی کئی منزلہ عمارتیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ اللہ کا ان سے وعدہ ہے اللہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا بھلا آخرت میں یہ نعمتیں بخشنا اس کے لیے کون سی بڑی بات ہے جبکہ دنیا میں بھی اس نے کس قدر نعمتیں عطا کی ہیں پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برسایا پھر زمین پر اس کے خزانے بنا دئیے کہیں برف کی صورت تو کہیں زیر زمین نہروں اور چشموں کی صورت پھر بیشمار اقسام کے باغات اور ان میں پھل سجا دئیے جو کبھی پھول بنتے ہیں پھر پھل پھر پک کر تیار ہوجاتے ہیں اگر عقل سلامت ہو تو یہ سب عظمت الہی کے گواہ ہیں اور اس نظام میں اس کی قدرت کے کمالات کے بےپناہ دلائل موجود ہیں۔
Ayahs 39:22–31

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (روشنی) پر ہو پس ان پر افسوس ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو رہے ہیں (یعنی ذکر نہیں کرتے) یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے نہایت اچھی اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں کتاب (جس کی آیات) ملتی جلتی ہیں (اور) دہرائی جاتی ہیں جن سے ان لوگوں کے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بدن کانپ اٹھتے ہیں پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کردیں سو اس کا کوئی ہدایت دینے والا نہیں

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا قیامت کے روز جو اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا تو ان پر عذاب ایسے آیا کہ ان کو کچھ خبر ہی نہ تھی

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو دنیا کی زندگی میں (بھی) رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے !

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی ہے جس میں ذرہ برابر ٹیڑھا پن نہیں تاکہ وہ ڈریں

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک شخص (غلام) ہے جس میں کئی لوگ شریک ہیں جو آپس میں مختلف الخیال (بھی) ہیں اور ایک اور شخص ہے جو صرف ایک شخص کا (غلام) ہے (تو) کیا ان دونوں کی حالت یکساں (ہوسکتی) ہے ؟ سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں۔ بلکہ ان میں اکثر سمجھتے بھی نہیں

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بیشک آپ کو بھی مرنا ہے اور یقینا ان کو بھی مرنا ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر یقینا قیامت کے روز تم (اپنے) مقدمات اپنے پروردگار کے حضور پیش کروگے

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31: اسرار و معارف : اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو آسان بنادیتا ہے اسی طرح ذکر قلبی نصیب ہو تو اللہ کریم سینہ کھول دیتے ہیں لیکن اگر کسی کا دل اتنا سخت ہوجائے کہ اسے ذکر قلبی نصیب ہی نہ ہو یاد رہے ذکر قلبی کا کم از کم درجہ ایمان لانے کے ساتھ قلبی تصدیق ہے اگر اتنا بھی نہیں تو پھر اس کی گمراہی میں کیا شبہ۔ اللہ تو بہت کریم ہے اس نے بہت خوبصورت اور حقائق سے پر کتاب نازل فرمائی جو دہرا دہرا کر حق باتوں کی تاکید فرمائی اور جہاں نور ایمان ہو وہاں اس کتاب کے حقائق رونگٹے کھڑے کردیتے اور پھر ان کی کھال سے لے کر دل تک ہر ذرہ بدن اللہ کا ذکر کرنے لگتا ہے۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق ؓ سے رویت ہے کہ اکثر صحابہ کا یہی حال تھا کہ ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن کے بال کھڑے ہوجاتے تھے اور یہ اللہ کی طرف سے راہ ہدایت ہے جس پر کرم فرمائے اور جسے چاہے یہ نعمت عظمیٰ عطا فرما دیتا ہے اور جس کی بات اللہ ہی سے بگڑ گئی ہو اور اس کی وجہ سے اللہ نے اسے ہدایت سے محروم کردیا پھر اسے کوئی ہدایت کی راہ پر نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ اس کا حال تو یہ ہوگا کہ دوزخ کے بھڑکتے شعلے سیدھے اس کے منہ پر پڑیں گے اور اس کا چہرہ ہی اس کی ڈھال ہوگا یعنی چہرہ بچانے کے اسباب بھی اس کے پاس نہ ہوں گے روز حشر یہ بات سامنے آجائے گی اور ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ تم نے کفر و شرک کی راہ اپنائی تھی اور جو ظالمانہ کردار اپنایا تھا اب اس کا مزہ چکھو۔ دنیا میں بھی تباہ ہی ہوں گے جس طرح ان سے پہلی قوموں نے جب یہ راستہ اختیار کیا تھا تو اللہ نے دنیا کی ذلت سے دوچار کرکے تباہ کردیا تھا اور آخرت کا عذاب تو کئی گنا سخت اور بہت بڑا ہے کاش یہ اس بات کو جان لیتے کہ ہم نے تو ہر طرح کے عقلی اور نقلی دلائل دے کر قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے کہ یہ لوگ بات سمجھ پائیں۔ خوبصورت پیاری عربی زبان میں جس میں خوب روانی ہے تاکہ یہ اللہ سے تعلق قائم کرسکیں۔ اللہ نے مثال کے طور پر فرمایا ہے کہ ایک شخص کے کئی مالک ہوں جن کی آپس میں بھی نہ بن سکتی ہو اور دوسرا کسی ایک ہی کے لیے خاص ہو بھلا کبھی ایک جیسے ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں اور یہ سب احسانات ہیں اللہ کے جسے سب تعریفیں سزوار ہیں اور لوگوں کی اکثریت ان حقائق کے علم سے محروم ہے آپ کو بھی جہان فانی سے دار بقا کو تشریف لانا ہے اور انہیں بھی موت کی راہ سامنے ہے اسی سے گزر کر آنا ہے اور پھر میدان حشر میں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے وہاں سب بات طے ہوجائے گی اور ہر ایک کو اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ یا پر اگر تشید ہو تو میت کا معنی آئندہ مرنے کا آتا ہے لہذا اس آیت میں حیات النبی کی بات نہیں قانون قدرت کی بات ہو رہی ہے کہ سب کو اسی راہ سے گزر کر میدان حشر میں پہنچنا ہے نیز حیات النبی کا یہ معنی بھی نہیں کہ آپ ﷺ پر موت وارد نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کی موت ہی یہ ہوتی ہے کہ روح کا تعلق عالم دنیا سے بدل کر عالم برزخ اور آخرت سے جوڑ دیا جاتا ہے حیات ویسی ہی رہتی ہے جیسی دنیا میں تھی۔