Ayahs 39:1–3ترکیب : قال الفراء والزجاج تنزیل مبتدا من اللہ الخ خبرہ الدین منصوب بمخلص و مخلصا حال الذین اتخذوا مبتدء خبرہ محذوف ای یقولون زلفی مصدر و حال موکدۃ والجملۃ مانعبد ھم فی محل النصب بتقدیر یقولون۔
تفسیر : حسن و عکرمہ و جابر بن زید وغیرہم کہتے ہیں۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے، مگر بعض کہتے ہیں کہ قل یاعبادی تین آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ وحشی قاتل حمزہ ؓ کی شان میں لیکن یہ قول معتبر نہیں کیونکہ بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکوں نے آنحضرت ﷺ نے آکر عرض کیا کہ ہم نے زنا و قتل کیا ہے، اب اس کی کیا صورت ہوگی۔ الخ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ میں وحشی کا قصہ پیش آیا، اس پر یہ آیت نازل شدہ پڑھی گئی جس سے راوی نے نازل ہونا سمجھ لیا۔
ان آیات میں خدا تعالیٰ دو باتوں کا اثبات کرتا ہے۔ اول قرآن مجید کا کلام الٰہی اور منزل من اللہ ہونا سو اس کو سب سے اول تنزیل الکتاب الخ میں بیان فرماتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے ازخود نہیں بنالیا ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اللہ کی یہ وہ صفت ہیں ایک یہ کہ وہ عزیز یعنی زبردست و قادر ہے، اپنا فرمان اپنے بندوں کے پاس محمد ﷺ کی معرفت بھیجتا ہے۔ اس کو تمہارے انکار و اصرار کی کچھ پروا نہیں، اس کی دنیا میں ضرور اشاعت ہوگی۔ کسی کے بند کرنے سے بند نہ ہوگی۔ (اس میں تہدید شاہانہ ہے) دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے، قرآن مجید میں سراسر حکمت ہے۔ اگر غور و نظر ہے تو دیکھ لو اس میں تمہارا فائدہ ہے۔ اس میں طرز حکیمانہ ہے۔
پھر اسی بات کو دوسرے پہلو سے بیان فرمایا ہے۔ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق کہ ہم نے اے محمد ﷺ آپ کی طرف قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے، اس میں جو کچھ ہے حق اور مطابق واقع ہے۔ پھر جب یہ ہے تو پہلا حکم یہ ہے فاعبد اللہ مخلصًا الدین کہ خالص اللہ کی عبادت کرو۔ دین کے معنی طاعت و عبادت کے ہیں نہ اس میں شرک ہو نہ ریاکاری یا کوئی دُنیاوی غرض۔ قتادہ کہتے ہیں، دین خالص کلمہ شہادت ہے، یہ وہ دوسری بات ہے جس کا اثبات ان آیات میں مقصود ہے۔ فرماتا ہے کہ اخلاص کی عبادت کا مستحق بھی اللہ ہی ہے مگر جو مشرک ہیں اور اللہ کے سوائے انہوں نے اور بھی معبود بنا رکھے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں۔ مانعبد ھم الخ ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے نزدیک ہمارا مرتبہ پیدا کردیں گے، یعنی ان کو وسیلہ حاجات سمجھتے ہیں۔ اس بات کو رد کرتا ہے، ان اللہ کہ اس بات کا قیامت کے دن وہ آپ فیصلہ کردے گا۔ یعنی ان کا یہ کہنا غلط ہے اور ایسے عذرات کرنے والوں کو جو ازلی بدبخت ہوتے ہیں۔ اللہ سیدھا راستہ نصیب نہیں کرتا۔ وہ عمر بھر اسی گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
Ayahs 39:4–6ترکیب : ان یتخذ مفعول ارا دلا صطفٰی جواب الشرط مایشاء مفعول لا صطفٰی مما یخلق حال سبحانہ جملہ معترضہ بالحق حال من فاعل خلق۔
تفسیر : لو اراد اللہ ان آیات میں خدا تعالیٰ اس زلفی کا رد کرتا ہے۔ کفار و مشرکین جو غیر اللہ کو پوجتے تھے تو ان کو وسیلہ جانتے تھے اور وجہ وسیلہ ہونے کی یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبود خدا کے بیٹے ہیں اور باپ بیٹے میں بڑا رابطہ ہوتا ہے۔ بیٹا باپ سے کہہ کر ہماری حاجتیں روا کروا دیتا ہے۔ مکہ کے مشرک فرشتوں کو پوجتے اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، اسی طرح جنوں کو بھی اور رومن کیتھولک عیسائی بلکہ آج کل کے پر اٹسٹنٹ بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کو ایک دوسرے کا خاوند اور بیوی اور اولاد بناتے بناتے خدا تعالیٰ سے نسب نامہ ملادیتے تھے۔ ہنود میں بھی اس کے قریب قریب خیالات فاسدہ ہیں اور پہلے بھی تھے۔
اس بات کو اللہ تعالیٰ رد کرتا ہے کہ اگر اللہ کو بیٹا ہی بنانا ہوتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے عمدہ اور بہتر ہی کو نہ پسند کرلیتا، تمہارے معبودوں میں کیا بات ہے۔ سبحانہ لیکن وہ ان باتوں سے پاک ہے، وہ اکیلا ہے زبردست ہے۔ بیٹا ہو تو اس کے ساتھ جنس قریب یا بعید یا نوع میں شریک ہو اور بیٹے کا محتاج سمجھا جاوے حالانکہ اس کے ساتھ کسی کو کسی بات میں بھی شرکت نہیں، نہ اس کو کسی کی کسی بات میں حاجت ہے۔ خلق السمٰوٰت آسمان و زمین چاند اور سورج اور سب ستارے اور جملہ مخلوقات اس کی پیدا کی ہوئی ہے اور تمام عالم میں اسی کا ید قدرت تصرفات کرتا ہے۔ وہی رات دن کی الٹی پلٹی کیا کرتا ہے۔ ہر ایک ستارہ اسی کے حکم کا پابند، اسی اندازہ سے حرکت کرتا ہے کہ جس پر اس نے اس کو معین کردیا ہے۔ وہی زبردست ہے، وہی گناہ معاف کرتا ہے، یعنی اس کے تمام کاروبار اسی کے ہاتھ ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بیٹا تو وہ چاہتا ہے کہ جو پیری و ضعف میں اس کو کار آمد یا اپنے بعد وارث سمجھتا ہو، اللہ ان سب باتوں سے مبرا ہے۔
اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ پر اور اس بات پر کہ توالدو تناسل کا سلسلہ تم انسانوں اور حیوانات میں ہے اور وہ بھی ہمارے حکم سے جاری ہے نہ خدا تعالیٰ میں۔ فقال خلقکم من نفس الخ کہ تم سب کو ایک شخص یعنی آدم سے بنایا اور اسی سے اس کا جوڑا یعنی بیوی بھی بنائی اور حیوانات میں سے بھی تمہارے لیے بھیڑ ‘ بکری اونٹ، گائے کے آٹھ جوڑے نر و مادہ پیدا کئے اور تمہاری شکلیں تمہاری مائوں کے پیٹوں میں بناتا ہے۔ تین اندھیریوں میں ایک پیٹ کی دوسری رحم کی تیسری جھلی کی جس کو مشیمہ کہتے ہیں (مجاہد و عکرمہ) پس تمہارا معبود تو یہ ہے کہ اسی کی بادشاہی ہے، اس کو چھوڑ کر تم کہاں بہکے جاتے ہو۔
Ayahs 39:7–8تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ فرمایا تھا کہ انی تصرفون کہاں بہکے جارہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کیوں بھٹکتے پھرتے ہو۔ اس پر ایسے لوگوں کا گمان جاسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری بڑی ضرورت اور ہمارے ایمان و شکر گزاری کی بڑی حاجت ہے جو ہم کو بلاتا ہے، اس کا دفعیہ کرتا ہے، ان تکفروا الخ کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور اس کو تمہاری شکر گزاری کی حاجت بھی نہیں، ہاں یہ ہے کہ اگر بندے اس کی ناشکری و کفران نعمت کرتے ہیں تو وہ اس کو پسند نہیں کرتا، ناخوش ہوتا ہے اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اس کو پسند کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔
اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ بدی کا بندہ خالق ہے، کوئی بدی خدا کی خواہش اور ارادے سے نہیں نہ خدا کسی کا گمراہ کرنا چاہتا ہے، مگر اہل سنت و جماعت اس میں فرق کرتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اور ہوگا نیک و بد سب کا اللہ کو ازل میں علم تھا کہ فلاں وقت فلاں شخص یہ کرے گا، پھر دنیا میں بھی گوبندہ کو اس کے افعال میں اختیار وقدرت عطاء کی ہے، جس پر برے کاموں سے مؤاخذہ ہوتا ہے، مگر ان قدرتوں اور قلبی خطرات کا سلسلہ جو اس کے محرک ہیں، اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اسی کے ارادے سے وابستہ ہے، کیونکہ وہ عالم پیدا کرکے نکما اور بےاختیار نہیں ہو بیٹھا ہے۔ جیسا کہ بعض ہنود کا وہم ہے پس اس لیے جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے۔ نیک یا بد سب اس کے ارادے اور مشیت سے علم ازلی کے مطابق ہورہا ہے اور اس آیت میں کفر پر نارضا مندی ظاہر کی ہے۔ رضا مندی اور چیز ہے ارادہ اور مشیت اور چیز ہے۔ رضامندی نہ ہونے سے ارادہ کا نہ ہونا نہیں ثابت ہوتا۔
مگر اس پر بھی ناسمجھ یہ کہا کرتے ہیں کہ جب سب کچھ اسی کی قدرت و مشیت سے ہے تو اول دن سے جس طرح اس نے ہمارے باپ دادا کے لیے طریقہ اور مذہب بنادیا ہے، ہم اسی کے پابند ہیں، ہمارا کیا گناہ ہے، ہماری گمراہی کے بھی وہی ذمہ دار ہیں، اس کا جواب دیتا۔ 1 ؎ ولا تزروازرۃ و زرا خری کہ جب ہم نے ہر ایک کو عقل و شعور ‘ نیک و بد کی شناخت ‘ ارادہ وقدرت دے دی ہے تو پھر اپنی نیکی بدی کا ہر شخص آپ ہی ذمہ دار ہے۔ باپ دادا نہیں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاوے گا۔ کل نفس بما کسبت رہنیۃ ایک روز تم کو خدا کے پاس پھرجانا ہے، وہ تمہارے کاموں کا نیک و بد نتیجہ تمہیں بتادے گا، اس سے کوئی کام مخفی نہیں کام تو کیا وہ علیم بذات الصدوردلی خطرات بھی تو جانتا ہے، نیت کا حال معلوم ہے۔
واذا مس الانسان کہ اس بت پرستی کا بوجھ جو تم اپنے باپ دادا پر دھرتے اور یہ عذر کرتے ہو، سو یہ بھی غلط ہے کس لیے کہ جب تم پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بےاختیار ہو کر اللہ ہی کو پکارتے ہو اور جب عیش و آرام تم کو دیتا ہے تو اس وقت اس کو بھول جاتے ہو اور اپنے فرضی معبودوں کی طرف اس نعمت کو منسوب کرنے لگتے ہو، آپ تو برباد ہوتے ہو اوروں کو بھی رغبت دلاکر گمراہ کرتے ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ بت پرستی و بدکاری تمہاری خرمستی ہے، اب چند روز دنیا کے مزے لے لو خرمستیاں کرلو، انجام تو جہنم ہے جو برے کاموں کا لازمی اثر ہے۔
1 ؎ اس سے بعض نے ثابت کیا ہے کہ عاقلہ پر دیت نہیں کیونکہ جو کرے وہی بھرے اگر کسی نے خطائً کسی کو مار ڈالا تو عاقلہ (اس کی قوم و کنبہ) کیوں ذمہ دار کئے جانے لگے۔ 12 منہ
Ayahs 39:9–10ترکیب : امن بالتشدید ام متصلۃ دخلت علی من الموصولۃ و اُدغمت المیم فے المیم، واتصالھا بمحذوف تقدیرہ الکا فرخیر امن ھو قانت وقیل ام منقطعۃ مقدرۃ ببل والھمزۃ ای بل امن ھو قانت کالکافر۔ وقرء بالتخفیف فالھمزۃ الاستفھام امن ھو قانت للہ کمن ھو کافر والخبر محذوف لد لالۃ قولہ قل ھل یستوی۔ وقال الفراء الھمزۃ للنداء ومن منادی ای یامن ھو قانت قل ھل الخ ساجد او قائما حالان۔
تفسیر : اشرار و کفار کی سیرت بیان فرما کر ان کے مقابلہ میں ابرار و اخیار کی صفت بیان فرماتا ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ کے لیے شریک بناتے ہیں، ایک وہ بھی نیک بندے ہیں جو رات کے وقتوں میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ سجدہ و قیام کے ساتھ اور آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں، کیا یہ دونوں برابر ہیں، آپ ہی حکم دیتا ہے کہ وہ علم والے اور جاہل کہیں برابر ہوسکتے ہیں، یعنی وہ جاہل ہیں۔ یہ عالم ہیں۔ القنوت الطامۃ عبادت اناء الیل جمع انی بکسر الہمزۃ کمعی و امعاء و قیل واحد ھا اٰناء الیل سے مراد رات کی گھڑیاں اور اس کے اوقات بعض کہتے ہیں، مغرب سے عشاء تک کا زمانہ، بعض کہتے ہیں اول وقت اور درمیانی اور آخر اس میں تہجد کی نماز بھی آگئی۔ رات میں ریاکاری بھی نہیں تخلیہ بھی ہوتا ہے۔ شوروشغب بھی نہیں ہوتا اور نیز آرام کا وقت ہے، نفس پر اس وقت عبادت کرنا شاق گزرتا ہے۔ اس لیے رات کی عبادت افضل قرار پائی، انبیاء و صالحین رات میں زیادہ عبادت کیا کرتے تھے۔ انما یتذکر اولو الباب ان باتوں کو اس آیت میں عجائبِ اسرار ہیں۔ عمل سے شروع کیا ساجدًا وقائمًاسے اشارہ کرکے اور علم پر ختم کیا۔ الذین یعلمون الخ سے اشارہ کرکے اور قانتا اور اناء الیل اور ساجد اوقائما میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کام پر اوقات مختلف ہمیں مداومت کرنا چاہیے، اس سے اول مرتبہ میں مقام قہر منکشف ہوتا ہے، جیسا کہ یحذر الاخرۃ میں اشارہ ہے اور بعد میں اس پر مقام رحمت و انس منکشف ہوتا ہے، جیسا کہ یرجوا رحمۃ ربہ اس پر دال ہے، پھر اقسام اقسام کے مکاشفات حاصل ہوتے ہیں، جیسا کہ ھل یستوی الذین یعلمون الخ دلالت کرتا ہے۔
اس کے بعد جانداروں کے لیے اپنے رسول کو چند نافع باتیں تسلیم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (1) قل یا عبادی الذین الخ کہ میرے ایماندار بندوں سے کہہ دو کہ اپنے رب سے ہمیشہ ڈرتے رہا کریں، یعنی ایمان کے ساتھ تقویٰ و پرہیز گاری بھی ضرور ہے، پھر اس تقویٰ کے منافع بیان کرتا ہے۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا کہ جو اس دنیا میں نیکی کرتا ہے اس کے لیے حسنۃ آخرت میں نیکی اور بھلائی ہے۔ یعنی جنت، بعض کہتے ہیں فے ہذہ حسنتہ سے متعلق ہے، یعنی نیکوں کو اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔ عافیت ‘ صحت ‘ فراغبالی ‘ دشمنوں پر غلبہ ‘ برکت و راحت و عزت، پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارے وطن میں کوئی نیکی کرنے سے مانع ہو تو ارض اللہ واسعۃ خدا کی زمین فراخ ہے اور کہیں چلے جائو۔ اس میں اہل مکہ کو ہجرت کی ترغیب ہے۔ ہجرت میں جو تکالیف پیش آویں ان پر صبر کرو، صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر ملے گا۔
Ayahs 39:11–16ترکیب : ان اعبد اللّٰہ مفعول لامرت مخلصًا حال من الضمیر الفاعل فی اعبد الذین منصوب بمخلص لان اللام زائدۃ والجملۃ مفعول مالم یسم فاعلہ لامرت ویمکن ان یکون المفعول ضمیر افی امرت ای انا ولان متعلق بامرت واول المسلمین خبرا کون عذاب الخ مفعول لاخاف ان عصیت ربی شرط و جو ابہ محذوف الذین خسروا خبران یوم القیامۃ منصوب بخسروا ظلل جمع ظلہ مبتدء لہم خبرہ من فوقہم حال من ظلل ای کانتہ من فوقہم من النار لغت لھا۔
تفسیر : (2) دوسری بات جس کے کہنے کا رسول کو حکم دیا۔ یہ ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ، اول تو انسان کی درستی کے لیے نازیبا باتوں کا ترک لازم ہے تاکہ آئینہ دل اور نقش و نگار سے صاف ہوجاوے، تب اس پر مرغوب نقش ہوگا۔ اس لیے اول تقویٰ کا حکم دیا تھا، اس کے بعد عمدہ باتوں کا عمل میں لانا ہے۔ ایمان و اسلام کے معنی عمدہ باتوں میں سب سے مقدم عبادت ہے، پھر اس کے دو رکن ہیں، ایک عمل قلب یعنی اخلاص و حسن عقیدت جس میں ریا کاری و شرک کی بو بھی نہ ہو اس لیے اس کو اس جملہ میں بیان فرمایا کہ کہہ دے مجھے عبادتِ الٰہی کا نہ اور کسی کا حکم ہوا اور وہ بھی اخلاص کے ساتھ، اس کو ایمان بھی کہتے ہیں۔ یہ اعلیٰ رکن ہے، اس لیے اس کو مقدم کیا۔ دوسرا رکن ہاتھ پائوں، اعضاء کو کام میں لانا، اس کو بعد میں بیان کیا، فقال و امرت لان اکون اول المسلمین کہ مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں سب سے اول اور امر الٰہی کو بجا لائوں۔
ایمان و اسلام کے معنی : الاسلام گردن نہادن، یعنی فرمانبرداری کرنا۔ شروع میں گو ایمان و اسلام دونوں لفظوں سے ایک ہی بات سمجھی جایا کرتی ہے، مگر لغوی معنی کے لحاظ سے دونوں میں فرق ہے، ایمان اعتقاد صحیح ‘ اللہ اور رسول اور قیامت اور ملائکہ و کتابوں کو برحق جاننا اور اسلام نماز و زکوٰۃ و حج و روزہ ادا کرنا ‘ زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرنا۔ جیسا کہ صحیحین میں آیا ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے لوگوں کے سکھانے کے لیے آنحضرت ﷺ سے ایمان و اسلام کے معنی پوچھے اور آپ نے یہی جواب دیا۔
(3) ان احکام میں اس بات کا بھی احتمال ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنا بھی بہتر ہے، اگر نہ کرے تو کوئی حرج بھی نہیں، اس بات کو اس جملہ میں کہلوادیا قل انی اخاف الخ کہ ان سے کہہ دے کچھ تمہارے لیے نہیں بلکہ مجھے بھی خوف ہے کہ اگر میں ان احکام میں نافرمانی کروں گا تو بڑے دن یعنی قیامت میں عذاب ہوگا، یعنی یہ امر وجوب کے لیے ہے۔
فائدہ : رسول کو ان باتوں میں مامور کرنے سے یہ بات بتلائی گئی کہ بادشاہوں کی طرح سے معاملہ نہیں کہ اوروں کے لیے حکم دیں اور آپ عمل نہ کریں اور یہ بھی ہے کہ جو آپ عمل نہیں کرتا اور ان کو کہتا ہے، اس کی بات کی تاثیر نہیں ہوتی اور نیز مخاطب کو دغدغہ باقی رہتا ہے اور خود کرنے میں اور سب سے پہلے کرنے میں اطمینان ہوجاتا ہے اور نیز اس میں ادنیٰ و اعلیٰ کا فرق بھی اٹھادیا گیا۔ (4) حکم دینے کے بعد رسول کی زبان سے اس کے اقرار کرنے کا بھی حکم دیا کہ قل اعبداللہ الخ میں تو خالص اللہ کی عبادت کرتا ہوں بموجب حکم الٰہی تمہیں اختیار ہے جس کی چاہو کرو ‘ نیک و بدبتلا دیا گیا۔ (5) قل ان الخاسرین ان سے کہہ دے ان باتوں پر عمل کرنے سے کوئی خرابی و نقصان نہیں بلکہ نقصان اور خسارہ ان کو ہے کہ جنہوں نے اس پر نہ آپ عمل کیا نہ اپنے لوگوں کو کرنے دیا، قیامت کے دن آپ بھی نقصان میں پڑا اور اپنے اہل و عیال کو بھی ڈالا، یہ بڑا خسارہ ہے، ان پر اس روز آگ چاروں طرف سے محیط ہو کر سایہ کرے گی، یہی تو وہ بات ہے کہ جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندوں ڈرو اور بچو۔
Ayahs 39:17–20ترکیب : الطاغوت کالر حموت والعظموت بناء مبالغۃ فی المصدر، ویونث قبیل اعجمی کطالوت وجالوت وقیل عربی من الطغیان الان فیہا قلبًا بتقدیم اللام علی العین، والمراد بھا الاوثان والشیطان وقیل الکاھن، ان یعبد وھافی محل نصب علی البدل من الطاغوتبدل اشتمال و انابوا معطوف علی اجتنبوا لہم البشری الجملۃ خبروالذین افمن من موصولۃ فی محل رفع بالا ابتداء والخبر محذوف ای کمن یخاف او شرطیۃ افانت جوابہ۔
تفسیر : بت پرستوں کی برائی اور ان پر پیش آنے والی مصیبت کے ذکر کے بعد ان سے بچنے والوں اور خدا کی طرف رجوع ہونے والوں کے خصائل اور ان کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال والذین اجتنبوا الطاغوت کہ جو لوگ بتوں اور شیطانی طریقہ اور ان کی پرستش سے بچتے ہیں اور صرف یہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ انابوا الخ اللہ کی طرف بھی رجوع ہوتے ہیں، ان کے لیے خوشخبری ہے۔ موت کے وقت اور قبر میں اور وہاں سے نکلنے کے وقت اور میدان حشر میں ملائکہ ان کو جنت اور مغفرت کا مژدہ دیں گے بلکہ دنیا میں بھی خدا پرستوں کو نہ صرف مصائب کے وقت بلکہ ہر لحظہ روحانی طور پر مژدہ اور خوشحالی حاصل رہتی ہے، پھر اس خوشخبری کو اپنی رحمت عامہ سے عام کرنے کے لیے اپنے رسول کو حکم دیتا ہے۔ فبشر عباد الذین کہ میرے ان بندوں کو خوشخبری اور مژدہ دے جو بات سنتے ہیں اور جو اچھی بات ہوتی ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ یستمعون القول سے مراد بعض نے یہ لیا ہے کہ وہ قرآن و سنت ‘ نبی کی باتیں سنتے ہیں، پھر جو محکم ہے، اس پر عمل کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں القول سے مراد عام ہے کہ اچھی بری سب باتیں سنتے ہیں مگر بری باتوں پر نہیں بلکہ اچھی باتوں پر چلتے ہیں اور انصاف و عقل کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ جو کوئی نیک بات کہے اس پر عمل کرے۔
ایسے لوگوں کی جزا بیان فرماتا ہے۔ اولئک الذینالخ کہ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کو اللہ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں نہ وہ کہ حق بات کو ہرگز نہیں مانتے، کوئی لاکھ سمجھائے مگر دل پر اثر ہی نہیں۔ یہ وہ ہیں کہ جن کے لیے تقدیرِ الٰہی میں عذاب مقرر ہوچکا ہے۔ افمن حق علیہ کلمۃ العذاب کے یہ معنی ہیں، پھر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اس میں آپ کا کیا ہے، کیا آپ کسی کو جہنم سے باہر نکال سکتے ہیں کہ جو ازلی نوشتہ سے جہنمی ہوچکا ہے، اس کے بعد ان نیک لوگوں کی جزا بیان فرماتا ہے جو مرنے کے بعد ان کو ملے گی۔ لکن الذین اتقوا بہم کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت میں وہ بالا خانہ عطا ہوں گے کہ جو ایک کے اوپر دوسرا بنتا چلا گیا ہے اور ان میں کھڑکیاں لگی ہوئی ہیں اور ان مکانوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، آبِ رواں پر ایسے خوش قطعہ مکانات کا عجب لطف ہوتا ہے۔ فرماتا ہے وعداللہ ان باتوں کا اللہ نے وعدہ کرلیا ہے اور وہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کیا کرتا۔
Ayahs 39:21–22ترکیب : ان اللہ الخ الجملۃ سد مسد المفولین ینابیع جمع ینبوع وھو یفعول من نبع ینبع وھی منصوب بنزع الخافض لان التقدیر فسل کہ فی ینابیع یھیج ای یجف و بیبس یقال ھاج البنت یھیج ھیجا اذا تم جفافہ او یخضر۔ ولاحطام مایتفتت و یکسر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اور آخرت کے وہ صفات بیان فرما چکا کہ جن سے اس کی طرف رغبت ہو تو اس کے بعد دنیا کی بےثباتی بیان کرکے اس سے نفرت دلاتا اور اسی بات کو حشر برپا ہونے کا نمونہ بتاتا ہے۔ فقال الم تران اللہ انزل من السماء ماء کہ اے نبی ! یا اے ہر مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ اوپر سے پانی بارش کا برساتا ہے، پھر اس کو زمین میں پیوست کردیتا ہے۔ زمین اس کو پی جاتی ہے، پھر اس سے مختلف رنگتوں کی کھیتیاں اگتی ہیں۔ زرد ‘ سبز، سفیدی مائل یا گیہوں دھان وغیرہ پھر وہ پک کر تیار اور خشک ہوجاتے، پھر زرد نظر آنے لگتی ہے۔ پھر کٹ کر روندے جاتے ہیں اور چورا چورا ہوجاتے ہیں، اس میں عقلمندوں کے لیے بڑی سمجھ کی جگہ ہے۔ وہ یہ کہ اسی طرح آدمی کا حال ہے پانی کے قطرہ سے پیدا ہوتا ہے، مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کوئی گورا کوئی کالا کوئی خوبصورت، کوئی بدصورت مگر اٹھتی اور لہلہاتی جوانی اور اس کی امنگیں بڑی دلفریب اور خوش آیند ہوتی ہیں جس میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔ پھر بوڑھا ہوجاتا ہے۔ زرد پڑجاتا ہے۔ وہ تمام خوبیاں اور اچھل کو درخصت ہو کر بدمنظر ہوجاتا ہے اور اپنی جان بھی وبال ہوجاتی ہے نہ وہ آنکھوں کی روشنی اور دانتوں کی چمک چہرے کی دمک ہاتھ پائوں کا کس بل باقی رہتا ہے نہ وہ حوصلہ پھر ایک روز مرجاتا ہے، پھر چند روز کے بعد تمام جسم چور چور ہو کر ہوا میں ذرے ہو کر اڑتا پھرتا ہے۔ وہ چند روزہ عیش و نشاط ‘ جاہ و عزت ‘ شادی و غم خواب و خیال ہوجاتا ہے۔ پھر جس طرح وہ قادر مطلق اگلے سال پھر انہی کھیتیوں میں کھیتیاں اگاتا ہے اور پھر وہی بہار دکھاتا ہے، اسی طرح مرنے کے بعد انسان قیامت میں پھر اسی بدن سے کھڑا ہو کر اس چند روزہ زیست کے اعمال نیک و بد کا نتیجہ بھگتے گا۔ عبرت عبرت۔
ان بیانات کے بعد جو اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور دنیا سے نفرت کرنے پر دلالت کرتے ہیں، اس آیت افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام الخ میں یہ بات بتاتا ہے کہ ان بیانات سے وہی لوگ نفع اٹھاتے اور ہدایت پاتے ہیں کہ جن کے اللہ نے سینے کھول دیے اور دل روشن کردیے ہیں۔
شرح صدر، خدا نے جواہر نفوس کو مختلف الماہیۃ پیدا کیا پس بعض تو نورانی ‘ شریف ‘ الہیات سے مائل ‘ روحانیات میں ملنے کے راغب ہیں اور بعض خسیس ظلماتی جسمانیات کی طرف مائل ہیں۔ لذات حسیہ کی طرف حریص۔ پس یہ اعلیٰ درجہ کی استعداد جو ادنیٰ محرک سے قوۃ کے مرتبہ سے فعلیت کی طرف آنے کے لیے آمادہ ہے۔ اسی کا نام شرح صدر ہے۔ جیسا کہ گندھک یا بارود ذرا سی آگ سے بھڑک اٹھنے کے لیے تیار ہے۔ برخلاف گیلی لکڑیوں کے پس جن میں یہ استعداد ہے، انہی کو نور الٰہی نصیب ہے اور صحت روحانیہ کے لیے ذکر الٰہی سے بڑھ کر اور کوئی دوا نہیں، پس جس کو اس سے بھی شفا نہیں تو اب اس کے علاج کی کوئی توقع نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ اس جملہ میں اس کو ذکر کرتا ہے۔ فویل للقاسیۃ قلوبہم من ذکر اللہ اولئک فی ضلال مبین، ترمذی و بیہقی نے نقل کیا ہے کہ بغیر ذکر اللہ کے بہت کلام نہ کیا کرو کیونکہ اس سے دل سخت ہوتا ہے اور جو سخت دل ہے وہ اللہ سے بہت دور ہے۔ اس معنی میں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎
دل زپر گفتن بمیرد دربدن گرچہ گفتار شبوددُرّ عدن
Ayahs 39:23–24ترکیب : اللہ مبتدا نزل خبرہ۔ کتابا بدل من احسن الحدیث اوحال منہ۔ متشابہًا صفۃ لکتاب ای یشبہ بعضہ بعضا فی الحسن والاحکام مثانی صفۃ اخری لکتاب وھو جمع مثنٰی او مثنٰی من التثنیۃ بمعنی التکریر تقشعر صفۃ لکتاب اوحال منہ۔ اقشعرار مویٔ برتن خاستن، پھر یری۔
تفسیر : چونکہ قرآن مجید بھی اس خبیث مرض سے شفا حاصل ہونے کا بڑا قوی نسخہ ہے اور دل میں نور پیدا کرنے کے لیے نہایت روشن شمع ہے، اس نے قرآن مجید کے بعض فضائل اور اس کا منزل من اللہ ہونا بیان فرماتا ہے۔ فقال اللہ نزل احسن الحدیث یعنی قرآن مجید کو جو سب کلاموں سے عمدہ ہے، اس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ کلام میں ایک شان ہوتی ہے جو خود بتلادیا کرتی ہے کہ یہ کس کا کلام ہے، اسی لیے یہ مقولہ مشہور ہے۔ کلام الملوک ملوک الکلام۔ اب قرآن مجید کو بغور دیکھو کہ وہ کیا بتلاتا ہے۔ کلام میں دو حسن ہوا کرتے ہیں، ایک ظاہری وہ کیا فصاحت و بلاغت جو طبائع بشریہ کو اپنے مقناطیسی جذب سے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ دوسرا معنی وہ کیا اس کے مطالب کی عمدگی جو انسانی حالات اور اس کے جذبات اور اس کے تمام مقاصد کو جو دار آخرت سے تعلق رکھتے ہوں، حاوی ہو۔ انہیں طریقوں سے جو شاہنشاہوں کے کلام میں ہونے چاہییں۔ پس یہ دونوں باتیں قرآن مجید میں اس خوبی کے ساتھ ہیں کہ جس کا نظیر نہیں اور اس کا ثبوت ہم متعدد مقامات میں کر آئے ہیں، اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی یہاں ایک ہی لفظ میں اشارہ کردیا، یعنی احسن الحدیث میں دوسرا وصف اس کا ایک یہ ہے کہ وہ متشابہًاہے کہ جس آیت کو دیکھئے ایک دوسرے سے اس خوبی میں مشابہ ہے، یہ نہیں کہ دس پانچ مقامات میں تو الٰہیات کا جلو نمودار ہو اور دوسرے مقامات میں شہوت انگیز اور سلف میں عیب لگانے والے قصے اور بےسود افسانے اور توہمات کی شاعرانہ طور پر بندشیں جیسا کہ توریت و اناجیل موجودہ اور وید و دساتیر کے ملاحظہ سے ظاہر ہے اور نیز یہ بھی ہے کہ احکام و تذکیر میں کتب سابقہ منزل من اللہ کے مشابہ ہے۔ پہلے جو احسن القول کا ذکر تھا۔ یہاں بتلایا گیا کہ وہ قرآن مجید ہے۔ تیسرے مثانی اس میں قصص و مواعیظ و احکام لوگوں کے سمجھانے کے لیے مکرر یعنی بار بار نئے نئے اسلوب سے مذکور ہوئے ہیں، مگر پھر بھی کمال بلاغت ہے یا یہ مراد کہ قرآن بار بار پڑھا جاتا ہے۔ اس کی حلاوت مکرر پڑھنے کی طرف مجبور کرتی ہے اور دل پر گراں نہیں گزرتا اور کلاموں میں یہ بات نہیں، ایک بار پڑھ کر دوبارہ پڑھنے کو دل نہیں چاہتا، برخلاف قرآن مجید کے یا یہ مراد کہ قرآن میں ہر بیان دوہرا ہے امر ہے تو نہی بھی، جنت کا ذکر ہے تو دوزخ کا بھی ہے۔ وقس علیہ۔ چوتھے تقشعر منہ اس کے پڑھنے سے دل پر خوف طاری ہوتا ہے۔ بدن پر خدا ترسوں کے روئیں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قوت بہیمیہ پست ہوتی ہے، ملکیت کو غلبہ ہوتا ہے، ایسے وقت میں انقلاب کا اثر جسم پر بھی ہوتا ہے۔ یہ روحانی اور معنوی صفت ہے جو کلام الٰہی کو لازم ہے۔ ثم تلین جلودھم وقلوبہم الی ذکر اللہ اس کے بعد ذکر الٰہی اور اس کے انس سے ان کے دل نرم ہوتے ہیں۔ یعنی اطمینان ہوتا ہے۔ جلال کے مشاہدہ سے جس طرح خوف تھا اسی طرح جمال کے مشاہدہ سے سکون پیدا ہوتا ہے۔ فرماتا ہے ذلک یہ قرآن اللہ کی ہدایت ہے، اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو اس سے بدنصیبی ہے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ جو قرآن سے نفع اٹھاتا ہے۔ آتش جہنم کو اپنے منہ سے روکتا ہے، یعنی دور کرتا ہے۔ قیامت کے روز پھر کیا وہ اس کے برابر ہے جو عذاب میں گرفتار ہوگا اور ان ظالموں کو کہا جاوے گا کہ اپنے بدعمل کا مزہ چکھو۔
Ayahs 39:25–31ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل تھے۔ ہمارے انبیاء اور آیات کو جھٹلایا تھا، پھر ان پر اس طرح سے عذاب آیا کہ ان کو اس کا گمان بھی نہ تھا کہ آرام سے پڑے سوتے تھے۔ بلا آگئی، پھر یہی نہیں کہ وہ ہلاک ہوگئے، بلکہ فاذا قہم اللہ الخزی فی الحیوۃ الدنیا ان کو دنیا میں رسوائی اور ذلت کا بھی خوب مزا چکھایا اور مطلب اس کے ذکر سے یہ ہے کہ پورا عذاب اور کامل بلاوہ ہے کہ جس میں رسوائی اور ذلت اور رنج و غم بھی ہو اور غرض اس سے یہ ہے کہ مخاطبین بھی سن کر خبردار رہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ دنیا ہی کی رسوائی اور عذاب پر بس نہیں بلکہ ولعذاب الآخرۃ اکبر آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ان کے لیے آیا ہے۔ لوکانوا یعلمون اگر وہ اس بات کو خوب جانتے اور عمل کرتے تو ایمان لاتے، مگر ان کو کب باور ہوتا تھا۔ تمسخر ہی کرتے رہ گئے کہ بلا میں گرفتار ہوگئے۔
ان بیانات شافیہ اور فوائدِ متکاثرہ اور مطالب نفیسہ کے بیان کے بعد یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیانات حد کمال کو پہنچ گئے۔ فقال ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل کہ قرآن میں ان باتوں کو ہم نے خوب کھول دیا ہے، ہر ایک بیان کو مثال کی طرح واضح کردیا ہے۔ لعلہم یتذکرون تاکہ لوگ سمجھیں اور خوب کریں پھر جو اس پر بھی نہ سمجھے تو یہ سمجھو کہ اس سے خدا ہی سمجھے گا وہ ازلی بدبخت ہے۔
اور جبکہ یہ بیان کیا کہ قرآن میں ایسے ایسے نفیس بیانات ہیں تو ضرور ہوا کہ کچھ اوصاف قرآن مجید کے بھی بیان کئے جاویں۔ فقال قرآنًا عربیًا کہ یہ کتاب قرآن ہے، یعنی پڑھا جاتا ہے۔ طبائعِ بشریہ سلیمہ اس کی تلاوت سے لذت اٹھاتے ہیں اور عجب لطف پاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو اس کے معنی بھی نہیں سمجھتے وہ بھی ایک کیفیت پاتے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ قیامت تک یہ کتاب لوگوں کی زبان پر ہوگی، سو ایسا ہی ہے۔ برخلاف اور ادیان اور ان کی کتابوں کے۔
دوسری صفت یہ کہ عربیًا عرب کی شیریں اور نہایت فصیح بول چال میں اتارا گیا ہے، کسی اور ملک کی سخت اور پیچیدہ زبان نہیں جو زبان پر ثقیل ہو۔ اگرچہ ہر ملک کے لوگ اپنی زبان پر قادر ہوتے ہیں اور اسی کے کلمات ان پر سہل ہوتے ہیں، مگر اس سے قطع نظر فی نفسہٖ بھی زبانوں میں تفاوت ہے کہ کوئی نہایت سلیس اور شیریں اور سہل الوصول ہوتی ہے اور کوئی لٹھہ یا سنگ خارا۔ تیسری صفت غیر ذی عوج کہ قرآن میں کوئی کجی نہیں کوئی مضمون اور کوئی مطلب ایسا نہیں کہ جس سے طبیعت سلیمہ انکار کرے اور اس کو مستبعد جانے اور نہ الفاظ و عبارت میں کوئی کجی ہے۔ کتاب الٰہی کے لیے یہ دونوں باتیں پر ضرور ہیں اور انہیں لحاظ سے کلام اپنے قائل کی شان بتایا کرتا ہے۔
لعلہم یتقون یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ لوگ خدا سے ڈریں، تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کریں۔ پہلے یتذکرون فرمایا تھا کہ سمجھنے کے بعد تقویٰ حاصل ہوا کرتا ہے۔
منکرین پر آنے والی بلائوں کے بیان کرنے کے بعد مناسب ہوا کہ کچھ ان کے طریقے کی بھی برائی بیان کرے کہ جس کے سبب ان پر یہ بلائیں دنیا و آخرت میں آنے والی ہیں۔ فقال ضرب اللہ مثلاً رجلا فیہ شرکاء متشاکسون ورجلاً سلما لرجلالخ کہ اللہ تعالیٰ تم سے ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص کے تو چند باہمی ضدی اور مساوی شریک ہیں، ان میں سے اگر ایک کسی کام کو کہتا ہے تو دوسرا اس کے برخلاف حکم دیتا ہے یا ایک اس کے لیے کوئی چیز دینا چاہتا ہے تو دوسرا روک لیتا ہے اور ایک شخص ایک ہی کا ہے، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ پہلا بڑی حیرانی و سرگردانی میں ہے، دوسرا نہیں، یہی حال مشرک کا ہے کہ جو کئی معبودوں کا بندہ بنا ہوا ہے اور موحد ایک ہی معبود کو مانتا ہے، یعنی اللہ کو۔ یہ شرک اور مشرکوں کی برائی میں مثال بیان ہوئی ہے۔
الحمد اللہ جب اور کوئی معبود نہیں تو سب انعامات و افضال جو بندے پر ہیں، ایک ہی شخص کی طرف سے ہیں، یعنی اللہ کی طرف سے، پس جس کے انعام و نعماء ہیں وہی حمدو ستائش کا مستحق ہے اور کوئی نہیں پس اسی کی حمد اور اسی کا شکر کرنا چاہیے۔ بل اکثرھم لایعلمون لیکن اکثر وہ مشرک اس بات کو جانتے نہیں۔
اور ممکن ہے کہ جس طرح مطالب ثابت کرنے کے بعد کلمات حمدوثناء مستدل زبان پر اظہار مسرت کے لیے اور دشمنوں پر فتح یابی ظاہر کرنے کے لیے لایا کرتا ہے۔ اس طرح الحمدللہ یہاں آیا ہو۔
ان بیانات کو تمام کرکے اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی اور اطمینان دیتا ہے۔ فقال انک میت و انہم میتون کہ دنیا چند روزہ ہے، ایک روز اے نبی علیک السلام تجھے بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ مر کر خدا تعالیٰ کے پاس جانا ہے۔ ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون پھر تم وہاں اللہ کے پاس جھگڑو گے۔ حق و باطل وہاں ظاہر ہوجاوے گا، گو اب دنیا میں یہ انکار کرتے ہیں اور دلائل حقہ میں غور نہیں کرتے، نہ کریں مرنے کے بعد سب حال معلوم ہوجاوے گا۔
آنحضرت ﷺ کی نسبت جو مرنے کا لفظ اطلاق ہوا حالانکہ آپ شہیدوں سے رتبہ میں کہیں بڑھ کر ہیں اور شہیدوں کی نسبت فرمایا تھا۔ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ اموا تاکہ ان کو مردہ نہ سمجھ بل احیاء بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس روزی کھایا کرتے ہیں۔ ان دونوں باتوں میں کچھ تعارض نہیں کس لیے کہ وہ حیات اور ہے جس کو حیات ابدی کہنا چاہیے اور یہ موت عرفی ہے۔ جسم سے روح کی مفارقت، اس مسئلہ کی ہم اس آیت کی تفسیر میں تشریح کرچکے ہیں۔
1 ؎ اس جگہ سے عذاب آیا جس کو جانتے نہ تھے۔
Ayahs 39:32–35ترکیب : اذ جاء ظرف لکذب بالصدق ای کذب القرآن فی وقت مجیئہ ای من غیر تدبر و تفکر مثویٰ المقام من ثویٰ ثیوی ثواء و ثویا مثل مضی مضاء و مضیا اذا قام بہ۔ الذی جائالموصول فی موضع رفع بالابتداء اولئکالجملۃ خبرہ والمبتداء و ان کا مفرد الفظا ولکنہ فی معنی الجمع لانہ یراد بہ الجنس لیکفر اللام متعلقہ بمحذوف اسوء اسم تفضیل و قیل بمعنی اسئی ویجزی معطوف علی یکفربا حسن اضافۃ الشی الیٰ بعضہ للتوضیح۔
تفسیر : قیامت میں خصوصیت اور فیصلہ ہونے کا بیان فرما کر نیک و بددونوں فریقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ کون حق پر اور مستحق نجات و درجات ہے اور کون ناحق پر اور قابل عذاب ہے ؟ فقال فمن اظلم ممن کذب کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم اور ناحق پرست ہے کہ جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ اس کے بیٹا ہے اور جورو ہے اور فرشتے اور جن بیٹیاں ہیں اور فلاں فلاں کو اس نے اپنے کارخانہ قضاء و قدر کا اختیار دے کر ان کی پرستش کی اجازت دی ہے یا فلاں باتیں حرام اور فلاں حلال کی ہیں، حالانکہ اس نے ایسا حکم نہیں دیا۔ (یہ مشرکوں کی عادت کا بیان ہے) وکذب بالصدق اور سچی بات کو جھٹلاوے ‘ کتاب اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرے اور وہ بھی بےسوچے سمجھے جیسا کہ کفار مکہ کی عادت تھی یا اور جہلاء اباء و اجداد و رسم و رواج کے بندے ایسا کرتے ہیں۔ ثابت ہوا کہ جس کی یہ صفت ہے وہ ناحق پر ہے، اس کی سزا جہنم ہے۔ الیس فی جہنم مثوی للکافرین استفہام کے طور پر سزا کا بیان کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ مخاطب کے نزدیک بھی ایسے نالائقوں کے جہنمی ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ گویا ان کے منہ سے اقرار کرادیا۔ الزام اس کو کہتے ہیں۔ والذی جار بالصدق الخ یہاں سے دوسرے فریق یعنی اہل حق کا بیان کرتا ہے، کسی کا نام لے کر نہیں بلکہ انہیں اوصاف کا ذکر کرکے کہ جن کی بابت منکرین کو کلام تھا کہ جو حق بات لایا اور حق کی تصدیق کی، بعض مفسرین کہتے ہیں، ان الفاظ میں خاص خاص شخصوں کی طرف اشارہ ہے۔ پھر بعض کہتے ہیں جاء بالصدق سے مرادنبی ( علیہ السلام) ہیں کہ وہ حق بات دین اسلام اور قرآن دنیا میں خدا کی طرف سے لائے و صدق بہ سے مراد ابوبکر ؓ یا تمام اہل اسلام یا حضرت علی ہیں، مگر صحیح تر یہی ہے کہ آیت عام ہے۔ گو اس میں یہ حضرات بھی بطریق اولیٰ داخل ہیں بلکہ جو کوئی کلمہ توحید کی طرف بلاوے اور احکامِ الٰہی بتاوے اور جو کوئی اس کو قبول کرے اولئک ھم المتقون وہی لوگ پرہیز گار خدا ترس ہیں۔ یہ صاف صاف ان کے اہل حق ہونے کی شہادت دی گئی اور اس طرح پر کہ جس کو ہر صاحب طبع سلیم مان سکتا ہے۔ آیت میں صرف اعتقادیات کی درستی پر متقی ہونے کا حکم نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس میں عملیات بھی داخل ہیں، کس لیے کہ کامل تصدیق اور پورا حق کا لانا بغیر اس کے نہیں کہ ان باتوں پر عمل بھی کرے۔ لہم ما یشائون الخ یہ ان کی جزاء بیان ہوتی ہے جو مرنے کے بعد ملے گی کہ وہ جو چاہیں گے اپنے رب کے یہاں پاویں گے، اس میں سب چیزیں آگئیں۔ ذلک جزاء المحسنین یہ بدلہ ہے، نیکوں کا اور یہ بدلہ اس لیے دیا کہ لیکفر اللہ اللہ ان سے جو کچھ بشریت سے خطائیں ہوگئیں، معاف کرے اور لفظ اسوائاشارہ کرتا ہے کہ بڑے گناہ بھی معاف کردے گا اور ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دے گا، ان کو برباد نہ کرے گا۔ یہ قطعی فیصلہ سنادے گا۔
1 ؎ دین حق۔ 12 منہ
Ayahs 39:36–40تفسیر : کفار مکہ کا اپنے معبودوں کی نسبت اعتقاد بڑھا ہوا تھا، ان کو نافع وضار جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو ان کو نہیں مانتا اس کو برباد کردیں گے۔ عامہ ہنود کا بھی کالی بھوانی وغیرہما کی نسبت اب تک یہی اعتقاد ہے، اس لیے وہ اپنے معبودوں کی برائی سن کر نبی ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے، چناچہ عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے کہا تھا یا تو ہمارے معبودوں کی برائی سے باز آؤ ورنہ ہم ان سے کہہ دیں گے وہ تم کو سڑی کردیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ اس خیال کے غلط کرنے کو اول اپنی مدد اور حمایت کا بھروسہ دلاتا ہے۔ فقال الیس اللہ بکاف عبدہ کہ کیا خدا اپنے بندے کی مدد کو کافی نہیں ؟ یعنی کافی ہے۔ ہر مہمات اور ہر بات میں وہی بس کرتا ہے، اس پر بھروسہ کرنا چاہیے، اس کے بعد ان کی تخویف کا ذکر کرتا ہے۔ فقال ویخفونک بالذین من دونہ کہ اے نبی ! تجھ کو اللہ کے سوا اور معبودوں سے ڈراتے ہیں، حالانکہ یہ ڈرانا ان کی گمراہی اور خیالات فاسدہ کا نتیجہ ہے جو خدا کی تقدیر ازلی سے ان کو دی گئی ہے، اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد کہ جن کو خدا نے گمراہ کردیا ہے۔ پھر کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور اہل ایمان کو اللہ نے ہدایت دی ہے، وہ اپنے حقیقی معبود پر بھروسہ رکھتے ہیں، اس کو نافع و ضار سمجھتے ہیں۔ ومن یہد اللہ فمالہ من مضل اور اللہ جس کو ہدایت دے اس کو کون گمراہ کرسکتا ہے۔ الیس اللہ بعزیز ذی انتقام کیا اللہ زبردست ‘ بدلہ لینے والا نہیں ہے، کیوں نہیں پھر اس کے دوستوں کو کوئی کیا تکلیف دے سکتا ہے وہ انہی کو غارت کردے گا۔
اس کے بعد ان کے اس اعتقاد فاسد کی خرابی بیان کرتا ہے۔ فقال ولئن سالتہم من خلق السمٰوٰت والارض کہ اگر تو اے نبی یا اے مخاطب ! ان سے یہ پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا تو وہ کہیں گے اللہ نے۔ (یہ اس لیے کہ اس بات کا علم ان کی فطرت میں تھا) اس بات سے ان کو سمجھایا گیا ہے کہ جب اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے تو اس کے سوا اور کون ہے جو نفع و نقصان دے سکے۔ پھر ان سے کیوں ڈرتے اور کیوں ڈراتے ہو ؟ دوسری دلیل اس بات پر ان کے روزمرہ کے حالات سے بیان فرماتا ہے۔ قل افرایتم ما تدعون الخ کہ ان سے یہ پوچھ کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے کوئی ضرر دینا چاہے تو تمہارے معبودوں میں سے وہ کون ہے جو اس کو در کردے گا ؟ کس لیے کہ وہ سب پر غالب اور سب پر اسی کا حکم نافذ ہے یا وہ مجھے کوئی بھلائی دینی چاہے تو کون اس کو روک سکتا ہے۔ حجت تمام کرکے آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ قل حسبی اللہ کہہ دے مجھے اللہ بس کرتا ہے۔ علیہ یتوکل المتوکلون اسی پر تو کل کرنے والے توکل یعنی بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں۔ توکل اللہ پر بھروسہ کرنا اسی کو کار ساز جاننا عام ہے کہ اسباب کو عمل میں لایا جاوے یا نہیں، اس کے بعد قوم کو آیندہ آنے والی مصیبت سے متنبہ کرتا ہے۔ قل یا قوم کہ کہہ دو اے قوم ! اپنی جگہ پر جو کرتے ہو کرو میں بھی جو کرتا ہوں کررہا ہوں، تم کو ابھی معلوم ہوجاوے گا کہ کس پر دنیا میں رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے، (چنانچہ کفار پر قحط اور بدر کا واقعہ آیا) اور کس پر مرنے کے بعد عذاب دائمی اترتا ہے ؟