Ayah 39:3اللہ واحد ہے قہار ہے عزیز ہے غفار ہے، اس نے چاند سورج کو مسخر فرمایا، انسان کو تین اندھیروں میں پیدا فرمایا
یہاں سے سورة زمر شروع ہو رہی ہے اوپر سات آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے ان آیات میں انزال قرآن اور اثبات توحید اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ جل شانہٗ کی شان خالقیت کا بیان فرمایا ہے۔
اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو عزیز یعنی عزت والا اور غلبہ والا ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے پھر غیبوبت سے تکلم کی طرف التفات فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے لہٰذا آپ اپنے دین کو یعنی اعتقاد کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھتے ہوئے اللہ ہی کی عبادت کیجیے اس میں بظاہر آپ ﷺ کو خطاب ہے اور اسی کے ذیل میں دوسرے بندوں سے بھی خطاب ہوگیا جب آپ پر لازم ہے کہ توحید پر جمے رہیں تو دوسروں پر توحید اختیار کرنا کیونکر فرض نہ ہوگا، پھر خطاب عام فرمایا (اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ) خبردار دین خالص اللہ ہی کے لیے (یعنی سب بندوں پر فرض ہے کہ موحد بنے رہیں۔ )
اس کے بعد مشرکین کی ایک بڑی گمراہی اور ان کے جھوٹے دعوے کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ جن لوگوں نے اللہ کے سوا اولیاء بنا رکھے ہیں۔ یعنی شرکاء تجویز کر رکھے ہیں وہ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا مقرب بنا دیں گے یعنی ہماری عبادات کو اللہ کے حضور میں پیش کردیں گے یا ہماری حاجت روائی کے لیے سفارش کردیں گے بات یہ ہے کہ شیطان بڑا چالاک ہے گمراہ کرنے میں ماہر ہے اس سلسلہ کے داؤ پیچ خوب جانتا ہے جب لوگوں کو شرک پر ڈالا اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے داعیوں نے توحید کی طرف بلایا اور شرک کی برائی بیان کی تو مشرکین کی سمجھ میں کچھ بات آنے لگی لہٰذا شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھا دی کہ تمہارا یہ غیر اللہ کی عبادت کرنا توحید کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ توحید ہی کی ایک صورت ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں جب تک کوئی واسطہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی تک تم کہاں پہنچ سکتے ہو اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو یہ تو وسائط ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری سفارش کردیں گے لہٰذا یہ بھی ایک طرح سے اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہوئی اور اس کی ذات عالی تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہوا، دیکھو دنیا میں چھوٹے موٹے وزیروں سے کام لینا ہو تو سفارش کی ضرورت پڑتی ہے جب بلاواسطہ مخلوق تک بات نہیں پہنچ سکتی تو خالق تعالیٰ کی ذات عالی تک بلاواسطہ تمہاری پہنچ کیسے ہوسکتی ہے شیطان کی یہ بات مشرکین کے دلوں میں اتر گئی اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ شرک کو چھوڑو اللہ کی عبادت کرو تو وہ یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیں گے جو قومیں فرشتوں کو جنات کو بتوں کو پوجتی ہیں اور ان کے علاوہ جو قبر پرست ہیں، یہی بات کہتے ہیں کہ ہم جو ان کی قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کی نیازیں مانتے ہیں یہ کوئی توحید کے خلاف نہیں یہ قبر والے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرکے ہمیں بخشوا دیں گے انہیں شرک بھاتا ہے جو دوزخ میں لے جانے والا ہے اور توحید کی بات بری لگتی ہے (اَلَاسَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا (اِِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا) دلائل کے ذریعہ دنیا میں بھی حق اور باطل کا فیصلہ فرما دیا ہے قیامت کے روز عملی طور پر فیصلہ فرما دے گا کہ اہل حق کو جنت میں اور کفرو شرک والوں کو دوزخ میں بھیج دے گا۔
پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ مَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ) (بلاشبہ اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو اور کافر ہو) ہدایت کی دو صورتیں ہیں ایک ہدایت کا راستہ بتادینا وہ تو سبھی کے لیے ہے اور ایک حق قبول کرنے کی حد تک پہنچا دینا یہ ہدایت ان لوگوں کو نہیں ہوتی جن میں عناد ہو اقوال کفریہ اور عقائد کفریہ پر اصرار ہو اور حق کی طلب نہ ہو یہاں وہی ہدایت مراد ہے جسے علمی زبان میں ایصال الی المطلوب سے تعبیر کیا جاتا ہے،
Ayah 39:4اس کے بعد ان لوگوں کی تردید فرمائی جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں (لَوْ اَرَاد اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو منتخب فرما لیتا) لیکن اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی اولاد ہو وہ بالکل ہی یکتا ہے اور قہار ہے یعنی غلبہ والا ہے اسے کسی کی ضرورت اور حاجت نہیں ہے عموماً مخلوق اس لیے اولاد کی آرزو کرتی ہے کہ آڑے وقت میں اور بڑھاپے میں کام آئے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی ذات وصفات میں کوئی تغیر و تبدل نہیں، نہ اس میں کبھی ضعف آئے گا اسے نہ کسی کی مدد کی ضرورت ہے نہ کبھی ضرورت ہوگی، کوئی اس کے مماثل اور مجانس نہیں ہے غیر جنس اولاد ہونا یوں بھی نامعقول بات ہے وہ واحد ہے وحدہٗ لا شریک ہے اس کے لیے اولاد نہیں ہوسکتی۔
Ayah 39:5پھر لیل و نہار اور شمس و قمر کا تذکرہ فرمایا اس میں بھی شان خالقیت کا مظاہرہ ہے ارشاد فرمایا کہ اس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا وہ دن کو رات پر اور رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے یعنی دن کی روشنی کو رات چھپا دیتی ہے اور رات کے اندھیرے کو دن چھپا دیتا ہے اور اس نے چاند اور سورج کو مسخر فرما دیا یعنی کام میں لگا دیا ان دونوں کو جس کام میں لگایا ہے اس میں لگے ہوئے ہیں ان کا کام بھی مقرر ہے اور ان کی اجل بھی مقرر ہے مقررہ اجل تک چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے پھر جب خالق جل مجدہٗ کا حکم ہوگا تو بےنور کردئیے جائیں گے اللہ تعالیٰ عزیز ہے غلبہ والا ہے اس کی مشیت اور ارادہ اور تکوین کے خلاف کوئی نہیں چل سکتا وہ غفار بھی ہے جو لوگ منکر ہیں اگر وہ انکار سے توبہ کرلیں اور مومن ہوجائیں تو انہیں بخش دے گا کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اتنے لوگوں کو اور اتنے گناہوں کو کیسے بخش دے گا جو شخص ایسا سوال اٹھائے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی صفت الغفار بیان فرما دی کہ وہ بڑا غفار ہے بڑا بخشنے والا ہے۔
Ayah 39:6اس کے بعد ارشاد فرمایا (خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (اللہ نے تمہیں ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا) (ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا) (پھر اسی جان سے ان کا جوڑا بنا دیا) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی انسیت کے لیے حضرت حواء کو پیدا فرمایا ان کی پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے فرما دی اور دونوں کی نسل دنیا میں پھیلا دی جو کروڑوں کی تعداد میں موجود ہے۔
(وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ اَزْوَاجٍ ) (اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ قسمیں پیدا فرما دی ہیں) آٹھ قسموں سے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کے جوڑے نر اور مادہ مراد ہیں جیسا کہ سورة الانعام میں آٹھوں قسموں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔
(یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہَاتِکُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ ) (وہ ماؤں کے پیٹ میں تمہاری ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش فرماتا ہے) یعنی نطفہ کو علقہ یعنی جما ہوا خون لوتھڑے کی شکل میں بنا دیتا ہے پھر اسے مضغتہ یعنی بوٹی بنا دیتا ہے پھر اس کو ہڈیاں بنا دیتا ہے پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتا ہے۔
(فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلاَثٍ ) (یہ ساری تخلیق تین اندھیروں میں ہوتی ہے) ایک اندھیری ماں کے پیٹ کی دوسری رحم کی تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور علم کامل پر دلالت کرتا ہے (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ ) (یہ ہے اللہ تمہارا رب) (لَہٗ الْمُلْکُ ) (اسی کی سلطنت ہے) (لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ ) (اس کے سوا کوئی معبود نہیں) (فَاَنَّی تُصْرَفُوْنَ ) (سو تم کہاں پھرے جا رہے ہو) حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف رخ کیے ہوئے ہو خالق کائنات جل مجدہٗ کی توحید سے منہ موڑ کر شرک میں مبتلا ہو رہے ہو جس نے تمہیں تین تاریک کوٹھڑیوں میں پیدا فرمایا اس کی توحید سے منہ موڑ کر غیروں کو لائق عبادت سمجھنا کیا یہ تمہاری حماقت نہیں ہے ؟
Ayah 39:7اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے کفر سے راضی نہیں، شکر اسے محبوب ہے
گذشتہ آیات میں توحید کی دعوت تھی اور شرک اور کفر اختیار کرنے والوں کی حماقت اور ضلالت بیان فرمائی تھی اگر کسی کو یہ وہم اور وسوسہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے موحد ہونے کی یا اس کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے تو اس وہم اور وسوسہ کو دور فرما دیا کہ اگر تم کفر اختیار کرو اور اسی پر جمے رہو تو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں کوئی کمی نہیں آئے گی وہ تم سے بےنیاز ہے تمہارا حاجت مند نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنے بندوں کے کفر سے راضی ہے اگر کوئی شخص کافر ہوگا تو وہ اس کے کفر کی سزا دے گا اور اگر تم شکر کرو گے اس پر ایمان لاؤ گے اس کی توحید کے قائل ہوگے اور دل سے مانو گے تو وہ اس کی قدر دانی فرمائے گا جس پر انعامات دے گا کفر میں تمہارا ہی نقصان ہے اور ایمان لانے میں تمہارا ہی نفع ہے۔
اور یہ جو تم کفر اختیار کرتے ہوئے اپنے سرداروں کے بہکاوے میں آتے ہو اس بارے میں یہ نہ سمجھ لینا کہ ہمارے کفر کا وبال ان ہی لوگوں پر پڑے گا اور ہمارا مواخذہ نہ ہوگا اس بات کو واضح کرنے کے لیے فرمایا (وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرَی) ہر شخص کو اپنے کفر کی سزا دائمی عذاب کی صورت میں بھگتنی ہوگی۔
اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ تمہارے اعمال سے آگاہ فرما دے گا کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میرے اعمال کی پیشی نہ ہوگی یا یہ کہ میرے اعمال وجود میں آکر معدوم ہوجائیں گے تو کیونکر پیش ہوں گے بات یہ ہے کہ جس نے پیدا فرمایا ہے جان دی ہے اسے تمہارے سب کاموں کا علم ہے اور نہ صرف ظاہری اعمال کا علم ہے بلکہ دلوں کی باتوں تک کا اسے علم ہے وہ تمہیں بتادے گا اور جتا دے گا کہ تم نے یہ یہ اعمال کیے ہیں لہٰذا وہاں کی پیشی کے لیے تیار ہو ایمان لاؤ اور اعمال صالحہ اختیار کرو۔
Ayah 39:8تکلیف پہنچتی ہے تو انسان اپنے رب کو توجہ کے ساتھ پکارتا ہے اور نعمت کے زمانے میں دعاؤں کو بھول جاتا ہے
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کا مزاج بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچ جائے تو اپنے رب کی طرف رجوع کرکے پکارنا شروع کردیتا ہے دعا پر دعا کرتا چلا جاتا ہے جو دوسرے معبود بنائے ہوئے رہتا ہے ان سب کو یکسر بھول جاتا ہے اور خالص اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو اس حاجت و ضرورت کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ سے دعا مانگی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرنے لگتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹاتا ہے سورة العنکبوب میں فرمایا (فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ وَلِیَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (سو جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ ان نعمتوں کی ناقدری کریں جو ہم نے انہیں دی اور تاکہ نفع حاصل کرلیں، سو عنقریب جان لیں گے۔ )
ارشاد فرمایا (قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلًا) (آپ فرما دیجیے کہ تو اپنے کفر کے ذریعہ تھوڑا سا نفع حاصل کرلے) (اِنَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) (بےشک تو دوزخ والوں میں سے ہے) اس میں ان لوگوں کو تنبیہ فرما دی جو کفر کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ اس سے دنیا کے قلیل اور کثیر فوائد اور منافع وابستہ ہوتے ہیں کوئی اقتدار کی کرسی کی وجہ سے اور کوئی جائیداد باقی رکھنے کے لیے اور کوئی اعزہ و اقرباء کے تعلقات کے پیش نظر کفر پر جما ہوا ہے، یہ نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا کا تھوڑا سا نفع ہے دوزخ کے دائمی عذاب کے سامنے ان چیزوں کی کچھ بھی حیثیت نہیں، دوزخ کی آگ بہت بڑا عذاب ہے اگر کسی سے یوں کہا جائے کہ دنیا والی آگ کو پانچ منٹ ہاتھ میں لے لو اور اس کے عوض بادشاہ یا وزیر یا بہت بڑے جاگیر دار بن جاؤ تو اسے کبھی گوارا نہیں کرسکتا عجیب بات ہے کہ دوزخ کے دائمی عذاب کے لیے تیار ہیں اور حقیر دنیا کا نقصان گوارا نہیں جو تھوڑا ہے اور تھوڑی مدت کے لیے ہے اگرچہ دیکھنے میں بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 39:9صالحین کی صفات
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس طرح رات گزارتا ہو کہ اللہ کی عبادت میں لگا ہوا ہے کبھی سجدہ میں کبھی کھڑا ہوا ہے جو آخرت کے مواخذہ سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے کیا یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو کافر ہو گناہوں میں لگا ہوا ہو۔ (یہ بطور استفہام انکاری ہے) مطلب یہ ہے کہ عبادت گزار شخص جو راتوں رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے جو آخرت سے ڈرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہے یہ شخص اور اللہ تعالیٰ کا نافرمان کافر بندہ برابر نہیں ہوسکتے، بلکہ مومن صالح اور مسلم فاسق بھی برابر نہیں ہوسکتے جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ ) پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کیا جاننے والے اور بےعلم برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) یعنی برابر نہیں ہوسکتے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اہل علم ہیں جن کے علم نے انہیں ایمان کی روشنی دکھائی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے ایمان قبول کیا اور عبادت میں لگے اور جو لوگ جاہل ہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کو نہیں جانتے یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے نہ جہل علم کے برابر ہے نہ جاہل عالم کے برابر ہے اور نہ دونوں کا رتبہ برابر ہے جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو اہل علم اصحاب ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں بھیج دئیے جائیں گے۔
(اِِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ) (جو لوگ عقل والے ہیں وہی نصیحت حاصل کرتے ہیں) جن لوگوں کو عقل نہیں یا عقل بےجا استعمال کرتے ہیں وہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے قرآن سنتے ہیں قرآن کی دعوت اور اس کی تعلیمات پر ایمان نہیں لاتے، بیشمار آدمی ایسے ہیں جو دنیاوی کاموں میں بہت آگے آگے ہیں نئی نئی مصنوعات ایجاد کرتے ہیں انسان کی ترقی کے لیے بہت کچھ سوچتے ہیں طرح طرح کی مشینری مارکیٹ میں لاتے ہیں سائنس اور جغرافیہ کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن کافر، مشرک ہیں اپنے خالق کو نہیں پہچانتے بہت سے لوگ تو خالق تعالیٰ شانہٗ کے وجود ہی کو نہیں مانتے اور جو مانتے ہیں وہ مشرک ہیں اس کے لیے اولاد بھی تجویز کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں یہ عقلمندی بےکار ہے ایسے لوگوں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے ہیں ایسی عقل کا کیا فائدہ جو دوزخ میں لے جائے۔
نماز تہجد کی فضیلت
آیت کریمہ سے نماز تہجد کی فضیلت معلوم ہوئی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز وہ ہے جو رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جائے اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے اشراف (یعنی شرافت والے) وہ لوگ ہیں جو حاملین قرآن ہیں راتوں کو نمازیں پڑھنے والے ہیں حضرت مغیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماروں میں اتنا قیام فرمایا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے کسی نے عرض کیا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے ہیں (گناہوں سے وہ لغزش مراد ہیں جن کی خطاء اجتہادی طور پر صادر ہو) آپ نے فرمایا تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں (رواہ البخاری) یعنی اللہ تعالیٰ کے انعام کا تقاضا تو یہ ہے کہ اور زیادہ عبادت گزار ہونا چاہیے نہ کہ تھوڑی عبادت پر اکتفا کیا جائے (یَحْذَرُ الْآخِرَۃَ وَیَرْجُو رَحْمَۃَ رَبِّہِ ) سے معلوم ہوا کہ خوف اور امید ساتھ ساتھ ہونا چاہیے یہ مومن کی صفات ہیں سورة الانبیاء میں چند حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا (اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَھَبًَا) (یہ سب نیک کاموں میں دوڑتے تھے اور امید وبیم کے ساتھ ہماری عبادت کیا کرتے تھے) اور سورة الم سجدہ میں فرمایا (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا زوَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) (ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اس طور پر کہ وہ اپنے رب کو امید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں) ان دونوں آیتوں سے بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں بھی لگے، اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرے، امید بھی رکھے، ڈرتا بھی رہے۔ یہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور عباد صالحین کا طریقہ ہے عمل نہ کرنا اور خالی امید رکھنا یہ ایمانی تقاضوں کے خلاف ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک جوان شخص کے پاس تشریف لے گئے، یہ ان کی موت کا وقت تھا آپ نے فرمایا کہ تم اپنے کو کس حال میں پاتے ہو، عرض کیا کہ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں پر مواخذہ ہونے سے ڈرتا ہوں آنحضرت ﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا اس جیسے موقعہ میں (یعنی موت کے وقت) جس کسی بندہ کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوں گی اللہ اس کی امید کے مطابق ضرور اسے (انعام) عطا فرمائے گا اور وہ جس چیز سے ڈر رہا ہے اس سے امن وامان میں رکھے گا۔
Ayahs 39:10–15اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ )
اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں کافر رہتے اور بستے ہیں اور ان کے نرغہ میں رہنے کی وجہ سے دین پر نہیں جم سکتا اور اعمال صالحہ انجام نہیں دے سکتا اور ممنوعات شرعیہ سے نہیں بچ سکتا تو وہاں سے چلا جائے اور کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوجائے جہاں احکام اسلام پر عمل کرسکتا ہو، اور کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ میں یہاں سے کہاں جاؤں ہمت اور ارادہ کرے گا اور وطن کی محبت سے بالا تر ہو کر اللہ تعالیٰ کی محبت کے پیش نظر نکل کھڑا ہوگا تو انشاء اللہ بہت سی جگہ مل جائے گی، سورة النساء میں اسی کو یوں بیان فرمایا (وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ) (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا تو اس کو روئے زمین پر جانے کی بہت جگہ ملے گی اور بہت گنجائش۔ )
دوم یہ حکم دیا کہ آپ اعلان فرما دیں کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں خالص اسی کی عبادت میں مشغول رہوں اور مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مسلمان ہوں چونکہ یہ امت آخری امت ہے اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں لہٰذا آپ اس کی آخری امت میں سب سے پہلے مسلمان ہیں جیسے دیگر تمام مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دین پیش کرنے والے پر بھی ان احکام کی فرمانبرداری لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ذات سے متعلق ہیں اس اعلان میں یہ بتادیا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور فرمانبردار ہوں اور صرف دوسروں ہی کو ایمان کی دعوت نہیں دیتا خود بھی مومن ہوں اور احکام پر عمل پیرا ہوں معلوم ہوا کہ ہر داعی کو اپنی دعوت پر خود بھی عمل پیرا ہونا لازم ہے۔
تیسرا حکم یہ دیا کہ آپ فرما دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں (انبیاء کرام (علیہ السلام) گنہگار اور نافرمان نہیں ہوتے تھے بطور فرض یہ اعلان کروا دیا گیا کہ میں خود نافرمانی کے مواخذہ سے ڈرتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں لہٰذا دیگر افراد کو تو زیادہ خوف زدہ ہونے اور مواخذہ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔
چوتھا حکم یہ دیا کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ دیکھو میں تو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں (اور تمہیں بھی اسی کی دعوت دیتا ہوں) تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو تم جانو اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرلو لیکن اس کا انجام برا ہوگا۔
پانچویں حکم میں فرمایا کہ آپ فرما دیجیے اصل خسارہ والے وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے خسارہ میں پڑیں گے یعنی اس کفر و شرک کے وبال میں قیامت کے دن جو ابتلا ہوگا وہ سخت خسارہ کی صورت میں سامنے آئے گا اس دن کا خسارہ معمولی نہ ہوگا اس دن اپنی اس جان کو کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے اور نہ عذاب سے بچا سکیں اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہوگا دوزخ میں داخل ہوں گے فرشتے عذاب دیں گے اور جن لوگوں کو انہوں نے کفر و شرک پر ڈالا یعنی ان کے اہل و اولاد اور دوسرے لوگ جو اتباع کرنے والے تھے وہ بھی ان کے نہ رہیں گے وہ ان پر لعنت بھیجیں گے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا اور کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا دنیا میں جو اپنے تھے وہ وہاں اپنے نہ رہیں گے۔ جب دنیا میں کفر و شرک پر ڈال کر اپنی جانوں کا ناس کھو دیا تو اپنی جانوں سے بھی گئے اور ان کی جانوں سے بھی (اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) (خبر دار خوب سمجھ لو کہ یہ واضح کھلا ہوا خسارہ ہے۔ )
Ayah 39:16اس کے بعد ان کے عذاب کی کچھ تفصیل بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ان کے اوپر آگ کے شعلے ہوں گے اور نیچے بھی، آگ کے ان شعلوں کو ظلل سے تعبیر فرمایا جو ظلہٗ کی جمع ہے ظلہٗ سائبان کو کہا جاتا ہے۔
علامہ قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة اعراف میں فرمایا (لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) اور سورة عنکبوت میں فرمایا (یَوْمَ یَغْشٰھُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ ) نیچے بھی آگ ہوگی اور اوپر بھی، اوپر سے بھی جلیں گے اور نیچے سے بھی مشاکلتہً نیچے کے بستر کو ظلل سے تعبیر فرمایا (قال صاحب الروح وتسمی تھا ظللا من باب المشاکلۃ)
(ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہُ ) (یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، (یَاعِبَادِ فَاتَّقُوْنِیْ ) (اے میرے بندو تم مجھ سے ڈرو) میری ناراضگی کے کام نہ کرو (قال صاحب الروح ولا تتعرضوا لما یوجب سخطی)
Ayah 39:17اس کے بعد ان حضرات کی تعریف فرمائی جو کفر و شرک سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَابُوْا اِِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی) (اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا کہ شیطان کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوئے ان کے لیے خوشخبری ہے) لفظ (الطاغوت) فعلوت کے وزن پر ہے بقول صاحب روح المعانی اس کی اصل طغیوت یا طغورت ہے اور جمع طغاویت ہے بہت زیادہ شریر اور حد سے زیادہ نافرمان کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی لیے اسی کا ترجمہ شیطان کیا گیا ہے شیطان لوگوں کو بہکاتا ہے اور توحید سے دور رکھتا ہے اپنی فرمانبرداری کراتا ہے اور ڈراؤنی صورتیں بنابنا کر مشرکین کے سامنے آتا ہے وہ ان صورتوں کے مطابق مورتیاں بناتے ہیں جن کی پوجا کرتے ہیں یہ سب باتیں شیطان کی عبادت میں شامل ہیں جو شیطان سے دور اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور دخول جنت کی خوشخبری ہے۔
Ayah 39:18اس کے بعد مومن بندوں کی ایک خاص صفت بیان فرمائی ارشاد فرمایا (فَبَشِّرْ عِبٰدِیَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ) (سو آپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے جو کلام کو یعنی قرآن کو سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کا اتباع کرتے ہیں) یعنی وہ اعمال اختیار کرتے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ ثواب ہے فرائض اور واجبات پر تو عمل کرتے ہی ہیں دوسرے نیک کاموں میں بھی احسن اور افضل کو اختیار کرتے ہیں۔
(قال صاحب الروح ص 252: ج 23 مدح لھم بانھم نقاد فی الدین یمیزون بین الحسن والاحسن والفاضل والأفضل فاذا اعترضھم امران واجب وندب اختاروا الواجب وکذلک المباح والندب)
(تفسیر روح المعانی والے فرماتے ہیں اس آیت میں مومن بندوں کی تعریف ہے کہ وہ دین میں بالغ نظر ہیں اچھے اور سب سے اچھے کی تمیز کرسکتے ہیں افضل اور افضل ترین میں فرق کرتے ہیں جب انہیں دو امر پیش آئیں ایک واجب ہو اور دوسرا مستحب تو وہ واجب کو اختیار کرلیتے ہیں اسی طرح مباح اور مستحب میں بھی فرق کرلیتے ہیں۔ )
مذکورہ بالا حضرات کی تعریف میں دو باتیں اور بیان فرمائیں اولاً فرمایا (اُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَاھُمْ اللّٰہُ ) کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ثانیاً یوں فرمایا (وَاُوْلٰٓءِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ) اور یہ لوگ عقل والے ہیں ان کی عقلیں سلیم ہیں صحیح ہیں آباؤ اجداد کی تقلید میں کفر و شرک پر نہ جمے رہے بلکہ اپنی عقلوں کو کام میں لائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی ہدایت آئی اسے قبول کیا۔
فائدہ : روح المعانی میں آیت کریمہ (وَاالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ ) کا سبب نزول یہ لکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسلام قبول کرلیا تو عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید اور زبیر بن عوام ؓ ان کے پاس آئے اور سوال کیا کہ آپ نے اسلام قبول کرلیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! اور ساتھ ہی ان لوگوں کو نصیحت کی اس پر انہوں نے بھی ایمان قبول کرلیا اور مسلمان ہوگئے اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Ayahs 39:19–21(اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ) (سو کیا جس شخص کے بارے میں عذاب کی بات طے ہوچکی ہے کیا آپ اسے چھڑالیں گے جو دوزخ میں ہو) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہی پر جمنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے ہے کہ انہیں دوزخ میں جانا ہے اور وہ بھی اپنے بارے میں یہ طے کرچکے ہیں کہ ہمیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ دوزخ کی وعیدیں سنتے ہیں لیکن پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں کیا آپ انہیں دوزخ سے بچا دیں گے یعنی یہ آپ کا کام نہیں ہے لہٰذا جو شخص ہدایت قبول نہ کرے اس کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں، اس کے بعد اس بشارت کا تذکرہ فرمایا جس کا (لَھُمُ الْبُشْرٰی) میں وعدہ فرمایا ہے ارشاد ہے (لَکِنْ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ ) لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بالا خانے ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنائے ہوئے ہیں ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (وَعْدَ اللّٰہِ ) (یہ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے) (لاَ یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ ) (اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا) پس متقی بندے یقین کریں کہ انہیں جو بشارت دی گئی ہے وہ حق ہے صحیح ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے گا جو لوگ حق واضح ہونے کے بعد بھی ایمان قبول نہیں کرتے ان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی دنیا اور دنیاوی منافع سے محبت کرنے کی وجہ سے ایمان سے محروم رہتے ہیں اور جانتے ہوئے کہ ایمان سے محروم رہنے کے باعث جنت سے محروم ہوں گے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے حق کو قبول نہیں کرتے عارضی دنیا کی چہل پہل ہی کو سامنے رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنْ السَّمَآءِ مَآءً ) اے مخاطب کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر اس پانی کو زمین کے سوتوں میں داخل فرما دیا یہ پانی زمین میں جاری رہتا ہے پھر ایک جگہ جمع ہوجاتا ہے پھر چشموں کنوؤں سے نکالا جاتا ہے جس سے کھیتوں کی آبپاشی ہوتی ہے اس کے ذریعہ اللہ زمین سے کھیتیوں کو اگا دیتا ہے ان کھیتیوں کی مختلف قسمیں ہیں، کھیتی بڑھ جاتی ہے، سرسبز ہوتی ہے پکتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے رنگ زرد ہوجاتا ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے کھیتی کا جو حال ہے دنیا کا اٹھان اور فنا اسی طرح سے ہے، ساری دنیا ہی فنا ہوگی قیامت کا صور پھونکا جائے گا تو جو کچھ اس میں ہے تہس نہس ہوجائے گا۔
لوگ بڑے محلات بناتے ہیں قلعے تعمیر کرتے ہیں بڑی آرائش و زیبائش اختیار کرتے ہیں کھیتیاں بوتے ہیں باغ بھی لگاتے ہیں تجارتیں بھی کرتے ہیں نوٹوں کی گڈیوں سے تجوریاں بھرتے ہیں صدارتوں کے امیدوار رہتے ہیں وزیر بن جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت زیادہ کامیاب ہیں لیکن ایک دن موت آہی جاتی ہے سب کچھ دھرا رہ جاتا ہے اور جو کچھ حاصل کیا تھا سب دھوکا کا سامان ہوتا ہے جس کے بارے میں سورة آل عمران میں فرمایا (وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) (یعنی دنیا والی زندگی دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں) یہ سب کچھ دیکھتے ہیں پھر بھی اس کے پیچھے پڑے ہیں اور حبّ دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں یہ بیع قابل تعجب ہے اس سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اسی میں دل دئیے پڑے ہیں حالانکہ دنیا کے حالات میں سب کے لیے بہت بڑی عبرت اور نصیحت ہے اسی کو فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ) (بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نصیحت ہے) لوگ اپنی عقلوں کو دنیا کی ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اپنی آخرت کو قصداً و ارادۃً خراب کرتے ہیں، یہ بےعقلی نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ سورة الکہف میں فرمایا (وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ھَشِیْمًا تَذَرُوْہُ الرِّیٰحُ وَکَان اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا) اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئیں، پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے جس کو ہوا اڑائے لیے پھرتی ہو اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 39:22اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے جس کا سینہ کھول دیا وہ صاحب نور ہے جن کے قلوب اللہ کے ذکر کی جانب سے سخت ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے
گزشتہ آیات میں مومنین کے ثواب کا اور کافروں کے عقاب کا ذکر ہے۔ یہ تو دونوں فریق کا انجام کے اعتبار سے فرق ہے جو آخرت میں سب کے سامنے آجائے گا اب یہاں مومن اور کافر کی قلبی کیفیات کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا کہ ایک وہ شخص ہے جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اس کے دل میں نور ایمان بھر دیا اور دوسرا وہ شخص ہے جس کا دل تنگ ہے نور ایمان سے خالی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تنگی محسوس کرتا ہے اور ذکر اللہ سے مانوس نہ ہونے کی وجہ سے اس کے دل میں سختی ہے، بتاؤ وہ شخص جس کا دل ایمان سے معمور ہے اور اسے اسلام کے بارے میں شرح صدر ہے کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل میں کفر ہو جو اللہ کے ذکر کو قبول نہ کرتا ہو اس کے دل کی قسادت اور سختی اسے اللہ تعالیٰ کا نام نہ لینے دے۔ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب آسان ہے، سب جانتے ہیں۔
سورۂ انعام میں فرمایا (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت پر ڈالنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردیتا ہے جیسے کوئی آسمان میں چڑھتا ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔ )
شرح صدر کی دو نشانیاں
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت کریمہ ( اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْاِِسْلاَمِ ) تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب نور سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس کی نشانی ہے اور وہ یہ کہ دارالغرور (دھوکہ کے گھر یعنی دنیا) سے دور رہے اور دارالخلود (ہمیشگی کے گھر یعنی جنت) کی طرف رجوع ہو، یعنی ایسے اعمال کرتا رہے جو دخول جنت کا ذریعہ بن جائیں اور ایک نشانی یہ ہے کہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرلے۔
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اسلام کے لیے شرح صدر ہوجانے کی یہ نشانی ہے کہ دارالغرور سے بچے اور دارالخلود یعنی آخرت کی طرف متوجہ رہے اور موت کے لیے تیاری کرتا رہے۔
سورۂ زمر کی آیت میں شرح صدر والی بات بیان کرنے کے بعد فرمایا (فَوَیْلٌ لِّلْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ اُولٰٓءِکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ ) (سو جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر کی جانب سے سخت ہیں یعنی اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے اور اس کے لیے نرم نہیں ہوتے ان کے لیے بڑی خرابی ہے یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کے دل میں اسلام کے لیے شرح صدر نہیں ہوتا ان کے دل ایسے سخت ہوتے ہیں کہ اللہ کی یاد میں لگنا اور اللہ کا ذکر کرنا انہیں شاق گزرتا ہے ان کے دلوں کی سختی انہیں اللہ کی یاد میں نہیں لگنے دیتی۔ درحقیقت اللہ کا ذکر بڑی نعمت ہے مبارک بندے ہی اس میں لگتے ہیں اور اس میں لذت محسوس کرتے ہیں اور کثرت ذکر ان کی خصوصی غذا بن جاتی ہے۔
ذکر اللہ کی فضیلت اور اہمیت
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ مت بولا کرو کیونکہ ذکر اللہ کے علاوہ زیادہ بولنا دل کی سختی کا سبب بن جاتا ہے اور بلاشبہ لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور وہی شخص ہے جس کا دل سخت ہے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ دین کی باتیں تو بہت ہیں ان سب پر مجموعی حیثیت سے عمل کرنا مجھے دشوار معلوم ہو رہا ہے (کیونکہ فضیلت والے اعمال اس قدر ہیں کہ مجھ سے ان سب پر عمل نہیں ہوسکتا) لہٰذا آپ مجھے ایسی چیز بتا دیجیے کہ میں اسے پکڑے رہوں آپ نے فرمایا کہ تیری زبان ہر وقت اللہ کی یاد میں تر رہے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک اعرابی (دیہات کے رہنے والے) نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ تمام اعمال میں افضل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو دنیا سے اس حال میں جدا ہو کہ تیری زبان اللہ کی یاد سے تر ہو۔ (رواہ الترمذی)
Ayah 39:23مُتَشَابِھاً مَّثَانِیَ کی تشریح
اس کے بعد قرآن مجید کی فضیلت بیان فرمائی، ارشاد فرمایا کہ اللہ نے سب سے اچھا کلام نازل کیا پھر اس کی ایک صفت (کِتٰبًا مُتَشَابِہًا) اور دوسری صفت مَثَانِیَ بیان فرمائی (مُتَشَابِہَا) کا مطلب یہ ہے کہ لفظی اعتبار سے فصیح بلیغ بھی ہے اور معجزہ بھی ہے اور معنوی اعتبار سے اس کے مضامین آپس میں مشابہ ہیں اور آیات آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ سب میں عقائد صحیحہ بیان کیے ہیں توحید و رسالت کے اقرار اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں مَثَانِیَ کا معنی یہ ہے کہ اس میں احکام و مواعظ اور نصائح بار بار دہرائے گئے ہیں نیز بار بار اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں، لیکن طبیعت ملول نہیں ہوتی اور ہر مرتبہ نئی چیزیں معلوم ہوتی ہے۔
ذاکرین کی صفات
پھر فرمایا (تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ) (اس سے ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں) اس میں ان حضرات کی صفت خاص بیان فرمائی جو قرآن کو پڑھتے اور سنتے ہیں اور اس کا یہ اثر لیتے ہیں کہ ان کے بدن اور دل کانپ اٹھتے ہیں (ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُودُھُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ ) (پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں) یہ دونوں صفات ان مومن بندوں کی ہیں جن کے دلوں میں خوف و خشیت ہو اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونے سے ڈرتے رہتے ہوں، سورة انفال میں فرمایا (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) (ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں) (ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ) (یہ اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ وہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے) (وَمَنْ یُّضْلِلْ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ ) (اور اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں)
Ayah 39:24(اَفَمَنْ یَّتَّقِی بِوَجْہِہِ سُوءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) کیا جو شخص قیامت کے دن اپنے چہرے کے ذریعے برے عذاب سے بچ جائے، اور جنت میں داخل ہوجائے کیا اس شخص کے برابر ہے جو دوزخ میں داخل کردیا جائے ؟ چہرہ کے ذریعہ بچنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اہل عذاب کے چہروں کو آگ پہنچے گی وہ چاہیں گے کہ چہروں کو ڈھال بنالیں اور اپنی جانوں کو عذاب سے بچالیں لیکن ایسا نہ ہوسکے گا بلکہ دوزخ میں داخل ہوں گے اور ہر ہر حصہ عذاب میں ڈالا جائے گا اور طرح طرح کے عذاب میں گرفتار ہوں گے سورة الفرقان میں فرمایا ہے (الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ اِِلٰی جَہَنَّمَ اُوْلٰٓءِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّاَضَلُّ سَبِیْلًا) (جو لوگ اپنے چہروں کے بل دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے وہ لوگ جگہ کے اعتبار سے بد ترین ہیں اور بہت زیادہ گمراہ ہیں) چہروں کا گھسیٹا جانا بھی ایک عذاب ہے اسی طرح گھسیٹتے ہوئے اسے دوزخ میں پہنچا دیا جائے گا (وَقِیْلَ للظٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) (اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ تم جو عمل کیا کرتے تھے ان کا عذاب چکھ لو)
Ayahs 39:25–26(کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (الآیتین) ان دونوں آیتوں میں منکرین کی بدحالی بیان فرمائی کہ وہ یوں نہ سمجھیں کہ عذاب کی وعید یوں ہی ایک تہدید ہے ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ وعیدیں سچی ہیں، جھٹلانے والوں کو عذاب پہنچ کر رہے گا ان سے پہلے بھی لوگوں نے جھٹلایا پھر ان کے پاس عذاب پہنچ گیا اور پہنچا بھی اس طرح کہ انہیں اس کے آجانے کا خیال بھی نہ تھا اللہ نے انہیں دنیا میں بھی رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے ہی جو دنیا والے عذاب سے بڑھ کر ہے۔
Ayahs 39:27–28(وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ ) (الآیتین) ان دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کردئیے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور یہ بھی فرمایا کہ قرآن عربی میں ہے (جسے اولین مخاطبین اہل عرب سمجھتے اور جانتے ہیں اور اس کی فصاحت اور بلاغت سے بھی واقف ہیں) تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں ذرا بھی کجی نہیں ہے نہ اس میں لفظی رکاکت ہے نہ فصاحت میں اختلال ہے نہ معنوی طور پر اس میں کوئی تناقض ہے آخر میں فرمایا (لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ) تاکہ یہ لوگ قرآن کی تکذیب سے باز آئیں اور اللہ جل شانہٗ کے عذاب اور پکڑ سے ڈریں اور اپنی جانوں کو اس سے بچائیں۔
مشرک و موحد کی مثال
اس کے بعد مشرک اور موحد کی ایک مثال بیان فرمائی اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام ہے اس میں کئی افراد شریک ہیں اور وہ بدخلق بھی ہیں کھینچا تانی میں ان کی بدخلقی کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے ایک اس غلام کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور کہتا یہ میرے ماتحت رہے اور میرا ہی کام کرے اور دوسرا اور تیسرا اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس سلسلہ میں ہر ایک بدخلقی کو اختیار کرتا ہے ساجھیوں کی بدخلقی کی لپیٹ میں یہ غلام حیران رہتا ہے اور ساجھیوں کے ساجھے کی سزا بھگتتا رہتا ہے اور ایک غلام وہ ہے جو ایک ہی شخص کا غلام ہے اسے صرف ایک ہی شخص کی خدمت کرنی ہے ان دونوں غلاموں کی زندگی پر نظر ڈالو ایک کی حیرانی اور پریشانی کو دیکھو اور دوسرے کی سلامتی کو دیکھو اور بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی سے سمجھ لو کہ جس طرح یہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح سے موحد اور مشرک بھی برابر نہیں ہوسکتے موحد پورا پورا معبود واحد اور معبود حقیقی کا بندہ بنا رہتا ہے اس کی عبادت کرتا ہے اسی کی یاد میں مگن رہتا ہے ہر حاجت اسی سے طلب کرتا ہے اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں اس کی بھی عبادت کرتا ہے اور اس کی بھی عبادت کرتا ہے اس کے سامنے بھی سر جھکاتا ہے اور اس کے سامنے بھی جبین نیاز رگڑتا ہے۔ موحد و مشرک میں اتنا عظیم فرق ہے، شرک اختیار کرنے والے سراپا گمراہ ہیں اور سراپا بیوقوف بھی ہیں۔
Ayah 39:29(الْحَمْدُ لِلَّہِ ) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہدایت نازل فرمائی اور توحید کی دعوت دی اور مشرکوں کی گمراہی اور حماقت سے آگاہ فرمایا۔
(بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (بلکہ ان میں اکثر وہ لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے) حق اور ناحق میں تمیز کرنا ہی نہیں چاہتے۔
(قولہ تعالیٰ ” متشاکسون “ قال الراغب فی مفرداتہ الشکس : السئ الخلق وقولہ شرکاء متشاکسون ای متشاجرون لشکاسۃ خلقھم۔۔ اھ قال صاحب الروح والمعنی ضرب اللّٰہ تعالیٰ مثلاً للمشرک حسبما یقود الیہ مذھبہ من ادعاء کل من معبودیہ عبودیتہ عبدا یتشارک فیہ جماعۃ متشاجرون لشکاسۃ اخلاقھم وسوء طبائعھم یتجاذبونہ ویتعاورونہ فی معماتھم المتباینۃ فی تحیرہ وتوزع قلبہ)
” اللہ تعالیٰ کا ارشاد (متشاکسون) اس کے بارے میں امام راغب اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں ” الشکس “ کا معنی ہے بدخلق اور اللہ تعالیٰ کے قول (شرکاء متشاکسون) یعنی ایسے شرکاء جو اپنی بدخلقی کی وجہ سے آپس میں لڑنے والے ہیں (الی الآخر) “
” تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک کی مثال بیان فرمائی ہے کہ مشرک کو جب اس کا مذہب اپنے معبودوں میں سے ہر ایک کی عبادت کی دعوت دیتا ہے تو اس کی حیرانی اور بےیقینی کی حالت کی مثال اس غلام کی ہے جس کی ملکیت میں ایک گروہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بدخلقی کی وجہ سے لڑتا رہتا ہو ہر ایک غلام کو اپنی طرف کھینچتا ہو اور ہر کوئی دوسرے کے کام سے مختلف اپنے کام میں استعمال کرنا چاہتا ہو۔ “
Ayah 39:30آخر میں فرمایا (اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ ) (بلاشبہ آپ مرنے والے ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ )
مطلب یہ کہ آپ منکرین کے بارے میں غمگین نہ ہوں یہ لوگ دنیا میں آپ کی بات نہیں مانتے قیامت کے دن فیصلہ ہوجائے گا اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں ہوں گے جیسا کہ آئندہ آیات میں بیان فرمایا۔
تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ اہل مکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا انتظار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ اس شخص کو موت آجائے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ بھی وفات پانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے۔ دنیا سے تو سب کو ہی جانا ہے اگر یہ لوگ نہ مرتے تو آپ کی وفات ہوجانے سے ان کی جان چھوٹ جاتی۔
سورۃ الانبیاء میں فرمایا (اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ ) (اگر آپ کی وفات ہوجائے گی تو کیا یہ ہمیشہ رہیں گے) ان کو بھی مرنا ہے اور پیشی بھی ہونی ہے۔
Ayah 39:31قیامت کے دن ادعاء اور اختصام
(ثُمَّ اِِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ) (پھر یقینی بات ہے کہ قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس پیش ہو کر مدعی اور مدعی علیہ بنو گے) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ عرصہ دراز تک ہم اس آیت کو پڑھتے رہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہم میں جھگڑے کیوں ہوں گے جبکہ ہماری کتاب ایک ہے، قبلہ ایک ہے، حرم ایک ہے نبی ﷺ ایک ہے۔ پھر جب ہم میں آپس میں قتل و قتال ہوا تو سمجھ میں آگیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (در منثور، از مستدرک حاکم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ جب جنگ صفین کے موقعہ پر ہم آپس میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے اس وقت ہم نے سمجھا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہے۔ (منثور)
حضرت ابن عمرو حضرت ابو سعید ؓ نے اپنے زمانہ میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کو آیت شریفہ کا مصداق قرار دیا، لیکن الفاظ کا عموم ان سب جھگڑوں کو شامل ہے جو قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور بارگاہ خداوندی میں پیش ہوں گے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن جو لوگ جھگڑے لے کر اٹھیں گے ان میں سب سے پہلے دو پڑوسی ہوں گے جس کا جو حق مارا گیا ہوگا اپنے حق کے لیے جھگڑا کرے گا۔ رعیت امیر وزیر اور بادشاہ پر دعویٰ کرے گی، مالی حق رکھنے والوں پر اصحاب حقوق دعویٰ کریں گے، مظلوم ظالم سے اپنا حق طلب کرے گا جن کے قرضے تھے وہ قرضے طلب کریں گے جن کی غیبت تھی یا جن پر تہمت دھری تھی وہ بھی مدعی بن کر کھڑے ہوجائیں گے اس مضمون میں تفصیل بہت ہے جاننے والے جانتے بھی ہیں بہرحال اگر وہاں مدعی علیہ ہونے سے بچنا ہے تو کسی بندے کا کوئی حق مار کر نہ جائیں۔
Ayah 39:32جھوٹوں سے بڑھ کر ظالم کون ہے
گزشتہ آیات میں مومنین موحدین اور مشرکین معاندین اور کافرین مکذبین کا ذکر تھا ان آیات میں ہر فریق کا انجام بتایا ہے مومنین کے اجرو ثواب سے اور کافروں کے عذاب سے باخبر کیا ہے، (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلٰی اللّٰہِ ) (سو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا، جو اللہ پر جھوٹ باندھے) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ تعالیٰ نے نہیں بتائی انہیں باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مشرکین یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے شریک بنالیے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد تجویز کرلی ہے نیز مشرکین کا یہ مزاج بھی ہے کہ جب کسی برے کام سے روکا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے کما فی سورة الاعراف (قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا) ظالم لوگ اللہ تعالیٰ پر تہمت دھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا ظلم ہے جس کی سزا بھی بہت بڑی ہے۔
(وَکَذَّبَ بالصِّدْقِ اِِذْ جَاءَہٗ ) (اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو سچی بات کو یعنی قرآن کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آگیا۔ )
(اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے ؟ ) یہ استفہام تقریری ہے یعنی کافروں کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے۔
Ayah 39:33اس کے بعد اہل ایمان کا حال بتایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ ) (اور جو شخص سچی بات کو لے کر آیا) اس کا عموم تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور جو حضرات ان کے کام میں لگے حق کے داعی بنے ان سب کو شامل ہے (وَصَدَّقَ بِہٖ ) (اور جس نے سچی بات کی تصدیق کی) (اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (یہ لوگ پرہیز کرنے والے ہیں) شرک سے کفر سے گناہوں سے بچتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے ” الصدق “ (سچی بات) سے کلمہ (لا الہ الا اللّٰہ) اور (الذی جآء) سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے
Ayah 39:34آگے ان کی جزا (لَہُمْ مَا یَشَاءُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ) (ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے) (ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور یہ بدلہ ہے اچھے کام کرنے والوں کا۔ )