Ayah 39:1(39: 1) تنزیل الکتب۔ مضاف مضاف الیہ۔ کتاب نازل کرنا۔ الکتاب سے مراد یہ سورة یا قرآن مجید ہے یہ مبتداء ہے اور من اللّٰہ خبر ہے۔ اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے۔
العزیز۔ (اپنی حکومت میں سب پر غالب) الحکیم۔ (اپنی صنا عی میں حکمت والا) ۔ اللہ کی صفات ہیں۔
Ayah 39:2(39:2) بالحق۔ حق کے ساتھ ، یعنی حامل حق کتاب یا ب سببیہ ہے۔ یعنی حق کو ثابت کرنے۔ ظاہر کرنے اور تفصیل سے بیان کرنے کے لئے یہ کتاب ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے۔
بظاہر جملہ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔ مفہوم کے لحاظ سے پہلے جملہ کی تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ تکرار نہیں ہے اول جملہ میں تنزیل الکتاب تو عنوان کے طور پر فرمایا تھا اور اس جملہ میں انا انزلنا الیک الکتاب اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے فرمایا :۔ ھذا لیس بتکرار لان الاول کالعنوان لکتاب والثانی لبیان ما فی الکتاب۔
فاعبد اللّٰہ مخلصا لہ الدین ۔ الفاء للترتیب۔ اعبد فعل امر واحد مذکر حاضر عبادۃ مصدر (باب نصر) سے مخلصا اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصب اخلاص (افعال) مصدر سے۔
اخلاص کے لغوی معنی ہیں۔ کسی چیز کو ملاوٹ سے ہر ممکن پاک و صاف کردینا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے صاف اور خالی ہونا ہے۔ اصطلاح شرع میں یہ ہیں کہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیا جاوے اور اس کے علاوہ کسی اور جذبہ کی آمیزش نہ ہو۔
اخلاص جان عبادت ہے اخلاص کے بغیر عبادت میں عبادت کا مفہوم ہی پیدا نہیں ہوتا۔
الدین۔ اطاعت و عبادت۔ الدین ای الطاعۃ وقیل العبادۃ (قرطبی) دین اصل لغت کے اعتبار سے اطاعت اور جزاء کے معنی میں ہے پھر بطور استعارہ شریعت کے لئے استعمال ہوا۔ کیونکہ شریعت کی روح اطاعت خداوندی ہی ہے۔ قرآن میں مختلف مواقع پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً
(1) ان الدین عند اللّٰہ الاسلام (3:19) در حقیقت دین جو اللہ کے نزدیک مقبول ہے اسلام ہے۔ یہاں دین سے مراد شریعت
(2) واخلصوا دینھم للّٰہ۔ (4:146) اور انہوں نے اپنی اطاعت اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کردیا۔ یہاں دین سے اطاعت مراد ہے۔
(3) ملک یوم الدین۔ (1:3) مالک ہے روزجزاء کا یہاں دین بمعنی جزاء آیا ہے۔
جزاء ۔ اطاعت۔ عبادت۔ شریعت کوئی بھی معنی دین کے لئے جاویں شریعت کی پابندی کو ان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور شریعت زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے خواہ وہ اخلاقی ہو، معاشرتی ہو، معاشی ہو، روحانی ہو۔ گویا زندگی کو شریعت کے جملہ احکام کے مطابق مطیع کردینا دین پر چلنا ہے۔
لہ میں لام استحقاق کے لئے ہے ہ ضمیر کا مرجع اللہ ہے الذین کا نصب مخلصا سے ہے۔
مخلصا لہ الدین یہ جملہ ضمیر اعبد سے حال ہے۔ تو اللہ کی عبادت کر درآں حالیکہ تیری اطاعت و عبادت خالصۃ اسی کے لئے ہو (اس میں کسی قسم کے شرک، ریا یا شک وشبہ کا دخل نہ ہو)
Ayah 39:3(39:3) الا۔ حرف تنبیہ ہے۔ خبردار۔ یاد رکھو۔ سمجھ لو۔ جان لو۔
للّٰہ۔ میں لام اول استحقاق کے لئے ہے۔ جیسے الحمد للّٰہ (101) للّٰہ الامر (13:31)
الدین الخالص۔ موصوف و صفت۔ خالص دین۔ ہر قسم کے شرک و ریاء و دیگر نقائص سے پاک اطاعت۔
ترجمہ ہوگا :۔ یاد رکھو دین خالص صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔
اور بعض علماء کا قول ہے کہ ان المراد بالدین الخالص کلمۃ لا الہ الا اللّٰہ۔ دین خالص سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔
من دونہ ای من دون اللّٰہ۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ اللہ کے سوا۔
لیقربونا۔ لام تعلیل کا ہے یقولون جمع مذکر غائب تقریب (تفعیل) مصدر سے ترب مادہ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم کہ وہ ہمیں قریب پہنچا دیویں۔ ہمیں مقرب بنا دیویں۔
زلفی مصدر ہے بمعنی تقریبا۔ فعل کے مصدر کا مترادف مفعول مطلق ہوسکتا ہے جیسے قعدت جلوسا لہٰذا زلفی فعل یقرب کے مصدر تقریبا کا مترادف ہونے کی وجہ سے لیقربونا کا مفعول مطلق ہے۔
زلفۃ وزلفی درجہ ۔ قرب۔ نزدیکی۔ ازلف یزلف باب افعال سے بمعنی قریب اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائیگی
فائدہ : والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربون الی اللّٰہ زلفی ۔ الذین اتخذوا سے مراد کفار ہیں یہ پورا جملہ مبتداء ہے اور ان اللّٰہ یحکم ۔۔ الخ (اگلی آیت) اس کی خبر ہے ما نعبد سے قبل قالوا محذوف ہے قالوا معطوف بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں اس کا عطف اتخذوا پر ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا :۔
اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی پوجا بس اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔
دوسری صورت میں قالوا۔ الذین اتخذوا سے یہ بدل بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی پوجا محض قرب خدا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔
یحکم مضارع واحد مذکر غائب حکم باب نصر سے مصدر۔ حکم دیتا ہے یا دے گا۔ فیصلہ کرتا ہے یا کرے گا۔
بینھم اور فیما ہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کافروں اور ان کے مقابل مومنوں کے مجموعہ کی طرف راجع ہے۔
ما موصولہ ہے اور فیہ یختلفون صلہ۔ جس بات میں یہ باہم اختلاف کر رہے ہیں۔ اور یہ فیصلہ اس صورت میں ہوگا کہ اہل ایمان جنت میں جائیں گے اور اہل کفر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
کاذب۔ اسم فاعل واحد مذکر : جھوٹا۔ کذب جمع۔ جھوٹا اس لئے کہ اللہ کو صاحب اولاد کہتا ہے اور بتوں کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بتاتا ہے۔ کفار۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ زبردست کافر۔ بڑا ناشکرا۔ ناشکرا اس لئے کہ لطف تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اٹھائے اور پوجا کسی اور کی کرے۔ یا اس میں کسی اور کو بھی شریک ٹھہرائے۔
Ayahs 39:4–5(39:4) ولدا۔ اسم جنس کوئی بچہ ہو لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد جمع۔
لاصطفی لام جواب شرط کے لئے ہے اصطفی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اصطفاء (افتعال) مصدر اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ تو وہ منتخب کرلیتا۔ چن لیتا۔ یا پسند کرلیتا۔
مما۔ مرکب ہے من حرف جر اور ما موصولہ سے مما یخلق اس میں سے جسے وہ پیدا کرتا ہے اپنی مخلوق میں سے۔
ھو اللّٰہ الواحد۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔
یعنی الوہیت تو وجوب پر مبنی ہے (جب کوئی دوسرا واجب نہیں ہر موجود مخلوق ہے اور ہر مخلوق ممکن ہے) تو الہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ الہ اپنی ذات وصفات میں واحد ہو نہ اس کا کوئی مثیل ہو نہ شریک، اور جب کوئی دوسرا اس کی مثل نہیں ہوسکتا تو اس کی اولاد ہونا کس طرح ممکن ہے اولاد تو باپ کے بعض اجزاء سے بنتی ہے اس لئے اپنے باپ کی ہم جنس ہوتی ہے۔
القھار۔ سب سے زبردست۔ سب پر غالب۔ ہمہ گیر قہاریت شرکت کی نفی کرتی ہے۔
Ayah 39:6(39:6) منھا۔ میں ضمیر ھا نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے۔
زوجھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا جوڑا۔ اس کا مقابل صنف۔ ھا کا مرجع نفس ہے۔
خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس کا ترجمہ ہوگا :۔ اس نے تمہیں فرد واحد (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا پھر اسی (فرد واحد سے اس کا جوڑا بنایا۔ اس جملہ میں ثم اس پر دلالت کر رہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد حضرت حوا کو بطور حضرت آدم کے جوڑے کے پیدا کیا گیا۔ یہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔
(1) صاحب تفہیم القرآن اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں :۔ یہ مطلب نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے انسانوں کو پیدا کردیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ بلکہ یہاں کلام میں ترتیب زمان کی بجائے ترتیب بیان ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ تم نے آج جو کچھ کیا وہ مجھے معلوم ہے پھر جو کچھ تم کل کرچکے ہو اس سے بھی میں باخبر ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ کل کا واقعہ آج کے بعد ہوا ہے۔
(2) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ثم کا عطف خلقکم پر نہیں بلکہ فعل محذوف پر ہے۔ ای خلقکم من نفس واحدۃ خلقھا ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تمہیں تن واحد سے پیدا کیا۔ (یعنی پہلے) اس نفس واحد کو پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور پھر ان دونوں سے تم لوگوں کو پیدا کیا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے :۔ خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھم رجالا کثیرا ونسائ۔ (4:1) جس نے تم کو ایک تن سے پیدا کیا (یعنی اول) اور اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد اور عورتیں (پیدا کرکے) پھیلا دیا۔
(3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ثم تراخی (تاخر) کے لئے ہے اور یہ تراخی زمانی نہیں رتبہ کے لحاظ سے ہے (الترخی الرتبی) مؤخر الذکر (خلق زوج) کو اول الذکر (خلق الناس) پر مرتبہ کے لحاظ سے برتری دیتے ہوئے ادنیٰ کو پہلے اور اعلیٰ کو بعد میں بیان کیا۔ یا اس کے برعکس۔ اول الذکر کو اعلیٰ گردانتے ہوئے پہلے ذکر کیا اور مؤخر الذکر کو دوسرے مرتبے پر رکھتے ہوئے بعد میں بیان کیا۔
انزل : ای قضی اوقسم لکم : تمہارے لئے فیصلہ کر دئیے یا تمہارے حصہ میں کر دئیے۔ مطلب تمہارے لئے پیدا کر دئیے
خلقا من بعد خلق۔ ردریحا ایک حالت سے دوسری حالت میں۔ ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں۔ ایک تغیر کے بعد دوسرا تغیر۔ جو شخص بھی جنین کے تغیرات سے واقف ہے اس پر روشن ہے کہ نو مہینہ تک کتنے تغیرات ہر روز وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔
ظلمت ثلث : تین تاریکیوں (کے اندر) ۔ (1) پیٹ کی تاریکی۔ (2) رحم کی تاریکی۔ (3) رحم کے اندر کی جھلی کا اندھیرا۔ جس میں بچہ کی تخلیق مکمل ہوتی ہے۔ اسے مشیمۃ کہتے ہیں۔ جھلی جس میں پیدائش کے وقت بچہ لپٹا ہوتا ہے۔
ذلک اللّٰہ ربکم لہ الملک لا الہ الا ھو : ذلکم یعنی یہ تمام کام کرنے والا۔ (جو اوپر مذکور ہیں) مبتداء ہے۔ اللّٰہ خبر اول۔ ربکم خبر دوم لہ الملک خبر سوم لاالہ الاھو خبر چہارم۔ یہی ہے تمہارا رب اسی کی حکومت ہے اور کوئی خدا بجز اس کے نہیں ہے۔
فانی تصرفون الفاء سببیہ انی بمعنی کیف او این۔ کیسے ؟ کہاں ؟ استفہام تعجبی ہے۔ سو (تعجب ہے کہ اس واضح و مکمل بیان کے بعد) تم کہاں (حق سے پھرے جا رہے ہو۔
Ayah 39:7(39:7) ان شرطیہ ہے۔ فان اللّٰہ میں الفاء لجواب الشرط۔
غنی۔ بےنیاز۔ غیر محتاج۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
یرضہ۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یرضی تھا۔ رضی مصدر باب سمع سے جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب شکر کی طرف راجع ہے وہ اس کو پسند کرتا ہے (اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے) ۔
لاتزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب وہ بوجھ نہیں اٹھاتی۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وزر مصدر باب ضرب سے وازرۃ اسم فاعل واحد مؤنث بوجھ اٹھانے والی ۔ مؤنث کا صیغہ نفس کے لئے ہے جو عربی میں مؤنث ہے وزر اخری۔ مضاف مضاف الیہ مل کر لاتزر کا مفعول ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
مرجعکم مضاف مضاف الیہ۔ مرجع لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ رجوع سے مصدر میمی ہے تمہارا لوٹنا۔
علیم۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔
ذات الصدور : ذات ۔ ذوا سے مؤنث ہے والی۔ ذات الصدور مضاف مضاف الیہ ۔ سینوں کے بھید۔ علیم بذات الصدور۔ دلوں تک کی باتوں کو جاننے والا۔
Ayah 39:8(39:8) مس ماضی واحد مذکر غائب۔ مس مصدر باب نصر۔ چھونا۔ لاحق ہونا۔ اذا مس الانسان ضر جب انسان کو کوئی تکلیف (مرض وغیرہ) پہنچتی ہے۔
الانسان۔ ھذا وصف للجنس بحال بعض افرادہ جنس کے بعض افراد کی حالت پر جنس کو محمول گرداننا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان الانسان لظلوم کفار (14:34) انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔ الانسان سے یہاں مراد جنس کافر ہے نہ کہ تمام جنس انسان۔
منیبا الیہ : منیبا اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ مصدر افعال۔ نوب مادہ۔ خلوص عمل کے ساتھ اللہ سے توبہ کرنا۔ منیبا الیہ الانسان کا حال ہے۔ دعا ربہ منیبا الیہ۔ اپنے رب کو اس کی طرف دل سے رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے۔
خولہ ماضی واحد مذکر غائب۔ خول یخول تخویل (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی عطا کرنے کے ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب (جب) اس نے اس کو عطا کیا۔
نعمۃ مفعول ثانی خول یعنی حشم و خدم عطا کرنے کے ہیں بعض کے نزدیک اس کے معنی ایسی چیز عطا کرنے کے ہیں جس کی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔ دونوں صورتوں میں مراد نعمت عظمیہ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وترکتم ما خولنکم وراء ظھورہم (2:94) اور تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا۔
نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل : ما موصولہ ہے اور اس کا مابعد کا جملہ اس کا صلہ ہے ۔ موصول و صلہ مل کر نسی کا مفعول۔ کان یدعوا ماضی استمراری کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الانسان (مذکور ہ بالا) ہے۔ تو پیشتر ازیں جس چیز کیلئے وہ اسے پکار رہا تھا اسے بھول جاتا ہے۔ یعنی اس چیز کے لئے اپنی دعا و پکار کو بھول جاتا ہے۔
جعل ماضی بمعنی حال۔ اندادا۔ ند کی جمع۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہو۔ مقابل۔ برابر۔ یہ جعل کا مفعول ہے۔ وہ اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے۔
لیضل۔ لام تعلیل کا ہے۔ یا یہ لام عاقبت ہے جیسا کہ اور جگہ آیا ہے :۔ فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا (28: 8) چناچہ فرعون کے لوگوں نے اس (موسی) کو اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور غم کا باعث بنے۔ یضل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر سے کہ گمراہ کر دے، بہکا دے (دوسروں کو)
عن سبیلہ : ای عن سبیل اللّٰہ وھو التوحید یعنی خدا کی راہ (توحید) سے دوسروں کو (بھی) گمراہ کر دے۔
قل۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے ای قل یا محمد ﷺ
تمتع۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تمتع مصدر باب تفعل۔ تو فائدہ اٹھالے۔ تو برت لے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی تمتع اور تمتعوا کے صیغے آئے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھانے کو کہا گیا ہے وہ بطور زجر وتوبیخ و تہدید کہا گیا ہے۔ یعنی تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے برت لوجو برتنا ہے مثال کے طور پر قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار (14:30) کہہ دو (چند روز) فائدے اٹھالو آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 39:9(39:9) امن۔ ام من سے مرکب ہے۔ ام کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ام متصلہ ہے ای الکافر خیر ام ھو قانت۔ کافر بہتر ہے یا وہ جو اطاعت گزار ہے۔
(2) ام منقطعہ ہے۔ ای بل ام من ھو قانت کما ھو بضدہ۔ بلکہ کیا وہ جو اطاعت گزار ہے اسی کی طرح ہے جو اس کی ضد ہے۔
یہاں ام بمعنی حرف اضراب ہے کشاف میں ہے من مبتداء خبرہ محذوف تقدیرہ امن ھو قانت کغیرہ۔
قانت۔ اسم فاعل واحد مذکر قنوت مصدر قنت مادہ۔ باب نصر۔ اس کے معنی خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں۔ فرمانبردار۔ اطاعت گزار۔ ہمہ تن مصروف عبادت ۔ کامل توجہ کے ساتھ خداوند قدوس کی جلالت و عظمت کا استحضار کرتے ہوئے اپنی فروتنی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادتو اطاعت میں مشغول رہنے والا۔
اناء الیل مضاف مضاف الیہ ۔ رات کے اوقات۔ انی بروزن عصا کی جمع ہے جس کے معنی گھڑی اور وقت کے ہیں۔ انی کا استعمال دن بھر اور رات بھر کے لئے ہوتا ہے۔
ساجدا۔ (سجدہ ریز۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب سجدہ کرنے والا) قائما اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصب۔ نماز میں کھڑا ہونے والا) قانت کا حال ہیں۔
یحذر (مضارع واحد مذکر غائب حذر مصدر باب سمع۔ ڈرتا ہے) الاخرۃ (مفعول ہے یحذر کا) آخرت سے ڈرتا ہو۔ یہ بھی قانت کا حال ہے۔
یرجوا رحمۃ ربہ : یرجوا مضارع واحد مذکر غائب رجاء مصدر باب نصر امید رکھتا ہے رحمۃ مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر رحمۃ کا مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یرجوا کا مفعول اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے ۔ یہ بھی قانت سے حال ہے۔
ہل یستوی : ہل استفہام انکاری کے لئے ہے یستوی مضارع واحد مذکر غائب۔ استواء (استفعال) مصدر۔ کیا برابر ہے ؟ یعنی برابر نہیں ہے (یہاں صیغہ واحد مجمع کے لئے ّیا ہے) ۔
الذین یعلمون والذین لایعلمون ۔ وہ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے۔
تفسیر ماجدی میں اسکی یوں تشریح کی گئی ہے :۔ محاورۃ قرآنی میں علم سے مراد علم حقائق سے ہوتی ہے اور بےعلمی سے مراد اس علم نے محرومی ہے۔ قرآن مجید نے علم سے کہیں بھی وہ چیزیں مراد نہیں لی ہیں جنہیں دنیا میں علوم و فنون کہا جاتا ہے۔ الذین یعلمون کا لفظ قانت اور ساجد اور قائم کے لئے آیا ہے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے جو صاحب عمل ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں جو لوگ بےعمل ہوتے ہیں انہیں الذین لا یعلمون سے تعبیر کیا ہے۔
اس سے ظاہر ہے کہ عمل کی کتنی فضیلت اسلام میں ہے اور جو لوگ صرف علم پر بلا عمل قانع رہتے ہیں انہیں قرآن بےعلم یا جایل ہی قرار دیتا ہے ۔ وھو تنبیہ علی ان من لایعمل فھو غیر عالم اور یہ تنبیہ ہے کہ جو عامل نہیں ہے وہ غیر عالم ہی ہے (کشاف ، کبیر)
یتذکر۔ مضارع واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) وہ نصیحت پکڑتا ہے۔ اولو الالباب۔ صاحب عقل۔
Ayah 39:10(39:10) یعاد : ای یا عبادی۔ اے میرے بندو !
الذین امنوا۔ یہ عباد کی تعریف ہے جو ایمان لائے ہیں۔ جو مومن ہیں۔ یعباد الذین امنوا۔ اے میرے مومن بندو ! یا اے میرے بندو جو ایمان آئے ہو۔
اتقوا ربکم : اتقوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر ۔ وقی مادہ سے تم ڈرو ۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ وقی یقی (باب ضرب) وقایۃ ووقاء بمعنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا۔ مثلا ووقھم عذاب الجحیم۔ (44:56) اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ اتقوا ربکم اپنے پروردگار سے ڈرو۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ۔ اس کی مندجہ ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) عبارت یوں ہے !
للذین احسنوا حسنۃ فی ھذہ الدنیا حسنۃ فی الاخرۃ یعنی فی ھذہ الدنیا متعلق ہے احسنوا سے۔ اور ترجمہ یوں ہوگا :۔ ان لوگوں جنہوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کئے آخرت میں اچھا بدلہ ہے۔ یعنی جنت۔
یوفی الصبرون : یوفی مضارع مجہول واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے ہے) توفیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ پورا دیا جائے گا۔ الوافی۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو۔
یوفی الصبرون جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار اجر ملے گا۔ (یعنی نہ صرف پورا پورا ان کے صبر کے مطابق بلکہ اس سے بھی زیادہ یعنی بےحساب) ۔ اسی مادی وفی سے باب افعال سے بمعنی عہد و پیمان کو پورا کرنا آیا ہے مثلاً اوفوا بعھدی اوف بعھدکم (2:40) اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا اور میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا۔
Ayah 39:11(39:11) ان اعبداللّٰہ۔ میں ان مصدریہ ہے یا مفسرہ۔
مخلصا لہ الدین۔ ملاحظہ ہو 39:2 متذکرہ بالا۔
Ayah 39:12(39:12) لان۔ لام زائدہ ہے ان مصدریہ ہے۔ مفسرہ بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 39:13(39:13) ان عصیت ربی جملہ شرطیہ ہے اخاف عذاب یوم عظیم اس کی جزاء یوم عظیم سے مراد روز قیامت ہے۔
Ayah 39:14(39:14) قل اللّٰہ اعبد مخلصا لہ دینی۔ (معنی کے لئے ملاحظہ ہو 39:2) ۔ ضمیر فاعل اعبد سے حال ہے۔ اور اللّٰہ۔ اعبد کا مفعول۔ مفعول کو مقدم لانے سے تاکید کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔
کہہ دیجئے :۔ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اپنے دین کو اس کے لئے (شریک وغیرہ سے) خالص کرتے ہوئے (تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرو نتیجہ کو تم خود ہی دیکھ لوگے)
Ayah 39:15(39:15) فاعبدوا ما شئتم من دونہ۔ بطور تہدید و قطع تعلقی آیا ہے۔
خسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب خسر و خسار و خسران مصدر (باب سمع) بمعنی زیابن۔ نقصان ، ٹوٹا۔ سرمایہ میں گھاٹا۔ خسر فعل مقدم ہے لیکن آیت ہذا میں بطور فعل متعدی استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انفسکم اور اہلیہم مفعول مذکور ہے۔
خسروا جنہوں نے اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو گھاٹے میں ڈالا۔ اپنے اہل کو گھاٹے میں ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ اپنی غلط تعلیم و تربیت اور غلط مثال سے اس نے اپنے عزیز و اقارب دوستوں۔ ہم قوموں کو توحید سے دور رکھا۔
یوم القیامۃ۔ مضاف مضاف الیہ خسروا کا مفعول فیہ۔ قیامت کے روز۔ الا۔ حرف تنبیہ۔ یادرکھو۔
الخسران المبین۔ موصوف و صفت۔ صریح خسارہ۔ یہاں خسران کی شدت کو بیان کرنے کے لئے اول تو فقرہ کی ابتداء الا کلمہ تنبیہ سے کی گئی ہے پھر خسران کو معرفہ استعمال کرکے اس کی شدت کی مزید تاکید کی گئی ہے اور پھر اس پر مبین لا کر اس کے ہمہ جہت خسارہ ہونے کا اظہار کیا۔ پھر قیامت کے روز یہ گھاٹا اور بھی مہیب شکل اختیار کرے گا۔ کیونکہ یہ مستقل اور دوامی صورت میں ہوگا۔ دنیا کے گھاٹے کی طرح نہیں کہ جس کے تبدیل ہونے کا اور ختم ہونے کا امکان ہے۔
Ayah 39:16(39:16) لھم ۔۔ تحتھم ظل۔ یہ الخسران المبین کی تفصیل ہے۔
لہم ضمیر جمع مذکر غائب الخسرین کی طرف راجع ہے۔
ظلل۔ سائبان۔ بدلیاں ظلۃ کی جمع جیسے غرفۃ کی جمع غرف اور قریۃ کی جمع قرب ہے۔ ظلۃ ہر اس شے کو کہتے ہیں جس کا سایہ کسی پر پڑ رہا ہو۔ شامیانہ، بادل۔ ظل سایہ۔ ظل ظلیل گھنا سایہ ظلل من النار یہاں آگ سے بھڑکتے ہوئے شعلے مراد ہیں۔ جو سایہ دار چیز کی طرح ان کے اوپر بھی چھائے ہوئے ہوں گے اور نیچے بھی ایسے ہی تہ در تہ آگ کے پردے ہوں گے۔ جو ان سے نیچے والے دوزخیوں کے لئے سائبان کی طرح ہوں گے۔ مطلب یہ کہ جہنمی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے۔
من النار ظلل کی تعریف ہے۔
ذلک : ای ذلک العذاب یعنی اس عذاب سے (اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے) ۔
یخوف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تخویف (تفعیل) مصدر۔ وہ خوف دلاتا ہے۔ وہ ڈراتا ہے۔
عبادہ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یخوف کا مفعول ۔ اپنے بندوں کو۔
یعباد : ای یعبادی۔ اے میرے بندو !
اتقون۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اصل میں اتقونی تھا۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ مجھ سے ڈرو۔ یعنی میرے عذاب سے ڈرو۔
Ayah 39:17(39:17) اجتنبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر۔ انہوں نے پرہیز کیا۔ وہ بچے۔
الطاغوت : طغوت وطغیت و طغیان وطغوان کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں۔ طغیان کے معنی ہیں سرکشی میں حد سے تجاوز کرنا۔ مثلا اذ ھب الی فرعون انہ طغی (20:24) تو فرعون کے پاس جا وہ بیحد سرکش ہوچکا ہے۔ الطاغوت مصدر ہے (الملکوت کی طرح) اور شیطان یا شیاطین کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
بعض نے اس کے معنی یہ لئے ہیں :۔ کاہن۔ ساحر۔ اصنام (بت) اور سرکش اور حد سے تجاوز کرنے والا خواہ وہ انسان ہو یا جن۔
ان یعبدوھا : ان مصدریہ ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔
علامہ بغوی (رح) نے طاغوت سے مراد بت لئے ہیں اور ان کے نزدیک ھا ضمیر کا مرجع طاغوت (بمعنی اصنام) ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی پرستش سے بچے رہتے ہیں۔ ھا ضمیر شیاطین کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔
وانابوا الی اللّٰہ۔ واؤ عطف کیلئے ہے انابوا ماضی جمع مذکر غائب انابۃ (افعال) مصدر سے۔ وہ رجوع ہوئے۔ انبۃ الی اللّٰہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونے اور توبہ کرنے کے ہیں۔ منیب اللہ کی طرف رجوع ہونے والا۔ توبہ کرنے والا
لہم البشری۔ ترکیب کلام سے حصر کے معنی پیدا ہوگئے ہیں ۔ یعنی بشارت ایسوں ہی کے حق میں ہے سب کے لئے نہیں ہے ای لہم ولا لغیرہم البشری میں ال حصر کی تاکید مزید کے لئے ہے۔ یہ بشارت دنیا میں پیغمبروں کی زبانی اور مرنے کے وقت ملائکہ کی زبانی ہے۔
فبشرعباد : ای فبشر عبادی۔ترتیب کے لئے ہے بشارت کا حکم لہم البشری ہر مرتب ہوا ہے۔ بشر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو خوشخبری سنا دے۔ عباد میرے بندے۔ یہاں فبشرھم بھی آسکتا تھا کیونکہ ضمیر کا مرجع پہلے ہی مذکور ہے لیکن صراحت کے ساتھ ان کی اضافت اپنی طرف ان کی عزت افزائی کے لئے ہے۔ بشارت کی تکرار بھی اسی پر دلالت کرتی ہے (اس صورت میں وقف فبشرعباد پر ہوگا)
Ayah 39:18(39:18) الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ۔ اگر وقف فبشر عباد پر کیا جائے تو یہ جملہ مبتداء ہوگا اور اگلا جملہ اولئک الذین ۔۔ اس کی خبر۔ اور ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ بات کو سنتے ہیں اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔
اور اگر وقف لہم الشری پر ہے تو الذین یستمعون ۔۔ الخ ۔ عباد میرے بندے) کی تعریف ہے۔ اور ترجمہ ہوگا :۔
پس آپ مژدہ سنا دیں میرے ان بندوں کو جو بات کو سنتے ہیں اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں ۔
یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر سے۔ وہ کان لگا کر سنتے ہیں، وہ دھیان سے سنتے ہیں ۔
القول۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) اس سے مراد القرآن ہے اور احسنہ سے مراد بہتر۔ زیادہ اچھا۔ (کلمہ افعل التفضیل) مثلاً واھب کی نسبت فرض کا اتباع کرنا۔ مستحب کی نسبت واجب کا اتبار کرنا اسی طرح جہاں دو صورتیں جائز ہوں وہاں اس صورت کو اختیار کرنا جو قرب الٰہی کا بہتر ذریعہ بن سکے۔
مثلاً قرآن مجید میں ہے :۔ وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لہن فریضۃ فنصف ما فرضتم الا ان یعفون او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح وان تعفوا اقرب للتقوی (2:237) اور اگر تم نے انہیں طلاق دیدی ہے اس سے پہلے کہ انہیں ہاتھ لگایا ہو۔ لیکن ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے ہو۔ تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہے اس کا آدھا تمہیں دینا ہوگا۔ بجز اس صورت کے کہ (یا تو) وہ عورتیں خود معاف کردیں یا وہ (اپنا حق) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اگر تم ہی اپنا حق معاف کردو تو یہ زیادہ قرین تقویٰ ہے۔
یا ۔ وان کان ذر عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ وان تصدقوا خٰر لکم (2:280) اور اگر تنگ دست ہے تو اس کے لئے آسودہ حالی تک مہلت ہے۔ اور اگر تم معاف ہی کر دو تو تمہارے حق میں (اور) بہتر ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
(2) القول سے مراد قرآن اور اس کے علاوہ دوسری کتب سماوی ہیں اور احسنہ سے مراد قرآن کے اوامرو نواہی ہیں۔
(3) خدا اور رسول کریم ﷺ کا کلام بھی سنتے ہیں اور دوسروں کا کلام بھی یعنی القول سے مراد عام کلام ہے تو اس صورت میں خدا اور رسول کریم ﷺ کا کلام احسن ہوگا۔
فیتبعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ اتباع کرتے ہیں۔ پیروی کرتے ہیں۔
احسنہ : احسن افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہتر۔ بہت اچھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القول ہے۔
Ayah 39:19(39:19) افمن حق علیہ کلمۃ العذاب : افانت تنقذ من فی النار افمن میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے الفاء للعطف (علی الکلام المقدرۃ) من شرطیہ ہے حق علیہ ، من کی صفت ہے۔ افانت میں ہمزہ استطالت کلام کے لئے ہے اور جملہ انت تنقذ من فی النار جواب شرط ہے۔
من حق علیہ کلمۃ العذاب اور من فی النار کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔
حق علیہ یعنی اللہ کے علم قدیم میں عذاب اس کے لئے مقرر ہوچکا۔
ترجمہ :۔ کیا جس شخص پر عذاب کی بات متحقق ہوچکی ہو ۔ آپ اس دوزخی کو چھڑا سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جس کے لئے (اس کے اعمال کی بناء پر ) دوزخ کا عذاب متحقق ہوچکا ہو آپ اس کو دوزخ سے بچا سکتے ہیں ؟ یعنی ہرگز نہیں بچا سکتے۔
تنقذ۔ مضارع واحد مذکر حاضر انقاذ (افعال) مصدر۔ تو چھڑاتا ہے یا چھڑائے گا۔ تو نجات دلاتا ہے یا دلائے گا۔
Ayah 39:20(39:20) غرف جمع غرفۃ واحد بالاخانہ۔ مکان کی بالائی منزل۔ اونچا مکان مراد جنت میں خاص منزل۔
فوقھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔
مبنیۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منبی مذکر ۔ تعمیر کردہ عمارت۔ بنی یبنی بناء بنی بنیۃ (باب ضرب) مصدر۔ بناء تعمیر شدہ عمارت کو بھی کہتے ہیں۔
من تحتھا۔ میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔ یعنی نچلے بالا خانوں کے نیچے بھی اور اوپر والے بالا خانوں کے نیچے بھی۔
وعد اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ اللہ کا وعدہ۔ وعد اسم بھی ہے اور وعد یعد (ضرب) کا مصدر بھی۔ یہاں بطور مصدر برائے تاکید آیا ہے ۔ کیونکہ لہم غرف بمعنی وعدہم اللّٰہ ذلک۔ اللہ نے ان سے ان (بالا خانوں) کا وعدہ کر رکھا ہے۔
المیعاد۔ اسم مصدر منصوب (بوجہ مفعول) وعدہ۔
Ayah 39:21(39:21) الم تر۔ اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے کیا تو نے نہیں دیکھا۔ یعنی تو نے ضرور دیکھا ہے
فسل کہ : سلک ماضی واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ اس نے داخل کیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو داخل کیا۔ یہاں ماضی بمعنی حال ہے یعنی وہ اس کو (یعنی اس پانی کو) داخل کرتا ہے۔
ینابیع۔ اسم جمع۔ ینبوع واحد۔ چشمے۔ زمین وہ سوت جن میں سے پانی پھوٹ کر نکلتا ہے۔ نبع ونبوع مصدر (باب نصر۔ فتح۔ ضرب) کنویں یا چشمے سے پانی پھوٹ کر نکلنا۔ سل کہ ینابیع : ای ادخلہ ینابیع۔ وہ اسے زمین کے سوتوں میں داخل کرتا ہے۔
یخرج۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر وہ نکالتا ہے وہ پیدا کرتا ہے ۔ وہ اگاتا ہے۔
زرعا : زرع کھیتی۔ زروع کھیتیاں۔ منصوب بوجہ مفعول۔ ثم یخرج بہ زرعا مختلفا الوانہ۔ پھر اس پانی کے ذریعہ سے مختلف رنگوں کی کھتیاں اگاتا ہے الو ان بمعنی اقسام بھی ہے۔
یھیج۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھیج مصدر (باب ضرب) وہ خشک ہوجاتی ہے وہ سوکھ جات ہے۔ ھایجۃ وہ زمین جس کی گھاس سوکھ گئی ہو۔ ھاج البقل کھیتی کا پک کر زرد پڑجانا۔ ھوج مادہ۔
تراہ۔ مضارع واحد مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر جس کا مرجع زرعا ہے پھر تو اس کھیتی کو (زرد) دیکھتا ہے۔
مصفرا۔ ام مفعول واحد مذکر اصفرار افعلال مصدر سے۔ صفر مادہ۔
حطاما۔ ریزہ ریزہ ۔ چورا چورا۔ بھوسہ۔ الحطم کے اصل معنی کسی چیز کو ریزہ ریزہ کر دینت اور روندنے پر بھی حطم بولا جاتا ہے حطام جو خشک ہوکر ریزہ ریزہ ہوجائے۔ قرآن مجید میں ہے : لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ (27:18) ایسا نہ ہو کہ (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر تم کو کچل ڈالے۔
فی ذلک۔ یعنی مندرجہ بالا تفصیل میں۔ کہ اس کا اوپر سے پانی برسانا۔ پھر اس کے ذریعہ سے مختلف النوع کھیتیاں اگانا۔ پھر ان کو پکانا۔ کہ وہ زرد رنگ پکڑ جائیں پھر ان کو خشک کرکے ریزہ ریزہ کردینا۔
ذکری نصیحت ۔ پند۔ موعظت۔ یہاں بمعنی تذکیر (یاد دہانی) بھی ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ حیات دنیا کھیتی کی طرح ہے جس کا مال نوبہ نو تغیرات کے بعد فناء ہے (اس پر فریفتہ نہ ہونا چاہیے)
اولی الالباب۔ صاحب عقل۔ دانشمند۔
Ayah 39:22(39:22) افمن شرح اللّٰہ صدرہ للالسام ۔ فھو علی نور من ربہ : افمن میں ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ شرح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب شرح باب فتح مصدر سے بمعنی کھولنا۔ کھلا کرنا۔ کشادہ کرنا۔ تشریح کرنا۔ وضاحت کرنا۔ شرح صدر بمعنی سینہ کا نور الٰہی سے کشادہ ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ سے تسکین و تقویت کا پانا۔
صدرہ مضاف مضاف الیہہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ فھو۔ میں الفاء للسببیہ اور نور بمعنی ہدایۃ ہے۔ نور کے بعد عبارت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ افمن شرح اللّٰہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (کمن طبع علی قلبہ فقسا قلبہ) ۔ کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے (اسلام کو قبول کرنے کے لئے) کھول دیا ہو جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ اپنے پروردگار کی عطا کردہ ہدایت پر آگیا ہو۔ (بھلا ایسا شخص) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل پر (اللہ کی طرف سے) چھاپ لگا دی گئی ہو۔ اور اس کا دل سخت ہوگیا ہو۔ (اور قبول حق کی اس میں صلاحیت ہی نہ رہی ہو) ۔
فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللّٰہ۔ الفاء سببیہ۔ اور من ذکر اللّٰہ میں من اجلیہ ہے ای من اجل ذکر اللّٰہ یعنی جب اللہ کا ذکر ان کے سامنے کیا جاتا ہے یا اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی قسادت (سخت دلی) اور بڑھ جاتی ہے۔ گویا اللہ کا ذکر ان کی قساوت قلبی بڑھ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔
للقسیۃ۔ لام حرف جار ہے قسیۃ اسم فاعل واحد مؤنث مجرور ہے۔ قسوۃ قساوۃ قسو مصدر باب نصر سے۔ اس کی جمع قسیات ہے قسو مادہ ۔ القسوۃ کے معنی سنگ دل ہونے کے ہیں۔ یہ اصل میں حجر قاس سے ہے۔ جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ثم قست قلوبکم من بعد ذلک فہی کالحجارۃ او اشد قسوۃ (2:74) پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔
ترجمہ ہوگا :۔ پس بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل اللہ کے ذکر سے اور سخت ہوگئے۔
Ayah 39:23(39:23) اللّٰہ نزل : نزل سے پہلے اللّٰہ کہنے کے تین فائدے ہیں :۔
(1) عظمت شان کا اظہار ہوگیا۔
(2) اللہ کی طرف قرآن نازل ہونے کی نسبت پختہ ہوگئی۔
(3) قرآن کے احسن ہونے کی شہادت دیدی گئی (کہ اللہ ہی نے اس کلام کو اتارا اور اسکے احسن الحدیث ہونے کی شہادت دی ہے)
احسن الحدیث۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہت ہی اچھی بات یا کلام سب سے اچھا کلام یا بات یعنی القرآن۔
کتبا متشابھا مثانی : کتبا بدل ہے احسن الحدیث کا متشابھا صفت ہے کتبا کی۔ مثانی یہ صفت ثانی ہے کتبا کی
متشابھا کا مطلب ہے کہ تمام آیات صحت معنی ۔ حسن عبارت اور افادہ عام میں ایک جیسی ہیں اور کوئی آیر دوسری آیت کی تکذیب نہیں کرتی۔
مثانی۔ جمع ہے مثنی یا مثناۃ واحد۔ ثنی یا ثناء مصدر ۔ باب ضرب ثنی مادہ۔ اس کے معنی ہیں دوہرا کرنا۔ تکرار کرنا۔ اعادہ کرنا۔ چھاٹ لینا۔ اور ثناء کا معنی بار بار کسی کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا۔ قرآن حکیم کو مثانی کہتے کی وجہ یہ ہے کہ قرآنی مندرجات میں تکرار ہے۔ آیات کی تکرار۔ کلام کی تکرار۔ نصیحت کی تکرار۔ وغیرہ کی وجہ سے قرآن کو مثانی کیا گیا ہے۔
تقشعر ۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ اقشعرار (افعلال) مصدر سے جس کے معنی کانپنے۔ لرزنے۔ اور روں کھڑا ہوجانے کے ہیں۔ اس کی ترکیب حروف قشع اور حرف راء سے مل کر ہوئی ہے۔ قشع عربی میں خشک چمڑے کو کہتے ہیں ر کا اضافہ اس لء کیا گیا ہے تاکہ فعل رباعی ہوجائے جس طرح اقمطر کو قمط سے بنایا گیا ہے جس کے معنی مضبوطی سے باندھنے کے ہیں۔ خشک چمڑا چونکہ سکڑا ہوا اور سمٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اقشعر کے معنی سکڑنے اور سمٹنے کے ہوئے لرزہ اور کپکپی میں بھی بدک کی کھال سکڑتی اور سمٹتی ہے اور بدن کے بال اور رواں رواں کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اقشعرار کا استعمال ان معانی میں بھی ہونے لگا۔
منہ۔ میں ضمیر واحد مذکر گا ئب کا مرجع القرآن ہے منہ بمعنی عند سماعہ۔ اسے سن کر۔
جلود۔ کھالیں ۔ چمڑے جلد کی جمع مراد بدن۔
تلین۔ مضارع واحد مؤنث غائب لین (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی نرم ہونے کے ہیں یہ خشونۃ کی ضد ہے۔
الی ذکر اللّٰہ میں الیٰ بمعنی اللہ آیا ہے ای لذکر اللّٰہ یعنی اللہ کے ذکر کی وجہ سے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب قرآن میں آیات وعید کا ذکر آتا ہے تو مؤمنون کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب آیات وعدہ کا ذکر آتا ہے تو کھالوں کا انقباض جاتا رہتا ہے کھالیں نرم ہوجاتی ہیں اور دلوں میں سکون پیدا ہوجاتا ہے۔
ذلک کا اشارہ کتاب ہے جس کا ذکر اوپر مذکور ہوا۔ یعنی القران۔
من یضلل اللّٰہ۔ میں من شرطیہ ہے۔ یضلل مضارع مجزوم کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ مجزوم بوجہ شرط ہے۔ اضلال (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی گمراہ کرنا۔ یا گمرا چھوڑ دیتا ہے ۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے (تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں) ۔ ھاد۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ ھدایۃ مصدر باب ضرب ہدایت دینے والا۔ اصل میں ھادی تھا۔ ضمہ یاء پر دشوار تھا۔ اس لئے حذف کردیا گیا۔ پھر ی اجتماع ساکنین سے گرگئی۔ ھاد رہ گیا۔
Ayah 39:24(39:24) افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب یوم القیمۃ : افمن ہمزہ استفہام انکاری ہے یتقی مضارع واحد مذکر غائب اتقاء (افتعال) مصدر سے بمعنی بچنا۔ ڈرنا۔ خوف کرنا۔ اتقی بالشی جعلہ وقایۃ لہ من شیء اخر اس چیز کو کسی دوسری چیز سے بچنے کے لئے ذریعہ بنانا۔ یا بولتے ہیں۔ اتقینا بہ ہم نے دشمن سے بچنے کے لئے اس سے آڑ پکڑی۔ یتقی بوجھہ وہ (سخت عذاب سے) بچنے کے لئے اپنے چہرہ کی آڑ پکڑتا ہے۔ یا بچنے کے لئے اپنے چہرہ کو ڈھال بناتا ہ یا سخت عذاب کی مار اپنے منہ پر لیتا ہے۔
کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جب کہ وہ بالکل عاجز اور بےبس ہوجائے۔ اور کوئی دیگر چارہ کار نہ ہو۔ یہاں اس دوزخی کی بےبسی اس وجہ سے ہوگی کہ کافر جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے ساتھ گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ لہٰذا عذاب کی مار کو ہاتھوں پر لینے کی بجائے لامحالہ اسے منہ پر ہی لینا پڑے گی۔
جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے سورة المومن (40) میں ہے :۔
الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا فسوف یعلمون (70) اذ الاغلال فی اعناقھم والسلاسل یسحبون (71) فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (72) ۔ جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے اپنے پیغمبروں کو دیکر بھیجا۔ اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہونگی (اور) گھسیٹے جائیں گے۔ آیات (4:50) و (54:48) میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ یہ دوزخیوں کی لاچارگی کی انتہاء ہوگی۔
سوء العذاب میں سوء کی العذاب کی طرف اضافت صفت کی موصوف کی طرف ہے۔ بہت بڑا عذاب۔ بہت سخت عذاب۔ سوء العذاب فعل یتقی کا مفعول ہے۔
یوم القیمۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فعل یتقی کا مفعول فیہ ہے۔ افمن ۔۔ یوم القیمۃ کے بعد جملہ محذوف ہے ای کمن امن من العذاب پوری عبارت یوں ہوگی :۔ افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب یوم القیمۃ کمن امن من العذاب۔ کیا وہ شخص جو قیامت کے روز شدید عذاب کی مار اپنے منہ پر لے گا اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو عذاب سے بچا رہا۔
فائدہ : اس طرح کا پورے پورے جملوں اور عبارتوں کا محذوف و مقدر رہنا عربی اسلوب انشاء میں منافی بلاغت نہیں بلکہ اپنے موقعہ پر داخل حسن و کمال انشاء ہے۔ (الماجدی)
ذوقوا فعل امر جمع مذکر حاضر ذوق باب نصر۔ مصدر سے۔ تم چکھو۔ ذائق اسم فاعل واحد مذکر۔ چکھنے والا۔ اس کی مؤنث ذائقہ ہے
ما کنتم تکسبون ۔ ما موصولہ ہے کنتم تکسبون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ کسب باب ضرب مصدر سے۔ جو کچھ تم کمایا کرتے تھے۔
Ayah 39:25(39:25) من قبلہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع ظلمین ہے۔ تفسیر الخازن میں ہے کہ یہ کفار مکہ کے لئے ہے۔
فاتہم میں ضمیر ہم الذین کے لئے ہے۔
Ayah 39:26(39:26) اذاقھم ماضی واحد مذکر غائب۔ اذاقۃ باب افعال سے مصدر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ (اللہ نے) ان کو چکھایا ۔
الخزی۔ ذلت و اہانت ۔ یہ اذاق کا مفعول ثانی ہے۔ ذلت اور رسوائی صورتیں بگڑ جانا۔ زمین میں دھنسا یا جانا۔ مارا جانا۔ طوفان میں مبتلا ہونا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہونا۔ غرق کیا جانا وغیرہ شامل ہے۔
لو کانوا یعلمون۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اگر ضمیر فاعل ان مکذبین کی طرف راجع ہو جن کو دنیا میں ذلت و رسوائی کی سزا دی گئی تھی تو اس کا مطلب ہوگا :۔ کاش وہ تکذیب انبیاء کے نتیجے کو سمجھ لیتے تو تکذیب نہ کرتے۔
(2) اگر ضمیر فاعل کا مرجع منکرین مکہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ اہل مکہ اگر اہل بصیرت اور ارباب نظر ہوتے تو پہلے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرتے۔
Ayah 39:27(39:27) لعلہم یتذکرون ۔ (تاکہ وہ نصیحت پکڑیں) ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل کی علت ہے۔ یعنی یہ مثالیں اس لئے بیان کی ہیں تاکہ یہ نصیحت پکڑیں۔
یتذکرون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) مصدر سے۔ بمعنی نصیحت پکڑنا۔
Ayah 39:28(39:28) قرانا عربیا : قرانا حال مؤکدہ ہے ھذا سے۔ اسے حال موطئہ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ فی الاصل حال عربیا ہے اور قرانا اس کا توطئہ ہے جیسے ہم کہتے ہیں جاءنی زید رجلا صالحا وانسانا عاقلا۔ کہ حال اصل صالحا وعاقلا ہے رجلا وانسانا تاکید کے لئے لائے گئے ہیں۔
غیر ذی عوج۔ جو کجی والا نہ ہو۔ جس میں کسی قسم کی کجی نہ ہو۔ یہاں مستقیم کا استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ مستقیم سے غیر ذی عوج زیادہ بلیغ ہے یہ ہر قسم کی کجی کی نفی کرتا ہے اور معانی میں اختلال نہ ہونے کے لئے یہ لفظ زیادہ مخصوص ہے۔ غیر حرف استثناء ذی عوج مضاف مضاف الیہ۔ (ٹیڑھا ۔ کجی والا) ۔
قاعدہ : لفظ غیر کے بعد مستثنیٰ اگر واقع ہو تو مجرور ہوتا ہے۔
لعلہم یتقون ۔ علت ثانی ہے ضربنا ۔۔ مثل کی۔ تاکہ وہ کفر و معاصی سے اجتناب کریں۔
Ayah 39:29(39:29) ضرب اللّٰہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون۔ مثلا مفعول ضرب ، رجلا بدل ہے مثلا کا۔ شرکاء مبتداء فیہ خبر مقدم ۔ متشکسون مبتداء کی صفت اور پورا جملہ فیہ شرکاء متشکسون صفت ہے رجلا کی۔ فیہ میں ہ ضمیر کا مرجع رجلا ہے
متشاکسون۔ اسم فاعل جمع مذکر تشاکس تفاعل مصدر سے باہم جھگڑنے والے۔ باہم مخالفت کرنے والے۔ شکس یشکس شکاسۃ (باب کرم) اور شکس یشکس لشکس (باب سمع) بدمزاج ہونا۔
لہٰذا متشاکسون بدمزاج۔ مختلف المزاج۔ باہم مخالفت کرنے والے۔ رجلا مابعد کی عبارت بتاتی ہے کہ یہ ایک غلام شخص کی مثال ہے جس کے کئی مالک ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک غلام ہے جس میں کئی ساجھی ہیں جو باہم ضد رکھنے والے یا جھگڑنے والے۔ بدخو ہیں۔
ورجلا سلما لرجل : ای وضرب اللّٰہ مثلا رجلا سلما لرجل (اور اللہ تعالیٰ مثال بیان فرماتا ہے) ایک غلام کی جو پورے کا پورا ایک مالک کا ہے۔ سلما پورا سالم۔ سلم یسلم (سمع) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی خالص اور پورے طور پر کسی دوسرے کے لئے ہوجانے کے ہیں۔
ہل یستوین مثلا : ہل استفہام انکاری کے لئے ہے یستوین مضارع تثنیہ مذکر غائب استواء (افتعال) سے۔ کیا وہ دونوں برابر ہیں۔ مثلا بطور مثال کے کیا دونوں کی حالت یکساں ہے ؟ یعنی یکساں نہیں ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ یہ استفہام تقریری بھی ہے۔ مخاطب کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ دونوں غلاموں کی ایک جیسی حالت نہ ہونے کا اقرار کرے۔ یہ حاصل مثل ہے۔ مثال بیان کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔
الحمدللّٰہ۔ (مان تو لیا) جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ اس مثال کا مقصد مخاطب کو آمادہ بہ اقرار کرنا ہے کہ ایک مشرک اور ایک موحد برابر نہیں ہوسکتے۔ جب مخاطب نے اقرار کرلیا تو کہا شکر ہے اتنا تو مان لیا۔
بل اکثرھم لا یعلمون ۔ بل کا لفظ ابتدائیہ ہے جو جاہلوں کی حالت بیان کر رہا ہے ۔ یعنی مگر بات یہ ہے کہ اکثر لوگ (اپنی جہالت کی وجہ سے) سمجھتے ہی نہیں (کہ خدا کا کوئی ساجھی ہی نہیں ہے اور یہ کہ وہی اصل منعم اور مالک کل ہے) ۔
Ayah 39:30(39:30) انک میت۔ بیشک آپ کو بھی مرنا ہے۔ میت صفت مشبہ کا صیغہ ہے جو دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ ہر شخص کی موت یقینی ہے۔ اسی لئے یہاں بجائے فعل مضارع کے (تموت وتموتون کے) میت ومیتون استعمال کیا گیا ہے۔ فرا اور کسائی کی تحقیق ہے کہ میت اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو آئندہ مرنے وال ہو ابھی مرا نہ ہو۔ اور میت اس کا بھی کہتے ہیں کہ جس کی جان نکل چکی ہو اس لئے میت اور میتون بہ تشدید ی فرمایا ۔
محلی نے لکھا ہے کہ کفار مکہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جلد وفات پاجائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بھی یقینا مریں گے اور وہ یعنی کفار مکہ یا سب لوگو بھی مریں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات سے ان کو خوشی نہ ہونی چاہیے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 39:31(39:31) انکم ۔ یعنی آپ اور کفار مکہ۔ یا سب لوگ۔ یوم القیمۃ۔ بوجہ ظرف منصوب ہے۔ تختصمون کا مفعول فیہ ہے۔
تختصمون۔ مجارع جمع مذکر حاضر۔ اختصام (افتعال) مصدر سے۔ تم جھگڑا کرو گے۔ یعنی اپنا اپنا مقدمہ (اپنے رب کے سامنے) پیش کرو گے۔ یہ جھگڑنے والے اور استغاثہ پیش کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ مومن و کافر بھی ۔ اور ظالم و مظلوم بھی۔ یعنی تخاصم الکافر والمؤمن والظالم والمظلوم۔ (قرطبی)
Ayah 39:32(39:32) فمن اظلم : میں فاء سببیہ ہے۔ کافروں کا رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کرنا۔ ان کا بےانصاف ہونے کا سبب ہے (مظہری) ۔ یہ استفہام انکاری ہے اور استفہام انکاری ثبوت قطعی کے معنی پیدا کرتا ہے۔ اظلم افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
ترجمہ :۔ اس شخص سے بڑھ کر بےانصاف کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں ۔ وہ شخص زیادہ بےانصاف ہے۔
ممن : من اور من سے مرکب ہے۔ من حرف جار ہے اور من موصولہ۔ اور کذب علی اللّٰہ۔ اسم موصول کی تعریف (جس نے اللہ پر جھوٹ لگایا) ۔ اللہ پر جھوٹ لگانے سے مراد اولاد اور شریک کا اس کی طرف نسبت کرنا ہے۔
وکذب بالصدق : واؤ عاطفہ ہے جملہ مابعد کا عطف جملہ ماقبل پر ہے ای ومن کذب بالصدق : جس نے سچ کو جھٹلایا۔
کذب ب جھٹلایا۔ جیسے کذب بالامر اس نے اس بات سے انکار کیا۔ اسے جھٹلایا۔ الصدق۔ سچ۔ یعنی قرآن۔
اذجاء ہ۔ اذ۔ جب ۔ جبکہ۔ جس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب یا جس وقت۔ بعض نے اسے اذ مفاجاتیہ کہا ہے ۔ یعنی جبھی سچ آیا اس نے فورا بغیر سوچے سمجھے اس کی تکذیب کی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ اس سچائی کے دلائل اور اس کے صادق ہونے کے شواہد بکثرت موجود ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب من موصولہ کی طرف راجع ہے۔
الیس۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ لیس فعل ناقص بمعنی نہیں ہے منفی کی منفی مثبت ہوگی۔ کیا نہیں ہے ؟ یعنی ایسا ضرور ہے۔
مقصود اس سے مخاطب کو آمادہ کرنا ہے کہ وہ اقرار کرے کہ واقعی جہنم ہی کافروں کا ٹھکانا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو۔ 39:28) (مظہری)
مثوی۔ ظرف مکان واحد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ طویل عرصہ کے لئے ٹھہرنے کا مقام فرودگاہ۔ ثوی یثوی (ضرب) قیام کرنا۔ ٹھہرنا۔
Ayah 39:33(39:33) الذی جاء بالصدق وصدق بہ : الذی اسم موصول ، مبتداء جاء بالصدق وصدق بہ متعلق مبتدا۔ اولئک ہم المتقون۔ خبر۔ الصدق۔ سچ ۔ سچی بات۔ صداق بمعنی لا الہ الا اللّٰہ۔ صدق یصدق باب نصر کا مصدر ہے۔ صدق باب تفعیل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الصدق کی طرف راجع ہے اس نے اس کی تصدیق کی۔
الذی جاء بالصدق وصدق بہ کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) الذی جاء ۔۔ سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں۔ اور صدق بہ میں ضمیر فاعل کا مرجع بھی وہی ہیں۔ یعنی وہ سچ لائے اور اس کی تصدیق بھی کی۔
(2) الذی جاء سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔
(3) الذی جاء سے مراد حضرت جبرائیل ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت رسول کریم ﷺ ہیں۔
(4) الذی جاء ۔۔ سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں اور صدق بہ سے مراد خود ان کی ذات اقدس اور آپ کے متبعین ہیں۔
(5) الذی جاء میں الذی بمعنی الذین ہے اور یہاں مراد صرف رسول کریم ﷺ ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء اور مؤمنین ہیں اس سے اگلا جملہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اور ایسی مثال اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلہم یھتدون (23:49) ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔
الذی بمعنی الذین متعدد جگہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے مثلا :۔
(1) مثلہم کمثل الذین استوقد نارا : ای الذین اس تو قدوا نارا اس کی دلیل اس کے بعد ارشاد الٰہی ہے۔ ذھب اللّٰہ بنورہم وترکیم فی ظلمت لایبصرون (2:17)
(2) کالذی ینفق مالہ رئاء الناس۔ ای کالذین ینفقون ۔۔ بدلیل کلام مابعد لا یقدرون علی شیء مما کسبوا (2:264) ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اس کو سچ جانا یہی لوگ اہل تقوی ہیں (خدا سے ڈرنے والے، پرہیزگار ہیں) ۔
Ayah 39:34(39:34) مایشاء ون ۔ میں ما موصولہ ہے یشاء ون ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ شاء یشاء مشیۃ باب فتح مصدر۔ جو وہ چاہیں گے۔
ذلک : ای حصول کل ما یشاؤنہ۔ خواہش کے مطابق ہر شے کا مل جانا۔
جزاء المحسنین ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ احسان مصدر سے۔ مضاف مضاف الیہ ۔ نیکوکاروں کا صلہ یعنی انکی نیکی کرنے کا صلہ
Ayah 39:35(39:35) لیکفر اللّٰہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام تعلیل) واحد مذکر غائب ۔ کفر یکفر تکفیر (تفعیل) مصدر سے۔ تاکہ وہ دور کر دے۔ الکفر کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کا چھپا لیتی ہے۔ لسان العرب میں سے اصل الکفر تغطیۃ الشی تغطیۃ تستھل کہ یعنی کفر کا اصل معنی یہ ہے کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا کہ اس چیز کا نام و نشان بھی دکھائی نہ دے۔ اسے سے کفر بمعنی انکار وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوت یا انکار نعمت ہے۔
اسوا۔ سب سے بڑا۔ سوء سے جس کے معنی برا ہونے کے ہیں۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے یہاں کسی دوسرے گناہ کے مقابلہ میں زیادہ برا ظاہر کرنا مراد نہیں ہے بلکہ فی نفسہ عمل کا برا ہونا مراد ہے تفضیل اضافی مراد نہیں بلکہ تفضیل ذاتی مراد ہے۔
اجرہم : ای اجر اعمالہم ان کے اعمال کی جزائ۔ اجر یا ثواب۔
احسن۔ بہت اچھا۔ سب سے اچھا۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ یہاں بھی اسوا کی طرف اضافی فضیلت مراد نہیں ۔ بلکہ فضیلت ذاتی مراد ہے۔ یعنی اللہ ان کے اچھے اعمال کا (خواہ وہ سب سے اچھے نہ ہوں) بدلہ اتنا عطا فرمائے گا جو سب سے بہتر عمل کا مقرر ہے۔