Ayah 39:1خلاصہ تفسیر
یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے (کہ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی، اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے) ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے سو آپ (قرآن کی تعلیم کے موافق) خالص اعتقاد کر کے اللہ کی عبادت کرتے رہیئے (جیسا اب تک کرتے رہے ہیں اور جب آپ پر بھی یہ واجب ہے تو اوروں پر کیوں واجب نہیں ہوگا، اے لوگو) یاد رکھو عبادت جو کہ (شرک وریا سے) خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزا وار ہے اور جن لوگوں نے (عبادت خالصہ چھوڑ کر) خدا کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں (یعنی ہمارے حوائج یا عبادت کو خدا کے حضور پیش کردیں جیسا دنیا میں وزراء اور دربار سلاطین میں اس کام کے ہوتے ہیں) تو ان کے (اور ان کے مقابل اہل ایمان کے) باہمی اختلافات کا (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ (عملی) فیصلہ کر دے گا (کہ اہل توحید کو جنت میں اور اہل شرک کو دوزخ میں داخل کر دے گا یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے پر آپ غم نہ کریں ان کا فیصلہ وہاں ہوگا اور اس کا بھی تعجب نہ کریں کہ باوجود قیام دلائل کے یہ حق پر نہیں آتے کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ پر نہیں لاتا جو (قولاً) جھوٹا اور (اعتقاداً) کافر ہو (یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا اور چونکہ مشرکین میں بعضے خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرتے تھے، جیسے ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے، آگے ان کا رد ہے کہ) اگر (بالفرض) اللہ تعالیٰ (کسی کو اولاد بناتا تو بوجہ اس کے کہ بدون ارادہ خداوندی کوئی فعل واقع نہیں ہوتا، اول اولاد بنانے کا ارادہ کرتا اور اگر) کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو (چونکہ ماسوائے اللہ سب مخلوق ہیں اس لئے) ضرور اپنی مخلوق (ہی) میں سے جس کو چاہتا (اس امر کے لئے) منتخب فرماتا (اور لازم باطل ہے کیونکہ) وہ (عیوب سے) پاک ہے (اور غیر جنس ہونا عیب ہے اس لئے کسی مخلوق کو اولاد بنانے کے لئے منتخب کرنا محال ہوا اور محال کا ارادہ کرنا بھی محال ہے اس طرح ثابت ہوگیا کہ) وہ ایسا للہ ہے جو واحد ہے (کہ اس کا کوئی شریک بالفعل نہیں اور) زبردست ہے (اس کا کوئی شریک بالقوة بھی نہیں کیونکہ صلاحیت جب ہوئی کہ کوئی ویسا ہی زبردست ہوتا اور وہ ہے نہیں۔ آگے دلائل توحید ارشاد فرماتے ہیں کہ) اس نے زمین اور آسمان کو حکمت سے پیدا کیا، وہ رات (کی ظلمت) کو دن (کی روشنی کے محل یعنی ہوا) پر لپیٹتا ہے (جس سے رات غائب اور دن آموجود ہوجاتا ہے) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ (ان میں) ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا یاد رکھو کہ (ان دلائل کے بعد انکار توحید سے اندیشہ عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر بھی ہے کیونکہ) وہ زبردست ہے (لیکن اگر بعد انکار کے بھی کوئی تسلیم کرلے تو انکار گزشتہ پر عذاب نہ دے گا، کیونکہ وہ بڑا بخشنے والا (بھی) ہے (اس سے توحید کی ترغیب اور ترک سے ترہیب ہوگئی اور اوپر استدلال تھا دلائل آفاقیہ سے آگے استدلال ہے دلائل انفسیہ سے جس میں ضمنی طور پر کچھ آفاقی حالات بھی آگئے ہیں، یعنی) اس نے تم لوگوں کو تن واحد (یعنی آدم ؑ سے پیدا کیا (کہ اول وہ تن واحد پیدا ہوا) پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا (مراد اس سے حوا ہیں آگے پھر ان سے تمام آدمی پھیلا دیئے) اور (بعد حدوث کے) تمہارے (نفع وبقاء کے لئے) آٹھ نر و مادہ چار پایوں کے پیدا کئے (جن کا ذکر پارہ ہشتم کے ربع پر رکوع (آیت) وھو الذی انشاء جنت۔ میں آیا ہے اور ان کی تخصیص اس لئے کہ یہ زیادہ کام میں آتے ہیں۔ یہی ہے وہ جزو جو آفاقیات میں سے تبعاً مذکور ہوگیا اور تبعاً اس لئے کہا گیا کہ مقصود بیان کرنا ہے بقاء انفس کا اور یہ اسباب بقاء میں سے ہے آگے کیفیت خلقت نسل انسانی کی بیان فرماتے ہیں کہ) وہ تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر (اور دوسری کیفیت کے بعد تیسری کیفیت پر علیٰ ہذا مختلف کیفیات پر) بناتا ہے (کہ اول نطفہ ہوتا ہے پھر علقہ پھر مضغہ الیٰ آخرہ اور یہ بنانا) تین تاریکیوں میں (ہوتا ہے ایک تاریکی شکم کی، دوسری رحم کی، تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ان مختلف کیفیات، متعدد اندھیریوں میں تخلیق کمال قدرت کی دلیل ہے اور ظلمات ثلثہ میں پیدا کرنا کمال علم کی دلیل ہے) یہ ہے اللہ تمہارا رب (جس کی صفات ابھی تم نے سنیں) اسی کی سلطنت ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (ان دلائل کے بعد) تم کہاں (حق سے) پھرے چلے جا رہے ہو (بلکہ واجب ہے کہ توحید کو قبول کرو اور شرک کو چھوڑ دو)۔
Ayah 39:2معارف و مسائل
(آیت) فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۔ لفظ دین کے معنی اس جگہ عبادت کے ہیں یا اطاعت کے، جو تمام احکام دینیہ کی پابندی کو عام اور شامل ہے۔ اس کے پہلے جملہ میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت و اطاعت کو خالص اسی کے لئے کریں جس میں کسی غیر اللہ کے شرک یا ریاء و نمود کا شائبہ نہ ہو۔ دوسرا جملہ اسی کی تاکید کے لئے ہے کہ خلاص دین صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق نہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ و خیرات کرتا ہوں یا کسی پر احسان کرتا ہوں جس میں میری نیت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف وثناء کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے، جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو۔ پھر آپ نے آیت مذکورہ بطور استدلال کے تلاوت فرمائی۔ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۔ (قرطبی)
اعمال کی مقبولیت عند اللہ بمقدار اخلاص ہے
متعدد آیات قرآنی اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حساب گنتی سے نہیں بلکہ وزن سے ہوتا ہے۔ (آیت) ونضع الموازین القسط لیوم القیامة، اور آیات مذکورہ نے بتلا دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک اعمال کی قدر اور وزن بقدر اخلاص ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کمال اخلاص بدون کمال ایمان حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اخلاص کامل یہ ہے کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو نفع و ضرر کا مالک سمجھے نہ اپنے کاموں میں کسی غیر اللہ کو متصرف خیال کرے، نہ کسی اطاعت و عبادت میں غیر اللہ کا اپنے تصور سے دھیان آنے دے۔ غیر اختیاری وساوس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔
صحابہ کرام جو مسلمانوں کی صف اول ہیں ان کے اعمال و ریاضت کی تعداد کچھ زیادہ نظر نہ آئے گی مگر اس کے باوجود ان کا ایک ادنیٰ عمل باقی امت کے بڑے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال ایمان اور کمال اخلاص ہی تو ہے۔
Ayah 39:3(آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى، یہ مشرکین عرب کا حال ہے اور اس زمانے کے عام مشرکین بھی تقریباً یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ خالق ومالک اور تمام کاموں میں متصرف تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ شیطان نے ان کو بہکایا تو اپنے خیال کے مطابق فرشتوں کی شکلوں پر بت تراشے اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ بت ہمارے بنائے ہوئے ہیں انہیں کوئی عقل و شعور اور قدرت وقوت نہیں۔ انہیں عقیدہ یہ تھا کہ ان بتوں کی تعظیم و تکریم سے وہ فرشتے ہم سے خوش ہوں گے جن کی شکلوں پر بت بنائے گئے ہیں اور فرشتے اللہ کے نزدیک مقرب ہیں۔ انہوں نے بارگاہ خداوندی کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کیا کہ جیسے شاہی مقرب کسی سے خوش ہوں تو وہ بادشاہ کے پاس ان کی سفارش کر کے ان کو بھی بادشاہ کا مقرب بنا دیتے ہیں۔ یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے بھی بادشاہی درباریوں کی طرح جس کی چاہیں سفارش کرسکتے ہیں مگر ان کے یہ سارے خیالات شیطانی تلبیس اور باطل ہی باطل تھے۔ اول تو یہ بت پرستوں کی شکل پر واقع میں ہیں نہیں اور ہوں بھی تو اللہ کے مقرب فرشتے اپنی پرستش سے کب خوش ہونے والے ہیں۔ ان کو تو ہر اس چیز سے طبعی نفرت ہے جو اللہ کے نزدیک ناپسند ہے۔ اس کے علاوہ بارگاہ خداوندی میں وہ از خود کسی کی سفارش نہیں کرسکتے جب تک ان کو کسی خاص شخص کے بارے میں سفارش کی اجازت نہ مل جائے۔
وکم من ملک فی السموٰت لا تغنی شفاعتھم شیئاً الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضیٰ۔ کا یہی مطلب ہے۔
اس زمانے کے مشرکین بھی آج کے کفار سے بہتر تھے
آج کے مادہ پرست کفار تو خود اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شان میں براہ راست گستاخیاں کرتے ہیں۔ یورپ سے درآمد کیا گیا کفر خواہ اس کے رنگ مختلف ہوں، کوئی سرمایہ پرست ہو، کوئی کمیونزم کا قائل۔ یہ بات سب میں قدر مشترک ہے کہ معاذ اللہ خدا کوئی چیز نہیں، ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ ہم سے ہمارے اعمال کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔ اسی بدترین کفر اور ناشکری کا نتیجہ ہے کہ پوری دنیا سے امن و اطمینان، سکون و راحت مفقود ہوچکا ہے، راحت کے نئے نئے سامان بہت مگر راحت مفقود علاج معالجے کے جدید آلات اور تحقیقات کی بہتات مگر امراض کی اتنی کثرت جو پہلے کسی زمانے میں نہیں سنی گئی۔ پہرے چوکیاں، پولیس، خفیہ پولیس قدم قدم پر، مگر جرائم کی رفتار ہر روز بڑھ رہی ہے۔ یہ نئے آلات اور راحت و آرام کے نئے نئے طریقے جب غور کریں تو یہی خلق خدا کے لئے وبال جان بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کفر کی سزا تو آخرت میں سب کفار کے لئے دائمی جہنم ہے مگر اس اندھی ناشکری کی سزا کچھ دنیا میں بھگتنی پڑتی ہے، کہ جس کی دی ہوئی نعمتوں میں تصرفات کر کے آسمان پر چڑھنے کے حوصلے پیدا ہوئے، اسی کا انکار ہے۔
درمیان خانہ گم کردیم صاحب خانہ را
Ayah 39:4(آیت) لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا۔ یہ ان لوگوں پر رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہتے تھے ان کے اس خیال باطل اور محال کو بطور فرض محال کے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے معاذ اللہ کوئی اولاد ہوتی تو وہ بغیر اس کے ارادہ اور مشیت کے ہونا محال ہے کہ زبردستی اولاد اس پر مسلط نہیں ہوسکتی پھر اگر بالفرض اس کا ارادہ ہوتا تو اس کی ذات کے سوا سب اس کی مخلوقات ہی ہیں انہیں میں سے کسی کو اولاد بناتے۔ اور اولاد کا اپنے والد کی ہم جنس ہونا لازم ہے، اور مخلوق خالق کی ہم جنس نہیں ہو سکتی۔ اس لئے مخلوق کو اولاد بنانے کا ارادہ کرنا محال ہوگیا۔
Ayah 39:5(آیت) يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ۔ تکویر کے معنے ایک چیز کو دوسری پر ڈال کر اس کو چھپا دینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے دن رات کے انقلاب کو یہاں عام نظروں کے اعتبار سے بلفظ تکویر تعبیر کیا ہے کہ رات آتی ہے تو گویا دن کی روشنی پر ایک پردہ ڈال دیا گیا، اور دن آتا ہے تو رات کی اندھیری پردہ میں چلی جاتی ہے۔
چاند، سورج دونوں متحرک ہیں
(آیت) كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شمس وقمر دونوں حرکت کرتے رہتے ہیں۔ فلکیات اور طبقات الارض کی مادی تحقیقات قرآن پاک یا کسی آسمانی کتاب کا موضوع بحث نہیں ہوتا۔ مگر اس معاملہ میں جتنی بات کہیں ضمناً آجاتی ہے اس پر یقین رکھنا فرض ہے۔ فلاسفر کی قدیم وجدید تحقیقات تو موم کی ناک میں روز بدلتی رہتی ہیں۔ قرآنی حقائق غیر متبدل ہیں۔ آیت مذکورہ نے جتنی بات بتلائی کہ چاند اور سورج دونوں حرکت کر رہے ہیں اس پر یقین رکھنا فرض ہے۔ اب رہا یہ معاملہ کہ ہمارے سامنے آفتاب کا طلوع و غروب زمین کی حرکت سے ہے یا خود ان سیاروں کی حرکت سے، قرآن پاک نہ اس کا اثبات کرتا ہے نہ نفی۔ تجربہ سے جو کچھ معلوم ہوا اس کے ماننے میں حرج نہیں۔
Ayah 39:6(آیت) وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ۔ چوپاؤں کی تخلیق کو اس آیت میں انزال یعنی آسمان سے اتارنے کے ساتھ تعبیر فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کی تخلیق میں بڑا دخل اس پانی کا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی گویا آسمان سے نازل ہوئے، قرآن کریم نے انسانی لباس کے لئے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔
(آیت) انزلنا علیکم لباساً۔ اور بعض معدنی چیزوں مثلاً لوہے کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ (آیت) وانزلنا الحدید۔ ان سب کا حاصل ان چیزوں کا اپنی قدرت سے پیدا کرنا اور انسان کو عطا کرنا ہے۔ (قرطبی)
(آیت) خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ۔ اس میں قدرت خداوندی کے ان رموز و اسرار کی کچھ نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی تخلیق میں کار فرما ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ بچے کو شکم میں بیک وقت مکمل پیدا کردیتے۔ مگر یہ تقاضائے حکمت و مصلحت ایسا نہیں بلکہ خلقاً من بعد خلق تدریج اختیار کی کہ عورت جس کے پیٹ میں عالم اصغر بن رہا ہے وہ آہستہ آہستہ اس کا بوجھ برداشت کرنے کی عادی ہوتی چلی جائے۔ دوسرے اس بےنظیر حسین ترین مخلوق کو جس میں سینکڑوں نازک مشینیں اور بال کی برابر رگیں خون اور روح پہنچانے کے لئے لگائی گئی ہیں۔ یہ عام صنعت کاروں کی طرح کسی کھلی جگہ روشنیوں کی مدد سے نہیں بلکہ تین اندھیروں میں ایسی جگہ پیدا کی گئی ہے جہاں کسی کی نظر تو کیا فکر کی بھی رسائی نہیں۔ (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayahs 39:7–8خلاصہ تفسیر
(اے لوگو تم نے کفر و شرک کا بطلان سن لیا، اس کے بعد) اگر تم کفر کرو گے (جس میں شرک بھی داخل ہے) تو خدا تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) تمہارا (اور تمہاری عبادت کا) حاجت مند نہیں (کہ تمہارے عبادت و توحید اختیار نہ کرنے سے کچھ اس کو ضرر پہنچے) اور (یہ بات ضرور ہے کہ) وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا (کیونکہ کفر سے بندوں کو ضرر پہنچتا ہے) اور اگر تم شکر کرو گے (جس کی فرد اعظم ایمان ہے) تو (اس کو کوئی نفع نہیں مگر چونکہ تمہارا نفع ہے اس لئے وہ) اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور (چونکہ ہمارے یہاں قاعدہ مقرر ہے کہ) کوئی کسی کا بوجھ (گناہ) کا نہیں اٹھاتا (اس لئے کفر کر کے یوں بھی نہ سمجھنا کہ ہمارا کفر دوسرے کے نامہ اعمال میں کسی وجہ سے درج ہوجاوے گا اور ہم بری ہوجاویں گے خواہ اس وجہ سے کہ ہم دوسروں کے متبع ہیں معاصرین کے یا آباء اقدمین کے خواہ اس وجہ سے کہ دوسرے وعدہ اس بوجھ کے اٹھا لینے کا کرتے ہیں۔ جیسا بعض کفار کہا کرتے تھے۔ (آیت) ولنحمل خطیکم۔ غرض یہ نہ ہوگا بلکہ تمہارا کفر تمہارے جرائم میں لکھا جاوے گا) پھر اپنے پروردگار کے پاس تم کو لوٹ کر جانا ہوگا۔ سو وہ تمہارے سب اعمال تم کو جتلا دے گا (اور سزادے گا پس یہ گمان بھی غلط ہے کہ ان کے اعمال کی پیشی کا وقت نہ آوے گا۔ اور) وہ دلوں تک کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ (پس یہ گمان بھی مت کرنا کہ ہمارے کفر کی شاید اس کو اطلاع نہ ہو جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ بعض لوگوں میں گفتگو ہوئی کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہے یا نہیں، کسی نے کچھ جواب دیا کسی نے کچھ جواب دیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) وما کنتم تستترون ان یشھد الخ) اور (مشرک) آدمی (کی حالت یہ ہے کہ اس) کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب (حقیقی) کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے اور سب معبودوں کو بھول جاتا ہے) پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس سے نعمت (امن و آسائش کی) عطا فرما دیتا ہے تو جس (تکلیف کے دفع کرنے) کے لئے پہلے سے (خدا کو) پکار رہا تھا اس کو بھول جاتا ہے (اور غافل ہوجاتا ہے) اور خدا کے شریک بنانے لگتا ہے جس کا اثر (علاوہ اپنے گمراہ ہونے کے) یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے دوسروں کو (بھی) گمراہ کرتا ہے (اور اگر اس مصیبت کو پیش نظر رکھے تو توحید میں اخلاص کو قائم رکھتا۔ یہ مشرک کی مذمت ہوگئی، آگے عذاب سے ڈرانا ہے کہ) آپ (ایسے شخص سے) کہہ دیجئے کہ اپنے کفر کی بہار تھوڑے دنوں اور لوٹ لے (پھر آخر کار) تو دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے۔ (آگے اہل توحید کی مدح و بشارت ہے یعنی) بھلا جو شخص (برعکس حال مشرک مذکور کے) اوقات شب میں (جو عموماً غفلت کا وقت ہوتا ہے) سجدہ و قیام (یعنی نماز) کی حالت میں عبادت کر رہا ہو (یہ تو اس کا ظاہر ہے اور باطن یہ کہ) آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید (بھی) کر رہا ہو۔ (کیا ایسا شخص اور مشرک مذکور برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ قانت جو عبادت پر مداومت کرنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا بھی ہے اور اس سے امید عفو وکرم رکھنے والا بھی، یہ محمود ہے اور مشرک جو مطلب نکال لینے کے بعد اخلاص کو چھوڑ دیتا ہے مذموم ہے اور چونکہ ان عبادات کے ترک کو کفار مذموم نہ سمجھتے تھے، اس لئے اس تفاوت کی بناء پر محمودیت ومذمولیت کے حکم میں ان کو شبہ ہوسکتا تھا، اس لئے آگے اس سے زیادہ واضح اور مسلم عنوانوں سے اس حکم کا اثبات فرماتے ہیں یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ (ان سے بایں عنوان) کہیئے کہ علم والے اور جہل والے (کہیں) برابر ہوتے ہیں (چونکہ جہل کو ہر شخص برا سمجھتا ہے اس کے جواب میں ان کی طرف سے بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ اہل جہل مذموم ہیں آگے یہ ثابت کرنا رہ جاوے گا، کہ صاحب عمل صاحب علم ہے اور عمل سے اعراض کرنے والا صاحب جہل ہے۔ سو یہ امر ذرا تامل سے ثابت ہے اور ہرچند کہ اس بیان سے کفر واہل کفر کا مذموم اور ایمان واہل ایمان کا محمود ہونا ثابت ہوگیا لیکن پھر بھی) وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو اہل عقل (سلیم) ہیں اور (جب اہل اطاعت کا عند اللہ محمود ہونا معلوم ہوگیا تو اطاعت کی ترغیب دینے کے لئے) آپ (مومنین کو میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے ایمان والے بندو تم اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو (یعنی مداوم علی الطاعات ومحترز عن المعاصی رہو کہ یہ سب فرع ہیں تقویٰ کے آگے اس کا ثمرہ ہے کہ) جو لوگ اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک صلہ ہے (آخرت میں تو ضرور اور دنیا میں بھی باطنی راحت تو ضرور اور کبھی ظاہرا بھی) اور (اگر وطن میں کوئی نیکی کرنے سے مانع ہو تو ہجرت کر کے دوسری جگہ چلے جاؤ کیونکہ) اللہ کی زمین فراخ ہے (اور اگر ترک وطن میں کچھ تکلیف پہنچے تو استقلال رکھو کیونکہ دین میں) مستقل رہنے والوں کو ان کا صلہ بیشمار ہی ملے گا (پس اس سے ترغیب اطاعت کی ہوگئی)
معارف و مسائل
(آیت) اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ۔ یعنی نہ تمہارے ایمان سے اللہ تعالیٰ کا اپنا کوئی فائدہ نہ تمہارے کفر سے کوئی نقصان۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ”اے میرے بندے اگر تمہارے اولین اور آخرین اور تمہارے انسان اور جن سب کے سبب انتہائی فسق و فجور میں مبتلا ہوجائیں تو میرے ملک و سلطنت میں ذرا بھی کمی نہیں آتی۔ (ابن کثیر)
(آیت) وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے کفر سے راضی نہیں۔ رضا سے مراد محبت ہے یا کسی کام کا ارادہ کرنا بغیر اعتراض کے۔ اس کا مقابل لفظ سحظ آتا ہے جس کے معنی کسی چیز کو مبغوض رکھنا یا کسی چیز کو قابل اعتراض قرار دینا اگرچہ اس کے ساتھ ارادہ بھی متعلق ہو۔
مسئلہ
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی اچھا یا برا کام ایمان یا کفر اللہ تعالیٰ کی مشیت یا ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ اس لئے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لئے اللہ جل شانہ، کا ارادہ شرط ہے۔ البتہ رضا اور پسندیدگی حق تعالیٰ کی صرف ایمان اور اچھے کاموں سے متعلق ہوتی ہے۔ کفر و شرک اور معاصی اس کو پسند نہیں۔ شیخ الاسلام نووی نے اپنی کتاب الاصول و الضوابط میں لکھا ہے۔
”مذہب اہل حق کا تقدیر پر ایمان لانا ہے اور یہ کہ تمام کائنات اچھی ہوں یا بری سب اللہ تعالیٰ کے حکم و تقدیر سے وجود میں آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تخلیق کا ارادہ بھی کرتا ہے مگر وہ معاصی کو مکروہ و ناپسند سمجھتا ہے۔ اگرچہ ان کی تخلیق کا ارادہ کسی حکمت و مصلحت سے ہوتا ہے جس کو وہ خود ہی جانتا ہے“
Ayah 39:9اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ۔ لفظ امن دو لفظوں سے مرکب ہے۔ ام حرف استفہام اور من اسم موصول اس جملے سے پہلے کفار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں اپنے کفر اور فسق و فجور کے مزے اڑا لو، آخر کار تم جہنم کے ایندھن ہو گے۔ اس کے بعد اس جملے میں مومن مطیع کا بیان ہے جس کو امن کے لفظ سے شروع کیا گیا ہے۔ علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے کہ کافر سے کہا جائے گا کہ تو اچھا ہے یا وہ مومن مطیع جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ لفظ قانت کے کئی ترجمے کئے گئے ہیں۔ سب کو جامع قول حضرت ابن مسعود کا ہے۔ اس کے معنی ہیں اطاعت گزار اور یہ لفظ جب خاص نماز کے لئے بولا جائے۔ جیسے (آیت) قوموا للہ قانتین۔ تو وہاں مراد وہ شخص ہوتا ہے جو نماز میں اپنی نگاہ کو پست رکھے، ادھر ادھر نہ دیکھے، نہ اپنے بدن یا کپڑوں سے کھیل کرے، نہ دنیا کی کسی چیز کو اپنے اختیار سے نماز میں یاد کرے۔ بھول اور غیر اختیاری وسوسہ اس کے منافی نہیں۔ (قرطبی)
اٰنَاۗءَ الَّيْلِ کے معنی ساعات اللیل کے ہیں۔ جس سے مراد رات کا شروع حصہ اور درمیانی اور آخر ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ محشر کے موقف حساب میں اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرما دیں، اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس کو رات کی اندھیری میں سجدہ اور قیام کی حالت میں پائے۔ اس طرح کہ اس کو آخرت کی فکر بھی ہو اور رحمت کی امید بھی۔ بعض حضرات نے مغرب و عشاء کے درمیان کے وقت کو بھی اناء اللیل کہا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 39:10(آیت) وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ۭ۔ اس سے پہلے جملے میں اعمال صالحہ کا حکم ہے۔ اس میں کوئی یہ عذر کرسکتا تھا کہ میں جس شہر یا ملک میں رہتا ہوں یا جس ماحول میں پھنسا ہوا ہوں، اس کا ماحول مجھے اعمال صالحہ سے روکتا ہے۔ اس کا جواب اس جملے میں دے دیا گیا کہ اگر کسی خاص ملک یا شہر یا خاص ماحول میں رہتے ہوئے احکام شرعیہ کی پابندی مشکل نظر آئے تو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کسی ایسی جگہ اور ایسے ماحول میں جا کر رہو جو اطاعت احکام آلٰہیہ کے لئے سازگار ہو۔ اس میں ترغیب ہے ایسی جگہ سے ہجرت کی جس میں رہتے ہوئے انسان احکام دین کی پابندی نہ کرسکے۔ ہجرت کے مفصل احکام سورة نساء میں آ چکے ہیں۔
(آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ بغیر حساب سے مراد یہ ہے کہ صبر کرنے والوں کا ثواب کسی مقرر اندازے اور پیمانے سے نہیں، بلکہ بےاندازہ و بےحساب دیا جائے گا۔ جیسا کہ روایت حدیث میں آگے آتا ہے۔ اور بعض حضرات نے بغیر حساب کے معنی درخواست و مطالبہ کے لئے ہیں یعنی جیسے دنیا میں کسی کا کوئی حق کسی کے ذمہ ہو تو اسے اپنے حق کا خود مطالبہ کرنا پڑتا ہے لیکن اللہ کے یہاں صابروں کو درخواست اور مطالبہ کے بغیر ہی ان کا ثواب عطا کیا جائے گا۔
حضرت قتادہ نے فرمایا کہ حضرت انس نے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز میزان عدل قائم کی جائے گی۔ اہل صدقہ آئیں گے تو ان کے صدقات کو تول کر اس کے حساب سے پورا پورا اجر دے دیا جائے گا۔ اسی طرح نماز اور حج وغیرہ عبادات والوں کی عبادات کو تول کر حساب سے ان کا اجر پورا دے دیا جائے گا۔ پھر جب بلاء اور مصیبت میں صبر کرنے والے آئیں گے تو ان کے لئے کوئی گیل اور وزن نہیں ہوگا بلکہ بغیر حساب و اندازہ کے ان کی طرف اجر وثواب بہا دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جن کی دنیاوی زندگی عافیت میں گزری تمنا کرنے لگی گے کہ کاش دنیا میں ان کے بدن قینچیوں کے ذریعہ کاٹے گئے ہوتے تو ہمیں بھی صبر کا ایسا ہی صلہ ملتا۔
حضرت امام مالک نے اس آیت میں صابرین سے مراد وہ لوگ لئے ہیں جو دنیا کے مصائب اور رنج وغم پر صبر کرنیوالے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صابرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی سے اپنے نفس کو روکیں۔ قرطبی فرماتے ہیں کہ لفظ صابر جب بغیر کسی دوسرے لفظ کے بولا جاتا ہے اس سے مراد یہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کی مشقت پر صبر کرے اور مصیبت پر صبر کرنیوالے کے لئے لفظ صابر بولا جاتا ہے۔ تو صابر علی کذا کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ یعنی فلاں مصیبت پر صبر کرنے والا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 39:11–17خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھتا ہوں (جس میں شرک کا ذرا سا شائبہ نہیں) تو (اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم بھی ایسی ہی خالص عبادت کرو لیکن اگر تم نہیں مانتے تو تم جانو اور) خدا کو چھوڑ کر تمہارا دل جس چیز (کی عبادت) کو چاہے اس کی عبادت کرو (قیامت کے روز اس کا مزہ چکھو گے اور) آپ ان سے (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ پورے زیاں کار وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے روز خسارے میں پڑے (یعنی نہ اپنی جان سے اس کو کوئی فائدہ پہنچا اور نہ اپنے متعلقین سے کیونکہ وہ متعلقین بھی اگر انہیں کی طرح گمراہ تھے تو وہ بھی گرفتار عذاب ہوں گے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچائیں گے اور اگر وہ مومن مخلص ہو کر جنت میں ہوں گے تو بھی وہ کافروں کی کوئی سفارش کر کے نفع نہیں پہنچا سکتے) یاد رکھو کہ کھلا ہوا خسارہ یہ ہے کہ ان کے لئے ان کے اوپر سے بھی آگ کے شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے یہ وہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے (اور اس سے بچنے کی تدبیریں بتلاتا ہے جو دین حق پر عمل کرنا ہے سو) اے میرے بندو مجھ سے (یعنی میرے عذاب سے) ڈرو (یہ حال تو کفار مشرکین کا ہوا) اور جو لوگ شیطان کی عبادت سے بچتے ہیں (شیطان کی عبادت سے مراد اس کی اطاعت ہے) اور (ہمہ تن) اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، وہ مستحق خوشخبری سنانے کے ہیں، سو آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو (اس صفت کے ساتھ بھی موصوف ہیں کہ) اس کلام (الٰہی) کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر اس کی اچھی باتوں پر (اور اللہ کے احکام سب اچھے ہیں، جیسا کہ آگے آیت احسن الحدیث میں آتا ہے) چلتے ہیں، یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی ہے اور یہی ہیں جو اہل عقل ہیں (سو ان لوگوں کو بشارت دے دیجئے۔ جس چیز کی بشارت دینا ہے اس کا بیان تو آگے آئے گا (آیت) لکن الذین التقوا۔ میں درمیان میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں کا مومن بنادینا آپ کے اختیار سے خارج ہے اس لئے اس پر کوئی غم نہ کریں کہ) بھلا جس شخص پر عذاب کی (ازلی تقدیری) بات محقق ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ (علم الٰہی میں) دوزخ میں ہے (موجیات جہنم سے) چھڑا سکتے ہیں (یعنی جو دوزخ میں جانے والے ہیں وہ کوشش سے بھی گمراہی سے باز نہیں آویں گے، اس لئے ان پر افسوس اور غم بےکار ہے) لیکن جو لوگ (ایسے ہیں کہ ان کے حق میں کلمة العذاب محقق نہیں ہوا، اور اس وجہ سے وہ آپ سے احکام سن کر) اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان کے لئے (جنت کے) بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں۔ یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے (اور) اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
(یہ مضمون اس بشارت کا ہے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے فبشر عباد)
Ayahs 39:18–20معارف و مسائل
فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ
اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے اقوال متعدد ہیں۔ ایک قول وہ ہے جس کو ابن کثیر نے لیا اور خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قول سے مراد اللہ کا کلام قرآن یا قرآن مع تعلیمات رسول ہے اور وہ سب احسن ہی احسن ہے۔ اس لئے مقتضی مقام کا بظاہر یہ تھا کہ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَہ، کہا جاتا مگر اس کی جگہ لفظ احسن کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں نے قرآن اور تعلیمات رسول کا اتباع بےبصیرتی کے ساتھ نہیں کیا جیسا بیوقوف لوگوں کا طریقہ ہے کہ جس کی بات سنی بغیر کسی تحقیق و بصیرت کے اس کا اتباع کرنے لگے بلکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے کلام کو حق اور احسن دیکھنے کے بعد اس کا اتباع کیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں آخر آیت میں ان کو اولوالالباب یعنی عقل والے ہونے کا خطاب دیا گیا ہے۔ اس کی نظیر قرآن ہی میں وہ ارشاد ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو تورات کے متعلق ہوا ہے۔ (آیت) فخذھا بقوة وامر قومک یاخذوا باحسنھا۔ یہاں بھی احسن سے مراد پوری تورات اور اس کے احکام ہیں۔ اسی طرح مذکورہ آیات میں استماع قول سے مراد استماع قرآن اور اتباع احسن سے مراد اتباع پورے قرآن کا ہے جس کو اگلی آیت میں احسن الحدیث فرمایا گیا ہے۔ اسی تفسیر میں کہ قول سے مراد خاص قرآن لیا جائے بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں بھی بہت سے احکام میں حسن اور احسن کے درجات رکھے ہیں۔ مثلاً انتقام اور عفو دونوں جائز ہیں مگر عفو احسن و افضل ہے۔ (آیت) وان تصبرواخیر لکم۔ بہت سی چیزیں جس میں قرآن نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ دونوں میں جس کو چاہے اختیار کرے کوئی گناہ نہیں۔ مگر ان میں سے کسی ایک کو احسن و افضل بھی فرما دیا جیسے (آیت) و ان تعفوا اقرب للتقویٰ میں ہے۔ بہت سی چیزوں میں رخصت دی گئی ہے مگر عزیمت پر عمل کو احسن و افضل فرمایا ہے تو مراد آیت کی یہ ہوگئی کہ یہ لوگ احکام قرآن رخصت کے بھی سنتے ہیں۔ عزیمت کے بھی مگر اتباع بجائے رخصت کے عزیمت کا کرتے ہیں۔ اور جن دو چیزوں میں ایک حسن ہو دوسری احسن، یہ ان میں سے احسن ہی کو عمل کے لئے اختیار کرتے ہیں۔
اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ قول سے مراد عام لوگوں کے اقوال لئے ہیں جن میں توحید و شرک، کفر و اسلام، حق و باطل پھر حق میں حسن اور احسن اور راجح و مرجوح سب داخل ہیں۔ مطلب آیت کا اس تفسیر پر یہ ہے کہ یہ لوگ باتیں تو سب کی سنتے ہیں۔ کفار کی بھی مومنین کی بھی۔ حق بھی، باطل بھی، اچھی بھی اور بری بھی لیکن اتباع صرف اسی بات کا کرتے ہیں جو احسن ہے۔ توحید و شرک میں سے توحید کا حق و باطل میں سے حق کا اور حق کے مختلف درجات ہوں تو ان میں جو احسن اور راجح ہو اس کا اتباع کرتے ہیں۔ اس لئے ان کو دو صفتوں کے ساتھ موصوف کیا گیا۔ پہلی ھداھم اللہ یعنی یہ لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں۔ اس لئے مختلف قسم کی باتیں سن کر بھٹکتے نہیں۔ دوسرے اولئک ھم اولوالالباب۔ یعنی یہ لوگ عقل والے ہیں۔ عقل کا کام ہی یہ ہے کہ اچھے برے اور حق و باطل میں تمیز کرے۔ اور حسن و احسن کو پہچان کر احسن کو اختیار کرے۔
اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ آیت زید بن عمرو بن نفیل، ابوذرغفاری اور سلمان فارسی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، زید بن عمرو بن نفیل زمانہ جاہلیت میں بھی شرک وبت پرستی سے نفرت کرتے تھے۔ حضرت ابوذرغفاری اور سلمان فارسی مختلف اہل مذاہب مشرکین پھر یہود و نصاریٰ کی باتیں سننے اور ان کے طور و طریق دیکھنے کے بعد ایمان لائے اور قرآنی علیمات کو سب سے احسن پا کر ان کو ترجیح دی۔ (قرطبی)
Ayah 39:21خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تو نے اس (بات) پر نظر نہیں کی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں (یعنی ان قطعات میں جہاں سے پانی ابل کر کنوؤں اور چشموں کے ذریعہ نکلتا ہے) داخل کردیتا ہے۔ پھر (جب وہ ابلتا ہے تو) اس کے ذریعہ سے کھیتیاں پیدا کرتا ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں، پھر وہ کھیتی بالکل خشک ہوجاتی ہے سو اس کو تو زرد دیکھتا ہے پھر (اللہ تعالیٰ) اس کو چورا چورا کردیتا ہے اس (نمونہ) میں اہل عقل کے لئے بڑی عبرت ہے (کہ یہی حالت بعینہ انسان کی دنیوی حیات کی ہے، آخر فنا آخر فنا تو اس میں منہمک ہو کر ابدی راحت سے محروم رہنا اور ابدی مصیبت کو سر پر لینا نہایت حماقت ہے، گو ہمارا بیان نہایت بلیغ ہے مگر پھر بھی سب سننے والے باہم متفاوت ہیں) سو جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام (کے قبول کرنے) کے لئے کھول دیا (یعنی اسلام کی حقیقت کا اس کو پورا یقین آ گیا) اور وہ اپنے پروردگار کے (عطا کئے ہوئے) نور (یعنی ہدایت کے مقتضا) پر (چل رہا) ہے (یعنی یقین لا کر اس کے موافق عمل کرنے لگا کیا وہ شخص اور اہل قساوت برابر ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے) سو جن لوگوں کے دل خدا کے ذکر سے (اس میں احکام و مواعید سب آگئے) متاثر نہیں ہوتے (یعنی ایمان نہیں لاتے) ان کے لئے (قیامت میں) بڑی خرابی ہے (اور دنیا میں) یہ لوگ کھلی گمراہی میں (گرفتار) ہیں (آگے اس نور اور ذکر کا بیان ہے یعنی) اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام (یعنی قرآن) نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ (با عتبار اعجاز نظم و صحت معانی کے) باہم ملتی جلتی ہے (اور جس میں سمجھانے کے لئے بعض بعض بہت ضروری بات) بار بار دہرائی گئی (و ہذا کقولہ تعالیٰ (آیت) ولقد صرفنا الخ جس میں باوجود فائدہ تاکید و رسوخ مدعا کے قلب مخاطب میں ہر جگہ خاص خاص لطائف کا بھی لحاظ ہوتا ہے جس سے خالی تکرار نہیں رہتا اور مثانی ہونا یعنی بار بار دھرایا جانا دلیل ہے، ہدایت پر مشتمل ہونے کی) جس سے ان لوگوں کے جو کہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں بدن کانپ اٹھتے ہیں (یہ کنایہ ہے خوف سے گو قلب ہی میں رہے بدن پر اثر نہ آوے اور گو وہ خوف عقلی و ایمانی ہو، طبعی وحالی نہ ہو) پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر (یعنی کتاب اللہ پر عمل کرنے) کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں (یعنی ڈر کر اعمال جوارح و اعمال قلب کو انقیاد اور توجہ سے بجا لاتے ہیں اور) یہ (قرآن) اللہ کی ہدایت ہے جس کو وہ چاہتا ہے اس کے لئے ذریعہ ہدایت کرتا ہے (جیسا خائفین کا حال ابھی سنایا گیا) اور خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی ہادی نہیں (جیسا قاسین یعنی سخت دل کافروں کا حال ابھی سنایا گیا)
معارف و مسائل
(آیت) فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ۔ ینابیع ینبوع کی جمع ہے جس کے معنی زمین سے پھوٹنے والے چشمے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی نازل کردینا ہی ایک عظیم الشان نعمت ہے مگر اس نعمت کو آ کر زمین کے اندر محفوظ کردینے کا انتظام نہ کیا جاتا تو انسان اس سے صرف بارش کے وقت یا اس کے متصل چند دن تک فائدہ اٹھا سکتا۔ حالانکہ پانی اس کی زندگی کا مدار ایسی ضرورت ہے جس سے وہ ایک دن بھی مستغنی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے صرف اس نعمت کے نازل کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس کے محفوظ کرنے کے عجیب عجیب سامان فرما دیئے۔ کچھ تو زمین کے گڑھوں، حوضوں اور تالابوں میں محفوظ ہوجاتا ہے اور بہت بڑا ذخیرہ برف بنا کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر لاد دیا جاتا ہے۔ جس سے اس کے سڑنے اور خراب ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ پھر وہ برف آہستہ آہستہ پگھل کر پہاڑی رگوں کے ساتھ زمین میں اتر جاتا ہے اور جا بجا ابلنے والے چشموں کی صورت میں خود بخود بغیر کسی انسانی عمل کے پھوٹ نکلتا ہے اور ندیوں کی شکل میں زمین میں بہنے لگتا ہے اور باقی پانی پوری زمین کی گہرائی میں چلتا رہتا ہے جس کو کنواں کھود کر ہر جگہ نکالا جاسکتا ہے۔
قرآن کریم میں اس نظام آبپاشی کی پوری تفصیل کو سورة مومنون میں (آیت) فاسکنہ فی الارض وانا علیٰ ذھاب بہ لقدرون کے تحت بیان کیا گیا ہے۔
(آیت) مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ۔ کھیتی کے اگنے کے وقت اور پکنے کے وقت اس پر مختلف رنگ آتے جاتے رہتے ہیں اور چونکہ ان رنگوں میں انقلاب اور تجدد ہے۔ اس لئے مختلفاً کو ترکیب نحوی میں حال بنا کر منصوب کیا گیا ہے جو تجدد پر دلالت کرتا ہے۔
(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ ، یعنی پانی اتارنے اور اس کو محفوظ کر کے انسان کے کام میں لگانے پھر اس سے قسم قسم کی نباتات اور درخت اگانے اور ان درختوں پر مختلف رنگ آنے کے بعد آخر میں زرد خشک ہو کر غلہ الگ اور بھوسہ الگ ہوجانے میں بڑی نصیحت ہے عقل والوں کے لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت و حکمت کے دلائل ہیں۔ جن کو دیکھ کر انسان اپنی تخلیق کے معاملہ کی حقیقت کو بھی پہچان سکتا ہے جو ذریعہ ہو سکتی ہے اپنے خالق ومالک کے پہچاننے کا۔
Ayah 39:22(آیت) اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ۔ شرح کے لفظی معنے کھولنے، پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں۔ شرح صدر کے معنی وسعت قلب کے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قلب میں اس کی استعداد موجود ہو کہ وہ تلوینی آیات آلٰہیہ آسمان و زمین اور خود اپنی پیدائش وغیرہ میں غور کر کے عبرت اور فوائد حاصل کرے اسی طرح جو آیات آلٰہیہ بصورت کتاب و حکام نازل کی جاتی ہیں ان میں غور کر کے استفادہ کرسکے۔ اس کا بالمقابل دل تنگی اور قساوت قلب ہے۔ قرآن کریم کی ایک (آیت) یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً اور اس جگہ اگلی آیت میں لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ، اسی شرح صدر کے بالمقابل آیا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتا ہے (جس سے احکام آلٰہیہ کا سمجھنا اور عمل کرنا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے) ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ، اس (شرح صدر) کی علامت کیا ہے تو آپ نے فرمایا۔
”ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب اور مائل ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا (کی لذائذ اور زینت) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا“
آیت مذکورہ کو حرف استفہام افمن سے شروع کیا گیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جس کا دل اسلام کے لئے کھول دیا گیا ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے نور پر ہے یعنی اس کی روشنی میں سب کام کرتا ہے۔ اور وہ آدمی جو دل تنگ اور سخت دل ہو کہیں برابر ہو سکتے ہیں۔ اس کے بالمقابل سخت دل کا ذکر اگلی آیت میں عذاب ویل کے ساتھ کیا گیا ہے۔
فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ۔ قاسیة قساوت سے مشتق ہے جس کے معنی سخت دل ہونا جس کو کسی پر رحم نہ آئے اور جو اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔
Ayah 39:23(آیت) اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ کے مقبول بندوں کا یہ حال ذکر کیا گیا تھا کہ (آیت) یستمعون القول فیتبعون احسنہ، اس آیت میں بتلا دیا کہ پورا قرآن ہی احسن الحدیث ہے۔ حدیث کے لفظی معنی اس کلام یا قصے کے ہیں جو بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کو احسن الحدیث فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ کہتا بولتا ہے اس سب میں احسن الکلام قرآن ہے۔ آگے قرآن کی چند صفات ذکر فرمائی ہیں۔ ایک کتاباً متشابہاً۔ متشابہ سے مراد اس جگہ متماثل ہے۔ یعنی مضامین قرآنیہ ایک دوسرے سے مربوط اور مماثل ہیں کہ ایک آیت کی تشریح و تصدیق دوسری آیت سے ہوجاتی ہے۔ اس کلام میں تضاد وتعارض کا نام نہیں ہے۔ دوسری صفت مثانی ہے جو مثنیٰ کی جمع ہے جس کے معنی مکرر کے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرآن کریم میں ایک مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لئے بار بار دہرایا جاتا ہے تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ (آیت) تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ۔ یعنی اللہ کی عظمت سے متاثر ہو کر ڈرنے والوں کا قرآن پڑھ کر خشیت وہیبت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ان کے بدن پر بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ (آیت) ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ۔ یعنی تلاوت قرآن کا اثر کبھی عذاب کی وعید سن کر یہ ہوتا ہے کہ بدن کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں اور کبھی رحمت و مغفرت کی آیات سن کر یہ حال ہوتا ہے کہ بدن اور قلب سب اللہ کی یاد میں نرم ہوجاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کا عام حال یہی تھا کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر بال کھڑے ہوجاتے۔ (قرطبی)
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے کے بدن پر اللہ کے خوف سے بال کھڑے ہوجاویں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو آگ پر حرام کردیتے ہیں۔
Ayahs 39:24–28خلاصہ تفسیر
بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے روز سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو تو کیا یہ (گرفتار عذاب) اور جو ایسا نہ ہو برابر ہو سکتے ہیں (اور کفار ان عذابوں کو سن کر انکار نہ کریں کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں بھی رسوائی کا مزہ چکھایا۔ (کہ زمین میں دھنس جانے اور چہرہ بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے وغیرہ کے عذاب سے دنیا میں بدنام ہوئے) اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے (اوپر کی ایک (آیت) افمن شرح اللہ صدرہ، میں یہ بیان ہوا تھا کہ قرآن سن کر بعض لوگ متاثر ہوتے ہیں بعض نہیں ہوتے۔ آگے آیت میں یہ بیان ہے کہ بعض لوگوں کا اس سے متاثر نہ ہونا ان کی اپنی قابلیت و صلاحیت کی کمی کی وجہ سے ہے، ورنہ قرآن فی نفسہ سب کے لئے اثر برابر رکھتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تفاوت قابلیت کے اعتبار سے ہے۔ فاعل میں کوئی نقص اور کمی نہیں) اور ہم نے لوگوں (کی ہدایت) کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عربی قرآن ہے جس میں ذرا بھی کجی نہیں (اور یہ مضامین اس لئے لائے گئے) تاکہ یہ لوگ (ان سچے اور صاف مضامین کو سن کر) ڈریں (معلوم ہوا کہ قرآن پاک کے کتاب الہدایة ہونے میں جن صفات کی ضرورت تھی وہ سب اس میں جمع ہیں کہ اس کے مضامین بھی سب سچے اور صاف واضح ہیں اور زبان بھی عربی ہے جس کو موجودہ مخاطب بلاواسطہ سمجھ سکتے ہیں، پھر ان کے ذریعہ سے دوسروں کا سمجھ لینا بھی آسان ہوسکتا ہے۔ غرض اس کتاب ہدایت میں تو کوئی کمی نہیں۔ کسی میں قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت ہی نہ ہو تو کیا کیا جائے)
معارف و مسائل
(آیت) اَفَمَنْ يَّتَّـقِيْ بِوَجْهِهٖ۔ اس میں جہنم کے سخت ہولناک ہونے کا بیان ہے کہ انسان کی عادت دنیا میں یہ ہے کہ کوئی تکلیف کی چیز سامنے آجائے تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو چہرہ بچانے کے لئے ڈھال بنا کر دفع کرتا ہے۔ مگر خدا کی پناہ اہل جہنم کو یہ ہاتھ پاؤں سے مدافعت بھی نصیب نہ ہوگی، ان پر جو عذاب آئے گا وہ براہ راست ان کے چہروں پر پڑے گا۔ وہ مدافعت بھی کرنا چاہے تو چہرہ ہی کو ڈھال بنا سکے گا کیونکہ جہنم میں اس کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈالا جائے گا۔ نعوذ باللہ منہ۔
ائمہ تفسیر میں سے حضرت عطاء ابن زید نے فرمایا کہ جہنمی کو جہنم میں ہاتھ پاؤں باندھ کر گھسیٹ کر ڈالا جائے گا۔ (قرطبی)
Ayah 39:29خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے (موحد اور مشرک کے بارے میں) ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک شخص ہے (غلام) جس میں کئی ساتھی ہیں جن میں باہم ضدا ضدی (بھی) ہے اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ایک ہی شخص کا (غلام) ہے (تو) کیا ان دونوں کی حالت یکساں (ہو سکتی) ہے (اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں، پہلا شخص تکلیف میں ہے کہ ہمیشہ متحیر رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں کس کا نہ مانوں۔ دوسرا آرام میں ہے کہ ایک ہی شخص سے تعلق ہے۔ پس پہلی مثال شرک کی ہے کہ ہمیشہ ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ کبھی غیر اللہ کی طرف دوڑتا ہے، کبھی خدا کی طرف۔ پھر غیر اللہ میں بھی ایک پر اطمینان نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کبھی کسی کی طرف۔ اس سوال کا جواب کفار بھی اس کے سوا نہیں دے سکتے کہ غلام مشترک بڑی مصیبت میں رہتا ہے اس لئے ان پر حجت تمام ہوگئی۔ اس اتمام حجت پر فرمایا الحمد للہ حق ثابت ہوگیا۔ لیکن پھر بھی یہ لوگ قبول نہیں کرتے۔ بلکہ (قبول تو کیا) ان میں اکثر لوگ سمجھتے بھی نہیں (کیونکہ سمجھنے کا ارادہ ہی نہیں کرتے۔ آگے فیصلہ قیامت کا ذکر ہے جو آخری فیصلہ ہوگا۔ جس سے کوئی بھاگ نہیں سکے گا اور فیصلہ قیامت سے پہلے موت کی خبر دیتے ہیں۔ کیونکہ موت ہی مقدمہ اور طریقہ ہے آخرت تک پہنچنے کا اس لئے فرمایا اے پیغمبر ﷺ یہ لوگ اگر دنیا میں کسی عقلی اور نقلی فیصلہ کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کیجئے، کیونکہ دنیا سے) آپ کو بھی مر جانا ہے اور ان کو بھی مر جانا ہے، پھر قیامت کے روز تم (دونوں فریق اپنے اپنے) مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے۔ (اس وقت عملی فیصلہ ہوجاوے گا جس کے ظہور کا بیان آگے آتا ہے فمن اظلم) سو (اس مخاصمت اور عدالت میں مقدمات پیش ہونے کے وقت فیصلہ یہ ہوگا کہ باطل پرستوں کو عذاب جہنم ہوگا اور حق پرستوں کو اجر عظیم ملے گا اور ظاہر ہے کہ) اس شخص سے زیادہ بےانصاف (اور ناحق پرست) کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (یعنی خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہے کہ اس کے ساتھ دوسرے بھی شریک ہیں) اور سچی بات کو (یعنی قرآن) کو جبکہ وہ اس کے پاس (رسول کے ذریعہ) پہنچی جھٹلا دے (تو ایسے شخص کا بڑا ظالم ہونا بھی ظاہر ہے اور ظلم کا مستحق ہونا بڑے عذاب کا بھی ظاہر ہے اور بڑا عذاب جہنم کا ہے تو) کیا (قیامت کے دن) جہنم میں ایسے کافروں کا ٹھکانہ نہ ہوگا (یہ فیصلہ تو باطل پرستوں کا ہوا) اور (برخلاف ان کے) جو لوگ سچی بات لے کر خدا کی طرف سے یا رسول کی طرف سے لوگوں کے پاس) آئے اور (خود بھی) اس کو سچ جانا (یعنی یہ لوگ صادق بھی ہیں اور مصدق بھی جیسا کہ پہلے لوگ کاذب بھی تھے اور مکذب بھی) تو یہ لوگ پرہیزگار ہیں (ان کا فیصلہ یہ ہوگا کہ) وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے پروردگار کے پاس سب کچھ ہے یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا (اور یہ صلہ ان کے لئے اس واسطے تجویز کیا) تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے برے عملوں کو دور کرے اور نیک کاموں کے عوض ان کو ان کا ثواب دے۔
Ayah 39:30معارف و مسائل
(آیت) اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ۔ لفظ میت بتشدید الیاء اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور میت بسکون الیاء اس کو کہتے ہیں جو مر چکا ہو۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور آپ کے دشمن اور احباب بھی سب مرنے والے ہیں۔ مقصد اس کے بیان کرنے سے سب کو فکر آخرت کی طرف متوجہ کرنا اور عمل آخرت میں لگنے کی ترغیب دینا ہے۔ اور ضمناً یہ بھی بتلا دینا ہے کہ افضل الخلائق اور سید الرسل ہونے کے باوجود موت سے رسول اللہ ﷺ بھی مستثنیٰ نہیں۔ تاکہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں میں اس پر اختلاف پیدا نہ ہو۔ (از قرطبی)
Ayah 39:31محشر کی عدالت میں مظلوم کا حق ظالم سے وصول کرنے کی صورت
(آیت) ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ انکم میں مومن و کافر اور مسلمان ظالم و مظلوم سب داخل ہیں یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے وہ کافر ہو یا مومن۔ اور صورت اس ادائیگی حقوق کی وہ ہوگی جو صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کسی کا حق ہے اس کو چاہئے کہ دنیا ہی میں اس کو ادا یا معاف کرا کر حلال ہوجائے۔ کیونکہ آخرت میں درہم و دینار تو ہوں گے نہیں۔ اگر ظالم کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہیں تو بمقدار ظلم یہ اعمال اس سے لے کر مظلوم کو دے دیئے جاویں گے۔ اور اگر اس کے پاس حسنات نہیں ہیں تو مظلوم کی سیئات اور گناہوں کو اس سے لے کر ظالم پر ڈال دیا جائے گا۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز صحابہ کرام سے سوال کیا کہ آپ جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں جس کے پاس نہ کوئی نقد رقم ہو نہ ضرورت کا سامان۔ آپ نے فرمایا کہ اصلی اور حقیقی مفلس میری امت میں وہ شخص ہے جو قیامت میں بہت سے نیک اعمال، نماز، روزہ، زکوٰة، وغیر لے کر آئے گا مگر اس کا حال یہ ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت باندھی، کسی کا مال ناجائز طور پر کھالیا، کسی کو قتل کرایا، کسی کو مارپیٹ سے ستایا تو یہ سب مظلوم اللہ کے سامنے اپنے مظالم کا مطالبہ کریں گے اور اس کی حسنات اس میں تقسیم کردی جائیں گی پھر جب یہ حسنات ختم ہوجائیں گی اور مظلوموں کے حقوق ابھی باقی ہوں گے تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جاویں گے۔ اور اس کو جہنم میں ڈال دیا جاوے گا۔ (تو یہ شخص سب کچھ سامان ہونے کے باوجود قیامت میں مفلس رہ گیا، یہی اصلی مفلس ہے)۔
اور طبرانی نے ایک معتبر سند کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگا وہ مرد اور اس کی بیوی کا ہوگا اور بخدا کہ وہاں زبان نہیں بولے گی۔ بلکہ عورت کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ اپنے شوہر پر کیا کیا عیب لگایا کرتی تھی اور اسی طرح مرد کے ہاتھ پاؤں اس پر گواہی دیں گے کہ وہ کس طرح اپنی بیوی کو تکلیف و ایذا پہنچایا کرتا تھا۔ اس کے بعد ہر آدمی کے سامنے اس کے نوکر چاکر لائے جائیں گے ان کی شکایات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر عام بازار کے لوگ جن سے اس کے معاملات رہے تھے وہ پیش ہوں گے اگر اس نے ان میں سے کسی پر ظلم کیا ہے تو اس کا حق دلوایا جائے گا۔