39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 39:1–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ کی طرف سے جو غلبہ والا ہے حکمت والا ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

میں نے اتاری ہے تیری طرف کتاب ٹھیک ٹھیک، سو بندگی کر اللہ کی خالص کر کر اس کے واسطے بندگی

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

سنتا ہے اللہ ہی کے لیے ہے بندگی خالص3 اور جنہوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے حمایتی کہ ہم تو ان کو پوجتے ہیں اس واسطے کہ ہم کو پہنچا دیں اللہ کی طرف قریب کے درجہ میں بیشک اللہ فیصلہ کر دے گا ان میں جس چیز میں وہ جھگڑتے ہیں4 البتہ اللہ راہ نہیں دیتا اس کو جو ہو جھوٹا حق نہ ماننے والا

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ چاہتا کہ اولاد کرلے تو چن لیتا اپنی خلق میں سے جو کچھ چاہتا وہ پاک ہے6 وہی ہے اللہ اکیلا دباؤ والا

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ (کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے ساتھ حق کے) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین (1) الا للہ الدین الخالص “ (سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ایسی اطاعت جو شرک سے پاک ہو اللہ ہی کے لئے ہے) یعنی وہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں یعنی ہم نہیں عبادت کرتے ان معبودوں کی مگر وہ ہمارے لئے سفارش کریں اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں : 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے یزید رقاشی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ہم اپنے مالوں کو دیتے ہیں تاکہ ہم اپنی شہرت اور ناموری کو طلب کریں کیا اس میں ہمارے لئے اجر ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے مگر جو خالص انہی کے لئے ہو پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” الاللہ الدین الخالص “ خبردار اللہ کیلئے ہے وہ اطاعت جو شرک سے پاک ہو۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے جویبر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء “ (جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنایا تین قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ بنوعامر بنوکنانہ اور بنو سلمہ جو بتوں کی عبادت کرتے تھے اور فرشتوں کو ان کی بیٹیاں کہتے تھے اور کہتے تھے (آیت) ” مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (ہم ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ یعنی یہ بات قریش بتوں کے لئے کہتے تھے اور ان سے پہلے وہ فرشتوں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کے لئے ایسا ہی کہتے تھے (کہ ہم اس کی اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں۔ 5:۔ سعید بن منصور (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ (آیت) ” قالوا مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے چاند اور سورج کو مسخر فرمایا ہے ہر ایک وقت پر مقرر تک جاری ہے، خبردار وہ زبردست ہے بڑا بخشنے والا ہے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار “ (وہ رات کی تاریکی کو دن پر لپیٹ لیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن پر سوار کردیتا ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل “ (وہ لپیٹ لیتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹ لیتا ہے دن کو رات پر) یعنی ان میں سے ایک ڈھانک لیتا ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل “ یعنی وہ ڈھانک لیتا ہے اس کو اور یہ ڈھانک لیتا ہے اس کو (یعنی رات کو دن پر اور دن کو رات پر غالب کردیتا ہے
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ قسم کے جوڑے بنائے، وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا فرماتا ہے ایک پیدائش دوسری پیدائش کے بعد ہوتی ہے۔ تین اندھیریوں میں۔ یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے اسی کیلئے ملک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو تم کہاں پھرے جارے ہو

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خلقکم من نفس واحدۃ “ (تم کو پیدا کیا ایک جان سے) یعنی آدم (علیہ السلام) سے (آیت ) ” وخلق منھا زوجھا “ (النساء آیت 1) (اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا) یعنی آپ کی بیوی حضرت حوا کو آپ کو آپ کی پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا کیا۔ (آیت ) ” وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج، یخلقکم فی بطون امھتکم خلقا من بعد خلق فی ظلمت ثلث “ (اور تمہارے نفع کیلئے آٹھ نر اور مادہ چوپایوں کے پیدا کئے۔ تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت اور گوشت پھر طرح طرح بال اگائے (آیت ) ” فی ظلمت ثلث “ (تین اندھیروں میں) یعنی پیٹ رحم اور مچھلی ( جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے) (آیت) ” فانی تصرفون “ (پھر تم کہاں حق سے پھرے جارہے ہو) یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے (آیت ) ” فانی تصرفون “ (یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خلقا من بعد خلق “ یعنی (پہلے) جما ہوا خون پھر گوشت کا لوتھڑا پھر ہڈی (آیت ) ” فی ظلمت ثلث “ یعنی پیٹ کا اندھیرا رحم کا اندھیر اور جھلی کا اندھیرا۔ 4:۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے تین اندھیروں کے بارے میں روایت کیا اس سے پیٹ، رحم اور جھلی مراد ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو سو بلاشبہ اللہ تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں فرماتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند فرماتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹ جانا ہے، سو وہ تمہیں سب اعمال جتا دے گا، بلاشبہ وہ سینوں کی باتوں کا جاننے والا ہے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم “ (اگر تم کفر کروگے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ ہے) یعنی وہ کافر ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ کہتے ” لا الہ الا اللہ “ پھر فرمایا (آیت ) ” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ (اور اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا) اور وہ ان کے مخلص بندے ہیں جن کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “ (اور میرے وہ بندے کہ تیرے لئے ان پر کوئی غلبہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی کو لازم کردیا ہے اور اسے ان کے لئے محبوب بنادیا۔ 2:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ یعنی وہ اپنے مسلمان بندوں سے کفر کو پسند نہیں فرماتے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے گمراہی کو پسند نہیں فرماتے اور نہ وہ اس کا حکم دیتے ہیں اور نہ وہ اس کی طرف بلاتے ہیں لیکن تم سے اپنی اطاعت سے راضی ہوتے ہیں اور تم اس کا حکم دیتے ہیں اور نہ وہ اس کی طرف بلاتے ہیں لیکن تم سے اپنی اطاعت سے راضی ہوتے ہیں اور تم کو اس کا فرماتے ہیں اور تم کو اپنی نافرمانی سے روکتے ہیں۔ ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے :
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے اس کی طرف متوجہ ہوکر، پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس بات کو بھول جاتا ہے جس کے لئے پہلے پکار رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے شریک تجویز کرنے لگتا ہے، تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے، آپ فرمادیجئے کہ تو اپنے کفر کے ذریعہ تھوڑا سانفع حاصل کرلے، بلاشبہ تو دوزخ والوں میں سے ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعا ربہ منیبا الیہ “ (تو اپنے رب کو اس کی طرف دل سے رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے) یعنی خالص اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے (اپنے رب کو پکارتے ہے )
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو رات کے اوقات میں عبادت میں لگا ہوا ہوتا ہے حالت سجدہ میں اور حالت قیام میں آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کے رحمت کا امیدوار ہے، آپ فرمادیجئے کیا وہ لوگ برابر ہیں جو جاننے والے ہیں اور جو جاننے والے ہیں عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں

1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) فی الحلیۃ وابن عساکر (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ “ (بھلا جو شخص اوقات شب میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کررہا ہو آخرت سے ڈررہا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو) اس سے مراد عثمان بن عفان ؓ ہیں اور دوسرے لفظ میں ہے کہ یہ آیت عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن سعد فی طبقاتہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقائما “ عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ جویبر نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 4:۔ جویبر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ابن مسعود عمار اور سالم حذیفہ کے آزاد کردہ غلام کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یحذر الاخرۃ “ سے مراد ہے کہ وہ آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ “ (واللہ تعالیٰ اعلم) 7:۔ ترمذی (رح) و نسائی (رح) ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس تشریف لے گئے اور وہ موت کی حالت میں تھا آپ نے فرمایا تو نے اپنے آپ کو کیسے پایا ؟ اس نے کہا میں امید رکھتا ہوں اور ڈرتا بھی ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں خوف اور امید دونوں جمع نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمادیتے ہیں جس کی وہ امید رکھتا ہے اور امن عطا فرما دیتے ہیں جس سے وہ ڈرتا ہے۔ صبر کا اجر وثواب بےحساب ہے :
Ayahs 39:10–14

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اے میرے بندوجو ایمان لائے اپنے رب سے ڈرو یہی بات ہے کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھے کام کئے ان کے لئے اچھا بدلہ ہے اور اللہ کی زمین فراخ ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا پورا اجر بغیر حساب دیا جائے گا

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس طرح اللہ کی عبادت کروں کہ عبادت اسی کے لئے خاص ہو

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم ہوا کہ میں سب سے پہلا مسلمان ہوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے بیشک میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اس طرح سے کہ میری عبادت اسی کے لئے خالص ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ سے مراد ہے کہ میری زمین وسیع ہے پس تم ہجرت کرجاؤ اور بتوں کو چھوڑ دو ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (بلاشبہ کرنے والوں کو پورا پورا ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے) فرمایا نہیں (حساب ہوگا) اللہ کی قسم نہ وہاں ناپنے کا کوئی آلہ ہوگا اور نہ تولنے کا۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ان کے اعمال کے ثواب میں حساب نہیں ہوگا بلکہ ان کو اس سے اور زیادہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے : 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب بندے سے فرماتے ہیں اسے منتخب کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس پر کسی مصیبت کو ڈال دیتے ہیں اور اس پر اس کو اکساتے ہیں (پھر) جب وہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ معروف آواز ہے جبرائیل (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے میرے رب جب وہ کہتا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے (آیت ) ” لبیک وسعدیک “ میری عزت کی قسم ! تو مجھ سے جس چیز کی دعا کرے گا میں اس کو تیرے لئے قبول کروں گا اور جس چیز کا تو سوال کرے گا تو میں تجھ کو عطاکروں گا میں وہ جلد تم کو دے دوں گا جو اس سے سوال کیا ہوگا یا اس سے بہتر تیرے لئے اپنے پاس ذخیرہ بنالوں گا۔ یا میں تجھ سے اس سے بڑی مصیبت کو دور کردوں گا جو اس سے بڑی (نعمت) ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور قیامت کے دن میزان نصب کئے جائیں گے، نماز والے آئیں گے ان کا اجر ان کو پورا پورا دیا جائے گا وزن کے ساتھ اور روزے والے آئیں گے ان کو بھی ان کا پوراپورا اجر دیا جائے گا وزن کے ساتھ اور صدقہ والے آئیں گے ان کو بھی پورا پورا اجر دیا جائے گا وزن کے ساتھ اور حج والے آئیں گے ان کو بھی پورا پورا اجر دیا جائے گا وزن کے ساتھ اور مصیبت والے آئیں گے ان کے لئے ترازو نصب کیا جائے گا اور ان کو بغیر حساب کے اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ عافیت والے تمنی کریں گے کہ دنیا میں ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے جاتے کہ جو مصیبتوں والوں کو فضیلت دی گئی اسی کو فرمایا (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ 5:۔ و طبرانی (رح) وابن عساکر (رح) وابن مردویہ (رح) نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کو بلوی کا درخت کہا جاتا ہے مصیبت والوں کو قیامت کے دن بلایا جائے گا نہ ان کا دیوان لایا جائے گا اور نہ ان کیلئے ترازو نصب کیا جائے گا ان پر اجر (بغیر حساب) کے انڈیلا جائے گا اور یہ (آیت) پڑھی ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ 6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ قیامت کے دن اس بات کو دوست رکھیں گے کہ ان کے چمڑے قینچیوں سے کاٹے جائے۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

سوا سے چھوڑ کر تم جس کی چاہو عبادت کرو، آپ فرمادیجئے کہ بلاشبہ نقصان میں پڑنے والے وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے جانوں سے اور اپنے اہل و عیال سے خسارہ میں پڑگئے خبردار یہ صریح خسارہ ہے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم “ (فرمادیجئے کہ پورے گھاٹے میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا) یعنی وہ کافر جن کو اللہ تعالیٰ نے آگے کے لئے پیدا کیا یہ دنیا ان سے چلی گئی اور ان پر جنت بھی حرام کردی گئی۔ 2:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم یوم القیمۃ “ (انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا) فرمایا ” اھلیہم “ سے مراد ہے جنت والے کہ انہوں نے ان کیلئے تیار کیا گیا، اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے مگر انہوں نے ان کو دھوکہ دیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الخسرین الذین خسروا انفسھم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے نقصان کیا وہ جہنم میں زندہ ہو کر حسرت کریں گے اور وہ اپنے اہل و عیال کو بھی خسارے میں ڈالیں گے پس ان کے لئے ان کے اہل و عیال نہیں ہوں گے جو ان کی طرف لوٹیں۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) وعبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم یوم القیمۃ “ سے مراد کہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے مگر اسے اللہ تعالیٰ نے جنت والا بنایا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا۔ 5:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے اوپر سے آگ کے شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی شعلے ہوں گے، یہ وہ بات ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندوسو تم مجھ سے ڈرو

1:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم من فوقھم ظلل “ (ان کے لئے ان کے اوپر سے آگ کے محیط شعلے ہوں گے) اس میں ظلل سے مراد ہے غواش یعنی ڈھانپے والے (آیت ) ” من فوقھم ظلل “ (اور ان کے نیچے سے محیط شعلے ہوں گے) یعنی بچھونے۔ جہنم میں عذاب کا صندوق : 2:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سوید بن غفلہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمائیں گے دوزخ والوں کو عذاب دیں تو ہر انسان کے لئے اس کے حساب سے ایک آگ کا صندوق بنادیں گے پھر اس پر تالا لگادیں گے آگ کے تالوں میں سے اس میں کوئی نشان نہیں ہوگا۔ مگر اس میں ایک کیل ہوگی پھر اس کو آگ کے ایک صندوق میں ڈالا جائے گا پھر آگ کے تالوں میں سے ایک تالا لگادیا جائے گا پھر ان دونوں کے درمیان آگ بھڑکادی جائے گی، تو ان میں سے کوئی کسی کو نہیں دیکھے گا کہ آگ میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی ہے اور اللہ کا یہ قول (آیت ) ” لھم من فوقھم ظلل من النار ومن تحتھم ظلل ” اللہ تعالیٰ کے قول (آیت ) ” لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش “ (الاعراف آیت 41) اس طرح ہے ان نے لئے جہنم کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر آگ کے پردے ہوں گے۔
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا کہ شیطان کی عبادت کریں اور وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے ان کے لئے خوشخبری ہے سو آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنادیجئے

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو اس کلام کو کان لگاکرسنتے ہیں پھر اس کی اچھی سے اچھی باتوں کا اتباع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل والے ہیں

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدونھا “ (اور جو لوگ بتوں کی عبادت کرنے سے بچ گئے) یعنی یہ دونوں آیتیں تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں لا الہ الا اللہ “ کہتے تھے ان میں سے زید بن عمر و بن نفیل، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی ؓ ہیں۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سعید بن زید ؓ ، ابوذر ؓ اور سلیمان ؓ جاہلیت میں بھی اچھی بات کا اتباع کرتے تھے اور احسن القول سے ” لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ انہوں نے یہ بات کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر اس آیت کو اتارا (آیت ) ” یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ (وہ لوگ بات کو سنتے ہیں اور اس کی اچھی بات کی تابعداری کرتے ہیں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الطاغوت “ سے مراد ہے شیطان یہاں واحد ہے جبکہ وہ ایک جماعت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” یایھا الانسان ما غرک “ (الانفطار آیت 6) یہ سارے لوگوں کے لئے ہے جن کو یہ ارشاد فرمایا انسان واحد ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اجتنبوا الطاغوت “ سے مراد ہے شیطان۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانابوا الی اللہ لھم البشری “ (اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں) یعنی اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں (آیت ) ” فبشرعباد (17) (آیت ) ” الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ (سو آپ میرے بندوں کو خوشخبری سنادیجئے جو اس کلام الہی کا کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں) یعنی ” احسنۃ “ سے مراد ہے اللہ کی اطاعت۔ 6:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فیتبعون احسنہ “ سے مراد ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے نبو وں کو (اپنی) اطاعت کا حکم فرمایا۔ 7:۔ سعید بن منصور (رح) نے کلبی (رح) سے (آیت ) ” یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے پہلے ہی مرجانا اچھا لگتا اگر میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوتا اور اگر میں نہ بیٹھتا ایسے لوگوں کے ساتھ جو پاکیزہ کلمات (یعنی گفتگو) کو اسی طرح لیتے ہیں جیسے وہ پاکیزہ پھل کو لیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد نہ ہوتا۔ 8:۔ جو یبر (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” لھا سبعۃ ابواب “ (الحجر آیت 44) نازل ہوئی۔ تو انصار میں سے ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ غلام ہیں اور میں ان میں سے ہر ایک دروازہ کے لئے ایک غلام کو آزاد کرتا ہوں اس پر یہ آیت (آیت ) ” فبشر عاد (17) (آیت ) ” یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ نازل ہوئی۔ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” فبشر عاد (17) (آیت ) ” یستمعون القول فیتبعون احسنہ “ نازل ہوئی۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آواز لگانے والے کو بلایا جس نے آواز لگائی کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرا بھی اس نے شرک نہیں کیا تو جنت میں داخل ہوگا۔ عمر ؓ اس قاصد کو ملے اور اس کو واپس لوٹا دیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ڈر ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کرلیں گے اور عمل نہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگ اللہ کی رحمت کی قدر کو جانیں گے تو اسی پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھیں گے اور اگر وہ لوگ اللہ کے غصہ اور اس کے عذاب کو جانیں گے تو اپنے اعمال کو چھوٹا سمجھنے لگ جائیں گے۔
Ayahs 39:19–20

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

سو جس شخص نے بارے میں عذاب کی بات طے ہوچکی ہے کیا آپ اسے چھڑا لیں گے جو دوزخ میں ہے

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرے ان کے لئے بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، اللہ وعدہ خلاف نہیں فرماتا

1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم غرف من فوقھا غرف “ (ان کے لئے) بالا خانے ہیں) یعنی بلند وبالا مکانات ہوں گے۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر اس کو زمین کی سوتوں میں داخل کردیا پھر اس کے ذریعہ کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے سو تو اسے دیکھتا ہے پیلے رنگ کی حالت میں پھر وہ اسے چورا چورا بنا دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الم تران اللہ انزل من السمآء مآء فسل کہ ینابیع فی الارض “ (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اوپر سے پانی نازل کیا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا لیکن یہ چشمے زمین میں لگیں ہیں جو اس کو ڈھانک لیتی ہیں۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ (پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا) یعنی جس آدمی کو یہ بات خوش (اچھی) لگے کہ نمک میٹھا ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ اسے بھاپ بنر کر اڑا دے۔ 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) فی العظمۃ والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کی اصل آسمان سے ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ میں ینابیع سے مراد ہے چشمے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ چشمے اور کنویں اس پانی کی وجہ سے ہوتے ہیں جو آسمان سے نازل فرماتے ہیں (آیت ) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ (پھر اس کو جلا دیا زمین کے سوتوں میں) واللہ اعلم :
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

سو اللہ نے جس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا سو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے، سو ہلاکت ہے ان لوگوں کیلئے جن کے دل ذکر اللہ کی جانب سے سخت ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “ (سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھول دیا ہو) یعنی جس کا سینہ کھول دیا گیا وہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوتا جن کے دل سخت ہوں۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھوعلی نور من ربہ “ (سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھول دیا ہو جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے رب کے عطا کردہ نور پر ہے) صحابہ ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ کیا یہ سینہ کھل جاتا ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اصحاب نے عرض کیا ؛ اس کی کوئی نشانی ہے۔ فرمایا ہاں : دھوکے کا گھر یعنی دنیا سے اعراض کرنا اور ہمیشہ کے گھر کی طرف رجوع کرنا اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرنا۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام نور من ربہ “ ہم نے کہا یارسول اللہ کیسے اس کا سینہ کھلتا ہے فرمایا جب نور دل میں داخل ہوتا ہے سینہ کھل جاتا ہے اور چوڑا ہوجاتا ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کیا نشانی ہے فرمایا ہمیشہ رہنے کی گھر کی طرف رجوع کرنا دھوکہ والا گھر (یعنی دنیا کے گھر) سے اعراض کرنا اور موت کے نازل ہونے سے پہلے۔ موت کو کثرت سے یاد کرنا عقلمندی ہے : 4:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ایمان والوں میں سے کون عقلمند ہے فرمایا ان میں اکثر موت کو یاد کرنے والا ہے اور اس کی اچھی طرح تیاری کرنے والا اور جب نور دل میں دخل ہوتا ہے تو وہ چوڑا ہوجاتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا نشانیاں ہے اے اللہ کے نبی ؟ فرمایا ہمیشہ کے رہنے والے گھر کی طرف رجوع کرنا اور دھوکہ والے گھر سے اعراض کرنا اور موت کی تیاری کرنا موت کے نازل ہونے سے پہلے۔ پھر ابو جعفر (رح) نے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا اور اس سے اس آیت کا اضافہ کیا۔ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ “۔ 5:۔ ترمذی (رح) وابن مردویہ (رح) وابن شاہین فی الترغیب فی الذکر و بیہقی (رح) فی شعب الایمان نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیونکہ اللہ کے ذکر کے بغیر گفتگو کی کثرت کرنا دل کو سخت کردیتا ہے اور لوگوں میں سب سے دور اللہ تعالیٰ سے سخت دل والا ہے۔ 6:۔ احمد نے الزھد میں ابوالجعد (رح) علیہ سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خواریوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے بغیر گفتگو نہ کرو ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے اور سخت دل والا اللہ تعالیٰ سے دور ہو لیکن وہ نہیں جانتا۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کا کھانا کھانا اور اس کے بعد سوجانا کہ اس سے ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ 8:۔ عقیلی (رح) و طبرانی (رح) علیہفی الاوسط وابن عدی وابن السنی و ابونعیم کلام فی الطب و بیہقی (رح) فی الشعب الایمان وابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے کھانوں کو اللہ کے ذکر اور نماز سے ہضم کرو کھانا کھا کر فورا نہ سوجاؤ۔ ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دل میں سختی تین چیزوں سے پیدا ہوتی ہے کھانے کی محبت نیند کرنے کی محبت اور راحت کی محبت واللہ اعلم۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بڑا اچھاکلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے جس کی باتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں، جو بار بار دہرائی جاتی ہیں، اس سے ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، یہ اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ وہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، اور اللہ جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہم کو بیان فرماتے (تو کیا اچھا تھا) تو یہ (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث “ نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “ (اور آپ نے سب سے اچھاکلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے کہ باہم ملتی جلتی ہے بار بار دہرائی گئی ہے) سے مراد ہے کہ یہ قرآن سارے کا سارا ایسا ہے جو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثانی “ سے مراد ہے قرآن ایسا ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض سے مشابہ ہے اور اس کا بعض حصہ بعض کی طرف لوٹاتا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کتبا متشابھا “ (باہم ملتی جلتی ہے) یعنی اس کے حلال اور اس کے حرام میں سے کسی چیز میں کوئی اختلاف نہیں۔ ایک آیت مشابہ ہوتی ہے دوسری آیت کے اور ایک حرف مشابہ ہوتا ہے دوسرے حرف ” مثانی “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں فرائض حدود اور قضا کو بار بار ذکر فرماتے ہیں۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کتبا متشابھا “ سے مراد ہے کہ قرآن سارے کا سارا باربار دہرایا جاتا ہے۔ اور فرمایا بندے کی تعریف ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ 6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” متشابھا “ سے مراد ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کرتا ہے۔ اور اس کا بعض حصہ بعض پر ملامت کرتا ہے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابورجاء (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بصری (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں قضا کو بار بار ذکر فرمایا اس سورت میں ایک آیت ہوتی ہے اور دوسری سورت میں ایک اور آیت ہوتی ہے جو اس کے مشابہ ہوتی ہے۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عکرمہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا اور میں سن رہا تھا کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں قضا کو بار بار ذکر فرمایا۔ 9:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھہم “ (جس سے ان لوگوں کے لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے سے ڈرتے ہیں) سے مراد ہے کہ یہ اولیاء اللہ کی تعریف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کی آنکھیں روتی ہیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پکڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے عقلوں کے چلے جانے اور انکی عقلوں پر پردہ پڑجانے کو بیان نہیں کیا کیونکہ یہ چیزیں مبتدعین میں ہوتی ہے۔ اور شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھہم “ یعنی جب وہ اللہ کے ذکر کرتے اور وعید کو سنتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ثم تلین جلودھم “ (پھر ان کے بدن نرم ہوجاتے ہیں) جب وہ جنت کا اور نرمی کا ذکر سنتے ہیں (آیت ) ” یرجون رحمۃ اللہ “ اور وہ اللہ کی رحمت کی امیدرکھتے ہیں۔ 11:۔ سعید بن منصور (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عساکر (رح) نے عبد اللہ بن عروہ بن زبیر (رح) روایت کیا کہ میں نے اپنی دادی اسماء ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کیسے کرتے تھے جب وہ قرآن پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسے تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی کہ ان کی آنکھوں سے آنسوں بہتے تھے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے میں نے کہا یہاں تو کچھ لوگ ایسے ہیں جب وہ قرآن کو سنتے ہیں تو ان پر غشی طاری ہوجاتی ہے تو فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتی ہوں شیطان مردود سے۔ ذکر اللہ اور خوف سے کانپنا : 12:۔ الزبیر بن بکار نے الموفقیات میں عامر بن عبداللہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں اپنی ماں کے پاس آیا اور میں نے کہا میں نے ایک قوم کو پایا کہ میں نے اس سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کانپنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوجاتی ہے اللہ کے خوف سے تو انہوں نے کہا ان کے ساتھ مت بیٹھ پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اور میں نے ابوبکر اور عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ قرآن پڑھتے تھے تو یہ حالت ان کو نہ پہنچتی تھی کیا تو ان لوگوں کو ابوبکر اور عمر ؓ سے زیادہ ڈرنے والا دیکھتا ہے۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے قیس بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ بےہوش ہوجانا شیطان کی طرف سے ہے۔ 14:۔ سعید بن منصور (رح) ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں روایت کیا جو روشنی کو دیکھتا تھا یہ شیطان کی طرف سے ہے، اگر یہ خیر کو دیکھتا تو اہل بدر اس کے زیادہ مستحق تھے۔ 15:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اللہ کے خوف سے تو اس سے اس کے گناہ اسی طرح گرجاتے ہیں جیسے : پرانے درخت سے اس کے پتے گرجاتے ہیں۔ 16:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کوئی بندہ ایسا نہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کررہا ہو وہ سنت کا ذکر کرے اور رحمن کا ذکر کرے تو اللہ کے خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تو اس کی مثال اس درخت کی طرح جس کے پتے سوکھے ہوں اور وہ اسی طرح ہو کہ اس کو ہوا پہنچ جائے اور اس کے پتے اس طرح گرتے ہیں جیسے : پرانے درخت سے اس کے پتے گرتے ہیں (اسی طرح اس کے گناہ بھی گرجائیں گے) اور کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کررہا ہو وہ سنت کا ذکر کرے اور رحمن کا ذکر کرے (یہ سن کر) اس کی آنکھیں اللہ کے خوف سے بہہ جائیں تو اس کو کبھی بھی آگ نہیں چھوئے گی۔
Ayahs 39:24–27

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا جو شخص قیامت کے دن اپنے چہرہ کو برے عذاب سے بچائے گا، اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کمائی کرتے تھے اسے چکھ لو

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان لوگوں سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے جھٹلایا سو ان کے پاس اس طور سے عذاب آیا کہ انہیں اس کا خیال بھی نہ تھا

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

سو اللہ نے انہیں دنیا والی زندگی میں رسوائی چکھائی دی اور البتہ آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے اگر وہ جانتے ہوتے

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کردیئے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن یتقی بوجھہ سوٓ ء العذاب یوم القیمۃ “ (بھلا جو شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنادے) یعنی اس کو چہرہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور یہ اس قول کی طرح ہے (جیسے فرمایا) (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ (فصلت آیت 40) (بھلا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا جو آئے گا امن میں ہو کر قیامت کے دن) 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسے آگ کی طرف لایا جائے گا ہاتھ بندھے ہوئے پھر اس میں پھینک دیا جائے گا تو سب سے پہلے اس کے چہرے کو آگ چھوئے گی۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

وہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ یہ لوگ ڈریں

1:۔ الآجری فی الشریعۃ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) قرانا عربیا غیر ذی عوج “ (عربی قرآن نازل کیا جس میں ذرا کجی نہیں تاکہ لوگ ڈریں) میں (آیت ) ” غیر ذی عوج “ سے مراد ہے کہ وہ مخلوق نہیں۔ 2:۔ دیلمی (رح) نے مسند الفردوس میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) قرانا عربیا غیر ذی عوج “ کے بارے میں فرمایا کہ قرآن غیر مخلوق ہے۔ قرآن کلام اللہ غیر مخلوق ہے : 3:۔ ابن الشاہین السنۃ میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قرآن اللہ کا کلام ہے (اور) غیر مخلوق ہے۔ 4: ابن ابی حاتم نے السنۃ میں و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں فرج بن زید کلامی (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ کو لوگوں نے کہا کہ تو نے کافر اور منافق کو حکم بنایا ہے تو انہوں نے فرمایا میں نے کسی مخلوق کو حکم نہیں بنایا میں حکم نہیں بناتا مگر قرآن کو۔ 5:۔ بیہقی (رح) وابن عدی (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے۔ 6:۔ بیہقی (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے ایک جنازہ پڑھا جب میت کو اس کی قبر میں رکھا گیا ایک آدمی نے اس میت کے لئے یوں کہا : اے اللہ جو قرآن کا رب ہے اس کی مغفرت کردیجئے، ابن عباس ؓ نے اس سے فرمایا ٹھہرجا ایسامت کہو۔ یہ قرآن اسی سے شروع ہوا اور اسی کی طرف لوٹے گا اور دوسرے الفاظ میں ابن عباس ؓ نے یوں فرمایا تیری ماں تجھ پر روئے کہ قرآن اس (ذات کی طرف) سے ہے۔ بیہقی (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ بیہقی (رح) نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ ستر سال تک میں اپنے مشائخ کی صبحت میں رہا ان میں عمر بن دینار بھی تھے وہ کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔ 9:۔ بیہقی (رح) نے جعفر بن محمد (رح) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ علی بن حسین ؓ سے قرآن کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا : نہ وہ خالق ہے اور نہ مخلوق ہے اور یہ خالق کا کلام ہے۔ 10:۔ بیہقی (رح) نے قیس بن ربیع (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جعفر بن محمد سے قرآن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ اللہ کا کلام ہے میں نے پوچھا مخلوق ہے ؟ فرمایا نہیں ! میں نے کہا : اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو گمان کرتا ہے کہ وہ مخلوق ہے ؟ فرمایا : اس کو قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ 11:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قرانا عربیا غیر ذی عوج “ سے مراد ہے کہ اس میں التباس نہیں۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص جس میں کئی ساجھی ہیں۔ جن میں آپس میں ضدا ضدی ہے اور ایک وہ شخص ہے جو ایک ہی آدمی کے لئے سالم ہے کیا یہ دونوں حالت کے اعتبار سے برابر ہیں ؟ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے بلکہ ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکآء متشکسؤن “ (اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام جس میں کئی ساجھی ہے) یعنی وہ آدمی جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے۔ اور یہ مثال اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں کے لئے بیان فرمائی (آیت ) ” ورجلا سلما “ یعنی وہ آدمی جو ایک معبود کی عبادت کرتا ہے اور یہ مثال اللہ نے اپنی ذات کے لئے بیان فرمائی ہے۔ مشرکین مصیبت میں : 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت ) ” ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکآء متشکسؤن “ (اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک آدمی کی ایک مثال بیان فرمائی جس میں کئی ساجھی ہیں جن میں باہم ضداء ضدی ہے اور وہ مشرک ہے شیاطین اس سے جھگڑا کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ یہ کس کی عبادت کررہا ہے (آیت ) ” ورجلا سلما لرجل “ (اور وہ آدمی جو صرف ایک ہی اللہ کا ہے) یعنی یہ مؤمن ہے جس نے اللہ تعالیٰ کو خالص کرلیا ہے دعوت میں اور عبادت میں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکآء متشکسؤن ورجلا سلما لرجل “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں باطل معبودوں اور سچے معبود کی مثال دی ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” شرکآء متشکسؤن “ میں شرکاء سے مراد بت ہیں۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ورجلا سلما “ یعنی اس میں کسی اور کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” ورجلا سلما “ میں الف کے بغیر سلام پر زیر کے ساتھ۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے مبشربن عبید قریشی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر کی قرأت یوں تھی (آیت ) ” ورجلا سلمالرجل “ سے مراد ہے کہ وہ خالص ہے ایک آدمی کے لئے یعنی وہ ایک آدمی کا فرمانبردار۔
Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بلاشبہ آپ مرنے والے ہیں۔ اور بلاشبہ یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر یقینی بات ہے کہ قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس پیش ہو کر مدعی اور مدعی علیہ بنوگے

1:۔ عبد بن حمید (رح) و نسائی (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) ابن مردویہ (رح) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک زمانہ تک رہے اور ہم یہ گمان کرتے رہے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور جو اہل کتاب ہم سے پہلے گزرے ہیں ان کے بارے میں بھی (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ (بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر تم سب قیامت کے دن جھگڑو گے اپنے مقدمات پیش کروگے) ہم اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ہم کس طرح آپس میں جھگڑیں گے حالانکہ ہمارا نبی ایک ہے اور ہماری کتاب ایک ہے ؟ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ہمارا بعض، بعض کے چہروں کو تلوار سے ماررہا ہے، تو میں نے پہچان لیا کہ یہ آیت صرف ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ نعیم بن حماد فی الفتن وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اپنے زمانے میں کیچھ عرصہ زندہ رہے تو ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ میں نے کہا ہم کیوں جھگڑیں گے یہ ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ہمارا دین اسلام ہے اور ہماری کتاب قرآن ہے۔ ہم اس کو کبھی بھی نہیں بدلیں گے اور ہم کتاب میں تحریف نہیں کریں گے اور ہمارا قبلہ کعبہ ہے اور ہمارا حرم ایک ہے اور ہمارے نبی محمد ﷺ ہیں ہم کس طرح جھگڑیں گے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض، بعض کو تلوار سے مارنے لگا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مودریہ (رح) ابن عمر ؓ سے روایت کیا یہ آیت (آیت) ” ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ ہم پر نازل ہوئی ہم نہیں جانتے تھے کہ اس کی تفسیر کیا ہے اور عبد بن حمید (رح) کے یہ الفاظ ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ہم نے کہا ہمارے درمیان کوئی جھگڑے کی جڑ نہیں تو ہم آپس میں کیوں جھگڑیں گے ؟ یہاں تک فتنہ آگیا ہم نے کہا یہ وہ ہے جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا کہ تم آپس میں جھگڑو گے۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن عساکر (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ آیت (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ نازل ہوئی تو ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کس بارے میں نازل ہوئی۔ ہم نے کہا کہ ہمارے درمیان کتو کوئی جھگڑا ہے ہی نہیں صحابہ نے بھی کہا کہ ہمارے درمیان تو کوئی جھگڑا نہیں اور ہم تو بھائی بھائی ہیں جب عثمان بن عفان ؓ کو شہید کردیا گیا تو صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ وہ جھگڑا ہے جو ہمارے درمیان ہوا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے فضل بن عیسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جب میں نے یہ آیت (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ پڑھی تو پوچھا گیا یا رسول اللہ ! یہ جھگڑا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا خون کے بہانے میں۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک میت وانہم میتون “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آپ کی وفات کی خبردی اور تم کو تمہاری موت کی خبر دی۔ 7:۔ عبدالرزاق واحمد وابن منعی وعبد بن حمید و ترمذی (رح) (صححہ) وابن ابی حاتم وحاکم (رح) (صححہ) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم فی الحلیہ اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں زبیر بن عوام ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ نازل ہوئی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہمارے خاص گناہوں کے علاوہ دنیا میں جو آپس میں جھگڑتے ہوتے ہیں ان کو ناپسند کیا جائے گا (یعنی ان کا بھی حساب ہوگا ؟ ) فرمایا ہاں ! یہ چیز تم پر ناپسند کی جائے گی یہاں تک کہ ایک صاحب ہر حق والے کا حق ادا کرے گا۔ حضرت زبیر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! (یہ) معاملہ بڑا سخت ہوگا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ ؓ اور ابونعیم (رح) سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ نازل ہوئی تو زبیر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا خاص گناہوں کے علاوہ جو ہمارے درمیان آپس میں جھگڑتے ہیں ان کے بارے میں بھی ہم سے حساب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں تم سے اس بارے میں حساب لیاجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی ہر حق والے کا حق ادا کرے گا۔ زبیر ؓ نے فرمایا (یہ) معاملہ بڑا سخت ہوگا۔ 9:۔ سعید بن منصور نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ ( آیت) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ نازل ہوئی تو ہم کہا کرتے تھے کہ ہمارا رب ایک ہے ہمارا دین ایک ہے یہ جھگڑا کیسے ہوگا (لیکن) جب جنگ صفین ہوئی اور ہمارے بعض نے بعض پر تلوار چلائی ہم نے کہا : (ہاں) ! یہ وہ ہے۔ 10:۔ احمد نے حسن سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ضرور ضرور اپنے حق کے بارے میں ہر چیز جھگڑے گی قیامت کے دن یہاں تک کہ دو بکریاں بھی جھگڑیں گیں جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے۔ 11:۔ طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) (بسند لاباس بہ) نے ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مرد عورت کا جھگڑا پیش ہوگا۔ اللہ کی قسم عورت اپنی زبان سے بات نہیں کرے گی مگر اس کے ہاتھ اور اس کے پاؤں اس پر گواہی دیں گے جو خاوند کے حق میں ہوگی اور اس مرد کے ہاتھ پاؤں خود اس کے خلاف گواہی دیں گے جن کا خاوند ذمہ دار تھا۔ پھر اسی طرح آدمی اور اس کے خادم کو بلایا جائے گا پھر بازاروں کو بلایا جائے گا اور ان چیزوں کو جو وہاں پائی جاتی تھیں پھر چھوڑے درہم اور قیراط کو طلب کیا جائے گا۔ بلکہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی، اور مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے جابروں کو لوہے کی بیڑیوں میں لایا جائے گا اور حکم ہوگا کہ ان کو دوزخ کی طرف لے جاؤ اللہ کی قسم ! میں ان کے داخل ہونے کو نہیں جانتا یا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وان منکم الا واردھا “ (مریم آیت 71) 12:۔ احمد و طبرانی (رح) نے حسن سند کے ساتھ عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جھگڑنے والے قیامت کے دن دو پڑوسی ہوں گے۔ 13:۔ البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظالم بادشاہ کو لایا جائے گا تو اس کی رعایا اس سے جھگڑے گی۔ 14:۔ ابن مندہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح جسم سے جھگڑے گی روح جسم سے کہے گی تو نے ایسا کیا۔ اور جسم روح سے کہے گا تو نے یہ حکم دیا تھا اور تو نے اس عمل کو تیزی کرکے پیش کیا تھا تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجیں گے جو ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اور ان دونوں سے کہے گا بلاشبہ تم دونوں کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن میں سے ایک اپاہج اور دیکھنے والا ہے اور دوسرا اندھا ہے۔ دونوں ایک باغ میں داخل ہوئے۔ اپاہج نے اندھے سے کہا میں یہاں پھل دیکھتا ہوں لیکن میں اس کی طرف نہیں پہنچ سکتا اندھے نے اس سے کہا مجھ پر سوار ہوجا اور اس پھل کو لے لے وہ اپاہج اس پر سوار ہوگیا اور اس پھل تک پہنچ گیا تو بتاؤ ان میں سے کون زیادتی کرنے والا ہے تو ان دونوں نے کہا کہ دونوں زیادتی کرنے والے ہیں تو فرشتے نے ان سے کہا بلاشبہ دونوں نے اپنے خلاف فیصلہ کرلیا ہے یعنی کہ جسم روح کے لئے سواری کی طرح ہے جبکہ روح اس پر سوار کرنے والا ہے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ سے مراد ہے کہ جھگڑا کرے گا سچھ بولنے والا جھوٹ بولنے والے سے اور مظلوم ظالم سے اور ہدایت پانے والا گمراہ ہونے والے سے اور کمزور تکبر کرنے والے سے۔ 16:۔ احمد نے (الزھد میں) ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے جنازہ کو دیکھا تو پوچھا یہ کون ہے ؟ ابو درداء ؓ نے فرمایا یہ تو ہے یہ تو ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” انک میت وانہم میتون ’‘
Ayahs 39:32–35

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

سو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور سچ کو جھٹلایا جبکہ وہ اس کے پاس آیا کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچ کو لے کر آیا اور سچ کی تصدیق کی یہ وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہی ہے جو وہ چاہیں یہ بدلہ ہے اچھے کام کرنے والوں کا

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کے برے کاموں کا کفارہ کردے اور انہوں ان اعمال کا اچھا سے اچھا اجر دے جو وہ کیا کرتے تھے

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق “ (اس شخص سے زیادہ بےانصاف کون ہے جس نے اللہ پر دروغ گوئی کی اور اس نے سچائی کو جھٹلایا) میں ” صدق “ سے مراد قرآن ہے اور ” وصدق بہ “ سے مرد ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ (جو سچائی کو لایا) یعنی الا الہ الا اللہ کو (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) یعنی رسول اللہ ﷺ کی (آیت ) ” اولئک ھم المتقون “ (یہی لوگ ہیں پرہیزگار) پس شرک سے بچو۔ 3:۔ ابن جریر والباوردی (فی معرفۃ الصحابہ) وابن عساکر (رح) نے اسید بن صفوان کے طریق سے (ولہ صحۃ) علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذی جآء بالحق “ (جو لائے حق کو) یعنی محمد ﷺ (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) ابوبکر ؓ نے اسی طرح روایت کیا کہ (آیت ) ” بالحق “ (حق کے ساتھ) اور شاید یہ علی ؓ کی قرأت ہے۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں (جو سچائی کو لیکر آئے) (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) سے مراد علی بن ابی طالب ؓ ہیں۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) (آیت ) ” وصدق بہ “ سے مراد ہیں نبی کریم ﷺ (کہ انہوں نے تصدیق کی) 6:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن الضریس (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” والذی جآء بالصدق وصدقوا بہ “ (جو سچائی کو لاتے ہیں اور لوگوں نے اس کی تصدیق کی) اس سے مراد اہل قرآن ہیں وہ لوگ قیامت کے دن قرآن کے ساتھ آئیں گے اور وہ کہیں گے یہ وہ چیز ہے جو تم نے ہم کو کی۔ اور ہم نے اس کا اتباع کیا جو کچھ اس میں ہے۔
Ayahs 39:36–37

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے اور وہ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو جسے اللہ کے علاوہ ہیں، اور اللہ جسے گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت دیدے سو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا، بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “ (اپنے بندے کے لئے کیا اللہ کافی نہیں ہیں) میں عبد سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے ایک آدمی نے کہا کہ مشرکوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا، آپ ہمارے مبعودوں کو برا کہنے سے باز آجائیے کیا تو ان کو حکم دے گا تو وہ تجھ کو مخبط الحواس بنادیں گے تو یہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “ نازل ہوئی (اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہیں اللہ کے علاوہ جھوٹے خداؤں سے) 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “ (اور وہ آپ کو ڈراتے ہیں اللہ کے علاوہ دوسرے جھوٹے خداؤں سے) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ خالد بن ولید کو بھیجا تاکہ وہ عزی کو توڑ دیں۔ بت خانہ کے نگران نے ان سے کہا وہ اس کا منظم تھا، اے خالد ! میں تجھ کو اس سے ڈراتا ہوں کہ اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی (یعنی اس کو گرا نہیں سکتی) خالد ؓ اس کے پاس کلہاڑے کو لے کر آگئے اور اس کی ناک کاٹ دیا۔ 4:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “ میں ” من دونہ “ سے مراد بت ہیں (واللہ اعلم ) ۔