Explained with ayahs 73–74
متقیوں کی آخری منزل۔
اوپر بدبختوں کا انجام اور ان کا حال بیان ہوا یہاں سعادت مندوں کا نتیجہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ بہترین خوبصورت اونٹنیوں پر سوار ہو کر جنت کی طرف پہنچائے جائیں گے۔ ان کی بھی جماعتیں ہوں گی مقربین خاص کی جماعت، پھر برابر کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، پھر ان سے کم درجے والوں کی، ہر جماعت اپنے مناسب لوگوں کے ساتھ ہوگی، انبیاء انبیاء کے ہمراہ، صدیق اپنے جیسوں کے ساتھ، شہید لوگ اپنے والوں کے ہمراہ، علماء اپنے جیسوں کے ساتھ، غرض ہر ہم جنس اپنے میل کے لوگوں کے ساتھ ہوں گے جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے پل صراط سے پار ہوچکے ہوں گے، وہاں ایک پل پر ٹھہرائے جائیں گے اور ان میں آپس میں جو…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 82
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات 125، 134۔ 135، 189 تا 192۔
سورة الزُّمَر 83
یعنی ہم میں سے ہر ایک کو جو جنت بخشی گئی ہے وہ اب ہماری ملک ہے اور ہمیں اس میں پورے اختیارات حاصل ہیں۔
سورة الزُّمَر 84
ہو سکتا ہے کہ یہ اہل جنت کا قول ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کی بات پر یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اضافہ ارشاد فرمایا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(آیت) نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کے لئے اپنے اپنے مکانات محلات اور باغات تو ہوں گے ہی، ان کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ دوسرے اہل جنت کے پاس ملاقات و تفریح کے لئے جایا کریں، طبرانی۔ ابونعیم اور ضیاء نے سند حسن کے ساتھ حضرت عائشہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے آپ سے اتنی محبت ہے کہ اپنے گھر بھی جاتا ہوں تو آپ ہی کو یاد کرتا رہتا ہوں اور جب تک پھر حاضر خدمت نہ ہوجاؤں مجھے صبر نہیں آتا۔ مگر جب میں اپنی موت کو یاد کرتا ہوں اور آپ کی وفات کو یاد کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ تو جنت…
Read the full tafseer →آیت 74
جنت کی وراثت
الارض سے مراد یہاں وہی ارض جنت ہے جس کا ذکر اوپر آیت 69 میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں اس کے ارض جنت ہونے کی تصریح ہوگئی ہے۔ اہل جنت جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے جو وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کر کے سب پورے کردیے تو ان کی زبان پر بےساختہ کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ہم سے اپنے تمام وعدے پورے کئے اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا، ہم اس میں جہاں چاہیں فروکش ہوں۔ وارث بنانے میں ایک لطیف تلمیح اس بات کی طرف ہے کہ یہ جنت ہمارے باپ آدم کو ملی تھی لیکن شیطان نے ان کو ورغلا کر اس سے محورم کردیا تھا اور اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
75۔ 1 قضائے الٰہی کے بعد جب اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے، آیت میں اس کے بعد کا نقشۃ بیان کیا گیا ہے کہ فرشتے عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے تسبیح وتحمید میں مصروف ہوں گے۔
75۔ 2۔ یہاں حمد کی نسبت کسی ایک مخلوق کی طرف نہیں کی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز (ناطق و غیر ناطق) کی زبان پر حمد الٰہی کے ترانے ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت نمبر 74
یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔
Read the full tafseer →1 یعنی خدا کا شکر جو وعدے انبیاء کی زبانی دنیا میں کیے گئے تھے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے۔
2 یعنی جنت کی زمین کا۔
3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ان کو حکم ہے جہاں چاہیں جائیں لیکن ہر کوئی وہ ہی جگہ چاہے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے۔ " اور بعض کے نزدیک مراد یہ ہے کہ جنت میں سیر و ملاقات کے لیے کہیں آنے جانے کی روک ٹوک نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 74 { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ } ”اور وہ کہیں گے کہ ُ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کردیا“
{ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ } ”اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔“
{ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ } ”تو بہت ہی اچھا ہوگا اجر عمل کرنے والوں کا !“
گواہوں نے گواہیاں دے دیں ‘ آخری فیصلے صادر کردیے گئے ‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا ‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔
اب آخری آیت میں گویا عدالت ِمحشر کا اختتامی منظر ڈراپ سین دکھایا جا…
Read the full tafseer →94 جنت کے بطور وراثت دائمی اور مالکانہ حقوق :۔ اہل جنت کو وہاں مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے کہ وہ اپنی اپنی وسیع و عریض الاٹ شدہ جنت میں جس جگہ کو اپنے حالات کے موافق سمجھیں وہاں رہیں۔ کیونکہ تَبَوَّاَ کا لفظ ایسی جگہ پر رہائش کے لئے آتا ہے جہاں کی آب و ہوا اور ماحول رہنے والے کی طبیعت کے موافق اور ساز گار ہو۔
95 اس جملہ کی نسبت متقین کی طرف بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ بات کہیں گے۔ فرشتوں کی طرف بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔
Read the full tafseer →91۔ اہل جنت جوش مسرت سے بےخود ہو کر یہ نعرہ لگائیں گے۔ (آیت) ” الارض “۔ ارض سے اس سیاق میں مراد سطح جنت ہے، جس پر اہل جنت چلتے پھرتے ہوں گے، عبارۃ عن المکان الذی اقاموا فیہ واتخذوا مقرا ومتبوا (کشاف) یوں بھی ارض کا مفہوم عربی میں نہایت وسیع ہے اور جس طرح سماء کے اندر ہر وہ چیز داخل ہے جو سے کے اوپر ہو اس طرح ارض کے اطلاق میں ہر وہ چیز شامل ہے جو پیروں کے نیچے ہو۔ یعبربھا عن اسفل الشیء (راغب) (آیت) ” نتبوا ..... نشآء “۔ جنت میں ہر شخص کے لیے الگ الگ مقام اس کے مرتبہ تقوی ودرجہ تقرب کے لحاظ سے ہوگا لیکن سیر کی آزادی جنت بھر میں حاصل ہوگی اور چونکہ رشک مفقود ہوگا اس لیے اس کا احتمال ہی نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت نمبر 71 تا 75
ترجمہ : اور کافروں کے غول کے غول مختلف گروہوں میں شدت کے ساتھ جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے جب وہ جہنم کے پا سپہنچ جائیں گے تو جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے (فتحت ابوابھا) اذا کا جواب ہے، وہاں نگران ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے رب کی آیتیں قرآن وغیرہ پڑھ کر سناتے تھے ؟ اور تمہیں ان دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے، یہ جواب دیں گے ہاں درست ہے، لیکن کلمہ عذاب یعنی لاملان جھنم (الآیۃ) کافروں پر ثابت ہوگیا حکم دیا جائے گا اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، جہاں ہمیشہ رہو گے، حال یہ کہ خلود مقدر ہوچکا پس سرکشوں کا ٹھکانہ بہت ہی برا…
Read the full tafseer →قالوا الحمد اللہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشاء اور کہیں گے :
ا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہم کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں ‘ مقام کریں۔
وَقَالُوْا الْحَمْدُلِلّٰہِ یعنی کارگذاران جنت جب مؤمنوں سے کہیں گے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ تو وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت کے اندر وہ نعمتیں پائیں گے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی ‘ نہ کسی کان نے سنی ہوں گی ‘ نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا ہوگا اور کہیں گے : اللہ کا شکر ہے الخ۔
وَعْدَہٗ یعنی جنت میں داخلہ کا وعدۂ خداوندی اور ان پوشیدہ چیزوں کے عطا کا وعدہ جن کو دیکھنے سے…
Read the full tafseer →اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف اس اکرام کو جاننے لگیں گے تو یہ داخل ہونے والے کہیں گے کہ اللہ کا شکر و احسان ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں سرزمین جنت کا مالک بنایا کہ ہم جہاں چاہیں اس میں قیام کریں غرض دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں کا اب اچھا بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا : اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے رب کی حمد اور اس کا شکر ادا کریں گے اور اس بات کا اقرار و اعلان کریں گے کہ اس نے جو وعدہ کیا تھا : (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ) [ الذاریات : 15 ] کہ بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے (اور دوسری آیات مثلاً مریم : 63) وہ وعدہ اس نے پورا فرما دیا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (43، 44) اور سورة فاطر (33 تا 35)۔
وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ : آدمی جس چیز کا وارث بنتا ہے اس کا پوری طرح مالک بن جاتا ہے، کوئی دوسرا اس پر دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ انھیں ان جگہوں کا بھی مالک بنایا جائے گا جو…
Read the full tafseer →وقالو الحمد للہ الذی صدقنا وعدہٗ یعنی جب وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو کہیں گے۔
واورثنا الارض الارض سے مراد جنت کی سر زمین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بیشک وہ اس زمین کے وارث ہے، جو جہنمیوں کی ہوتی اگر وہ ایمان لاتے، یہ ابو العالیہ، ابو صالح، قتادہ، سدی اور اکثر مفسرین نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ دنیا کی زمین ہے کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فنعم اجر العٰلمین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جنتیوں کا قول ہے یعنی یہ کتنا اچھا ثواب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے معنی ہے محسنوں کا جو ثواب دیا گیا ہے وہ کتنا اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واورثنا الارض “ (اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا) یعنی جنت کی زمین کا۔
2:۔ امام ہناد نے ابوالعالیہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” نتبوا من الجنۃ حیث نشآء “ (کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں گے قیام کریں گے) یعنی ان کی مشقت وہاں تک پہنچے گی جو ان کو عطا کیا گیا۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ سے جنت کی زمین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ سفید اور صاف شفاف ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَقَالُوا [اور وہ لوگ کہیں گے ] الْحـَمْدُ [تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] صَدَقَنَا [سچ کیا ہم سے ] وَعْدَهٗ [اپنے وعدہ کو ] وَاَوْرَثَنَا [اور اس نے وارث بنایا ہم کو ] الْاَرْضَ [اس سرزمین کا ] نَـتَبَوَّاُ [ہم اقامت اختیار کرتے ہیں ] مِنَ الْجَــنَّةِ [اس جنت میں سے ] حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚ[جہاں ہم چاہیں ] فَنِعْمَ [تو کیا خوب ہے ] اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ [عمل کرنے والوں کا اجر ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
(فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (سو برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا) تکبر نے ان لوگوں کا ناس کھویا اور حق قبول کرنے نہ دیا، کافر جب دوزخ میں داخل کردئیے جائیں گے تو اس کے دروازے بند کردئیے جائیں گے اور وہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔ (وَمَاھُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ) اس کے بعد اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ گروہ ہو کر جنت کی طرف لے جائیں گے تقویٰ کا ابتدائی درجہ تو یہ ہے کہ کفر کو چھوڑ کر ایمان قبول کرے پھر اعمال صالحہ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے مختلف درجات ہیں اور ان میں فرق مراتب ہے ان درجات کے مراتب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
بیان انجام حقارت وتذلیل کفار ومجرمین وانعام واکرام اہل ایمان ومطیعین :۔
قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” وسیق الذین کفروا ........ الی ....... الحمد للہ رب العلمین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین و کفار کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ شرک ونافرمانی سے باز نہ آئیں گے، تو زندگی میں کیے ہوئے تمام اعمال حبط وبرباد ہوں گے اور انسان کو نہ قیامت سے بےفکر ہونا چاہئے اور نہ محاسبہ سے لاپرواہی برتنی چاہئے، قیامت بھی برحق ہے، محاسبۂ اعمال بھی۔ اعمال اس پروردگار پر پورشیدہ نہیں وہ اعمال کو دیکھتا اور جانتا ہے، اس نے ہر انسان کا نامہ اعمال بھی تیار کر رکھا ہے، اعمال پر گواہ بھی ہیں اس نوعیت سے مجرم کو اعمال کی…
Read the full tafseer →71:۔ ” وقالوا الخ “ اہل جنت اس وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کریں گے اور کہیں گے کہ جس طرح دنیا میں تمام صفات کارسازی اللہ کے ساتھ خاص تھیں آخرت میں بھی وہی کارساز اور مفیض برکات ہے اور ہر قسم کے شریکوں سے پاک ہے ہر حمد وثناء اس ذات پاک کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور ہمیں ارض جنت کا وارث بنایا کہ جنت میں ہم جہاں چاہیں رہیں۔ عمل کرنے والوں کا اجر وثواب کتنا اچھا ہے وعدے سے حشر و نشر اور اجر وثواب کا وعدہ مراد ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے کیا گیا تھا (روح) اور ارض سے ارض جنت مراد ہے۔ والمراد بالارض ارض الجنۃ (کبیر جلد 7 ص 288) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ربط آیات :
گذشتہ درس میں دو دفعہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہوا ہے پہلے صور پر ہر چیز بیہوش ہو جائیگی ، اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی ، اعمال نامے سامنے رکھ دیے جائیں گے ، نبی اور گواہ آئیں گے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی جزائے عمل کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اس کی کیفیت بھی بیان کی ہے کہ نافرمان لوگ جہنم تک اور اہل ایمان جنت تک کیسے پہنچیں گے ۔
(کفار کی جہنم کی طرف روانگی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی…
Read the full tafseer →وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّۃِ حَيْثُ نَشَاۗءُ 0ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ 74
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ترکیب : زمرا جمع زمرۃ وھی الجماعۃ، حال فی الموضعین و فتحت الوا و زائدۃ عند قوم لان الکلام جواب حتی اذا ولیست زائدہ عند قوم فالجواب محذوف ای دخلو ھا نتبوا حال من الفاعل او المفعول وحیث مفعول بہ حافین حال من الملائکہ یسبحون حال منھا۔
تفسیر : فیصلہ ہونے کے بعد کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ کفار کی جماعتیں جہنم کی طرف ہان کی جاویں گی، وہاں فرشتے ان سے ملامت کے طور پر پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس دنیا میں رسول نہ آئے تھے جو آیات الٰہی سنایا کرتے اور اس روز کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں آئے تھے مگر تقدیر میں یہی تھا، فرشتے کہیں گے تو جہنم میں گرو کہ ہمیشہ وہاں رہا کرو گے جو بری جگہ ہے…
Read the full tafseer →وَقَالُوا الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُ فَنِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ (الزمر : 74)
(اور اہل جنت کہیں گے، شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، بس کیا ہی خوب صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ )
اہلِ جنت کا اظہارتشکر
اہلِ جنت جب دیکھیں گے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ جنت اور اس کی نعمتوں کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے سب پورے کردیئے۔ اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کو جنت میں جانے حکم۔ اور انہیں ملائکہ کا سلام پیش کرنا۔
یہاں دو وجہ سے جنتیوں سے پہلے جہنمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آیات میں عدالت کبرٰی کے قیام کے ذکر سے پہلے جہنمیوں کا ذکر ہورہا تھا۔ دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حساب و کتاب کے بعد جنتیوں کو جہنمیوں کی حالت زار دکھانا چاہیں گے۔ تاکہ انہیں احساس ہو کہ اگر ہم پر ہمارے رب کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی جہنمیوں میں شامل ہوتے۔ یہ مشاہدہ اور احساس کروانے کے بعد جنتیوں کو حکم ہوگا کہ تم نے تکبر اور نافرمانیوں سے بچ کر زندگی گزاری۔ لہٰذا اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ…
Read the full tafseer →آیت وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ، اور وہ کہیں گے تمام تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا، یعنی وہ وعدہ پورا فرما دیا جو آخرت کی نعمتوں کے متعلق فرمایا تھا۔ آیت و اور ثنا الارض (اور ہم کو اس سرزمین کا وارث بنایا) ، الارض سے جنت کی زمین مراد ہے اور ان کو اس کا وارث بنایا جائے گا یعنی مالک بنایا جائے گا۔ اور اس کا بادشاہ بنایا جائے گا۔ اور جیسا چاہیں گے اسی طرح ان کو آزادانہ تصرف کی اس میں اجازت ہوگی۔ جیسا کہ وارث کو اپنی جائیداد میں تصرف اور پورا پورا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ نتبوا، ہم قیام کریں۔ یہ حال ہے۔
مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ، جنت میں ہم جہاں چاہیں، یعنی ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(72۔ 73) ۔۔۔۔۔ قیل اد خلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمراحتی اذا جاء وھا وفتحت ابوابھا کوفی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ واؤ زئد ہے تاکہ یہ جواب بن جائے، حتی اذا جاء وھا، کا جیسا کہ کفار کے ہانکنے کے متعلق گزرچکا ہے اور یہ واؤایسے ہی زائد ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، ولقداتینا موسیٰ وھارون الفرقانوضیاء یہ واؤزائد ہے اور بعض نے کہا کہ واؤ حالیہ ہے اورا صل عبارت یوں ہے :، وقد فتحت ابوابھا، تو واؤ کو داخل کیا گیا۔ یہ بیان کرنے کے لیے کہ ان کے آنے سے پہلے دروازے کھلے تھے اور اس واؤ کو پہلے واقعہ میں حذف کردیا گیا یہ بتا نے کے لیے کہ جہنم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
74۔ 75۔ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب تعریف اس خدا کو ہے جس نے سچا کیا ہم سے وعدہ اپنا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں کہ جو نہ ہم نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جنتی لوگوں کو جنت میں وہ نعمتیں ملیں گی کہ جو نہ انہوں نے کبھی آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت 71
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کردی جائے گی جس طرح انہوں نے دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا، چناچہ فرمایا : (وسیق الذین کفروآ الی جھنم) ” اور جن لوگوں نے کفر کیا انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ “ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ، یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →138 اہل جنت کے لیے ایک اور عظیم الشان اور بےمثال خوش خبری : سو ان خوش نصیبوں کو وہاں پر خلود و دوام کی بےمثال خوشخبری سے نوازتے ہوئے ان سے کہا جائے گا " پس تم داخل ہوجاؤ اس جنت میں ہمیشہ رہنے کیلئے " ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ کہ نہ تو ان نعمتوں کو کوئی زوال اور نہ تمہیں یہاں سے نکلنے اور محروم ہونے کا کوئی ڈر اور خطرہ ۔ { خَالِدْیِنَ فِیْہَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلاً } ۔ اَللّٰہُمَّ مِنْ اَہْلِہَا ۔ سو دوام و خلود جنت کی وہ امتیازی اور منفرد نعمت ہے جو اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ دنیا میں ملنے والی ہر نعمت بھی عارضی اور فانی اور اس سے مستفید و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
نیکوں اور بدکاروں کا اخروی انجام
تشریح : جب ہم یہ آیات پڑھتے ہیں اگر ہمارے اندر توحید کی سچائی اور توحید کا نور موجود ہو تو واقعی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔ کتنا عظیم دربار ہوگا اور کتنا عظیم جج ہوگا یہ صرف ہم قرآنی آیات کے کھینچے ہوئے نقشہ کو تصور کی آنکھ سے اور روح کی پاکیزگی سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گناہگار خوف و ہراس سے پریشان ہوں گے اور جب جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا تو کیا حال ہوگا ؟ کوئی سفارش، کوئی مال، کوئی اولاد، کوئی بادشاہ، کوئی وزیر اور کوئی بڑے سے بڑا لیڈر عذاب سے بچا نہ سکے گا۔ بڑے انصاف سے سزا دی جائے گی۔ بےانصافی کرنا تو صرف بندوں کا کام ہے رب العزت کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 71 تا 75:
اسرار و معارف :
تب فیصلہ ہونے کے بعد کفار کے گروہ یعنی ہر جرم کے لوگ ایک ایک گروہ بن کر دوزخ کی طرف ہنکائے جائیں گے جہاں پہلے سے دروازہ کھولے فرشتے منتظر ہوں گے اور ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے مبعوث نہ ہوئے تھے کہ تمہیں تمہارے پروردگار کا پیغام پہنچاتے اور آج کی اس مشکل گھڑی سے بروقت خبردار کرتے۔ کہیں گے آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا لہذا ہمارے کفر کے سبب ہم پر یہ عذاب آیا اور عذاب کا حکم کافروں پہ نافذ ہوجائے گا۔ اور انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا کہ چلو اب دوزخ میں جہاں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے داخل ہوجاؤ کہ تکبر کرنے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی مرنے کے بعد زندہ کرنے اور جنت عطا فرمانے کا جو اس نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا وہ اس نے سچا کر دکھایا۔5 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” ان کو حکم ہے جہاں چاہیں رہیں لیکن ہر کوئی وہی جگہ لے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے “۔ ( موضح)6 صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” پہلی ٹولی میں جو اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور جو ان کے بعد داخل ہونگے ان کے چہرے آسمان کے روشن ترین ستاروں کی طرح روشن ہوں گے۔ ( وھکذا درجۃ بعد درجۃ ) (شوکانی)
Read the full tafseer →(39:74) اور ثنا : اور ث ماضی واحد مذکر غائب ایراث (افعال) مصدر نا ضمیر مفعول جمع متکلم اس نے ہم کو وارث بنایا۔ کہ جس طرح چاہیں استعمال میں لائیں ۔ الارض۔ سے مراد زمین جنت ہے۔
نتبوا مضارع جمع متکلم۔ تبوء (تفعل) مصدر ب و ء مادہ۔ البواء کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزاء کا مساوی اور سازگار ہونے کے ہیں۔ لہٰذا مکان بواء اس مقام کو کہتے ہیں کہ جو اس جگہ اترنے والے کے لئے سازگار اور موافق ہو۔ بوات لہ مکانا میں نے اس کے لئے جگہ کو درست اور ہموار کیا۔ تبوا المکان کسی جگہ اقامت اختیار کرنا۔ نتبوأ ہم سکونت اختیار کریں۔ ہم سکونت پذیر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 75 : وسیق (اس نے کھینچا ، گھسیٹا) زمر (جماعت ، گروہ) خزنۃ (نگران ، دیکھ بھال کرنے والا) حقت (ثابت ہوگئی) طبتم (تمہیں مبارک ہو) اور ثنا (ہمیں مالک بنا دیا) نعم ( بہترین) حافین (گھیرنے والے) حول العرش (عرش کے اردگرد)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 75 : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے میدان حشر کا نقشہ کھینچ کر بتا دیا تھا کہ یہ وہ انصاف کا دن ہوگا جس میں ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ کفار و مشرکین کو اس دن ذلت و رسوائی اور اہل ایمان کو عزت و عظمت نصیب ہوگی چناچہ مشرکین ، کفار اور منافقین کو نہایت ذلت کے ساتھ گھسیٹ کر جہنم کے دروازوں تک پہنچا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوش خبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں جو ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا، اور ہم کو جنت کی زمین کا مالک بنایا، جہاں چاہیں ہم رہیں بیٹھیں، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتی لوگ جنت کی نعمتیں دیکھ کر ادھر اللہ کی حمدوثنا بیان کررہے ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
[37] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1: جہاں منکرین کا استقبال زجروتوبیخ کے الفاظ سے ہوگا ۔ وہاں پاکبازوں کہ عزت واحترام کے ساتھ جنت کے دروازوں تک لایا جائے گا ۔ جب یہ دروازے ان کے خیر مقدم میں کھلیں گے ۔ تو فرشتے مسرت اور خوشی کا اظہار کرینگے ۔ اور کہیں گے کہ اللہ کی تم پر سل امتی ہو ۔ خوشحالی اور فارغ البالی سے جنت میں رہو ۔ ادھر یہ اللہ کی حمد و ستائش میں مصروف ہوجائیں گے ۔ اور اس کا شکر ادا کریں گے ۔ کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ اور جنت میں ان کے لئے ہر قسم کی آسودگی مہیا کی ۔ انہیں آزادی بخشی ۔ کہ جہاں چاہیں اپنے لئے تمام تجویز کرلیں ۔
حل لغات :۔ زمرا ۔ جمع زمرہ آدمیوں کے متفرق گروہ ۔ گروہ درگروہ خزنتھا ۔ محافظ حافین ۔…
Read the full tafseer →(74) اوریہ متقی لوگ جنت میں داخل ہوکر کہیں گے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزاوار ہیں جس نے اپنا وعدہ ہمیں سچ کر دکھایا اور ہم کو اس سرزمین کا وارث اور مالک بنادیا کہ ہم اس بہشت میں جہاں چاہیں سکونت اختیار کریں۔ غرض یہ بہشت کیا ہی اچھا صلہ ہے محنت کرنے والوں کا۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کہیں گے الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور جو کہا تھا وہی کیا سرزمین بہشت کا مالک بنایا جگہ اس قدر وافر کہ جہاں چاہیں سکونت پذیر ہوں اور جہاں چاہیں چلیں پھریں سیر کریں یعنی جو جگہ ہمارے لئے مقرر کی گئی ہے وہ بہت وسیع ہے آخر میں جو کلام ہے وہ یا متقیوں ہی کا ہے یا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ عمل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1۔ یعنی ہر شخص کو خوف فراغت کی جگہ ملی ہے۔
2۔ یہ یا تو ان ہی کا کلام ہے یا اللہ تعالیٰ کا ہو۔
Read the full tafseer →اہل جنت ، جنت میں داخل ہو کر اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف کے گیت گائیں گے
74۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت کے اندر وہ انعاماتِ الٰہی پائیں گے جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے اور نہ ہی کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ ہی کسی دل میں ان کا تصور آیا ہوگا اور ظاہر ہے کہ ان انعامات کو حاصل کرنے کے بعد اپنے تقوٰی اور پرہیزگاری کے باعث ان کو حمد الٰہی کے ترانے گانے چاہئیں اور وہی وہ گائیں گے اور آپس میں کہیں گے جو ہم سے وعدہ کیا تھا وہ آج سچ ہوگیا اور رب کریم نے ہم کو جنت الفردوس کی فلاں زمین کا وارث بنا دیا اور اب ہم اپنی وراثت میں جہاں چاہیں جاسکتے ہیں ہم پر کوئی ممانعت نہیں اور اہل جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
In verse 74, it was said: نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ (we can dwell anywhere we wish in Jannah). The sense is that, apart from their own special dwelling places, the people of Jannah will be allowed to visit others there and take pleasure trips around. Tabarani, Abu Nu'aym and Diya', have reported, through a chain rated as 'hasan', from Sayyidah ` A'ishah ؓ that someone came to the Holy Prophet ﷺ and said to him, 'ya rasulAllah, I love you so much that I keep thinking of you even when I go back home and I remain uncomfortable and impatient until I return to you. But, when I…
Read the full tafseer →84 Maybe this is said by the dwellers of Paradise, or maybe this sentence is added by Allah to what the dwellers of Paradise will say.
Read the full tafseer →