39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 39:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اسکی عبادت کو (شرک سے) خالص کر کے

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا بیشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ قران کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا، نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لئے الوہیت اس کا وصف ہے، کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بناء پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سی کامل ہے، اس کا کوئی مثیل و نظیر نہیں، اسی طرح اس کا کلام بھی ہر لحاظ سے کامل اور بےمثال و بےنظیر ہے۔ یہ ایک وصف ہی اللہ تعالیٰ کے مرتبے پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہے، مگر بایں ہمہ، اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر اسے نازل فرمایا ہے اس کے ذریعے سے اس کے کمال کو بیان فرمایا اور وہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکات ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ کتاب اپنی دعوت سمیت، تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ پس قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا جو اپنی سچی خبروں اور عدل و انصاف پر مبنی احکام پر مشتمل ہے تاکہ مخلوق کو گمراہی کی تارکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لائے اور یہ کتاب اپنی اخبار صادقہ اور اپنے احکام عادلہ کے بارے میں حق پر مشتمل نازل ہوئی۔ یہ کتاب تمام مطالب علمیہ میں سے جس چیز پر دلالت کرتی ہے، وہ سب سے بڑا حق ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرآن حق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، مخلوق کی ہدایت کے لئے حق پر مشتمل ہے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی پر نازل کیا گیا ہے، اس لئے یہ نعمت بہت عظیم اور جلیل القدر ہے، اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے اور اس کا شکریہ ہے کہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا جائے، بنا بریں فرمایا (فاعبداللہ مخلصا لہ الدین) اپنے تمام دین یعنی ظاہری اور باطنی اعمال شریعت، (سلام، ایمان اور احسان) کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیجئے۔ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھیے اور اس کے سوا آپ کا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ (الاللہ الدین الخالص) آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اخلاص کے حکم کو متحقق کرتا ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام تر کمال کا مالک ہے اور اس نے اپنے بندوں کو ہر لحاط سے اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے اسی طرح ہر قسم کے شک و شب ہے سے پاک دین خالص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے پسند فرمایا اور مخلوق میں سے چنے ہوئے بندوں کے لئے منتخب فرمایا اور اسی کو اختیار کرنے کا اپنے بندوں کو حکم دیا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت کے ذریعے سے بندوں کے مطالب کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو متضمن ہے۔ یہی وہ دین ہے جو قلوب کی اصلاح کرکے ان کو پاک کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی عبادت میں شرک کرنا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک سے کوئی تعلق نہیں اور وہ شریکوں سے، سب سے زیادہ بےنیا زہے۔ شرک قلب و روح اور دنیا و آخرت کو فاسد کرتا ہے اور نفوس کو بدبختی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے، اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ نے توحید اور اخلاص کا حکم دیا ہے، وہاں شرک سے بھی روکا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی خبر دی ہے جنہوں نے شرک کا ارتکاب کیا، چناچہ فرمایا : (والذین اتخذوا من دونہ اولیا) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں ان کو پکارتے ہیں اور انہیں اپنا والیو مددگار بناتے ہیں وہ اپنا عذر بیان کرتے ہوئے کہا ہیں۔ (مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) ” ہم انہیں صرف اس لئے پوجھتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں “۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری حاجتیں پیش کریں اور اس کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ ورنہ درحقیقت ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی چیز پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں اور نہ انہیں کسی قسم کا کچھ اختیار ہی حاصل ہے۔ یعنی ان مشرکین نے اخلاص کو چھوڑ دیا جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ سب سے بڑی چیز، یعنی شرک کا ارتکاب کیا اور اس ہستی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا جس کی نظیر کوئی چیز نہین، جو عظیم بادفشاہ ہے۔ وہ اپنی فاسد عقل اور سقیم رائے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی خدمت میں ان کے مقربین، سفارشیوں اور وزیروں کے بغیر حاضر نہیں ہوا جاسکتا جو رعایا کی ضروریات اور حاجتیں ان بادشاہوں تک پہنچاتے ہیں، رعایا کے لئے بادشاہوں سے رحم طلب کرتے ہیں ان بادشاہوں کے پاس رعایا کے معاملات پیش کرتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ بھی ان بادشاہوں کے مانند ہے۔ یہ فاسد ترین قیاس ہے، کیونکہ عقل و نقل اور فطرت کے مطابق خالق اور مخلوق کے درمیان عظیم فرق ہونے کے باوجود یہ قیاس خالق اور مخلوق میں مساوات کو متضمن ہے۔ بادشاہ براہ راست رعایا کے احوال نہیں جانتے، اس لئے انہیں اپنے اور عایا کے درمیان واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، رعایا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بادشاہوں تک ان کے حالات پہنچائیں۔ بسا اوقات ان بادشاہوں کے دلوں میں ضرورت مند کے لئے کوئی رحم نہیں ہوتا تب رعایا سفارش کرنے والوں اور وزراء وغیرہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ بادشاہوں کے ہاں ان کے لئے مراعات کے حصول اور ان کی دل جوئی کے لئے واسطہ بننے والے سفارشیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بسا اوقات رعایا خود محتاج اور مفلس ہوتی ہے اس لئے وہ محتاجی کے ڈر سے ان کی خاطر و مدارات نہیں کرسکتی۔ جہاں تک رب تعالیٰ کا معاملہ ہے تو وہ ایسی ہستی ہے جس کے علم نے تمام امور کے ظاہر اور باطن کا احاطہ کررکھا ہے، وہ کسی ایسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے اس کے بندوں اور اس کی رعایا کے احوال سے آگاہ کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر سخی ہے، وہ مخلوق میں سے کسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے بندوں پر رحم کرنے پر آمادہ کرے، بلکہ رب تعالیٰ انے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر یا ان کے والدین ان پر رحم کرتے ہیں۔ وہ انہیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کو حاصل کرلیں وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے جو وہ خود بھی اپنے لئے نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے جو کامل غنائے مطلق کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر اول سے لے کر آخر تک تمام مخلوق ایک میدان میں اکٹھی ہوجائے اور وہ اس سے اپنی اپنی ضرورت اور تمنا کے مطابق سوال کریں تو وہ سب کو عطا کرے گی۔ وہ اس کی غنا میں سے ذرہ بھر کمی کرسکتے ہیں نہ اس کے خزانوں میں، مگر اتنی سی کہ جو سمندر میں سوئی ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ پھر تمام سفارشی اس سے ڈرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکتا۔ تمام تر سفارش کا صرف وہی مالک ہے۔ اس فرق سے مشرکین کی جہالت، حماقت اور اللہ کے حضور ان کی جسارت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ شرک کے مرتکب کے لئے عدم مغفرت میں کیا حکمت ہیّاس کی حکمت یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح کو متضمن ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فریقین، یعنی مخلص مومنوں اور مشرقکین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا۔۔۔ اور اس میں مشرکین کے لئے تہدید بھی ہے (ان اللہ یحکم بینھم فی ماھم فیہہ یختلفون) ” بیشک جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا “ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ معلوم ہے جو یہ ہے کہ مخلص اہل ایمان، نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ( ان اللہ لایھدی) یعنی اللہ تعالیٰ راہ راست پر گامزن ہونے کی توفیق عطا نہیں کرتا (من ھو کذاب کفار) ” اس شخص کو جو جھوٹا اور ناشرکا ہو ‘ ق یعنی جس کا وصف کذب اور کفر ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور نصیحتیں آتی ہیں، مگر اس کے برے اوصاف دور نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ اسے بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے مگر یہ ان کا انکار کردیتا ہے ان کے ساتھ کفر کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ پس ان حالات میں ایسے شخص کے لئے ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنے لئے ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہو اور انجام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اسکے دل پر مہر لگا دی، لہٰذا وہ ایمان نہیں لائے گا۔
Ayahs 39:4–6

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

آیت 4 (لواراد اللہ ان یتخذولدا) ” اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا “ جیسا کہ جیسا کہ بعض بیوقوف لوگوں کا خیال ہے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کرلیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منژہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں ایک ہے لہذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی شبیہ ہے نہ مشیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی و حدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حصہ اور اس کا جز ہوتا۔ وہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی پر غالب ہے۔ اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ مقہور و مغلوب نہ ہوتا اور اپنے باپ کے خلاف جزات اور گستاخی کرنے والا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت اور اس کا قہر لازم وملزوم ہیں۔ صرف ایک ہستی ہی غا لب اور قا ہر ہوسکتی ہے اس لیے چیزہر لحاظ سے شر اکت کی نفی کرتی ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

آیات نمبر 7 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بیشک اس نے زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پر اپنے امرد نہی کے ضابطے با فذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے۔ یعنی وہ رات اور دن دو نوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خا ص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے یعنی چاند اور سورج یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطا بق چلتے ہیں ایک و قت مقررہ تک یعنی ان دو نوں کو ایک مدت مقر رہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے یعنی اس دنیا کے خا تمے اور اس کے تباہ ہونے تک اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو چاند اور سورج تباہ کر دے گا پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں ر ہیں وہ ہر چیز پر غا لب اور قا ہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کرسکتی۔ اس نے اپنی قوت عا لیہ سے اس عظیم کا ئنات کو و جود نخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے وہ اپنے تو بہ شعار بندوں کے گنا ہوں کو بخش دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور جو کوئی توبہ کرے ایمان لا کر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے تو میں اسے بخش دیتا ہون یعنی میں اشخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے یہ اللہ تعالیٰ کا غلنہ ہے کہ تمہاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جا نے کے باوجود اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے پھر اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے پاس سکون حا صل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔ اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں میں سے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقد یر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے آٹھ جوڑے اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورة لا نعام میں ذکر آیا ہے یہ چو پائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیٹروں میں سے اور دو بکریوں میں سے اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصا لح کے لیے بہت سے مو یشی تخلیق فرمائے ہیں مگر مذ کو رہ مویشیوں میں فوائد کی کثرت اس کے مصالح کی عمومیتت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصو ص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے مثلا قربانی ہدی عقیقہ ان میں زکوۃ کا وا جب ہونا اور دیت کی ادایئگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جد امجد اور ہماری ماں حضرت حوا علیہ اسلام کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذ کر کرتے ہوئے ہونا اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماوں کے پیٹوں میں ایک مرحلے کے بعد دو سرے مر حلے میں تخلیق کرتا چلا تا تا ہے اور تمہاری یہ حا لت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمہیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمہیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری پرورش کی ہے تین اندھیروں میں یعنی پیٹ کا اند ھیرا رحم کا اند ھیرا اور اس جھلی کا اند ھیرا جس میں بچہ لیٹا ہوتا ہے وہ ہستی جس نے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیا سورج اور چاند کو مسخر کیا جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے مو یشی اور نعمتیں پیدا کیں وہ اللہ تمہارا معبود حقیقی ہے جس نے تمہاری پرورش کی اور تمہاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمہیں پیدا کرنے اور تمہاری پر ورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شر یک نہیں اسی طرح اپنی الو ہیت میں بھی اکیلا ہے اس کا کوئی شر یک نہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟ اس تو ضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان ہونا کہ ان بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خا لص کیا جائے جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔ اگر نا شکری کرو گے تو اللہ تم سے بےنیاز ہے۔ جس طرح تمہاری اطا عت اسے کوئی فا ئدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا نل کہ تمہارے لیے اس کا امر و نہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے نا شکری پسند نہیں کرتا کیونکہ ان پر اس کا کا مل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو اسیی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد ابھیں کبھی خوش بختی نصیت نہ ہوگی نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غا یت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کیا اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کر تاکہ بندے اس مخلوق کو پکا ریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق بہیں کیا گیا اور تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو وہ اس کو تمہارے لیے پسند کرتا ہے کیونکہ تم پر اس کی بےپا یا رحمت سا یہ کناں ہے وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور اس فعل کو بجا لا رہے ہو جس کے لیے تمہیں پییدا کیا گیا ہے تمہارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمہارے اعمال اور تمہاری توحید سے اسے کوئی فا ئدہ تم میں سے ہر شخص کا اچھا بر اعمل اسی کے لیے ہے اور کوئی بو جھ اٹھا نے والا کسی دو سرے کا بو جھ نہیں اتھائے گا۔ پھر تم کو اپنے رب کی طرف لو ٹنا ہے یعنی قیا مت کے روز وہ تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جن کا اس کے علم نے احا طہ کر رکھا ہے جن پر اس کا قلم جاری ہوچکا ہے جنھیں معزز محا فظین نے صحیفوں میں د رج کر رکھا ہے اور جن پر تمہارے جوارح تمہارے خلاف گو اہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطا بق جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے اس آیت کر یمہ کا مقصود کا مل عدل وا نصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اسکی طرف دل سے رجوع کرتا ہے پھر جب وہ اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستہ سے گمراہ کرے کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے پھر تو تو دوزخیوں میں ہوگا

آیت نمبر 8 اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندے پر انے فضل و کرم اور اپنے احسان اور بندے کی ناشکری کا ذکر کرتا ہے۔ بندے کو جب مرض اور فقر وفاقہ وغیرہ کی کوئی تکلیف پہنچی ہے یا وہ سمندر وغیرہ میں گھر جاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا کہ اس صورت حال میں اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا تو نہایت عاجزی اور انابت کے ساتھ اسے پکارتا ہے اور اس مصیبت کو دور کرنے میں گڑگڑا کر اس سے مدد طلب کرتا ہے ” پھر جب اللہ تعالیٰ اسے نعمت سے نواز دیتا ہے “ اور اس سے مصیبت اور تکلیف کو دور کردیتا ہے تو وہ اس تکلیف اور مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا تھا اور اس طرح گزرتا ہے گویا اس پر کبھی کوئی مصیبت نازل ہی نہیں ہوئی اور یوں اپنے شرک پر جمارہتا ہے۔” اور اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستے سے گمراہ کرے۔ یعنی خود اپنے نفس کو بھی گمراہ کرے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے، کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا گمراہ ہونے کا ہی ایک شعبہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے لازم پر دلالت کرنے کے لئے ملزوم کا ذکر کیا ہے۔ (قل) ” کہہ دیجیے ! “ اس سرکش انسان سے جس نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا (تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحب النار) ” اپنے کفر کا تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے یقیناً تو جہنمیوں میں سے ہے۔ “ جب تیرا انجام جہنم ہے تو یہ نعمتیں جن سے تو فائدہ اٹھا رہا ہے تیرے کسی کام نہ آئیں گی۔ (آیت) ” کیا آپ نے دیکھا کہ اگر ہم انہیں مہلت دے کر برسوں فائدہ اٹھانے دیں، پھر ان کے پاس وہ چیز آجائے جس کا انہیں وعدہ دیا جا رہا تا تو یہ سامان زیست جو انہیں عطا کیا گیا ہے، ان کے کسی کام نہ آئے گا۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں

آیت 9 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے کے درمیان اور عالم اور جاہل کے مابین مقابلہ ہے، نیز اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جن کا تضاد عقل انسانی میں راسخ اور ان کے درمیان تفاوت یقینی طور پر معلوم ہے۔ پس اپنے رب کی اطاعت سے روگرداں اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اس شخص کے مانند نہیں ہوسکتا ہے جو افضل اوقات یعنی رات کے اوقات میں بہترین عبادت، یعنی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین اعمال کو کثرت کے ساتھ بجا لانے کے وصف سے موصوف کیا، پھر اسے خوف اور امید کی صفات سے موصوف کیا، نیز ذکر فرمایا کہ خون ان گناہوں کے بارے میں آخرت کے عذاب سے تعلق رکھتا ہے، جو اس سے سر زد ہوچکے ہیں اور امید کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی عمل سے موصوف فرمایا۔ (قل ھل یستوی الذین یعلمون) ” کہہ دیجیے کیا وہ برابر ہوسکتے ہیں جو جانتے ہیں “ جو اپنے رب، اس کے دین شرعی، دین جزائی اور دین کے اسرار اور حکمتوں کا علم رکھتے ہیں (والذین لایعلمون) اور جو ان مذکور امور کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ؟ یہ دونوں قسم کے لوگ کبھی برابر نہیں ہوتے جس طرح رات اور دن، روشنی اور اندھیرا اور آگ اور پانی برابر نہیں ہوتے۔ (انما یتذکر) جب نصیحت کی جاتی ہے تو صرف وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں (اولوالباب) جو صاف ستھری اور تیز عقل کے مالک ہیں۔ پس یہی لوگ اعلیٰ کو ادنیٰ پر مقدم رکھتے ہیں، چناچہ یہ لوگ علم کو جہالت پر اور اللہ کی اطاعت کو اس کی مخالفت پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کی عقل ان کو عواقب میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے برعکس بےعقل شخص اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور خدا کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا

آیت 10 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقویٰ کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو قویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ” اے سخی ! صدقہ کر “ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ” اے بہادر ! لڑائی کر “ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں انکے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا) ” جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی “ اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لئے (حسنۃ) ” بھلائی “ لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مومن فلنحبینۃ حیوۃ طیبۃ) (النحل :98/16) ” جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔ “ (وارض اللہ واسعۃ) ” اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ “ یعنی اگر تمہیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کرسکو اور جہاں تمہارے لئے اقامت دین ممکن ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ) اور چونکہ یہ نص عام ہے، لہٰذا اس مقام پر بعض لوگوں کے لئے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لئے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطہ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے ؟ اس لئے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا : (وارض اللہ واسعۃ) ” اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا :” میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچے گا اور یہ گروہ حق اسی نہج پر ہوگا۔ “ (1) یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لئے جب کبھی بھی کسی جگہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لئے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کرسکے۔ (انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب) ” جو صبر کرنے والے ہیں، انہیں بیشمار ثواب ملے گا۔ “ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لئے عام ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی تکلیف وہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے انکے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لئے بےحساب اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر یہ صبر کی فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا موقع و محل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں متعین ہے۔
Ayahs 39:11–13

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسکی بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

آیت 11 (1) صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ (انما قولنا لشئی اذآردنہ) ح :836 و صحیح مسلم الجھاد باب قولہ ﷺ لانزال صائفۃ من امتی۔۔۔ ح :1920
Ayahs 39:14–16

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے دین کو (شرک سے) خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو کہہ دو نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا دیکھو یہی صریح نقصان ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے (اس کے) فرش ہوں گے یہ وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو

آیت 14 (قد) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجیے : (انی امرت ان اعبداللہ مخلصاً لہ الدین) ” بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لئے خلاص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں “ جیسا کہ اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا : (آیت) ” پس آپ اللہ کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔ “ (وامرت لان اکون اول المسلمین) ” اور مجے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں “ کیونکہ میں مخلوق کے لئے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں، یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کروں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کے اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لئے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ (قل انی اخاف ان عصیت ربی) ” کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے “ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے (عذاب یوم عظیم) ” بڑے دن کے عذاب کا “ جس نے شرکا کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ (آیت) ” کہہ دیجیے ! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجیے اے کافرو ! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کرسکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے۔ “ (قل ان الخسرین) ” کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے “ درحقیقت وہ لوگ ہیں۔ (الذین خسروآ انفسھم) ” جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے (واھلیھم یوم القیمۃ) ” اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن “ ان کے درمیان اور گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم اٹھیں آ گھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑجائیں گے۔ (الا ذلک ھو الخسران المبین) ” خبر دار ! یہی صریح خسارہ ہے۔ “ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے چناچہ فرمایا : (لھم من فوقھم ظل من النار) ” ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے۔ “ یعنی بادل کے مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ (ومن تحتھم ظل) ” اور ان کے نیچے بھی (آگ کے) سائبان ہوں گے “ (ذلک) یعنی جہمینوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ (یخوف اللہ بہ عبادہ یعباد فاتقون) ” اللہ اس عذاب کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہذا اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لئے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجر و توبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لئے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لئے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوس انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انہیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا تو ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لئے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا) ” اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔ “ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیر اللہ کی عبادت ہے یعنی جنہوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم وعلیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے، کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے (وانا بوا الی اللہ) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کرلیتے ہیں۔ (لھم البشری) ” ان کے لئے ایسی خوش خبری ہے “ جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کرسکتے اور صرف وہی لوگ اس سے واقف ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس خوش خبری سے سرفراز فرمایا ہے۔ اس میں دنیا کے اندر وہ بشارت بھی شامل ہے جو بندہ مومن کو ثنائے حسن، سچے خوابوں اور عنایت ربانی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ انہیں اس بشارت کے اندر صاف دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کا اکرام چاہتا ہے۔ ان کے لئے موت کے وقت، قبر کے اندر اور قیامت کے روز خوش خبری ہے اور ان کے لئے اخرت بشارت وہ ہے جو رب کریم ان کو اپنی دائمی رضا، اپنے فضل و احسان اور جنت کے اندر امان کی صورت میں دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان مومن بندوں کے لئے خوش خبری ہے تو اس نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان کو خوش خبری دے دیں اور وہ وصف بھی ذکر کردیا جس کی بنا پر وہ بشارت کے مستحق قرار پائے ہیں۔ (فبشر عباد، الذین یستبعون القول) ” پس میرے بندوں کو خوش خبری سنا دو ، جو بات کو سنتے ہیں “ یہاں (الوقل) ہر قسم کی بات کو شامل ہے۔ وہ بات کو سنتے ہیں تاکہ وہ امتیاز کرسکیں کہ کس بات کو ترجیح دی جائے اور کس بات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ان کا حزم و احتیاط اور عقل مندی ہے کہ وہ اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرت یہیں۔ بہترین کلام علی الاطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا کلام ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر اسی سورة مبارکہ میں فرمایا : (آیت) ” اللہ ن یبہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ جب ان ممدوح لوگوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین قول کا اتباع کرتے ہیں، تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہترین کلام کی معرفت حاصل ہو ؟ تاکہ ہم بھی عقل مندوں کی صفات سے متصف ہوجائیں اور جو کوئی اس صفت سے متصف ہو تو ہمیں پتا چل جائے کہ یہ مقلمندوں میں سے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ! بہترین کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا : (اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا (الزمر :23/39) ” اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔ “ (آیت) ” وہ لوگ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کا اتباع کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے ‘ یعنی بہترین اخلاق و اعمال کی طرف (واولئک ھم اولوا الالباب) ” اور یہی لوگ عقلمند ہیں۔ “ یعنی پاک عقل کے مالک ہیں۔ یہ ان کی عقل مندی اور ان کا حزم و احتیاط ہے کہ انہوں نے قول حسن اور غیر حسن کو پہچان لیا اور پھر اس قول کو ترجیح دی جس کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور یہ عقل مندی کی علامت ہے، بلکہ عقل مندی کے لئے اس کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں ہے، کیونکہ وہ شخص جو قول حسن اور غیر حسن میں امتیاز نہیں کرسکتا، ان لوگوں کے زمرے میں نہیں آتا جو عقل صحیح کے مالک ہیں یا وہ اچھی اور بری بات کے درمیان امتیاز تو کرسکتا ہے لیکن جب شہوت نفس عقل پر غالب آجاتی ہے اور عقل شہوت کی محض تابع ہوجاتی ہے تو وہ بہترین کلام کی تعظیم نہیں کرتا تب وہ ناقص العقل قرار پاتا ہے۔
Ayahs 39:19–20

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (یہ) خدا کا وعدہ ہے خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا

آیت 19 یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہوگیا، تو اس کی ہدایت کے لئے آپ کے پاس کوئی چارہ ہے نہ آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گر چکا ہو۔ ہر قسم کا غنا اور فوز و فلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لئے ہے جن کے لئے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ (لھم غرف) یعنی ان کے لئے آراستہ کئے گئے بالا خانے ہیں، جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ، بنا بریں فرمایا : (من فوقھا غرف) یعنی یہ بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر (مبینۃ) سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے ہوں گے جن کو آپس میں جوڑنے کے لئے مشک کا گارا بنایا گیا ہوگا۔ (تجری من تحتھا الانھر) ” جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی “ جن کا پانی نہایت تیزی سے رواں ہوگا۔ یہ نہریں جنت کے خوبصورت باغات اور اس کے پاکیزہ درختوں کو سیراب کریں گی جن سے نہایت لذیذ قسم کے پھل اور پکے ہوئے میوے پیدا ہوں گے۔ (وعد اللہ لایخلف اللہ المیعاد) ” یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ‘ اس نے پرہیز گار لوگوں سے اس ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ ضرور پور ہوگا، لہٰذا چاہیے کہ وہ تقویٰ کے تمام خصائل کو پورا کریں تاکہ ان کو پورا پورا اجر عطا کیا جائے۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کتا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہو گئی ہے) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے

آیت 21 اللہ تعالیٰ عقل مندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے آسمان سے پانی برسایا، اس پانی کو زمین کے اندر چشموں کی صورت میں رواں دواں کیا، یعنی اس پانی کو چشموں میں محفوظ کیا جہاں سے یہ پانی نہایت آسانی اور سہولت سے نکالا جاتا ہے۔ (ثم یخرج بہ زعا مختلفاً الوانہ) ” پھر اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے مختلف قسم کے غلہ جات نکالتا ہے “ مثلاً گیہوں، مکئی، جو اور چاول پیدا کرتا ہے۔ (ثم یھیج) پھر یہ کھیتیاں پوری طرح پک کر یا کسی آفت کی وجہ سے خشک ہوجاتی ہیں (فترنہ مصفرا ثم یجعلہ حطاماً ) ” تو تم اسے زرد دیکھتے ہو۔ پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔ “ (آیت) ” بلا شبہ عقل مندوں کے لئے البتہ اس میں نصیحت ہے۔ “ وہ ان کھیتوں کے ذریعے سے اپنے رب کی عنایات اور بندوں پر اس کی بےپایاں رحمت کو یاد کرتے ہیں کہ اس نے ان کے لئے اس پانی کے حصول کو آسان بنایا اور ان کے مصالح کے مطابق اس پانی کو زمین کے خزانوں میں جعم کیا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو یاد کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو اسی طرح زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ ان تمام افعال کو سرانجام دینے والی ہستی ہی درحقیقت عبادت کی مستحق ہے۔ اے اللہ ! ہمیں بھی ان عقلمندوں میں شامل فرما، جن کا تو نے نام بلند کیا، انہیں قعل سے بہرہ مند کر کے راہ راست پر گامزن کیا اور ان کے سامنے اپنی عظیم کتاب کے اسرار اور اپنی آیات سے پردہ اٹھایا جن اسرار کی معرفت ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہ ہوسکی، بیشک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟ ) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

آیت 22 کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے وسعت ہو اور وہ اسلام کے معاملے میں انشراح صدر اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ بصیرت کی راہ پر گامزن ہو۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہو۔ “ سے یہی مراد ہے۔۔۔ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو ان مذکورہ اوصاف سے محروم ہے ؟ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت) ” پس ہلاکت ہے ان کے لئے جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ “ یعنی ان کے سخت دل اس کی کتاب کو سمجھنے کے لئے نرم ہوتے ہیں نہ اس کی آیات سے نصیحت پکڑتے ہیں اور نہ اس کے ذکر سے اطمینان ہی حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے رب سے روگردانی کر کے غیر کی طرف ال تفات کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے شدید ہلاکت اور بہت بڑی برائی ہے۔ (آیت) ” یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ “ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہے جو اپنے والی اور سرپرست سے منہ موڑتا ہے جس کی طرف التفات میں ہر قسم کی سعادت ہے، جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بارے میں پتھر کے مانند سخت ہے اور وہ اس چیز کی طرف متوجہ ہے جو اس کے لئے نقصان دہ ہے۔
Ayahs 39:23–25

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو ؟ ) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اسکے مزے چکھو

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق (احسن الحدیث) ” بہترین کلام ہے۔ “ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین اور اس کے معانی جلیل ترین ہیں، کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختالف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے مشا بہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غور و فکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت اس کے معانی میں ایسی گہرائی نظر آئے گی جو دیکھنے وا لوں کو حیران کردیتی یے اور اسے توین ہوجاتا ہے کہ یہ (بےریب) کلام حکمت اور علم وا لی ہستی کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہوسکتا۔ اس مقام پر تشا بہ سے یہی مراد ہے رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد وہ اللہ ہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں تو اس سے مراد وہ آیات کر یمہ ہیں جو بہت سے لوگوں کے فہم سے پو شیدہ اور مشتبہ ہوتی ہیں۔ یہ اشتبا ہ اس و قت تک زائل نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو آیات محکمات کی طرف نہ لو ٹا یا جائے اس لیے ہونا اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔ اس آیت کر یمہ میں بعض آیات میں تشا بہ قرار دیا گیا ہے اور یہاں تمام آیات کو متشا بہ کہا ہے یعنی حسن میں مشا بہ ہیں کیونکہ ارشاد فرمایا نہایت اچھی با تیں اس سے مراد تمام آیات اور سورتیں ہیں جو ایک دوسری سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ گز شتہ سطور میں ہم ذکر کرچکے ہیں دہرائی جاتی ہیں۔ یعنی اس بہترین کلام میں قصص و احکام وعد و وعید اہل خیر کے اوصاف اور اہل شر کے اعمال کو بار بار دہرایا جاتا ہے نیز اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ اس کلام کا حسن و جلال ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ مخلوق اس کلام کے معانی کی محتاج ہے جو دلوں کو پاک اور اخلاق کی تکمیل کرتے ہیں اس لیے اس نے ان معانی کو دلوں کے لیے وہی حیشیت دی ہے جو درختوں اور پودوں کے لیے پانی کی ہے، جس طرح درخت اور پودے عدم سیر ابی کے با عث نا قص بلکہ بسا اوقات تلف ہوجاتے ہیں اور پو دوں کو جتنا زیادہ بار بار سیر ات کیا جائے گا اتنے ہی وہ خوبصورت ہوں گے اور اتنا ہی زیادہ پھل لائیں گے اسی طرح دک بھی کلام اللہ کے معانی کے تکرار کے ہمشہ محتاج رہتے ہیں۔ اگر تمام قرآن میں ایک معنی اس کے سامنے ایک ہی مر تبہ بیان کیا جائے تو معنی اس کی گہرائی میں جاگزیں ہوگا نہ اس سے مطلو بہ نتائج ہی حا صل ہوں گے۔ بنا بریں میں اپنی تفسیر میں قرآن مجید کے اسکوب کی اقتدا میں اسی مسلک کریم پر گامزن ہوں اس لیے آپ کسی بھی مقام پر کوئی حو الہ نہیں پائیں گے بلکہ آپ ہر مقام پر گزشتہ صفحات میں اس سے ملتے جلتے مقام کی تفسیر کی رعا یت رکھے بغیر اس کی مکمل تفسیر پائیں گے اگرچہ بعض مقامات پر نسبتا زیادہ بسط و شرح سے کام لیا گیا اور اس میں فوائد دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے والے کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ وہ قرآن مجید کے تمام مقامات میں تدبر کو ترک نہ کرے کیونکہ اس سبب سے اسے خیر کثیر اور بہت زیادہ فائدہ حا صل ہوگا۔ چونکہ قرآن عظم اس عظمت و جلال کے ساتھ ہدایت یافتہ اور عقل مند لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کرتا ہے اس لیے ہونا جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس (قرآن) سے اس کے بدن کے رو نگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اس کے اندر بےقرار کردینے اولی تخو ایف وتر ہیب ہے پھر اس کے بدن اور دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متو جہ ہوجاتے ہیں۔ تعنی امید اور تر غیب کے ذکر کے وقت۔ یہ ذکر کبھی تو ان کو بھلائی کے عمل کی تر غیب د یتا ہے اور کبھی برائی کے عمل سے ڈراتا ہے۔ یہ یعنی ان کے اندر تاثیر قرآن کا اللہ تعالیٰ نے جو ذکر کیا ہے اللہ کی ہد ایت ہے یعنی اس کے بندوں کے لیے اس کی طرف سے ہدایت ہے اور ان پر اس کے جملہ فضل وا حسان میں سے ہے اللہ تعالیٰ اس تا ثیر قرآن کے ذر یعے سے ہد ایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ سے مر اد قرآن ہو یعنی وہ قرآن جس کا و صف ہم نے تمہارے سا منے بیان کیا ہے اللہ کی ہد ایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچے کے لیے اس کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہد ایت عطا کرتا ہے، یعنی جو اچھا مقصد رکھتے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اللہ اس کتاب کے ذر یعے سے ان لوگوں کو سلا متی کا را ستہ د کھا تا ہے جو اس کی رضا کے طا لب ہیں اور جسے اللہ گمر اہ کر دے اسے کوئی ہد ایت دینے و لا نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تو فیق کے سوا کوئی را ستہ نہیں جو اللہ تعالیٰ تک پہنچا تا ہو کتاب اللہ پر تو جہ مر کوز کرنے کی تو فیق بھی اسی سے ملتی ہے پس اگر اللہ کی تو فیق نصیب نہ ہو تور اہ ر است پر چلنے کا کوئی طر یقہ نہیں تب وا ضح گمر اہی اور رسوا کن بد یختی کے سوا کچھ بھی ہیں۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر ان کو خدا نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے

آیت 26 کیا یہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہوسکتے ہیں، جو اپنی گمراہی پر جما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آپہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے ؟ چہرہ تمام اعضا میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا، لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ (وقیل للظلمین) کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجر و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا : (ذوقوا ماکنتم تکسبون) ” اپنے کرتوتوں کا مزا چکھو۔ “ (کذب الذین من قبلھم) گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی (فاتھم العذاب من حیث لایشعرون) ” تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انہیں خبر ہی نہ تھی۔ “ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں، یاد دن کے وقت یا اس وقت آنازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ (فاذا قھم اللہ) ” پس اللہ نے انہیں چکھایا۔ “ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے (الخزی فی الحیوۃ الدنیا) دنیا میں رسوائی کا مزا چکھایا، چناچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہوگئے۔ (ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون) ” اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے، کاش ! وہ جان لیتے۔ “ اس لئے ان لوگوں کو اپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
Ayahs 39:27–31

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے لئے) اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کیں ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں (مختلف المزاج اور) بدخو ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے بھلا دونوں کی حالت برابر ہے ؟ (نہیں) الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ تم بھی مرجاؤ گے اور یہ بھی مرجائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا )

آیت 27 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔ “ (آیت) ” شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں “ کیونکہ ہم نے ان کے لئے اس عربی قرآن مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے۔۔۔ علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کردی ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لئے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ضرب اللہ مثلاً رجلاً ) ” اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔ “ یعنی غلام کی (فیہ شرکآء متشکسون) ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ اس کے لئے آرام کرنا ممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمہارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکا کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہوگی ؟ (ورجلاً سلما لرجل) اور ایک آدمی جو خلاص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے (ھل یستوین ) ” کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔ “ (مثلاً ) ” اس حالت میں “ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لئے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لئے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ (ھل یستوئن مثلاً الحمد للہ) ” کیا دونوں کی حالت مساوی ہوسکتی ہے ؟ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں “ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلا کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ (بل اکثرھم لایعلمون) ” لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔ “ (آیت) ” اے نبی ! ) بلا شبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں “ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ (آیت) ” دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آگئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؟ “ (آیت) ” یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمہارے درمیان متنازع ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمہارے درمیان فصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ (احصہ اللہ ونسوہ) المجادلہ :6/85” جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔ “