39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے،ا۔

1۔ (اور ان رسول کی گڑھی ہوئی نہیں) (آیت) ” العزیز الحکیم “۔ اسم عزیز کا تقاضا تو یہ تھا کہ انکار وتکذیب کرنے والوں کو سزا فورا مل جاتی، اسم حکیم کے تقاضہ نے مہلت طویل کو ممکن کردیا۔ (آیت) ” تنزیل الکتب “۔ ترکیب نحوی میں مبتدا ہے۔ اور من اللہ خبر۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کی طرف اس) کتاب کو ٹھیک ٹھیک نازل کیا ہے، سو آپ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کی عبادت کرتے رہئے،2۔

2۔ (جیسا کہ اب تک بھی کرتے رہے ہیں) (آیت) ” بالحق “۔ یعنی حکمت ومقصد کے ساتھ، یوں ہی بلامقصد نہیں۔ اور جائز ہے کہ ب کو سببیہ قرار دے کر معنی یہ کیے جائیں کہ ہم نے یہ کتاب آپ پر تائید حق کی غرض سے نازل کی ہے۔ اے انزلناہ بسبب الحق اے اثباتہ واظہارہ (روح) (آیت) ” انزلنا “۔ ابھی ابھی قرآن مجید کے لیے (آیت) ” تنزیل “ آچکا ہے، جس کے مفہوم میں تدریج داخل ہے، اور اب صیغہ انزال آگیا جس سے بظاہر دفعۃ نزول معلوم ہوتا ہے، امام رازی (رح) نے از خود سوال پیدا کرکے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جہاں انزال آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ آپ پر کتاب نازل کرنے کا حکم ایک کلی صورت میں ہوگیا، اور جہاں تنزیل ہے وہاں مراد یہ ہے کہ واقعتہ وعملا کتاب کا نزول تدریج کے ساتھ ہوا ہے۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یاد رکھو عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہے، اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں (کہ) ہم تو ان کی پرستش بس اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں،3۔ بیشک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا جس بات میں یہ باہم اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ اسے راہ پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو، ناشکرا ہو،4۔

3۔ (اور باقی ان کی عبادت کو کچھ مقصود بالذات تھوڑے ہی سمجھتے ہیں) (آیت) ” مانعبدھم ..... زلفی “۔ اس مختصر سے فقرہ کے اندر شرک کا سارا فلسفہ آگیا ہے، حضرات انبیاء کی مسلسل تعلیم وتبلیغ توحید کا اثر دنیا پر یہ پڑا ہے کہ اب کوئی بڑے سے بڑا مشرک فرقہ بھی کھلم کھلا دو یا زائد خداؤں کا قائل نہیں رہا ہے، بلکہ ہر ایک اپنے کو مشرک کہلاتے شرمانے لگا ہے اور اپنے شرک کی طرح طرح تاویل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ تو اب مشرکین کہتے کیا ہیں کہ خدائے عظیم و برتر تو بس ہمارا بھی ایک ہی ہے، لیکن بات یہ ہے کہ کائنات کے ہر ہر شعبہ حیات کا انتطام و تصرف تو الگ الگ دیوی دیوتا یاخدائے اصغر کے سپرد ہے، اور ہم تو ان دیوی دیوتاؤں کو محض ایک واسطہ یا وسیلہ اسی معبود اعظم تک رسائی کے لیے بنائے ہوئے ہیں، کچھ ہم اس کی توجہ کے منکر تھوڑے ہی ہیں۔ مسیحی ومشرکانہ عقائد کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” الاللہ الدین الخالص “۔ یعنی اور کوئی اس کی معبودیت میں شریک نہیں۔ الا للہ یفید الحصر ومعنی الحصران یثبت الحکم فی المذکوروینتفی عن غیر المذکور (کبیر) (آیت) ” والذین ..... اولیآء “۔ آیت کا مضمون ہم مسلمانون کے بہت ڈرنے کا ہے۔ پیروں، بزرگوں، اولیاء وصالحین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں (رزق دلانے میں، شفا بخشنے میں، مقدمہ جتادینے میں، وغیرہا) حاکم و متصرف سمجھ لینے کا عقیدہ ہمارے اندر بھی کس کثرت وشدت سے شائع ہوگیا ہے ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خواص باری تعالیٰ میں غیر کے لیے اثبات مطلقا مذموم ہے۔ اور اس میں مابالذات اوما بالغیر کا فرق معتبر نہیں “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ غیر اللہ کی عبادت ہر صورت حرام ہے۔ خواہ بطور توسل اور بہ گمان رضاء الہی ہی ہو۔ فقہاء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ توسل غیر اللہ اگر صرف درجہ تدبیر میں ہو تو بالکل جائز ہے، مثلا مریض کا دواپینا، یا اہل حاجت کا حکام وامراء رجوع کرنا، لیکن اگر کسی کو فاعل حقیقی، قادر، نافع وضار سمجھ کر دعا کی یا کرائی، تو یہ صریح حرام ہے۔۔ صالحین وانبیاء کرام کی تعظیم صرف انہیں طریقوں سے جائز ہے، جن پر دلائل شرعی قائم ہیں، خواہ نصاخواہ استنباطا۔ فقہائے مالکیہ نے (آیت) ” للہ الدین الخالص “ سے یہ استنباط کیا ہے کہ ہر عمل کے لیے نیت عمل واجب ہے، خصوصا وضو کے لیے (قرطبی) 4۔ (اس لیے کہ وہ یافت حق کا قصد ہی نہیں کرتا) (آیت) ” بینھم “۔ یعنی اہل توحید واہل شرک کے درمیان۔ (آیت) ” ان ..... یختلفون “۔ یہ فیصلہ یعنی عملی مشاہد فیصلہ اس صورت میں قیامت میں ہوگا کہ اہل ایمان جنت میں جگہ پائیں گے اور اہل کفر دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے، رسول اللہ ﷺ کو تسکین دی گئی ہے کہ آپ ان اہل باطل کی ہٹ دھرمی پر زیادہ غم وفکر نہ کریں انہیں قیامت کے دن پوری سزا مل کررہے گی ، (آیت) ” کذب کفار “۔ یعنی زبان پر عقیدہ باطل، اور دل سے عقیدہ کفر یہ کا قائل۔ صوفیہ نے کہا ہے کہ اس میں اس شخص کے لیے بھی تہدید نکل آئی، جو اپنے لیے ولایت کے کسی مرتبہ کا جھوٹا دعوی کرتا ہے، اور (آیت) ” لایھدی “۔ میں اس کے حرمان کی طرف اشارہ ہے، علماء محققین نے کہا ہے کہ توفیق الہی مومن راستباز کیلئے ہے نہ کہ کافر حیلہ باز کے لیے۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے،5۔ وہ اللہ واحد ہے زبردست ہے،6۔

5۔ (کہ اس کو کسی ارادہ کی ضرورت لاحق ہو) انسان کو اولاد کی ضرورت اور خواہش جن جن اغراض سے بھی ہوتی ہے حق تعالیٰ ان سب سے پاک و برتر ہے۔ 6۔ اسم الواحد “۔ میں اشارہ ہے توحید ذاتی کی طرف اور القھار میں توحید صفاتی کی جانب، اردو میں قھر اور قھار، غضب اور غضبناک کے مرادف سمجھے جاتے ہی، عربی میں (آیت) ” القھار “۔ غالب وزبردست کے معنی میں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ واقعۃ بھی ایک اور یکتا ہے، اور چونکہ کوئی اس جیسا غلبہ وقوت والا نہیں، اس لیے کسی میں صلاحت بھی اس کے شریک بننے کی نہیں۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

آسمان اور زمین اس نے حکمت سے پیدا کئے ہیں وہ رات کو لپیٹتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹتا ہے رات پر اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا،7۔ یاد رکھو وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے،8۔

7۔ آسمان، زمین، رات، دن، سورج و چاند، سب اس کے مخلوق اور سرتا سر اس کے تابع و محکوم ہیں، معبود یادیوی دیوتا بننے کی صلاحیت ان میں سے ذرہ بھر بھی کسی میں نہیں۔ مشرک قوموں نے ان سب کی پوجا کی ہے (آیت) ” بالحق “۔ متکلمین نے کہا ہے کہ یہ کارگاہ عالم بطور حقائق امور کے ہے بطور وہم وشک کے نہیں، جیسا کہ فلاسفہ سفسطائیہ کا مسلک ہے۔ 8۔ اسم عزیز کے تقاضہ سے ہر وقت ہر سزا پر قادر۔ اور اسم غفار کے تقاضہ سے ہر پچھلے کفر و طغیان کو معاف کرنے والا، بہرصورت مشرکوں کے دیویوں دیوتاؤں کی طرح معذور، مجبور، پابند کسی حال میں نہی۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا،9۔ اور تمہارے لئے اس نے چارپایوں کے آٹھ (تعداد میں) جوڑے پیدا کئے،0 ا۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر تین تین تاریکیوں میں،11۔ یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار اسی کی حکومت ہے کوئی خدا بجز اس کے نہیں، سو تو کہاں پھرے چلے جارہے ہو،12۔

9۔ یعنی حضرت حوا، زوج آد م کو پیدا کیا۔ (آیت) ” منھا “۔ یعنی اسی ذات واحد سے، (آیت) ” خلقکم من نفس واحد “۔ آیت خطاب عام نسل انسانی کو ہے، ” دانا یان فرنگ “۔ جن کی ہر دانائی پر نادانی خندہ زن ہے، مدتوں اسی میں سرگرداں رہے کہ نسل انسانی کو مورث کوئی ایک ہی ہے، یا مختلف ومتعدد ہیں، اور اب کہیں جاکر وحدت نوع کے قائل ہوئے ہیں، قرآن حکیم نے صدیوں پیشتر یہ فیصلہ ناطق سنادیا تھا کہ گورے اور کالے، مشرقی اور مغربی زرد اور سرخ سب ایک ہی مورث کی اولاد ہیں، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ نیز ملاحظہ ہو سورٗۃ النساء (پ 4) 10۔ یعنی بھیڑ اور بکری، اونٹ اور گائے کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔ 11۔ (اور ایک جھلی کے اندر رہتا ہے، جھلی رحم کے اندر ہوتی ہے، اور خود رحم شکم کے حصہ زیریں میں چھپا ہوا ہے، یہ تین تین پردے اور تاریکیاں ہوئیں، ضلع الہ آباد کے قریب کے رہنے والے ایک نامور وممتاز ہندو ڈاکٹر جن کا انتقال ابھی چند سال ہوئے ہوا ہے، خاص شہر الہ آباد میں مطب کرتے تھے، ان کے متعلق ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ وہ درپردہ مسلمان ہوگئے تھے، اور قرآن کی صداقت کے قائل اسی آیت کی بنا پر ہوگئے تھے، کہتے تھے کہ ایک امی عرب کے لیے اس گہری طبی حقیقت سے، آج سے تیرہ چودہ سو برس پہلے واقف ہوجانا ممکن تھا، (آیت) ” فی بطون “۔ بطن کے معنی پیٹ کے ہیں، یعنی اس بڑے جوف یا ظرف کے، جس میں رحم، انثیین رحم، احشاء امعاء، سب کچھ شامل ہیں، سیاق میں اس لفظ کی وسعت قابل غور ہے، تاریکیوں یا تغیرات جنین کا تعلق رحم سے ہو یا ملحقات رحم سے۔ جدید وقدیم طبی تحقیقات کے ماتحق جو کچھ بھی ہوتا ہے سب بطن ہی کے حدود کے اندر ہوتا ہے۔ (آیت) ” خلقا من بعد خلق “۔ ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت، ایک تغیر کے بعد دوسرا تغیر، جو شخص بھی جنین کے تغیرات سے واقف ہے، اس پر روشن ہے کہ نو مہینہ تک کتنے تغیرات ہر روز ہوا کرتے ہیں۔ 12۔ (اے مشرکو ! ) ( یعنی معبودیت ومالکیت، حاکمیت سب اسی کی ہے، کسی اور میں اس کی صلاحیت ہی کہاں ہے۔ (آیت) ” لاالہ الا ھو “ ‘۔ یہ جتنے تغیرات خلقت انسانی سے متعلق بیان ہوئے ان میں قطعا کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تمہارا حاجت مند نہیں،13۔ اور نہ وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا ہے، اور اگر تم لو شکر کروگے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے،14۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا تا،15۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہوگا سو وہ تم کو تمہارے (سارے) اعمال بتا دے گا بیشک وہ دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے،16۔

13۔ اس میں بھی رد ہے ایک مشرکانہ عقیدہ کا، بہت سی جاہلی قوموں کا اعتقاد رہا ہے کہ ان کے ٹھاکر اور دیوتا خود اپنے بچاریوں کی پوجا اور بھینٹ کے محتاج ہیں، اور یہ اختیار میں پجاریوں کے ہے کہ جسے چاہیں دیوتا بنالیں، اور جب جسے چاہیں اس منصب سے معزول کردیں۔ 14۔ مشیت الہی کا قانون تکوینی دوسرا ہے، یہاں بیان مرضیات الہی کے قانون تشریعی کا ہورہا ہے، بندوں ہی کے نفع ومصلحت کی خاطر حق تعالیٰ کو پسند صرف طریق ایمان ہے، طریق کفر سرتا سر ناپسند اور نامقبول ہے۔ (آیت) ” وان تشکروا “۔ مراد طریق توحید و ایمان ہے۔ 15۔ (قیامت میں) اور دنیا میں بھی کافر کا کفر کسی دوسرے تک متعدی نہیں ہوتا ہے۔ اسی کی ذات تک رہتا ہے، بیان لعدم سرایۃ کفر الکافر الی غیرہ (روح) آیت عقیدۂ کفارہ کی بھی تردید کررہی ہے، جس پر مسیحت کا دارومدار ہے۔ 16۔ (اس کے لیے تمہارے ظاہر و باطن دونوں پر اطلاع کامل کیا دشوار ہے)
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے، پھر جب اللہ اس کو اپنے پاس سے نعمت عطا کردیتا ہے تو پیشتر جس کے لئے (اس کو) پکار رہا تھا بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے جس سے وہ اللہ کی راہ سے (دوسروں کو بھی) گمراہ کرتا ہے، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے کفر کا مزہ کچھ دن اور اٹھا لے، تو دوزخیوں میں سے تو ہونے والا ہی ہے،17۔

17۔ (آیت) ” اذا مس الانسان “۔ آیت میں انسان سے مراد ناشکرگزر، کافر و مشرک قسم کا انسان ہے، کہ جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جب تو وہ اخلاص کے ساتھ توحید کا قائل ہوجاتا ہے، اور اللہ کو پکارنے لگتا ہے، اور جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے اور اس کی بجائے نعمت راحت وامن اسے مل جاتی ہے تو وہ اپنی اس تکلیف کو بھول بھال کر نہ صرف یہ کہ خود بدستور پھر گمراہی میں پڑجاتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے لگتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے مہلت چند روزہ ہے اور انجام کار دوزخ ہے۔ الظاھر ان الانسان ھنا جنس الکافر (بحر)
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا جو شخص رات کے اوقات میں سجدہ و قیام کی حالت میں عبادت کررہا ہو، آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید کررہا ہو،18۔ آپ کہیے کہ کیا علم والے اور بےعلم کہیں برابر بھی ہوتے ہیں ؟ نصیحت تو بس وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں،19۔

18۔ (کہیں ایسا شخص اور مشرک برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) مراد ایسے شخص سے ہے جس کے عقائد بھی درست ہوں، اور اعمال بھی، باطن بھی آراستہ ہو اور ظاہر بھی، عقائد میں وہ توحید اور یوم جزاء پر ایمان رکھتا ہو، اور اعمال میں یہ کیفیت ہو کہ رات جو عموما غفلت کا وقت ہوتا ہے، اس وقت بھی وہ سجود و قیام یعنی نماز و عبادت میں مشغول ہو، خلاصہ یہ کہ تمام آداب معبودیت کی ادائی کا اہتمام رکھتا ہو، بلاقصور وبلافتور ظاہر ا بھی باطنا بھی۔ (آیت) ” یحذر ..... ربہ “۔ مقام خوف پر نام صرف آخرت کا آنے، اور محل رجاء میں رب کا ذکر آنے سے محققین عارفین نے یہی سمجھا ہے کہ حضرت حق میں رجاکا پہلو خوف پر غالب رہنا چاہیے، ھذا یدل علی ان جانب الرجاء اکمل والیق بحضرۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) 19۔ (اور جو اپنی عقل وفہم کو کام ہی میں نہیں لانا چاہتے، وہ ساری حکمتوں اور دانائیوں کو سنی ان سنی کردیتے ہیں) (آیت) ” الذین یعلمون۔ والذین لایعلمون “۔ محاورۂ قرآنی میں علم سے مراد علم حقائق سے ہوتی ہے، اور بےعلمی سے مراد اسی علم سے محرومی ہے، علم سے قرآن مجید نے کہیں بھی وہ چیزیں مراد نہیں لی ہیں جنہیں دنیا میں علوم وفنون کہا جاتا ہے، (آیت) ” الذین یعلمون “۔ کا لفظ قانت اور ساجد اور قائم کے لیے آیا ہے، یعنی ان لوگوں کے لیے جو صاحب عمل ہوتے ہیں، اور اس کے مقابلہ میں جو لوگ بےعمل ہوتے ہیں، انہیں (آیت) ” الذین لایعلمون “۔ سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ عمل کی کتنی فضیلت اسلام میں ہے، اور جو لوگ صرف علم پر، بلاعمل قانع رہتے ہیں، انہیں قرآن بےعلم یا جاہل ہی قرار دیتا ہے، وھو تنبیہ علی ان من لم یعمل فھو غیرعالم (کشاف۔ کبیر) وفیہ ازدارء عظیم بالذین یقتنون العلوم ثم لا یقنتون ویفتنون فیھا ثم یفتنون بالدنیا فھو عند اللہ جھلۃ (کشاف۔ کبیر)
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے اے میرے ایمان والے بندو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو، جو لوگ اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین فراخ ہے،20۔ ثابت قدم رہنے والوں کو بھی اجر بیشمار ملے گا،21۔

20۔ (اس لیے اگر کسی خاص سرزمین میں احکام دین پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو ترک وطن کرکے کسی اور ملک میں چلے جاؤ) (آیت) ”۔ للذین ...... حسنۃ “۔ یہ صلہ نیک آخرت میں تو ملتا ہی ہے، باقی دنیا میں نیک کاروں کا تسکین و راحت خاطر کی حد تک ضرور مل جاتا ہے۔ (آیت) ” یا ...... ربکم “۔ یہ تقوی اختیار کرنے کا حکم کن کو مل رہا ہے ؟ ان کو جو پہلے ہی سے مومن ہیں۔ اور یہ خود ایک قوی دلیل ہے (معتزلہ وخوارج کے خلاف) اس حقیقت پر کہ ایمان، عدم تقوی یا فسق یا معصیت کے ساتھ جمع رہ سکتا ہے، ھذا من ادل الدلائل علی ان الایمان یبقی مع المعصیۃ (کبیر) وذلک یدل علی ان الفسق لایزیل الایمان (کبیر) 21۔ (آیت) ” انما “۔ کے کلمہ حصر سے یہ نکتہ نکالا گیا ہے کہ بلاصبر کے کوئی اجر نہیں، اور ہر اجر کے مقابلہ میں کوئی نہ کوئی درجہ صبر کا تو بہرحال ہونا چاہیے۔ اور ہر عمل عبادت میں نفس کی آزادی پر صبر و مجاہدہ کا بند کسی درجہ میں تو لگانا ہوتا ہی ہے۔ (آیت) ” الصبرون “۔ یعنی دین پر ثابت قدم رہنے والوں کو۔ ابھی ذکر ہجرت کا تھا۔ لیکن کوئی مہاجر ایسا نہیں جسے شدید صعوبتوں کے اندر سے ہو کر نہ گزرنا پڑتا ہو۔ اس لیے معاذکر انکے اجر اور اجر بےحساب کا کردیا گیا۔ والمراد الذین صبروا علی مفارقۃ اوطانھم وعشائرھم وعلی تجرع الغصص و احتمال البلایا فی طاعۃ اللہ تعالیٰ (کبیر)
Ayahs 39:11–12

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی عبادت خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں سب مسلمانوں میں اول ہوں،22۔

22۔ دو حکموں کا ذکر ہے، پہلا حکم بلاشائبہ شرک خالص توحیدی عبادتوں کا ہے، یہ حکم بحیثیت مسلم کے ملا۔ دوسرا حکم مسلمین میں سب سے اول ہونے کا بحیثیت نبی ہونے کا ملا۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو (اپنے لئے) ایک عظیم الشان دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں،23۔

23۔ یعنی یوم قیامت کے عذاب کا، پیغمبر تو معصوم ہوتے ہیں، جن سے ترک توحید کا احتمال ہی نہیں، تو جب اندیشہ عذاب ان تک کے لیے ہے تو امت کے غیر معصوموں کا ظاہر ہے کہ کیا ذکر ہے۔ (آیت) ” انی اخاف “۔ الفاظ سے یہ نکتہ بھی پیدا کیا گیا ہے کہ معصیت پر جو شے لازمی طور پر مرتب ہوتی ہے وہ اندیشہ عذاب ہے نہ کہ نفس عذاب۔ دلت الایۃ علی انالمرتب علی المعصیۃ لیس حصول العقاب بل الخوف من العقاب (کبیر)
Ayahs 39:14–15

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے میں اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنے دین کو اس کے لئے خالص رکھتا ہوں ،

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

سو تمہارا دل جس چیز کو چاہے عبادت کرو اللہ کو چھوڑ کر،24۔ آپ کہ دیجیے کہ پورے زیاں کار وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے روز خسارہ میں پڑے یاد رکھو کہ یہی صریح خسارہ ہے،25۔

24۔ (قیامت کے دن اس کا انجام آپ ہی دیکھ لو گے) ظاہر ہے کہ یہ پورا فقرہ تہدید کے لہجہ میں ہے، یہ مراد نہیں کہ مشرکوں کو اختیار دیا جارہا ہے۔ (آیت) ” مخلصا لہ دینی “۔ یعنی اسی کے حکم کے مطابق، بلاشائبہ شرک، محققین نے کہا ہے کہ اس سے وجوب عبادت واخلاص دونوں کا ثابت ہوتا ہے اخلاص بلاعبادت روح بےجسد ہے، اور عبادت بلااخلاص جسد بےروح 25۔ (کہ آخری فیصلہ کے دن خسارہ ہو۔ اور جان و متعلقین جو دنیا میں نفع و راحت وتمتع کا ذریعہ رہتے ہیں، وہ قیامت کے دن ذرا بھی یہ کام نہ دے سکیں گے) (آیت) ” الا ..... المبین “۔ یہاں خسران کی شدید تاکید ملحوظ رہے، ایک تو فقرہ کی ابتداء ہی کلمہ تنبیہ سے کی، پھر خسران کو معرفہ بناکر (آیت) ” الخسران “۔ کیا، اور پھر وصف مبین کا اضافہ کیا۔ (آیت) ” الخسرین “۔ سے مراد ہر جہتی خسران کامل اٹھانے والوں سے سمجھی گئی ہے۔ اے الکاملین فی الخسران الجامعین لوجوھہ واسبابہ (کشاف)
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لئے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی شعلے ہوں گے یہ وہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے،26۔ اے میرے بندومجھ سے ڈرو،27۔

26۔ (اور اس سے بچنے کی تدبیریں بتاتا ہے، تاکہ وہ عذاب سے بچے رہیں) ” ظلل “ کے لفظی معنی سائبان کے ہیں، سائبان کا اوپرہونا ظاہر ہے سائبان کا نیچے ہو ان اس معنی میں ہے کہ وہ اس نیچے والوں کے حق میں سائبان ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جہنم ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے۔ اوڑھنا بچھونا سب آگ کا ہوگا۔ 27۔ یعنی دین حق پر عمل کرو تاکہ ہر عذاب سے محفوظ رہو۔
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جو لوگ اس سے بچے رہتے ہیں کہ شیطان کی پرستش کریں اور اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں ان کے لئے بشارت ہے، سو آپ بشارت دے دیجیے

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

میرے انہیں بندوں کو جو (اس) کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں، پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں،28۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں جو ذی عقل ہیں،29۔

28۔ (اور اس کی سب باتیں اچھی ہی ہیں) (آیت) ” یستمعون “۔ استماع کے معنی سمجھنے کے طور پر سننے کے ہیں۔ (آیت) ” القول “۔ سے مراد کلام حق ہے۔ (آیت) ” احسنہ “۔ احسن سے یہاں مراد حسن ہے۔ (آیت) ” البشری “۔ ترکیب کلام سے معنی حصر کے پیدا ہوگئے ہیں، یعنی بشارت ایسوں ہی کے حق میں ہے۔ سب کے لیے نہیں ہے۔ اے لھم لالغیر ھم (کبیر) (آیت) ” البشری “۔ ال بھی اسی حصر کی تاکید مزید کے لیے ہے۔ ان ھذہ الماھیۃ بتمامھا لھؤلاء ولم یبق منھا نصیب لغیرھم (کبیر) (آیت) ” الطاغوت “۔ طاغوت ہر وہ ہستی ہے جو طغیان میں حد سے تجاوز کرجائے مراد یہاں شیطان یا شیاطین سے لی گئی ہے۔ فسرہ ھنا بالشیطان مجاھد ویجوز تفسیر ھا بالشیاطین جمیعا (روح) 29۔ قرآن مجید نے بار بار اہل عقل وفہم انہیں کو قرار دیا ہے جو راہ ہدایت اختیار کرتے، اور اس پر قائم رہتے ہیں، واقعہ ہے بھی یہی کہ جن لوگوں کو اپنی نجات کی فکر تک نہ ہو، اور دل میں تحقیق حق کا اہتمام ہی نہ ہو، انہیں عقل کے مبادی سے بھی بہرہ ور کی سے تسلیم کیا جائے، (آیت) ” اولئک .... اللہ “۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کوئی اپنی طرف سے حصول ہدایت کا اہتمام رکھتا ہے، اس پر راہ ہدایت ضرور کھل جاتی ہے۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس پر عذاب کی بات متحقق ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو دوزخ میں ہوگا، چھڑا سکتے ہیں ؟ ،30۔

30۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ایمان کا قصد ہی نہ کرے، اور اپنے کو اسباب ہلاکت سے بچانے کی فکر ہی نہ رکھے، اسے ایمان پر مجبور کردینا، اور اسے نقطہ ایمان پر لے آنا آپ کے امکان واختیار ہی سے خارج ہے، اور ایسے شخص پر تاسف وترددہی بےکار ہے۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کیلئے بالاخانے ہیں جن کے اوپر بنے بنائے (تیار) بالاخانے ہیں ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں (یہ) اللہ کا وعدہ ہے (اور) اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا،31۔

31۔ یہ تصریح اس لیے بھی ضروری تھی کہ مشرک قوموں میں دیوی دیوتاؤں پر ایفاء عہد مطلق واجب نہ تھا۔ (آیت) ” لکن۔ لکن۔ یہاں بطور حرف استدراک کے کسی قول سابق کی تردید کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسری بات شروع کرنے کے لیے آیا ہے، لکن لیس للاستدراک لانہ لم یات نفی بل ھو لترک قصۃ الی قصۃ مخالفۃ للاولی (قرطبی)
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اسے زمین کے سوتوں میں داخل کردیا پھر وہ اس کے ذریعہ سے کھیتیاں پیدا کرتا ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے سو تو اس کو زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اس کو چورا چورا کردیتا ہے اس (نمونہ قدرت) میں بڑی نصیحت ہے اہل عقل کیلئے،32۔

32۔ اس آغاز اور اس انجام پر انسان غور کرے تو ایک کھلا ہوا نمونہ توحیات انسانی کے آغاز و انجام کامل جاتا ہے، زندگی کے کیسے کیسے دورگزرتے رہیں، لیکن سب کا انجام وحاصل فنا، آخر فنا ! یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ان میں ایک ایک تغیر کتنی حکمتوں کا نتیجہ ہوتا ہے، اور پھر آخری تغیر کتنی زبردست حکمت اور کاریگری پر دلیل ہے۔ (آیت) ” السمآء “۔ سابق کے حاشیوں میں کئی بار یہ امر صاف کیا جاچکا ہے، کہ (آیت) ” السمآء کی وسعت مفہوم کا کوئی لفظ اردو میں موجود نہیں، بارش کے سلسلہ میں جہاں جہاں یہ لفظ قرآن میں آیا ہے، بےتکلف معنی بادل کے لیے جاسکتے ہیں۔ سماء عربی میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے اوپر واقع ہو، یہاں تک کہ مکان کی چھت بھی۔ (آیت) ” مآء ..... الارض “۔ یہ پانی وہی ہے جو کنوؤں اور چشموں کے ذریعہ سے انسان کے کام میں آتا ہے۔ (آیت) ” حطاما “۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہماری زبان میں بھوسا کہتے ہیں۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کیلئے کھول دیا، اور وہ اپنے پروردگار کے نور پر چل رہا ہے ( کیا ایسا شخص اور اہل قساوت برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) سو بڑی خرابی ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں،33۔

33۔ پہلا شخص وہ ہے جو ہدایت کے مقتضی پر چل رہا ہے، اور یقین صحیح پیدا کرکے اس کے مطابق عمل کررہا ہے، دوسرا وہ ہے جو کھلے ہوئے دلائل و شواہد کے باوجود ایمان نہیں لاتا اور اس سے بڑھ کر اس کے قساوت قلب کی مثال اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” افمن ...... ربہ “۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ صحابی کی روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی تو ہم نے عرض کی، کہ یارسول اللہ ! یہ شرح صدر کیونکر ہوتا ہے ؟ فرمایا جب دل میں نور داخل ہو، عرض کی کیا علامت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ دارالخلودیا باقی کی طرف رغبت و استقامت، اور دارالغرور یافانی کی طرف سے بےالتفاتی اور موت کی طرف آمادگی، (معالم) (آیت) ” فویل “۔ اس سے بڑی خرابی کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ (آیت) ” للقسیۃ قلوبھم “۔ یہ قساوت قلب، شرح صدر کے مقابلہ میں آئی ہے، رقت قلب کی طبعی کمی یا فقدان کو اس سے کوئی تعلق نہیں، شرح صدر کے جو خصوصیات بتائے گئے اس قساوت میں اس کے برعکس پیدا ہوجاتے ہیں، محققین نے آیت کے مضمون سے دو نکتے اور پیدا کیے ہیں، ایک یہ کہ ہر مومن کسی درجہ میں بھی سہی، بہرحال صاحب معرفت ونور ہے، دوسرے یہ کہ جس اسلام سے معرفت ونورانیت پیدا ہوتی ہے، وہ، وہ ہے جو شرح صدر یعنی رغبت تام اور یقین کامل کے ساتھ ہو، نہ وہ جو منافقت یا جبر یا وہم و عادت کا ثمرہ ہے۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک کتاب باہم ملتی جلتی ہوئی اور بار بار دہرائی ہوئی،34۔ اور اس سے ان لوگوں کی جلد جو اپنے پرور دگا رسے ڈرتے ہیں، کانپ اٹھتی ہے پھر ان کی جلد اور ان کے قلب اللہ کے ذکر کے لئے نرم ہوجاتے ہیں،35۔ یہ اللہ کی (طرف سے آئی ہوئی) ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت کردیتا ہے، اور اللہ جسے بےراہ کردے اس کے لئے ہادی کوئی نہیں،36۔

34۔ (آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث “۔ اس میں اس دعوے کا اثبات ہے کہ قرآن مجید بہترین کلام ہے کوئی دوسرا کلام اس کی ٹکر کا نہیں، نہ باعتبار لفظ و عبارت، نہ بلحاظ معنی ومفہوم۔ (آیت) ” کتبا “۔ اس کلام کا نزول گوبتدریج کہیں 22۔ 23 سال میں ہوا، تاہم اس پر اطلاق ایک کتاب ہی کا رہا۔ (آیت) ” متشابہا “۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت، اجر، برکت معنویت کے لحاظ سے یہ کلام شروع سے آخر تک یک رنگ اور آپس میں ہم رنگ ہے۔ (آیت) ” مثانی “۔ اس کے اندر احکام واخبار، مسائل و حکایات بار بار تکرار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں کہ کسی کو عذر قصور فہم وسمع کا نہ رہے۔ 35۔ یعنی وہ کتاب اللہ پر عمل کرنے لگتے ہیں اور اعمال قلب و اعمال جو راح میں خشوع وانقیاد کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” تقشعر ...... ربھم “۔ محققین نے تصریح کردی ہے کہ یہ مطلق خوف سے کنایہ ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ خوف کے آثار جسم پر بھی اس طرح نمایاں ہونے لگیں۔ محض عقلی و ایمانی خوف کافی ہے۔ امام غزالی (رح) نے اپنی مشہور محققانہ کتاب احیاء علوم الدین میں لکھا ہے، کہ بہت سے صوفیہ ایسے ہیں جن پر شاعروں کا کلام سن کر وجد طاری ہوجاتا ہے، اور قرآن مجید کی آیتوں سے نہیں ہوتا، اور اس کے بعد ان لوگوں کی اس کیفیت کی مختلف توجیہات کی ہیں۔ امام رازی (رح) اس جانب اشارہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ : وانا اقول ان خلقت محروما عن ھذا المعنی فانی کلما تاملت فی اسرار القران اقشعر جلدی ووقف شعری وحصلت فی قلبی دھشۃ وروعۃ وکلما سمعت تلک الاشعار غلب الھزل علی وما وجدت البتتۃ فی نفس منھا اثر واظن ان منھج القویم وصراط المستقیم ھو ھذا (کبیر) لیکن میں کہتا ہوں کہ میں تو اس تاثر سے خلقۃ محروم ہوں، میں نے تو جب جب مطالب قرآنی پر غور و تدبر سے کام لیا، جبھی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور دل کے اندر خشیت وہیبت ہی پیدا ہوگئی اور جب شاعروں کا کلام سنا تو دل اچاٹ ہوگیا اور طبیعت ذر امتاثر نہ ہوئی اور میں سمجھتا ہوں کہ صراط مستقیم اسی (قرآن) کا نام ہے۔ 36۔ یعنی حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی پر غالب اور اس پر حاکم اور کوئی قانون نہیں۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ “۔ اوپر کئی بار گزر چکا کہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب صرف تکوینی حیثیت سے، یابحیثیت علت العلل (مسبب الاسباب) ہی ہوتی ہے، ہدایت یاب اور گمراہ دونوں کی مثالیں ابھی اوپر کی آیتوں میں گزر چکی ہیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن عذاب سخت کو اپنے چہرہ پر لے گا، اور (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (تو کیا ایسا شخص اور جو ایسا نہ ہو برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) ،37۔

37۔ پورے پورے جملوں اور عبارتوں کا محذوف ومقدررہنا عربی اسلوب انشاء میں منافی بلاغت نہیں بلکہ اپنے موقع پر داخل حسن و کمال انشاء ہے۔
Ayah 39:25

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان کے قبل والوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آپڑا کہ ان کو گمان بھی نہ تھا،38۔

38۔ (سو اگر عذاب ابھی نہیں آیا ہے، تو یہ کافر ومنکر بےفکر نہ ہوجائیں، اگلی قوموں پر بھی عذاب جب آیا ہے ان کے گمان وزعم کے خلاف ہی آیا ہے)
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

سو اللہ نے انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو اور سخت ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے،39۔

39۔ آخرت کے معمولی اور ہلکے سے عذاب کا بھی دینا کے بڑے سے بڑے عذاب سے کیا مقابلہ ! وہ تو اس سے کہیں شدید تر ہوگا۔ کاش یہ منکرین اس کا کچھ سرسری سا اندازہ بھی رکھیں ! (آیت) ” الخزی ...... الدنیا “۔ یعنی وہ قومیں یا تو جہاد میں اہل ایمان کے ہاتھوں مغلوب ومنہزم ہوئیں، یا اور کسی عذاب ناگہانی سے ہلاک ہوگئیں۔
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے لئے ہر قسم کے مضمون بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کرتے رہیں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

قرآن واضح جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ لوگ ڈرتے رہیں،40۔

40۔ (ہر نافرمانی سے) (آیت) ” قرانا “۔ یہاں پہلا وصف القران کا یہ بیان ہوا کہ وہ ایک پڑھی جانے والی چیز ہے، چناچہ قیامت تک مسجدوں میں پڑھا جائے گا، محرابوں میں سنایا جائے گا، گھروں میں اور مدرسوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہے گی، معتقدوں کا نہیں منکروں کا بیان ہے، کہ ” قرآن “ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکامقالہ قرآن، طبع یازدہم) (آیت) ” عریبا “۔ یعنی فصیح وبلیغ واضح، والمراد انہ اعجز الفصحاء والبلغاء عن معارفتہ (کبیر) (آیت) ” غیر ذی عوج “۔ یعنی جس کے اندر کجی کسی طرح کی بھی نہیں، نہ لفظی نہ معنوی۔ یہ قرآن مجید کا تیسرا وصف بیان ہوا۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی ساجھی ہیں آپس میں باہم ضد رکھنے والے اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ہی ایک شخص کی (ملک) ہے تو کیا دونوں کی حالت یکساں ہے ؟ ،41۔ الحمد للہ مگر ہے یہ کہ ان میں سے اکثر سمجھتے ہی نہیں،42۔

41۔ (ظاہر ہے کہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے) مومن مخلص ساری فکروں کو چھوڑ چھاڑ صرف ایک سے لو لگائے رہتا ہے۔ مثال کے ذریعہ سے بندۂ مومن و مشرک کے درمیان تقابل اور ان کے فرق کو واضح کرنا ہے۔ (آیت) ” رجلا ......... متشکسون “۔ ایسا شخص ایک تو غلام و محکوم، اپنے ہر ارادہ سے محروم، اور پھر مالک ایک نہیں متعدد۔ غلام حیران ومتردد کہ کس کا کہا مانوں، کس کا نہ مانوں۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اللہ سے غافل ملحد و مشرک دنیا میں سخت ترین کشاکش میں گرفتار رہا کرتا ہے۔ (آیت) ” رجلا سلما لرجل “۔ مومن مخلص ساری فکروں کو چھوڑ چھاڑ صرف ایک سے لو لگائے رہتا ہے۔ ع : جو غم ہوا اسے غم جاناں بنادیا :۔ 42۔ قرآن مجید مشرکوں کی اس بدفہمی پر (جو مخض غفلت وبے غوری سے پیدا ہوتی ہے) بار بار تاسف کرتا ہے کہ شرک و توحید کے درمیان، انسان کے اپنے ذہنی اعتبار سے بھی جو زمین و آسمان کا فرق ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔
Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تم (دونوں فریق) اپنے پروردگار کے روبرو مقدمہ پیش کرو گے،43۔

43۔ (اور وہ دن عملی فیصلہ کے صدور وظہورکا ہوگا) یہاں رسول اللہ ﷺ کو تشفی دی ہے کہ آپ زیادہ غم وتردد کو راہ نہ دیں۔ آپ کو بھی دنیا سے گزر کر اپنے رب تک پہنچنا ہے اور ان منکرین کو بھی یہیں آنا ہے، یہ خود آکر اپنے کیے کو بھگت لیں گے۔ (آیت) ” انک میت “۔ خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ لیکن جو حکم یہاں بیان ہوا ہے وہ امت کے لیے بھی عام ہے۔ والضمیر فی انک خطاب للرسول وتدخل معہ امتہ فی ذلک (بحر) ضمنا موافق و مخالف، دوست، دشمن سب کو یہ تعلیم مل گئی کہ نبی مرسل غیر فانی وفنا پذیر ہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” تختصمون “۔ یہ جھگڑنے والے اور استغاثہ لانے والے کون لوگ ہوں گے ؟ مومن و کافر بھی ہوں گے اور ظالم ومظلوم بھی۔ یعنی تخاصم الکافر والمومن والظالم والمظلوم (قرطبی) بحمداللہ آج جمعہ یکم ذی الحجہ 1366 ؁ ھ (مطابق 17۔ اکتوبر 1947 ء۔ ) کو تیئیسویں پارہ کی نظر ثانی سے فراغت ہوئی، اور آج چہار شنبہ 7۔ رجب 1369 ؁ھ 26۔ اپریل 1950 ء ؁ کو نظر ثالث سے۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر بےانصاف کون ہے جو اللہ پر جھوٹ لگائے اور سچی بات کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس پہنچے، کیا (ایسے) کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا ؟ ،44۔

44۔ (یعنی ضرور ہوگا) استفہام انکاری سے اثبات قطعی کے معنی پیدا کرنا انگریزی اور اردو اور فارسی کی طرح عربی میں بھی عام ہے۔ (آیت) ” فمن “۔یعنی جبکہ فیصلہ یہی ہونا ہے کہ اہل کفر کو جہنم نصیب ہو اور اہل ایمان کو اجر ونجات۔ (آیت) ” کذب علی اللہ “۔ اللہ پر جھوٹ لگانا یہی ہے کہ اس کی صفت تفرد کا انکار کرکے کسی کو اس کا شریک قرار دیاجائے۔ (آیت) ” الذین جآء بالصدق “۔ الصدق یعنی پیغام حق۔ یہاں مراد قرآن ہے اور اس کے لانے والے رسول اللہ ﷺ تھے۔ قال مجاھد وقتادۃ والربیع بن انس وابن زید ھو الرسول (ابن کثیر) قال ابن عباس ؓ یعنی رسول اللہ (معالم) (آیت) ” کذب ........ جآء ہ “۔ پیام حق پہنچنے کا ذریعہ خود رسول یا ان کے کوئی نائب ہی ہوتے ہیں۔ بعض اکابر نے کہا ہے کہ آیت اپنے عموم لفظ سے ان لوگوں کو بھی شامل ہے، جو دعوئے ولایت میں کاذب ہیں، اور شریعت کو پس پشت ڈال کر اسے محض قشر بتاتے ہیں۔
Ayahs 39:33–34

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور (خود بھی) اس کو سچ جانا تو یہی لوگ تو پرہیزگار ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس سب کچھ ہے، یہ صلہ ہے اہل اخلاص کا،45۔

45۔ جنت کی نعمتیں بےشمار، اور لامتناہی ہیں۔ یہاں حیرت انگیزایجاز و جامعیت کے ساتھ بیان کردیا کہ اہل جنت کو وہ سب کچھ مل جائے گا، جو وہ چاہیں گے۔ (آیت) ” الذی ...... بہ “۔ یعنی رسول اور انکے متبعین۔ الذی جاء بالصدق الانبیاء والذی صدق بہ الاتباع (کبیر)
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان سے انکے عمل کی برائیوں کو دور کردے اور ان کے عمل کی نیکیوں کا انہیں (پورا) اجر دے،46۔

46۔ (آیت) ” اسوا الذی عملوا “۔ اہل اخلاص کو اجر کا پورا پورا ملنا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن یہاں تصریح ایک دوسری چیز کی بھی ہے۔ (یعنی ان کی تکفیر ذنوب کی ..... گویا اہل اخلاص (محسنین) بھی ذنوب ومعاصی سے خالی نہ ہوں گے۔ اس میں رد نکل آیا ایک طرف تو ان غالی صوفیہ ومشائخ کا جو اولیاء وصالحین کو ذنوب ومعاصی سے ماوراء ومنزہ، سمجھنے لگتے ہیں اور دوسری طرف ان خارجی اور نیم خارجی فرقوں کا جو زلات ومعاصی کی بناء پر مومنین کو دائرہ ایمان سے خارج کردیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” ویجزیھم ....... یعملوں “۔ مقاتل بن سلیمان نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ انہیں محاسن کا معاوضہ ملے گا، سیئات کی سزا نہ ملے گی، قال مقاتل لیجزیھم بالمحاسن اعمالھم ولا یجزیھم بالمساوی (کبیر۔ معالم) لیکن امام رازی (رح) نے اس قول کو یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ مقاتل تو فرقہ مرجۂ کا سردار تھا، جن کے نزدیک جس طرح کافر کو کوئی طاعت نفع نہ پہنچائے گی، مومن کو بھی کوئی معصیت مضر نہ ہوگی، واعلم ان مقاتلا کان شیخ المرجءۃ وھم الذین یقولون لایضرشیء من المعاصی مع الایمان کما لاینفع من الطاعات مع الکفر (کبیر)
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندۂ (خاص) کے لیے کافی نہیں ؟ اور یہ لوگ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے علاوہ ہیں،47۔ اور جسے اللہ گمراہ کردئے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

47۔ مشرکین عرب کے کمال حمق کا بیان ہے۔ اللہ کے نام سے ایک معبود اعظم کے وہ بھی قائل تھے۔ باوجود اس کے رسول اللہ ﷺ کو اپنے گڑھے ہوئے دیوی دیوتاؤں کے قہر وغضب وانتقام سے ڈراتے تھے۔ ان دیوتاؤں کا اولا تو وجود ہی فرضی ووہمی اور پھر اگر حقیقی بھی ہو تو خود انہیں لوگوں کے مسلمات کے لحاظ سے یہ خدائے اعظم کے مقابلہ میں تو پست اور ہیچ ہی تھے۔ آیت کا مفہوم وسیع تر بھی ہے۔ اہل حق کو اہل باطل طرح طرح پر دھمکیاں دیتے آئے اور ڈراتے آئے ہیں، کبھی اپنے دیوی دیوتاؤں سے ڈراتے ہیں اور کہیں دنیوی حکومت وقوت سے۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے کہ کائنات کی ہر ممکن مخالفانہ قوت سے دفاع کے لئے حق تعالیٰ خود بالکل کافی ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ عبد سے مراد جیسا کہ سیاق کلام سے بالکل ظاہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جو خدائے قادر و توانا اپنے پر بندہ کی حفاظت کے لئے کافی ہے کیا اس بندۂ خاص کی حفاظت کے لئے کافی نہ ہوتا ؟
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت دیا سے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں،48۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام پر قادر نہیں ؟ ،49۔

48۔ ہدایت وضلالت اپنے اسباب قریب وظاہری کے لحاظ سے بندہ کے افعال اختیاری میں ہیں۔ اور اسی لئے ان ثواب و عذاب بھی مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے اسباب بعید و حقیقی کے لحاظ سے تمامتر مشیت تکوینی الہی کے ماتحت ہیں اور اسی لئے ان کا انتساب مسبب الاسباب اور علت العلل کی حیثیت سے حق تعالیٰ کی جانب بھی درست ہے۔..... اور ان حواشی میں اس کی صراحت کئی بار کی جاچکی ہے۔ 49۔ کیوں نہیں، قادر ہے اور ضرور قادر ہے۔ اسلام کا خدا اپنے ہر ارادہ پر پوری طرح قادر، متصرف، حاکم ہے، بعض جاہلی مذہبوں کے دیوتاؤں کی طرح معذور بےبس نہیں۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے، آپ کہہ دیجئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جنہیں پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی (دی ہوئی) تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر عنایت کرنا چاہے تو یہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں ؟ ،50۔ آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے تو اللہ کافی ہے توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں،51۔

50۔ بعض جاہلی مذاہب ایک خالق کائنات کے تو مقرومعترف ہیں، لیکن ساتھ ہی کائنات میں دخل، تصرف و حکومت کیلئے دوسرے دوسرے دیوی دیوتا بھی مان رکھے ہیں، پانی فلاں دیوتا برساتے ہیں، دولت فلاں دیوی دلواتی ہیں، وقس علی ہذا ...... مشرکین قریش کا مذہب بھی اسی قسم کا شرک تھا۔ قرآن مجید نے انکے اسی مسلمہ اول کو بار بار یاددلا کر اور توحید کے مطالبات ومضمرات کو ان پر واضح کرکے ان پر جرح کی ہے۔ 51۔ (جس کے بعد تمہاری اور تمہارے بتوں کی مخالفت کی کچھ پروا باقی نہیں رہ جاتی) (آیت) ” حسبی اللہ “۔ جب خدا پر تکیہ کرلیا تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے ماتحت کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں۔ اب کسی کی طرف سے کھٹکا نہ رہا۔
Ayahs 39:39–40

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ اے میری قوم والو تم اپنی حالت پر عمل کئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں سو عنقریب تم جان لوگے

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کوئی شخص ہے جس پر اسے رسوا کرنے والا عذاب آیا چاہتا ہے، اور جس پر عذاب مستقل نازل ہوگا،52۔

52۔ یعنی جب تم اپنا طریقہ نہیں چھوڑتے، میں بھی اپنا طریقہ نہیں چھوڑتا، تم اپنے طریق پر عمل کیے جاؤ، میں اپنے طریق پر۔ عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے، کہ بدراہ اور مستحق عذاب کون سا فریق ہے۔ (آیت) ” من ....... یخزیہ “۔ مراد عذاب دنیوی ہے۔ چناچہ یہ عذاب مشرکین مکہ پر فتح بدر کی صورت میں نازل ہوا۔ (آیت) ” و ...... مقیم “۔ ؛ مراد عذاب آخرت ہے۔