39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsسراج البیان

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جہ غالب حکمتوں والا ہے

Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

ہم نے تیری طرف سچائی سے کتاب نازل کی ہے پس تو ایسے خدا کی عبادت کر کہ خالص اسی کی عبادت ہو سنتا ہے ۔

Ayahs 39:3–4

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہے اور جنہوں نے اس کے سوا حمائتی پکڑے ہیں کہ ہم انہیں صرف اس لئے پوجتے ہیں کہ وہ ہمیں درجہ (قرب) میں اللہ کے نزدیک کردیں ۔ بیشک اللہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن میں وہ جھگڑ رہے ہیں فیصلہ کریگا ۔ بیشک اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں کرتا جو جھوٹا ناحق شناس (ف 1) ہو

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا کہ اولاداختیار کرے تو جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے جس چیز کو اللہ چاہتا چن لیتا ۔ وہی اللہ ہے اکیلا زبردست

قرآن کا مرکزی پیغام 1: حق کے ساتھ کتاب کو نازل فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب جلیل میں اور قانون عقل وخرد میں پورا پورا مطابق ہے ۔ اس صحیفہ عظیم میں اور فطرت کے قوانین میں کامل توافق ہے اور اسی طرح اس میں اور اصلاحی وروحانی مصالح میں بھی پوری مناسبت ہے ، یعنی اس کے پیش کردہ تصورات میں کوئی ایسا تصور نہیں جسے آپ فطرت کے منافی کہہ سکیں ، اور اسی طرح اس میں یہ عجیب بات ہے کہ اس کی تعلیمات میں روحی اصلاح کا پور پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ تمام مصالح اور مطالع کو سامنے رکھ کر انسان کے لئے ایسا جامع پیغام پیش کیا گیا ہے جو اس کی قدرتی ساخت اور خواہشات کے بالکل مطابق ہے حق کے معنی عربی میں کسی چیز کے موافق اور مطابق ہونے کے ہیں ۔ اس لحاظ سے انزال بالحق سے مرادیہی ہے ۔ کہ وہ تمام چیزیں جن کی کتاب اللہ ہونے کے لئے ضرورت ہے اور جو کتاب اللہ کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ یہ کتاب ان کی حال ہے ۔ اس کا مرکزی پیغام یہ ہے ۔ کہ انسان جہاں تک جذبہ اطاعت وفرمانبرداری کا تعلق ہے ۔ اور عبادت ونیاز مندی کا واسطہ ہے ۔ صرف اللہ کے سامنے جھکے اور صرف اسی کے سامنے اپنے ذہنی اور جسمانی لذلل واحتقار کا اظہار کرے ۔ اس کے سوا معبودان باطل کو کوئی اہمیت نہ دے ۔ بلکہ سب کے مقابلہ میں اپنے ذاتی شرف ومجد کا دلیری کے ساتھ اظہار کرے ۔ اسلام انسان میں جذبہ خودداری پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ پوری دماغی اور بہ فکری آزادی کی فضا میں تربیت پائے اس کے ارادوں میں بجز اللہ کے اور کوئی حائل نہ ہو ۔ وہ خیالات کے لحاظ سے صرف کتاب اللہ کا تابع ہو اس کے اعضاء وجوارح میں بھی یہ صلاحیت پیدا ہوجائے ۔ کہ وہ جھوٹ اور باطل کے مقابلہ میں کامل مخالفت کا اظہار کریں تو ان کا ارشاد ہے ۔ کہ عبادیت خالصہ اور سچی عقیدت مندی صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور جو لوگ اسکو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنالیتے ہیں اور ان کے آستانہ پر جھکتے ہیں ۔ اور یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ۔ بلکہ ان کو اللہ کا ذریعہ تقرب سمجھتے ہیں وہ مکار اور جھوٹے ہیں حل لغات :۔ بلعلمین ۔ تمام کائنات کے لئے ہر وقت اور ہر قوم کے لئے عالم کا غلط اتنی وسعت رکھتا ہے ۔ کہ زمان ومکان کی تمام چیزیں آجاتی ہیں الطاین ۔ اعتقاد و عبادت زلفی قریب
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کو ٹھیک پیدا کیا ۔ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ۔ ہر ایک وقت (ف 1) مقررہ تک چلتا ہے ۔ سنتا ہے وہی ہے زبردست گناہ بخشنے (ف 2) والا

ف 1: اللہ تعالیٰ قیامت میں ان لوگوں کو بتائیں گے کہ شرک سے ان میں کس درجہ پستیاں اور ذلتیں آگئی ہیں ۔ اور کس درجہ لوگ اللہ کی رحمتوں سے دور ہوگئے ہیں ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ ان کو محسوس ہوگا کہ جن معبودان باطل کو یہ اللہ کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے تھے وہ خود اللہ کے مصوب ہیں اور اس کی نگاہ غضب کا شکارا ۔ اس وقت ان کی آنکھوں سے حجاب دور ہوجائے گا ۔ اور حقیقت کو واضح طور پر اپنے سامنے دیکھیں گے ۔ 2: خالق السموت والارض بالحق سے مراد یہ ہے کہ دنیا کو یونہی بلا کسی مقصد متعین کے پیدا نہیں کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ماونین سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس کے پیدا کرنے سے ایک غرض مدنظر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان زمین میں اللہ کی نیابت کا اظہار کرے ۔ اور اپنے افعال و اعمال سے ثابت کردے ۔ کہ وہ رب السموات والارض سے تعلق ارادت رکھتا ہے اور احکم الحاکمین کا بندہ اور غلام ہے ۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

تمہیں ایک جی سے پیدا کیا ۔ پھر اس سے اس کا ایک جوڑا بنایا ۔ اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے اتا رہے ۔ تمہاری ماؤں کے پٹیوں میں تمہیں پیدا کرتا ہے ۔ پیدائش کے بعد پیدائش ۔ تین تاریکیوں (ف 3) میں ۔ یہی اللہ ہے ۔ جو تمہارا رب ہے ، اسی کی سلطنت سے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ پس تم کہاں سے پھیرے جاتے ہو

تمہارا رب کون ہے ؟ 3: اگر انسان صرف اس حقیقت پر فکر ونظر کو مرکوز رکھے ۔ کہ اللہ نے تخلیق کے بالکل ابتدائی دور میں جب اپنی ربوبیت سے ہمیں کامل طور پر نوازا ہے ۔ اور اس وقت ہمارا خیال رکھا ہے ۔ جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے ۔ یعنی فی ظلمت ثلث کے جب ہم مصداق تھے ۔ ہمیں غذا پہنچائی ہے ۔ ہمیں ضروری روشنی اور پاکیزہ ہوا سے بہرہ مند کیا ہے ۔ تو کیا جب ہم میں توانائی آگئی ہے ۔ اور قدرے کسب حصول پر قادر ہوگئے ہیں ۔ تو وہ ہم کو چھوڑدیگا ؟ جب ان نازک وقتوں میں کسی معبود نے کسی بت اور کسی شیخ اور بزرگ نے ہماری مدد نہیں کی ۔ تو اب ہم جبکہ سمجھ بوجھ کے مالک ہوگئے ہیں ۔ ان کے کس طرح محتاج ہوگئے ہیں ؟ قرآن کہتا ہے کہ یہ بالکل سادہ سی بات ہے ۔ اس کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ جس خدا نے تمہیں خلعت وجود بخشا ہے ۔ جس نے ہمیشہ تمہاری ضروریات کا بلاطلب خیال رکھا ہے ۔ اور جو یکہ وہ تنہا تمہاری ہر طرح تربیت کرتا رہا ہے ۔ وہی حقیقی معبود ہے ۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور اس کے لئے عبادت و نیاز مندی کے جذبات وقف ہیں تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ اور شرک وبت پرستی کے جنگلوں میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو حل لغات : کل یجری : عرب لسانی ہے ، حقیقت واقعہ کا اظہار ہے ۔
Ayahs 39:7–9

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم منکر ہوگے تو اللہ تمہاری پرواہ نہیں رکھتا اور اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا اور جو تم شکر کرو گے تو اسے تمہارے لئے پسند کریگا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ۔ پھر تم کو تمہارے رب کی طرف پھرجانا ہے ۔ پس وہ تمہیں بتائیگا ۔ جو تم کرتے تھے ۔ بیشک وہ سینوں (ف 1) کی چھپی باتوں سے واقف ہے

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب آدمی کو رنج پہنچے تو اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع ہوکر پکارتا ہے ۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے نعمت بخشتا ہے تو جس مطلب کی طرف پہلے اسے پکارتا تھا ۔ اس مطلب کو بھول جانا ہے ۔ اور اللہ کے لئے شریک ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے اوروں کو بھی بہکائے تو کہہ تھوڑے دنوں اپنے کفر کے ساتھ فائدہ اٹھالے (اخیر) تو تو دوزخی ہے

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا کیا وہ جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے سجدہ کرتا اور کھڑا رہتا ہے ۔ آخرت کا خطرہ رکھتا ہے ۔ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے ۔ (نافرمان کی برابر ہوجائیگا) تو کہہ کیا کہیں برابر ہوتے ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ؟ وہی سوچتے ہیں جنہیں عقل ہے

اللہ کو کفر پسند نہیں ہے 1: یعنی اللہ کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے اظہار عقیدت سے اس کی عظمت و رفعت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بجائے خود اس جلالت قدر کا مالک ہے ۔ جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی ۔ تمام دنیا اس کا انکار کردے ۔ اس کی مخالفت کرے ۔ اور اس کو جو چاہے کہے ۔ وہ جب بھی بیشمار حمدوستائش کا اہل ہے ۔ اور بہرحال متعال اور بزرگ ومحترم ہے ۔ اس کی بلندیاں انسانی مدح وتعریف پر مبنی نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو اس لئے رب عظمت وشان ہے کہ ساری کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اور تمام صفات حسن و جمال سے وہ ازل سے متصف ہے ہاں اگر تم ایمان کی نعمت کو قبول کروگے اور اس کے سامنے جھکو گے ۔ تو اس میں تمہاری روح کی بالیدگی کا سامان ہے ۔ اس سے خود تم پاکیزگی اور تقویٰ کی متاع گرانما یہ کو حاصل کرلو ۔ وہ گو تمہارے اعمال سے بالکل بےنیاز ہے ۔ تاہم وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے کفر کا ارتکاب کریں ۔ اور اس طرح اس کی رحمتوں سے دور ہوجائیں ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ وہ پیغمبر بھیجتا ہے ۔ کتابیں ارسال کرتا ہے ۔ اور معجزات وخوارق کے مشاہدہ کا موقع بہم پہنچاتا ہے ۔ تاکہ اتمام حجت ہو ۔ اور کفر کے لئے کوئی عذر ہو تو باقی نہ رہ جائے ۔ ورنہ یہ کافی تھا کہ وہ عقل وخرد کی راہنمائی میں انسان کو آزاد چھوڑدیتا ہے ۔ اور ان پر کوئی پابندی عائد نہ کرتا ۔ اس میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ اس وقت فطرت کی آواز کو سنتا ہے ۔ جب چاروں طرف سے مصیبتیں اس کو گھیر لیتی ہیں ۔ اور یہ اس وقت خدا کے سامنے جھکتا ہے ۔ جب دوسرے معبود ان باطل سے اس کا رشتہ امید کٹ جاتا ہے ۔ پھر جب اللہ اس کی تنگدستی کو ہر نعمت سے بدل دیتا ہے ۔ اور یہ آرام وآسودگی کو حاصل کرلیتا ہے ۔ تو پھر آنکھیں پھیر لیتا ہے ۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتا ہے ۔ یہ مسلمان کی تصویر کھینچی ہے ۔ کہ وہ کیونکر رات کو اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ ہر وقت عقبیٰ اور آخرت کا خوف ان کے دل پر طاری ہوتا ہے ۔ یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے امیدوار ہیں اور صاحب علم و دانش ہیں ۔ کیا یہ لوگ اور وہ جو مادی خواہشات میں منہمک ہیں ۔ اور دن رات لہو ولعب میں مشغول ہیں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ حل لغات :۔ ولاتزر ۔ والخ یعنی کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا ۔ یعنی کوئی نفس یہ صلاحیت نہیں رکھتا ۔ کہ دوسرے کے گناہوں کو اپنے ذمہ ڈال لے خولہ ۔ تخویل سے مشقق ہے ۔ کسی شخص کو ازراہ کرم کچھ عطا کرنا اناء الیل ۔ اوقات شب ۔
Ayahs 39:10–11

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

تو کہہ اسے میرے ایماندار بندو اپنے رب سے ڈرو ۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کے لئے (ہی) نیکی ہے اور اللہ کی زمین چوڑی ہے ۔ صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بےحساب (ف 1) ملتا ہے

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

تو کہہ مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اللہ کی اس طرح کی عبادت کروں کہ نری اسی کی عبادت ہو

وطن اور مسلمان 1: اسلامی نقطہ نگاہ سے ملک اور وطن دراصل کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اسلام جس چیز کو زیادہ قابل اعتقاد سمجھتا ہے ۔ وہ عقیدہ ہے اور زندگی کا وہ تصور ہے جو فلاح وسعادت کا ضامن ہے ۔ کیونکہ وطنیت اور قومیت سے جغرافیائی اور نسلی امتیاز وغیرہ پیدا ہوتا ہے اور امن عالم کے لئے اس سے زیادہ کوئی چیز خطرہ کا باعث نہیں ہے ۔ کہ انسانوں کا کوئی گروہ اس غیر حقیقی تغیرات میں الجھ کر عناد وتعصب کا موجب پہنچائے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ عقیدے کی حمایت میں ہر مصیبت کو برداشت کیا جائے ۔ حتیٰ کہ وطن کی آسائش اور اسودگیاں بھی اس وقت کے اعلان پر پابندیاں عائد کردی جائیں ۔ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ساری دنیا کے باشندے تمہارے بھائی ہیں ۔ اگر وہ تمہارے مذہب میں کوئی مزاحمت نہیں کرتے ۔ تم زمین کے کسی گوشہ میں جاکر آبادہ ہوجاؤ۔ مگر اپنے مذہب اور کلچر کی حفاظت کرو ۔ اور اگر تمہارے ملک میں اور تمہاری اپنی حکومت میں بھی تمہارے عقائد خطرہ میں ہیں ۔ تو پھر یہ حکومت اور یہ زمین یک قلم چھوڑ دینے کے لائق ہے ۔ اس سے یہ مقصود نہیں ہے ۔ کہ مسلمانوں کو اپنے وطن سے محبت نہیں ہوتی یا ان کے نزدیک وطن کی خدمت کرنا گناہ ہے ۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے ۔ کہ وطن کی خدمت بدرجہ ثانوی ہے ۔ اول درجے میں انسانیت ہے ۔ اور ایک وسیع وحدت ہے جس کا وجود کائنات کے لئے خیروبرکت کا باعث ہے مسلمان جب یہ دیکھے کہ اس کے فرائض وطنی عالمگیر اسلامی وحدت کے منافی نہیں ہیں اور وطن کو اس کی خدمات کی اور قربانیوں کی ضرورت سے تو پھر اس کا فرض ہے ۔ کہ دلیرانہ ان فرائض کو انجام دے ۔ اور اگر وہ یہ دیکھے ۔ کہ خدمت وطن کا جذبہ اس کے حسیات دینی پرچھارہا ہے ۔ تو پھر اس کے لئے یہی راہ ہے ۔ کہ وہ تمام کائنات اسلامی کے بھلے کے لئے محدود وطنی تعصب سے باز آجائے ۔ مگر اس میں بھی مرتبہ ومقام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ غلاموں کو یہ زیبا نہیں ہے ۔ کہ وہ بین الاسلامی اخوت کے نام پر آزادی اور حریت کی تحریک سے الگ رہیں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ محض فریب نفس ہوگا اور ایک قسم کا دھوکہ غلام قموں پر سب سے پہلے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بندگی اور غلامی کی زنجیروں کو بالکل کاٹ کر پھینک دیں ۔ اور اس کے بعد میں الاسلامی اخوت کی تشکیل اور تعمیر میں ہوں ۔ حل لغات :۔ الدین ۔ عبادت ۔
Ayahs 39:12–13

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں پہلا مسلمان (ف 2) بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

تو کہہ میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

ف 2: اول المسلمین سے غرض یہ ہے کہ میں وہ ہوں جس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار پاؤں ۔ میری زندگی تمام کائنات اسلامی کے لئے لائق تقلید اور قابل پیروی ہے ۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ اپنا دین اسی کے لئے خالص کرکے اللہ کی (ف 1) عبادت کرتا ہوں

ف 1: میں خالص ایک خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔ تم جن لوگوں کی چاہو ۔ عبادت کرو اور جن چیزوں کے سامنے چاہو جھکو ۔ مگر یہ یاد رکھو ۔ کہ یہ عمل گھاٹے اور خسران کا عمل ہے ۔
Ayahs 39:15–17

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

اب تم اس کے سوا جسے چاہو پوجا کرو تو کہہ ریاکار وہ ہیں جنہوں نے اپنی جان اور اپنا گھر قیامت (ف 2) کے دن خسارہ میں رکھا سنتا ہے یہی تو صریح ٹوٹا ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لئے اوپر آگ کے سائبان ہونگے اور ان کے نیچے بھی سائبان ہونگے ۔ یہ ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو تو مجھ ہی سے ڈرو

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جو لوگ بتوں سے بچے کہ ان کی عبادت نہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت دے

ف 2: اس کے بعد یہ بتایا ہے کہ یہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہیں ۔ قیامت کے دن ان کی یہ کیفیت ہوگی ۔ کہ چاروں طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوں گے ۔
Ayahs 39:18–19

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے ۔ پھر اس کے بہتر (یعنی قرآن) کی پیروی (ف 3) کرتے ہیں وہی ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی ہے اور وہی عقل والے ہیں

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس پر عذاب کا حکم قائم ہوگیا ۔ سو کیا تو اسے چھوڑا لائے گا جو آگ میں ہے ؟

ف 3: فیتبعون احسنہ سے مقصود یہ نہیں ہے کہ قرآن میں احسن اور غیر احسن کی کوئی تقسیم موجود ہے ۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ قرآن کو یہ لوگ کان لگا کر سنتے ہیں ۔ اور چونکہ اس کی تعلیمات سب کی سب برتر اور احسن ہیں ۔ اس لئے مجبور ہیں ۔ کہ ان کی پیروی کریں ۔ حل لغات :۔ ظلل ۔ ظلۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی سائبان الطاغوت ۔ تاضیان سے ہیں بمعنی شیطان اور کاہن سردار گمراہاں اور جو سوائے خدا کے کسی دوسرے کی پرستش کرے ۔ ہر وہ چیز جو شرک وکفر کا باعث ہوسکے ۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن (ف 1) جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بالاخانے ہیں ۔ ان کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان کے نیچے (ف 2) نہریں بہتی ہیں ۔ اللہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا

پیکر رحمت وشفقت 1: حضور ﷺ اس شفقت کی بنا کر جو آپ کے سینہ میں پنہاں تھی ۔ اور اس طواطف رافت و محبت کی بنا پر جو ان کو بنی نوع انسان سے تھی ۔ ہمیشہ یہ چاہتے تھے ۔ کہ قریش کے ارباب فکر و دانش اسلام کو قبول کرلیں اور اس سعادت سے محروم نہ رہیں اس لئے بالطبع ان کو بڑا دکھ محسوس ہوتا تھا ۔ جب کہ یہ دیکھتے تھے کہ ان لوگوں کی سرکشی اور بغاوت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ اور یہ اللہ کی رحمتوں سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا : آپ کیوں ملول ہوتے ہیں ۔ جہاں تک وعظ ونصیحت کا تعلق تھا ۔ آپ نہایت عمدہ طریق سے ان لوگوں کو سمجھا چکے ہیں ۔ اب بھی اگر یہ لوگ حقانیت کو قبول نہیں کرتے ۔ تو نہ کریں ۔ آپ جبراً اور قہراً ان کو اللہ کی چوکھٹ کے سامنے نہیں جھکا سکتے ۔ ازل سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ کہ ان لوگوں کو ایمان کی دلوت حاصل نہیں ہوگی ۔ اور یہ باوجوداخلاص اور محبت کے اس نعمت گرانما یہ سے محروم ہی رہیں گے ۔ 2: فرمایا ۔ ہاں ان لوگوں میں سے جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور جن کے دل خشیت اور خوف سے معمور ہیں ۔ وہ ضرور اسلامی راہ نجات کو اختیار کرلیں گے اور اپنی عاقبت سنوار لیں گے ۔ ان کے لئے جنت میں اونچے اونچے بالاخانے ہونگے ۔ جن میں یہ لوگ آسودگی اور عیش سیر ہیں گے یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان (ف 3) سے پانی اتارا ۔ پھر اسے زمین کے چشموں میں جاری کیا ۔ پھر اس سے مختلف رنگوں کی کھیتی نکالتا ہے پھر وہ زور پکڑتی ہے (یعنی تیار ہوتی ہے) پھر تو اس کو زرد دیکھتا ہے ۔ پھر خدا اسے حورا کر ڈالتا ہے ۔ بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے نصیحت ہے

دنیائے فنا کی ایک مثال ! 3: اس دنیائے دواں اور عالم کی کتنی عبرتناک تصویر ہے کہ جس طرح پانی آسمان سے برستا ہے ۔ اور وہ سوتوں میں داخل ہوجاتا ہے ۔ اور پھر بوقلمون نباتات کو اگاتا اور تازگی اور شادابی بخشتا ہے ۔ پھر یہ سب کچھ سوکھ جاتے ہے ۔ اور خشک ہوکر چورہ چورہ ہوجاتا ہے ، اسی طرح انسان پیدا ہوتا ہے جوان ہوتا ہے اور بڑھاپا اس کو زرد اور ضعیف الاعضاء بنادیتا ہے ۔ اور پھر آخر موت اس کا خاتمہ کردیتی ہے اور مٹی میں ملا دیتی ہے ۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جا کا سینہ (ف 4) اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ۔ پھر وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے (تنگ دلوں کے برابر ہوجائے گا) سو جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہیں ۔ ان پر افسوس ہے ۔ یہی لوگ تو صریح گمراہی میں ہیں

مومن کا سینہ 4: غرض یہ ہے کہ مسلمان اور منکر میں ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ مومن سینہ کا کشادہ اور فراغ ہوتا ہے اور منکر دل تعصب اور جہالت کی وجہ سے سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے ۔ اور وہ حق پذیرائی کی قوتوں سے محروم ہوجاتے ہے ۔
Ayahs 39:23–25

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہتر نازل کی ہے وہ کتاب ہے آپس میں (ف 5) میں ملتی جلتی دہرائی (ف 1) ہوئی ۔ اس سے لوگوں کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ پھر ان کے چمڑے اور ان کے دل خدا کی یاد کے لئے نرم ہوجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے ، جسے چاہتا ہے اس طرح کی ہدایت کرتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی ہادی نہیں

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے منہ کو میرے عذاب کی سپر بنائے گا اور ظالموں سے کہا جائیگا ۔ کہ چکھو جو تم کماتے تھے

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلوں نے جھٹلایا تھا سو ان پر ایسی طرف سے عذاب آیا کہ وہ نہ جانتے تھے

ف 5: یعنی قرآن حکیم بہترین اور موثر کتاب ہے ۔ حل لغات :۔ غوف ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔ بالاخانہ ینابیع ۔ واحد ینبوع پانی کا بڑا چشمہ حطاما حطم سے ہے ۔ یعنی توڑڈالا ۔ چورا چورا کردیا احسن الحدیث ۔ یعنی بہترین کلام ۔ 1: کلام پاک کے مضامین ملتے جلتے ہیں ۔ ان کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔ وہ لوگ جن کے دل میں تقویٰ اور خشیت الٰہی موجود ہے ۔ اس کو سنتے ہیں ۔ اور اس کے تاثر سے ان کے بدن کانپ اٹھتے ہیں ۔ اور پھر منقاد اور نرم دل ہوکر ہمہ تن اللہ کی یاد میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ یہ سرچشمہ معرفت وہدایت ہے جس شخص سے اللہ توفیق ابتداء چھین لے ظاہر ہے کہ وہ اس کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتا ۔
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر انہیں اللہ نے دنیا کی زندگی میں رسوائی چکھائی اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اگر وہ جانیں (ف 2)

خدا کا قانون مکافات 1: غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح اس سے پہلے کفر ناگوار تھا اب بھی ناگوار ہے جس طرح پہلی قوموں کو اس پاداش میں کہ انہوں نے حق وصداقت کو ٹھکرایا ۔ اور تکذیب وتردید کو اپنا شعار بنایا ۔ اپنے غضب اور خثم کا مورد قرار دیا تھا ۔ آج بھی ان لوگوں کو جو قرآن کے حقائق کو جھٹلاتے ہیں اور اس کی پیش کردہ تعلیمات کو غلط قرار دیتے ہیں ۔ ذلت اور رسوائی کی سزا سے دو چار کیا جائے گا ۔ کیونکہ جس طرح اللہ کا قانون حفظ اقیام ایک ہے ۔ اسی طرح اس کا قانون مقالات بھی ایک ہے یہ مکہ والے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں ۔ کہ یہ لوگ باوجود سرکشی اور بغاوت کے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے ۔ اور ان کا مال و دولت ان کو اللہ کے عذاب سے بےنیاز کردیگا ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ علام الغیوب خدا ان کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ان کی تمام شرارتیں ، مکاریاں اس کی نگاہوں میں ہیں ۔ یہ اسلام کی تذلیل کے درپے ہے اور محمد ﷺ کی راہ میں مشکلات پیدا کررہے ہیں ۔ مگر ان کو معلوم نہیں کہ خود ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ ان کے مقدر میں دونوں عالم کی رسوائیاں لکھی ہیں ۔ یہ اس دنیا میں بھی اپنے منصوبوں میں ناکام رہیں گے اور عقبے کی زندگی میں بھی ان کے لئے عذاب اکبر کی اذیتیں ہیں ۔ کاش یہ صورت حالات کو سمجھیں اور عبرت حاصل کریں ۔ حل لغات :۔ ومن یضلل اللہ ۔ یہ انتساب بطور اصل کے ہے ۔ یعنی اسباب ضلالت جو ہیں وہ برنہج اللہ نے پیدا کئے ہیں ۔ اور اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے یہ مقصد نہیں کہ اس کے انسان کی گمراہ ہونے میں کوئی مدد کی ہے یا وہ گمراہی تو اپنے بندوں کے لئے پسند فرماتا ہے ۔ اور یہ اسباب ضلالت بھی ان معنوں میں اسباب ضلالت میں کہ انسان کے لئے یہ ٹھوکر کا باعث ہوسکتے ہیں ۔ قدرت کا منشا اعلی پیدا کرنے سے یہ نہیں ہے کہ لوگ ان کو اختیار کرکے اس کی رحمتوں سے دور ہوں ۔ الخزی : ذلت اور رسوائی ۔ اور عذاب ۔
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن (ف 1) میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثال بیان کی ہے کہ شاید وہ نصیحت پکڑیں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

قرآن عربی زبان میں ہے جس میں کجی نہیں شاید وہ ڈریں

قرآن کی بہت بڑی خوبی 1: قرآن حکیم کی اس خوبی کا تذکرہ ہے ۔ کہ اس کے مضامین کو ہر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس میں احکام بھی ہیں ۔ قصص بھی ہیں اور واقعات بھی ۔ اس میں باریک اور دقیق نکات بھی ہیں ۔ اور زندگی کی محسوس ضروریات بھی ۔ اس میں منطقی استدلال بھی ہیں اور فطرت کے مشاہدات بھی ۔ ہر ذوق اور ہر فکر کے لوگوں کے لئے اس میں رشدوہدایت کا وافر سامان موجود ہے ۔ ایک عامی اور سطحی عقل والا بھی اس میں تسکین محسوس کرے گا ۔ اور ایک بلند پرواز فلسفی اور حکیم بھی ۔ یہ کتاب دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے اور دل کی لطیف کیفیات کو بھی ۔ یہ عربی میں نازل کی گئی ہے ۔ تاکہ تعبیر معانی میں کوئی ابہام اور اجمال باقی نہ رہ جائے ۔ اس میں اس درجہ وضوح اور انشراح ہے کہ شک وشبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔ اس میں استدلال اور استنباط کی کوئی کجی نہیں ۔ یہ صاف اور سیدھے طریق نجات کی جانب راہنمائی کرتی ہے ۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ نے ایک مثل بیان کی ہے ایک آدمی ہے (ف 2) (غلام) کہ اس میں کئی ضدی لوگ شریک ہیں اور ایک آدمی ہے پورا ایک شخص کا (غلام) کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں ؟ سب تعریف اللہ کے لئے ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

ف 2: اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نفسیاتی طور پر ایک شخص ایک وقت میں ایک ہی آقا پر قناعت کرسکتا ہے ۔ اور وہ شخص جس کے کئی آقاہوں ۔ ہمیشہ دکھ اور تکلیف محسوس کریگا ۔ اس سے یہ نہیں ہوسکے گا ۔ کہ اپنے طرز عمل سے سب کو خوش رکھے ۔ اسی طرح وہ پاکباز اور پاک نفس انسان جو صرف ایک آستانہ وحدت و جلال کا ہو رہتا ہے ۔ روحانی طور پر اس شخص سے کہیں عافیت میں ہے جس کی عقیدت کئی لوگوں میں اور کئی شخصیتوں میں منقسم ہے ۔
Ayahs 39:30–31

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بیشک تو بھی (ف 3) مریگا اور یہ بھی مریں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑوگے

ف 3: یعنی جہاں تک موت کا تعلق ہے ۔ وہ سب کے لئے مقدرات میں سے ہے ۔ آپ بھی باوجود اس جلالت قدر کے اس سے دوچار ہونگے ۔ اور یہ عظمائے قریش بھی ۔ پھر قیامت میں یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ کون حق پر تھا ۔ اور کون باطل پر ۔ حل لغات :۔ مثل ۔ انداز بیان ۔ مراد عمدہ مضامین عوج ۔ کجی متشابصون ۔ باہم دست وگریباں
Ayahs 39:32–33

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

سو اس سے زیادہ ظالم کون ہے ۔ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ۔ اور سچ کو جب اس کے پاس آیا جھٹلایا گیا ۔ دوزخ میں کافروں (ف 1) کا ٹھکانہ نہیں ؟

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو کوئی سچ بات لایا اور جس نے سچ کی تصدیق کی وہی متقی ہیں

سب سے بڑا ظلم 1: مشرکین مکہ کے دو جرم تھے ۔ ایک تو یہ کہ وہ اللہ کی جانب ان عقائد کو منسوب کرتے ۔ جن سے ان کی ذات والا صفات انکار کرتی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ کتاب صدق وحقانیت کی مخالفت کرے اس لئے وہ صحیح معنوں میں ظالم تھے ۔ اور بےانصاف ۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوسکتا ہے ۔ کہ انسان اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے کام نہ لے ۔ اور خود اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہو ۔ خدا کے لئے اولاد کو ثابت کرے ۔ اور اس طرح عقل وخرد اور بصیرت ووجدان کی صریحاً مخالفت کرے ۔ پھر یہی نہیں جب اس کو بتلایا جائے کہ تم راہ راست پر گامزن نہیں ہو ۔ تو اس کو جھٹلائے ۔ کیا اس سے زیادہ محرومی اور شقاوت کی کوئی اور صورت ہوسکتی ہے ۔ کہ اپنے محسنوں کی تکذیب کی جائے ۔ اور ان کی ہمدری اور محبت نظر انداز کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ ان کے ان دوگونہ جرائم کی سزا یہ ہے ۔ کہ یہ جہنم میں رہیں گے ۔ اور اپنے اعمال کی سزا بھگتیں گے ۔
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لئے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس موجود ہے ۔ یہ نیکوں (ف 2) کا بدلا ہے

ف 2: ان آیتوں میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ جو صدق وحقانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتے ہیں ۔ اور پھر کچھ ایسے نفوس ان کو مل جاتے ہیں ۔ جو آگے بڑھ کر تصدیق میں سبقت کرتے ہیں ۔ یہ لوگ تقویٰ کی گراں قدر نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ یہ مومنانہ فراست سے بھانپ جاتے ہیں ۔ کہ اللہ کے پیغمبر جو کچھ لاتے ہیں ۔ وہ جھوٹ نہیں ہوسکتا ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انشراح صدر کے بیشمار موقع پیدا کردیتا ہے ۔ اور انہیں حق کو قبول کرلینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا ۔ ارشاد ہے کہ یہ دونوں حاملیں حق وصداقت اور ان کی پیروی کرنے والے اللہ کے نزدیک مقام اتقار پر فائز ہیں ۔ اور منصب احسان سے بہرہ مند ہیں ان کے لئے جنت ونعیم میں عیشیں اور آسودگی کی زندگی ہے جو چاہیں گے وہاں ملے گا ۔ اور ان کی ہر خواہش کی تکمیل ہوگی ۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کے برے اعمال جو انہوں نے کئے تھے ان سے دور کرے ۔ اور نیک کاموں کے بدلے میں جو وہ کرتے (ف 3) تھے انہیں ان کا اجر دے

ف 3: تکفیر سئیات سے یا تو یہ مراد ہے کہ عاملہ کفر میں ان سے گناہ سرزد ہوئے تھے ۔ ان کو معاف کردیا جائے گا ۔ اور ان کے مقابلہ میں انہیں بہترین اجر سے نواز جائیگا ۔ اور یا یہ مقصد کہ اگر ایمان کی نعمت حاصل ہے ۔ تو پھر وہ لغزشیں اور کبائر جن کا صدور بتقاضائے بشریت ہوا ہے ۔ بخش دی جائیں گی ۔ اور ان کے نیک کاموں کا نہایت عمدہ اجر ملے گا ۔ حل لغات :۔ مثویٰ ۔ ٹھکانہ ۔ جگہ ۔ ثویٰ یثوی سے ہے ۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں ؟ اور وہ تجھے غیر خدا (معبودوں) سے ڈراتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے ، اس کے لئے کوئی ہادی (ف 1) نہیں

ف 1: حضور کو کفار مکہ دھمکی دیتے تھے ۔ کہ اگر آپ بت پرستی کی مذمت سے باز نہ آئے ۔ تو ہمارے معبود آپ کو سخت ترین نقصان پہنچائیں گے ۔ اس کا جواب دیا ہے ۔ کہ اللہ اپنے اس بندے کی پوری پوری حفاظت کرے گا ۔ اور تم کو اور تمہارے معبودوں کو موقع نہیں دے گا ۔ کہ اسے ذرہ برابر بھی گزند پہنچا سکو ۔ یہ گمراہی کا عقیدہ ہے ۔ اور جس شخص سے اللہ تعالیٰ توفیق ہدایت چھین لے ۔ پھر کوئی اس کو منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتا ۔ اور جس شخص کے سینہ کو وہ کھول دے ۔ اور توفیق قبولیت عطا فرمائے ۔ وہ کبھی گمراہ نہیں ہوسکتا ۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والا نہیں ۔ کیا اللہ غالب (ف 2) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

ف 2: واضح رہے کہ اس کے معنے سیاق وسباق کے لحاظ سے یہی ہیں ۔ کہ حضور اللہ کی حفاظت اور نگہبانی میں ہیں ۔ اس لئے دشمن اپنے عزائم مشؤمہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اور حضور کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ اس سے مراد کفایت دینی نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض ملاحدہ نے سمجھا ہے ۔
Ayahs 39:38–39

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور تو جو ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے تو کہہ بھلا دیکھو تو جن کو تم اللہ کے (ف 3) پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کچھ تکلیف پہنچانا چاہے ۔ تو کیا وہ اس کی دی ہوئی تکلیف دور کرسکتے ہیں ؟ یا وہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ تو کہہ مجھے اللہ کافی ہے ۔ بھروسا رکھنے والے اسی پر بھروسہ (ف 1) رکھتے ہیں

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

تو کہہ اے قوم تم اپنی جگہ پر کام کئے جاؤ۔ بیشک میں کام کرنے والا ہوں پس آگے تمہیں معلوم ہوجائیگا

بےاختیار بت 3: بت پرستوں اس حقیقت واقعہ سے آگاہ فرمایا ہے ۔ کہ جہاں تک کائنات نظام حیات کا تعلق ہے ۔ یہ تمہارے دیوتا اور معبود محض بےکار ہیں ۔ ان کو اس کارگاہ عمل میں کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ اگر میں کسی دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوجاؤں تو کیا وہ اس روگ کو دور کرسکتے ہیں ؟ اور میری مصیبتوں کو مسرتوں اور خوشیوں سے بدل سکتے ہیں ۔ اور اگر اللہ کا مجھ پر فضل ہو ۔ تو کیا اس کو اپنے اختیارات سے روک سکتے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ تو پھر مجھے کیوں اس بودے عقیدے کی طرف بلاتے ہو ۔ کہ میں بےاختیار بتوں کے سامنے جھکوں ۔ حل لغات :۔ بکاف ۔ یعنے صاحب کفایت ۔ کافی ذی انتقام ۔ سزادینے والا ۔ عربی میں انتقام کے وہ معنے نہیں ہیں ۔ جو اردو میں ہیں ۔ جس میں سزا کے ساتھ بغض اور دل میں جلن کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ 1: میں تو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں اور جتنے لوگ توکل کی نعمت سے بہرہ مند ہیں ۔ سب اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
Ayah 39:40

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذات آتا ہے کہ اسے رسوا کرے ۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب اترتا (ف 2) ہے

اپنی سی کر دیکھو 2: یعنی اے اعداء دین تمہیں اپنی قوت پر ناز ہے ۔ تم اپنی وسلیہ کاریوں کی کامیابی پر اعتماد رکھتے ہو ۔ تمہیں یہ یقین ہے ۔ کہ تم اپنے مکارانہ منصوبوں میں کامرانی حاصل کرلو گے ۔ میں تمہیں بتلائے دیتا ہوں ۔ کہ تم لوگ اپنی سعی کر دیکھو ۔ وہ تمام حیلے اور تدبیریں جو تمہارے امکان میں ہیں ۔ ان کو آزمادیکھو ۔ میں بھی اپنی کامیابی پر متقین ہوں ۔ عنقریب معلوم ہوجائے گا ۔ کہ کون دنیا میں رسوائیوں کے عذاب میں مبتلا ہے ۔ اور آخرت میں دائمی اور ابدی سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ اور کون فوزوفلاح کی سعادت سے ہمکنار ۔