مشرک اور موحد برابر نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے (لَيْسُوْا سَوَاۗءً ۭ مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ01103) 3۔ آل عمران :113) ، یعنی سب کے سب برابر کے نہیں۔ اہل کتاب میں وہ جماعت بھی ہے جو راتوں کے وقت قیام کی حالت میں آیات الہیہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدوں میں پڑے رہتے ہیں۔ قنوت سے مراد یہاں پر نماز کا خشوع خضوع ہے۔ صرف قیام مراد نہیں۔ ابن مسعود ؓ سے قانت کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے کہ اناء الیل سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ ؓ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 28
واضح رہے کہ یہاں مقابلہ دو قسم کے انسانوں کے درمیان کیا جا رہا ہے۔ ایک وہ جو کوئی سخت وقت آ پڑنے پر تو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عام حالات میں غیر اللہ کی بندگی کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے وہ جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور اس کی بندگی و پرستش کو اپنا مستقل طریقہ بنالیا ہے اور راتوں کی تنہائی میں ان کا عبادت کرنا ان کے مخلص ہونے کی دلیل ہے۔ ان میں سے پہلے گروہ والوں کو اللہ تعالیٰ بےعلم قرار دیتا ہے، خود انہوں نے بڑے بڑے کتب خانے ہی کیوں نہ چاٹ رکھے ہوں۔ اور دوسرے گروہ والوں کو وہ عالم قرار دیتا ہے، خواہ وہ بالکل ہی ان پڑھ کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اصل چیز حقیقت کا علم اور اس کے مطابق عمل…
Read the full tafseer →اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ۔ لفظ امن دو لفظوں سے مرکب ہے۔ ام حرف استفہام اور من اسم موصول اس جملے سے پہلے کفار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں اپنے کفر اور فسق و فجور کے مزے اڑا لو، آخر کار تم جہنم کے ایندھن ہو گے۔ اس کے بعد اس جملے میں مومن مطیع کا بیان ہے جس کو امن کے لفظ سے شروع کیا گیا ہے۔ علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے کہ کافر سے کہا جائے گا کہ تو اچھا ہے یا وہ مومن مطیع جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ لفظ قانت کے کئی ترجمے کئے گئے ہیں۔ سب کو جامع قول حضرت ابن مسعود کا ہے۔ اس کے معنی ہیں اطاعت گزار اور یہ لفظ جب خاص نماز کے لئے…
Read the full tafseer →2۔ آگے کا مضمون آیات 20-9
پہلے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی جن لوگوں نے شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کیا ہے انہوں نے اپنے زعم میں خدا کے نزدیک نیک اور بد دونوں کو بالکل یکساں کردیا ہے۔ حالانکہ یہ چیز بالبداہت غلط ہے۔ بصیرت و معرفت رکھنے والے اور اپنی عقلوں کو اپنی خواہشوں کی لونڈی بنا دینے والے زونوں خدا کے ہاں یکساں نہیں ہو سکتے۔
پھر مسلمانوں کو، جو اس دور میں ہر قسم کے مظالم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ تسلی دی کہ تم اللہ کی توحید کردی گئی تو اطمینان رکھو کہ خدا کی زمین تنگ نہیں ہے۔
پھر نبی ﷺ کی زبان سے شرک اور شرکاء سے نہایت آشکارا طور پر اعلان برأت کرایا ہے تاکہ کفار پر حقیقت واضح ہوجائے کہ جبر و…
Read the full tafseer →9۔ 1 اور یہ اہل ایمان ہی ہیں، نہ کہ کفار۔ گو وہ اپنے آپ کو صاحب دانش و بصیرت ہی سمجھتے ہوں۔ لیکن جب وہ اپنی عقل و دانش کو استعمال کرکے غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور عبرت و نصیحت ہی حاصل نہیں کرتے تو ایسے ہی ہے گویا وہ چوپایوں کی طرح عقل و دانش سے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →5: یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 9
یہ نہایت ہی روشن اور حساس تصویر ہے۔ مطیع فرمان ، اطاعت شعار ، سجدے کی حالت میں اور رکوع کی حالت میں ہونا دراصل حساس اطاعت شعاری ہے ۔ ایسا شخص آخرت سے ڈرتا ہے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے۔ یہ صفائی اور باطن کی یہ شفافی انسانی بصیرے کو کھول دیتی اور انسانی دل و دماغ کو دیکھنے ، اخذ کرنے اور فکر کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ ان تمام امور کے ذریعہ مومنین کی بہت ہی اچھی تصویر کھنچ جاتی ہے۔ جبکہ آیت سابقہ میں مشرکین کی نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان موازنہ دیکھئے۔
قل ھل ۔۔۔۔ یعلمون (39: 9) ” ان سے پوچھو کیا علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں یکساں ہوسکتے ہیں…
Read the full tafseer →1 یعنی جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا، سجدہ میں گرا۔ ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بیقرار کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اللہ کی رحمت نے ڈھارس بناھا رکھی ہے۔ کیا یہ سعید بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی ٹلی خدا کو چھوڑ بیٹھا، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہو تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل یا سمجھدار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا مگر اس بات کو بھی وہ سوچتے سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآئَ الَّـیْلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں ‘ سجود و قیام کرتے ہوئے ‘ وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے !“
ان الفاظ کے بعد کی عبارت محذوف ہے اور یہ اسلوب اس سورت میں بار بار آتا ہے۔ آگے چل کر متعدد آیات ایسی ملیں گی جہاں جملوں کو نا مکمل چھوڑ دیا گیا ہے کہ سننے یا پڑھنے والا اپنے علم ‘ ذہن اور ذوق کے مطابق خود مکمل کرلے۔ چناچہ یہاں پر کَمَنْ ھُوَ غَافِلٌ ؟ کے الفاظ سے اس جملے کو مکمل کیا جاسکتا ہے کہ کیا ایک ایسا شخص جو اللہ کا…
Read the full tafseer →19 اللہ کے ہاں عالم کون اور جاہل کون ؟ اب ایک یہ شخص ہے جو صرف مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اسے قرآن جاہل یا نہ جاننے والے کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ علامہ ئدہر ہو اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی ترشی اور خوشحالی غرض ہر طرح کے حالات میں صرف اللہ پر ہی تکیہ کرتا ہے اور اسے ہی پکارتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے اس کی رحمت کی توقع بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عالم یا جاننے والے کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ پرائمری پاس بھی نہ ہو یا ابتدائی دینی کتابیں بھی نہ پڑھا ہو۔ اور اس مفہوم کی تائید قرآن کریم کے ایک اور جملہ (إنَّمَا…
Read the full tafseer →18۔ (کہیں ایسا شخص اور مشرک برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) مراد ایسے شخص سے ہے جس کے عقائد بھی درست ہوں، اور اعمال بھی، باطن بھی آراستہ ہو اور ظاہر بھی، عقائد میں وہ توحید اور یوم جزاء پر ایمان رکھتا ہو، اور اعمال میں یہ کیفیت ہو کہ رات جو عموما غفلت کا وقت ہوتا ہے، اس وقت بھی وہ سجود و قیام یعنی نماز و عبادت میں مشغول ہو، خلاصہ یہ کہ تمام آداب معبودیت کی ادائی کا اہتمام رکھتا ہو، بلاقصور وبلافتور ظاہر ا بھی باطنا بھی۔ (آیت) ” یحذر ..... ربہ “۔ مقام خوف پر نام صرف آخرت کا آنے، اور محل رجاء میں رب کا ذکر آنے سے محققین عارفین نے یہی سمجھا ہے کہ حضرت حق میں رجاکا پہلو خوف پر غالب رہنا چاہیے، ھذا یدل علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →امن ھو قان اناء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجو رحمۃ ربہ بھلا جو شخص اوقات شب
میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کر رہا ہو ‘ آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہو۔
قَانِتٌ مقررہ عبادت کو پورا ادا کرنے والا۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : قنوت سے مراد ہے تلاوت قرآن اور طول قیام۔
اَمَّنْ میں اَمْ منقطعہ ہے ‘ یعنی کیا سرگرمی سے عبادت میں مشغول رہنے والا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ شریک قرار دے رکھے ہیں ؟ یا اَمْ متصلہ ہے اور کچھ عبارت (حسب قرینہ) محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا وہ شخص جس نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا نہیں کرتا ‘…
Read the full tafseer →بھلا وہ شخص جو رات کے وقت نماز میں سجدہ و قیام کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہو اور عذاب آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت یعنی جنت کی امید کرتا ہو ان خوبیوں کے مالک رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام ہیں تو یہ لوگ اور ابو جہل مشرک مذکور برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔
شان نزول : اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ (الخ)
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور ابن سعد نے کلبی کے طریق سے بواسطہ ابو صالح حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور جو بیر نے حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ۔۔ : ”قَانِتٌ“ کا معنی عبادت کرنے والا بھی ہے، فرماں بردار بھی اور خشوع و عاجزی کرنے والا بھی۔ ”امن“ (یا وہ شخص) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کچھ الفاظ محذوف ہیں، یعنی ”أَ ھٰذَا خَیْرٌ“ (کیا یہ مصیبت میں اپنے رب کو پکارنے والا اور نعمت عطا ہونے پر اسے بھول جانے والا بہتر ہے) ”اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ“ یا وہ شخص جو صرف دن کے وقت ہی نہیں بلکہ رات کی گھڑیوں میں بھی سجدے اور قیام کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والا اور ہر حال میں اسی کا فرماں بردار ہے ؟ جواب ظاہر ہے کہ یہ مومن (قانت) ہر لحاظ سے اس سے بہتر ہے۔
يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8 ۔ 9:۔ الانسان سے مراد کافر ہے ضر سے مراف فقر اور آزمائش میں سختی ہے منیبا الیہ یعنی اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس شت کو زائل کرنے میں مدد چاہتے ہوئے خولہ اسے عطا کی اور اسے مالک بنایا ‘ یہ جملہ بولا کہا جاتا ہے : خولک اللہ الشی اللہ تعالیٰ نے تجھے اس چیز کا مالک بنایا۔ ابو عمرو بن علاء یہ شعر پڑھا کرتا ہے :
ھنالک ان یستخو لوا المال یخولوا (1)
ان سے اگر مال عاریۃ مانگا جائے تو وہ ادھار دے دیتے ہیں۔
خول الرجل سے مراد اس کے خدام ہیں اس کی واحد خائل ہے۔
ابو النجم نے کہا :
اعطی فلم یبخل ولم یبخل کو م الذری من خول المخول (1)
نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل وہ اسی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) فی الحلیۃ وابن عساکر (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقآئما یحذر الاخرۃ ویرجوا رحمۃ ربہ “ (بھلا جو شخص اوقات شب میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کررہا ہو آخرت سے ڈررہا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو) اس سے مراد عثمان بن عفان ؓ ہیں اور دوسرے لفظ میں ہے کہ یہ آیت عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن سعد فی طبقاتہ وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) امن ھو قانت انآء الیل ساجدا وقائما “ عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔…
Read the full tafseer →اَمَّنْ [یا وہ جو ہے (کہ)] هُوَ قَانِتٌ [وہ فرمانبرداری کرنے والا ہے ] اٰنَاۗءَ الَّيْلِ [رات کی گھڑیوں میں ] سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا [سجدہ کرنے والا اور قیام کرنے والا ہوتے ہوئے ] يَّحْذَرُ [وہ ڈرتا ہے ] الْاٰخِرَةَ [آخرت سے ] وَيَرْجُوْا [اور وہ امید رکھتا ہے ] رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ [اپنے رب کی رحمت کی ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] هَلْ يَسْتَوِي [کیا برابر ہوں گے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جو ] يَعْلَمُوْنَ [علم رکھتے ہیں ] وَالَّذِيْنَ [اور وہ جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ [لا علم ہوتے ہیں ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَتَذَكَّرُ [نصیحت پکڑتے ہیں ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص (غیر متعصب) عقل والے…
Read the full tafseer →صالحین کی صفات
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس طرح رات گزارتا ہو کہ اللہ کی عبادت میں لگا ہوا ہے کبھی سجدہ میں کبھی کھڑا ہوا ہے جو آخرت کے مواخذہ سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے کیا یہ شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو کافر ہو گناہوں میں لگا ہوا ہو۔ (یہ بطور استفہام انکاری ہے) مطلب یہ ہے کہ عبادت گزار شخص جو راتوں رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے جو آخرت سے ڈرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہے یہ شخص اور اللہ تعالیٰ کا نافرمان کافر بندہ برابر نہیں ہوسکتے، بلکہ مومن صالح اور مسلم فاسق بھی برابر نہیں ہوسکتے جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (اَمْ نَجْعَلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…
Read the full tafseer →15:۔ ” امن ھو الخ “ یہ پہلی بار مومنین اور مشرکین کی صفات کے درمیان تقابل کا ذکر ہے ایک وہ مومن ہے جو راحت اور آرام کو چھوڑ کر رات کی گھڑیوں میں اٹھ اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ کبھی قیام میں ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور کبھی اس کی بارگاہ میں جبین نیاز زمین پر رکھے سجدہ بجا لا رہا ہے۔ آخرت کا خوف اس پر طاری رہتا ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔ ” رحمۃ ربہ “ کے بعد ” کمن ھو لیس کذلک “ مقدر ہے یعنی کیا مذکورہ بالا صفات کا حامل مومن اس کافر کی مانند ہوسکتا ہے جو ان خوبیوں سے عاری ہو۔ قالہ الشیخ قدس سرہ امن ھو قانت کمن ھو غیر قانت (معالم و خازن ج 6 ص 69) ۔
16:۔ ” قل ھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات :
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس حال میں کہ صرف اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ بناؤ نہ اس کی ذات میں ، نہ صفات میں اور نہ ہی ولدیت کا عقیدہ رکھو ، اللہ تعالیٰ واحد اور قہار ہے اور ساری کائنات اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کے تصرف میں ہے ، پھر فرمایا انسانوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جان سے کی ہے اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے فائدے کے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے بنائے ، تمہاری پیدائش بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب طریقے سے کی ماؤں کے پیٹوں کے اندھیروں میں تمہارا ڈھانچہ تیار…
Read the full tafseer →اَمَّنْ ہُوَقَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَيَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ 0 ۭ قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 0 ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 9ۧ
قنت
القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ
[ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل :
طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح»…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترکیب : امن بالتشدید ام متصلۃ دخلت علی من الموصولۃ و اُدغمت المیم فے المیم، واتصالھا بمحذوف تقدیرہ الکا فرخیر امن ھو قانت وقیل ام منقطعۃ مقدرۃ ببل والھمزۃ ای بل امن ھو قانت کالکافر۔ وقرء بالتخفیف فالھمزۃ الاستفھام امن ھو قانت للہ کمن ھو کافر والخبر محذوف لد لالۃ قولہ قل ھل یستوی۔ وقال الفراء الھمزۃ للنداء ومن منادی ای یامن ھو قانت قل ھل الخ ساجد او قائما حالان۔
تفسیر : اشرار و کفار کی سیرت بیان فرما کر ان کے مقابلہ میں ابرار و اخیار کی صفت بیان فرماتا ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ کے لیے شریک بناتے ہیں، ایک وہ بھی نیک بندے ہیں جو رات کے وقتوں میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ سجدہ و قیام کے…
Read the full tafseer →اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَـآئَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّقَـآئِمًا یَّحْذَرُالْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہِ ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُاُوْلُوالْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 9)
(کیا وہ شخص جو عاجزی کرنے والا ہے شب کے اوقات میں اپنے رب کے آگے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کی حالت میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے (اور دوسرا جو ان صفات سے عاری ہے کیا یہ دونوں یکساں ہوجائیں گے) ان سے پوچھئے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہیں، نصیحت تو عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔ )
اسلوب کی وضاحت
اس آیت کریمہ کے مفہوم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ مشرک اپنے عقیدہ اور بات میں جھوٹا ہے۔ اب اس کے جھوٹ کا عملی ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔
یہاں انسان سے مراد مشرک انسان ہے۔ مشرک کو تکلیف پہنچتی تو وہ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، پھرتا، رات اور دن اپنے رب کو پکارتا اور اس کے حضور فریادیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد فراخی اور غم کے بعد اسے خوشی نصیب کرتا ہے تو مشرک کو نہ اپنی فریادیں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی رب یاد رہتا ہے۔ رب کو یاد رکھنا تو دور کی بات وہ نام و نہاد مسلمان کہلوانے کے باوجود اس بات کا دعویٰ اور پرچار کرتا ہے کہ میری حاجت روائی اور مشکل کشائی فلاں بزرگ…
Read the full tafseer →مومن کو خوف اور امید کے درمیان رہنا ضروری ہے :
9: اَمَّنْ (آیا وہ شخص ) ۔
قراءت : مکی، نافع اور حمزہ نے تخفیف کے ساتھ پڑھا اور ہمزہ استفہام کو مَنْ پر داخل تسلیم کیا دیگر قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا اور اَمْ کو مَنْ پر داخل کیا۔
نحو : من مبتدأ ہے اور اس کی خبرمحذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے :
اَمن ھُوَ قَانِتٌ کغیرہ یعنی امن ھو مطیع کمن ھو عاصٍ (وہ عبادت کرنے والا ہے) القُنٰت کا معنی اللہ تعالیٰ کا مطیع۔ دلالت کلام کی وجہ سے اس کو حذف کردیا ( کمن ھوعاصٍ ) کیونکہ کافر کا تذکرہ پہلے گزرا اور اس کے بعد بھی یہ ارشاد موجود ہے۔ قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون۔ اٰنَآ ئَ الَّیْلِ (رات کے اوقات…
Read the full tafseer →9، امن ھو قانت، ابن کثیر اور نافع اور حمزہ رحمہم اللہ نے ، امن ، کو میم کی تخفیف (بغیر شد) کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے میم کی شد کے ساتھ۔ پس جن حضرات نے میم پر شد پڑھی ہے اس کی دو وجہ ہیں ۔ (1) ان میں سے ایک یہ ہے کہ میم، ام، میں صلہ ہے تو کلام کا معنی استفہام ہوگا اور اس سوال کا جواب محذوف ہوگا اس کی عبارت یوں ہوگی، امن ھو قانت کمن ھوغیرقانت ؟ ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام ، یعنی ، کمن لم یشرح مدرہ، کی طرف ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا عطف ہے استفہام پر۔ اس کی عبارت یوں ہے :، الذی جعل للہ اندادا اخیر ام ھو قانت ؟ اور جس نے میم کی تخفیف (بغیر شد) کے ساتھ…
Read the full tafseer →9۔ مشرکین مکہ حشر کے قائل نہیں تھے۔ اس لئے وہ یہ کہتے تھے کہ جینا اور مرنا فقط یہی دنیا کی زندگی اور موت ہے۔ عمر پوری ہوجانے کے بعد جب آدمی مر کر خاک ہوگیا تو پھر کچھ بھی نہیں۔ سورة الجاثیہ میں مشرکوں کے اس قول کی زیادہ تفصیل آوے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قول کا جواب کئی طرح سے قرآن شریف میں دیا ہے۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس قول کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح یہ مشرک کہتے ہیں۔ مرنے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں۔ اگر ایسا ہو تو جو لوگ ہر وقت اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ اور اس کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں۔ اور دنیا میں ان کا یہ کام اس لئے پورا نہیں ہوا کہ اس طرح…
Read the full tafseer →آیت 9
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے کے درمیان اور عالم اور جاہل کے مابین مقابلہ ہے، نیز اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جن کا تضاد عقل انسانی میں راسخ اور ان کے درمیان تفاوت یقینی طور پر معلوم ہے۔ پس اپنے رب کی اطاعت سے روگرداں اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اس شخص کے مانند نہیں ہوسکتا ہے جو افضل اوقات یعنی رات کے اوقات میں بہترین عبادت، یعنی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین اعمال کو کثرت کے ساتھ بجا لانے کے وصف سے موصوف کیا، پھر اسے خوف اور امید کی صفات سے موصوف کیا، نیز ذکر فرمایا کہ خون ان گناہوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →22 اللہ والوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے اللہ کے خاص اور مخلص بندوں کا نمونہ اور ان کی بعض خاص صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور عاجزی اور فروتنی کرنے والے، رات کی گھڑیاں اپنے رب کی رضا کے لیے سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتے، آخرت سے ڈرتے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اس کی رحمت کا سب سے بڑا اور ہر اعتبار سے کامل مظہر اس واہب مطلق کی وہ جنت ہے جو اس نے اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے اپنے مومن اور مخلص بندوں کے لئے تیار فرما رکھی ہے اور جس کی عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں کا اس جہان فانی میں تصور بھی ممکن نہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →ف 3” اس کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی جس کا ذکر بھی ہوا “۔ یہ عبارت محذوف ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک شخص کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور حال دریافت فرمایا۔ وہ بولا ” مجھے اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اپنے گناہوں کا ڈر ہے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایسے وقت میں جس بندے میں یہ دونوں باتیں ہوں گی اس کو اللہ تعالیٰ وہی دیگا جس کی اسے امید ہے۔ ( شوکانی)4 یعنی کیا وہ لوگ جو اللہ و رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جانتے ہیں ان لوگوں کے برابر ہوسکتے ہیں جو ان باتوں کو سچ نہیں جانتے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔ نہ دنیا میں ان کی روش یکساں ہوسکتی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام ایک سا…
Read the full tafseer →(39:9) امن۔ ام من سے مرکب ہے۔ ام کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ام متصلہ ہے ای الکافر خیر ام ھو قانت۔ کافر بہتر ہے یا وہ جو اطاعت گزار ہے۔
(2) ام منقطعہ ہے۔ ای بل ام من ھو قانت کما ھو بضدہ۔ بلکہ کیا وہ جو اطاعت گزار ہے اسی کی طرح ہے جو اس کی ضد ہے۔
یہاں ام بمعنی حرف اضراب ہے کشاف میں ہے من مبتداء خبرہ محذوف تقدیرہ امن ھو قانت کغیرہ۔
قانت۔ اسم فاعل واحد مذکر قنوت مصدر قنت مادہ۔ باب نصر۔ اس کے معنی خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں۔ فرمانبردار۔ اطاعت گزار۔ ہمہ تن مصروف عبادت ۔ کامل توجہ کے ساتھ خداوند قدوس کی جلالت و عظمت کا استحضار کرتے ہوئے اپنی فروتنی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا، کبھی سجدہ میں گرا ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بےقرار کیے ہوئے ہے اور دوسری طرح اللہ کی رحمت کا امیدوار بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی ٹلی خدا کو چھوڑ بیٹھا، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ایسا ہوں تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل ، یا سمجھ دار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا، مگر اس بات کو بھی وہ ہی سوچتے سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔
[6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔
[7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔
[8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اللہ کو کفر پسند نہیں ہے
1: یعنی اللہ کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے اظہار عقیدت سے اس کی عظمت و رفعت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بجائے خود اس جلالت قدر کا مالک ہے ۔ جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی ۔ تمام دنیا اس کا انکار کردے ۔ اس کی مخالفت کرے ۔ اور اس کو جو چاہے کہے ۔ وہ جب بھی بیشمار حمدوستائش کا اہل ہے ۔ اور بہرحال متعال اور بزرگ ومحترم ہے ۔ اس کی بلندیاں انسانی مدح وتعریف پر مبنی نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو اس لئے رب عظمت وشان ہے کہ ساری کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اور تمام صفات حسن و جمال سے وہ ازل سے متصف ہے ہاں اگر تم ایمان کی نعمت کو قبول کروگے اور اس کے سامنے جھکو گے ۔ تو…
Read the full tafseer →(9) بھلا وہ شخص جو رات کی گھڑیاں مسجد اور قیام کی حالت میں عبادت کرتیہوئیگزارتا ہو نیز آخرت سے ڈررہا ہو اور اپنے پروردگار کے فضل و مہربانی کی امید رکھتا ہو کیا ایسا عبادت گزارشخص اس مشرک مذکور کے برابر ہوسکتا ہے جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا۔
آپ اے پیغمبر فرمائیے کیا وہ لوگ جو اہل علم اور حقیقت آشنا ہیں اور وہ جو جاہل اور حقیقت سے نا آشنا ہیں کہیں برابر ہوسکتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ ان دلائل سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے اور نصیحت مانتے ہیں جو اہل وعقل خرد ہیں۔
اس آیت سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ ہیں ابن عمرنے کہا مراد حضرت عثمان ہیں کلبی نے کہا حضرت عمار اور سلمان کے بارے میں یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 2۔ کیونکہ فکر سے بندوں ضرر پہنچتا ہے۔
3۔ کیونکہ اس میں تمہارا نفع ہے۔
4۔ اس لئے کفر کر کے یوں نہ سمجھنا کہ ہمارا کفر دوسرے کے نامہ اعمال میں کسی وجہ سے درج ہوجاوے گا، اور ہم بری ہوجاویں گے، غرض تمہارا کفر تمہارے جرائم میں لکھا جاوے گا۔
5۔ پس یہ گمان بھی غلط ہے کہ ان اعمال کی پیشی کا وقت نہ آوے گا۔
6۔ پس یہ گمان بھی مت کرنا کہ ہمارے کفر کی شاید اس کو اطلاع نہ ہو۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو خالص اللہ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں وہ راتوں کو سجدہ اور قیام میں ہوتے ہیں
9۔ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو گزشتہ آیت میں ذکر کیے گئے لوگوں کے بالکل الٹ اور مخالف ہیں کہ ان کو جن حالات سے بھی گزرنا پڑے وہ ہر حال میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر راضی ہیں خوشی اور دکھ دونوں صورتوں میں وہ اس کو پکارتے اور اسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور راتوں کو جاگتے ہیں عین اس وقت جب لوگ گہری نیند میں خراٹے لے رہے ہوتے ہیں تو یہ لوگ اس طرح اٹھتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی اور یہ لوگ کبھی قیام میں کھڑے ہیں ، کبھی رکوع کی حالت میں ہیں اور کبھی رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے…
Read the full tafseer →In the first sentence of verse 9, it was said: أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ (Can (such people be equal to) the one who worships during the hours of the night, prostrating and standing, fearing the Hereafter and having hopes in his Lord's mercy?). The first word: أَمَّنْ (amman) is a combination of two words: اَم (am: an interrogative particle) and: مَن (man: relative pronoun). Before this sentence, the disbelievers have told on behalf of Allah Ta’ ala that they can go ahead and enjoy the fruits of their disbelief and sin during this mortal life, but finally they are doomed to stoke…
Read the full tafseer →28 It should be noted that two kinds of the men are being contrasted here. First, those who turn to Allah when a calamity befalls them, but worship others than Allah normally. Second, those who have made it their permanent way of life to obey Allah and worship and serve Him, and their worshipping Him in solitude during the night is a proof of their sincerity. The first kind of the men have been called ignorant by Allah, even if they might have devoured whole libraries. And the second kind of the men have been called the learned, even if they might be illiterate. For the real supremely…
Read the full tafseer →