Explained with ayahs 10–12
ہرحال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کرسکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہوجاؤں اپنے آپ کو رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الزُّمَر 29
یعنی صرف مان کر نہ رہ جاؤ بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو، جن سے روکا ہے ان سے بچو اور دنیا میں اللہ کے مواخذے سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔
سورة الزُّمَر 30
دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی۔ ان کی دنیا بھی سدھرے گی اور آخرت بھی۔
سورة الزُّمَر 31
یعنی اگر ایک شہر یا علاقہ یا ملک اللہ کی بندگی کرنے والوں کے لیے تنگ ہوگیا ہے تو دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں یہ مشکلات نہ ہوں۔
سورة الزُّمَر 32
یعنی ان لوگوں کو جو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں ہر طرح کے مصائب و شدائد برداشت کرلیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دین…
Read the full tafseer →(آیت) وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ۭ۔ اس سے پہلے جملے میں اعمال صالحہ کا حکم ہے۔ اس میں کوئی یہ عذر کرسکتا تھا کہ میں جس شہر یا ملک میں رہتا ہوں یا جس ماحول میں پھنسا ہوا ہوں، اس کا ماحول مجھے اعمال صالحہ سے روکتا ہے۔ اس کا جواب اس جملے میں دے دیا گیا کہ اگر کسی خاص ملک یا شہر یا خاص ماحول میں رہتے ہوئے احکام شرعیہ کی پابندی مشکل نظر آئے تو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کسی ایسی جگہ اور ایسے ماحول میں جا کر رہو جو اطاعت احکام آلٰہیہ کے لئے سازگار ہو۔ اس میں ترغیب ہے ایسی جگہ سے ہجرت کی جس میں رہتے ہوئے انسان احکام دین کی پابندی نہ کرسکے۔ ہجرت کے مفصل احکام سورة نساء میں آ چکے…
Read the full tafseer →(آیت)
مظلوم مسلمانوں کے لئے پیام تسلی
قریش کے رویہ سے مایوسی کے اظہار کے بعد یہ ان غریب مسلمانوں کو تسلی دی جو قریش کے ہاتھوں ستائے جا رہے تھے۔ پیغمبر ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ میرے ان بندوں کو یہ بات پہنچا دو کہ تم اپنے رب سے ڈرتے رہ۔ یعنی بیوقوف لوگوں نے تو شرک و شفاعت کی راہیں نکال کر خدا کے عدل اور اس کی جزاء و سزا کو بالکل بےمعنی کردیا ہے لیکن تم اپنے رب کے عدل سے برابر ڈرتے رہو۔ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں اچھا صلہ ہے جو اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو جھوٹی شفاعتوں کے بل پر جنت الحمقاء میں زندگی گزار رہے ہیں وہ اپنی اس حماقت کا انجام دیکھ لیں گے۔
وارض اللہ…
Read the full tafseer →10۔ 1 اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت و اطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔
10۔ 2 یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض اس کا مفہوم یہ کرتے ہیں، کہ جو نیکی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے ' یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت و عافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
کہو اے میرے بندو ، جو ایمان ہوئے ہو ، قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) اہل ایمان کی طرف نہایت ہی نظر کرم ہے۔ اصل میں عربی عبارت یوں ہے :
قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) یعنی ان سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ متقی بن جاؤ۔ اپنے رب سے ڈرو۔ لیکن اللہ نے اسے براہ راست پکارہ کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک قسم کا اعلان اور تنبیہہ ہے۔ رسول اللہ ؐ تو مسلمانوں کو (یاعبادی) کہہ کر نہیں پکارتے تھے آپ تو عباد اللہ کہہ کر انہیں پکارتے تھے لیکن یہ اللہ کی نظر کرم ہے کہ وہ حضور ﷺ سے فرماتا ہے کہ (یاعباد) کہہ کر پکارو۔ یوں یہ پکار اللہ کی جانب سے ہو اور حضور اکرم ﷺ اللہ کے ڈائریکٹ خطاب کی حکایت…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ کی طرف سے یہ پیغام پہنچا دو ۔
3 یعنی جس نے دنیا میں نیکی کی آخرت میں اس کے لیے بھلائی دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس نے نیکی کی اس کو آخرت سے پہلے اسی دنیا میں بھلائی ملے گی ظاہری یا باطنی۔
4 یعنی اگر ایک ملک میں لوگ نیک راہ چلنے سے مانع ہوں تو خدا کی زمین کشادہ ہے، دوسرے ملک میں چلے جاؤ جہاں آزادی سے اس کے احکام بجا لا سکو۔ بلاشبہ اس طرح ترک وطن کرنے میں بہت مصائب برداشت کرنا پڑیں گی۔ اور طرح طرح کے خلاف عادت و طبیعت امور پر صبر کرنا پڑے گا، لیکن یاد رہے کہ بیشمار ثواب بھی ملے گا تو صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کی سب سختیاں اور تکلیفیں ہیچ ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 10 { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔“
تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →20 یہاں بھلائی سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اگرچہ مال و دولت بھی اس بھلائی میں شامل ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پرہیزگاروں کو مال و دولت عطا ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں مال و دولت عطا نہ کیا جائے۔ البتہ بھلائی کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں۔ جو انہیں یقیناً حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی سب ہی عزت کرتے ہیں خواہ عزت کرنے والے دیندار ہوں یا دنیا دار۔ ایسے لوگوں کی بات قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور آخرت کی بھلائی جو بہرحال ایسے لوگوں کے لئے یقینی ہے۔
21 حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے پہلے یا اس عرصہ کے…
Read the full tafseer →20۔ (اس لیے اگر کسی خاص سرزمین میں احکام دین پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو ترک وطن کرکے کسی اور ملک میں چلے جاؤ) (آیت) ”۔ للذین ...... حسنۃ “۔ یہ صلہ نیک آخرت میں تو ملتا ہی ہے، باقی دنیا میں نیک کاروں کا تسکین و راحت خاطر کی حد تک ضرور مل جاتا ہے۔ (آیت) ” یا ...... ربکم “۔ یہ تقوی اختیار کرنے کا حکم کن کو مل رہا ہے ؟ ان کو جو پہلے ہی سے مومن ہیں۔ اور یہ خود ایک قوی دلیل ہے (معتزلہ وخوارج کے خلاف) اس حقیقت پر کہ ایمان، عدم تقوی یا فسق یا معصیت کے ساتھ جمع رہ سکتا ہے، ھذا من ادل الدلائل علی ان الایمان یبقی مع المعصیۃ (کبیر) وذلک یدل علی ان الفسق لایزیل الایمان (کبیر)
21۔ (آیت) ” انما “۔ کے کلمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →قل یا عباد الذین امنوا اتقوا ربکم للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ آپ (میری طرف
سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے مؤمن بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ دنیا میں نیکی کرتے ہیں ‘ ان کیلئے اچھا بدلہ ہے۔
اَحْسَنُوْا یعنی ایمان لائے اور خشوع و خضوع کے ساتھ نیک اعمال کئے ‘ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : احسان ( عمل اور عبادت کی خوبی) یہ ہے کہ تم اپنے رب کی اس طرح عبادت کرو ‘ گویا تم اس کو (اپنے سامنے) دیکھ رہے ہو ‘ اگر یہ مشاہدہ تم کو حاصل نہ ہو تو (اتنا ہی سمجھ لو کہ پردۂ غیب سے) وہ تو تم کو دیکھ رہا ہے۔
اَحْسَنُوْا آخرت میں اچھا صلہ ‘ یعنی جنت۔
سدی نے کہا : اس دنیا میں بھلائی ‘ صحت و عافیت ہے۔…
Read the full tafseer →آپ ان سے یہ بھی فرمایئے کہ کیا توحید خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی کو جاننے والے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ثواب و اطاعت اور درجہ میں کہیں برابر ہوسکتے ہیں۔
باقی قرآن کریم کی ان مثالوں سے وہ ہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو کہ عقل والے ہیں۔
نبی اکرم آپ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام سے فرما دیجیے چھوٹے بڑے تمام کاموں میں اپنے پروردگار کی پیروی کرتے رہو جو اس دنیا میں توحید پر قائم ہیں قیامت کے دن ان کو بدلے میں جنت ملے گی۔
اور سرزمین مدینہ منورہ دشمن وغیرہ سے محفوظ ہے اور یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے والوں کو ان کا صلہ بےحساب ملے…
Read the full tafseer →قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ : سورت کے شروع سے توحید کا بیان آرہا ہے، اب بڑی محبت کے ساتھ ایمان والوں کو ”میرے بندو“ کہہ کر انھیں یہ پیغام دینے کا حکم دیا کہ صرف زبان سے توحید کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ ”تَقْوٰی“ ”وَقٰی یَقِيْ وِقَایَۃً“ کا مصدر ہے، اس کا لفظی معنی ”بچنا“ ہے، مراد ایسے تمام کام چھوڑ دینا ہے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے اور ایسے تمام کام کرنا جن کے چھوڑنے سے اس کے عذاب کا ڈر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو۔
لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ“…
Read the full tafseer →اے محمد ! ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو : اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچو اتقوا میں تاء وائو کا بدل ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے مصداق ہضرت جعفر بن ابی طالب ؓ اور صحابہ کرام ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
للذین احسنوا فی ھذا الدنیا حسنۃ حسنہ اولی سے مراد طاعت اور دوسری سے مراد جنت میں ثواب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جنہوں نے دنیا میں نیکی کی ان کے لئے دنیا میں نیکی ہے تو یہ آخرت کے ثواب سے زیادہ ہے (1) دنیا میں زائد حسنہ سے مراد صحت ‘ عافیت ‘ کامیابی اور غنیمت ہے۔ قشیری نے کہا : پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ کافر نے دنیاوی نعمتیں تو حاصل کی ہیں۔
میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ سے مراد ہے کہ میری زمین وسیع ہے پس تم ہجرت کرجاؤ اور بتوں کو چھوڑ دو ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (بلاشبہ کرنے والوں کو پورا پورا ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے) فرمایا نہیں (حساب ہوگا) اللہ کی قسم نہ وہاں ناپنے کا کوئی آلہ ہوگا اور نہ تولنے کا۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ان کے اعمال کے…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے (یعنی میرا پیغام پہنچا دیجئے)] يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندوں جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّقُوْا [تم لوگ تقوی اختیار کرو ] رَبَّكُمْ ۭ [اپنے رب کا ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ] اَحْسَنُوْا [بھلائی کی ] فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا [اس دنیا میں ] حَسَـنَةٌ ۭ [ایک بھلائی ہے ] وَاَرْضُ اللّٰهِ [اور اللہ کی زمین ] وَاسِعَةٌ ۭ [وسیع ہے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يُوَفَّى [پورا پورا دیا جاتا ہے ] الصّٰبِرُوْنَ [ثابت قدم رہنے والوں کو ] اَجْرَهُمْ [ان کا اجر ] بِغَيْرِ حِسَابٍ [کسی حساب کے بغیر ] ۔
نوٹ۔ 1: امام مالک آیت ۔ 10 میں صابرین سے مراد وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ )
اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…
Read the full tafseer →17:۔ ” قل یعباد الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے دنیوی اور اخروی بشارت ہے۔ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہیں اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے منہیات سے احتراز کرتے ہیں۔ جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ ایمان وتقوی پر قائم رہیں گے دنیا میں بھی ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھولدئیے جائیں گے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ ” فی ھذہ الدنیا “ ” حسنۃ “ کے متعلق ہو۔ اور اگر ” فی الدنیا “ ” احسنوا “ کے متعلق ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں اعمال صالحہ بجا لائیں گے وہ آخرت میں اس کا اجر وثواب پائیں گے ” وارض اللہ واسعۃ “ یہ ہجرت کی ترغیب ہے اگر غلبہ کفار کی وجہ سے تم اپنے وطن میں اللہ کے دین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات :
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس حال میں کہ صرف اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ بناؤ نہ اس کی ذات میں ، نہ صفات میں اور نہ ہی ولدیت کا عقیدہ رکھو ، اللہ تعالیٰ واحد اور قہار ہے اور ساری کائنات اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کے تصرف میں ہے ، پھر فرمایا انسانوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جان سے کی ہے اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے فائدے کے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے بنائے ، تمہاری پیدائش بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب طریقے سے کی ماؤں کے پیٹوں کے اندھیروں میں تمہارا ڈھانچہ تیار…
Read the full tafseer →قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ 0 ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا حَسَـنَۃٌ 0 ۭ وَاَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃٌ 0 ۭ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ 10
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ترکیب : امن بالتشدید ام متصلۃ دخلت علی من الموصولۃ و اُدغمت المیم فے المیم، واتصالھا بمحذوف تقدیرہ الکا فرخیر امن ھو قانت وقیل ام منقطعۃ مقدرۃ ببل والھمزۃ ای بل امن ھو قانت کالکافر۔ وقرء بالتخفیف فالھمزۃ الاستفھام امن ھو قانت للہ کمن ھو کافر والخبر محذوف لد لالۃ قولہ قل ھل یستوی۔ وقال الفراء الھمزۃ للنداء ومن منادی ای یامن ھو قانت قل ھل الخ ساجد او قائما حالان۔
تفسیر : اشرار و کفار کی سیرت بیان فرما کر ان کے مقابلہ میں ابرار و اخیار کی صفت بیان فرماتا ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ کے لیے شریک بناتے ہیں، ایک وہ بھی نیک بندے ہیں جو رات کے وقتوں میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ سجدہ و قیام کے…
Read the full tafseer →قُلْ یٰعِبَادِالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّـکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاَسِعَۃٌ ط اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (الزمر : 10)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو، جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسعت رکھنے والی ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب پورا کیا جائے گا۔ )
غریب مسلمانوں کو تسلی
قریش کو تنبیہ اور باخبر کرنے کے بعد ان غریب مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے جو قریش کے ہاتھوں بری طرح اذیتوں کا شکار تھے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عقل مند وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ اور دنیا کے مقابلے میں ایمان کو ترجیح دے اور ایمان کی خاطر وطن چھوڑنا پڑے تو ہجرت کر جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی عظمت اور اہمیت اجاگر فرمانے کے لیے نبی محترم ﷺ کو پے درپے سات مرتبہ لفظ ” قُلْ “ سے حکم دیا ہے۔ اور اس موقعہ پر آخر میں فرمایا : اے نبی ﷺ یہ بات بھی فرما دیں کہ علم والے اور بےعلم یعنی موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لیے موحدین سے فرما دیں کہ کفار اور مشرکین سے ڈرنے کی بجائے صرف اپنے رب سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی۔ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں اچھائی…
Read the full tafseer →10: قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ (کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! تم اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو) اس کے اوامر کو بجا لائو اور نواہی سے گریز کرو۔
قراءت : اکثر قراء کے ہاں یٰعبادِ بغیر یاء پڑھا گیا ہے۔
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّّنْیَا حَسَنَۃٌ (ان لوگوں کیلئے جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک صلہ ہے) یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ : فی احسنواؔ کے متعلق ہے حسنۃ کے ساتھ متعلق نہیں یعنی آیت یہ ہے کہ جو اس دنیا میں اچھائی کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھلائی ہے آخرت کی بھلائی کا مطلب جنت ہے یعنی ان کو ایسی نیکی ملے گی جس کا بیان نہیں…
Read the full tafseer →10، قل یاعباد الذین امنوا اتقواربکم ، اس کی اطاعت کرکے اور اس کی نافرمانیوں سے بچ کر۔ ، للذین احسنوافی ھذہ الدنیا حسنۃ، جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے۔ ، حسنۃ، جنت ہے۔ اس کے قائل قتادہ ہیں اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں ، حسنۃ، یعنی صحت اور عافیت ہے۔ ، وارض اللہ واسعۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی تم مکہ سے کوچ کرو اور اس آیت میں ایسے شہر سے ہجرت کرنے پر ابھارا گیا ہے جہاں معاصی ظاہر ہورہے ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ آیت حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ جس شخص کو کسی شہر میں گناہوں کا حکم دیاجائے وہ وہاں سے کسی دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے…
Read the full tafseer →آیت 10
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقویٰ کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو قویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ” اے سخی ! صدقہ کر “ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ” اے بہادر ! لڑائی کر “ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں انکے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (للذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
25 ایمان وتقویٰ ہی باعث سرفرازی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ایمان اور تقویٰ و پرہیزگاری ہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ " اتِّقُوا " امر کا صیغہ ہے جو کہ ماخوذ ہے " اتقاء " سے جس کے اصل معنیٰ بچنے کے آتے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ تم ہر اس چیز سے بچو اور اس سے احتراز و اجتناب کی پابندی کرو جو تمہارے رب کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ کا باعث ہو کہ یہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ تم ہمیشہ اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر کرو۔ کہ اس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ پس اس کے تمام اوامرو فرامین کو صدق دل سے بجا لاؤ اور اس کی تمام منہیات سے ہمیشہ بچ کر رہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی صرف زبان سے توحید کا اقرار کانی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔ یعنی اس کے اوامرکو بجا لائو اور اس کے نواہی سے باز ہو۔7 یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے یعنی اگر کسی جگہ رہتے ہوئے آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کی جاسکتی ہو تو انہیں چاہیے کہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں جہاں ان کے لئے یہ دشواریاں نہ ہوں۔
8 یعنی خدا پرستی اور نیکی کی راہ میں جو بھی مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں انہیں ہمت و جوانمردی سے برداشت کرتے ہیں مگر راہ حق سے نہیں ہٹتے۔
Read the full tafseer →(39:10) یعاد : ای یا عبادی۔ اے میرے بندو !
الذین امنوا۔ یہ عباد کی تعریف ہے جو ایمان لائے ہیں۔ جو مومن ہیں۔ یعباد الذین امنوا۔ اے میرے مومن بندو ! یا اے میرے بندو جو ایمان آئے ہو۔
اتقوا ربکم : اتقوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر ۔ وقی مادہ سے تم ڈرو ۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ وقی یقی (باب ضرب) وقایۃ ووقاء بمعنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا۔ مثلا ووقھم عذاب الجحیم۔ (44:56) اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ اتقوا ربکم اپنے پروردگار سے ڈرو۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ۔ اس کی مندجہ ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) عبارت یوں ہے !
للذین احسنوا حسنۃ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →ہجرت حبشہ۔
(ف 1) شان نزول : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، کو قبل ہجرت کافرستاتے تھے ان کی تسکین کے لیے یہ آیت اتری کہ اے محبوب ﷺ برگزیدہ بندوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کی فرمانبرداری کرو، دنیا کی چند روزہ تکلیف کا خیال نہ کرو، جو آدمی دنیا میں اچھے کام کرجائیں گے ان کو بھلائی ملے گی، یعنی مذہب مقدس توحید اور اسلام اختیار کریں گے ان کو قیامت میں جنت ورحمت ملے گی پھر فرمایا اگر ایک ملک میں لوگ نیک راہ پر چلنے سے مانع ہوں تو اللہ کی زمین کشادہ ہے ، دوسرے ملک میں چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اس کے احکام بجالاسکو، بلاشبہ اس طرح تک وطن کرنے میں بہت مصائب برداشت کرنے پڑیں گے اور طرح طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[9] یعنی اگر کسی خاص سرزمین میں احکام دین پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو کسی اور جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی سے اللہ کے احکام بجا لا سکو۔
[10] یعنی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق میں سختیاں برداشت کیں اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وطن اور مسلمان
1: اسلامی نقطہ نگاہ سے ملک اور وطن دراصل کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اسلام جس چیز کو زیادہ قابل اعتقاد سمجھتا ہے ۔ وہ عقیدہ ہے اور زندگی کا وہ تصور ہے جو فلاح وسعادت کا ضامن ہے ۔ کیونکہ وطنیت اور قومیت سے جغرافیائی اور نسلی امتیاز وغیرہ پیدا ہوتا ہے اور امن عالم کے لئے اس سے زیادہ کوئی چیز خطرہ کا باعث نہیں ہے ۔ کہ انسانوں کا کوئی گروہ اس غیر حقیقی تغیرات میں الجھ کر عناد وتعصب کا موجب پہنچائے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ عقیدے کی حمایت میں ہر مصیبت کو برداشت کیا جائے ۔ حتیٰ کہ وطن کی آسائش اور اسودگیاں بھی اس وقت کے اعلان پر پابندیاں عائد کردی جائیں ۔ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ساری دنیا کے باشندے…
Read the full tafseer →(10) اے پیغمبر آپ میرے امان والے بندوں سے فرمادیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں بھلے اور اچھے کام کیا کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھی بھلائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع اور فراخ ہے جو لوگ مصائب وآلام پر سہار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے اور صبر کرنے والے ہیں تو سوائے اس کے نہیں کہ ان کے صبر کا صلہ ان کو بیشمار اور ان گنت دیاجائے گا۔ یعنی اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ طاعت اور فرمانبرداری اور خشیت الٰہی اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہا کریں اور بھلائیوں پر مدادست رکھیں کیونکہ جو لوگ اس دنیا میں بھلائی اور نیک کاموں کے خوگرہوتے ہیں ان کو بھلائی یعنی جنت ہے بعض لوگوں نے فی…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی مداوم علی الطاعات و محترز عن المعاصی رہو کہ یہ سب فرع ہیں تقوی کی۔
8۔ اس لئے اگر وطن میں کوئی نیکی کرنے سے مانع ہو تو ہجرت کر کے دوسری جگہ چلے جاو
Read the full tafseer →جن لوگوں کو گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جاننے والے کہا اب ان کو مخاطب کر رہا ہے
10۔ جو اللہ کے نزدیک جاننے والے ہیں ان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے اور مخاطب کرتے وقت ان کو ایمان والو ! کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے کیونکہ یہی لوگ ہیں جن کو حقیقت میں ایمان والے کہا جاسکتا ہے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ہی ہو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہو اور اس بات کے مستحق ہو کہ تم کو دنیا میں بھی نیک کہا جائے اور آخرت میں بھی۔ فرمایا جاہل طبقہ یعنی وہ لوگ جن کو گزشتہ آیت میں نہ جاننے ولاے کہا گیا ہے اگر وہ تم کو تنگ کرلیں اور تمہارا جینا دوبھر کردیں تو وہاں سے ہجرت کر جائو جہاں انہوں نے تمہارا ناطقہ بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
In verse 10, it was said: وَأَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
29 That is, °Do not rest content with belief but follow it up with piety and fear of God. Act according to what Allah has enjoined and avoid what He has forbidden and live in the world fearing His accountability . "
30 Good and well-being both of this world and of the Hereafter.
31 That is, "If one city, territory or land has become difficult for the worshippers of Allah, they may emigrate to another place where they may not have to face any such hardship. "
32 "Those . . . measure" : Those who brave all kinds of hardships and persecutions in following the way of God-worship and piety but do…
Read the full tafseer →