Explained with ayahs 10–12
ہرحال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کرسکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہوجاؤں اپنے آپ کو رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الزُّمَر 29
یعنی صرف مان کر نہ رہ جاؤ بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو، جن سے روکا ہے ان سے بچو اور دنیا میں اللہ کے مواخذے سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔
سورة الزُّمَر 30
دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی۔ ان کی دنیا بھی سدھرے گی اور آخرت بھی۔
سورة الزُّمَر 31
یعنی اگر ایک شہر یا علاقہ یا ملک اللہ کی بندگی کرنے والوں کے لیے تنگ ہوگیا ہے تو دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں یہ مشکلات نہ ہوں۔
سورة الزُّمَر 32
یعنی ان لوگوں کو جو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں ہر طرح کے مصائب و شدائد برداشت کرلیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(آیت)
مخالفوں سے بےتعلقی کا اعلان
مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بےنیازی و بےتعلقی کا اعلان ہے۔ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ اب زیادہ ان کی ناز برداری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کو واضح طور پر بتا دو کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں ؟ اس کی خالص اطاعت کے لئے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں پہلا اسلام لانے والا بنوں، قطع نظر اس سے کہ دوسرے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ حکم قرآن میں جگہ جگہ نبی ﷺ کو دیا گیا ہے بلکہ نبوت کے روز اول ہی سے یہ حکم آپ کو مل چکا تھا۔ اس سورة کے شروع میں بھی یہ نہایت واضح الفاظ میں مذکور ہے فرمایا ہے۔ انا انزلنا الیک الکتب بالحق فاعبد اللہ مخلصاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
12۔ 1 پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
درس نمبر 217 ایک نظر میں
اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔
درس نمبر 217 تشریح آیات
آیت نمبر 11 تا 13
ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
5 چناچہ آپ عالم شہادت میں اس امت کے لحاظ سے اور عالم غیب میں تمام اولین و آخرین کے اعتبار سے اللہ کے سب سے پہلے حکمبردار بندے ہیں۔ ﷺ ۔
Read the full tafseer →آیت 11 { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“
یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ یہ مضمون اس سورت کا عمود ہے اور اس میں بار بار آئے گا۔ چناچہ اس مضمون کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ہرچیز کی طرح عبادت کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک اس کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت کا ظاہر اس کی رسومات ہیں۔ ”رسم“ کسی شے کی ظاہری شکل کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لکھائی میں جو حروف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
22 ہر نبی سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور احکام الہٰی کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے :۔ ہر نبی پر یہ واجب ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لائے۔ پھر دوسروں کو دعوت دے۔ اسی طرح اس پر یہ بھی واجب ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم نازل ہو سب سے پہلے خود اس پر عمل کرے اور اپنی ذات کو بطور نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرے پھر دوسروں کو دعوت دے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی زبان سے یہ بات کہلوائی کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ خالصتا ً اللہ اکیلے کی عبادت کروں اور اس حکم پر سب سے پہلے میں خود سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
22۔ دو حکموں کا ذکر ہے، پہلا حکم بلاشائبہ شرک خالص توحیدی عبادتوں کا ہے، یہ حکم بحیثیت مسلم کے ملا۔ دوسرا حکم مسلمین میں سب سے اول ہونے کا بحیثیت نبی ہونے کا ملا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →قال انی امرت ان اعبد اللہ مخلصا لہ الدین۔ آپ کہہ دیجئے : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت اس طرح کروں کہ اسی کیلئے عبادت کو خالص رکھوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 12) اور آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے جبکہ وہ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ آپ ان کے آبائی دین کو اختیار کرلیں کہ مجھ کو بذریعہ قرآن کریم یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت و توحید کو اس کے لیے خالص رکھوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اسلام لانے میں سب سے پہلا میں ہوں۔
اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
Read the full tafseer →قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ۔۔ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ) [ الزمر : 2 ] اب نبی ﷺ کو حکم دیا کہ کہہ دے مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ اپنی بندگی، اطاعت اور نیت کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں۔ تفصیل اسی سورت کی آیت (2) میں دیکھیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11 ۔ 16:۔ قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصالہ الدین۔ سورت کے آغاز میں یہ گزر چکا ہے۔ و امرت الان اکون اول المسلمین۔ یعنی اس امت کا پہلا مسلمان ہوں بات حقیقت میں ایسے ہی تھے کیونکہ آپ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے آباء کے دین کی مخالفت کی ‘ بتوں سے لا تعلق ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس پر ایمان لائے اور اس امر کی طرف دعوت دی لا اکون میں لام زائد ہے یہ جر جانی اور دوسرے علماء نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ لام اجل ہے اس کلام میں حذف ہے یعنی مجھے عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔
قل قنی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اس سے مراد یوم قیامت کے عذاب ہے۔ یہ اس وقت کہا جب ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ سے مراد ہے کہ میری زمین وسیع ہے پس تم ہجرت کرجاؤ اور بتوں کو چھوڑ دو ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (بلاشبہ کرنے والوں کو پورا پورا ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے) فرمایا نہیں (حساب ہوگا) اللہ کی قسم نہ وہاں ناپنے کا کوئی آلہ ہوگا اور نہ تولنے کا۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ان کے اعمال کے…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنِّىْٓ اُمِرْتُ [کہ مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ [کہ میں بندگی کروں اللہ کی ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَّهُ الدِّيْنَ [اس کے لئے دین کو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ )
اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
18:۔ ” قل انی امرت الخ “ یہ دلیل، دلیل وحی ہے، مجھے وحی کے ذریعے سے حکم دیا گیا ہے کہ میں خالصۃً اللہ کی عبادت کروں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں اور یہ حکم مجھے اس لیے دیا گیا ہے تاکہ دنیا و آخرت میں میں تمام مسلمانوں پر مقدم و سابق رہوں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں اس امت میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا ہوں۔ ای امرت بالاخلاص لاجل ان اکون مقدمہم فی الدنیا والاخرۃ لان قصب السبق انما ھو بالاخلاص او لکونی اول من اسلم من قریش و من دان بدینہم (مظہری، بیضاوی، روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…
Read the full tafseer →قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّيْنَ 11ۙ
أمر
الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :
إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123]
( ا م ر ) الامر
( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔
{ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ترکیب : ان اعبد اللّٰہ مفعول لامرت مخلصًا حال من الضمیر الفاعل فی اعبد الذین منصوب بمخلص لان اللام زائدۃ والجملۃ مفعول مالم یسم فاعلہ لامرت ویمکن ان یکون المفعول ضمیر افی امرت ای انا ولان متعلق بامرت واول المسلمین خبرا کون عذاب الخ مفعول لاخاف ان عصیت ربی شرط و جو ابہ محذوف الذین خسروا خبران یوم القیامۃ منصوب بخسروا ظلل جمع ظلہ مبتدء لہم خبرہ من فوقہم حال من ظلل ای کانتہ من فوقہم من النار لغت لھا۔
تفسیر : (2) دوسری بات جس کے کہنے کا رسول کو حکم دیا۔ یہ ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ، اول تو انسان کی درستی کے لیے نازیبا باتوں کا ترک لازم ہے تاکہ آئینہ دل اور نقش و نگار سے صاف ہوجاوے، تب اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰہَ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ (الزمر : 11، 12)
(اے نبی کہہ دیجیے ! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔ )
مخالفین سے بےنیازی
مسلمانوں کے لیے کلماتِ تحسین اور ان کے لیے بےحد و حساب اجروثواب کی بشارت دینے کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ حالات چاہے کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں آپ مخالفین کو صاف صاف بتادیں کہ افہام و تفہیم اور ابلاغ و تبلیغ میری ذمہ داری ہے اس کے لیے میں نے کوئی کمی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ایمانداروں کو حکم ہوا کہ اگر کسی جگہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی کشادہ ہے۔ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دین پر عمل کرنا ہوگا۔ الدّین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے جس کے لیے ہر چیز قربان کردینی چاہیے۔
اے رسول ﷺ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکت غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے…
Read the full tafseer →1 1: قُلْ اِنِّیْ ٓ اُمْرِتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ (کہہ دیجئے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں) ای بان اعبد اللہ باء محذوف ہے۔ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (کہ عبادت کو اسی کے لیے خالص رکھوں) مجھے دین کے اخلاص کا حکم ہوا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 11، قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصا لہ الدین، اس کے لیے توحید کو خالص کرتے ہوئے کہ میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
آیت 11
(1) صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ (انما قولنا لشئی اذآردنہ) ح :836 و صحیح مسلم الجھاد باب قولہ ﷺ لانزال صائفۃ من امتی۔۔۔ ح :1920
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
25 ایمان وتقویٰ ہی باعث سرفرازی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ ایمان اور تقویٰ و پرہیزگاری ہی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ " اتِّقُوا " امر کا صیغہ ہے جو کہ ماخوذ ہے " اتقاء " سے جس کے اصل معنیٰ بچنے کے آتے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ تم ہر اس چیز سے بچو اور اس سے احتراز و اجتناب کی پابندی کرو جو تمہارے رب کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ کا باعث ہو کہ یہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے کہ تم ہمیشہ اس کی ناراضگی سے بچنے کی فکر کرو۔ کہ اس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ پس اس کے تمام اوامرو فرامین کو صدق دل سے بجا لاؤ اور اس کی تمام منہیات سے ہمیشہ بچ کر رہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 9 یعنی اس طرح کہ میری بندگی میں شرک اور ریا کا کوئی شائبہ نہ ہو۔10 یعنی اللہ تعالیٰ کی جس توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دوں، سب سے پہلے خود اس پر کار بند ہوں، چناچہ نبی ﷺ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے باپ دادا کے دین سے انکار کیا اور لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔
Read the full tafseer →(39:11) ان اعبداللّٰہ۔ میں ان مصدریہ ہے یا مفسرہ۔
مخلصا لہ الدین۔ ملاحظہ ہو 39:2 متذکرہ بالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
نیک اور بد کا انجا۔
(ف 2) کافروں نے کہا، اے رسول ﷺ تم بت پرستی چھڑاتے ہو اس کو برا کہتے ہو آخرہم نے تو نہیں نکال لی، پرانے زمانوں سے بڑے بڑے عقلاء اور باپ دادا کرتے چلے آئے کسی نے بھی برا کہا، تم کو چاہیے کہ انہیں کی اتباع پرچلو، اور خلاف راہ آبائی جو باتیں کررہے ہو ان کو ترک کردو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیاگی ا ہے کہ فقط اسی کی عبادت کروں توحید خالص نہایت اخلاص سے سچے دل سے مانوں اور اپنا دین عبادت اسی کے لیے مخصوص کردوں، اور یہ کہ اس زمانہ میں کہ توحید کا نام باقی نہ رہا ہے ، میں سب پہلے خود مسلمان ہوں بعد میں اوروں کو کروں، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[9] یعنی اگر کسی خاص سرزمین میں احکام دین پر عمل کا موقع نہیں ملتا تو کسی اور جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی سے اللہ کے احکام بجا لا سکو۔
[10] یعنی ان لوگوں کو جنہوں نے راہ حق میں سختیاں برداشت کیں اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وطن اور مسلمان
1: اسلامی نقطہ نگاہ سے ملک اور وطن دراصل کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ اسلام جس چیز کو زیادہ قابل اعتقاد سمجھتا ہے ۔ وہ عقیدہ ہے اور زندگی کا وہ تصور ہے جو فلاح وسعادت کا ضامن ہے ۔ کیونکہ وطنیت اور قومیت سے جغرافیائی اور نسلی امتیاز وغیرہ پیدا ہوتا ہے اور امن عالم کے لئے اس سے زیادہ کوئی چیز خطرہ کا باعث نہیں ہے ۔ کہ انسانوں کا کوئی گروہ اس غیر حقیقی تغیرات میں الجھ کر عناد وتعصب کا موجب پہنچائے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ عقیدے کی حمایت میں ہر مصیبت کو برداشت کیا جائے ۔ حتیٰ کہ وطن کی آسائش اور اسودگیاں بھی اس وقت کے اعلان پر پابندیاں عائد کردی جائیں ۔ قرآن کہتا ہے ۔ کہ ساری دنیا کے باشندے…
Read the full tafseer →(11) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے مجھ کو تویہی حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص خدا کی ہی کے اعتقاد سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 9۔ یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو۔
Read the full tafseer →آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے دین خالص ہی کی ہدایت کی گئی ہے
11۔ گزشتہ آیت میں ایمان والوں کو نصیحت کی گئی ہے اور زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ سے اعلان کروایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں جو تم کو توحید کا درس دے رہا ہوں اور نصیحت کر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں صرف تم ہی کو اس بات کا حکم دے رہ اس ہوں اور ” اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت “ کا مصداق ہو رہا ہوں ، ہرگز نہیں میرے رب نے مجھے بھی ایسا ہی کرنا کا حکم دیا ہے اور حق بات پر ثابت قدم رہنے اور شمع توحید کر روشن رکھنے کی تاکید کی ہے اور میری زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کی خبر دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
In verse 10, it was said: وَأَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
29 That is, °Do not rest content with belief but follow it up with piety and fear of God. Act according to what Allah has enjoined and avoid what He has forbidden and live in the world fearing His accountability . "
30 Good and well-being both of this world and of the Hereafter.
31 That is, "If one city, territory or land has become difficult for the worshippers of Allah, they may emigrate to another place where they may not have to face any such hardship. "
32 "Those . . . measure" : Those who brave all kinds of hardships and persecutions in following the way of God-worship and piety but do…
Read the full tafseer →