Explained with ayahs 7–8
فرماتا ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بےنیاز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہوجائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 23
انسان سے مراد یہاں وہ کافر انسان ہے جس نے ناشکری کی روش اختیار کر رکھی ہو۔
سورة الزُّمَر 24
یعنی اس وقت اسے وہ دوسرے معبود یاد نہیں آتے جنہیں وہ اپنے اچھے حال میں پکارا کرتا تھا، بلکہ ان سب سے مایوس ہو کر وہ صرف اللہ رب العالمین کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے بےاختیار ہونے کا احساس رکھتا ہے اور اس حقیقت کا شعور بھی اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں دبا چھپا موجود ہے کہ اصل اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔
سورة الزُّمَر 25
یعنی وہ برا وقت پھر اسے یاد نہیں رہتا جس میں وہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خلاصہ تفسیر
(اے لوگو تم نے کفر و شرک کا بطلان سن لیا، اس کے بعد) اگر تم کفر کرو گے (جس میں شرک بھی داخل ہے) تو خدا تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) تمہارا (اور تمہاری عبادت کا) حاجت مند نہیں (کہ تمہارے عبادت و توحید اختیار نہ کرنے سے کچھ اس کو ضرر پہنچے) اور (یہ بات ضرور ہے کہ) وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا (کیونکہ کفر سے بندوں کو ضرر پہنچتا ہے) اور اگر تم شکر کرو گے (جس کی فرد اعظم ایمان ہے) تو (اس کو کوئی نفع نہیں مگر چونکہ تمہارا نفع ہے اس لئے وہ) اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور (چونکہ ہمارے یہاں قاعدہ مقرر ہے کہ) کوئی کسی کا بوجھ (گناہ) کا نہیں اٹھاتا (اس لئے کفر کر کے…
Read the full tafseer →واذا من الانسان ضرد عادیہ منیباً الیہ ثم اذا اخولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوآ الیہ من قبل وجعل للہ انداد بیضل عن سبیدہ قل تمتع بکفرک قلیلاً انک من اصحاب النار (8)
انسان کی ناشکری پر تعجب اور افسوس
یہ انسان کی اس ناشکری کے رویہ پر تعجب اور فاسوس کا اظہار ہے کہ اس کا عجیب حال ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ بڑے تضرع اور بڑی انات کے ساتھ خدا سے فریاد کرتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنے فضل سے بہرہ مند کردیتا ہے تو وہ اپنی مصیبت کو بھول جاتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے فضل کو دوسرے شریکوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور اس طرح خود بھی خدا کی راہ سے برگشتہ ہوتا ہے،…
Read the full tafseer →8۔ 1 یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے دعا کرتا تھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارتا تھا اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
2: اس سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء (علیہم السلام)
3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورة انعام : 143 میں گذرا ہے۔
4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورة حج : 5 اور سورة مومنون : 14 میں گذری ہے، اور…
Read the full tafseer →درس نمبر 216 ایک نظر میں
پہلے سبق میں یہ بات کہی گئی کہ تخلیق انسان کی کہانی کیا ہے۔ یہ کہ تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر اسی نفس سے ایک جوڑا بھی بنایا گیا ہے۔ پھر مویشیوں کو بھی بیشمار جوڑوں کی صورت میں بنایا گیا ہے۔ اور پھر تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تخلیق کے بعد تخلیق تمہیں دی اور تین ظلمتوں کے اندر تمہیں پیدا کیا ۔ پھر اللہ نے تمہیں انسانی خصوصیات عطا کیں اور پھر ان خصائص کا نظام تسلسل قائم کیا اور اس کو ترقی دی۔
اب یہاں انسانوں کی تفسیاتی دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں کہ خوشی اور غم اور امن وخوف کے وقت اس کی حالت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر کمزور ہیں اور کس قدر متلون مزاج ہیں اور کس…
Read the full tafseer →11 یعنی انسان کی حالت عجیب ہے۔ مصیبت پڑنے پر تو ہمیں یاد کرتا ہے کیونکہ دیکھتا ہے کوئی مصیبت کو ہٹانے والا نہیں۔ پھر جہاں اللہ کی مہربانی سے ذرا آرام و اطمینان نصیب ہو امعاً وہ پہلی حالت بھول جاتا ہے جس کے لیے ابھی ابھی ہم کو پکار رہا تھا۔ عیش و تنعم کے نشہ میں ایسا مست و غافل ہوجاتا ہے گویا کبھی ہم سے واسطہ ہی نہ تھا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسرے جھوٹے اور من گھڑت خداؤں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو خدائے واحد کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔
12 یعنی اچھا کافر رہ کہ چند روز یہاں اور عیش…
Read the full tafseer →آیت 8 { وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ } ”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے“
{ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْٓا اِلَـیْہِ مِنْ قَـبْلُ } ”پھر جب وہ عطا کردیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے“
خَوَّلَ کے لفظی معنی اوڑھانے اور لپیٹنے کے ہیں۔ اردو لفظ ”خول“ اسی سے مشتق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے گرد اپنی نعمت کا خول بنا دیتا ہے ‘ اسے اپنی نعمت اوڑھا دیتا ہے یا اپنی نعمت کے اندر اسے لپیٹ لیتا ہے۔
{ وَجَعَلَ…
Read the full tafseer →17 جمعرات کو مزاروں پر حاضری دینے والے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار اور جاہل قسم کے انسان کی فطرت بیان فرمائی ہے جو مزاروں پر جمعرات کو حاضری دینے میں اپنی سب سعادت سمجھتا ہے۔ اس سے زیادہ اسے نہ دین کے سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ وہ اس کے لئے کوئی کوشش کرتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا بس اللہ کے ان پیاروں کے سہارے ہی قائم ہے۔ جو ان مقبروں اور مزاروں میں موجود زندہ ہیں اور لوگوں کی داد رسی کر رہے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہی عقیدے مشرکین مکہ کے اپنے بتوں سے وابستہ تھے۔ ایسے لوگوں کو جب کوئی ایسی مصیبت بن جاتی ہے کہ موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →17۔ (آیت) ” اذا مس الانسان “۔ آیت میں انسان سے مراد ناشکرگزر، کافر و مشرک قسم کا انسان ہے، کہ جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جب تو وہ اخلاص کے ساتھ توحید کا قائل ہوجاتا ہے، اور اللہ کو پکارنے لگتا ہے، اور جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے اور اس کی بجائے نعمت راحت وامن اسے مل جاتی ہے تو وہ اپنی اس تکلیف کو بھول بھال کر نہ صرف یہ کہ خود بدستور پھر گمراہی میں پڑجاتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے لگتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے مہلت چند روزہ ہے اور انجام کار دوزخ ہے۔ الظاھر ان الانسان ھنا جنس الکافر (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ما کان یدعو الیہ من
قبل اور (کافر) آدمی کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کو اسکی طرف (دل سے) رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے ‘ پھر جب اللہ اپنی طرف سے اس کو نعمت (امن ‘ آسائش ‘ سکھ) عطا فرما دیتا ہے تو جس (دکھ کو دور کرنے) کیلئے پہلے وہ اللہ کو پکار رہا تھا ‘ اس کو بھول جاتا ہے۔
مُنِیْبًا رجوع کرنے والا ‘ فریاد کرنے والا۔
اِذَا خَوَّلَہٗ جب اللہ اس کو نعمت دے دیتا ہے ‘ یا صاحب حشمت اور خادموں والا بنا دیتا ہے۔
خَوَّل خدمتی لوگ۔ رسول اللہ ﷺ نے غلاموں کے بارے میں فرمایا تھا : یہ تمہارے بھائی ہیں ‘ تمہارے خدمت گذار ہیں ‘ اللہ نے ان کو…
Read the full tafseer →اور جب آدمی کو جیسا کہ کافر ابو جہل ہے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار حقیقی کی طرف خاص توجہ کے ساتھ ہاتھ پھیلا کر تکلیف اور سختی کو دور کرنے کے لیے اسی کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ تکلیف کو نعمت کے ساتھ تبدیل کرتا تو اور اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گمراہ کرتا ہے۔
آپ ابوجہل وغیرہ سے فرما دیجیے کہ کفر کی بہار دنیاوی زندگی میں تھوڑے دنوں تک اور لوٹ لے تو پھر یہ دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ : اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے بہت سے دلائل اور انھیں دیکھنے کے بعد شکر یا کفر کرنے والوں کا انجام بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش حالی اور بدحالی میں انسان کی طبیعت کا ذکر فرمایا، ساتھ ہی بتادیا کہ دونوں حالتوں میں مومن و کافر اور عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔ آیت میں ’ الانسان“ سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس کے متعلق آگے آ رہا ہے : (وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا) کہ نعمت ملنے پر وہ اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے۔ جن مشرک انسانوں کا یہاں ذکر ہے وہ کم از کم مصیبت میں تو ایک اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے کئی اسلام کے دعوے دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8 ۔ 9:۔ الانسان سے مراد کافر ہے ضر سے مراف فقر اور آزمائش میں سختی ہے منیبا الیہ یعنی اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس شت کو زائل کرنے میں مدد چاہتے ہوئے خولہ اسے عطا کی اور اسے مالک بنایا ‘ یہ جملہ بولا کہا جاتا ہے : خولک اللہ الشی اللہ تعالیٰ نے تجھے اس چیز کا مالک بنایا۔ ابو عمرو بن علاء یہ شعر پڑھا کرتا ہے :
ھنالک ان یستخو لوا المال یخولوا (1)
ان سے اگر مال عاریۃ مانگا جائے تو وہ ادھار دے دیتے ہیں۔
خول الرجل سے مراد اس کے خدام ہیں اس کی واحد خائل ہے۔
ابو النجم نے کہا :
اعطی فلم یبخل ولم یبخل کو م الذری من خول المخول (1)
نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل وہ اسی…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعا ربہ منیبا الیہ “ (تو اپنے رب کو اس کی طرف دل سے رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے) یعنی خالص اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے (اپنے رب کو پکارتے ہے )
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ [اور جب کبھی چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ ضُرٌّ [انسان کو کوئی تکلیف ] دَعَا رَبَّهٗ [تو وہ پکارتا ہے اپنے رب کو ] مُنِيْبًا [متوجہ ہونے والا ہوتے ہوئے ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] ثُمَّ اِذَا [پھر جب ] خَوَّلَهٗ [وہ عطا کرتا ہے اس کو ] نِعْمَةً [کوئی نعمت ] مِّنْهُ [اپنی طرف سے ] نَسِيَ [تو وہ بھول جاتا ہے ] مَا [اس کو جو ] كَانَ يَدْعُوْٓا [وہ پکارتا رہتا تھا ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ] مِنْ قَبْلُ [اس سے پہلے ] وَجَعَلَ لِلّٰهِ [اور وہ بناتا ہے اللہ کے لئے ] اَنْدَادًا [کچھ ہم پلہ ] لِّيُضِلَّ [تاکہ وہ بہکائے (کسی کو)] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ [اس کی راہ سے ] قُلْ [آپ ﷺ کہہ دیجئے ] تَمَــتَّعْ…
Read the full tafseer →تکلیف پہنچتی ہے تو انسان اپنے رب کو توجہ کے ساتھ پکارتا ہے اور نعمت کے زمانے میں دعاؤں کو بھول جاتا ہے
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کا مزاج بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچ جائے تو اپنے رب کی طرف رجوع کرکے پکارنا شروع کردیتا ہے دعا پر دعا کرتا چلا جاتا ہے جو دوسرے معبود بنائے ہوئے رہتا ہے ان سب کو یکسر بھول جاتا ہے اور خالص اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو اس حاجت و ضرورت کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ سے دعا مانگی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرنے لگتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →فراموشی و غفلت انسان از رب منعم درحالت نعمت و اضطراب وانابت در مصیبت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واذا مس الانسان ...... الی ...... من اصحب النار “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اللہ رب العزت نے اپنی شان بےنیازی بیان فرمائی اب اس کے بالمقابل انسان کی اس فطری ونائت کا ذکر کیا رہا ہے جس میں بالعموم وہ مبتلا ہوتا ہے اس دنائت وکمینگی سے پاک کرنے والی چیز صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات وتعلیمات ہیں اور اس امر کا احساس و شعور کو خدا کے اس پر کیسے عظیم انعامات ہیں اور انعامات کا تقاضا ہے اور انسان ہر حالت میں اپنے رب کے ساتھ تعلق رکھے نعمتوں میں شاکر بن کر خدا سے رابطہ رکھے اور تکلیف ومشقت میں صابر ہو کر…
Read the full tafseer →13:۔ “ و اذا مس الخ “ یہ زجر دوم ہے بصورت شکوی۔ ” الانسان “ سے انسان کافر مراد ہے (مدارک، قرطبی) انسان کافر و مشرک کا یہ ھال ہے کہ اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے مزعومہ کارسازوں سے ناامید ہو کر پوری توجہ اور یکسوئی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے انعام و احسان سے سرفراز فرما دیتا ہے تو اس منعم حقیقی کو بھول جاتا ہے۔ جسے پہلے مصیبت کے وقت پوری تضرع و عاجزی سے پکارتا رہا۔ یا اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کی خاطر اللہ کو پکارتا رہا اور پھر سے اللہ کے ساتھ عبادت اور پکار میں شرک کرنے لگتا ہے۔ اور اللہ کے انعامات کو معبودانِ باطلہ کا احسان قرار دیتا ہے۔ ” نسی ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ربط آیات :
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس حال میں کہ صرف اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ بناؤ نہ اس کی ذات میں ، نہ صفات میں اور نہ ہی ولدیت کا عقیدہ رکھو ، اللہ تعالیٰ واحد اور قہار ہے اور ساری کائنات اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کے تصرف میں ہے ، پھر فرمایا انسانوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جان سے کی ہے اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے فائدے کے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے بنائے ، تمہاری پیدائش بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب طریقے سے کی ماؤں کے پیٹوں کے اندھیروں میں تمہارا ڈھانچہ تیار…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِيْبًا اِلَيْہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلہِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِہٖ 0 ۭ قُلْ تَمَــتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا 0 ۤۖ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ 8
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ فرمایا تھا کہ انی تصرفون کہاں بہکے جارہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کیوں بھٹکتے پھرتے ہو۔ اس پر ایسے لوگوں کا گمان جاسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری بڑی ضرورت اور ہمارے ایمان و شکر گزاری کی بڑی حاجت ہے جو ہم کو بلاتا ہے، اس کا دفعیہ کرتا ہے، ان تکفروا الخ کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور اس کو تمہاری شکر گزاری کی حاجت بھی نہیں، ہاں یہ ہے کہ اگر بندے اس کی ناشکری و کفران نعمت کرتے ہیں تو وہ اس کو پسند نہیں کرتا، ناخوش ہوتا ہے اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اس کو پسند کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔
اس آیت سے معتزلہ نے استدلال…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَ عَارَبَّـہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَـہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَاکَانَ یَدْعُوْٓا اِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّـیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلاً صلے ق اِنَّـکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۔ (الزمر : 8)
(جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے صرف اسی کی طرف متوجہ ہوکر، پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے پہلے پکارتا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ اس راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کچھ دنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ مشرک اپنے عقیدہ اور بات میں جھوٹا ہے۔ اب اس کے جھوٹ کا عملی ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔
یہاں انسان سے مراد مشرک انسان ہے۔ مشرک کو تکلیف پہنچتی تو وہ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، پھرتا، رات اور دن اپنے رب کو پکارتا اور اس کے حضور فریادیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد فراخی اور غم کے بعد اسے خوشی نصیب کرتا ہے تو مشرک کو نہ اپنی فریادیں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی رب یاد رہتا ہے۔ رب کو یاد رکھنا تو دور کی بات وہ نام و نہاد مسلمان کہلوانے کے باوجود اس بات کا دعویٰ اور پرچار کرتا ہے کہ میری حاجت روائی اور مشکل کشائی فلاں بزرگ…
Read the full tafseer →کافر کا طرز عمل :
8: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ (اور آدمی کو جب پہنچتی ہے) انسان سے یہاں ہر کافر یا ابو جہل مراد ہے۔ ضُرٌّ (آزمائش و تکلیف) اور مس کا لفظ اعراض کے لیے بطور مجاز بولا گیا۔ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ (تو اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کر کے پکارنے لگتا ہے) دعا سے اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے اس کے غیر سے دعا نہیں کرتا۔ ثُمَّ اِذَا خَوَّ لَہٗ (پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو عطاء فرماتا ہے) ۔ نِعْمَۃً مِّنْہُ (اپنی طرف سے نعمت) ہ کی ضمیر اللہ عزوجل کی طرف لوٹتی ہے۔ نَسِیَ مَاکَانَ یَدْعُوْآ اِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ (تو جس کے لیے پہلے سے پکار رہا ہے اس کو بھول جاتا ہے) یعنی اپنے اس رب کو…
Read the full tafseer →تفسیر 8، واذامس الانسان ضردعاربہ منیبا الیہ، اس کی طرف فریاد کرتے ہوئے لوٹے، لتم اذا خولہ نعمۃ منہ، اس کو اپنی طرف سے نعمت دے۔ ، نسی، وہ چھوڑدے۔ ، ماکان یدعوا الیہ من قبل ، یعنی اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کے دور کرنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تھا۔ ، وجعل للہ اندادا، یعنی بتوں کو، لیضل عن سبیلہ، تاکہ اللہ کے دین سے پھسل جائے۔ ، قل، اس کافرکو، تمتع بکفرک قلیلا، دنیا میں اپنی موت تک، ان من اصحاب النار، بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ابوحذیفہ بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عام ہے ہر کافر کے بارے…
Read the full tafseer →8۔ سورة العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ جب یہ مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور دریا کے جوش کے سبب سے کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا تو ایسے وقت پر اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتے اور خالص اللہ سے ہی ڈوب جانے کی مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی تو پھر ترک میں گرفتار ہوجاتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورة العنکبوت کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ ان لوگوں کے دل اس بات کو جانتے تھے کہ مصیبت کے وقت سوا اللہ کے اور کسی میں مصیبت کو راحت میں بدل دینے کی قدرت نہیں۔ لیکن راحت کے وقت یہ لوگ اس بات پر قائم نہیں رہتے بلکہ مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مصیبت کے ٹل جانے کی جو التجا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 8
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندے پر انے فضل و کرم اور اپنے احسان اور بندے کی ناشکری کا ذکر کرتا ہے۔ بندے کو جب مرض اور فقر وفاقہ وغیرہ کی کوئی تکلیف پہنچی ہے یا وہ سمندر وغیرہ میں گھر جاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا کہ اس صورت حال میں اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا تو نہایت عاجزی اور انابت کے ساتھ اسے پکارتا ہے اور اس مصیبت کو دور کرنے میں گڑگڑا کر اس سے مدد طلب کرتا ہے ” پھر جب اللہ تعالیٰ اسے نعمت سے نواز دیتا ہے “ اور اس سے مصیبت اور تکلیف کو دور کردیتا ہے تو وہ اس تکلیف اور مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا تھا اور اس طرح گزرتا ہے گویا اس پر کبھی کوئی مصیبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →16 توحید خداوندی فطرت سلیمہ کی پکار : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید خداوندی فطرت سلیمہ کی پکار ہے۔ اس لیے مشرک انسان بھی مصیبت کے وقت اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سو یہ فطرت کی وہ صدا و پکار ہے جو ہر انسان کے اندر قدرت کی طرف سے ودیعت فرمائی گئی ہے۔ مگر ہائے افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک نے اپنی فطرت سلیمہ کو اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا ہے کہ وہ سختی اور تکلیف کے ایسے مواقع پر بھی خدائے پاک کی بجائے اس کی عاجز مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے۔ کہیں وہ کہتا ہے " یا علی مدد "۔ کہیں " یا بہاؤ الحق بیڑا دھک "۔ کہیں " معین الدین اجمیری پار لگا دے کشتی میری " اور کہیں " یا پیر دستگیر " وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی خدا کو بھول جاتا ہے۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کے دفع کرنے کے لئے وہ اس نعمت کے ملنے سے پہلے خدا کو پکارتا تھا “۔2 یعنی اللہ کی راہ ( اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ بہت سے جھوٹے معبودوں اور پیروں فقیروں کو خدا کے برابر قرار دے کر ان سے جھوٹی کرامتیں منسوب کرتا ہے اور لوگوں میں ان کا چرچا کرتا پھرتا ہے۔
Read the full tafseer →(39:8) مس ماضی واحد مذکر غائب۔ مس مصدر باب نصر۔ چھونا۔ لاحق ہونا۔ اذا مس الانسان ضر جب انسان کو کوئی تکلیف (مرض وغیرہ) پہنچتی ہے۔
الانسان۔ ھذا وصف للجنس بحال بعض افرادہ جنس کے بعض افراد کی حالت پر جنس کو محمول گرداننا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان الانسان لظلوم کفار (14:34) انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔ الانسان سے یہاں مراد جنس کافر ہے نہ کہ تمام جنس انسان۔
منیبا الیہ : منیبا اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ مصدر افعال۔ نوب مادہ۔ خلوص عمل کے ساتھ اللہ سے توبہ کرنا۔ منیبا الیہ الانسان کا حال ہے۔ دعا ربہ منیبا الیہ۔ اپنے رب کو اس کی طرف دل سے رجوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →(ف 3) کافروں کو جب کوئی مصیبت اور سختی پہنچتی ہے بلا میں پڑتے ہیں تو اس وقت خدا یا دآتا ہے خوب خدا کو پکارتے ہیں کہ یا اللہ یہ مصیبت ٹل جائے اور اللہ سے عاجزی کرتے ہیں اس کی طرف بخضوع وخشوع متوجہ ہوتے ہیں پھر جب خدا اپنی رحمت سے وہ سختی دور کردیتا ہے اور نعمت دیتا ہے تو اب سب خد ا کی یاد بھول جاتا ہے اور مصیبت میں جو خدا کو یاد کرتا تھا وہ سب فراموش کردیتا ہے اور ایساغافل ہوجاتا ہے کہ گویا کبھی ہم سے واسطہ ہی نہ تھا، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا دوسرے جھوٹے اور من گھڑت خداؤں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو خدائے واحد کے ساتھ کرنا چاہیے تھا، اس طرح خود بھی گمراہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔
[6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔
[7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔
[8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اللہ کو کفر پسند نہیں ہے
1: یعنی اللہ کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے اظہار عقیدت سے اس کی عظمت و رفعت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بجائے خود اس جلالت قدر کا مالک ہے ۔ جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی ۔ تمام دنیا اس کا انکار کردے ۔ اس کی مخالفت کرے ۔ اور اس کو جو چاہے کہے ۔ وہ جب بھی بیشمار حمدوستائش کا اہل ہے ۔ اور بہرحال متعال اور بزرگ ومحترم ہے ۔ اس کی بلندیاں انسانی مدح وتعریف پر مبنی نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو اس لئے رب عظمت وشان ہے کہ ساری کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اور تمام صفات حسن و جمال سے وہ ازل سے متصف ہے ہاں اگر تم ایمان کی نعمت کو قبول کروگے اور اس کے سامنے جھکو گے ۔ تو…
Read the full tafseer →(8) اور انسان کو جب کوئی سختی اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی جانب پوری طرح رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیتا ہے تو جس سختی کو دور کرنے کے لئے وہ اس نعمت سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پکاررہا تھا وہ اس کو بھول جاتا ہے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور شریک ٹھہرانے اور بنانے لگتا ہے جس کا انجام اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی کے علاوہ دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے بےراہ اور گمراہ کرتا ہے۔ اے پیغمبر آپ ایسے شخص سے کہہ دیجئے کہ تو اپنے کفر اور ناسپاسی مراد ہے کہ جب کوئی بلا اور سختی آتی ہے تو مشرک اپنے معبودوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 2۔ کیونکہ فکر سے بندوں ضرر پہنچتا ہے۔
3۔ کیونکہ اس میں تمہارا نفع ہے۔
4۔ اس لئے کفر کر کے یوں نہ سمجھنا کہ ہمارا کفر دوسرے کے نامہ اعمال میں کسی وجہ سے درج ہوجاوے گا، اور ہم بری ہوجاویں گے، غرض تمہارا کفر تمہارے جرائم میں لکھا جاوے گا۔
5۔ پس یہ گمان بھی غلط ہے کہ ان اعمال کی پیشی کا وقت نہ آوے گا۔
6۔ پس یہ گمان بھی مت کرنا کہ ہمارے کفر کی شاید اس کو اطلاع نہ ہو۔
Read the full tafseer →جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے
8۔ (الانسان) سے مراد وہ خاص انسان ہے جو کفر و شرک میں لت پت رہتا ہے اور اس سے نکلنا بھی نہیں چاہتا فرمایا جب اس کو کوئی سخت دکھ پہنچتا ہے اور وہ کسی ایسی تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے جو آسانی سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر اپنے رب کریم کو نہایت تضرع اور عاجزی سے پکارتا ہے اور ایسی حالت میں اس کو دوسرے معبود یاد نہیں رہتے جنہیں وہ اپنی اچھی حالت میں پکارا کرتا تھا بلکہ ان سب کی طرف سے مایوس ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ہر انسان اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
Commentary
In the opening verse (7), it was said: إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ (If you disbelieve, then, Allah does not need you at all,) that is, neither does your faith bring any benefit to Allah Ta’ ala, nor does your disbelief or ingratitude, any loss. According to a Hadith in Sahih of Muslim, Allah Ta’ ala said: "0 My servants, even if the first and the last among you and the humans and the Jinns, all of them, were to fall in sin and disobedience, it does not affect My power and authority in the least." (Ibn Kathir)
Next it was said: لَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ…
Read the full tafseer →23 "The man": the disbeliever who adopted the way of ingratitude.
24 That is, "At that time he dces not remember those other deities whom he used to invoke in good times; but he despairs of them all and turns only to Allah, Lord of the worlds." This is a clear proof of the fact that in the depths of his heart he has the feeling that all other deities are helpless, and the realization that Allah alone is the Possessor of all powers and authority, lies buried and hidden deep in his mind. "
25 That is, "He again forgets the bad times when abandoning all other deities he was invoking only Allah,…
Read the full tafseer →