Explained with ayahs 7–8
فرماتا ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بےنیاز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہوجائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 19
یعنی تمہارے کفر سے اس کی خدائی ذرا برابر بھی کمی نہیں آسکتی۔ تم مانو گے تب بھی وہ خدا ہے، اور نہ مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرمانروائی اپنے زور پر چل رہی ہے، تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ حدیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا عبادی لو ان اولکم و اٰخرکم و انسکم و جنکم کانوا علیٰ افجر قلب رجل منکم ما نقص من ملکی شیئاً۔ اے میرے بندو، اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے کسی فاجر سے فاجر شخص کے دل کی طرح ہوجاؤ تب بھی میری بادشاہی میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ " (مسلم)
سورة الزُّمَر 20
یعنی وہ اپنے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
خلاصہ تفسیر
(اے لوگو تم نے کفر و شرک کا بطلان سن لیا، اس کے بعد) اگر تم کفر کرو گے (جس میں شرک بھی داخل ہے) تو خدا تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) تمہارا (اور تمہاری عبادت کا) حاجت مند نہیں (کہ تمہارے عبادت و توحید اختیار نہ کرنے سے کچھ اس کو ضرر پہنچے) اور (یہ بات ضرور ہے کہ) وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا (کیونکہ کفر سے بندوں کو ضرر پہنچتا ہے) اور اگر تم شکر کرو گے (جس کی فرد اعظم ایمان ہے) تو (اس کو کوئی نفع نہیں مگر چونکہ تمہارا نفع ہے اس لئے وہ) اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور (چونکہ ہمارے یہاں قاعدہ مقرر ہے کہ) کوئی کسی کا بوجھ (گناہ) کا نہیں اٹھاتا (اس لئے کفر کر کے…
Read the full tafseer →(آیت)
اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر و ایمان سے بالکل بےنیاز ہے
لفظ کفسر یہاں ناشکری اور کفران نعمت کے مفہوم میں آیا ہے۔ اس کے مقابل میں ان تشکروا ہے جس سے اس مفہم کی وضاحت ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیدا کرنے اور تمہارے پرورش میں تو خدا کے سوا کسی اور کوئی دخل ہے نہیں۔ اگر اس کے باوجود تم دوسروں کو خدا کا شریک بنا کر اس کی ناشکری کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو۔ خدا تمہارے کفر اور شکر دونوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم اس کے شکر گزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا۔ دنیا میں بھی تمہاری نعمتوں میں برکت ہوگی اور آخرت میں بھی اس…
Read the full tafseer →7۔ 1 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے (وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 14۔ ابراہیم :8) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
2: اس سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء (علیہم السلام)
3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورة انعام : 143 میں گذرا ہے۔
4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورة حج : 5 اور سورة مومنون : 14 میں گذری ہے، اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 7
تمہاری ماؤں کے پیٹ کا عرصہ تو تمہارے طویل سفر زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلہ ہے۔ پھر پیٹ سے باہر آکر تم قدرے طویل مرحلے میں داخل ہوگے۔ اس کے بعد تیسرا طویل اور ابدی مرحلہ ہوگا۔ حساب و کتاب ہوگا اور یہ مرحلہ اللہ علیم وخبیر کی تدبیر سے طے ہوگا۔
جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے وہ انسان جیسی کمزور مخلوق کا محتاج نہیں ہے۔ انسان بہت ہی ضعیف مخلوق ہے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ انسانوں کیطرف متوجہ ہے اور انکی نگرانی اور ان پر مہربانی کرتا ہے اور وہ کس قدر ضعیف اور کس قدر کمزور ہیں
ان تکفروافان اللہ غنی عنکم (39: 7) ” اگر تم کفر کرو تو اللہ بےنیاز ہے “۔ کیونکہ تمہارا ایمان اللہ…
Read the full tafseer →7 یعنی کافر بن کر اس کے انعامات و حقوق کا انکار کرو گے تو تمہارا ہی نقصان ہے، اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ کفر سے راضی نہیں۔ اپنے بندوں کے کافر و منکر بننے سے ناخوش ہوتا ہے اور اس چیز کو ان کے لیے ناپسند کرتا ہے۔
8 یعنی بندے اس کا حق مان کر مطیع و شکر گزار بنیں۔ یہ بات اس کو پسند ہے جس کا نفع ان ہی کو پہنچتا ہے۔
9 یعنی ناشکری کوئی کرے اور پکڑا کوئی جائے، ایسا اندھیر اس کے یہاں نہیں جو کرے گا سو بھرے گا۔
10 یعنی وہاں جا کر سب کے اچھے برے عمل سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ کوئی چھوٹا بڑا کام نہ ہوگا۔ کیونکہ خدا کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ دلوں کی تہہ میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے بھی…
Read the full tafseer →آیت 7 { اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ قف } ”اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بےنیاز ہے۔“
وہ غنی ہے ‘ اسے تمہاری کوئی احتیاج نہیں ‘ تمہاری طرف سے انکار یا کفرانِ نعمت کی صورت میں اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
{ وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ } ”لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے“
اگرچہ اس نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ الدھر کہ تم چاہو تو شکرگزار بندے بنو اور چاہو تو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے ‘ مگر یہ جان رکھو کہ اسے اپنے بندوں کی طرف سے کفر کا رویہ ہرگز پسند نہیں ہے۔
{…
Read the full tafseer →15 شکر کے فائدے :۔ اللہ تعالیٰ کے تم پر بےبہا انعامات کے باوجود بھی اگر تم کفران نعمت کرو گے اور اس کا حق عبادت دوسروں کو دیتے رہو گے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تمہارے کفران نعمت یا ایسی نمک حرامی کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے ہاں پسندیدہ بات یہی ہے کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسے بھی وہ تمہارے ہی فائدے کے لیے پسند کرتا ہے۔ شکر کا تمہیں فائدہ یہ پہنچے گا کہ ایک تو تمہارا پروردگار خوش ہوگا دوسرے تمہیں اور بھی زیادہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 7 کا حاشیہ۔
16 یعنی اگر آج تم کسی کو…
Read the full tafseer →13۔ اس میں بھی رد ہے ایک مشرکانہ عقیدہ کا، بہت سی جاہلی قوموں کا اعتقاد رہا ہے کہ ان کے ٹھاکر اور دیوتا خود اپنے بچاریوں کی پوجا اور بھینٹ کے محتاج ہیں، اور یہ اختیار میں پجاریوں کے ہے کہ جسے چاہیں دیوتا بنالیں، اور جب جسے چاہیں اس منصب سے معزول کردیں۔
14۔ مشیت الہی کا قانون تکوینی دوسرا ہے، یہاں بیان مرضیات الہی کے قانون تشریعی کا ہورہا ہے، بندوں ہی کے نفع ومصلحت کی خاطر حق تعالیٰ کو پسند صرف طریق ایمان ہے، طریق کفر سرتا سر ناپسند اور نامقبول ہے۔ (آیت) ” وان تشکروا “۔ مراد طریق توحید و ایمان ہے۔
15۔ (قیامت میں) اور دنیا میں بھی کافر کا کفر کسی دوسرے تک متعدی نہیں ہوتا ہے۔ اسی کی ذات تک رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں۔ غَنِیٌّ عَنْکُمْ یعنی اللہ تم سے اور تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے ‘ وہ تمہارا اور تمہارے ایمان کا حاجتمند نہیں۔ اِنْ تَکْفُرُوْا کی جزا محذوف ہے ‘ فَاِنَّ اللّٰہَ غنِیٌّ عَنْکُمْ محذوف جزاء کے قائم مقام ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اگر تم کفر کرو گے تو کفر کا وبال تم پر ہی پڑے گا ‘ اللہ پر نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ تو تمہارا حاجتمند نہیں ‘ نہ تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو ‘ کفر سے تمہارا ہی ضرر ہوگا اور ایمان سے تمہارا ہی نفع ہوگا۔
ولا یرضی لعبادہ الکفر اور وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔
یعنی اس کو کفر…
Read the full tafseer →مکہ والو اگر تم رسول اکرم اور قرآن حکیم کا انکار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا محتاج نہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ چیز اس کے شایان نہیں اور اگر تم اس پر ایمان لے آؤ گے تو وہ تمہارے ایمان کو قبول فرمائے گا کیونکہ وہ اس کا پسندیدہ طریقہ ہے اور کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ یعنی کسی شخص کی دوسرے کے گناہ میں پکڑ نہیں ہوتی ہر ایک اپنے گناہوں کا ذمہ دار ہے یا یہ کہ کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا جاتا۔
اور پھر تمہیں اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے افعال و اقوال قیامت کے دن جتائے گا اور وہ دلوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں…
Read the full tafseer →اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ : کفر کا معنی ناشکری بھی ہے اور انکار بھی، یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرو، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، یا ایمان کے بجائے کفر اختیار کرو تو یقیناً اللہ تم سے بہت بےپروا ہے، وہ تمہارا کسی طرح بھی محتاج نہیں، نہ اسے تمہارے شکر یا ایمان کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تمہاری نا شکری یا کفر کا کوئی نقصان، تم ہی ہر طرح سے اس کے محتاج ہو۔ مزید دیکھیے سورة ابراہیم (8)۔
وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ : ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”وَلَا یَرْضٰی لَکُمُ الْکُفْرَ“ (وہ…
Read the full tafseer →ان تکفرو فان اللہ غنی عنکم یہ کلام شرط و جزا پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا : اس کا معنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان) الاسراء (65: اور جس طرح فرمایا : عینا یشرب بھا عباد اللہ یہ تعبیران علماء کے نزدیک ہے جو رضا اور ارادہ میں فرق نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ کفر سے راضی نہیں ہوتا اگرچہ اس کا رادہ کرے اللہ تعالیٰ کافر سے کفر کا ارادہ کرتا ہے کافر نے اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی کفر کیا ہے اللہ تعالیٰ اس پر راضی نہیں ہوتا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم “ (اگر تم کفر کروگے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ ہے) یعنی وہ کافر ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ کہتے ” لا الہ الا اللہ “ پھر فرمایا (آیت ) ” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ (اور اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا) اور وہ ان کے مخلص بندے ہیں جن کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “ (اور میرے وہ بندے کہ تیرے لئے ان پر کوئی غلبہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →اِنْ تَكْفُرُوْا [اگر تم لوگ ناشکری کرتے ہو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ ] غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ [بے نیاز ہے تم لوگوں سے ] وَلَا يَرْضٰى [اور وہ پسند نہیں کرتا ] لِعِبَادِهِ [اپنے بندوں کے لئے ] الْكُفْرَ ۚ [ناشکری کرنے کو ] وَاِنْ تَشْكُرُوْا [اور اگر تم لوگ شکر کرتے ہو ] يَرْضَهُ [تو وہ پسند کرے گا اس کو ] لَكُمْ ۭ [تمہارے لئے ] وَلَا تَزِرُ [اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [کوئی اٹھانے والی (جان)] وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ [کسی دوسری کا بوجھ ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [پھر تم لوگوں کے رب کی طرف ہی ] مَّرْجِعُكُمْ [تم سب کا لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُكُمْ [پھر وہ جتلا دے گا تم سب کو ] بِمَا كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے کفر سے راضی نہیں، شکر اسے محبوب ہے
گذشتہ آیات میں توحید کی دعوت تھی اور شرک اور کفر اختیار کرنے والوں کی حماقت اور ضلالت بیان فرمائی تھی اگر کسی کو یہ وہم اور وسوسہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے موحد ہونے کی یا اس کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے تو اس وہم اور وسوسہ کو دور فرما دیا کہ اگر تم کفر اختیار کرو اور اسی پر جمے رہو تو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں کوئی کمی نہیں آئے گی وہ تم سے بےنیاز ہے تمہارا حاجت مند نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنے بندوں کے کفر سے راضی ہے اگر کوئی شخص کافر ہوگا تو وہ اس کے کفر کی سزا دے گا اور اگر تم شکر کرو گے اس پر ایمان لاؤ گے اس کی توحید…
Read the full tafseer →قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی ....... الی ....... علیم بذات الصدور “۔
حق تعالیٰ شانہ نے دلائل توحید وخالقیت کے بعد اپنی شان بےنیازی کا ذکر فرمایا کہ کسی کے ایمان سے خدا کو کوئی نفع اور کسی کے کفر سے اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ تو بےنیاز ہے اس کی بارگاہ میں کفر ونافرمانی پسند نہیں ہاں شکر و اطاعت اسکو محبوب ہے اس لیے ہر شخص کو سمجھ لینا چاہئے ایمان وکفر کا نفع نقصان خود مومن و کافر کی ذات ہی کو پہنچے گا قانون خدا وندی ہے (آیت ) ” کل امری بما کسب رھین “۔ ہر انسان اپنے کئے ہوئے پر ماخوذ ہے اور (آیت ) ” ان اللہ لغنی عن العالمین “۔ خدا تمام جہانوں سے بےنیاز ہے تو فرمایا اے…
Read the full tafseer →11:۔ ” ان تکفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ایسے دلائل واضحہ کے باوجود بھی اگر تم کفر پر قائم رہو تو سن لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان وشکر سے بےنیاز ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کچھ بگڑتا نہیں اور تمہارے ایمان و تشکر سے اس کا کچھ سنورتا نہیں۔ ” ولا یرضی الخ “ البتہ محض بندوں کی خیر خواہی کے لیے وہ سامان ہدایت فراہم فرماتا ہے اور کفر و ناشکر گذاری کو اپنے بندوں کے لیے پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اس میں بندوں کا سراسر دنیوی اور اخروی نقصان ہے۔ ” وان تشکروا الخ “ اور اگر تم اس کا شکر کرو اس کی توحید پر ایمان لاؤ اور پیغمبر (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجا لاؤ تو اس کو تمہارے لیے پسند فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات :
قرآن حکیم کی صداقت اور وحی الہی کی حقا انیت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے اصل الاصول (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین “ کی حقیقت کو آشکارا فرمایا کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں جزائے عمل کی منزل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا اور منزہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے عقیدہ کی نفی کی اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی کسی کو منتخب کرتا ، اور…
Read the full tafseer →اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللہَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ 0 ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِہِ الْكُفْرَ 0 ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَہُ لَكُمْ 0 ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰى 0 ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 7
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ فرمایا تھا کہ انی تصرفون کہاں بہکے جارہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کیوں بھٹکتے پھرتے ہو۔ اس پر ایسے لوگوں کا گمان جاسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری بڑی ضرورت اور ہمارے ایمان و شکر گزاری کی بڑی حاجت ہے جو ہم کو بلاتا ہے، اس کا دفعیہ کرتا ہے، ان تکفروا الخ کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور اس کو تمہاری شکر گزاری کی حاجت بھی نہیں، ہاں یہ ہے کہ اگر بندے اس کی ناشکری و کفران نعمت کرتے ہیں تو وہ اس کو پسند نہیں کرتا، ناخوش ہوتا ہے اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اس کو پسند کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔
اس آیت سے معتزلہ نے استدلال…
Read the full tafseer →اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْـکُمْ قف وَلاَ یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْـکُفْرَ ج وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَـکُمْ ط وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط ثُمَّ اِلٰی رَبِّـکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَـبِّـئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الزمر : 7)
(اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرنا پرلے درجے کی گمراہی اور ناشکری ہے جسکی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر حوالے سے یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان ! میرے سوا نہ تجھے کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ میرے سوا کوئی تیری ضرورتیں پوری کرنیوالا ہے۔ لہٰذا تجھے صرف میری ہی عبادت کرنا ہے اور مجھ سے اپنی حاجات مانگنا چاہیے۔ لیکن ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے جو اپنے خالق اور مالک کی اتنی بات بھی اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اس کی بےانتہا درجے کی ناشکری ہے،…
Read the full tafseer →7: اِنْ تَکْفُرُوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ (اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں) یعنی تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو کیونکہ کفر میں تمہارا نقصان اور ایمان میں تمہارا فائدہ ہے۔
وہ بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا :
وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ (وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا) کیونکہ کفر پر اللہ راضی نہیں اگرچہ کفر اور ایمان سب اس کے ارادہ سے ہے۔ وَاِنْ تَشْکُرُوْا (اور اگر تم شکر کرو گے) پس ایمان لے آئو گے یَرْضَہُ لَکُمْ (تو اس کو وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے) یعنی تمہارے لیے شکر کو پسند کرتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے پس وہ اس پر…
Read the full tafseer →7، ان تکفروفان اللہ غنی عنکم ولا یرضی لعبادہ الکفر، ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤ من بندوں کے کفر پر راضی نہیں ہوتا اور یہ مؤ من بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ـ: ان عبادی لیس لک علیھم سلطان، تو یہ آیت الفاظ کے اعتبار سے تو عام ہے لیکن معنی کے اعتبار سے خاص ہے۔ جیسا کو عموم پر جاری کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کے بھی کفر پر راضی نہیں ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں کہ اس کے بندے اس کا کفرکریں اور یہی بات حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے اور یہی اسلاف کا قول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ کافرکا کفر اللہ کو…
Read the full tafseer →7۔ مشرکین مکہ کے بعضے لوگ اپنے جان پہچان والے مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم اپنے باپ داد کے دین کو چھوڑ کر اسلام پر قائم نہ رہو اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اگر اسلام سچا ہوا اور ہمارا کہنا مان لینے کے سبب سے تم قیامت کے دن گناہ گار ٹھہرے تو تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت میں بھی فرمایا کہ یہ مشرک جھوٹے ہیں۔ قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھاوے گا۔ اور کئی جگہ قرآن شریف میں اسی مطلب کو مختصر طور پر ادا فرمایا۔ یہ آیت بھی ان ہی آیتوں میں سے ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے۔ کہ قیامت کے دن نہ تو کوئی گناہ اللہ تعالیٰ سے چھپ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کو انسان کے دل تک کا حال…
Read the full tafseer →آیات نمبر 7
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بیشک اس نے زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پر اپنے امرد نہی کے ضابطے با فذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے۔ یعنی وہ رات اور دن دو نوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خا ص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے یعنی چاند اور سورج یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطا بق چلتے ہیں ایک و قت مقررہ تک یعنی ان دو نوں کو ایک مدت مقر رہ تک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
11 اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے ۔ اے لوگو !- " جو کہ ایک عظیم الشان مظہر اور ثبوت ہے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا۔ سو اس کی معرفت سے سرفرازی کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم لوگ خود اپنے ہی وجود اور اپنی ہی جانوں میں غور کرلو۔ تو تم اس کی عظمت شان کے آگے جھک جھک جاؤ گے کہ کس عظیم الشان قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے اس نے تم لوگوں کو وجود بخشا اور نیست سے ہست کیا۔ اور اپنی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا اور تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور سوال اور مطالبہ کے بغیر محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی وہ تمہارا محتاج نہیں ہے کہ تم اس کی عبادت کرو تو اس کی خدائی قائم رہے اور اگر کفر کرو تو اس کی خدائی ختم ہوجائے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندو ! اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے فاسق ترین آدمی کے دل کے مانند ہوجائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ ( ابن کثیر)13 یعنی وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی پسند یہی ہے کہ وہ شکر گزار ہوں اور اسی کی بندگی کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں۔ اس نے اپنے پیغمبروں ﷺ کے ذریعہ کتابیں نازل فرما کر اپنی پسند و ناپسند کو بیان کردیا ہے۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →(39:7) ان شرطیہ ہے۔ فان اللّٰہ میں الفاء لجواب الشرط۔
غنی۔ بےنیاز۔ غیر محتاج۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
یرضہ۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یرضی تھا۔ رضی مصدر باب سمع سے جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب شکر کی طرف راجع ہے وہ اس کو پسند کرتا ہے (اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے) ۔
لاتزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب وہ بوجھ نہیں اٹھاتی۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وزر مصدر باب ضرب سے وازرۃ اسم فاعل واحد مؤنث بوجھ اٹھانے والی ۔ مؤنث کا صیغہ نفس کے لئے ہے جو عربی میں مؤنث ہے وزر اخری۔ مضاف مضاف الیہ مل کر لاتزر کا مفعول ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →(ف 1) اے کافرو ! تم اپنے مالک کا شکر ادا نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے، رسول اور قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہو، تو خوب سمجھ لو کہ خدا تمہارے ایمان کا محتاج نہیں ہے، وہ تو بےپرواہ ہے بےنیاز ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کا طریقہ پسند نہیں فرماتا، اور سوائے مذہب اسلام کے کسی مذہب کو قبول نہیں کرے گا کہ اس کا برگزیدہ پسندیدہ مذہب وہی ہے ، جو محمد ﷺ قرآن میں لے کر آئے ہیں اور اے آدمیو اگر تم شکربجالاؤ، ایمان قبول کروگے تو وہ قبول فرمائے گا تم سے راضی ہوگا۔
(ف 2) اے لوگو اپنی اپنی فکر عاقبت کرو تمہارے گناہ کا کوئی دوسرا بوجھ نہ اٹھاوے گا ایسانہ ہوگا کہ ایک کا گناہ دوسرے کے سراٹھالیا یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔
[6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔
[7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔
[8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اللہ کو کفر پسند نہیں ہے
1: یعنی اللہ کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے اظہار عقیدت سے اس کی عظمت و رفعت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بجائے خود اس جلالت قدر کا مالک ہے ۔ جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی ۔ تمام دنیا اس کا انکار کردے ۔ اس کی مخالفت کرے ۔ اور اس کو جو چاہے کہے ۔ وہ جب بھی بیشمار حمدوستائش کا اہل ہے ۔ اور بہرحال متعال اور بزرگ ومحترم ہے ۔ اس کی بلندیاں انسانی مدح وتعریف پر مبنی نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو اس لئے رب عظمت وشان ہے کہ ساری کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اور تمام صفات حسن و جمال سے وہ ازل سے متصف ہے ہاں اگر تم ایمان کی نعمت کو قبول کروگے اور اس کے سامنے جھکو گے ۔ تو…
Read the full tafseer →(7) اگر تم کفر اختیار کرو گے اور کافرانہ روش پرچلو گے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم سے مستغنی ہے اور وہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں ہے اور وہ بندوں کے لئے کفر و ناسپاسی کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر بجا لائو گے یعنی اسلام قبول کرلوگے وہ تمہارے لئے اس شکر کو پسند کریگا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کی بازگشت اپنے پروردگار کی طرف ہوگی اور تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا پس جو اعمال تم دنیا میں کرتے رہے ہو وہ ان سب کی حقیقت سے تم کو آگاہ کردے گا اور تم کو بتلادے گا یقینا وہ لوگوں کے سینوں تک کی باتوں سے بخوبی واقف ہے اور ان کو جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 2۔ کیونکہ فکر سے بندوں ضرر پہنچتا ہے۔
3۔ کیونکہ اس میں تمہارا نفع ہے۔
4۔ اس لئے کفر کر کے یوں نہ سمجھنا کہ ہمارا کفر دوسرے کے نامہ اعمال میں کسی وجہ سے درج ہوجاوے گا، اور ہم بری ہوجاویں گے، غرض تمہارا کفر تمہارے جرائم میں لکھا جاوے گا۔
5۔ پس یہ گمان بھی غلط ہے کہ ان اعمال کی پیشی کا وقت نہ آوے گا۔
6۔ پس یہ گمان بھی مت کرنا کہ ہمارے کفر کی شاید اس کو اطلاع نہ ہو۔
Read the full tafseer →اللہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور وہ شکر گزاروں کو پسند کرتا ہے
7۔ اگر تم کفر کرتے ہو تو تمہارے کفر کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہابل کہ کفر کر کے تم خود اپنی نقصان کر رہے ہو وہ تم کو کفر سے منع کرتا ہے تو اس لیے نہیں کرتا کہ تمہارے کفر کرنے سے اس کی کبریائی میں فرق پڑ اجائے گا بلکہ وہ بار بار تم کو روکتا ہے تو اس لیے کہ تم اس کی قدرت کے شاہکار ہو اس کو تم سے فی الواقع پیار ہے کفر سے جو تم اپنا ستیاناس کر رہے ہو تمہاری عظمتیں خاک میں مل رہی ہیں اور وہ تمہارا خالق ہے اس ذلت و رسوائی کو وہ تمہارے لیے پسند نہیں کرتا وہ چاہتا ہے کہ تم اس کے شکر گزار بندے بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
Commentary
In the opening verse (7), it was said: إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ (If you disbelieve, then, Allah does not need you at all,) that is, neither does your faith bring any benefit to Allah Ta’ ala, nor does your disbelief or ingratitude, any loss. According to a Hadith in Sahih of Muslim, Allah Ta’ ala said: "0 My servants, even if the first and the last among you and the humans and the Jinns, all of them, were to fall in sin and disobedience, it does not affect My power and authority in the least." (Ibn Kathir)
Next it was said: لَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ…
Read the full tafseer →19 That is, "Your disbelief cannot cause any decrease or deficiency in His Kingdom. He will be God if you believe in Him, and He will still be God if you deny Him. He is ruling over His Kingdom by His own power; your believing or denying Him dces not affect His Sovereignty in any way." According to a Hadith. Allah says: "O My servants, if all of you, the former and the latter, the men and the jinns, become like the heart of a most sinful person among you, it will cause no deficiency whatever in My Kingdom. " (Muslim).
20 That is, "He does not approve, not for any interest of His own but for…
Read the full tafseer →