Az-Zumar 39:7

Az-Zumar · from ayah 7

39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ ۫— وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ— وَاِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ ؕ— وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ— ثُمَّ اِلٰی رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ؕ— اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۟اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنۡكُمۡ‌ ۖ وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡـكُفۡرَ‌ ۚ وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا يَرۡضَهُ لَـكُمۡ‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‌ ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

If you disbelieve - indeed, Allah is Free from need of you. And He does not approve for His servants disbelief. And if you are grateful, He approves it for you; and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you about what you used to do. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:7

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تم کفر اختیار کرو گے تو یقین رکھو کہ اللہ تم سے بےنیاز ہے، اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ دلوں کی باتیں بھی خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تم ناشکری کرو تو یقینا اللہ تم سے بہت بےپروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسندکرے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، پھر تمہارا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تم کفر کرو گے تو اللہ یقینا تم سے بےنیاز ہے (لیکن) وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا۔ اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے ہی لئے پسند کرتا ہے۔ کوئی بار گناہ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے ہاں ہی واپس جانا ہے۔ وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو بلاشبہ وہ سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر تم ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری کا رویہ پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کے شکر گزار ہو گے تو اس کو پسند کرے گا اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھئاے گی۔ پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں ان کاموں سے آگاہ کرے گا جو تم کرتے رہو وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر تم لوگ کفر کرو گے تو (اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے کہ) بیشک اللہ ہر طرح سے غنی (و بےنیاز) ہے تم سب سے (اے لوگوں !) مگر وہ پسند نہیں فرماتا اپنے بندوں کے لئے کفر (کی ظلمتوں) کو اور اگر تم شکر کرو گے تو اس کو وہ پسند فرماتا ہے تمہارے لیے (اور یاد رکھو کہ) کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ نہیں اٹھائے گا کسی دوسرے کا پھر (یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ) اپنے رب ہی کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے تم سب کو تب وہ بتادے گا تم لوگوں کو وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں) بیشک وہ پوری طرح جانتا ہے دلوں بھیدوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تمہارا حاجت مند نہیں۔ اور نہ وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا ہے اور اگر تم لو شکر کروگے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا تا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہوگا سو وہ تم کو تمہارے (سارے) اعمال بتا دے گا بیشک وہ دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی ہوگا اور نہیں اٹھائے گی بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسرے کے بوجھ کو پھر تمہارا لوٹنا ہے تمہارے رب ہی کی طرف پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے یقینا وہ جاننے والا ہے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کیلئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے پسند کرے گا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you disbelieve, know well that Allah has no need of you. Yet He does not like unbelief in His servants. But if you are thankful, your thankfulness will please Him. No one shall bear another's burden. You are destined to return to your Lord and He will tell you what you used to do. He is well aware even of what lies hidden in your breasts.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you disbelieve, then, Allah does not need you at all, however He does not like for His servants to be disbelievers; and if you are grateful, He will like it for you. No one will bear the burden of someone else. Then, to your Lord is your return; so He will tell you about what you used to do. He is aware of whatever lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

If you disbelieve, then, Allah does not need you at all, however He does not like for His servants to be disbelievers; and if you are grateful, He will like it for you. No one will bear the burden of someone else. Then, to your Lord is your return; so He will tell you about what you used to do. He is aware of whatever lies in the hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If you disbelieve, then verily, Allah is not in need of you; He likes not disbelief for His servants. And if you are grateful, He is pleased therewith for you. No bearer of burdens shall bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you what you used to do. Verily, He is the All-Knower of that which is in breasts.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If ye are thankless, yet Allah is Independent of you, though He is not pleased with thanklessness for His bondmen; and if ye are thankful He is pleased therewith for you. No laden soul will bear another's load. Then unto your Lord is your return; and He will tell you what ye used to do. Lo! He knoweth what is in the breasts (of men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If you disbelieve - indeed, Allah is Free from need of you. And He does not approve for His servants disbelief. And if you are grateful, He approves it for you; and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you about what you used to do. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

— Saheeh International

If you disbelieve, know that God is certainly independent of you. He does not want disbelief for His servants. If you give thanks, He will accept it from you. No one will be responsible for the sins of others. To your Lord you will all return and He will tell you about what you have done. He knows best what the hearts contain.

— Muhammad Sarwar

If you are ungrateful, then surely Allah is Self-sufficient above all need of you; and He does not like ungratefulness in His servants; and if you are grateful, He likes it in you; and no bearer of burden shall bear the burden of another; then to your Lord is your return, then will He inform you of what you did; surely He is Cognizant of what is in the breasts.

— Muhammad Habib Shakir

If ye disbelieve, then verily Allah is Independent of you. And He approveth not of infidelity in His bondmen. And if ye return thanks He approveth of that in you. No burdened soul shall bear another's burthen. Thereafter Unto your Lord is Your return; and He shall declare Unto you that which ye have been Working. Verily He is the Knower of that which is in the breasts.

— Abdul Majid Daryabadi

If ye reject (Allah), Truly Allah hath no need of you; but He liketh not ingratitude from His servants: if ye are grateful, He is pleased with you. No bearer of burdens can bear the burden of another. In the end, to your Lord is your Return, when He will tell you the truth of all that ye did (in this life). for He knoweth well all that is in (men's) hearts.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

فرماتا ہے کہ ساری مخلوق اللہ کی محتاج ہے اور اللہ سب سے بےنیاز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا فرمان قرآن میں منقول ہے کہ اگر تم اور روئے زمین کے سب جاندار اللہ سے کفر کرو تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں وہ ساری مخلوق سے بےپرواہ اور پوری تعریفوں والا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے سب اول و آخر انسان و جن مل ملا کر بدترین شخص کا سا دل بنا لو تو میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ہاں اللہ تمہاری ناشکری سے خوش نہیں نہ وہ اس کا تمہیں حکم دیتا ہے اور اگر تم اس کی شکر گزاری کرو گے تو وہ اس پر تم سے رضامند ہوجائے گا اور تمہیں اپنی اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ ہر شخص وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 19 یعنی تمہارے کفر سے اس کی خدائی ذرا برابر بھی کمی نہیں آسکتی۔ تم مانو گے تب بھی وہ خدا ہے، اور نہ مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرمانروائی اپنے زور پر چل رہی ہے، تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ حدیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا عبادی لو ان اولکم و اٰخرکم و انسکم و جنکم کانوا علیٰ افجر قلب رجل منکم ما نقص من ملکی شیئاً۔ اے میرے بندو، اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے کسی فاجر سے فاجر شخص کے دل کی طرح ہوجاؤ تب بھی میری بادشاہی میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ " (مسلم) سورة الزُّمَر 20 یعنی وہ اپنے کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر (اے لوگو تم نے کفر و شرک کا بطلان سن لیا، اس کے بعد) اگر تم کفر کرو گے (جس میں شرک بھی داخل ہے) تو خدا تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) تمہارا (اور تمہاری عبادت کا) حاجت مند نہیں (کہ تمہارے عبادت و توحید اختیار نہ کرنے سے کچھ اس کو ضرر پہنچے) اور (یہ بات ضرور ہے کہ) وہ اپنے بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا (کیونکہ کفر سے بندوں کو ضرر پہنچتا ہے) اور اگر تم شکر کرو گے (جس کی فرد اعظم ایمان ہے) تو (اس کو کوئی نفع نہیں مگر چونکہ تمہارا نفع ہے اس لئے وہ) اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے اور (چونکہ ہمارے یہاں قاعدہ مقرر ہے کہ) کوئی کسی کا بوجھ (گناہ) کا نہیں اٹھاتا (اس لئے کفر کر کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(آیت) اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر و ایمان سے بالکل بےنیاز ہے لفظ کفسر یہاں ناشکری اور کفران نعمت کے مفہوم میں آیا ہے۔ اس کے مقابل میں ان تشکروا ہے جس سے اس مفہم کی وضاحت ہو رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیدا کرنے اور تمہارے پرورش میں تو خدا کے سوا کسی اور کوئی دخل ہے نہیں۔ اگر اس کے باوجود تم دوسروں کو خدا کا شریک بنا کر اس کی ناشکری کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ تم خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہو۔ خدا تمہارے کفر اور شکر دونوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ تمہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم اس کے شکر گزار رہو گے تو وہ اس کو پسند فرمائے گا۔ دنیا میں بھی تمہاری نعمتوں میں برکت ہوگی اور آخرت میں بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے (وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 14۔ ابراہیم :8) کا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–8

2: اس سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء (علیہم السلام) 3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورة انعام : 143 میں گذرا ہے۔ 4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورة حج : 5 اور سورة مومنون : 14 میں گذری ہے، اور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 7 تمہاری ماؤں کے پیٹ کا عرصہ تو تمہارے طویل سفر زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلہ ہے۔ پھر پیٹ سے باہر آکر تم قدرے طویل مرحلے میں داخل ہوگے۔ اس کے بعد تیسرا طویل اور ابدی مرحلہ ہوگا۔ حساب و کتاب ہوگا اور یہ مرحلہ اللہ علیم وخبیر کی تدبیر سے طے ہوگا۔ جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے وہ انسان جیسی کمزور مخلوق کا محتاج نہیں ہے۔ انسان بہت ہی ضعیف مخلوق ہے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ انسانوں کیطرف متوجہ ہے اور انکی نگرانی اور ان پر مہربانی کرتا ہے اور وہ کس قدر ضعیف اور کس قدر کمزور ہیں ان تکفروافان اللہ غنی عنکم (39: 7) ” اگر تم کفر کرو تو اللہ بےنیاز ہے “۔ کیونکہ تمہارا ایمان اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کافر بن کر اس کے انعامات و حقوق کا انکار کرو گے تو تمہارا ہی نقصان ہے، اس کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ کفر سے راضی نہیں۔ اپنے بندوں کے کافر و منکر بننے سے ناخوش ہوتا ہے اور اس چیز کو ان کے لیے ناپسند کرتا ہے۔ 8 یعنی بندے اس کا حق مان کر مطیع و شکر گزار بنیں۔ یہ بات اس کو پسند ہے جس کا نفع ان ہی کو پہنچتا ہے۔ 9 یعنی ناشکری کوئی کرے اور پکڑا کوئی جائے، ایسا اندھیر اس کے یہاں نہیں جو کرے گا سو بھرے گا۔ 10 یعنی وہاں جا کر سب کے اچھے برے عمل سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ کوئی چھوٹا بڑا کام نہ ہوگا۔ کیونکہ خدا کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ دلوں کی تہہ میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 { اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ قف } ”اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بےنیاز ہے۔“ وہ غنی ہے ‘ اسے تمہاری کوئی احتیاج نہیں ‘ تمہاری طرف سے انکار یا کفرانِ نعمت کی صورت میں اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ { وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ } ”لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے“ اگرچہ اس نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا۔ الدھر کہ تم چاہو تو شکرگزار بندے بنو اور چاہو تو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے ‘ مگر یہ جان رکھو کہ اسے اپنے بندوں کی طرف سے کفر کا رویہ ہرگز پسند نہیں ہے۔ {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 شکر کے فائدے :۔ اللہ تعالیٰ کے تم پر بےبہا انعامات کے باوجود بھی اگر تم کفران نعمت کرو گے اور اس کا حق عبادت دوسروں کو دیتے رہو گے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تمہارے کفران نعمت یا ایسی نمک حرامی کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے ہاں پسندیدہ بات یہی ہے کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسے بھی وہ تمہارے ہی فائدے کے لیے پسند کرتا ہے۔ شکر کا تمہیں فائدہ یہ پہنچے گا کہ ایک تو تمہارا پروردگار خوش ہوگا دوسرے تمہیں اور بھی زیادہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 7 کا حاشیہ۔ 16 یعنی اگر آج تم کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ اس میں بھی رد ہے ایک مشرکانہ عقیدہ کا، بہت سی جاہلی قوموں کا اعتقاد رہا ہے کہ ان کے ٹھاکر اور دیوتا خود اپنے بچاریوں کی پوجا اور بھینٹ کے محتاج ہیں، اور یہ اختیار میں پجاریوں کے ہے کہ جسے چاہیں دیوتا بنالیں، اور جب جسے چاہیں اس منصب سے معزول کردیں۔ 14۔ مشیت الہی کا قانون تکوینی دوسرا ہے، یہاں بیان مرضیات الہی کے قانون تشریعی کا ہورہا ہے، بندوں ہی کے نفع ومصلحت کی خاطر حق تعالیٰ کو پسند صرف طریق ایمان ہے، طریق کفر سرتا سر ناپسند اور نامقبول ہے۔ (آیت) ” وان تشکروا “۔ مراد طریق توحید و ایمان ہے۔ 15۔ (قیامت میں) اور دنیا میں بھی کافر کا کفر کسی دوسرے تک متعدی نہیں ہوتا ہے۔ اسی کی ذات تک رہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں۔ غَنِیٌّ عَنْکُمْ یعنی اللہ تم سے اور تمہارے ایمان سے بےنیاز ہے ‘ وہ تمہارا اور تمہارے ایمان کا حاجتمند نہیں۔ اِنْ تَکْفُرُوْا کی جزا محذوف ہے ‘ فَاِنَّ اللّٰہَ غنِیٌّ عَنْکُمْ محذوف جزاء کے قائم مقام ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اگر تم کفر کرو گے تو کفر کا وبال تم پر ہی پڑے گا ‘ اللہ پر نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ تو تمہارا حاجتمند نہیں ‘ نہ تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو ‘ کفر سے تمہارا ہی ضرر ہوگا اور ایمان سے تمہارا ہی نفع ہوگا۔ ولا یرضی لعبادہ الکفر اور وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی اس کو کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مکہ والو اگر تم رسول اکرم اور قرآن حکیم کا انکار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کا محتاج نہیں کیونکہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ چیز اس کے شایان نہیں اور اگر تم اس پر ایمان لے آؤ گے تو وہ تمہارے ایمان کو قبول فرمائے گا کیونکہ وہ اس کا پسندیدہ طریقہ ہے اور کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ یعنی کسی شخص کی دوسرے کے گناہ میں پکڑ نہیں ہوتی ہر ایک اپنے گناہوں کا ذمہ دار ہے یا یہ کہ کسی کو بغیر گناہ کے عذاب نہیں دیا جاتا۔ اور پھر تمہیں اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے افعال و اقوال قیامت کے دن جتائے گا اور وہ دلوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ : کفر کا معنی ناشکری بھی ہے اور انکار بھی، یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرو، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، یا ایمان کے بجائے کفر اختیار کرو تو یقیناً اللہ تم سے بہت بےپروا ہے، وہ تمہارا کسی طرح بھی محتاج نہیں، نہ اسے تمہارے شکر یا ایمان کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تمہاری نا شکری یا کفر کا کوئی نقصان، تم ہی ہر طرح سے اس کے محتاج ہو۔ مزید دیکھیے سورة ابراہیم (8)۔ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ : ہاں، وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ ”وَلَا یَرْضٰی لَکُمُ الْکُفْرَ“ (وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان تکفرو فان اللہ غنی عنکم یہ کلام شرط و جزا پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا : اس کا معنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطان) الاسراء (65: اور جس طرح فرمایا : عینا یشرب بھا عباد اللہ یہ تعبیران علماء کے نزدیک ہے جو رضا اور ارادہ میں فرق نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ کفر سے راضی نہیں ہوتا اگرچہ اس کا رادہ کرے اللہ تعالیٰ کافر سے کفر کا ارادہ کرتا ہے کافر نے اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہی کفر کیا ہے اللہ تعالیٰ اس پر راضی نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی عنکم “ (اگر تم کفر کروگے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ ہے) یعنی وہ کافر ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ کہتے ” لا الہ الا اللہ “ پھر فرمایا (آیت ) ” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ (اور اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا) اور وہ ان کے مخلص بندے ہیں جن کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “ (اور میرے وہ بندے کہ تیرے لئے ان پر کوئی غلبہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ تَكْفُرُوْا [اگر تم لوگ ناشکری کرتے ہو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [تو بیشک اللہ ] غَنِيٌّ عَنْكُمْ ۣ [بے نیاز ہے تم لوگوں سے ] وَلَا يَرْضٰى [اور وہ پسند نہیں کرتا ] لِعِبَادِهِ [اپنے بندوں کے لئے ] الْكُفْرَ ۚ [ناشکری کرنے کو ] وَاِنْ تَشْكُرُوْا [اور اگر تم لوگ شکر کرتے ہو ] يَرْضَهُ [تو وہ پسند کرے گا اس کو ] لَكُمْ ۭ [تمہارے لئے ] وَلَا تَزِرُ [اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [کوئی اٹھانے والی (جان)] وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ [کسی دوسری کا بوجھ ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [پھر تم لوگوں کے رب کی طرف ہی ] مَّرْجِعُكُمْ [تم سب کا لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُكُمْ [پھر وہ جتلا دے گا تم سب کو ] بِمَا كُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے کفر سے راضی نہیں، شکر اسے محبوب ہے گذشتہ آیات میں توحید کی دعوت تھی اور شرک اور کفر اختیار کرنے والوں کی حماقت اور ضلالت بیان فرمائی تھی اگر کسی کو یہ وہم اور وسوسہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے موحد ہونے کی یا اس کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے تو اس وہم اور وسوسہ کو دور فرما دیا کہ اگر تم کفر اختیار کرو اور اسی پر جمے رہو تو اللہ تعالیٰ کے کمالات میں کوئی کمی نہیں آئے گی وہ تم سے بےنیاز ہے تمہارا حاجت مند نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اپنے بندوں کے کفر سے راضی ہے اگر کوئی شخص کافر ہوگا تو وہ اس کے کفر کی سزا دے گا اور اگر تم شکر کرو گے اس پر ایمان لاؤ گے اس کی توحید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان تکفروا فان اللہ غنی ....... الی ....... علیم بذات الصدور “۔ حق تعالیٰ شانہ نے دلائل توحید وخالقیت کے بعد اپنی شان بےنیازی کا ذکر فرمایا کہ کسی کے ایمان سے خدا کو کوئی نفع اور کسی کے کفر سے اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا وہ تو بےنیاز ہے اس کی بارگاہ میں کفر ونافرمانی پسند نہیں ہاں شکر و اطاعت اسکو محبوب ہے اس لیے ہر شخص کو سمجھ لینا چاہئے ایمان وکفر کا نفع نقصان خود مومن و کافر کی ذات ہی کو پہنچے گا قانون خدا وندی ہے (آیت ) ” کل امری بما کسب رھین “۔ ہر انسان اپنے کئے ہوئے پر ماخوذ ہے اور (آیت ) ” ان اللہ لغنی عن العالمین “۔ خدا تمام جہانوں سے بےنیاز ہے تو فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” ان تکفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ایسے دلائل واضحہ کے باوجود بھی اگر تم کفر پر قائم رہو تو سن لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان وشکر سے بےنیاز ہے۔ تمہارے کفر سے اس کا کچھ بگڑتا نہیں اور تمہارے ایمان و تشکر سے اس کا کچھ سنورتا نہیں۔ ” ولا یرضی الخ “ البتہ محض بندوں کی خیر خواہی کے لیے وہ سامان ہدایت فراہم فرماتا ہے اور کفر و ناشکر گذاری کو اپنے بندوں کے لیے پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اس میں بندوں کا سراسر دنیوی اور اخروی نقصان ہے۔ ” وان تشکروا الخ “ اور اگر تم اس کا شکر کرو اس کی توحید پر ایمان لاؤ اور پیغمبر (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجا لاؤ تو اس کو تمہارے لیے پسند فرماتا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–7

ربط آیات : قرآن حکیم کی صداقت اور وحی الہی کی حقا انیت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے اصل الاصول (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین “ کی حقیقت کو آشکارا فرمایا کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں جزائے عمل کی منزل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا اور منزہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے عقیدہ کی نفی کی اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی کسی کو منتخب کرتا ، اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللہَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ۝ 0 ۣ وَلَا يَرْضٰى لِعِبَادِہِ الْكُفْرَ۝ 0 ۚ وَاِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَہُ لَكُمْ۝ 0 ۭ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۝ 0 ۭ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ 7 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–8

تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ فرمایا تھا کہ انی تصرفون کہاں بہکے جارہے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کیوں بھٹکتے پھرتے ہو۔ اس پر ایسے لوگوں کا گمان جاسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری بڑی ضرورت اور ہمارے ایمان و شکر گزاری کی بڑی حاجت ہے جو ہم کو بلاتا ہے، اس کا دفعیہ کرتا ہے، ان تکفروا الخ کہ اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور اس کو تمہاری شکر گزاری کی حاجت بھی نہیں، ہاں یہ ہے کہ اگر بندے اس کی ناشکری و کفران نعمت کرتے ہیں تو وہ اس کو پسند نہیں کرتا، ناخوش ہوتا ہے اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اس کو پسند کرتا ہے خوش ہوتا ہے۔ اس آیت سے معتزلہ نے استدلال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْـکُمْ قف وَلاَ یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْـکُفْرَ ج وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَـکُمْ ط وَلاَ تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط ثُمَّ اِلٰی رَبِّـکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَـبِّـئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الزمر : 7) (اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بےنیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہارے رب ہی کی طرف تمہاری واپسی ہے تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرنا پرلے درجے کی گمراہی اور ناشکری ہے جسکی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر حوالے سے یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان ! میرے سوا نہ تجھے کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ میرے سوا کوئی تیری ضرورتیں پوری کرنیوالا ہے۔ لہٰذا تجھے صرف میری ہی عبادت کرنا ہے اور مجھ سے اپنی حاجات مانگنا چاہیے۔ لیکن ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے جو اپنے خالق اور مالک کی اتنی بات بھی اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اس کی بےانتہا درجے کی ناشکری ہے،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: اِنْ تَکْفُرُوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ (اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا حاجتمند نہیں) یعنی تمہارے ایمان کا۔ تم اس کے محتاج ہو کیونکہ کفر میں تمہارا نقصان اور ایمان میں تمہارا فائدہ ہے۔ وہ بندوں کے لئے کفر کو پسند نہیں کرتا : وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ (وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا) کیونکہ کفر پر اللہ راضی نہیں اگرچہ کفر اور ایمان سب اس کے ارادہ سے ہے۔ وَاِنْ تَشْکُرُوْا (اور اگر تم شکر کرو گے) پس ایمان لے آئو گے یَرْضَہُ لَکُمْ (تو اس کو وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے) یعنی تمہارے لیے شکر کو پسند کرتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے پس وہ اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7، ان تکفروفان اللہ غنی عنکم ولا یرضی لعبادہ الکفر، ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤ من بندوں کے کفر پر راضی نہیں ہوتا اور یہ مؤ من بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ـ: ان عبادی لیس لک علیھم سلطان، تو یہ آیت الفاظ کے اعتبار سے تو عام ہے لیکن معنی کے اعتبار سے خاص ہے۔ جیسا کو عموم پر جاری کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کے بھی کفر پر راضی نہیں ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں کہ اس کے بندے اس کا کفرکریں اور یہی بات حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے اور یہی اسلاف کا قول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ کافرکا کفر اللہ کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

7۔ مشرکین مکہ کے بعضے لوگ اپنے جان پہچان والے مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم اپنے باپ داد کے دین کو چھوڑ کر اسلام پر قائم نہ رہو اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اگر اسلام سچا ہوا اور ہمارا کہنا مان لینے کے سبب سے تم قیامت کے دن گناہ گار ٹھہرے تو تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت میں بھی فرمایا کہ یہ مشرک جھوٹے ہیں۔ قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھاوے گا۔ اور کئی جگہ قرآن شریف میں اسی مطلب کو مختصر طور پر ادا فرمایا۔ یہ آیت بھی ان ہی آیتوں میں سے ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے۔ کہ قیامت کے دن نہ تو کوئی گناہ اللہ تعالیٰ سے چھپ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کو انسان کے دل تک کا حال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیات نمبر 7 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بیشک اس نے زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پر اپنے امرد نہی کے ضابطے با فذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے۔ یعنی وہ رات اور دن دو نوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خا ص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے یعنی چاند اور سورج یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطا بق چلتے ہیں ایک و قت مقررہ تک یعنی ان دو نوں کو ایک مدت مقر رہ تک کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

11 اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے ۔ اے لوگو !- " جو کہ ایک عظیم الشان مظہر اور ثبوت ہے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا۔ سو اس کی معرفت سے سرفرازی کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم لوگ خود اپنے ہی وجود اور اپنی ہی جانوں میں غور کرلو۔ تو تم اس کی عظمت شان کے آگے جھک جھک جاؤ گے کہ کس عظیم الشان قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے اس نے تم لوگوں کو وجود بخشا اور نیست سے ہست کیا۔ اور اپنی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا اور تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور سوال اور مطالبہ کے بغیر محض…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–21

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة زمر رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9: اسرار و معارف : اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی وہ تمہارا محتاج نہیں ہے کہ تم اس کی عبادت کرو تو اس کی خدائی قائم رہے اور اگر کفر کرو تو اس کی خدائی ختم ہوجائے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندو ! اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے فاسق ترین آدمی کے دل کے مانند ہوجائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ ( ابن کثیر)13 یعنی وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی پسند یہی ہے کہ وہ شکر گزار ہوں اور اسی کی بندگی کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں۔ اس نے اپنے پیغمبروں ﷺ کے ذریعہ کتابیں نازل فرما کر اپنی پسند و ناپسند کو بیان کردیا ہے۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:7) ان شرطیہ ہے۔ فان اللّٰہ میں الفاء لجواب الشرط۔ غنی۔ بےنیاز۔ غیر محتاج۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یرضہ۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یرضی تھا۔ رضی مصدر باب سمع سے جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب شکر کی طرف راجع ہے وہ اس کو پسند کرتا ہے (اگر تم شکر کرو گے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے) ۔ لاتزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب وہ بوجھ نہیں اٹھاتی۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وزر مصدر باب ضرب سے وازرۃ اسم فاعل واحد مؤنث بوجھ اٹھانے والی ۔ مؤنث کا صیغہ نفس کے لئے ہے جو عربی میں مؤنث ہے وزر اخری۔ مضاف مضاف الیہ مل کر لاتزر کا مفعول ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–20

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اے کافرو ! تم اپنے مالک کا شکر ادا نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے، رسول اور قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہو، تو خوب سمجھ لو کہ خدا تمہارے ایمان کا محتاج نہیں ہے، وہ تو بےپرواہ ہے بےنیاز ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کا طریقہ پسند نہیں فرماتا، اور سوائے مذہب اسلام کے کسی مذہب کو قبول نہیں کرے گا کہ اس کا برگزیدہ پسندیدہ مذہب وہی ہے ، جو محمد ﷺ قرآن میں لے کر آئے ہیں اور اے آدمیو اگر تم شکربجالاؤ، ایمان قبول کروگے تو وہ قبول فرمائے گا تم سے راضی ہوگا۔ (ف 2) اے لوگو اپنی اپنی فکر عاقبت کرو تمہارے گناہ کا کوئی دوسرا بوجھ نہ اٹھاوے گا ایسانہ ہوگا کہ ایک کا گناہ دوسرے کے سراٹھالیا یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–9

[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔ [6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔ [7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔ [8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–9

اللہ کو کفر پسند نہیں ہے 1: یعنی اللہ کو تمہاری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے اظہار عقیدت سے اس کی عظمت و رفعت میں ذرہ برابر اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بجائے خود اس جلالت قدر کا مالک ہے ۔ جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی ۔ تمام دنیا اس کا انکار کردے ۔ اس کی مخالفت کرے ۔ اور اس کو جو چاہے کہے ۔ وہ جب بھی بیشمار حمدوستائش کا اہل ہے ۔ اور بہرحال متعال اور بزرگ ومحترم ہے ۔ اس کی بلندیاں انسانی مدح وتعریف پر مبنی نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ تو اس لئے رب عظمت وشان ہے کہ ساری کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے ۔ اور تمام صفات حسن و جمال سے وہ ازل سے متصف ہے ہاں اگر تم ایمان کی نعمت کو قبول کروگے اور اس کے سامنے جھکو گے ۔ تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اگر تم کفر اختیار کرو گے اور کافرانہ روش پرچلو گے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم سے مستغنی ہے اور وہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں ہے اور وہ بندوں کے لئے کفر و ناسپاسی کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر بجا لائو گے یعنی اسلام قبول کرلوگے وہ تمہارے لئے اس شکر کو پسند کریگا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کی بازگشت اپنے پروردگار کی طرف ہوگی اور تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا پس جو اعمال تم دنیا میں کرتے رہے ہو وہ ان سب کی حقیقت سے تم کو آگاہ کردے گا اور تم کو بتلادے گا یقینا وہ لوگوں کے سینوں تک کی باتوں سے بخوبی واقف ہے اور ان کو جانتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

ف 2۔ کیونکہ فکر سے بندوں ضرر پہنچتا ہے۔ 3۔ کیونکہ اس میں تمہارا نفع ہے۔ 4۔ اس لئے کفر کر کے یوں نہ سمجھنا کہ ہمارا کفر دوسرے کے نامہ اعمال میں کسی وجہ سے درج ہوجاوے گا، اور ہم بری ہوجاویں گے، غرض تمہارا کفر تمہارے جرائم میں لکھا جاوے گا۔ 5۔ پس یہ گمان بھی غلط ہے کہ ان اعمال کی پیشی کا وقت نہ آوے گا۔ 6۔ پس یہ گمان بھی مت کرنا کہ ہمارے کفر کی شاید اس کو اطلاع نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا اور وہ شکر گزاروں کو پسند کرتا ہے 7۔ اگر تم کفر کرتے ہو تو تمہارے کفر کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہابل کہ کفر کر کے تم خود اپنی نقصان کر رہے ہو وہ تم کو کفر سے منع کرتا ہے تو اس لیے نہیں کرتا کہ تمہارے کفر کرنے سے اس کی کبریائی میں فرق پڑ اجائے گا بلکہ وہ بار بار تم کو روکتا ہے تو اس لیے کہ تم اس کی قدرت کے شاہکار ہو اس کو تم سے فی الواقع پیار ہے کفر سے جو تم اپنا ستیاناس کر رہے ہو تمہاری عظمتیں خاک میں مل رہی ہیں اور وہ تمہارا خالق ہے اس ذلت و رسوائی کو وہ تمہارے لیے پسند نہیں کرتا وہ چاہتا ہے کہ تم اس کے شکر گزار بندے بن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

Commentary In the opening verse (7), it was said: إِن تَكْفُرُ‌وا فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ (If you disbelieve, then, Allah does not need you at all,) that is, neither does your faith bring any benefit to Allah Ta’ ala, nor does your disbelief or ingratitude, any loss. According to a Hadith in Sahih of Muslim, Allah Ta’ ala said: "0 My servants, even if the first and the last among you and the humans and the Jinns, all of them, were to fall in sin and disobedience, it does not affect My power and authority in the least." (Ibn Kathir) Next it was said: لَا يَرْ‌ضَىٰ لِعِبَادِهِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19 That is, "Your disbelief cannot cause any decrease or deficiency in His Kingdom. He will be God if you believe in Him, and He will still be God if you deny Him. He is ruling over His Kingdom by His own power; your believing or denying Him dces not affect His Sovereignty in any way." According to a Hadith. Allah says: "O My servants, if all of you, the former and the latter, the men and the jinns, become like the heart of a most sinful person among you, it will cause no deficiency whatever in My Kingdom. " (Muslim). 20 That is, "He does not approve, not for any interest of His own but for…

Read the full tafseer →