Explained with ayahs 5–6
تخلیقی کائنات اور عقیدہ توحید۔
ہر چیز کا خالق، سب کا مالک، سب پر حکمران اور سب کا قابض اللہ ہی ہے۔ دن رات کا الٹ پھیر اسی کے ہاتھ ہے اسی کے حکم سے انتظام کے ساتھ دن رات ایک دوسرے کے پیچھے برابر مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ نہ وہ آگے بڑھ سکے نہ وہ پیچھے رہ سکے۔ سورج چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے وہ اپنے دورے کو پورا کر رہے ہیں قیامت تک اس انتظام میں تم کوئی فرق نہ پاؤ گے۔ وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان وبیان ہر ایک…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 12
یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے حضرت آدم سے انسانوں کو پیدا کردیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ بلکہ یہاں کلام میں ترتیب زمان کے بجائے ترتیب بیان ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہم کہتے ہیں تم نے آج جو کچھ کیا وہ مجھے معلوم ہے، پھر جو کچھ تم کل کرچکے ہو اس سے بھی میں باخبر ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ کل کا واقعہ آج کے بعد ہوا ہے۔
سورة الزُّمَر 13
مویشی سے مراد ہیں اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ نر و مادہ ہوتے ہیں۔
سورة الزُّمَر 14
تین پردوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور مَشِیْمَہ (وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے)۔
سورة…
Read the full tafseer →(آیت) وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ۔ چوپاؤں کی تخلیق کو اس آیت میں انزال یعنی آسمان سے اتارنے کے ساتھ تعبیر فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کی تخلیق میں بڑا دخل اس پانی کا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی گویا آسمان سے نازل ہوئے، قرآن کریم نے انسانی لباس کے لئے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔
(آیت) انزلنا علیکم لباساً۔ اور بعض معدنی چیزوں مثلاً لوہے کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ (آیت) وانزلنا الحدید۔ ان سب کا حاصل ان چیزوں کا اپنی قدرت سے پیدا کرنا اور انسان کو عطا کرنا ہے۔ (قرطبی)
(آیت) خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ…
Read the full tafseer →(آیت)
اللہ تعالیٰ ہی خالق و رازق ہے تو وہی رب بھی ہے
یہ اسی اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ خدا ہی خالق ہے، اس نے پر وشر کا اتنظام لوگ یہ تمام بدیہی حقائق تسلیم کرتے ہیں آخر ان کی عقل کہاں لاٹ جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اس کی بادشاہی میں ساجھی بناتے ہیں !
خلقکم من نفس واجدۃ ثم جعل منھا زوجھا یعنی خدا ہی نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تمام انسان ایک ہی آدم کی نسل سے ہیں اور سب کا خالق خدا ہی ہے، پھر خدا ہی ہے جس نے آدم ہی کی جنس سے اس کے جوڑے … عورت … کو وجود بخشا کہ جب سب کا خالق اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو خدا کے سوا دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6۔ 1 یعنی حضرت آدم ؑ سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔
6۔ 2 یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔
6۔ 3 یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہوجاتے ہیں جن کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے۔
6۔ 4 یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے، پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
2: اس سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء (علیہم السلام)
3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورة انعام : 143 میں گذرا ہے۔
4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورة حج : 5 اور سورة مومنون : 14 میں گذری ہے، اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 6
انسان جب اپنے نفس پر غور کرتا ہے ، اس نفس پر جسے اس نے خود پیدا نہیں کیا اور وہ اس کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں بھی خود نہیں جانتا ۔ صرف وہی معلومات اس کے پاس ہیں جو اللہ خالق نے دیئے ہیں۔ انسان کا نفس ایک ہے ، اس کی ذات ایک ہے۔ اس کی اس ذات اور نفس کے خصائص ایک ہیں اور اس نفس انسانی کے بعض خصائص دوسری مخلوقات سے باکل جدا ہیں۔ جس طرح نفس انسانی کے تمام افراد ایک مخصوص دائرے کے اندر محدود اور متمیز ہیں۔ اسی طرح ” نفس انسانی “ ان اربوں افراد کے درمیان ایک ہے جو اس زمین میں منتشر ہیں یا رہتے ہیں۔ اسی نفس واحد سے پھر اس کا جوڑا یا بیوی بھی پیدا ہوئی۔ تمام انسانی خصوصیات کے اندر عورت…
Read the full tafseer →2 یعنی آدم (علیہ السلام) اور ان کا جوڑا حضرت حواء۔
3 یعنی تمہارے نفع اٹھانے کے لیے چوپایوں میں آٹھ نر و مادہ پیدا کیے۔ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری جن کا ذکر سورة " انعام " میں گزر چکا۔
4 یعنی بتدریج پیدا کیا۔ مثلاً نطفہ سے علقہ بنایا، علقہ سے مضغہ بنایا، پھر ہڈیاں بنائیں، اور ان پر گوشت منڈھا، پھر روح پھونکی۔
5 ایک پیٹ اور دوسرا رحم، تیسری جھلی جس کے اندر بچہ ہوتا ہے۔ وہ جھلی بچہ کے ساتھ نکلتی ہے۔
6 یعنی جب خالق، رب، مالک اور ملک وہ ہی ہے تو معبود اس کے سوا کون ہوسکتا ہے۔ خدائے واحد کے لیے ان صفات کا اقرار کرنے کے بعد دوسرے کی بندگی کیسی۔ مطلب کے اتنا قریب پہنچ کر کدھر پھرے جاتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 6 { خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا } ”اس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے ‘ پھر اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا“
جو لوگ نظریہ ارتقاء evolution theory کو مانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ساتھ اس کے بعض اجزاء کی مطابقت ہے ‘ وہ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ ابتدا میں پیدا کیے جانے والے حیوانات lower animals میں نر اور مادہ کی تقسیم نہیں تھی۔ جیسے امیبا Amoeba ہے جو دو حصوں میں تقسیم ہو کر اپنے جیسے ایک نئے وجود کو جنم دے دیتا ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے پر ان کا خیال ہے کہ ایسے جانور پیدا کیے گئے جن کے اندر بیک وقت مذکر اور مونث دونوں جنسیں sexes موجود تھیں۔…
Read the full tafseer →11 یہ توحید باری پر دوسری دلیل ہے کہ وہ تم سب کا خالق ہے۔ بظاہر الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس واحدہ یعنی سیدنا آدم سے تمہیں پیدا کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بنائی مگر یہاں ترتیب زمانی کے بجائے ترتیب بیان کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور ایسی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کو پیدا کیا، پھر اس سے اس کی بیوی کو، پھر ان دونوں سے نسل چلا کر تمہیں پیدا کیا۔
12 مویشیوں کے آٹھ جوڑے جن میں اہل عرب شرک کرتے تھے :۔ یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری، یہ چار نوع ہیں ان کے نر و مادہ ملا کر کل آٹھ جوڑے ہوئے۔ اور ان کا ذکر پہلے سورة انعام کی آیت نمبر 143 کے تحت گزر چکا…
Read the full tafseer →9۔ یعنی حضرت حوا، زوج آد م کو پیدا کیا۔ (آیت) ” منھا “۔ یعنی اسی ذات واحد سے، (آیت) ” خلقکم من نفس واحد “۔ آیت خطاب عام نسل انسانی کو ہے، ” دانا یان فرنگ “۔ جن کی ہر دانائی پر نادانی خندہ زن ہے، مدتوں اسی میں سرگرداں رہے کہ نسل انسانی کو مورث کوئی ایک ہی ہے، یا مختلف ومتعدد ہیں، اور اب کہیں جاکر وحدت نوع کے قائل ہوئے ہیں، قرآن حکیم نے صدیوں پیشتر یہ فیصلہ ناطق سنادیا تھا کہ گورے اور کالے، مشرقی اور مغربی زرد اور سرخ سب ایک ہی مورث کی اولاد ہیں، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ نیز ملاحظہ ہو سورٗۃ النساء (پ 4)
10۔ یعنی بھیڑ اور بکری، اونٹ اور گائے کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔
11۔ (اور ایک جھلی کے اندر رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا اسی نے تم کو تن واحد سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔
نَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ یعنی حضرت آدم جن کو اللہ نے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔
ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا عالم زیریں کی ایجاد کو پیش کر کے توحید کی یہ دوسری دلیل بیان فرمائی۔
(ظاہر ہے کہ نسل انسانی کی پیدائش کے بعد حضرت حواء کو آدم کا جوڑا نہیں بنایا گیا اور اس جملہ میں لفظ ثمّ اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ حضرت آدم سے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد حواء کو جوڑا بنایا گیا اور یہ واقعہ کے خلاف ہے ‘ اسلئے حضرت مفسر نے فرمایا :)
نمبر 1: لفظ ثم کا عطف فعل محذوف پر ہے (خلقکم پر نہیں ہے) یعنی اللہ نے نفس واحدہ…
Read the full tafseer →اس نے تم لوگوں کو تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے اور پھر ان ہی سے یعنی ان کی سب سے چھوٹی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آٹھ نر و مادہ چار پایوں کے پیدا کیے یعنی بھیڑ اور دنبہ میں دو قسم نر و مادہ اور بکری میں دو قسم نر و مادہ اور ایسے ہی اونٹ میں دو قسم نر و مادہ اور گائے بھینس میں دو قسم نر و مادہ۔ وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے یعنی نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ اور پھر ہڈیاں تین تاریکیوں میں ہوتا ہے، ایک تاریکی شکم کی دوسری رحم کی تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے ان مور کا خالق تمہارا رب ہے اسی کی سلطنت ہے جو ہمیشہ رہے گی کبھی اس کو فنا…
Read the full tafseer →خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔
وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت و عظمت کی دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (143، 144) جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا کرنے کے لیے ”انزل“ (اتارا) کا لفظ یہ توجہ دلانے کے لیے ہے کہ تمہیں ملنے والی نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ) [ الذاریات : 22 ] ”اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ بیشمار جانوروں میں سے خاص طور پر ان جانوروں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 ۔ 6:۔ خلق السموت والارض بالحق وہ کامل طور پر قدر ہے وہ بیوی اور اولاد سے مستغنی ہے جو اس طرح ہو تو اس حق ہے کہ وہ عبادت کیے جانے میں یکتا ہو نہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے ذریعے اس کا حق ہے کہ وہ عبادت کیے جانے میں یکتا ہو نہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے ذریعے اس امر پر متنبہ کیا کہ اسے حق حاصل ہے کہ لوگوں سے جو چاہے خدمت لے جب کہ اس نے اس طرح کیا بھی۔
یکور الیل علی النھار و یکور النھار علی اللیل ضحاک نے کہا : اس کو اس پر ڈالا جاتا ہے یہ تعبیر لغت میں تکویر کے معنی میں منحصر ہے جس سے مراد ہے ایک شے کو دوسری پر ڈالنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کور المتاع اس نے…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” خلقکم من نفس واحدۃ “ (تم کو پیدا کیا ایک جان سے) یعنی آدم (علیہ السلام) سے (آیت ) ” وخلق منھا زوجھا “ (النساء آیت 1) (اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا) یعنی آپ کی بیوی حضرت حوا کو آپ کو آپ کی پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا کیا۔ (آیت ) ” وانزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج، یخلقکم فی بطون امھتکم خلقا من بعد خلق فی ظلمت ثلث “ (اور تمہارے نفع کیلئے آٹھ نر اور مادہ چوپایوں کے پیدا کئے۔ تم کو ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت اور گوشت پھر طرح طرح بال اگائے (آیت ) ” فی ظلمت ثلث “ (تین اندھیروں میں) یعنی پیٹ رحم اور مچھلی ( جس میں بچہ…
Read the full tafseer →خَلَقَكُمْ [اس نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ [ایک تنہا جان سے ] ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] مِنْهَا [اس (جان) سے ] زَوْجَهَا [اس کا جوڑا ] وَاَنْزَلَ لَكُمْ [اور اس نے اتارے تمہارے لئے ] مِّنَ الْاَنْعَامِ [مویشیوں میں سے ] ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ [آٹھ جوڑے ] يَخْلُقُكُمْ [وہ پیدا کرتا ہے تم لوگوں کو ] فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ [تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ] خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ [ایک (طرح) پیدا کرنے کے بعد ایک (دوسری طرح) پیدا کرنا ] فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ۭ [تین اندھیروں میں ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے ] لَهُ الْمُلْكُ…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا (خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (اللہ نے تمہیں ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا) (ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا) (پھر اسی جان سے ان کا جوڑا بنا دیا) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی انسیت کے لیے حضرت حواء کو پیدا فرمایا ان کی پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے فرما دی اور دونوں کی نسل دنیا میں پھیلا دی جو کروڑوں کی تعداد میں موجود ہے۔
(وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ اَزْوَاجٍ ) (اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ قسمیں پیدا فرما دی ہیں) آٹھ قسموں سے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کے جوڑے نر اور مادہ مراد ہیں جیسا کہ سورة الانعام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…
Read the full tafseer →9:۔ ” خلقکم الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اول سے علی سبیل الترقی۔ یعنی اس نے صرف زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے بلکہ تمہارا خالق بھی وہی ہے اپنی پیدائش میں غور و فکر کرو کہ کس کمال قدرت اور حسن تدبیر سے اس نے تمہاری ابتداء ایک جان (حضرت آدم علیہ السلام) سے فرمائی۔ اور پھر بشری سلسلہ نسل کو زوجین کے ذریعے سے آگے بڑھایا۔ پھر رحم مادر میں نطفہ سے لے کر کمال تخلیق تک جو مختلف احوال پیش آتے ہیں ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی دلیل ہے۔ پھر اس نے تمہارے فائدے کی خاطر مختلف انواع و اقسام کے چوپائے پید فرمائے۔ جن کا تم گوشت کھاتے، دودھ پیتے اور بعض سے اس کے علاوہ سواری اور بار برداری کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات :
قرآن حکیم کی صداقت اور وحی الہی کی حقا انیت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے اصل الاصول (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین “ کی حقیقت کو آشکارا فرمایا کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں جزائے عمل کی منزل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا اور منزہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے عقیدہ کی نفی کی اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی کسی کو منتخب کرتا ، اور…
Read the full tafseer →خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَۃَ اَزْوَاجٍ 0 ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ 0 ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ 0 ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ 6
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ترکیب : ان یتخذ مفعول ارا دلا صطفٰی جواب الشرط مایشاء مفعول لا صطفٰی مما یخلق حال سبحانہ جملہ معترضہ بالحق حال من فاعل خلق۔
تفسیر : لو اراد اللہ ان آیات میں خدا تعالیٰ اس زلفی کا رد کرتا ہے۔ کفار و مشرکین جو غیر اللہ کو پوجتے تھے تو ان کو وسیلہ جانتے تھے اور وجہ وسیلہ ہونے کی یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبود خدا کے بیٹے ہیں اور باپ بیٹے میں بڑا رابطہ ہوتا ہے۔ بیٹا باپ سے کہہ کر ہماری حاجتیں روا کروا دیتا ہے۔ مکہ کے مشرک فرشتوں کو پوجتے اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، اسی طرح جنوں کو بھی اور رومن کیتھولک عیسائی بلکہ آج کل کے پر اٹسٹنٹ بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کو ایک…
Read the full tafseer →خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَاَنْزَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ط یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ لَـہُ الْمُلْکُ ط لَآاِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ۔ (الزمر : 6)
(اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا، اور اتاریں اس نے تمہارے لیے چوپایوں کی آٹھ قسمیں، وہ تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے پیدا کرتا ہے ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں تین تین باریک پردوں کے اندر، یہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تخلیق کا ئنات کے ذکر کے بعد انسان اور چوپاؤں کی تخلیق کا بیان۔
اے لوگو ! جس ” اللہ “ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا، لیل و نہار کا نظام ترتیب دیا اور سورج، چاند کو تمہاری خدمت پر لگایا۔ اسی نے تمہیں آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی حوا [ کو پیدا کیا۔ پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے تمہارا ” اللہ “ جس نے تمہیں پیدا کیا اور وہی تمہاری ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسے چھوڑ کر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ اسی نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا…
Read the full tafseer →6: خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (اس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا) یعنی آدم (علیہ السلام) سے ثُمَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (پھر اسی سے اسکا جوڑا بنایا) یعنی حواء کو اس کی سب سے چھوٹی پسلی سے۔ ایک قول یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو ان کی پشت سے چیونٹیوں کی مثل نکالا۔ پھر اس کے بعد حواء کو پیدا کیا وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنْ الْاَنْعَامِ (اور تمہارے لیے اس نے اتارے چوپایوں میں سے) یعنی بنا دیئے۔ یہ حسن بصری (رح) کا قول ہے یا ان کو آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی جنت میں بنایا پھر ان کو اتارا کیونکہ چوپائے نباتات سے زندہ رہ سکتے ہیں اور نباتات پانی ہی سے باقی رہ سکتی ہیں اور پانی کو…
Read the full tafseer →6، خلقکم من نفس واحدۃ، یعنی آدم (علیہ السلام) سے، ثم جعل منھا زوجھا، یعنی جواء علیہماالسلام ، وانزل لکم من الانعام ، اس جگہ انزال کا معنی ابتداء پیداکرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، انزلنا علیکم لباس یواری ، میں انزال احداث وانشاء کے معنی میں ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ انزال کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اتار اجوکپاس کے اگنے کا سبب ہے جس سے لباس بنتا ہے اور ان نباتات کے اگنے کا سبب ہے جس کے ذریعے چوپایوں کی بقاء ہے اور بعض نے کہا ہے کہ، وانزل لکم من الانعام، کا معنی یہ ہے کہ ان کو تمہارے لئے مہمانی اور رزق بنایا ہے۔ ، ثمانیۃ ازواج ، قسمیں ، اس کی تفسیر سورة الانعام میں گزرچکی…
Read the full tafseer →6۔ اوپر مشرکین مکہ کے شرک کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں ان کے قائل کرنے کے لئے فرمایا کہ ان مشرکین کے ان کے بڑوں کو سب بنی آدم کے باپ ماں آدم اور حوا کو اور ان کی ضرورتوں کے لئے چوپایوں کے آٹھ نر مادہ کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی شریک نہ تھا پھر جو کوئی اپنے خالق اور آسمان اور زمین کے بادشاہ کی تعظیم اور عبادت میں بلاسبب دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ وہ راہ رست سے پھرا ہوا ہے صحیح 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ حوا (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے جو کوئی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت 4
(لواراد اللہ ان یتخذولدا) ” اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا “ جیسا کہ
جیسا کہ بعض بیوقوف لوگوں کا خیال ہے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کرلیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منژہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں ایک ہے لہذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی شبیہ ہے نہ مشیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی و حدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
11 اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے ۔ اے لوگو !- " جو کہ ایک عظیم الشان مظہر اور ثبوت ہے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا۔ سو اس کی معرفت سے سرفرازی کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم لوگ خود اپنے ہی وجود اور اپنی ہی جانوں میں غور کرلو۔ تو تم اس کی عظمت شان کے آگے جھک جھک جاؤ گے کہ کس عظیم الشان قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے اس نے تم لوگوں کو وجود بخشا اور نیست سے ہست کیا۔ اور اپنی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا اور تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست اور سوال اور مطالبہ کے بغیر محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں :
” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی حضرت حوا ( علیہ السلام) اس آیت میں لفظ ” ثم “ پھر ترتیب بیانی کیلئے نہ کہ ترتیب زمانی کیلئے بعنی مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں ایک ایسے شخص سے بنایا جس کو اس نے ایک پیدا کیا وہ پھر اس سے اس کا جوڑ انکالا ( دیکھئے سورة نساء آیت)8 جن کا ذکر سورة ٔ انعام میں گزر چکا ہے یعنی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ طرح کے جانور ہوجاتے ہیں اور نر اور مادہ میں ہر ایک دوسرے کا زوج ہے۔ (ابن کثیر)9 پہلے نطفہ، پھر خون کا لوتھڑا پھر گوشت کا ٹکڑا پھر ہڈی اور وہ شکل جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔10 ایک پیٹ کا اندھیرا دوسرا رحم کا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ یعنی اس جھلی کا اندھیر جس میں…
Read the full tafseer →(39:6) منھا۔ میں ضمیر ھا نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے۔
زوجھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا جوڑا۔ اس کا مقابل صنف۔ ھا کا مرجع نفس ہے۔
خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس کا ترجمہ ہوگا :۔ اس نے تمہیں فرد واحد (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا پھر اسی (فرد واحد سے اس کا جوڑا بنایا۔ اس جملہ میں ثم اس پر دلالت کر رہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد حضرت حوا کو بطور حضرت آدم کے جوڑے کے پیدا کیا گیا۔ یہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔
(1) صاحب تفہیم القرآن اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں :۔ یہ مطلب نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے انسانوں کو پیدا کردیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…
Read the full tafseer →(ف 1) اے انسانو، خدا کی قدرت میں غور کرو کہ تم سب دنیا بھر کے انسانوں کو ایک اکیلی جان یعنی حضرت آدم سے پیدا کرڈالا، پھر حضرت آدم کا جوڑا یعنی بی بی حوا کو آدم ہی سے پیدا کیا اور تمہارے واسطے قدرت غیبی سے جانوروں کے آٹھ جوڑے اتارے، بکری، گائے، اونٹ، بھیڑ ، نر اور مادہ آٹھ ہوئے جس کا ذکر سورة انعام میں گزرچکا ہے آگے فرمایا کہ وہ خدا تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں کس کس طرح کے پلٹے دے کر پیدا کرتا ہے پہلے نطفہ کا قطرہ چھوٹا سا ہوتا ہے پھر وہی قطرہ جماہواخون ہوجاتا ہے پھر لوتھڑا بنتا ہے پھر ہڈیاں بنائیں اور ان کا گوشت منڈھا، پھر روح پھونکی اور تم تین اندھیری کو ٹھریوں میں رہتے ہو وہاں بھی تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[5] اس سے مراد بی بی حوا ہیں۔
[6] یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے نرومادہ کل آٹھ ہوئے۔
[7] تین تاریکیوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قدرت کا دست صناع یہ کاریگری سورج یا بجلی کی روشنی میں نہیں کرتا بلکہ تین پردوں کے اندر کرتا ہے۔
[8] یعنی تخلیق کے مختلف اطوار و مراحل سے گزارتا ہے۔
Read the full tafseer →تمہارا رب کون ہے ؟
3: اگر انسان صرف اس حقیقت پر فکر ونظر کو مرکوز رکھے ۔ کہ اللہ نے تخلیق کے بالکل ابتدائی دور میں جب اپنی ربوبیت سے ہمیں کامل طور پر نوازا ہے ۔ اور اس وقت ہمارا خیال رکھا ہے ۔ جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے ۔ یعنی فی ظلمت ثلث کے جب ہم مصداق تھے ۔ ہمیں غذا پہنچائی ہے ۔ ہمیں ضروری روشنی اور پاکیزہ ہوا سے بہرہ مند کیا ہے ۔ تو کیا جب ہم میں توانائی آگئی ہے ۔ اور قدرے کسب حصول پر قادر ہوگئے ہیں ۔ تو وہ ہم کو چھوڑدیگا ؟ جب ان نازک وقتوں میں کسی معبود نے کسی بت اور کسی شیخ اور بزرگ نے ہماری مدد نہیں کی ۔ تو اب ہم جبکہ سمجھ بوجھ کے مالک ہوگئے ہیں ۔ ان کے کس طرح محتاج ہوگئے ہیں ؟ قرآن کہتا…
Read the full tafseer →(6) اسی نے تم کو پیدا کیا ایک نفس واحدہ سے اور اسی نے اس نفس واحدہ سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے یعنی نرمادہ پیدا کئے وہی تم کو تمہارے مائوں کے پیٹ میں بتدریج ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت کے بعد تیسری کیفیت پر تین تاریکیوں میں بناتا ہے وہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور اسی کا راج ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہے تو پھر اب تم کہاں پھرے چلے جارہے ہو۔ یعنی نفس واحدہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان سے ان کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو بنایا اور ان دونوں سے اولاد آدم کا سلسلہ شروع ہوا۔
چوپایوں کا ذکر آٹھویں پارے میں مفصلاً…
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد اس سے حوا ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ نے تم کو ایک جنس سے پیدا کیا اور اسی جنس سے اس کا جوڑا بنایا
6۔ ” اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر اس سے اس کو جوڑا بنایا۔ “ نفس سے مراد کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) پھر ظاہر مطلب تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر اس سے بہت سے انسانوں کو پیدا کیا اور اس کے بعد اسی سے اس کا جوڑا پیدا کردیا حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلما نہیں کرتا بلکہ سب کے سب یہی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور پھر آدم (علیہ السلام) ہی سے اس کا جوڑا یعنی اس کی بیوی پیدا کردی اور پھر ان…
Read the full tafseer →In verse 6, it was said: وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ (and sent down for you eight pairs of the cattle.). The creation of the cattle has been expressed in this verse by saying that they have been 'sent down from the skies' whereby an indication has been given that a major factor in their creation is water that is sent down from sky. Therefore, it can be said that these too were as if sent down from the skies. The noble Qur'an has used the same expression for human dress: أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا (We have sent down to you clothing - A1-A` raf, 7:26). Then,…
Read the full tafseer →12 This dces not mean that first He created the human beings from Adam and then created his wife, Eve. But here, instead of the chronological order, there is the order of presentation, examples of which arc found in every language. For instance, we say, "Whatever you did today is known to me, and whatever you did yesterday is also in my knowledge." This cannot mean that what happened yesterday has happened after today.
13 That is, the camel, cow, sheep and goat whose four males and four females together make eight heads of cattle.
14 The three dark veils are: the belly, the womb and the caul…
Read the full tafseer →