Explained with ayahs 5–6
تخلیقی کائنات اور عقیدہ توحید۔
ہر چیز کا خالق، سب کا مالک، سب پر حکمران اور سب کا قابض اللہ ہی ہے۔ دن رات کا الٹ پھیر اسی کے ہاتھ ہے اسی کے حکم سے انتظام کے ساتھ دن رات ایک دوسرے کے پیچھے برابر مسلسل چلے آ رہے ہیں۔ نہ وہ آگے بڑھ سکے نہ وہ پیچھے رہ سکے۔ سورج چاند کو اس نے مسخر کر رکھا ہے وہ اپنے دورے کو پورا کر رہے ہیں قیامت تک اس انتظام میں تم کوئی فرق نہ پاؤ گے۔ وہ عزت و عظمت والا کبریائی اور رفعت والا ہے۔ گنہگاروں کا بخشنہار، عاصیوں پر مہربان وہی ہے۔ تم سب کو اس نے ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم سے پیدا کیا ہے پھر دیکھو کہ تمہارے آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ رنگ صورت آواز بول چال زبان وبیان ہر ایک…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 10
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ 479 و 525 جلد سوم، ص 703۔
سورة الزُّمَر 11
یعنی زبردست ایسا ہے کہ اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو کوئی طاقت اس کی مزاحمت نہیں کرسکتی۔ مگر یہ اس کا کرم ہے کہ تم یہ کچھ گستاخیاں کر رہے ہو اور اور پھر بھی وہ تم کو فوراً پکڑ نہیں لیتا بلکہ مہلت پر مہلت دیے جاتا ہے۔ اس مقام پر عقوبت میں تعجیل نہ کرنے اور مہلت دینے کو مغفرت (درگزر) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ۔ تکویر کے معنے ایک چیز کو دوسری پر ڈال کر اس کو چھپا دینے کے ہیں۔ قرآن کریم نے دن رات کے انقلاب کو یہاں عام نظروں کے اعتبار سے بلفظ تکویر تعبیر کیا ہے کہ رات آتی ہے تو گویا دن کی روشنی پر ایک پردہ ڈال دیا گیا، اور دن آتا ہے تو رات کی اندھیری پردہ میں چلی جاتی ہے۔
چاند، سورج دونوں متحرک ہیں
(آیت) كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شمس وقمر دونوں حرکت کرتے رہتے ہیں۔ فلکیات اور طبقات الارض کی مادی تحقیقات قرآن پاک یا کسی آسمانی کتاب کا موضوع بحث نہیں ہوتا۔ مگر اس معاملہ میں جتنی بات کہیں ضمناً آجاتی ہے اس پر یقین رکھنا فرض ہے۔…
Read the full tafseer →خلق السموت والارض بالحق یکورالیل علی النھار ویکورا النھار علی الیل و سخر الشمس و القمر کل تجزی لا جل مسمی الا ھو العزیز الغفار (5)
شرک و شفاعت کا عقیدہ اس دنیا کے بالحق ہونے کے منافی ہے
اس نے آسمان و زمین بےمقصد وغایت نہیں پیدا کیے ہیں کہ نیکی و بدی اور حق و باطل کا اس میں کوئی امتیاز ہی نہ ہو۔ جو چاہے سفارشوں کے بل پر، اپنے لئے اونچے سے اونچے مرتبے خدا کی ہاں محفوظ کرا لئے، خواہ اس کے اعمال و عقائد کچھ ہی ہوں۔ اگر ایسا ہو تو یہ دنیا ایک بالکل باطل کارخانہ بن جاتی ہے اور ایک حکیم و عادل خالق کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی باطل کام کرے۔
اللہ تعالیٰ اس دنیا سے بےتعلق نہیں ہے
یکورالیل علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6۔ 1 یعنی حضرت آدم ؑ سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔
6۔ 2 یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔
6۔ 3 یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہوجاتے ہیں جن کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے۔
6۔ 4 یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے، پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1: مشرکین عرب عام طور سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے کچھ دیوتا گھڑ کر ان کے بت بنا لیے تھے، اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے، اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کو بھی شرک قرار دیا، کیونکہ اول تو ان دیوتاؤں کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، دوسرے عبادت تو اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، کسی دوسرے کی عبادت، خواہ کسی نیت سے کی جائے، شرک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص واقعی بزرگ اور ولی اللہ ہو، تب بھی اس کی عبادت شرک ہے، چاہے اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے ہمیں اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 5
آسمان و زمین کی بادشاہت پر یہ ایک سرسری نظر ، لیل ونہار کے نظام اور شمس وقمر کے نظام اور اسے زبردست طریقے
سے مسخر کرنے کے نظارے پر ایک نگاہ ، اس بات کو ثابت کردیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ یہ نظام فطرت دل کے اندر یہ بات اتار دیتا ہے کہ نہ اللہ کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے۔
زمین و آسمان کی تخلیق میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل بالکل ظاہر ہیں اور ان قوانین میں بھی وحدت الہٰی کے نشانات ظاہر ہیں جو ان کو کنڑول کررہے ہیں۔ اس پوری کائنات پر ایک سرسری نظر ہی اس بات کو ظاہر کردیتی ہے کہ بیشمار دلائل موجود ہیں۔ آج تک انسانوں نے جو سائنسی انکشافات کیے ہیں۔ ان میں…
Read the full tafseer →8 مغرب کے وقت مشرق کی طرف دیکھو، معلوم ہوگا کہ افق سے ایک چادر تاریکی کی اٹھتی ہوئی چلی آرہی ہے اور اپنے آگے سے دن کی روشنی کو مغرب کی طرف صف کی طرح لپیٹی جاتی ہے۔ اسی طرح صبح صادق کے وقت نظر آتا ہے کہ دن کا اجالا رات کی ظلمت کو مشرق سے دھکیلتا ہوا آرہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ایک پر دوسرا چلا آتا ہے۔ توڑا نہیں پڑتا۔ "
9 یعنی اس زبردست قدرت سے یہ انتظام قائم کیا اور تھام رکھا ہے لوگوں کی گستاخیاں اور شرارتیں تو ایسی ہیں کہ سب نظام درہم برہم کردیا جائے لیکن وہ بڑا بخشنے والا اور درگزر کرنے والا ہے اپنی شان عفو و مغفرت سے ایک دم ایسا نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →آیت 5 { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ”اس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔“
یعنی یہ کائنات ایک نہایت منظم ‘ بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے ‘ یہ کوئی کار عبث نہیں ہے۔
{ یُـکَوِّرُ الَّــیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُــکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّــیْلِ } ”وہ رات کو لپیٹ دیتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹ دیتا ہے رات پر“
یہ مضمون قرآن حکیم میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ متعدد مقامات پر یہی الفاظ دہرائے گئے ہیں ‘ جبکہ بعض جگہوں پر { یُوْلِجُ الَّــیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّــیْلِ } کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ بہر حال مقصود اس سے یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ رات اور دن کے…
Read the full tafseer →8 یعنی زمین و آسمان یا کائنات کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ اس میں بیشمار حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق سے کثیر مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔
9 گردش لیل ونہار میں دلائل توحید :۔ یعنی شام کے وقت اگر مغرب کی طرف نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ادھر سے اندھیرا اوپر کو اٹھ رہا ہے۔ جو بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔ تاآنکہ سیاہ رات چھا جاتی ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت اجالا مشرق سے نمودار ہوتا ہے۔ جو بتدریج بڑھ کر پورے آسمان پر چھا جاتا ہے۔ اور سورج نکل آتا ہے تو کائنات جگمگا اٹھتی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹا جارہا ہے۔ دن کو روشن کرنے اور رکھنے والی چیز سورج ہے۔ اور چاند رات کو روشنی دیتا…
Read the full tafseer →7۔ آسمان، زمین، رات، دن، سورج و چاند، سب اس کے مخلوق اور سرتا سر اس کے تابع و محکوم ہیں، معبود یادیوی دیوتا بننے کی صلاحیت ان میں سے ذرہ بھر بھی کسی میں نہیں۔ مشرک قوموں نے ان سب کی پوجا کی ہے (آیت) ” بالحق “۔ متکلمین نے کہا ہے کہ یہ کارگاہ عالم بطور حقائق امور کے ہے بطور وہم وشک کے نہیں، جیسا کہ فلاسفہ سفسطائیہ کا مسلک ہے۔
8۔ اسم عزیز کے تقاضہ سے ہر وقت ہر سزا پر قادر۔ اور اسم غفار کے تقاضہ سے ہر پچھلے کفر و طغیان کو معاف کرنے والا، بہرصورت مشرکوں کے دیویوں دیوتاؤں کی طرح معذور، مجبور، پابند کسی حال میں نہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →خلق السموت والارض بالحق اسی نے آسمان و زمین برحق پیدا کئے۔ یعنی ان کو بیکار نہیں پیدا کیا ‘ بلکہ صناع
کے وجود پر دلیل بنا کر پیدا کیا (ان کی تخلیق وجود خالق کو ثابت کرتی ہے) ۔
یکور اللیل علی النھار ویکور النھار علی اللیل وہ رات (کی تاریکی) کو دن پر لپیٹ دیتا ہے (کہ دن
کی روشنی چھپ جاتی ہے) اور دن (کی روشنی) کو رات (کی تاریکی) پر لپیٹ دیتا ہے (کہ تاریکی دور ہوجاتی ہے) ۔
یعنی لباس کی طرح ہر ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیتا ہے ‘ یا ایک کو دوسرے کی وجہ سے چھپا دیتا ہے جیسے لفافہ اپنے اندر رکھی ہوئی چیز کو چھپا لیتا ہے۔
یا عمامہ کے پیچوں کی طرح مسلسل ایک کو دوسرے کے بعد اور اس کے اوپر لاتا رہتا ہے۔ حاصل…
Read the full tafseer →اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا اور وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے جس کی وجہ سے دن رات سے لمبا ہوجاتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے جس سے رات لمبی ہوجاتی ہے اور اس نے انسانوں کے لیے چاند و سورج کی روشنی کو مسخر کیا ان چاند سورج، رات اور دن میں سے ہر ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ یاد رکھو وہ ذات جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہ کافروں کی گرفت فرمانے میں زبردست اور جو شرک سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے اس کو بڑا بخشنے والا ہے۔
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَـقِّ : یعنی اس نے آسمانوں کو اور زمین کو بالکل درست اور صحیح طریقے پر بنایا ہے۔ کوئی شخص اس کی کسی چیز کو غلط نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی اس سے بہتر پیش کرسکتا ہے، اور اس نے انھیں خاص مقصد اور مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (73) ، یونس (5) ، حجر (85) اور نحل (3)۔
يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ۔۔ : ”کَوْرُ الْعِمَامَۃِ وَ تَکْوِیْرُھَا“ پگڑی لپیٹنا۔ اس آیت میں زمین کے گول ہونے کا بھی اشارہ ہے، یعنی جس طرح سر پر پگڑی لپیٹی جاتی ہے کہ اس کے ایک پیچ کے اوپر دوسرا پیچ آجاتا ہے، جو پہلے پیچ کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 ۔ 6:۔ خلق السموت والارض بالحق وہ کامل طور پر قدر ہے وہ بیوی اور اولاد سے مستغنی ہے جو اس طرح ہو تو اس حق ہے کہ وہ عبادت کیے جانے میں یکتا ہو نہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے ذریعے اس کا حق ہے کہ وہ عبادت کیے جانے میں یکتا ہو نہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے ذریعے اس امر پر متنبہ کیا کہ اسے حق حاصل ہے کہ لوگوں سے جو چاہے خدمت لے جب کہ اس نے اس طرح کیا بھی۔
یکور الیل علی النھار و یکور النھار علی اللیل ضحاک نے کہا : اس کو اس پر ڈالا جاتا ہے یہ تعبیر لغت میں تکویر کے معنی میں منحصر ہے جس سے مراد ہے ایک شے کو دوسری پر ڈالنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کور المتاع اس نے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار “ (وہ رات کی تاریکی کو دن پر لپیٹ لیتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن پر سوار کردیتا ہے۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل “ (وہ لپیٹ لیتا ہے رات کو دن پر اور لپیٹ لیتا ہے دن کو رات پر) یعنی ان میں سے ایک ڈھانک لیتا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل “ یعنی وہ ڈھانک لیتا ہے اس کو اور یہ ڈھانک لیتا ہے اس کو (یعنی رات کو دن پر اور دن کو…
Read the full tafseer →خَلَقَ [اس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [آسمانوں کو اور زمین کو ] بِالْحَـقِّ ۚ [حق کے ساتھ ] يُكَوِّرُ [وہ لپیٹتا ہے ] الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ [رات کو دن پر ] وَيُكَوِّرُ [اور وہ لپیٹتا ہے ] النَّهَارَ عَلَي الَّيْلِ [دن کو رات پر ] وَسَخَّرَ [اور اس نے مسخر کیا ] الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ [سورج کو اور چاند کو ] كُلٌّ يَّجْرِيْ [سب رواں دواں ہیں ] لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ [ایک معین مدت کے لئے ] اَلَا [سن لو !] هُوَ الْعَزِيْزُ [وہ ہی بالادست ہے ] الْغَفَّارُ [بار بار بخشنے والا ہے ] ۔
ک و ر
(ن) کورا سر پر پگڑی باندھنا۔ کسی چیز کو پگڑی کی طرح اوپر تلے گھما کر لپیٹنا۔
(تفعیل) تکویرا کثرت…
Read the full tafseer →پھر لیل و نہار اور شمس و قمر کا تذکرہ فرمایا اس میں بھی شان خالقیت کا مظاہرہ ہے ارشاد فرمایا کہ اس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا وہ دن کو رات پر اور رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے یعنی دن کی روشنی کو رات چھپا دیتی ہے اور رات کے اندھیرے کو دن چھپا دیتا ہے اور اس نے چاند اور سورج کو مسخر فرما دیا یعنی کام میں لگا دیا ان دونوں کو جس کام میں لگایا ہے اس میں لگے ہوئے ہیں ان کا کام بھی مقرر ہے اور ان کی اجل بھی مقرر ہے مقررہ اجل تک چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے پھر جب خالق جل مجدہٗ کا حکم ہوگا تو بےنور کردئیے جائیں گے اللہ تعالیٰ عزیز ہے غلبہ والا ہے اس کی مشیت اور ارادہ اور تکوین کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…
Read the full tafseer →8:۔ ” خلق السموات الخ “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے بلا شرکت غیرے استحقاق عبادت پر دلالت کرتی ہے۔ البتہ اس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اس ساری کائنات اس نے ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ کائنات کے ذرے ذرے سے صانع عالم کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کریں۔ بالحق ای متلبسا بالھق غیر عابث بل لیکون دلیلا علی الصانع (مظہری ج 8 ص 197) ۔ وہ دن کو رات میں اور رات کو دن میں چھپا دیتا ہے۔ سورج اور چاند بھی اس کے مطیع امر ہیں۔ اور اس کے حکم سے دونوں نے اپنے اپنے دورے کی تکمیل میں رواں دواں ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ربط آیات :
قرآن حکیم کی صداقت اور وحی الہی کی حقا انیت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے اصل الاصول (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین “ کی حقیقت کو آشکارا فرمایا کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں جزائے عمل کی منزل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا اور منزہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے عقیدہ کی نفی کی اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی کسی کو منتخب کرتا ، اور…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ 0 ۚ يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّہَارِ وَيُكَوِّرُ النَّہَارَ عَلَي الَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ 0 ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى 0 ۭ اَلَا ہُوَالْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ 5
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ترکیب : ان یتخذ مفعول ارا دلا صطفٰی جواب الشرط مایشاء مفعول لا صطفٰی مما یخلق حال سبحانہ جملہ معترضہ بالحق حال من فاعل خلق۔
تفسیر : لو اراد اللہ ان آیات میں خدا تعالیٰ اس زلفی کا رد کرتا ہے۔ کفار و مشرکین جو غیر اللہ کو پوجتے تھے تو ان کو وسیلہ جانتے تھے اور وجہ وسیلہ ہونے کی یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبود خدا کے بیٹے ہیں اور باپ بیٹے میں بڑا رابطہ ہوتا ہے۔ بیٹا باپ سے کہہ کر ہماری حاجتیں روا کروا دیتا ہے۔ مکہ کے مشرک فرشتوں کو پوجتے اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، اسی طرح جنوں کو بھی اور رومن کیتھولک عیسائی بلکہ آج کل کے پر اٹسٹنٹ بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کو ایک…
Read the full tafseer →خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ج یُکَوِّرُالَّیْلَ عَلَی النَّھَارِ وَیُکَوِّرُالنَّھَارَ عَلَی الَّیْلِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلُّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّے ط اَلاَ ھُوَالْعَزِیْزُالْغَفَّارُ ۔ (الزمر : 5)
(اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر ڈھانکتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، ہر ایک وقت مقرر کی پابندی کے ساتھ چلا جارہا ہے۔ یاد رکھو وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔ )
انسان کے بگاڑ کا ایک سبب
انسانوں میں شرک کے پیدا ہونے اور جاری رہنے کے جو اسباب ہیں ان میں سے ایک سبب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی ذات کے ساتھ اس کی رشتہ داری ہے۔
اس سے پہلی آیت میں اس بات کو کذب اور گمراہی قرار دیا گیا ہے کہ کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی خدائی میں کچھ اختیارات دیئے ہیں۔ اب اس بات کی نفی کی جارہی ہے کہ ذات کبریا کی نہ کسی کے ساتھ رشتہ داری ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو بیٹا یا بیٹیاں بنایا ہے اور نہ ہی اس کی ذات کو یہ بات زیبا ہے۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اسے کسی معاون کی ضرورت ہوتی تو مخلوق میں سے کسی کو اپنی ذات کے لیے مختص کرلیتا یعنی اسے اپنی خدائی میں شریک بنا لیتا۔ اسے اپنی ذات…
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی تخلیق اور سورج کی تسخیر ایک وحدہ لا شریک کا قبضہ ظاہر کرتی ہے :
5: پھر آسمان و زمین کی تخلیق اور دن رات کی تکویر اور سورج و چاند کی تسخیر اور ان کا ایک وقت مقررہ کیلئے چلنا اور ایک نفس آدم سے تمام زمین میں انسانوں کو بسا دینا اور ان کے لئے چوپائوں کو پیدا کرنا اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ سب کام ایک وحدہ لاشریک کے قبضہ میں ہیں۔ جو سب پر غالب و زبردست ہے چناچہ فرمایا خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّھَارِ وَیُکَوِّرُ النَّھَارَ عَلَی الَّیْلِ (اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا فرمایا وہ رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے)…
Read the full tafseer →تفسیر 5۔ ، خلق السموت والارض بالحق یکور اللیل علی النھارویکورالنھار علی اللیل ، قتاد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو اس سے ڈھانپ لیتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ ، یغشی اللیل النھار، اور بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے پر داخل ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے، یولج اللیل فی النھار ویولج النھار فی اللیل، اور حسن اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رات کو کم کرکے دن کو زیادہ کردیتے ہیں اور دن کو چھوٹا کرکے رات کو بڑا کردیتے ہیں۔ پس جو وقت رات سے کم ہوا وہ دن میں داخل ہوگیا اور جو وقت دن سے کم ہواوہ رات میں داخل ہوگیا اور وقت کم ہونے کی آخری حدنوگھنٹے اور زیادہ ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4۔ 5۔ اوپر ذکر تھا کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ دوزخی قرار پا چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے جھوٹے منکر لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا۔ کیونکہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی۔ جھوٹ تو ان مشرکوں کا یہ ہے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور ناشکری ان لوگوں کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا لیکن یہ لوگ اللہ کی تعظیم اور عبادت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت 4
(لواراد اللہ ان یتخذولدا) ” اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا “ جیسا کہ
جیسا کہ بعض بیوقوف لوگوں کا خیال ہے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کرلیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منژہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں ایک ہے لہذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی شبیہ ہے نہ مشیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی و حدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا کیونکہ…
Read the full tafseer →9 ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سورج اور چاند کے ان عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک رواں دواں ہے ایک مقرر مدت تک۔ جب تک کہ اللہ پاک کو منظور ہوگا۔ سو جب ان میں سے کسی بھی کام میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اللہ اس کائنات کو پیدا کرنے کے بعد کہیں اس سے الگ ہو کر بیٹھ گیا اور اسکا انتظام اس نے کچھ دوسری ہستیوں کے سپرد کردیا۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز اسی کے امر و ارشاد کی پابند ہے۔ اور اسکا ایک واضح ثبوت اور جلی مظہر دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں :
” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 4 یعنی انہیں کھیل تماشہ کے طور پر بےمقصد نہیں بنایا۔5 یعنی رات کو دن سے اور دن کو رات سے ڈھانپتا ہے اور اس طرح ان کا ایک دوسرے کے پیچھے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔6 یعنی زبردست ایسا ہے کہ اگر تمہیں پکڑنا چاہیے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ درگزر کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے تمہیں مہلت دیئے جا رہا ہے لہٰذا اس کی دی ہوئی مہلت سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(39:4) ولدا۔ اسم جنس کوئی بچہ ہو لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد جمع۔
لاصطفی لام جواب شرط کے لئے ہے اصطفی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اصطفاء (افتعال) مصدر اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ تو وہ منتخب کرلیتا۔ چن لیتا۔ یا پسند کرلیتا۔
مما۔ مرکب ہے من حرف جر اور ما موصولہ سے مما یخلق اس میں سے جسے وہ پیدا کرتا ہے اپنی مخلوق میں سے۔
ھو اللّٰہ الواحد۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔
یعنی الوہیت تو وجوب پر مبنی ہے (جب کوئی دوسرا واجب نہیں ہر موجود مخلوق ہے اور ہر مخلوق ممکن ہے) تو الہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ الہ اپنی ذات وصفات میں واحد ہو نہ اس کا کوئی مثیل ہو نہ شریک، اور جب کوئی دوسرا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…
Read the full tafseer →توحید کابیان۔
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طریقہ سے پیدا کیا بیکار بےفائدہ فضول نہیں بنایا ان میں لاکھوں حکم ہیں، اللہ کبھی رات کو دن میں داخل کردیتا ہے ، اور کبھی دن کو رات میں، یعنی کبھی دن کبھی رات، اور پھر کبھی دن بڑا رات چھوٹی، کبھی رات بڑی دن چھوٹا۔ یہ گردش زمانہ اس کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے ، جب رات میں دن داخل ہوتا ہے اور رات بڑھ جاتی ہے جب دن میں رات داخل ہوتی ہے تو دن بڑھ جاتا ہے ، اور اس نے تو روشنی شمس وقمر کو مسخر وفرمانبردار بنایا ہے کہ تمام بنی آدم کو نفع پہنچا رہے ہیں یہ ساری گردشیں رات دن آفتاب ومہتاب کی ایک وقت معین تک کے لیے مقرر ہیں جو ہر وقت ہر آن اپنی…
Read the full tafseer →[3] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
[4] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 18 صفحہ 585 اور سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 977۔
Read the full tafseer →ف 1: اللہ تعالیٰ قیامت میں ان لوگوں کو بتائیں گے کہ شرک سے ان میں کس درجہ پستیاں اور ذلتیں آگئی ہیں ۔ اور کس درجہ لوگ اللہ کی رحمتوں سے دور ہوگئے ہیں ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ ان کو محسوس ہوگا کہ جن معبودان باطل کو یہ اللہ کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے تھے وہ خود اللہ کے مصوب ہیں اور اس کی نگاہ غضب کا شکارا ۔ اس وقت ان کی آنکھوں سے حجاب دور ہوجائے گا ۔ اور حقیقت کو واضح طور پر اپنے سامنے دیکھیں گے ۔
2: خالق السموت والارض بالحق سے مراد یہ ہے کہ دنیا کو یونہی بلا کسی مقصد متعین کے پیدا نہیں کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ماونین سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس کے پیدا کرنے سے ایک غرض مدنظر ہے اور وہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(5) اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت اور کمال مصلحت کے ساتھ وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چان کو کام میں لگارکھا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا رہے گا آگاہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کمال قوت اور طاقت کا مالک بڑی بخشش کرنے والا ہے۔
تکویر کے معنی ہیں لپیٹنے کے کہیں اس کو ایلاج سے تعبیر کیا ہے کہیں غشیان سے تعبیر کیا ہے مطلب سب کا یہ ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتے جاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دن کی روشنی پر رات چھا گئی اور رات کی تاریکی پر دن چھا گیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسم سرما اور موسم گرما میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 6۔ یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے کا آپ غم نہ کریں، ان کا فیصلہ وہاں ہوگا۔
7۔ یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو، اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو، تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو درستی کے ساتھ بنایا ہے
5۔ اللہ تعالیٰ کے زبردست ، طاقتور اور ہر طرح کی کمزوریوں سے پاک ہونے کی دلیل بیان کی جارہی ہے کہ غور کرو کہ کیا اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات نہیں ہے جس نے آسمانوں اور زمین کا یہ عظیم الشان کارخانہ تخلیق کیا ہے کیا اس نے اس اتنے بڑے کام میں کسی کو اپنا معاون ٹھہرایا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس کو اس سے بہت چھوٹے کاموں کے لیے کسی کی معاونت کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ اچھا جس طرح اس نے اس اتنے بڑے اجرام فلکی اور اس زمین کو بنایا ہے جس پر آپ سکونت پذیر ہیں تو کیا اس نے ان سب کو بنا کر ان کا انتظام دوسروں کے سپرد کردیا ہے ؟ نہیں اور یقینا…
Read the full tafseer →In verse 5, it was said: يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ (He wraps the night over the day and He wraps the day over the night,). The word: تَکوِیر (takwir) means to throw something on top of the other and thereby hide it. The Qur'an has elected to express the phenomenon of the alternation of the night and day in terms of common perception - when night comes, it is as if a curtain has been thrown against the light of the day, and when the day comes, the darkness of the night goes behind the curtain.
Both the Moon and the Sun move
Later in verse 5, it was said: كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ…
Read the full tafseer →10 For explanation, sec Ibrahim: 19, An-Nahl: 3, Al-'Ankabut: 44, and the E.N.'s thereof.
11 That is, "He is All-Mighty: if He wills to punish you, no power can resist Him. But it is His kindness that He dces not seize you forthwith in spilt of your arrogant and insolent behaviour, but He goes on giving you respite after respite." Here, Allah's making no haste in seizing people in punishment and His giving them respite has been called forgiveness.
Read the full tafseer →