Az-Zumar 39:4

Az-Zumar · from ayah 4

39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ— سُبْحٰنَهٗ ؕ— هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۟لَوۡ اَرَادَ اللّٰهُ اَنۡ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰى مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌ ۙ سُبۡحٰنَهٗ‌ ؕ هُوَ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ‏

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

If Allah had intended to take a son, He could have chosen from what He creates whatever He willed. Exalted is He; He is Allah, the One, the Prevailing.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:4

اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کر لیتا، پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر اللہ یہ چاہتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا، (لیکن) وہ پاک ہے (اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو) وہ تو اللہ ہے، ایک، اور زبردست اقتدار کا مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا پاکی ہے اسے وہی ہے ایک اللہ سب پر غالب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر اﷲ ارادہ فرماتا کہ (اپنے لئے) اولاد بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب فرما لیتا، وہ پاک ہے، وہی اﷲ ہے جو یکتا ہے سب پر غالب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ اگر کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق سے جسے چاہتا چن سکتا تھا مگر وہ تو ایسی باتوں سے پاک ہے وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر اللہ اولاد ہی بناین کا ارادہ کرتا تو وہ چھانٹ لیتا ان چیزوں میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا۔ وہ پاک او ارفع ہے۔ وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر اللہ اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا (اس غرض کے لئے) خود ہی چن لیتا پاک ہے وہ وہی ہے اللہ یکتا انتہائی زبردست

— مولانا اسحاق مدنی

اگر اللہ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے۔ وہ اللہ واحد ہے زبردست ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور (کل کائنات پر) چھایا ہوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر اللہ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو واحد اور غالب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If Allah had wanted to take to Himself a son, He could have chosen anyone He wanted out of those whom He creates. Glory be to Him (that He should have a son). He is Allah: the One, the Overpowering.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had Allah opted to have a son of His own, He would have definitely chosen anyone, as He wished, out of what He had created. (But), Pure is He. He is Allah, the Only One, the All-Dominant.

— Muhammad Taqi Usmani

Had Allah opted to have a son of His own, He would have definitely chosen anyone, as He wished, out of what He had created. (But), Pure is He. He is Allah, the Only One, the All-Dominant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had Allah willed to take a son, He could have chosen whom He willed out of those whom He created. But glory be to Him! He is Allah, the One, the Irresistible.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If Allah had willed to choose a son, He could have chosen what He would of that which He hath created. Be He Glorified! He is Allah, the One, the Absolute.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If Allah had intended to take a son, He could have chosen from what He creates whatever He willed. Exalted is He; He is Allah, the One, the Prevailing.

— Saheeh International

Had God wanted to have a son, He would have chosen one from His creatures according to His will. God is too Exalted to have a son. He is One and Almighty.

— Muhammad Sarwar

If Allah desire to take a son to Himself, He will surely choose those He pleases from what He has created. Glory be to Him: He is Allah, the One, the Subduer (of all).

— Muhammad Habib Shakir

Had Allah willed to take a son, He could have chosen whatsoever He pleased out of that which He hath created. Hallowed be He! He is Allah the One, the Subduer.

— Abdul Majid Daryabadi

Had Allah wished to take to Himself a son, He could have chosen whom He pleased out of those whom He doth create: but Glory be to Him! (He is above such things.) He is Allah, the One, the Irresistible.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

باطل عقائد کی تردید۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والا بن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے اور آیتوں میں ہے یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ یہاں فرمایا کہ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 8 یعنی اللہ کا بیٹا ہونا تو سرے سے ہی ناممکن ہے۔ ممکن اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کسی کو اللہ برگزیدہ کرلے۔ اور برگزیدہ بھی جس کو وہ کرے گا، لامحالہ وہ مخلوق ہی میں سے کوئی ہوگا، کیونکہ اللہ کے سوا دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ مخلوق ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ مخلوق خواہ کتنی ہی برگزیدہ ہوجائے، اولاد کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی، کیونکہ خالق اور مخلوق میں عظیم الشان جوہری فرق ہے، اور ولدیت لازماً والد اور اولاد میں جوہری اتحاد کی مقتضی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ " اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو ایسا کرتا " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے خود بخود یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا۔ یہ ان لوگوں پر رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہتے تھے ان کے اس خیال باطل اور محال کو بطور فرض محال کے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے معاذ اللہ کوئی اولاد ہوتی تو وہ بغیر اس کے ارادہ اور مشیت کے ہونا محال ہے کہ زبردستی اولاد اس پر مسلط نہیں ہوسکتی پھر اگر بالفرض اس کا ارادہ ہوتا تو اس کی ذات کے سوا سب اس کی مخلوقات ہی ہیں انہیں میں سے کسی کو اولاد بناتے۔ اور اولاد کا اپنے والد کی ہم جنس ہونا لازم ہے، اور مخلوق خالق کی ہم جنس نہیں ہو سکتی۔ اس لئے مخلوق کو اولاد بنانے کا ارادہ کرنا محال ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لواراد اللہ ان یتخذ ولد الاصطفی مما یخلق ما یشآء سبحنہ ھو اللہ الی حد القھار (4) مشرکین کے عقیدے پر تعریض یہ مشرکین عرب کے عقیدے پر تعریض ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کم عقلوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ اگر خدا اپنے لئے اولاد ہی بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ بیٹیاں کیوں بناتا، وہ اپنی مخلوقات میں سے جس بہتر سے بہتر چیز کو چاہتا اپنے لئے منتخب کرنا ! سبحنہ وہ ایسی نسبتوں اور ایسی ضرورتوں سے ارفع منزہ اور بالکل پاک ہے۔ اس کو کسی بیٹے بیٹی یا کسی شریک و مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں ؟ جس طرح مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے ہی پاک ہے۔ (ابن کثیر

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–5

1: مشرکین عرب عام طور سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے کچھ دیوتا گھڑ کر ان کے بت بنا لیے تھے، اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے، اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کو بھی شرک قرار دیا، کیونکہ اول تو ان دیوتاؤں کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، دوسرے عبادت تو اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، کسی دوسرے کی عبادت، خواہ کسی نیت سے کی جائے، شرک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص واقعی بزرگ اور ولی اللہ ہو، تب بھی اس کی عبادت شرک ہے، چاہے اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے ہمیں اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 4 یہ ایک استدلالی مفروضہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنا شریک بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو شریک کر کے اس کا اعلان کردیتا ۔ اس کا ارادہ تو بےقید ہے ، لیکن اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ اس لیے اللہ کی طرف نہ بیٹے کی نسبت ہوسکتی ہے ، نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت و ارادہ اور اس کی تقدیر ہے۔ ان چیزوں سے اللہ پاک ہے۔ سبحنه ھو اللہ الواحد القھار (39: 4) ” پاک ہے وہ اس سے ، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب “۔ اللہ اپنے لیے کسی کو بیٹا کب بناتا ہے۔ وہ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر چیز کا مدبر ہے۔ ہر چیز اور ہر انسان اس کی ملکیت میں ہے اور وہ جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہاں سے ان کا رد ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں جیسا کہ نصاریٰ حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ساتھ ہی تین خداؤں میں کا ایک خدا مانتے ہیں۔ یا عرب کے بعض قبائل فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بفرض محال اللہ یہ ارادہ کرتا کہ اس کی کوئی اولاد ہو تو ظاہر ہے وہ اپنی مخلوق ہی میں سے کسی کو اس کام کے لیے چنتا۔ کیونکہ دلائل سے ثابت ہوچکا کہ ایک خدا کے سوا جو کوئی چیز ہے سب اسی کی مخلوق ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مخلوق اور خالق میں کسی درجہ میں بھی نوعی یا جنسی اشتراک نہیں۔ پھر ایک دوسرے کا باپ یا بیٹا کیسے بن سکتا ہے۔ اور جب مخلوق و خالق میں یہ رشتہ محال ہے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { لَوْ اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ } ”اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا“ اللہ کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے ہاں اولاد کا کوئی تصور ہے۔ وہ اکیلا خالق ہے اور باقی ہرچیز اس کی مخلوق ہے ‘ فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کوئی ضرورت یا حاجت نہیں ہے۔ { سُبْحٰنَہٗط ہُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ } ”وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور کل کائنات پر چھایا ہوا۔“ ُ کل کائنات اور تمام مخلوقات پر اس کی حکومت قائم ہے۔ وہ سب پر قابو رکھنے والا اور غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 یہ دراصل مشرکوں کے اس عقیدہ کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اپنے لئے بیٹیاں انہیں ناگوار ہیں۔ انہیں جواب یہ دیا گیا کہ اللہ کے لئے تو اولاد ہونا ہی محالات سے ہے۔ اس لئے کہ باپ اور بیٹے میں جنسی اور نوعی اشتراک ہوتا ہے۔ نیز بیٹا نہ باپ کا مملوک ہوتا ہے نہ مخلوق۔ جبکہ سب چیزیں اللہ کی مملوک و مخلوق ہیں۔ لہذا ان میں کسی قسم کا اشتراک ناممکن ہے۔ اور اگر بفرض محال اللہ اولاد بناتا تو پھر کیا بیٹیاں ہی اپنے لئے انتخاب کرتا ؟ جیسا کہ تم کہتے ہو جبکہ تم انہیں اپنی ذات کے لئے قطعاً پسند نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (کہ اس کو کسی ارادہ کی ضرورت لاحق ہو) انسان کو اولاد کی ضرورت اور خواہش جن جن اغراض سے بھی ہوتی ہے حق تعالیٰ ان سب سے پاک و برتر ہے۔ 6۔ اسم الواحد “۔ میں اشارہ ہے توحید ذاتی کی طرف اور القھار میں توحید صفاتی کی جانب، اردو میں قھر اور قھار، غضب اور غضبناک کے مرادف سمجھے جاتے ہی، عربی میں (آیت) ” القھار “۔ غالب وزبردست کے معنی میں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ واقعۃ بھی ایک اور یکتا ہے، اور چونکہ کوئی اس جیسا غلبہ وقوت والا نہیں، اس لیے کسی میں صلاحت بھی اس کے شریک بننے کی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو اراد اللہ ان یتخذ ولدا لا صطفے مما یخلق ما یشاء سبحنہ ھو اللہ الواحد القھار اگر (بالفرض) اللہ کسی کو اپنی اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو ضرور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ‘ منتخب فرماتا (مگر) وہ پاک ہے۔ وہ ایسا اللہ ہے جو واحد ہے ‘ زبردست ہے۔ یعنی اللہ اگر اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا ‘ کیونکہ جو چیز موجود ہے وہ اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ دو واجبوں کا وجود محال ہے ‘ یہ بات دلائل سے ثابت ہے اور ہر موجود کا موجد وہی ہے ‘ ساری مخلوق اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور مخلوق خالق کی مثل نہیں ہوسکتی کہ خالق کی اولاد کے قائم مقام ہو سکے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اگر اللہ تعالیٰ فرشتوں یا انسانوں میں سے کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا جیسا یہود و نصاری اور بنو ملیح کا کہنا ہے تو وہ ضرور اپنی اس مخلوق ہی سے جو اس کے پاس جنت میں موجود ہے جسے چاہتا منتخب فرماتا یا یہ کہ فرشتوں میں سے منتخب فرماتا باقی وہ ان تمام عیوب سے پاک ہے اور وحدہ لاشریک اور اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ شان نزول : لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا (الخ) ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ تین قبائل عامر، کنانہ بن سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بتوں کو پوجتے تھے اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور کہتے تھے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا۔۔ : اس آیت میں مشرکین کے ایک اور شرک یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے، کیونکہ ان میں سے بعض عزیر ؑ کو اور بعض عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے اور بعض فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ظاہر ہے اولاد دو طرح کی ہوسکتی ہے، ایک حقیقی اولاد۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے عقلاً محال ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا) [ الأنعام : 101 ] ”اس کی اولاد کیسے ہوگی، جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ کی کوئی بیوی نہیں اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

1 ۔ 4:۔ تنزیل کو رفع ‘ مبتدا کی وجہ سے دیا گیا اس کی خبر من اللہ العزیز الحکیم۔ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس حیثیت سے مرفوع ہو ھذا تنزیل یہ فراء نے کہا۔ کسائی اور فراء نے تنزیل منصوب پڑھا ہے کیونکہ یہ مفعول بہ ہے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے اتبعو اواقرء واتنزیل الکتاب۔ فراء نے کہا : یہ اغراء کی حیثیت میں منسوب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کتب اللہ علیکم) النسائ (24: تقدیر کلام ہے الزموا کتاب اللہ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مکتوب ہے۔ یہ کتاب کی تنزیل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے حق سے مراد صدق ہے یعنی یہ باطل اور مذاق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ (کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے ساتھ حق کے) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین (1) الا للہ الدین الخالص “ (سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ایسی اطاعت جو شرک سے پاک ہو اللہ ہی کے لئے ہے) یعنی وہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ [اگر ارادہ کرتا اللہ ] اَنْ يَّتَّخِذَ [کہ وہ بنائے ] وَلَدًا [کوئی اولاد ] لَّاصْطَفٰى [تو وہ چن لیتا ] مِمَّا [اس میں سے جو ] يَخْلُقُ [وہ پیدا کرتا ہے ] مَا [اس کو جسے ] يَشَاۗءُ ۙ [وہ چاہتا ] سُبْحٰنَهٗ ۭ [(لیکن) اس کی پاکیزگی ہے ] هُوَ اللّٰهُ [وہی اللہ ہے ] الْوَاحِدُ [جو واحد ہے ] الْقَهَّارُ [جو قہار ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ان لوگوں کی تردید فرمائی جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں (لَوْ اَرَاد اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو منتخب فرما لیتا) لیکن اولاد ہونا اس کے لیے عیب ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے لیے کوئی اولاد ہو وہ بالکل ہی یکتا ہے اور قہار ہے یعنی غلبہ والا ہے اسے کسی کی ضرورت اور حاجت نہیں ہے عموماً مخلوق اس لیے اولاد کی آرزو کرتی ہے کہ آڑے وقت میں اور بڑھاپے میں کام آئے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اس کی ذات وصفات میں کوئی تغیر و تبدل نہیں، نہ اس میں کبھی ضعف آئے گا اسے نہ کسی کی مدد کی ضرورت ہے نہ کبھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” لو ارادا اللہ الخ :“ اس میں مشرکین کے گذشتہ دعوے کا بطلا واضح کیا گیا ہے کہ اگر بفرض محال اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا کہ کسی کو اپنا نائب بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا اپنی نیابت کے لیے منتخب فرما لیتا۔ آخرت تمہارے خود ساختہ معبود ہی کیوں اس کے نائب بن گئے۔ ” سبحنہ الخ “ یہ مذکورہ دعوے پر تفریع ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ شریک اور نائب سے پاک ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے اور قہار و بےنیاز ہے اس کو نائب کی ضرورت ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزمر ہے ۔ اس سورة کے آخری رکوع میں جنت اور جہنم کی طرف جانے والے گروہوں کا ذکر ہے۔ زمر ، زمرہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گروہ یا ٹولہ ہوتا ہے تو سورة کا نام اسی مناسب سے الزمر رکھا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی جب کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ اس سورة مبارکہ کی پچھتر آیات ، آٹھ رکوع ، 192 الفاظ اور چار ہزار حروف ہیں۔ مضامین سورة : اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی سابقہ سورة ص کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں قرآن پاک کے بطور نصیحت ہونے کا ذکر تھا۔ تو اس سورة کی ابتداء اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْ اَرَادَ اللہُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ۝ 0 ۙ سُبْحٰنَہٗ۝ 0 ۭ ہُوَاللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝ 4 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–6

ترکیب : ان یتخذ مفعول ارا دلا صطفٰی جواب الشرط مایشاء مفعول لا صطفٰی مما یخلق حال سبحانہ جملہ معترضہ بالحق حال من فاعل خلق۔ تفسیر : لو اراد اللہ ان آیات میں خدا تعالیٰ اس زلفی کا رد کرتا ہے۔ کفار و مشرکین جو غیر اللہ کو پوجتے تھے تو ان کو وسیلہ جانتے تھے اور وجہ وسیلہ ہونے کی یہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبود خدا کے بیٹے ہیں اور باپ بیٹے میں بڑا رابطہ ہوتا ہے۔ بیٹا باپ سے کہہ کر ہماری حاجتیں روا کروا دیتا ہے۔ مکہ کے مشرک فرشتوں کو پوجتے اور ان کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، اسی طرح جنوں کو بھی اور رومن کیتھولک عیسائی بلکہ آج کل کے پر اٹسٹنٹ بھی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کو ایک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْ اَرَادَاللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لاَّصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَایَشَآئُ لا سُبْحٰنَـہٗ ط ھُوَاللّٰہُ الْوَاحِدُالقَہَّارُ ۔ (الزمر : 4) (اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا، وہ اس سے پاک ہے، وہ اللہ واحد ہے سب پر قابو رکھنے والا۔ ) مشرکین کے عقیدے پر تعریض جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی نہ کسی کو شریک کیا ہے ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد فرض کی ہے۔ وہ مشرکینِ عرب میں بھی تھے اور یہودونصاریٰ میں بھی۔ اس آیت کریمہ میں ان کے عقیدے پر تعریض کی گئی ہے کہ مشرک لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی ذات کے ساتھ اس کی رشتہ داری ہے۔ اس سے پہلی آیت میں اس بات کو کذب اور گمراہی قرار دیا گیا ہے کہ کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی خدائی میں کچھ اختیارات دیئے ہیں۔ اب اس بات کی نفی کی جارہی ہے کہ ذات کبریا کی نہ کسی کے ساتھ رشتہ داری ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو بیٹا یا بیٹیاں بنایا ہے اور نہ ہی اس کی ذات کو یہ بات زیبا ہے۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اسے کسی معاون کی ضرورت ہوتی تو مخلوق میں سے کسی کو اپنی ذات کے لیے مختص کرلیتا یعنی اسے اپنی خدائی میں شریک بنا لیتا۔ اسے اپنی ذات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4: لَوْ اَرَادَاللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَوَلَدًا لَّاصْطَفٰی (اگر اللہ تعالیٰ اپنے لئے اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو ضرور اپنی مخلوق میں) مِمَّا یَخْلُقُ مَایَشَآ ئُ (سے جس کو چاہتا منتخب فرماتا) یعنی اگر تمہارے خیال کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹا بنانا جائز ہوتا تو پھر وہ اپنی مرضی سے جس مخلوق کو چاہتا منتخب کرتا تمہارے انتخاب و مشورہ کی ضرورت نہ تھی۔ سُبْحٰنَہٗ (وہ پاک ہے) اس نے اپنی ذات کو اس سے منزہ اور پاک قرار دیا کہ اولیاء واولاد میں سے کوئی بھی اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔ اس پر آیت کا اگلا حصہ دلالت کر رہا ہے۔ ھُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ (وہ اللہ اکیلا زبردست ہے) یعنی وہ اکیلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4، لو اراد اللہ ان یتخذولدالا صطفی البتہ اختیار کرلیتا ۔ ، ممایخلق مایشائ، یعنی فرشتے جیسا کہ انہوں نے کہا تھا، لواردنا ان نتخذلھو الاتخذناہ من لدنا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا :، سبحانہ، وہ اس بات سے پاک ہے اور ہراس چیز سے پاک ہے جو اس کی پاکی کے لائق نہیں ہے۔ ، ھو اللہ الواحد القھار،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–5

4۔ 5۔ اوپر ذکر تھا کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ دوزخی قرار پا چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے جھوٹے منکر لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا۔ کیونکہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی۔ جھوٹ تو ان مشرکوں کا یہ ہے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور ناشکری ان لوگوں کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا لیکن یہ لوگ اللہ کی تعظیم اور عبادت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 (لواراد اللہ ان یتخذولدا) ” اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا “ جیسا کہ جیسا کہ بعض بیوقوف لوگوں کا خیال ہے تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کرلیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منژہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں ایک ہے لہذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی شبیہ ہے نہ مشیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی و حدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ پاک اور منزہ ہے "۔ سو وہ پاک و منزہ اور اعلیٰ وبالا ہے ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب اور شرکاء سے۔ وہ ایسی تمام نسبتوں اور ضرورتوں سے پاک و منزہ اور اعلیٰ وارفع ہے۔ اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ ہوسکتی ہے۔ وہ بالکل یکہ و تنہا اور اپنی پوری کائنات پر کنٹرول اور قابو رکھنے والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے ان مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی گئی جنہوں نے اپنے مشرکانہ فلسفوں کی بنا پر اس کے لیے طرح طرح کے شریک گھڑ رکھے ہیں اور اپنے انہی من گھڑت اور بےبنیاد واسطوں کو انہوں نے اس کے یہاں تقرب کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اور اپنے طور پر وہ یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : ” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة زمر رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9: اسرار و معارف : اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 4 یعنی انہیں کھیل تماشہ کے طور پر بےمقصد نہیں بنایا۔5 یعنی رات کو دن سے اور دن کو رات سے ڈھانپتا ہے اور اس طرح ان کا ایک دوسرے کے پیچھے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔6 یعنی زبردست ایسا ہے کہ اگر تمہیں پکڑنا چاہیے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ درگزر کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے تمہیں مہلت دیئے جا رہا ہے لہٰذا اس کی دی ہوئی مہلت سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 4–5

(39:4) ولدا۔ اسم جنس کوئی بچہ ہو لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد جمع۔ لاصطفی لام جواب شرط کے لئے ہے اصطفی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اصطفاء (افتعال) مصدر اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ تو وہ منتخب کرلیتا۔ چن لیتا۔ یا پسند کرلیتا۔ مما۔ مرکب ہے من حرف جر اور ما موصولہ سے مما یخلق اس میں سے جسے وہ پیدا کرتا ہے اپنی مخلوق میں سے۔ ھو اللّٰہ الواحد۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ یعنی الوہیت تو وجوب پر مبنی ہے (جب کوئی دوسرا واجب نہیں ہر موجود مخلوق ہے اور ہر مخلوق ممکن ہے) تو الہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ الہ اپنی ذات وصفات میں واحد ہو نہ اس کا کوئی مثیل ہو نہ شریک، اور جب کوئی دوسرا اس کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو) تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–4

(ف 2) عموما مشرک لوگ یہ ہی کہا کرتے ہیں کہ ان مورتوں اور دیوتاؤں کو اس اعتقاد سے پوجتے ہیں کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ہم پر کوئی مصیبت آئے گی تو وہ موریں جن کو پوجتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ان کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیویں گی۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے قائل نہ ہونے کے سبب سے سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط خیال کا جواب دنیا کی حالت کو جتلایا، جس جواب کا یہ حاصل ہے کہ پچھلی امتوں کے ہلاک ہوجانے کا ذکرفرماکر پھر یہ فرمایا کہ اگر یہ بت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–4

قرآن کا مرکزی پیغام 1: حق کے ساتھ کتاب کو نازل فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب جلیل میں اور قانون عقل وخرد میں پورا پورا مطابق ہے ۔ اس صحیفہ عظیم میں اور فطرت کے قوانین میں کامل توافق ہے اور اسی طرح اس میں اور اصلاحی وروحانی مصالح میں بھی پوری مناسبت ہے ، یعنی اس کے پیش کردہ تصورات میں کوئی ایسا تصور نہیں جسے آپ فطرت کے منافی کہہ سکیں ، اور اسی طرح اس میں یہ عجیب بات ہے کہ اس کی تعلیمات میں روحی اصلاح کا پور پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ تمام مصالح اور مطالع کو سامنے رکھ کر انسان کے لئے ایسا جامع پیغام پیش کیا گیا ہے جو اس کی قدرتی ساخت اور خواہشات کے بالکل مطابق ہے حق کے معنی عربی میں کسی چیز کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا اور اولاد بناناچاہتا تھا تو وہ ضرور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا منتخب کرلیتا وہ تو ہر عیب سے پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو یکتا اور سب پر غالب ہے۔ یعنی یہ لازم باطل ہے چونکہ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے اور اپنی مخلوق یعنی غیر جنس سے کسی کو بیٹا بنانا اس کے لئے عیب ہے پس اس قسم کا انتخاب محال ہے اور اتخاذولد کا ارادہ بھی محال ہوا۔ نیز یہ کہ اولاد کی خواہش خود احتیاج کو مستلزم ہے کاروبار سنبھالنے میں دشواری کی وجہ سے اولاد کی خواہش ہوتی ہے یامرنے کے بعد کسی جانشین کی خواہش ہوتی ہے یا بڑھاپے کی کمزوری کے باعث کسی سہارے کے لئے اولاد کی خواہش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–5

ف 6۔ یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے کا آپ غم نہ کریں، ان کا فیصلہ وہاں ہوگا۔ 7۔ یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو، اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو، تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر اللہ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو مخلوق میں سے کسی کو چن لیتا 4۔ اولاد ہونا اور اولاد بنانا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اولاد ہونے کی نفی میں یہ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو اگر ایسی بات ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی کوئی بیوی بتائو کیونکہ اولاد ہونے کے لیے جس طرح ولد ضروری ہے اسی طرح اس ولد کی والدہ بھی لازم و ضروری ہے اگر تم نے اللہ کو کسی کا والد بنایا ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی بیوی بتائو۔ لیکن اللہ کی اولاد ماننے والوں نے بھی اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنے نظریہ سے بھی باز نہ آئے۔ زیر نظر آیت میں اولاد بنانے کا ذکر ہے جس کو متبنیٰ کے نام سے موسوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The first sentence of verse 4: لَّوْ أَرَ‌ادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا (Had Allah opted to have a son of His own) is a refutation of the allegation of those who said that angels were the progeny of Allah. The idea was false and absurd. Taking it on as a supposition of the impossible, it was said: If Allah Ta’ ala were to have, God forbid, any children, it goes without saying that it could not have happened without His intention and will, for it would have been impossible as children are not imposed on anyone - definitely not so in the case of Allah. Then, suppose He had the intention,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 That is, "It is just impossible that Allah should havc begotten a son. The only possibility is that Allah should choose someone for Himself; and whomever He chooses will inevitably be from among the creatures, for everything in the world, apart from Allah, is His creation. Now, evidently, however exalted and chosen a creature might be, it cannot havc the position of the offspring. For between the Creator and the created there exists a great disparity of nature and essence and character, and parenthood necessarily demands that there should be the unity of nature and essence between a father…

Read the full tafseer →