Explained with ayahs 1–4
باطل عقائد کی تردید۔
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والا بن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے اور آیتوں میں ہے یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ یہاں فرمایا کہ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 4
یہ امر واقعہ اور ایک حقیقت ہے جسے اوپر کے مطالبے کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خالص کر کے اس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیونکہ خالص اور بےآمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بےآمیز بندگی کرتا ہے تو غلط کرتا ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے۔ اس آیت کی بہترین تشریح وہ حدیث ہے جو ابن مردُوْیہ نے…
Read the full tafseer →(آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى، یہ مشرکین عرب کا حال ہے اور اس زمانے کے عام مشرکین بھی تقریباً یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ خالق ومالک اور تمام کاموں میں متصرف تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ شیطان نے ان کو بہکایا تو اپنے خیال کے مطابق فرشتوں کی شکلوں پر بت تراشے اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ بت ہمارے بنائے ہوئے ہیں انہیں کوئی عقل و شعور اور قدرت وقوت نہیں۔ انہیں عقیدہ یہ تھا کہ ان بتوں کی تعظیم و تکریم سے وہ فرشتے ہم سے خوش ہوں گے جن کی شکلوں پر بت بنائے گئے ہیں اور فرشتے اللہ کے نزدیک مقرب ہیں۔ انہوں نے بارگاہ…
Read the full tafseer →والذین اتخذوا … الایۃ یعنی یہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسرے کار ساز بنائے بیٹھے ہیں اور ان کے حق میں انہوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا ہے کہ ان کو وہ خدا سمجھ کر نہیں بلکہ خدا کے تقریب کا ذریعہ سمجھ کر پوج رہے ہیں اگر اس کتاب کے فیصلہ کو وہ نہیں مان رہے ہیں تو اللہ ان کے اختالف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔
ان اللہ لایھدی من ھوکذب کنار ھدی یھدی کسی مقصد میں بامراد کرنے کے مفہم کے لئے بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
قیامت کے دن ان لوگوں کا جو فیصلہ ہوگا اس کے متعلق یہ اصولی حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ جھوٹے اور ناشکرے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بامراد نہیں کرے…
Read the full tafseer →3۔ 1 یہ جھوٹ ہی ہے کہ ان معبودان باطلہ کے ذریعے سے ان کی رسائی اللہ تک ہوجائے گی یا یہ ان کی سفارش کریں گے اور اللہ کو چھوڑ کر بےاختیار لوگوں کو معبود سمجھنا بھی بہت بڑی ناشکری ہے ایسے جھوٹوں اور ناشکروں کو ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1: مشرکین عرب عام طور سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن انہوں نے کچھ دیوتا گھڑ کر ان کے بت بنا لیے تھے، اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم ان کی عبادت کریں گے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے، اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کو بھی شرک قرار دیا، کیونکہ اول تو ان دیوتاؤں کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی، دوسرے عبادت تو اللہ تعالیٰ کا خالص حق ہے، کسی دوسرے کی عبادت، خواہ کسی نیت سے کی جائے، شرک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص واقعی بزرگ اور ولی اللہ ہو، تب بھی اس کی عبادت شرک ہے، چاہے اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے ہمیں اللہ…
Read the full tafseer →الاللہ الدین الخالص (39: 3) ” خبردار دین خالص اللہ کا حق ہے “۔ نہایت ہی اونچی بہایت ہی طویل اور نہایت ہی رعب دار آواز میں۔ گویا اعلان شاہی ہے اور لفظ ” الا “ خبردار ! سے اس کا آغاز ہوتا ہے اور نہایت ہی قصر اور حصر کے الفاظ میں کہ اللہ ہی کا حق ہے زندگی اور خالص اللہ کا حق ہے ۔ جس طرح مفہوم موکد ہے اس طرح الفاظ بھی پرشوکت ہیں۔ یہ اصول حیات ہے۔ پوری زندگی اس پر قائم ہے بلکہ پوری کائنات اس اعلان پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر مختصر زور دار اور قصر حصر کے الفاظ میں یہ قانون نافذ ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں اس دور کی جاہلیت کا کلمہ اور نظریہ کیا تھا جسے رد کیا گیا۔
والذین اتخذوا۔۔۔۔ ھوکذب کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3 یعنی حسب معمول اللہ کی بندگی کرتے رہیے جو شوائب شرک و ریاء وغیرہ سے پاک ہو اسی کی طرف قولاً و فعلاً لوگوں کو دعوت دیجئے اور اعلان کر دیجئے کہ اللہ اسی بندگی کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو عمل خالی از اخلاص کی اللہ کے ہاں کچھ پوچھ نہیں۔
4 عموماً مشرک لوگ یہ ہی کہا کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں اور دیوتاؤں کی پرستش کر کے ہم بڑے خدا سے نزدیک ہوجائیں گے اور وہ ہم پر مہربانی کرے گا جس سے ہمارے کام بن جائیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ ان لچر پوچ حیلوں سے توحید خالص میں جو جھگڑے ڈال رہے ہو، اور اہل حق سے اختلاف کر رہے ہو اس کا عملی فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگے چل کر ہوجائے گا۔
5 یعنی جس نے دل میں…
Read the full tafseer →آیت 3 { اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ } ”آگاہ ہو جائو کہ اطاعت ِخالص اللہ ہی کا حق ہے۔“
اللہ کے ہاں صرف دین خالص ہی مقبول ہے۔ اللہ کو یہ ہرگز منظور نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اس کی بندگی بھی کرے اور اپنی بندگی کا کچھ حصہ کسی دوسرے کے لیے بھی مختص کرلے۔ اللہ تعالیٰ بہت غیور ہے ‘ وہ شراکت کی بندگی کو واپس اس بندے کے منہ پردے مارتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میرا بننا ہے تو خالصتاً میرے بنو : { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } البقرہ : 208 ”اے اہل ایمان ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو“۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام ماننے اور کچھ نہ ماننے کے حوالے سے سورة البقرۃ…
Read the full tafseer →3 دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ (2) دوسرا معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اپنے آپ کو ہمہ وقتی اللہ کا غلام سمجھا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، (3) قانون جزا و سزا (4) اور اس قانون جزا و سزا کے مطابق اچھے اور برے لوگوں کو بدلہ دینا۔ آیت نمبر 2 اور 3 میں دین کا لفظ اپنے پہلے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
4 توسل اور اللہ کا قرب ڈھونڈنا :۔ غیر اللہ کو پکارنے اور ان کے حضور نذر و نیاز پیش کرنے کے سلسلہ میں مشرکوں کی دلیل ہمیشہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ہم یہ کام اس لئے کرتے ہیں کہ یہ چھوٹے خدا ہماری معروضات بڑے خدا تک پہنچا دیں۔…
Read the full tafseer →3۔ (اور باقی ان کی عبادت کو کچھ مقصود بالذات تھوڑے ہی سمجھتے ہیں) (آیت) ” مانعبدھم ..... زلفی “۔ اس مختصر سے فقرہ کے اندر شرک کا سارا فلسفہ آگیا ہے، حضرات انبیاء کی مسلسل تعلیم وتبلیغ توحید کا اثر دنیا پر یہ پڑا ہے کہ اب کوئی بڑے سے بڑا مشرک فرقہ بھی کھلم کھلا دو یا زائد خداؤں کا قائل نہیں رہا ہے، بلکہ ہر ایک اپنے کو مشرک کہلاتے شرمانے لگا ہے اور اپنے شرک کی طرح طرح تاویل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ تو اب مشرکین کہتے کیا ہیں کہ خدائے عظیم و برتر تو بس ہمارا بھی ایک ہی ہے، لیکن بات یہ ہے کہ کائنات کے ہر ہر شعبہ حیات کا انتطام و تصرف تو الگ الگ دیوی دیوتا یاخدائے اصغر کے سپرد ہے، اور ہم تو ان دیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →الا اللہ الدین الخالص سنو ! اطاعت جو شرک سے خالص ہو ‘ اللہ ہی کیلئے سزاوار ہے۔
لِلّٰہِ کو الدِّیْن سے پہلے ذکر کرنے سے خالص عبادت کی اللہ کے ساتھ خصوصیت پختہ ہوگئی اور چونکہ اللہ کے ساتھ عبادت خالصہ کے اختصاص کی دلائل وبراہین اتنی زیادہ اور ظاہر ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں ‘ اسلئے یہ مسئلہ گویا تسلیم شدہ ہے ‘ اسی بناء پر کلام کو کسی حرف تاکید سے مؤکد نہیں کیا گیا (مؤکد کلام تو اس موقعہ پر بولا جاتا ہے جب مخاطب کو انکار یا کم سے کم اس کلام میں شبہ ہو۔ کافروں کو خلوص دین کا انکار تو اس جگہ بھی تھا ‘ لیکن ان کا انکار بداہۃً اتنا غلط تھا کہ اس کا اعتبار ہی نہیں کیا گیا اور یہ مان لیا گیا کہ گویا…
Read the full tafseer →یاد رکھو کہ ایسی عبادت جو کہ شرک سے خالص ہو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو تمام انسانوں پر واجب ہے۔
اور ان کفار مکہ نے اللہ کے علاوہ جو اور شرکاء مثلا لات و عزی اور منات وغیرہ تجویز کر رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ مرتبہ اور سفارش میں یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا مصاحب بنا دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کے درمیان ان کے دینی اور باہمی اختلافات کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دین کا راستہ نہیں دکھاتا جو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہو اور اس کا منکر ہو اور یہ لوگ یہود و نصاری اور بنو ملیح اور مجوس اور تمام…
Read the full tafseer →اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ۔۔ : یعنی اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خالص عبادت اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مگر اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار سمجھنے والے مشرک لوگ عموماً یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت انھیں خالق ومالک سمجھ کر نہیں کرتے، خالق ومالک اور اصل معبود تو ہم اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کی ذات بہت بلند ہے، ہماری وہاں رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے ہم ان ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں اور انھیں پکارتے اور ان سے فریاد کرتے ہیں، تاکہ یہ ہماری حاجتیں اور دعائیں اللہ تعالیٰ سے پوری کروا دیں۔ کئی لوگ اس کے لیے چھت پر پہنچنے کے لیے سیڑھی کے ضروری ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ۔ 4:۔ تنزیل کو رفع ‘ مبتدا کی وجہ سے دیا گیا اس کی خبر من اللہ العزیز الحکیم۔ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس حیثیت سے مرفوع ہو ھذا تنزیل یہ فراء نے کہا۔ کسائی اور فراء نے تنزیل منصوب پڑھا ہے کیونکہ یہ مفعول بہ ہے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے اتبعو اواقرء واتنزیل الکتاب۔ فراء نے کہا : یہ اغراء کی حیثیت میں منسوب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کتب اللہ علیکم) النسائ (24: تقدیر کلام ہے الزموا کتاب اللہ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مکتوب ہے۔
یہ کتاب کی تنزیل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے حق سے مراد صدق ہے یعنی یہ باطل اور مذاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ (کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے ساتھ حق کے) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین (1) الا للہ الدین الخالص “ (سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ایسی اطاعت جو شرک سے پاک ہو اللہ ہی کے لئے ہے) یعنی وہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں یعنی…
Read the full tafseer →اَلَا [خبردار !] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہی ] الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ [خالص دین ہے ] وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] اتَّخَذُوْا [بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [اس کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ ۘ [کچھ کارساز ] مَا نَعْبُدُ [(وہ لوگ کہتے ہیں) ہم بندگی نہیں کرتے ] هُمْ [ان لوگوں کی ] اِلَّا [سوائے اس کے کہ ] لِيُقَرِّبُوْنَآ [تاکہ وہ لوگ قریب کردیں ہم کو ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] زُلْفٰى ۭ [بلحاظ زیادہ قریب ہونے کے ] اِنَّ اللّٰهَ [یقینا اللہ ] يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ [فیصلہ کرے گا ان کے درمیان ] فِيْ مَا [اس (کے بارے) میں ] هُمْ فِيْهِ [یہ لوگ جس میں ] يَخْتَلِفُوْنَ ڛ [اختلاف کرتے ہیں ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک…
Read the full tafseer →اللہ واحد ہے قہار ہے عزیز ہے غفار ہے، اس نے چاند سورج کو مسخر فرمایا، انسان کو تین اندھیروں میں پیدا فرمایا
یہاں سے سورة زمر شروع ہو رہی ہے اوپر سات آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے ان آیات میں انزال قرآن اور اثبات توحید اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ جل شانہٗ کی شان خالقیت کا بیان فرمایا ہے۔
اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو عزیز یعنی عزت والا اور غلبہ والا ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے پھر غیبوبت سے تکلم کی طرف التفات فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے لہٰذا آپ اپنے دین کو یعنی اعتقاد کو اللہ ہی کے لیے خالص رکھتے ہوئے اللہ ہی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…
Read the full tafseer →4:۔ ” الا للہ الخ “ یہ تنبیہ ہے کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ 5:۔ ” والذین اتخذوا الخ : یہ زجر اول ہے اور اس کے آخر میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔ اسم موصول سے مشرکین اور اولیاء سے مشرکین کے مزعومہ کارساز مراد ہیں۔ خواہ فرشتے ہوں یا پیغمبر یا اولیاء کرام۔ فالموصول عبارۃ عنہم (ثلثۃ احیاء من المشرکین، عامر و کنانۃ و بنی سلمۃ) او عبارۃ عما یعمہم واضرابہم من عبدۃ غیر اللہ سبحانہ وھو الظاھر فیکون الاولیاء عبارۃ عن کل معبود باطل کالملئکۃ و عیسیٰ (علیہم السلام) والاصنام (روح ج 23 ص 235 ۔ امام قتادۃ (رح) فرماتے ہیں۔ جب مشرکین سے پوچھا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزمر ہے ۔ اس سورة کے آخری رکوع میں جنت اور جہنم کی طرف جانے والے گروہوں کا ذکر ہے۔ زمر ، زمرہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گروہ یا ٹولہ ہوتا ہے تو سورة کا نام اسی مناسب سے الزمر رکھا گیا ہے ۔
یہ سورة مکی زندگی میں نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی جب کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ اس سورة مبارکہ کی پچھتر آیات ، آٹھ رکوع ، 192 الفاظ اور چار ہزار حروف ہیں۔
مضامین سورة :
اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی سابقہ سورة ص کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں قرآن پاک کے بطور نصیحت ہونے کا ذکر تھا۔ تو اس سورة کی ابتداء اور…
Read the full tafseer →اَلَا لِلہِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ 0 ۘ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللہِ زُلْفٰى 0 ۭ اِنَّ اللہَ يَحْكُمُ بَيْنَہُمْ فِيْ مَا ہُمْ فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ 0ۥۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ مَنْ ہُوَكٰذِبٌ كَفَّارٌ 3
خلص
الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه،
وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24]
( خ ل ص ) الخالص ( خالص )
خالص اور الصافی دونوں مترادف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : قال الفراء والزجاج تنزیل مبتدا من اللہ الخ خبرہ الدین منصوب بمخلص و مخلصا حال الذین اتخذوا مبتدء خبرہ محذوف ای یقولون زلفی مصدر و حال موکدۃ والجملۃ مانعبد ھم فی محل النصب بتقدیر یقولون۔
تفسیر : حسن و عکرمہ و جابر بن زید وغیرہم کہتے ہیں۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے، مگر بعض کہتے ہیں کہ قل یاعبادی تین آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ وحشی قاتل حمزہ ؓ کی شان میں لیکن یہ قول معتبر نہیں کیونکہ بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکوں نے آنحضرت ﷺ نے آکر عرض کیا کہ ہم نے زنا و قتل کیا ہے، اب اس کی کیا صورت ہوگی۔ الخ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اِنَّـآ اَنْزَلْـنَـآ اِلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِاللّٰہِ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصْ ط وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ م مَا نَعْبُدُھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَـآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی ط اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَاھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ 5 ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ۔ (الزمر : 2، 3)
(بےشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے، پس آپ اللہ ہی کی بندگی کریں، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار کہ اطاعت خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : الدّین کی بنیادی دعوت اور اس کا پہلا نقطہ۔
عبادت بھی خالص اور تابعداری بھی خالص :
ارشاد ہوا کہ اللہ کی عبادت بھی خالص کرنی ہے اور تابعداری بھی خالصتاً “ اللہ “ ہی کی ہونی چاہیے۔ عبادت کی تین بڑی اقسام ہیں۔
” اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ “” زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “
1 زبانی عبادت کا مفہوم :
زبان سے جو بات بھی نکالی جائے وہ اللہ کے حکم کے مطابق اور اس کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
(عَنْ حُذَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیّ ﷺ قَالَ لاَ تَقُولُوا مَا شَاء اللَّہُ وَشَاءَ فُلاَنٌ وَلَکِنْ قُولُوا مَا شَاء اللَّہُ ثُمَّ شَاءَ فُلاَنٌ)[ رواہ…
Read the full tafseer →3: اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ (سنو ! عبادت جو خالص ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لائق ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس کا طاعت کے ساتھ خاص کرنا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام غیبو بات و اسرار پر کامل اطلاع ہے۔
قولِ قتادہ (رح) :
الدین الخالص سے لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کی شہادت مراد ہے۔ قول حسن (رح) : اسلام مراد ہے۔
جھگڑے والوں میں فیصلہ :
وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں) اولیاء کا معنی یہاں معبود ہے یہ مبتدأ اس کی خبر محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے والذین عبدوا الاصنام…
Read the full tafseer →3، الا للہ الذین الخالص، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مراد اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ دین خالص کا مستحق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ایسا دین جو شرک سے خالص ہے وہی اللہ کے لیے ہے۔ ، والذین اتخذوا من دونہ، یعنی اللہ کے سوا، اولیاء ، یعنی بتوں کو، مانعبد ھم ، یعنی انہوں نے کہا کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ ، الا لیقربونا الی اللہ زلفی، اور اسی طرح ابن مسعودؓ اور ابن عباس ؓ نے پڑھا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے کہا کہ جب ان کو کہا جاتا تمہارارب کون ہے ؟ اور کس نے تمہیں پیدا کیا ہے ؟ اور کس نے آسمانوں و زمین کو…
Read the full tafseer →3۔ تفسیر قتادہ تفسیر سدی اور تفسیر زید بن اسلم 2 ؎ میں اس آیت کی تفسیریوں کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ حشر اور قیامت کے تو قائل نہیں تھے لیکن انہوں نے فرشتوں کے نام کے اور پچھلے زمانہ کے کچھ نیک لوگوں کے نام کے بت جو بنا رکھتے تھے ان کو وہ لوگ اس اعتقاد سے پوجتے تھے کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ان مشرکوں پر کوئی مصیبت آوے گی۔ تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کو وہ پوچتے ہیں اللہ کی درگاہ میں اس کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیں گے۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجاوے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ قران کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا، نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لئے الوہیت اس کا وصف ہے، کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بناء پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔
قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ…
Read the full tafseer →4 اطاعت مطلقہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے : " دین " کا لفظ یہاں پر اطاعت کے معنیٰ میں ہے اور اطاعت مطلقہ اللہ ہی کا حق ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو کہ اللہ ہی کیلئے ہے دین خالص "۔ کہ معبود برحق بہرحال اور بہر طور وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور عبادت بھی خالص اسی کیلئے ہو اور ایسی خالص کہ اس میں کسی طرح کے شرک کا کوئی شائبہ تک نہ ہو۔ یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم میں سے کسی کے نزدیک بھی عبادت کی کوئی بھی قسم اور اس کی کوئی بھی شکل و صورت اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں :
” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →ف 11 یہاں بھی ” دین “ کا لفظ اطاعت و بندگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ خالص دین وہی ہے جس میں شرک کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ پھر تعجب ہے ان مسلمانوں پر جو ان آیات کی موجودگی میں دوسروں کو پکارتے ہیں اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔12 یعنی خالق ومالک تو ہم خدا ہی کو مانتے ہیں مگر دوسروں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہماری خدا تک رسائی ہوجائے اور وہ خدا سے ہماری سفارش کرسکیں۔ قدیم زمانہ سے مشرکین اسی عقیدہ پر چلے آئے ہیں اور یہی شبہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ( ابن کثیر) ہمارے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو موحد مسلمان کہتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو پکارتے ہیں۔…
Read the full tafseer →(39:3) الا۔ حرف تنبیہ ہے۔ خبردار۔ یاد رکھو۔ سمجھ لو۔ جان لو۔
للّٰہ۔ میں لام اول استحقاق کے لئے ہے۔ جیسے الحمد للّٰہ (101) للّٰہ الامر (13:31)
الدین الخالص۔ موصوف و صفت۔ خالص دین۔ ہر قسم کے شرک و ریاء و دیگر نقائص سے پاک اطاعت۔
ترجمہ ہوگا :۔ یاد رکھو دین خالص صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔
اور بعض علماء کا قول ہے کہ ان المراد بالدین الخالص کلمۃ لا الہ الا اللّٰہ۔ دین خالص سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔
من دونہ ای من دون اللّٰہ۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ اللہ کے سوا۔
لیقربونا۔ لام تعلیل کا ہے یقولون جمع مذکر غائب تقریب (تفعیل) مصدر سے ترب مادہ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم کہ وہ ہمیں قریب پہنچا دیویں۔ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ف 2) عموما مشرک لوگ یہ ہی کہا کرتے ہیں کہ ان مورتوں اور دیوتاؤں کو اس اعتقاد سے پوجتے ہیں کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ہم پر کوئی مصیبت آئے گی تو وہ موریں جن کو پوجتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ان کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیویں گی۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے قائل نہ ہونے کے سبب سے سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط خیال کا جواب دنیا کی حالت کو جتلایا، جس جواب کا یہ حاصل ہے کہ پچھلی امتوں کے ہلاک ہوجانے کا ذکرفرماکر پھر یہ فرمایا کہ اگر یہ بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] یہاں دین بمعنی اطاعت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
قرآن کا مرکزی پیغام
1: حق کے ساتھ کتاب کو نازل فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب جلیل میں اور قانون عقل وخرد میں پورا پورا مطابق ہے ۔ اس صحیفہ عظیم میں اور فطرت کے قوانین میں کامل توافق ہے اور اسی طرح اس میں اور اصلاحی وروحانی مصالح میں بھی پوری مناسبت ہے ، یعنی اس کے پیش کردہ تصورات میں کوئی ایسا تصور نہیں جسے آپ فطرت کے منافی کہہ سکیں ، اور اسی طرح اس میں یہ عجیب بات ہے کہ اس کی تعلیمات میں روحی اصلاح کا پور پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ تمام مصالح اور مطالع کو سامنے رکھ کر انسان کے لئے ایسا جامع پیغام پیش کیا گیا ہے جو اس کی قدرتی ساخت اور خواہشات کے بالکل مطابق ہے حق کے معنی عربی میں کسی چیز کے…
Read the full tafseer →(3) آگاہ ہو کہ عبادت اور بندگی جو خالص ہو شرک سے وہ اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے حمایتی اور دوسرے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش صف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ تعالیٰ کا خاص مقرب بنادیں اور ان کو مراتب قرب سے نزدیک کردیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا جن میں یہ اختلاف کررہے ہیں یقینا فیصلہ فرمادے گا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہنمائی فرماتا جو جھوٹا اور سخت ناسپاس اور ناشکرہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت خالصہ اور اختاص واجب ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اس شرک فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ف 6۔ یعنی ان لوگوں کے نہ ماننے کا آپ غم نہ کریں، ان کا فیصلہ وہاں ہوگا۔
7۔ یعنی منہ سے اقوال کفریہ اور دل سے عقائد کفریہ پر مصر ہو، اور اس سے باز نہ آنے کا اور طلب حق کا قصد ہی نہ کرتا ہو، تو اس کے اس عناد سے اللہ تعالیٰ بھی اس کو توفیق ہدایت کی نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →خبردر ! صرف اللہ کے لیے دین خالص ہے
3۔ دین کے معنی نہایت وسعی ہیں اور بلاشبہ ( الدین) اپنے وسیع معنوں کے ساتھ اللہ کے لیے خالص ہے اور بےآمیز اطاعت و بندگی اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے دوسرے الفاظ میں بندگی کا مستحق کوئی اور ہے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی بھی بندگی و پرستش کرتا ہے تو یہی شرک ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی بھی بندگی و پرستش کرے۔ ( الدین) کیا ہے ؟ الدین سامی زبانوں کا ایک قدیم مادہ ” دان “ اور ” دین “ ہے جو بدلہ اور مکافات کے معنوں میں بولا جاتا تھا اور بعد میں قانون کے معنوں میں بولا…
Read the full tafseer →The next sentence in verse 3 says: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا (As for those who have taken to guardians other than Him [ saying ], "We worship them for no other reason than that they would bring us near to Allah closely." - 39:3). This is a description of the creed of the Mushriks of Arabia. Even the common people among them during that period of time more or less had the same belief that Allah Ta’ ala is the creator, owner and master in all matters. But when the Shaitan (Shaitan) instigated them, they started making idols in the…
Read the full tafseer →4 This is an actual fact and reality, which has been presented as an argument for the above demand. It means: "You should worship Allah, making din exclusively His, for it is only Allah's right that He should be obeyed and worshipped sincerely and exclusively." In other words, there is no one else who may deserve to be worshipped so that he also should be served and worshipped besides Allah and his commands and laws also obeyed. If a person serves another, apart from Allah, sincerely and exclusively, he does wrong. Likewise, if he combines the worship of another with his worship of Allah,…
Read the full tafseer →