Explained with ayahs 1–4
باطل عقائد کی تردید۔
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والا بن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے اور آیتوں میں ہے یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ یہاں فرمایا کہ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 2
یعنی اس میں جو کچھ ہے حق اور سچائی ہے، باطل کی کوئی آمیزش اس میں نہیں ہے۔
سورة الزُّمَر 3
یہ ایک نہایت اہم آیت ہے جس میں دعوت اسلام کے اصل مقصود کو بیان کیا گیا ہے، اس لیے اس پر سے سرسری طور پر نہ گزر جانا چاہیے، بلکہ اس کے مفہوم و مدعا کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے بنیادی نکات دو ہیں جنہیں سمجھے بغیر آیت کا مطلب نہیں سمجھا جاسکتا۔ ایک یہ کہ مطالبہ اللہ کی عبادت کرنے کا ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسی عبادت کا مطالبہ ہے جو دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے کی جائے۔
عبادت کا مادہ عبد ہے۔ اور یہ لفظ " آزاد " کے مقابلے میں " غلام " اور " مملوک " کے لیے عربی زبان میں مستعمل…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ۔ لفظ دین کے معنی اس جگہ عبادت کے ہیں یا اطاعت کے، جو تمام احکام دینیہ کی پابندی کو عام اور شامل ہے۔ اس کے پہلے جملہ میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت و اطاعت کو خالص اسی کے لئے کریں جس میں کسی غیر اللہ کے شرک یا ریاء و نمود کا شائبہ نہ ہو۔ دوسرا جملہ اسی کی تاکید کے لئے ہے کہ خلاص دین صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق نہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ و خیرات کرتا ہوں یا…
Read the full tafseer →(آیت)
حق کے معنی یہاں قول فیصل کے اور دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ ان الفاظ کے مختلف معانی کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔
توحید اور شرک کے باب میں قول فیصل
یہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ اللہ کی توحید کے بارے میں مبتدعین و مشرکین نے جو اختلافات پیدا کردیئے تھے اس کتاب نے انکا فیصلہ کردیا تو تم اللہ کی بندگی اس کی خالص اطاعت کے ساتھ کرو۔ اطاعت خالص کا سزا وار اللہ ہی ہے وہی سب کا خالق اور پروردگار ہے تو وہی سب کی عبادت کا بھی حقدار ہے اور جو عبادت کا حق دار ہے وہی اطاعت کا بھی حق دار ہے۔ یہ بالکل بےتکی بات ہے کہ عبادت کا حق دار کوئی ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 یعنی اس میں توحید و رسالت، معاد اور احکام و فرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔
2۔ 2 دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کردی گئی ہے کہ اِنَّمَا الاَعْمَال بالنِّیَّاتِ ' عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے ' یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔
Read the full tafseer →انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی ﷺ یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے :
خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات
کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3 یعنی حسب معمول اللہ کی بندگی کرتے رہیے جو شوائب شرک و ریاء وغیرہ سے پاک ہو اسی کی طرف قولاً و فعلاً لوگوں کو دعوت دیجئے اور اعلان کر دیجئے کہ اللہ اسی بندگی کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو عمل خالی از اخلاص کی اللہ کے ہاں کچھ پوچھ نہیں۔
4 عموماً مشرک لوگ یہ ہی کہا کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں اور دیوتاؤں کی پرستش کر کے ہم بڑے خدا سے نزدیک ہوجائیں گے اور وہ ہم پر مہربانی کرے گا جس سے ہمارے کام بن جائیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ ان لچر پوچ حیلوں سے توحید خالص میں جو جھگڑے ڈال رہے ہو، اور اہل حق سے اختلاف کر رہے ہو اس کا عملی فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگے چل کر ہوجائے گا۔
5 یعنی جس نے دل میں…
Read the full tafseer →آیت 2 { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ“
{ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔“
اس حکم کے برعکس آج عملی طور پر ہماری زندگیوں کا نقشہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ طاغوت کو بھی پوجا جا رہا ہے۔ ایک طرف نمازیں پڑھی جا رہی ہیں ‘ حج اور عمرے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حرام خوری بھی جاری ہے اور سودی کاروبار بھی چل رہا ہے۔ اللہ کو ایسی آلودہ polluted بندگی کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے خالص بندگی کا تقاضا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →2 یعنی یہ کتاب اس لئے نازل نہیں کی گئی کہ اس کی آیات کا مذاق اڑایا جائے بلکہ اس لئے اتاری ہے کہ اس سے مثبت اور تعمیری نتائج حاصل ہوں جنہیں سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس میں مذکور ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →2۔ (جیسا کہ اب تک بھی کرتے رہے ہیں) (آیت) ” بالحق “۔ یعنی حکمت ومقصد کے ساتھ، یوں ہی بلامقصد نہیں۔ اور جائز ہے کہ ب کو سببیہ قرار دے کر معنی یہ کیے جائیں کہ ہم نے یہ کتاب آپ پر تائید حق کی غرض سے نازل کی ہے۔ اے انزلناہ بسبب الحق اے اثباتہ واظہارہ (روح) (آیت) ” انزلنا “۔ ابھی ابھی قرآن مجید کے لیے (آیت) ” تنزیل “ آچکا ہے، جس کے مفہوم میں تدریج داخل ہے، اور اب صیغہ انزال آگیا جس سے بظاہر دفعۃ نزول معلوم ہوتا ہے، امام رازی (رح) نے از خود سوال پیدا کرکے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جہاں انزال آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ آپ پر کتاب نازل کرنے کا حکم ایک کلی صورت میں ہوگیا، اور جہاں تنزیل ہے وہاں مراد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…
Read the full tafseer →انا انزلنا الیک الکتب بالحق یعنی ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے۔
بِالْحَقِّیعنی حامل حق کتاب ‘ یا ب سببیہ ہے یعنی حق کو ثابت کرنے ‘ ظاہر کرنے اور تفصیل سے بیان کرنے کیلئے یہ کتاب ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے۔
بظاہر یہ جملہ (مفہوم کے لحاظ سے پہلے جملے کی تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ) تکرار نہیں ہے ‘ اول جملہ میں تنزیل الکتاب تو عنوان کے طور پر فرمایا تھا اور اس جملہ میں اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبِ اس مضمون کو بیان کرنے کیلئے فرمایا۔
فاعبدوا اللہ مخلصا لہ الدین سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔
مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ یعنی شرک اور ریاء سے دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس اللہ تعالیٰ کی جو کافروں کو سزا دینے میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اسی بنا پر اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے ہم نے صحیح طریقے پر بذریعہ جبریل امین اس کو تاب کو آپ پر نازل کیا ہے۔
سو آپ خالص اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اور اسی کی توحید کے قائل رہو۔
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : ”حق“ وہ ہے جو واقعہ کے عین مطابق ہو۔ اس آیت میں قرآن مجید کی مزید خوبیاں بیان فرمائیں، ایک یہ کہ پچھلی آیت میں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ بیان فرمایا، اب یہی بات اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کر کے فرمائی، جس سے مقصود اپنی اور اپنے کلام کی عظمت کا اظہار ہے۔ دوسری یہ کہ ہم نے اس کتاب کو تیری طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے، اس کی ہر بات درست ہے، کوئی بات واقعہ کے خلاف نہیں، اس لیے اس پر عمل لازم ہے۔
فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ : دین کا معنی عبادت اور اطاعت بھی ہے اور ایمان، اسلام اور احسان بھی، جیسا کہ حدیث جبریل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 ۔ 4:۔ تنزیل کو رفع ‘ مبتدا کی وجہ سے دیا گیا اس کی خبر من اللہ العزیز الحکیم۔ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس حیثیت سے مرفوع ہو ھذا تنزیل یہ فراء نے کہا۔ کسائی اور فراء نے تنزیل منصوب پڑھا ہے کیونکہ یہ مفعول بہ ہے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے اتبعو اواقرء واتنزیل الکتاب۔ فراء نے کہا : یہ اغراء کی حیثیت میں منسوب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کتب اللہ علیکم) النسائ (24: تقدیر کلام ہے الزموا کتاب اللہ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مکتوب ہے۔
یہ کتاب کی تنزیل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے حق سے مراد صدق ہے یعنی یہ باطل اور مذاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ (کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے ساتھ حق کے) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین (1) الا للہ الدین الخالص “ (سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ایسی اطاعت جو شرک سے پاک ہو اللہ ہی کے لئے ہے) یعنی وہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں یعنی…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَآ [بیشک ہم نے نازل کیا ] اِلَيْكَ الْكِتٰبَ [آپ ﷺ کی طرف اس کتاب کو ] بِالْحَقِّ [کل حق کے ساتھ ] فَاعْبُدِ اللّٰهَ [تو آپ ﷺ بندگی کریں اللہ کی ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَّهُ الدِّيْنَ [اس کے لئے دین کو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔
(ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…
Read the full tafseer →3:۔ ” انا انزلنا الخ “۔ یہ پہلی دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو سراپا حق ہے اور عقائد اور احکام حقہ پر مشتمل ہے، ہم نے نازل فرمائی ہے۔ آپ جو کچھ بیان فرماتے ہیں ہمارے حکم سے بیان فرماتے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتے۔ ” فاعبد اللہ مخلصًا لہ الدین “ یہ دعوائے سورت کا پہلی بار ذکر ہے۔ سورت کا یہ دعوی پہلی سورتوں پر عمومًا اور سورة فاطر پر خصوصاً متفرع ہے۔ سورة سبا، یسین، صافات اور ص میں ثابت کیا گیا کہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔ اور سورة فاطر میں بیان کیا گیا، لہذا اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز ہیں جب ثابت ہوگیا کہ اس کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزمر ہے ۔ اس سورة کے آخری رکوع میں جنت اور جہنم کی طرف جانے والے گروہوں کا ذکر ہے۔ زمر ، زمرہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گروہ یا ٹولہ ہوتا ہے تو سورة کا نام اسی مناسب سے الزمر رکھا گیا ہے ۔
یہ سورة مکی زندگی میں نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی جب کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ اس سورة مبارکہ کی پچھتر آیات ، آٹھ رکوع ، 192 الفاظ اور چار ہزار حروف ہیں۔
مضامین سورة :
اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی سابقہ سورة ص کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں قرآن پاک کے بطور نصیحت ہونے کا ذکر تھا۔ تو اس سورة کی ابتداء اور…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّيْنَ 2ۭ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : قال الفراء والزجاج تنزیل مبتدا من اللہ الخ خبرہ الدین منصوب بمخلص و مخلصا حال الذین اتخذوا مبتدء خبرہ محذوف ای یقولون زلفی مصدر و حال موکدۃ والجملۃ مانعبد ھم فی محل النصب بتقدیر یقولون۔
تفسیر : حسن و عکرمہ و جابر بن زید وغیرہم کہتے ہیں۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے، مگر بعض کہتے ہیں کہ قل یاعبادی تین آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ وحشی قاتل حمزہ ؓ کی شان میں لیکن یہ قول معتبر نہیں کیونکہ بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکوں نے آنحضرت ﷺ نے آکر عرض کیا کہ ہم نے زنا و قتل کیا ہے، اب اس کی کیا صورت ہوگی۔ الخ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اِنَّـآ اَنْزَلْـنَـآ اِلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِاللّٰہِ مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ ۔ اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصْ ط وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ م مَا نَعْبُدُھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَـآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی ط اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ فِیْ مَاھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ 5 ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ۔ (الزمر : 2، 3)
(بےشک ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے، پس آپ اللہ ہی کی بندگی کریں، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار کہ اطاعت خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
سورۃ صٓ کے آخر میں آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ نبوت کے کام کے بدلے نہ میں تم سے کسی قسم کی طالب ہوں اور نہ میں تکلّف کرنے والا ہوں۔ جو کچھ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں وہ رب العالمین کی طرف سے ایک نصیحت ہے۔ جو اس نصیحت کو تسلیم نہیں کرے گا وہ ایک وقت کے بعد خود اس کا انجام دیکھ لے گا۔ سورة الزمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ جو برے انجام سے بچنا چاہتا ہے اس کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جس طرح اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن مجید کو اس ” اللہ “ نے نازل کیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب اور زبردست ہے۔ غالب اور زبردست ہونے کے باوجود اس کے ہر حکم اور…
Read the full tafseer →2: اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے) یہ تکرار نہیں کیونکہ پہلا تو کتاب کیلئے بطور عنوان ہے اور دوسرا اس بات کو ظاہر کرنے کیلئے کہ کتاب میں کیا ہے۔ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (پس آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں) ۔
نحو : مخلصًا یہ حال ہے۔ اور الدین یہ مخلصًا کی وجہ سے منصوب ہے۔ اندرونی صفائی کے ساتھ دین کو شرک و ریاکاری سے خالص کرنے والے بنو۔
قراءت : الدینُ کو رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا حق یہ ہے کہ مخلصًا پڑھیں۔
Read the full tafseer →2، انا انزلنا الیک الکتاب بالحق ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو باطل بغیرفائدہ کے نہیں اتارا۔ ، فاعبد اللہ مخلصالہ الدین، یہاں عبادت بمعنی طاعت کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ قرآن اللہ زبردست صاحب حکمت کا نازل کیا ہوا ہے زبردست تو وہ ایسا ہے کہ قرآن سے پہلے کے اس کے احکام کو جن پہلی قوموں نے نہیں مانا۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں سے اس نے ہلاک کردیا صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ مرنے کے بعد نیک و بد جو انجام ہونے والا تھا اس نے اپنے کلام میں وہ سب انسان کو جتلا دیا۔ تاکہ کسی کو اس انجام سے انجان پنے کا عذر باقی نہ رہے۔ اب دوسری آیت میں حضرت ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ قران کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا، نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لئے الوہیت اس کا وصف ہے، کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بناء پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔
قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ…
Read the full tafseer →2 قرآن حکیم قول فیصل : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ کی طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ "۔ پس جو کچھ اس میں فرمایا گیا وہ بھی حق و صدق ہے اور جس مقصد عظیم اور غایت کریمہ کے لئے اس کو نازل فرمایا گیا ہے وہ بھی سراسر حق و صدق ہے۔ اور جس خصوصی اور امتیازی شان کے ساتھ اس کو نازل فرمایا گیا ہے وہ بھی سراسر حق ہے۔ سو اس کتاب حکیم کو حق کے لئے اور حق کے ذریعے ہی نازل فرمایا گیا ہے ۔ فالحمدُ لِلّٰہِ ربِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ مبتدعین اور مشرکین نے توحید خداوندی کے عقیدئہ صافیہ کے بارے میں جو اختلافات پیدا کردیئے تھے اس کتاب حکیم نے اپنے قول فیصل کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں :
” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة زمر
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9:
اسرار و معارف :
اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9 یعنی اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ( سچ) ہے اس میں باطل کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” تو عبادت کرتا رہ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین ( یعنی اطاعت و بندگی) کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی صورت میں قابل قبول ہے جب وہ خالص توحید کے ساتھ ہو اور اس سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو۔
Read the full tafseer →(39:2) بالحق۔ حق کے ساتھ ، یعنی حامل حق کتاب یا ب سببیہ ہے۔ یعنی حق کو ثابت کرنے۔ ظاہر کرنے اور تفصیل سے بیان کرنے کے لئے یہ کتاب ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے۔
بظاہر جملہ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔ مفہوم کے لحاظ سے پہلے جملہ کی تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ تکرار نہیں ہے اول جملہ میں تنزیل الکتاب تو عنوان کے طور پر فرمایا تھا اور اس جملہ میں انا انزلنا الیک الکتاب اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے فرمایا :۔ ھذا لیس بتکرار لان الاول کالعنوان لکتاب والثانی لبیان ما فی الکتاب۔
فاعبد اللّٰہ مخلصا لہ الدین ۔ الفاء للترتیب۔ اعبد فعل امر واحد مذکر حاضر عبادۃ مصدر (باب نصر) سے مخلصا اسم فاعل واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) ارشادہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید محمد ﷺ نے از خود نہیں لیا بلکہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے ، اے محبوب ہم نے بواسطہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمہاری طرف کتاب اتاری جو بالکل یقین وحق ہے باطل نہیں ہے پس اے محبوب ﷺ لوگوں کو پہنچاؤ ، اور اپنے اللہ کی عبادت کرو سچے دل سے اعلی درجہ کے مرتبہ توحید محض کے ساتھ، نہایت اخلاص کے ساتھ خطاب، نبی ﷺ سے ہے مگر مراد سب امت ہے آدمیوں کو چاہیے کہ اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کرلیں شرک کو بو بھی باقی نہ رہے اللہ اسی عبادت کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔
Read the full tafseer →[1] عبارت کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11 صفحہ 5۔
Read the full tafseer →(2) اے پیغمبر ہم نے حق کے ساتھ اس کتاب کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے اس کتاب کو جو حقائق واقعیہ پر مشتمل ہے آپ کی جانب ہم نے اتارا ہے سو آپ خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کرتے رہیے۔ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس کلام معجز نظام کو ہم نے ہی آپ کی جانب اتارا ہے تو آپ اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کیجئے اور یہ بندگی بھی خالص کرکے کیجئے۔ خالصا للہ بندگی اور عبادت کا یہ مطلب ہے کہ وہ عبادت شرک اور ریا سے پاک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 5۔ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے۔
Read the full tafseer →اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اللہ واحد کی عبادت کا درس دیا گیا
2۔ اے پیغمبر اسلام ! اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے جس میں باطل کی ذرا بھر بھی آمیزش نہیں ہے۔ حق کے ساتھ نازل کرنے کا مطلب کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب میں ایسی دلیلیں پیش کی گئی ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کوئی قول اور فعل اس وقت حق کہلاتا ہے جب کہ وہ اس طرح پایا جائے جیسے چاہیے اور اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اس وقت پایا جائے جب کہ اس کی ضرورت ہو۔ قرآن ِ کریم کو جگہ جگہ حق کہا گیا ہے تو اس وجہ سے کہا گیا ہے غور کرو کہ قرآن کریم آیا تو اس شان و شوکت سے آیا جو اس کی…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 2, it was said: فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ - (so worship Allah in submission to Him exclusively. Remember, Allah alone deserves the exclusive submission.). The word: دِین (deen) at this place means worship, submission, devotion or obedience which is inclusive of adhering to all religious injunctions. In the first statement earlier to this, the address was to the Holy Prophet ﷺ where he was commanded to make the worship of and obedience to Allah sincere and exclusive for Him, so as there remains no trace of shirk or of any…
Read the full tafseer →2 That is, it contains nothing but the truth, and there is no element of falsehood in it.
3 This is a very important verse, which stasis the real objective of the message of Islam. Therefore, one should not pass over it superficially, but should try to understand its meaning and intention well. It has two basic points without grasping which one cannot understand the verse: (1) That the demand is to worship Allah; and (2) that the demand is of such worship as may be performed by making religion exclusively Allah's. Ibadat is derived from 'abd, and this word is used as an antonym of freeman"…
Read the full tafseer →