Az-Zumar 39:1

39. Az-Zumarالزمر

The Groups · Meccan · 75 ayahs · 8 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ۟تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ

اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The revelation of the Qur'an is from Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:1

اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جارہی ہے، جو بڑے اقتدار کا مالک ہے، بہت حکمت والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کتاب اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کتاب کا اتارا جانا اﷲ کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کتاب اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والے کی طرف سے نازل شدہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ کتاب نہایت اہتمام سے خدائے عزیز و حکیم کی طرف سے اتاری گئی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اتارا گیا ہے اس کتاب (حکیم) کو اللہ کی طرف سے جو سب پر غالب نہایت حکمت والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے ا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست کمال حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کتاب کا اتارا جانا اللہ غالب اور حکمت والے کی طرف سے ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The revelation of this Book is from Allah, the Most Mighty, the Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is the revelation of the Book from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

This is the revelation of the Book from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The revelation of this Book is from Allah, the Almighty, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The revelation of the Scripture is from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The revelation of the Qur'an is from Allah, the Exalted in Might, the Wise.

— Saheeh International

This Book is a revelation from God, the Majestic and All-Wise.

— Muhammad Sarwar

The revelation of the Book is from Allah, the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

The revelation of this Book is from Allah, the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

The revelation of this Book is from Allah, the Exalted in Power, full of Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

باطل عقائد کی تردید۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ یہ قرآن عظیم اسی کا کلام ہے اور اسی کا اتارا ہوا ہے۔ اس کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) ، یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر اترا ہے تاکہ تو آگاہ کرنے والا بن جائے۔ صاف فصیح عربی زبان میں ہے اور آیتوں میں ہے یہ باعزت کتاب وہ ہے جس کے آگے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا یہ حکمتوں والی تعریفوں والے اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ یہاں فرمایا کہ یہ کتاب بہت بڑے عزت والے اور حکمت والے اللہ کی طرف سے اتری ہے جو اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 1 یہ اس سورة کی مختصر تمہید ہے جس میں بس یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کا اپنا کلام نہیں ہے، جیسا کہ منکرین کہتے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے خود نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کر کے سامعین کو دو حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کلام کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں بلکہ اس کی اہمیت محسوس کریں۔ ایک یہ کہ جس خدا نے اسے نازل کیا ہے وہ عزیز ہے، یعنی ایسا زبردست ہے کہ اس کے ارادوں اور فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی مزاحمت کرسکے۔ دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے (کہ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی، اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے) ہم نے ٹھیک طور پر اس کتاب کو آپ کی طرف نازل کیا ہے سو آپ (قرآن کی تعلیم کے موافق) خالص اعتقاد کر کے اللہ کی عبادت کرتے رہیئے (جیسا اب تک کرتے رہے ہیں اور جب آپ پر بھی یہ واجب ہے تو اوروں پر کیوں واجب نہیں ہوگا، اے لوگو) یاد رکھو عبادت جو کہ (شرک وریا سے) خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزا وار ہے اور جن لوگوں نے (عبادت خالصہ چھوڑ کر) خدا کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں (اور کہتے ہیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (1) آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور منکرین کے لئے تہدید لفظ تنزیل کی واضحت اس کے عمل میں ہم کرچکے ہیں کہ اس کے معنی صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اتہمام کے ساتھ اتارنے کے لئے ہیں۔ یہ تمہیدی آیت اپنے اندر آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی رکھتی ہے اور قرآن کے مکذبین کے لئے تہدید و وعید بھی۔ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کا پہلو ہے کہ تم نے یہ کتاب نہ خود تصنیف کی ہے نہ خدا سے مانگ کے لئے اپنے اوپر اتروائی ہے بلکہ تمہارے رب نے خود تمہاے اوپر نہایت اہتمام کے ساتھ درجہ بدرجہ اتاری ہے اور اتار رہا ہے تو تم اطمینان رکھو کہ وہی اس کی صداقتیں ظاہر کرے گا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 یعنی اس میں توحید و رسالت، معاد اور احکام و فرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔ 2۔ 2 دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کردی گئی ہے کہ اِنَّمَا الاَعْمَال بالنِّیَّاتِ ' عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے ' یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 215 تشریح آیات ﷽ آیت نمبر 1 تا 3 سورت کا آغاز اس فیصلہ کن قرار داد سے ہوتا ہے۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم (39: 1) ” اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے “۔ وہ زبردست ہے اور وہ اس قسم کی کتاب کے نزول پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہ حکیم ودانا ہے اور وہ جانتا ہے کہ نزول قرآن کس بارے میں ہے اور یہ حکیم کیوں ہے۔ یہ تمام کام اللہ نہایت حکمت اور تدبر اور تقدیر سے کرتا ہے۔ اس قرار داد پر بات طویل نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو تمید تھی ، اصل بات کے لیے اور اصل موضوع کے لیے یہ پوری سورت وقف ہے۔ سورت کا نزول ہی اس موضوع کا ثبوت اور تاکید ہے۔ یعنی مسئلہ توحید ، اللہ کی بندگی میں توحید اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 چونکہ زبردست ہے اس لیے اس کتاب کے احکام پھیل کر اور نافذ ہو کر رہیں گے۔ کوئی مقابل و مزاحم اس کے شیوع و نفاذ کو روک نہیں سکتا۔ اور حکیم ہے اس لیے دنیا کی کوئی کتاب اس کی خوبیوں اور حکمتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ سورة الزمر اور سورة المومن کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ان دونوں سورتوں کا آغاز بھی ایک جیسے الفاظ سے ہو رہا ہے ‘ صرف ”الحکیم“ اور ”العلیم“ کا فرق ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ زیر مطالعہ ضمنی گروپ کی ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی سورت یعنی سورة الزمر کے آغاز میں حروفِ مقطعات نہیں ہیں جبکہ باقی ساتوں سورتیں سورۃ المومن تا سورة الاحقاف حٰمٓ کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 مکی سورة کا آغاز عموماً ایسی ہی آیات سے ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور کلام کو منزل من اللہ نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب نبی کی اپنی تصنیف نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ سب سے زبردست ہے اور اپنے فرامین و احکام کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ چونکہ حکیم ہے لہذا اس کا یہ کلام بھی حکمتوں سے لبریز ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ (اور ان رسول کی گڑھی ہوئی نہیں) (آیت) ” العزیز الحکیم “۔ اسم عزیز کا تقاضا تو یہ تھا کہ انکار وتکذیب کرنے والوں کو سزا فورا مل جاتی، اسم حکیم کے تقاضہ نے مہلت طویل کو ممکن کردیا۔ (آیت) ” تنزیل الکتب “۔ ترکیب نحوی میں مبتدا ہے۔ اور من اللہ خبر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم یہ نازل کی ہوئی ہے اللہ غالب ‘ حکمت والے کی طرف سے۔ تنزیل الکتابکا مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی یہ تنزیل الکتاب ہے ‘ یا تنزیل الکتابخود مبتداء ہے اور اس کی خبر من اللہ ہے۔ تَنْزِیْل (مصدر بمعنی اسم مفعول) یعنی نازل کی ہوئی۔ الْعَزِیْز اپنی حکومت میں (سب مخلوق پر) غالب۔ الْحَکِیْم اپنی صناعی میں حکمت والا۔ الْکِتٰب سے مراد یا صرف یہی سورت ہے یا قرآن مجید۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس اللہ تعالیٰ کی جو کافروں کو سزا دینے میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اسی بنا پر اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے ہم نے صحیح طریقے پر بذریعہ جبریل امین اس کو تاب کو آپ پر نازل کیا ہے۔ سو آپ خالص اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اور اسی کی توحید کے قائل رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْم“ الکتب میں الف لام عہد کا ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے، جیسا کہ سورة طور میں ہے : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَهٗ ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ) [ الطور : 33 ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے ؟“ اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتدا اس بات سے فرمائی کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، ساتھ ہی اپنی دو صفات ذکر فرمائیں، تاکہ وہ اس کلام کو معمولی خیال نہ کریں، بلکہ اس کی اہمیت سمجھیں۔ ایک یہ کہ یہ کلام نازل کرنے والا عزیز یعنی سب پر غالب ہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ اس کا ذرہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–4

1 ۔ 4:۔ تنزیل کو رفع ‘ مبتدا کی وجہ سے دیا گیا اس کی خبر من اللہ العزیز الحکیم۔ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس حیثیت سے مرفوع ہو ھذا تنزیل یہ فراء نے کہا۔ کسائی اور فراء نے تنزیل منصوب پڑھا ہے کیونکہ یہ مفعول بہ ہے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے اتبعو اواقرء واتنزیل الکتاب۔ فراء نے کہا : یہ اغراء کی حیثیت میں منسوب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کتب اللہ علیکم) النسائ (24: تقدیر کلام ہے الزموا کتاب اللہ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ مکتوب ہے۔ یہ کتاب کی تنزیل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے حق سے مراد صدق ہے یعنی یہ باطل اور مذاق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “ (کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے ساتھ حق کے) یعنی قرآن کو (آیت ) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین (1) الا للہ الدین الخالص “ (سو آپ خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ایسی اطاعت جو شرک سے پاک ہو اللہ ہی کے لئے ہے) یعنی وہ گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآء مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “ (اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [اس کتاب کا نازل کرنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ہے ] الْعَزِيْزِ [جو بالادست ہے ] الْحَكِيْمِ [جو حکمت والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

اثبات حقانیت کتاب الہی و توحید خداوندی وابطال شرک : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ....... الی ....... فانی تصرفون “۔ (ربط) گذشتہ سورت میں زیادہ ترمضامین اثبات رسالت کے متعلق تھے اور مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر جو اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب ورد تھا اور ان کے بیہودہ تمسخر پر تحمیق وتجہیل تھی اب اس سورت میں توحید خداوندی کا بیان ہے اور ابطال شرک اور یہ کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اس میں کسی کو شریک کرنا خواہ کسی بھی عقیدہ اور تخیل سے ہو عقل اور فطرت کے خلاف ہے اور شرک کے مرتکب کا انجام تباہی اور ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ان مضامین کیلئے بطور تمہید حقانیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” تنزیل الخ “۔ ” تنزیل الکتب “ متبدا، ” من اللہ “ خبر ہے۔ یا ” تنزیل “ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ اور ” من اللہ الخ “ تزیل کے متعلق ہے۔ قال الفراء والزجاج ھو مبتدا وقولہ تعالیٰ (من اللہ العزیز الحکیم) خبرہ او خبر مبتدا محذوف ای ھذا المذکور تنزل، و (من اللہ) متعلق بتنزیل والوجہ الاول اوجہ (روح ج 23 ص 233) یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ حکمانہ اس بادشاہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے اب تک اگر معاندین کو نہیں پکڑا تو اس میں حکمت ہے کہ منکرین کو مزید غور و فکر کا موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ اس لیے غالب اور حکیم بادشاہ کے حکمنامے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزمر ہے ۔ اس سورة کے آخری رکوع میں جنت اور جہنم کی طرف جانے والے گروہوں کا ذکر ہے۔ زمر ، زمرہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گروہ یا ٹولہ ہوتا ہے تو سورة کا نام اسی مناسب سے الزمر رکھا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی جب کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ اس سورة مبارکہ کی پچھتر آیات ، آٹھ رکوع ، 192 الفاظ اور چار ہزار حروف ہیں۔ مضامین سورة : اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی سابقہ سورة ص کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں قرآن پاک کے بطور نصیحت ہونے کا ذکر تھا۔ تو اس سورة کی ابتداء اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ۝ 1 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : قال الفراء والزجاج تنزیل مبتدا من اللہ الخ خبرہ الدین منصوب بمخلص و مخلصا حال الذین اتخذوا مبتدء خبرہ محذوف ای یقولون زلفی مصدر و حال موکدۃ والجملۃ مانعبد ھم فی محل النصب بتقدیر یقولون۔ تفسیر : حسن و عکرمہ و جابر بن زید وغیرہم کہتے ہیں۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے، مگر بعض کہتے ہیں کہ قل یاعبادی تین آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ وحشی قاتل حمزہ ؓ کی شان میں لیکن یہ قول معتبر نہیں کیونکہ بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکوں نے آنحضرت ﷺ نے آکر عرض کیا کہ ہم نے زنا و قتل کیا ہے، اب اس کی کیا صورت ہوگی۔ الخ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الزمر : 1) (یہ کتاب اتاری گئی ہے اللہ زبردست اور حکیم کی جانب سے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور منکرین کو تنبیہ اس کتاب کو تھوڑا تھوڑا دھیرے دھیرے نازل کیا گیا ہے جو اس کے خصوصی اہتمام پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس بات پر بھی کہ مخالفین کے رویئے کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دعوت کی ضرورت میں بھی تبدیلی آتی ہے، جس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں نئی ہدایت، نئی رہنمائی اور نئے احکام دیئے جائیں۔ اور مخالفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا بروقت جواب دیا جائے اور مخالفت سے جو ایک نفسیاتی فضا پیدا ہوتی ہے اس میں حوصلہ دینے کے لیے نئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن سورۃ صٓ کے آخر میں آپ ﷺ سے کہلوایا گیا کہ نبوت کے کام کے بدلے نہ میں تم سے کسی قسم کی طالب ہوں اور نہ میں تکلّف کرنے والا ہوں۔ جو کچھ تمہارے سامنے بیان کررہا ہوں وہ رب العالمین کی طرف سے ایک نصیحت ہے۔ جو اس نصیحت کو تسلیم نہیں کرے گا وہ ایک وقت کے بعد خود اس کا انجام دیکھ لے گا۔ سورة الزمر کا آغاز اس فرمان سے ہو رہا ہے کہ جو برے انجام سے بچنا چاہتا ہے اس کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے جس طرح اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو اس ” اللہ “ نے نازل کیا ہے جو ہر اعتبار سے اپنی مخلوق پر غالب اور زبردست ہے۔ غالب اور زبردست ہونے کے باوجود اس کے ہر حکم اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1: تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے) ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ نحو : مبتدأ تنزیل الکتاب اور خبر من اللہ ہے۔ مِنَ اللّٰہِ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہے یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے اور جار و مجرور تنزیل کا صلہ ہے۔ نمبر 3۔ غیر صلہ ہے بلکہ دوسری خبر ہے۔ یا مبتدأ محذوف کی خبر ہے جس کی تقدیر کلام یہ ہے ھذا تنزیل الکتاب ھذا من اللّٰہ یہ کتاب کا اترنا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ الْعَزِیْزِ (وہ زبردست ہے) اپنی سلطنت میں الْحَکِیْمِ (حکمت والا ہے) اپنی تدبیر میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 1، تنزیل الکتاب ، اصل عبارت یوں ہے، ھذاتنزیل الکتاب ، اور بعض نے کہا ہے کہ ، تنزیل الکتاب ، مبتداء ہے اور اس کی خبر، من اللہ العزیز الحکیم، ہے یہاں اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–2

1۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ قرآن اللہ زبردست صاحب حکمت کا نازل کیا ہوا ہے زبردست تو وہ ایسا ہے کہ قرآن سے پہلے کے اس کے احکام کو جن پہلی قوموں نے نہیں مانا۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں سے اس نے ہلاک کردیا صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ مرنے کے بعد نیک و بد جو انجام ہونے والا تھا اس نے اپنے کلام میں وہ سب انسان کو جتلا دیا۔ تاکہ کسی کو اس انجام سے انجان پنے کا عذر باقی نہ رہے۔ اب دوسری آیت میں حضرت ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ قران کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا، نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لئے الوہیت اس کا وصف ہے، کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بناء پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

قرآن حکیم سراسر اتاری ہوئی کتاب : سو " تنزیل " کے لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے۔ پس اس کتاب حکیم میں کسی انسانی کد و کاوش کا کوئی حصہ اور شائبہ تک نہیں۔ اسی لئے یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ مصدر ہے۔ یعنی یہ سراسر اتاری گئی کتاب ہے۔ اور جس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے اس کو اتارا گیا ہے اس کی ایک صفت ہے عزیز۔ جس میں بیک وقت دو عظیم الشان درس ہیں۔ ایک یہ کہ جو کوئی اس کتاب عزیز پر صدق دل سے اور سچا پکا ایمان رکھے گا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنا راہبر و راہنما بنائے گا وہ ایسی سچی عزت اور ناموری سے سرفراز ہوگا جو اس کو دارین کی سعادت اور حقیقی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

انسانی پیدائش اللہ کے وجود کی نشانی ہے تشریح : ان آیات میں اللہ کی وحدانیت ‘ قرآن کی سچائی اور حضور پاک ﷺ کی سچائی کو بڑی صاف صورت میں بیان کیا گیا ہے کفر و شرک کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ثبوت کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم باقی تمام مظاہر قدرت کو چھوڑ کر صرف انسانی تخلیق کے بارے میں غور کرتے ہیں یہ حیاتیاتی راز یعنی انسان اور انسان کی طرح پیدا ہونے والے جانوروں کا راز اس آیت 6 میں بڑے ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے اس راز کو واضح کیا ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : ” جیسا کہ ظاہر ہے آیت کا یہ حصہ ایک انسان کی ساخت کیلئے ماں کے پیٹ میں تین مختلف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

سورة زمر رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 ۔ تا۔ 9: اسرار و معارف : اور یہ تو اللہ نے احسان فرمایا کہ جو زبردست ہے کسی کا محتاج نہیں مگر حکمت والا ہے لہذا اس نے کتاب نازل فرمائی تیری طرف اے انسان۔ نبی کی بعثت اور نزول کتاب یہ سب حق ہے اور تمہارے لیے ہے کہ تم خلوص اور دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت کرسکو۔ یعنی کتاب حق بھی ہے کہ درست احکام ارشاد فرماتی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو اسی کی برکات سے خلوص قلبی بھی نصیب ہوتا ہے اور یہ سن لو کہ اگر تم نہ بھی مانو تو بھی بندگی اور اطاعت صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کا راستہ اپنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ اللہ ہی کے قرب کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 9 یعنی اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ( سچ) ہے اس میں باطل کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” تو عبادت کرتا رہ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین ( یعنی اطاعت و بندگی) کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی صورت میں قابل قبول ہے جب وہ خالص توحید کے ساتھ ہو اور اس سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39: 1) تنزیل الکتب۔ مضاف مضاف الیہ۔ کتاب نازل کرنا۔ الکتاب سے مراد یہ سورة یا قرآن مجید ہے یہ مبتداء ہے اور من اللّٰہ خبر ہے۔ اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی طرف سے ہے۔ العزیز۔ (اپنی حکومت میں سب پر غالب) الحکیم۔ (اپنی صنا عی میں حکمت والا) ۔ اللہ کی صفات ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : تنزیل ( آہستہ آہستہ اتارتا ہے) اعبد (عبادت و بندگی کر) خالص (جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو) یقرب ( وہ قریب کرتا ہے) زلفی (قریب ہونا) اصطفی (اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ثمنیۃ ( آٹھ) ازواج ( زوج) (جوڑے ، نر اور مادہ) بطون ( بطن) (پیٹ) ظلمت (ظلمۃ) (اندھیرے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں) تصرفون (تم پلٹتے ہو، بہکتے ہو) تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہر رات کو سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ( بخاری ، مسلم، ترمذی) مذکورہ حدیث سے سورة زمر کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس سورت میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو دین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

(ف 1) ارشادہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید محمد ﷺ نے از خود نہیں لیا بلکہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے ، اے محبوب ہم نے بواسطہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمہاری طرف کتاب اتاری جو بالکل یقین وحق ہے باطل نہیں ہے پس اے محبوب ﷺ لوگوں کو پہنچاؤ ، اور اپنے اللہ کی عبادت کرو سچے دل سے اعلی درجہ کے مرتبہ توحید محض کے ساتھ، نہایت اخلاص کے ساتھ خطاب، نبی ﷺ سے ہے مگر مراد سب امت ہے آدمیوں کو چاہیے کہ اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کرلیں شرک کو بو بھی باقی نہ رہے اللہ اسی عبادت کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) جس طرح سورة صٓ میں توحید و رسالت اور قیامت کا ذکر تھا اسی طرح اس سورت میں بھی عقائد اسلامیہ کے اہم مسائل مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید نبی کریم ﷺ کی رسالت قرآن کی صداقت قیامت کا وقوع نفحہ صور اور حساب کتاب کے بعد اہل جنت کا جنت میں جانا اور اہل دوزخ کا عذاب میں گرفتار ہونا مذکور ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یعنی قوت کی بنا پر منکروں کے لئے سزا کا اعلان کرتا ہے اور مصالح کی بنا پر مہلت دیتا ہے یعنی اظہار قوت بھی اور اظہار حکمت بھی دونوں کا اس عالم میں ظہور ہوتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 5۔ غالب ہونا اس کا مقتضی تھا کہ جو اس کی تکذیب کرے اس کو سزا دے دی جاوے، مگر چونکہ حکیم بھی ہے اور مہلت میں مصلحت تھی اس لئے سزا میں مہلت دے رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کتاب قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے 1۔ کفار مکہ کو اس بات سے انکار تھا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے اگرچہ ان کو اس کی فصاحت و بلاغت سے انکار نہیں تھا لیکن منزل من اللہ وہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ پیچھے ذکر گزر چکا ان کا خیال تھا کہ یہ پیغمبر نے خود گھڑ لی ہے اور یہ بھی کہ اس کو کوئی دوسرا آ کر سکھا جاتا ہے پھر وہ اس کو اپنی زبان میں ڈھال کر بیان کردیتا ہے۔ شروع شروع میں وہ یہی کچھ کہا کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ وہ سب نہیں تو ان کی اکثریت اس بات کو مان گئی تھی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ اس وقت تک ابھی ان کو یہ بھی امدی تھی کہ یہ دین ہماری موجودگی میں پھیل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 This is a brief introduction to the Surah which only stresses the point that the Qur'an is not Muhammad's word, as the disbelievers assert, but it is Allah's Word, which He Himself has sent down. Along with this, two of Allah's attributes have been mentioned to warn the listeners of two realities so that they do not underestimate this Word but understand its full importance: (1) That Allah Who has sent it down, is All-Mighty; that is, He is so powerful that no power can prevent His will and decisions from being enforced and none can dare resist Him in any way; (2) that He is All-wise; that…

Read the full tafseer →