زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں۔
مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 75
یعنی ان کو اللہ کی عظمت وکبریائی کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ خداوند عالم کا مقام کتنا بلند ہے اور وہ حقیر ہستیاں کیا شے ہیں جن کو یہ نادان لوگ خدائی میں شریک اور معبودیت کا حق دار بنائے بیٹھے ہیں۔
سورة الزُّمَر 76
زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کامل اقتدار تصرف کی تصویر کھینچنے کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ پر لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس طرح ایک آدمی کسی چھوٹی سی گیند کو مٹھی میں دبا لیتا ہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے، یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے لیے یہ کوئی زحمت طلب…
Read the full tafseer →(آیت) وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ۔ قیامت کے روز زمین کا اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہونا اور آسمانوں کا لپیٹ کر اس کے داہنے ہاتھ میں ہونا اسلاف متقدمین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں میں ہیں۔ مگر مضمون آیت متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت بجز خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ عام لوگوں کو اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش بھی ممنوع ہے بس اس پر ایمان لانا ہے کہ جو کچھ اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق اور صحیح ہے۔ اور چونکہ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے لئے مٹھی اور داہنے ہاتھ کا ہونا معلوم ہوتا ہے جو اعضاء وجوارح جسمانی ہیں اور…
Read the full tafseer →آیت 67
خدا کی شان سے بیخبر ی
یعنی ان جاہلوں نے اپنے مزعومہ شریکوں کو جو خدا کے برابر لا بٹھایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی شان او اس کی عظمت بالکل نہیں پہچانی ہے۔ انہوں نے خدا کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپا ہے اس وجہ سے ذرہ اور آفتاب، قطرہ اور سمندر میں وہ امتیاز نہ کرسکے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری زمین یا مت کے دن خدا کی مٹھی میں ایک مشت خاک کے برابر اور تمام آسمانوں کی بساط اس کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی ہوگی ایسی عظیم ہستی کے ساتھ ان کی ان دیویوں دیوتائوں کا کیا جوڑ کہ یہ اس کی کائنات میں شریک وسہیم بن جائیں اور وہ ان کی مدد کا محتاج ہو قبضۃ اتنی چیز کو کہتے ہیں جو ایک ابر میں…
Read the full tafseer →کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرلیا حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت کتابوں میں یہ بات پاتے ہیں کہ وہ قیامت والے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ آپ ﷺ نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت وما قدروا اللہ کی تلاوت فرمائی صحیح بخاری تفسیر سورة زمر محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے جس طرح اس آیت میں ہاتھ کا اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے ان پر بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 67
حقیقت یہ کہ انہوں نے اللہ کی ذات کی قدر نہیں کی ۔ ورنہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی مخلوقات کو شریک نہ کرتے ۔ نہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق ادا کیا ہے ، کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور اللہ کی عظمت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ان کو اللہ کی جلالت قدر کا شعور ہی نہیں ہے۔ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت کا شعور ان کو یوں دیا جاتا ہے ، قرآن کے مخصوص انداز بیان کے مطابق کہ قرآن اعلیٰ عقلی افکار کو بھی نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ کلی اور عقلی مفاہیم محدود انسانی ادراک کے قریب آجائیں۔
قرآن وسنت میں جہاں جہاں اس قسم کی تصاویر اور مناظر آتے ہیں وہ دراصل تمثیلات ہیں اور حقائق کو انسانی ادراک کے
قریب…
Read the full tafseer →7 یعنی مشرکین نے اس کے عظمت و جلال اور بزرگی و برتری کو وہاں تک نہ سمجھا اور ملحوظ نہ رکھا جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا۔ اس کی شان رفع اور مرتبہ بلند کا اجمالی تصور رکھنے والا، کیا عاجز و محتاج مخلوق حتی کہ پتھر کی بےجان مورتیوں کو اس کا شریک تجویز کرسکتا ہے۔ حاشا وکلا۔ آگے اس کی بعض شؤون عظمت و جلال کا بیان ہے۔
8 یعنی جس کی عظمت شان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کی ایک مٹھی میں اور سارے آسمان کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے ایک ہاتھ میں ہوں گے، اس کی عبادت میں بےجان یا عاجز و محتاج مخلوق کو شریک کرنا کہاں تک روا ہوگا۔ وہ شرکاء تو خود اس کی مٹھی میں پڑے ہیں۔ جس طرح چاہے…
Read the full tafseer →آیت 67 { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ } ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا“
یہ لوگ اللہ کی قدرت ‘ اس کی قوت اور اس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے ‘ اگر ہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنار کی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہوگی ‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے…
Read the full tafseer →83 یعنی جن مشرکوں نے آپ کو بتوں کو سجدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، ان کم بختوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مقام کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے ان کو اللہ کی عظمت وکبریائی کا کچھ بھی اندازہ نہیں۔ بھلا اللہ کے مقابلہ میں یہ بتوں جیسی حقیر ہستیاں کیا شے ہیں۔ اگر انہیں اللہ کی عظمت اور اس کے مقام کا کچھ اندازہ ہوتا تو ایسی نادانی کی بات کبھی نہ کہتے۔
84 قیامت کے دن اللہ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بےبس ہے اور اسی مضمون کی تفسیر درج ذیل احادیث بھی پیش کرتی ہیں :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →80۔ (اپنی وسعت وظرف کے اعتبار سے) مطلب یہ ہوا کہ حق تعالیٰ کی ذات کاملہ کے حق اس کے مرتبہ کمال کے لحاظ سے تو کوئی ادا ہی نہیں کرسکتا۔ لیکن بندے اپنی وسعت وظرف کے لحاظ سے جس حد تک اس کے مکلف ہیں، ان ظالموں، بدبختوں نے اتنا بھی تو نہ کیا، اور اس مرتبہ حق کا اقل قلیل عقیدۂ توحید ہے۔
81۔ (اور ہر قسم کی مادیت اور تجسیم کے شائبہ سے) (آیت) ” قبضتہ ...... بیمینہ “۔ قبضۃ سے مراد قبضہ قدرت، قبضہ اختیار ہے۔ اور یمین سے بھی ماد دست قدرت لی گئی ہے۔ فالقبضۃ مجاز عن الملک اوالتصرف کمایقال بلد فلان فی قبضۃ فلان والیمین مجاز عن القدرۃ التامۃ (روح) یقال مافلان الافی قبضتی بمعنی ما فلان الافی قدرتی وقد یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…
Read the full tafseer →وما قدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ
سبحنہ و تعلی عما یشرکون اور ان لوگوں نے اللہ کی ایسی عظمت نہیں کی جیسی عظمت اس کے لائق تھی ‘ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اسکے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ وہ ان لوگوں کی شرک آفرینیوں سے پاک اور برتر ہے۔
یعنی ان لوگوں نے عظمت الٰہی کو ویسا نہیں جانا جیسا عظمت کا حق تھا (جیسی عظمت ہونی چاہئے تھی) کہ دوسروں کو اس کا شریک قرار دیا اور ان صفات کا حامل اس کو مانا جو اس کی شان کیلئے نازیبا ہیں ‘ نہ اس کی اس طرح عبادت کی جس طرح کرنی چاہئے تھی اور نہ اس کی نعمتوں کا ویسا شکر کیا جیسا کرنا لازم تھا اور…
Read the full tafseer →اور ان لوگوں نے اللہ کی کچھ عظمت نہ کی جیسے عظمت کرنی چاہیے تھی۔
چناچہ بکواس کرنے لگے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہے اور ذلیل و خوار مالک بن صیف یہودی کہنے لگا کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے ہم سے قرض مانگتا ہے حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے او اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ اس کی ذات یہودیوں کی باتوں سے پاک و برتر ہے۔
شان نزول : وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (الخ)
امام ترمذی نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی کا رسول اکرم کے پاس سے گزر ہوا وہ کہنے لگا اے ابو القاسم اس چیز کے…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ : یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت کی، یا آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کریں، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ اس کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس کے سامنے وہ تمام ہستیاں جن کی وہ عبادت کر رہے ہیں، کس قدر حقیر اور بےبس ہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔
وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں کاغذ کی طرح لپیٹے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ) […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
67 ۔ 68:۔ وما قدرو اللہ حق قدرہ مبرد نے کہا : انہیں اللہ تعالیٰ کی جس طرح عظمت بجا لانا تھی ایسی عظمت بجا نہ لائے یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان عظیم القدر نحاس نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر معنی ہوگا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ دوسرے معبود ان باطلہ کی عبادت کی جب کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا مالک اور خالق ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ تعظیم نہ کی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور عظمت کا ذکر کیا والارض جمیعا قبضۃ ہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کی کہ یہ کسی عضو کے ساتھ ہو فرمایا : سبحنہ و تعلی عما یشرکین۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ ؓ سے…
Read the full tafseer →1:۔ سعید بن منصور واحمد بن عبد بن حمید (رح) (رح) علیہ ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر دارالقطنی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود کے علماء میں سے ایک عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ہم نے پایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو قیامت کے دن ایک انگلی پر اٹھائیں گے اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں بادشاہوں تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاھیں ظاہر ہوگئیں عالم کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت)…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ [اور انھوں نے تعظیم نہیں کی اللہ کی ] حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ [جیسا اس کی تعظیم کا حق ہے ] وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا [اور زمین کل کی کل ] قَبْضَتُهٗ [اس کی ایک مٹھی میں ہوگی ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ [اور آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے ] بِيَمِيْنِهٖ ۭ [اس کے داہنے ہاتھ میں ] سُبْحٰنَهٗ [پاکیزگی اس کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا يُشْرِكُوْنَ [اس سے جو یہ لوگ شریک کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ
اللہ تعالیٰ شانہٗ کی ذات بہت بڑی ہے اس کو اس دنیا میں دیکھا نہیں جاسکتا لیکن اس کی صفات کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اس کی صفت خالقیت کو سب عقل مند جانتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ سب کچھ اسی نے پیدا کیا ہے اس کا حق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے جن لوگوں نے کسی کو اس کا ساجھی ٹھہرایا اور عبادت میں شریک بنایا اور نہ صرف یہ کہ خود مشرک بنے بلکہ اس کے رسول کو بھی شرک کی دعوت دے دی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ تعظیم نہیں کی جس تعظیم کا وہ مستحق ہے اس کی ذات پاک کے لیے شریک تجویز کرنا بہت بڑی حماقت اور ضلالت ہے، دنیا میں اس کی قدرت کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…
Read the full tafseer →64:۔ ” وما قدروا اللہ الخ “ ان نادانوں نے اللہ کی عظمت قدر اور جلالت شان کو کما حقہ نہیں پہچانا، وہ ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ ہر جاندار کا رازق اور ہر چیز کا محافظ ہے۔ زمین و آسمان کے خزانے اس کے زری تصرف و اختیار ہیں۔ مگر مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود بنا رکھا ہے۔ ” والارض جمیعا الخ “ یہ کلام علی سبیل التمثیل ہے۔ اور اللہ کی قدرت و عظمت سے کنایہ ہے۔ اس کی عظمت و جبروت اور قدرت و ملکوت جس طرح دنیا میں ہر چیز پر حاوی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی سب اس کی عظمت وکبریائی کے سامنے سر افگندہ ہوں گے اور اسی کی قدرت اور اسی کا تصرف ہی وہاں نافذ ہوگا۔ مشرکین کے تمام ارضی و سماوی معبود اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
(عبادت غیر اللہ کی ترغیب)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ 0 ۤۖ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِہٖ 0 ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67
قَدْرُ والتَّقْدِيرُ
والقَدْرُ والتَّقْدِيرُ : تبيين كمّيّة الشیء . يقال :
قَدَرْتُهُ وقَدَّرْتُهُ ، وقَدَّرَهُ بالتّشدید : أعطاه الْقُدْرَةَ.
يقال : قَدَّرَنِي اللہ علی كذا وقوّاني عليه،
فَتَقْدِيرُ اللہ الأشياء علی وجهين :
أحدهما : بإعطاء القدرة .
والثاني : بأن يجعلها علی مقدار مخصوص ووجه مخصوص حسبما اقتضت الحکمة، وذلک أنّ فعل اللہ تعالیٰ ضربان :
ضرب أوجده بالفعل، ومعنی إيجاده بالفعل أن أبدعه کاملا دفعة لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
ترکیب : الاستفہام لانکار و الفاء للعطف علی مقدر افغیر اللہ منصوب اعبدو تامرونی اعتراض و معناہ افغیر اللہ اعبد بامرکم۔ ویمکن ان یکون منصوبابتا مرونی و اعبد بدلا منہ والتقدیر قل افتامرونی بعبادۃ غیر اللہ ھذا من بدل الاشتمال و من باب امر تک الخیر ویجوزان یکون منصوبا بفعل محذوف ای افتلزمونی غیر اللہ و فسرہ مابعدہ۔ ولقد اللام دالۃ علی قسم مقدر لئن جواب القسم و ھذا اللام ایضاد الۃ علی قسم لیحبطن ولتکونن وہاتان اللامان واقعۃ فی جواب القسم الثانی والثانی جو ابہ جواب الاول و جواب الشرط محذوف لد لالہ جواب القسم علیہ والارض مبتدء و قبضتہ الخبر و ان یکون خبر اثانیا۔
تفسیر : دلائلِ توحید بیان کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ صلے ق وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُـہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ م بِیَمِیْـنِہٖ ط سُبْحٰنَـہٗ وَتَعٰـلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الزمر : 67)
(اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کی قدر جاننے کا حق ہے، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ )
قَبْضَۃٌ … مٹھی کو بھی کہتے ہیں اور اتنی چیز کو بھی جو ایک بار مٹھی میں اٹھا لی جائے۔ اور یمین دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں۔ اب اگر ان دونوں لفظوں کو لغوی معنی میں لیا جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ کے علاوہ یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرتے ہیں وہ مشرک ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ناقدردان اور ناشکرے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی عبادت کا حکم دینے سے پہلے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ ہی ہر چیزکا خالق اور اس کا وکیل ہے۔ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ جاہل لوگوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ یہی اس کے شکر ادا کرنے کا صحیح طریقہ ہے جو لوگ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے رب ذوالجلال کی قدرہی نہیں کی جس طرح اس کی قدر…
Read the full tafseer →وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے) ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حق پورا نہیں کیا۔ جبکہ آپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ غیر اللہ کی عبادت کرو۔ جب سب سے بڑی ذات کو انسان صحیح پہچانتے اور اس کی عظمت کا حق جانتے ہوئے نہ قدر کرے تو کہا جاتا ہے مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ۔ پھر اس کی عظمت و جلال کے متعلق بطریق تخییل خبر دار کیا۔ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ (حالانکہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں) ۔…
Read the full tafseer →تفسیر 67۔ ، وما قدروا اللہ حق قدرہ، انہوں نے اس کی ایسی عظمت نہ کی جیسا اس کا حق تھا جس وقت اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کی خبردیتے ہوئے فرمایا : وما قدروا اللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموات مطویت بیمینہ سبحنہ و تعلی عما یشرکون،
وما قدروا اللہ حق قدرہ کی تفسیر
حضرت عبد اللہ بن مسعور ضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہود کے علماء میں سے ایک عالم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! ہم یہ بات پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی اور تمام زمینوں کو ایک انگلی اور درختوں کو ایک انگلی اور پانی ونمناک مٹی کو ایک انگلی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70۔ ترمذی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ایک یہودی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس بات میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سوا تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اور زمین پر ایک انگلی پر اور آسمان ایک انگلی پر اور پہاڑ ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے لیکن صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم نسائی ابن ماجہ مسند امام (2 ؎ صحیح بخاری باب ما قدروا اللہ حق قدرہ ص 711 ج 2۔ ) احمد اور خود ترمذی کی ایک روایت میں اس قصہ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت 67
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جی اس کہ اس کی قدر و تعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ایسے افعال سر انجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انہوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →118 اللہ پاک کی شان سے بیخبر ی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کی شان عالی سے بیخبر ی کا نتیجہ شرک و ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا " جس کے نتیجے میں یہ شرک میں مبتلا ہوئے اور ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔ ورنہ نہ تو یہ لوگ اس طرح شرک میں پڑتے اور نہ اس کے لئے وزیر و مشیر اور وسائط گھڑتے کہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ ایسے تمام تصورات سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان جاہلوں نے جو اپنے من گھڑت اور خودساختہ شریکوں کو اس کے برابر لابٹھایا تو یہ ان کی جہالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
مشرک اللہ کی قدر نہیں پہچانتے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت کے بعد مشرکین کے مرض کا سبب بتا رہے ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کی شان باالکل نہیں پہچانی۔ اگر یہ اللہ کے قدر شناس ہوتے تو کبھی اس کے ساتھ شرک نہ کرتے۔ حالانکہ ارض وسماء کی تخلیق اسی نے کی اور تباہی بھی اسی کی طرف سے ہوگی، جس وقت صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ زمین اللہ کے نور سے چمک اٹھے گی، دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور دیگر گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کیساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70:
آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…
Read the full tafseer →ف 3 بعض لوگوں نے اس کو استعارہ قرار دیتے ہوئے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے روز زمین و آسمان سب اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہوں گے۔ لیکن صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ واقعی زمین اور آسمانوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، اس لئے اس آیت کو استعارہ پر محمول کرنا صحیح نہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا اور پھر فرمائے گا ” میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں دنیا کے بادشاہ ؟ “ ایسے ہی الفاظ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →(39:67) ما قدروا اللّٰہ : ما قدروا ماضی منفی جمع مذکر غائب انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔ انہوں نے قدر نہیں پہچانی، انہوں نے قدردانی نہیں کی ۔
والارض جمیعا یعنی زمین اپنی تمام اندورونی و بیرونی اجزاء کے ساتھ۔
قبضتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا قبضہ ، اس کی مٹھی میں ہونا۔ اس کا تصرف، اس کا اختیار کامل۔ القبض کے معنی کسی چیز کو پانچوں انگلیوں سے مٹھی بھر کر پکڑنا۔ جیسے قبض السیف تلوار کو پکڑنا ۔ قبض علی کسی چیز کو بھرپور پکڑنا۔ قبض عن کسی چیز کی طرف سے ہاتھ کو کھینچ لینا۔ اسی مفہوم کے لحاظ سے خرچ سے ہاتھ روکنے کو قبض کہا جاتا ہے مثلاً ویقبضون ایدیہم (9:67) اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
حاکمیت اور اعلی قیامت کا منظر۔
(ف 1) ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک عالم علماء یہود میں سے نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ہماری کتاب میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمین کو ایک انگلی اور درختوں پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام خلقت کو ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ مشرکین نے اس کی عظمت و جلال اور بزرگی و برتری کو وہاں تک نہ سمجھا اور ملحوظ نہ رکھا، جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا اس کے بعدا للہ کی عظمت و جلال کا بیان ہیی اس کی عظمت وشان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کے…
Read the full tafseer →[36] مٹھی سے مراد کامل اختیار اور دست راست سے مراد دست قدرت ہے۔ آیت سے مقصدو محاورہ بشری کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے کامل اقتدار اور تصرف کی تصویر کھینچ دینا ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: یعنی اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر کا تقاضا تو یہ تھا ۔ کہ کسی شخصیت کو کو اس کا شریک وسہیم نہ ٹھہرایا جاتا ۔ اور اس کے عتبہ جمال پر جنبہ سائی کی جاتی ۔ مگر ان ناشنا سان جمال حقیقت نے پتھروں کے حقیر مجسموں کو اپنی عقیدت واردات کا مدارو محور قرار دے لیا ۔ اور اس طرح اس کی توہین مرتکب ہوئے وہ تنہا تمام کائنات کا رب ہے ۔ قیامت کے دن یہ وسیع و عریض زمین اور بلندوبالا آسمان اس کی مٹھی میں اور اس کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ کیا تمہارے بتوں اور خداؤں میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس دن اللہ کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکیں ۔
Read the full tafseer →(67) اور ان منکروں نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہیں پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا حالانکہ یہ تمام زمین قیامت کے اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان کاغذ کی طرح اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے پاک اور بالاتر ہے۔ قدر کا ترجمہ ہم نے قدر ہی کردیا چونکہ یہ لفظ عام طریقہ سے بولا اور سمجھا جاتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور نہیں سمجھے اللہ کو جتنا کچھ وہ ہے بعض لوگوں نے قدر کو عظمت سے تعبیر کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شان جس عظمت و جلال کی مقتضی تھی اس کے موافق اس کی تعظیم نہیں کی آگے اس کی جلالت شان مذکور ہے کہ تمام زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 2۔ حق عظمت سے مراد توحید ہے اور اس کی نفی سے مراد شرک۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے شرک کیا گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس قدر کا وہ مستحق ہے
67۔ اگر کوئی شخص اللہ کی بھی عبادت کرتا ہے اور غیر اللہ کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہ کی جو اس کی قدر کرنے کا حق ہے کیونکہ اس نے ایک وہ کام کیا جس میں سراسر شرک پایا جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہ کوئی شریک وہیم ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے مشرک نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ کہ اللہ رب العزت کا مقام کتنا بلند ہے اور وہ حقیر ہستیاں کیا شے ہیں کہ اس نے خالق اور مخلوق کو ایک ہی طرح کا سمجھ لیا حالانکہ خالق اور مخلوق میں ایک…
Read the full tafseer →In the last verse (67), it was said: وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ(and the whole earth will be in a single grip of His hand on the Day of Doom and the heavens, rolled up on His right hand). The earth being in the hand-grip of Allah Ta’ ala and the heavens being rolled up on His right hand appears here, in the view of the early forbears of Islam, in its real sense. But, the subject of the verse falls in the category of al-mutashabihat (of hidden meaning) the reality of which is not known to anyone except Allah Ta’ ala. For people in general,…
Read the full tafseer →75 That is, "They have no conception of the greatness and glory of Allah; they have never tried to understand how high is the position of the Lord of the Universe and how insignificant arc the beings whom these foolish people have made associates in Godhead and worthy of their worship."
76 This is a figurative way of describing the complete control and authority of AIlah over the earth and heavens. Just as a man encloses a small ball in the hollow of his hand with perfect ease, or a person rolls up an handkerchief in his hand without any difficulty, so will All men (who fail to conceive the…
Read the full tafseer →