Explained with ayahs 68–70
قیامت کی ہولناکی کا بیان۔
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہوگا جس سے ہر زندہ مردہ ہوجائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔ صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی وقیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے ؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد وقہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہر چیز کو اپنی ماتحتی…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 78
صور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص 552۔ جلد دوم، ص 493۔ جلد سوم، صفحات 48۔ 122۔ 123 199۔ 300۔ 606۔
سورة الزُّمَر 79
یہاں صرف دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ ان کے علاوہ سورة نمل میں ان دونوں سے پہلے ایک اور نفخ صور واقع ہونے کا ذکر آیا ہے، جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی (آیت 87)۔ اسی بنا پر احادیث میں تین مرتبہ نفخ صور واقع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نفخۃ الفَزَع، یعنی گھبرا دینے والا صور۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق، یعنی مار گرانے والا صور۔ تیسرا نفخۃ القیام لرَبّ العالمین، یعنی وہ صور جسے پھونکتے ہی تمام انسان جی اٹھیں گے اور اپنے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (قیامت کے روز جس کا اوپر ذکر آیا ہے) صور میں پھونک ماری جاویگی جس سے تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جاویں گے (پھر زندہ تو مر جاویں گے اور مردوں کی روحیں بےہوش ہوجاویں گی) مگر جس کو خدا چاہے (وہ اس بےہوشی اور موت سے محفوظ رے گا) پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونک ماری جاویگی تو دفعتاً سب کے سب (ہوش میں آ کر ارواح کا تعلق ابدان سے ہو کر قبروں سے نکل) کھڑے ہوجاویں گے۔ (اور) چاروں طرف دیکھنے لگیں گے (جیسا کہ حادثہ غریبہ کے وقوع کے وقت عادت طبعی ہے) اور (پھر حق تعالیٰ حساب کے لئے زمین پر اپنی شان کے مناسب نزول و تجلی فرما دیں گے اور) زمین اپنے رب کے نور (بےکیف) سے روشن ہوجاوے گی…
Read the full tafseer →آیت 68
قیامت کے دن کی بےبسی
یہ اسی مضمون کی مزید توسیع ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں سے متعلق یہ فرض کئے ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان کو اللہ کے ہاں بڑا تقرب حاصل ہے، وہ اپنے پجاریوں کے لئے یہ کریں گے اور خدا نے ان پر ہاتھ ڈالا تو اپنے زور و اثر سے ان کو چھڑا لیں گے حالانکہ قیامت کے دن ساری خدائی کا یہ حال ہوگا کہ جب پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے۔ صرف وہی لوگ اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھنا چاہے گا پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ حیرت سے تاکتے ہوں گے … مطلب یہ ہے کہ جس دن کی ہولناکی کا یہ عالم ہے اس دن کس کی مجال ہے کہ خدا کے آگے ناز…
Read the full tafseer →6 8۔ 1 بعض کے نزدیک نفخہ فزع کے بعد یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے جس سے سب کی موت واقع ہوجائے گی بعض نے ان نفحات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے پہلا نفخۃ الفناء دوسرا نفخۃ البعث تیسرا نفخۃ الصعق چوتھا نفخۃ القیام لرب العالمین۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نفخہ الموت اور نفخہ نفخۃ البعث اور بعض کے نزدیک تین واللہ اعلم۔
68۔ 2 یعنی جن کو اللہ چاہے گا ان کو موت نہیں آئے گی جیسے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل بعض کہتے ہیں رضوان فرشتہ حملۃ العرش عرش اٹھانے والے فرشتے اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ فتح القدیر
68۔ 3 چار نفقوں کے قائلین کے نزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کے نزدیک تیسرا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 68
یہاں تیسری آواز کا تذکرہ نہیں ہے۔ جس میں جمع ہونے اور اللہ کے ہاں حاضر کا حکم ہوگا۔ اور حشرونشر کی چیخ و پکار اور
اژدہام کے شور کی تصویر کشی نہیں کی گئی کیونکہ اس منظر کو نہایت ہی پر سکون انداز میں پیش کرنا مطلوب ہے۔
Read the full tafseer →1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ایک بار نفخ صور ہے عالم کا فناء کا، دوسرا ہے زندہ ہونے کا، یہ تیسرا بعد حشر کے ہے بیہوشی کا، چوتھا خبردار ہونے کا، اس کے بعد اللہ کے سامنے سب کی پیشی ہوگی۔ " اور بتغییر یسیر۔ لیکن علمائے محققین کے نزدیک کل دو مرتبہ نفخ صور ہوگا۔ پہلی مرتبہ میں سب کے ہوش اڑ جائیں گے۔ پھر زندہ تو مردہ ہوجائیں گے اور جو مرچکے تھے ان کی ارواح پر بیہوشی کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ بعدہ دوسرا نفخہ ہوگا جس سے مردوں کی ارواح ابدان کی طرف واپس آجائیں گی اور بیہوشی کو افاقہ ہوگا۔ اس وقت محشر کے عجیب و غریب منظر کو حیرت زدہ ہو کر تکتے رہیں گے۔ پھر خداوند قدوس کی پیشی میں تیزی کے ساتھ حاضر کیے…
Read the full tafseer →آیت 68 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ } ”اور صور میں پھونکا جائے گا تو بےہوش ہوجائیں گے جو کوئی بھی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا۔“
یہ منظر بہت دہشت ناک ہوگا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ فرشتوں کے علاوہ باقی تمام فرشتے بھی صور کی اس آواز سے بےہوش ہو کر گرپڑیں گے۔ دراصل یہ تین نفخے ہوں گے۔ پہلا نفخہ وہ ہوگا جسے قرآن میں ”السَّاعۃ“ بھی کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید زلزلے ‘ ہلچل اور طوفان کی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ سورج اور چاند آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔…
Read the full tafseer →85 نفخہ ئصور کی بےہوشی سے کون مستثنیٰ ہوگا ؟:۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہوگی جو بےہوش نہیں ہوگی۔ بعض نے اس استثناء سے چاروں بزرگ فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیکل، اسرافیل اور عزرائیل مرادلیے ہیں۔ بعض نے ان میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن اگلے حاشیہ میں مندرج حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بےہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ بھی بےہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچے رہ سکتے ہیں۔ البتہ موسیٰ کو آپ نے مستثنیٰ کیا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا بےہوش ہوئے ہی نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ دنیا میں ایک…
Read the full tafseer →82۔ قیامت کے دونوں منظروں کا بیان ہے، پہلا منظر نفخ اول کا جب سب غش کھاکر ہلاک ہوجائیں گے اور منظر دوم نفخ ثانی کا جب سب نئے سرے سے جی اٹھیں گے۔ (آیت) ” الا من شآء اللہ “۔ یعنی مخلوق میں سے اللہ جس کو چاہے گا غشی اور موت سے محفوظ رکھے گا۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ بہتر ہوگا کہ اسے یوں ہی مجمل رہنے دیا جائے، جیسا کہ قرآن و حدیث نے اسے مجمل رکھا ہے۔ قال قتادۃ اللہ اعلم بانھم من ھم ولیس فی القران والاخبار ما یدل علی انھم من ھم (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…
Read the full tafseer →ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومنفی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری
فاذاھم قیام ینظرون اور (قیامت کے دن) صور میں پھونک ماری جائے گی تو فوراً تمام آسمانوں والوں اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گے ‘ مگر جس کو اللہ چاہے گا (وہ بےہوشی سے محفوظ رہے گا) پھر اس (صور) میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو دفعۃً سب کے سب (قبروں سے نکل کر) کھڑے ہوجائیں گے اور (چاروں طرف) دیکھنے لگیں گے۔
وَنُفِخَ یعنی پہلی بار صور میں پھونک ماری جائے گی۔
فَصَعِقَ تو آسمان و زمین والے سب بیہوش ہوجائیں گے ‘ یعنی مرجائیں گے۔
اِلاَّ مَنْ شَآءَ اللہ بیہوشی کی حالت سے کون مستثنیٰ ہوگا ‘ اس کی تفصیل ہم نے سورة نمل کی آیت…
Read the full tafseer →اور صورت میں پھونک ماری جائے گی تو آسمان و زمین والے مرجائیں گے مگر جنت و دوزخ والے اور کہا گیا ہے کہ حضرت جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت وہ پہلی صورت پھونکے جانے پر نہیں مریں گے بلکہ اس کے بعد مریں گے اور پھر مردوں کو زندہ کرنے کے لیے دوبارہ صورت میں پھونک ماری جائے گی اور ان دونوں صوروں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا اور پھر آسمان سے باریک بارش کی بوندیں گریں گے پھر اس صورت کے بعد اچانک لوگ قبروں سے کھڑے ہوجائیں گے اور چاروں طرف دیکھیں گے کہ ان سے کیا کہا جارہا ہے۔
Read the full tafseer →وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ۔۔ : اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نمل کی آیت (87) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
67 ۔ 68:۔ وما قدرو اللہ حق قدرہ مبرد نے کہا : انہیں اللہ تعالیٰ کی جس طرح عظمت بجا لانا تھی ایسی عظمت بجا نہ لائے یہ تیرے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان عظیم القدر نحاس نے کہا : اس تعبیر کی بنا پر معنی ہوگا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ دوسرے معبود ان باطلہ کی عبادت کی جب کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا مالک اور خالق ہے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ تعظیم نہ کی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور عظمت کا ذکر کیا والارض جمیعا قبضۃ ہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کی کہ یہ کسی عضو کے ساتھ ہو فرمایا : سبحنہ و تعلی عما یشرکین۔ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ ؓ سے…
Read the full tafseer →1:۔ احمد وعبد بن حمید و بخاری (رح) ومسلم و ترمذی (رح) وابن ماجہ (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مدینہ منورہ کے بازار میں یہودیوں میں سے ایک آدمی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو انسانوں میں سے چن لیا (یہ سن کر) انصار میں سے ایک آدمی نے اپنے ہاتھ کو اوپر اٹھایا اور اس کو تھپڑ مار دیا اور کہا کیا تو اس بات کو کہتا ہے اس حال میں کہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول (موجود) ہیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شآء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ [اور پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ [صور میں ] فَصَعِقَ [تو مرجائیں گے ] مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ [وہ جو آسمانوں میں ہیں ] وَمَنْ فِي الْاَرْضِ [اور وہ زمین میں ہیں ] اِلَّا مَنْ [سوائے اس کے جس کو ] شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ [چاہے گا اللہ ] ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ [پھر پھونکی جائے گی اس میں ] اُخْرٰى [دوسری (پھونک)] فَاِذَا هُمْ [پھر جب ہی وہ لوگ ] قِيَامٌ [کھڑے ہوں گے ] يَّنْظُرُوْنَ [دیکھتے ہوئے ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت 68 میں دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ سورة نمل آیت 87 میں ان دونوں سے پہلے ایک صور پھونکنے کا ذکر آیا ہے جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی، اسی بنا پر احادیث میں…
Read the full tafseer →قیامت کے دن صور پھونکے جانے کا تذکرہ
پھر فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ ) (الآیۃ) (اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب بےہوش ہوجائیں گے مگر جنہیں اللہ چاہے پھر صور میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے) جب قیامت قائم ہوگی تو اس کی ابتداء صور پھونکے جانے سے ہوگی اور دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) کان لگائے ہوئے ہیں اور پیشانی کو جھکائے ہوئے انتظار میں ہیں کہ کب صور پھونکنے کا حکم ہو آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 482)
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…
Read the full tafseer →66:۔ ” ونفخ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ آخرت میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ اور وہ خود ہی تخت بادشاہی پر جلوہ افروز ہوگا اور مشرکین کے خود ساختہ سفارشی وہاں ان کے کام نہیں آئیں گے اور اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں ہوگا۔ نفخہ سے نفخہ اولی مراد ہے جس سے تمام جاندار موت کی نیند سو جائیں گے۔ صعق سے مراد موت ہے۔ فنفخۃ الفزعھی نفخۃ الصعق والصعق ھنا الموت (بحر ج 7 ص 441) ۔ ” الا من شاء اللہ “ مستثنی کون ہیں اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ایک قول کے مطابق جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، ملک الموت، خازن جنت، زبانیہ وغیرہ یہ ضحاک کا قول ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں۔ مستثنی ذات باری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
(عبادت غیر اللہ کی ترغیب)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللہُ 0 ۭ ثُمَّ نُفِخَ فِيْہِ اُخْرٰى فَاِذَا ہُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ 68
نفخ
النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي
[ الحجر/ 29]
( نخ ) النفخ
کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
تفسیر : آسمانوں کے لپیٹنے یعنی فنا کرنے کا ذکر آگیا تھا، اس طرح پر کہ اللہ کی قدرت کی اور اللہ ایسا جلیل و جبار ہے کہ آسمانوں و زمین دنیا کو فنا کردے گا۔ قیامت کے روز اس مناسبت سے اور حشر کی مجملہ کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال و نفح فی الصور کہ صور پھونکا جائے گا۔ صور تر ہی یا بگل کی قطع کی ایک چیز ہوگی کہ جس کو زور سے اسرافیل بجاویں گے، اس میں پھونک مار کر بعض کہتے ہیں، ان کے ساتھ جبرئیل بھی ہوں گے، جیسا کہ حدیث ابن ماجہ اور ابو دائود سے پایا جاتا ہے۔ صور کئی بار پھونکے گا یہ اول بار پھونکنے کا ذکر ہے فصعق من فی السمٰوٰت والارض الامن شاء اللہ اس کے پھونکنے سے آواز کی کڑک اور تیزی ہوگی جس سے…
Read the full tafseer →وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ط ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ۔ (الزمر : 68)
(اور اس روز صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب مر کر گرجائیں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ زندہ رکھنا چاہے، پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو دفعتاً وہ کھڑے ہو کر تاکنے لگیں گے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
یہ سابقہ مضمون کا تسلسل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کو کیا جانیں، اس کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ جس طرح اس نے اس کائنات کی بساط بچھائی ہے اسی طرح جب وہ اس بساط کو لپیٹنا چاہے گا تو اس کے حکم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کا پچھلی آیت میں ذکر ہوا ہے اس کی ابتدا یوں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ جب قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا تو اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ یونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو جو بھی جاندار آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ بےہوش ہوکرگرپڑیں گے۔ سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ اس کے بعد پھر اسرافیل کو دوسری مرتبہ حکم ہوگا جونہی صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس فرمان میں ” اِلّا مَنْ شَاءَ “ فرما کر کچھ لوگوں کا استثناء کیا ہے کہ وہ بےہوش ہونے سے بچ جائیں گے۔ حدیث مبارکہ میں کھلے الفاظ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →نفخہ صعق کا منظر : وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اللّٰهُ ، اور صور میں پھونک مار دی جائے گی۔ پس تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ مگر جس کو خدا چاہے۔ صعق یہ موت کے معنی ہے۔ من شاء اللہ سے مراد جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت (علیہم السلام) مراد ہیں۔ ایک قول حملۃ العرش مراد ہیں۔
ایک قول : داروغہ جنت رضون، حور، مالک اور زبانیہ دوزخ مراد ہیں۔ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى، پھر اس میں پھونک ماری جائے گی۔ اخری، یہ محل رفع میں ہے کیونکہ کلام اس طرح ہے ونفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ ثم نفخ فیہ نفخۃ اخروی صور میں ایک مرتبہ…
Read the full tafseer →68، ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض ، یعنی گھراہٹ سے مرگئے ۔ یہ نفخہ اولیٰ ہے۔ ، الا من شاء اللہ ، ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اتثناء کیا ہے اور ہم نے اس کو سورة النمل میں ذکرکر دیا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ، الامن شاء اللہ، یعنی صرف تنہا اللہ تعالیٰ ، ثم نفخ فیہ، یعنی صور میں، اخری، یعنی دو وسری مرتبہ، فاذاھم قیام ینظرون، اپنی قبروں سے اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتے ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں پھونکوں کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا چالیس دن ؟ آپ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70۔ ترمذی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ایک یہودی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس بات میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سوا تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اور زمین پر ایک انگلی پر اور آسمان ایک انگلی پر اور پہاڑ ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے لیکن صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم نسائی ابن ماجہ مسند امام (2 ؎ صحیح بخاری باب ما قدروا اللہ حق قدرہ ص 711 ج 2۔ ) احمد اور خود ترمذی کی ایک روایت میں اس قصہ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت 67
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جی اس کہ اس کی قدر و تعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ایسے افعال سر انجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انہوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →121 نفخ صور اور اس کے نتیجہ و اثر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پھونک مار دی جائے گی صور میں جس سے یہ سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے "۔ اور پھر گر کر سب مرجائیں گے۔ اسی لئے یہاں پر " صعق " کو موت کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان اور معارف وغیرہ) ۔ سو یہ نفخہ ثانیہ کا بیان ہے۔ اس سے پہلے نفخہ فزع ہوگا جس کا ذکر سورة نمل کی آیت نمبر 87 میں فرمایا گیا ہے اور اس کے بعد تیسرا نفخہ وہ ہوگا جو کہ قیام لرب العالمین کے لئے ہوگا اور یہی قول ہے جمہور اہل علم کا ۔ " الجمہور علی انہ ثلٰث الاولیٰ للفزع والثانیۃ للموت والثالثۃ للاعادۃ " ۔ یعنی جمہور کے نزدیک نفخ صور تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
مشرک اللہ کی قدر نہیں پہچانتے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی مذمت کے بعد مشرکین کے مرض کا سبب بتا رہے ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کی شان باالکل نہیں پہچانی۔ اگر یہ اللہ کے قدر شناس ہوتے تو کبھی اس کے ساتھ شرک نہ کرتے۔ حالانکہ ارض وسماء کی تخلیق اسی نے کی اور تباہی بھی اسی کی طرف سے ہوگی، جس وقت صور پھونکا جائے گا تو سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے اور پھر جب دوبارہ پھونکا جائے گا تو سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ زمین اللہ کے نور سے چمک اٹھے گی، دفتر کھولا جائے گا، نبیوں اور دیگر گواہوں کی طلبی ہوگی اور لوگوں کے درمیان بالکل انصاف کیساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70:
آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…
Read the full tafseer →ف 5 ابن کثیر میں ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ کذافی جامع البیان اور تفسیر فتح البیان میں ہے کہ یہ نفخہ اولیٰ ہے اور جمہور علماء کے نزدیک کل نفخے تین ہیں۔ پہلا نفخہ فزع، دوسرا نفحہ موت اور تیسرا نفخہ بعث ( کذافی الحواشی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ایک بار نفخ صور ہے عالم کی فناکا نہ وسرا ہے زندہ ہونے کا، تیسرا بےہوشی کا بعد حشر کے، چوتھا خبر دار ہونے کا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوجاویں گے۔ ( موضح)6” وہ بےہوش نہ ہوا گے “ بےہوشی سے مراد موت ہے یا وہ بےہوشی جو حشر کے بعد ہوگی “۔ (مگر جن کو اللہ چاہے) سے مراد بعض نے مقرب فرشتے لئے ہیں۔ حتیٰ کہ ملک الموت سب سے آخر میں مرے گا۔ ایک حدیث میں…
Read the full tafseer →(39:68) نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نفخ (باب نصر) مصدر۔ وہ پھونکا جائے گا۔ صور پھونکا جائے گا۔ یہاں مراد نفخہ اول ہے۔
الصور۔ صور۔ نرسنگا۔ وہ چیز کو حضرت اسرافیل خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے ارشاد الٰہی سے پھونکیں گے۔
فصعقسببیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی اس (صور پھونکے جانے) کے سبب اور فجائیہ بھی۔ یعنی صور پھونکا جائے گا اور فورا ۔۔ صعق ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب صعق مصدر باب سمع سے۔ جس کے معنی گرج کے صدمہ سے بیہوش ہونے اور مرجانے کے آتے ہیں۔ صعق وہ بیہوش ہو کر گرپڑا۔ وہ مرگیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وخر موسیٰ صعقا (7:143) اور (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گرپڑے۔
ثم نفخ فیہ اخری پھر اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
حاکمیت اور اعلی قیامت کا منظر۔
(ف 1) ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک عالم علماء یہود میں سے نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ہماری کتاب میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمین کو ایک انگلی اور درختوں پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام خلقت کو ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ مشرکین نے اس کی عظمت و جلال اور بزرگی و برتری کو وہاں تک نہ سمجھا اور ملحوظ نہ رکھا، جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا اس کے بعدا للہ کی عظمت و جلال کا بیان ہیی اس کی عظمت وشان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
[37] صور کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →ف 2: اس آیت میں نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر جب پہلی دفعہ نرسنگا پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے
Read the full tafseer →(68) اور صور میں پھونک ماری جائیگی تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہوکر گرپڑیں گے مگر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونکا جائیگا اور پھونک ماری جائیگی تو یکایک وہ سب کھڑے ہوجائیں گے دیکھتے ہوں گے۔ یعنی پہلا نفخہ فنا کا ہے جس سے لوگ مرجائیں گے اور عالم ارواح کے لوگ بےہوش ہوجائیں گے مگر جس کو خدا چاہے۔
پھر دوسرے نفخہ میں مرنے والے زندہ ہوجائیں گے اور بےہوش یعنی عالم مجردات کے لوگ ہوشیار ہوجائیں گے زندہ ہونے والے حیرت زدہ ہوکرادھر ادھر دیکھتے ہونگے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار نفخ صور ہے عالم کی فنا کا دوسرا ہے زندہ ہونے کا تیسرا یہ ہے بیہوشی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 2۔ حق عظمت سے مراد توحید ہے اور اس کی نفی سے مراد شرک۔
Read the full tafseer →(نفخ الصور) کیا ہے اور وہ کب ہوگا اور کیونکہ ہوگا ؟
68۔ قرآن کریم میں صور پھونکنے کا ذکر کئی بار آیا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بھی ہے۔ (صور) کے لفظی معنی نر سنگھا کے ہیں جو ایک سینگ کی شکل کی چیز ہوتی ہے اور اس میں پھونگ لگانے سے ایک مہیب قسم کی آواز نکلتی ہے جو دور تک سنائی دیتی ہے اور اصل اس کی یہ ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ، کنعانیوں ، آرامیوں ، عبرانیوں وغیرہ تمام قوموں میں بادشاہی جلال وجلوس اور اعلان جنگ وغیر کے موقع پر یہ بگل بجایا جاتا تھا اس لیے بگل بجانا نر سنگھا پھونکنا شاہی جلال کے اظہار یا غیر معمولی خطرہ کا اعلان ہے اور تورات نے بھی یہ لفظ بار بار استعمال کیا ہے۔ زیر نظر آیت…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 68, it was said: فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ and all those in the heavens and all those in the earth will faint, except the one whom Allah wills." The word: صَعِقَ (sa'iqa) literally means to swoon, faint or fall unconscious, and the sense is that they all will become unconscious first, then die, and those who had already died, their spirits will become unconscious (as in Bayan ul-Qur’ an under the commentary on Surah An-Naml and in Ibn Kathir likewise).The last part of the verse: إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ : "except those…
Read the full tafseer →78 For the explanation of Sur (Trumpet), see AI-An`am: 73, Ibrahim: 48, AI-Kahf: 99, Ta Ha: 102-103, Al-Hajj: 1, AI-Mu'minun: 101. An-Naml: 87 and the E,N.'s thereof.
79 Here, mention has been made of the Turmpet's being blown only twice. Besides, in Surah An-Naml there is the mention of another blowing of the Trumpet before these two, on hearing which everything in the earth and the heavens will be struck with terror (v. 87). On this very basis, the Ahadith mention that the Trumpet will be blown thrice: (1) Nafakhat al-Faza`on hearing which everything will be struck with terror, (2) nafakhat…
Read the full tafseer →