Explained with ayahs 62–66
تمام جاندار اور بےجان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہر چیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کارساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہر چیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کردیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
سورة الزُّمَر 74
یعنی شرک کے ساتھ کسی عمل کو عمل صالح قرار نہیں دیا جائے گا، اور جو شخص بھی مشرک رہتے ہوئے اپنے نزدیک بہت سے کاموں کو نیک کام سمجھتے ہوئے کرے گا ان پر وہ کسی اجر کا مستحق نہ ہوگا اور اس کی پوری زندگی سراسر زیاں کاری بن کر رہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
معارف و مسائل
(آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ مقالید جمع مقلاد یا مقلید کی ہے جو قفل کی کنجی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا دراصل یہ لفظ فارسی زبان سے معرب کیا گیا ہے۔ فارسی میں کنجی کو کلید کتے ہیں۔ معرب کر کے اس کو اقلید بنایا گیا پھر اس کی جمع مقالید لائی گئی (روح) کنجیوں کا کسی کے ہاتھ ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو خزانے نعمتوں کے مستور ہیں، ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے۔ کہ جب چاہے جس کو چاہے جس قدر چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔
اور بعض روایات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت 66-65
شرک سے تمام اعمال حبط ہوجاتے ہیں
یہ ان لوگوں کو جواب دیا ہے اور چونکہ ان کی بات بالکل جاہلوں کی بات تھی اس وجہ سے ان کو خطاب نہیں کیا بلکہ اپنے پیغمبر کو خطاب کر کے ان کو بات سنا دی فرمایا کہ یہ جاہل لوگ تم سے شرک کے لئے ضد کر رہے ہیں حالانکہ تمہاری طرف بھی اور تم سے پہلے بھی جو نبی و رسول گزرے ہیں ان سب کی طرف یہ وحی ہوچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہایر عمل حبط ہوجائیں گے اور تم نامرادوں میں سے ہو کر رہ جائو گے۔ فلاں کی راہ صرف یہ ہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے بنو۔
حبط عمل سے مراد یہ ہے کہ شرک کے ساتھ جو عمل اللہ کے لئے بھی کئے جاتے ہیں وہ بھی سب…
Read the full tafseer →66۔ 1 اِ یَّاکَ نَعْبُدُ کی طرح یہاں بھی مفعول (اللہ) کو مقدم کر کے حصر کا مفہوم پیدا کردیا گیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
اب اللہ جل شانہ کی قدرت اور اللہ کے مقام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جسکے ساتھ شریک کرنے کی تجاویز وہ دیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
6 یعنی عقلی حیثیت سے دیکھا جائے کہ تمام چیزوں کا پیدا کرنا باقی رکھنا اور ان میں ہر قسم کے تصرفات کرتے رہنا صرف اللہ کا کام ہے تو عبادت کا مستحق بجز اس کے کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور نفلی حیثیت سے لحاظ کرو تو تمام انبیاء اللہ اور ادیان سماویہ توحید کی صحت اور شرک کے بطلان پر متفق ہیں بلکہ ہر نبی کو بذریعہ وحی بتلا دیا گیا ہے کہ (آخرت میں) مشرک کے تمام اعمال اکارت ہیں اور شرک کا انجام خالص حرمان و خسران کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ ہر طرف سے ہٹ کر ایک خدائے قدوس کو پوجے اور اس کا شکر گزارو وفادار بندہ بنے۔ اس کے عظمت و جلال کو سمجھے۔ عاجز و حقیر مخلوق کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔ اس کو…
Read the full tafseer →آیت 66 { بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ } ”بلکہ آپ ﷺ صرف اللہ ہی کی بندگی کیجیے اور بن جائیے شکر گزار بندوں میں سے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
82 واضح رہے کہ انبیاء سے شرک کا صدور محال ہے۔ کیونکہ وہ جن مقاصد کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں ان میں اولین مقصد شرک کی بیخ کنی اور توحید کی ترویج ہوتا ہے۔ اسی بات پر وہ خود قائم رہتے اور دوسروں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہاں جو آپ کو مخاطب کرکے یہ بات کہی گئی ہے۔ تو اس سے شرک کی انتہائی مذمت مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
79۔ مطلب یہ کہ یہ توحید کی دعوت تو بالکل بنیادی اور عین مرکزی دعوت ہے، ہمیشہ ہی سے انبیاء کا معمول رہی ہے۔ (آیت) ” وکن من الشکرین “۔ شکر گزاری کی بڑی فرد توحید پر ایمان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…
Read the full tafseer →بل اللہ فاعبد (غیر اللہ کی پوجا نہ کرنا) بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرنا۔ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو جو مشورہ دیا تھا ‘
یہ اس کی تردید ہے۔ اَﷲَ کو فاعْبُدْ سے پہلے ذکر کرنا مفید حصر ہے۔
وکن من الشکرین اور (ا اللہ کی نعمتوں کا) شکرگذار رہنا۔ یعنی اللہ نے جو انعام تجھ پر کیا ہے ‘ اس کا شکر ادا کر۔ ترمذی
نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک یہودی ‘ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے گذرا ‘ اور بولا : ابو القاسم ! جب اللہ آسمانوں کو اس (انگلی) پر اور زمینوں کو اس پر ‘ اور سمندروں کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر رکھے گا تو تمہارا کیا خیال ہے (وہ پھر کیا کرے گا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →بلکہ ہمیشہ توحید خداوندی ہی کا اقرار کرنا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ پر انعامات کتاب و نبوت اور اسلام کی دولت عطا فرماتے ہیں ان پر شکر گزار رہیے۔
Read the full tafseer →بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُد : لفظ ”اللہ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی (اللہ کے ساتھ شرک نہ کر) بلکہ (اگر تجھ میں عقل ہے، یا اگر تجھے عبادت کرنی ہے تو) صرف اللہ کی عبادت کر، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کر۔
وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ : یعنی عقیدۂ توحید کی سمجھ عطا ہونے پر اور اکیلے اللہ کی عبادت کی توفیق ملنے پر اس کے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجا، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65 ۔ 66:۔ و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لین اشرکت ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوئی لقد اوحی الیک لئن اشرکت و اوحی الی الذین من قبلک کذلک ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اپنے طریقہ پر ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی اپ کی طرف اور آپ سے قبل انبیاء کی طرف توحید کی وحی کی گئی اور توحید محذوف ہے پھر فرمایا : لئن اشرکت یا محمد۔ اے محمد ﷺ اگر آپ شرک کیں لیحبطن عملک تو تیرے عمل بربار ہوجائیں گے یہ خاض نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ ایک قولیہ کیا گیا ہے : خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ آپ شرک نہیں کرتے اور آپ سے شرک واقع نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے تو آپ مکہ کے سب سے مالدار آدمی بن جائیں گے۔ اور جس عورت سے چاہیں شادی کریں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے، لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے۔ انہوں نے ان سے کہا : اے محمد ! ہماری طرف سے یہ سب کچھ آپ کے لئے ہے اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز آجائیں اور ان کا تذکرہ برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم پر صرف ایک ہی چیز پیش کریں گے وہ ہمارے لئے اور تمہارے درمیان ہوگی اور انہوں نے اس بارے میں اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا یہاں تک کہ میں انتظار کروں گا کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →بَلِ اللّٰهَ [بلکہ اللہ کی ہی ] فَاعْبُدْ [پس تو بندگی کر ] وَكُنْ [اور تو ہوجا ] مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ [شکر کرنے والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →(بَلْ اللّٰہَ فَاعْبُدْ ) (بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں) (وَکُنْ مِنْ الشَّاکِرِیْنَ ) (اور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں) اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرک کے ماحول میں پیدا فرمایا لیکن شرک سے بچایا موحد بنایا توحید کی دعوت کا کام آپ کے سپرد کیا لہٰذا آپ پر شکر ادا کرنا فرض ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کیجیے اور اس کا شکر بھی ادا کرتے رہیے یہ لوگ جو آپ کو اپنے معبودوں کی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں ان کی طرف متوجہ نہ ہوجائیے اور ان کی باتوں میں نہ آئیے اللہ کی عبادت کرانے کے لیے خود غیر اللہ کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے جو لوگ حق قول نہیں کرتے ان کا وبال ان پر پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…
Read the full tafseer →63:۔ ” بل اللہ الخ “ یہ مشرکین کے مطالبے کا جواب ہے کہ تم کہتے ہو میں غیر اللہ کی عبادت میں تمہارے ساتھ شریک ہوجاؤں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان یہ ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کروں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بناؤں اور اسی کا شکر گذار بندہ بنوں۔ کیونکہ منعم و محسن وہی ہے۔ یعنی لا تعبد ما امروک بلا عبدہ وحدہ، فھو رد لام امروہ بہ (جامع البیان ص 401) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
(عبادت غیر اللہ کی ترغیب)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →بَلِ اللہَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ 66
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
ترکیب : الاستفہام لانکار و الفاء للعطف علی مقدر افغیر اللہ منصوب اعبدو تامرونی اعتراض و معناہ افغیر اللہ اعبد بامرکم۔ ویمکن ان یکون منصوبابتا مرونی و اعبد بدلا منہ والتقدیر قل افتامرونی بعبادۃ غیر اللہ ھذا من بدل الاشتمال و من باب امر تک الخیر ویجوزان یکون منصوبا بفعل محذوف ای افتلزمونی غیر اللہ و فسرہ مابعدہ۔ ولقد اللام دالۃ علی قسم مقدر لئن جواب القسم و ھذا اللام ایضاد الۃ علی قسم لیحبطن ولتکونن وہاتان اللامان واقعۃ فی جواب القسم الثانی والثانی جو ابہ جواب الاول و جواب الشرط محذوف لد لالہ جواب القسم علیہ والارض مبتدء و قبضتہ الخبر و ان یکون خبر اثانیا۔
تفسیر : دلائلِ توحید بیان کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
قُلْ اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَاالْجٰھِلُوْنَ ۔ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ ج لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الزمر : 64 تا 66)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے جاہلو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ حالانکہ آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے، اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی بندگی اور شرک سے بچنا ہی نہیں بلکہ ایک رب کی عبادت بھی کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر قسم کے شرک سے منع کرنے کے ساتھ صرف اپنی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ عبادت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ کیونکہ ” اللہ “ خالق بھی ہے اور انسان کی تمام ضرورتوں کا ذمہ دار بھی ہے۔ اس لیے اس کا شکر ادا کرنا انسان پر لازم ہے۔ اسے دوسری طرح یوں سمجھنا چاہیے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور الوکیل مانا۔ اس کے دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ جس کے دل میں شکر کا جذبہ ضرور پیدا ہوا وہ اپنے رب کی ہر حال میں بندگی کرے گا۔
اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی…
Read the full tafseer →بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ ، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا۔ اس میں کفار کی طرف سے ملنے والی دعوت کہ ہمارے آلہہ کی تم پوجا کرو۔ اس کی تردید ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے۔ تم مت عبادت کرو جن کے عبادت کی وہ فرمائش کرتے ہیں بلکہ اگر تم عبادت کرو تو اللہ تعالیٰ ہی کی کرو۔ پس شرط کو حذف کردیا اور اس کے بدلے میں مفعول کو مقدم کردیا۔ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ ، اور شکر گزار رہنا ان انعامات پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرمائیں کہ آپ کو سید ولد آدم بنایا۔
Read the full tafseer →66، بل اللہ فاعبدو کن من الشاکرین، آپ پر اس کے انعامات کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
64۔ 66۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیا کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اور سورة قد یایھا الکفرون کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نادانوں سے کہہ دو کہ مجھ کو اور مجھ سے پہلے سب انبیا کو اللہ تعالیٰ نے یہی جتلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی جو کوئی کسی کی عبادت کرے گا تو اس کی سب عبادت رائیگاں ہے۔ کیونکہ جس کی تعظیم کی جائے وہ صاحب تعظیم کی شان کے موافق ہونی چاہئے۔ اللہ کی شان اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 64
(قل) اے رسول ! ان جہلا سے، جو آپ کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے : (آیت) ” اے جاہلو ! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ “ یہ معاملہ تمہاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو ؟
شرک اعمال کو اسقط اور احوال کو فاسد کردیتا ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور (اے نبی ! ) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →117 عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کی بندگی کرنا اور ہمیشہ اس کے شکرگزار بندوں میں سے رہنا "۔ کہ معبود برحق بہرکیف اور بہرصورت وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد عالی سے دو اہم اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا کہ شکر خداوندی اللہ پاک کا اہم اور بنیادی حق ہے جو اس کے بندوں پر واجب ہوتا ہے کہ بندہ اس کے انعامات اور احسانات میں سرپاتا ڈوبا ہوا ہے اور اس کو جو بھی کچھ ملتا ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتا ہے۔ اور دوسری بنیادی حقیقت یہاں پر یہ واضح فرما دی گئی کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی
تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70:
آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…
Read the full tafseer →ف 2 کہ اس نے آپ ﷺ کو توحید کی توفیق دی اور شرک سے بچایا۔
Read the full tafseer →(39:66) بل اللّٰہ فاعبد : بل حرف اضراب ہے۔ جس کی عبادت (ماسوی اللہ) کافرین چاہتے تھے اس کی تردید میں ارشاد ہوتا ہے۔ بل اللّٰۃ فاعبد : کانہ قال لاتعبد ما امروک بعبادتہ بل ان عبدت فاعبد اللّٰہ۔ یعنی جو وہ چاہتے ہیں اس کی عبادت نہ کرو بلکہ اگر عبادت کرنا ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ شرط کو حذف کرکے اس کے عوض مفعول کو لایا گیا ہے۔
شکرین۔ اسم فاعل جمع مذکر شکر مصدر سے ۔ شکر گزار۔ احسان ماننے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
شرک اور قیامت کابیان۔
(ف 2) شان نزول : مشرکین مکہ نبی ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر تم چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیاکریں اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ اے نامعقول جاہلو، کافرو، مجھ کو یہ حکم و رائے دیتے ہو کہ میں سوائے خدا کے غیروں کو پوجوں ، عجب نامعقول ہوا، انتہائی نادانی اور حماقت وجہالت ہے کہ آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرے اور اللہ کے رسول سے معاذ اللہ یہ امیدرکھے کہ وہ اس کے راستہ پر آجائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
[35] یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کا منتظم اور مدبر بھی ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
میں کیوں بت پرستی کروں ؟
1: جب یہ بات ثابت اور متحقق ہے ۔ کہ آسمانوں اور زمین کے اختیارات محض اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور وہی ہماری کائنات کا رب ہے ۔ تو پھر تم کیوں کہتے ہو ۔ کہ میں اس کو چھوڑ کر تمہارے بتوں کی پوجا کروں ۔ کیا یہ جہالت نہیں ؟ اور اس کے مقام عظمت و رفعت سے ناواقفیت کی دلیل نہیں ؟ تم مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہو ۔ کہ میں توحید کو چھوڑ کر شرک اور بت پرستی کو قبول کرلوں گا ۔ اور تمہارے بتوں سے اسی طرح جاہلانہ عقیدت رکھوں گا ۔ جس طرح تم رکھتے ہو ۔ بات یہ ہے کہ جس طرح حضور ان لوگوں کو ایک خدا کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتے اسی طرح یہ بھی کہتے ۔ کہ باپ دادا کی روایات کو نہ چھوڑ ۔ اور انہیں…
Read the full tafseer →(66) تم شرک نہ کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا اور اسی کے شکر گزار رہنا۔ یعنی سڑک ایسی بری چیز ہے کہ ہم انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جس میں آپ اور آپ سے پہلے انبیاء سب داخل ہیں ان سب کو یہ حکم دے چکے ہیں کہ اگر فرض کرو تم نے بھی یہ شرک کی برائی کی تو تمہارے تمام اعمال ضبط کر لئے جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے میں سے ہوجائو گے تم کبھی شرک نہ کرنا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا اور اسی کے شکرگزار رہنا۔ یہ تنبیہ تو اصل میں پیغمبروں کی امتوں کو ہے لیکن جیسا کہ شاہی قاعدہ ہوتا ہے کہ رعایا میں سب سے بڑے آدمی کو مخاطب بنا کر حکم سناتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ ڈر جائیں کہ جب اس معاملہ میں…
Read the full tafseer →ف 1۔ یہ دلیل ہے قبح شرک کی کہ وہ اشد درجہ کی ناشکری ہے، پس جب انبیاء کو قبح شرک وحی سے معلوم ہے اور دوسروں تک اس کے پہنچانے کا حکم ہے تو ان سے کہ ان میں سے آپ بھی ہیں صدور شرک کب ممکن ہے تو ایسی ہوس رکھنا ان کا خلل دماغ ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام اللہ کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں ہوجا
66۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور آپ کے ذریعہ سے آپ کی امت کے ہر فرد کو مخاطب کیا جا رہا ہے تاکہ آپ اس حکم کا اعلان عام کردیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں داخل ہو جائو اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی عبادت کرنا ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے اور جو اللی کی عبادت نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا اور اس طرح جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتا گویا عابد اور شاکر لازم وملزوم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
Commentary
The word: مَقَالِيدُ (maqalid) in: لَّهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (To Him belong the keys to the heavens and the earth.- 39:63) is the plural form of: مِقلاد (miqlad) or: مِقلِید (miqlid) meaning a key. It has been said that this word has really been Arabicized from the Persian language. In Persian, a key is called کَلِید (kalid). When Arabicized, it became: اِقلِید (iqlid) with its plural being: مَقَالِيدُ (maqalid) (Ruh-ul-Ma’ ani). Having keys in one's hand denotes ownership, possession and the ability to dispense at will. Therefore, the sense of the verse is that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
74 That is, "No act which is performed along with shirk will be adjudged as a righteous act, and no one who, being a mushrik, performs many acts as good acts in his personal judgement, will deserve any reward for them, and his whole life work will be deemed to have gone waste."
Read the full tafseer →