Az-Zumar 39:65

Az-Zumar · from ayah 65

39:65

وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ— لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۟وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌ۚ لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏

اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it was already revealed to you and to those before you that if you should associate [anything] with Allah, your work would surely become worthless, and you would surely be among the losers."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 7 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:65

(یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہیے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ حقیقت ہے کہ تم سے اور تم سے پہلے تمام پیغمبروں سے وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا۔ اور تم یقین طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فی الحقیقت آپ کی طرف (یہ) وحی کی گئی ہے اور اُن (پیغمبروں) کی طرف (بھی) جو آپ سے پہلے (مبعوث ہوئے) تھے کہ (اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ آپ کی طرف یہ وحی کی جا چکی ہے اور ان لوگوں کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے، کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل برباد ہوجائیں گے اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آنحالیکہ تمہاری طرف بھی اور تم سے پہلے والوں کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے عمل ڈھے جائیں گے اور تم نامرادوں میں سے ہو کر رہ جائو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ وحی کی گئی آپ کی طرف (اے پیغمبر !) اور ان (تمام انبیاء کرام) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ اگر تم نے بھی (بالفرض) شرک کا ارتکاب کرلیا تو یقینا اکارت چلے جائیں گے تمہارے سب عمل اور یقینا تم ہوجاؤ گے (ہمیشہ کے لئے) خسارہ اٹھانے والوں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے قبل گزر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے مخاطب) اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑکر رہے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو (رسول) آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی (وحی کردی گئی تھی) اگر آپ بھی (بالفرض) شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اے محمد ﷺ تمہا ری طرف اور ان پیغمبروں کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے ”کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Tell them clearly that) it was revealed to you and to all Prophets before you: “If you associate any others with Allah in His Divinity, your works will surely come to naught and you will certainly be among the losers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It has already been revealed to you and to those before you (that): If you associate (partners with Allah), your deeds shall be rendered useless, and you shall be among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

It has already been revealed to you and to those before you (that): If you associate (partners with Allah), your deeds shall be rendered useless, and you shall be among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed it has been revealed to you, as it was to those before you: "If you join others in worship with Allah, surely your deeds will be in vain, and you will certainly be among the losers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily it hath been revealed unto thee as unto those before thee (saying): If thou ascribe a partner to Allah thy work will fail and thou indeed wilt be among the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it was already revealed to you and to those before you that if you should associate [anything] with Allah, your work would surely become worthless, and you would surely be among the losers."

— Saheeh International

even though God has said, "It has been revealed to you and to those who lived before you that if you consider other things equal to God, your deeds will be made devoid of all virtue and you will certainly be lost?"

— Muhammad Sarwar

And certainly, it has been revealed to you and to those before you: Surely if you associate (with Allah), your work would certainly come to naught and you would certainly be of the losers.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly it hath been revealed Unto thee and Unto those before thee: if thou associatest surely of non-effect shall be made thy work, and thou shalt surely be of the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

But it has already been revealed to thee,- as it was to those before thee,- "If thou wert to join (gods with Allah), truly fruitless will be thy work (in life), and thou wilt surely be in the ranks of those who lose (all spiritual good)".

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–66

تمام جاندار اور بےجان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہر چیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کارساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہر چیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کردیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–66

سورة الزُّمَر 74 یعنی شرک کے ساتھ کسی عمل کو عمل صالح قرار نہیں دیا جائے گا، اور جو شخص بھی مشرک رہتے ہوئے اپنے نزدیک بہت سے کاموں کو نیک کام سمجھتے ہوئے کرے گا ان پر وہ کسی اجر کا مستحق نہ ہوگا اور اس کی پوری زندگی سراسر زیاں کاری بن کر رہ جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–66

معارف و مسائل (آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ مقالید جمع مقلاد یا مقلید کی ہے جو قفل کی کنجی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا دراصل یہ لفظ فارسی زبان سے معرب کیا گیا ہے۔ فارسی میں کنجی کو کلید کتے ہیں۔ معرب کر کے اس کو اقلید بنایا گیا پھر اس کی جمع مقالید لائی گئی (روح) کنجیوں کا کسی کے ہاتھ ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو خزانے نعمتوں کے مستور ہیں، ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے۔ کہ جب چاہے جس کو چاہے جس قدر چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ اور بعض روایات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 65–66

آیت 66-65 شرک سے تمام اعمال حبط ہوجاتے ہیں یہ ان لوگوں کو جواب دیا ہے اور چونکہ ان کی بات بالکل جاہلوں کی بات تھی اس وجہ سے ان کو خطاب نہیں کیا بلکہ اپنے پیغمبر کو خطاب کر کے ان کو بات سنا دی فرمایا کہ یہ جاہل لوگ تم سے شرک کے لئے ضد کر رہے ہیں حالانکہ تمہاری طرف بھی اور تم سے پہلے بھی جو نبی و رسول گزرے ہیں ان سب کی طرف یہ وحی ہوچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہایر عمل حبط ہوجائیں گے اور تم نامرادوں میں سے ہو کر رہ جائو گے۔ فلاں کی راہ صرف یہ ہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے بنو۔ حبط عمل سے مراد یہ ہے کہ شرک کے ساتھ جو عمل اللہ کے لئے بھی کئے جاتے ہیں وہ بھی سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65۔ 1 اگر تو نے شرک کیا ' مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اور اس سے توبہ نہ کی۔ خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے جو شرک سے پاک بھی تھے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن دراصل امت کے لئے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 65 شرک سے ڈراوے کا خاتمہ توحید پر کاربند ہونے کے حکم پر کیا جاتا ہے۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی کرو اور ایمان اور ہدایت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو جو اللہ کے بندوں کو ڈھانپ لیتی ہیں اور جن کو وہ گن بھی نہیں سکتے جبکہ وہ ان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 65–66

6 یعنی عقلی حیثیت سے دیکھا جائے کہ تمام چیزوں کا پیدا کرنا باقی رکھنا اور ان میں ہر قسم کے تصرفات کرتے رہنا صرف اللہ کا کام ہے تو عبادت کا مستحق بجز اس کے کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور نفلی حیثیت سے لحاظ کرو تو تمام انبیاء اللہ اور ادیان سماویہ توحید کی صحت اور شرک کے بطلان پر متفق ہیں بلکہ ہر نبی کو بذریعہ وحی بتلا دیا گیا ہے کہ (آخرت میں) مشرک کے تمام اعمال اکارت ہیں اور شرک کا انجام خالص حرمان و خسران کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ ہر طرف سے ہٹ کر ایک خدائے قدوس کو پوجے اور اس کا شکر گزارو وفادار بندہ بنے۔ اس کے عظمت و جلال کو سمجھے۔ عاجز و حقیر مخلوق کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔ اس کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 { وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو رسول آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی وحی کردی گئی تھی“ آگے اس وحی کا ُ لب ّلباب بیان کیا جا رہا ہے۔ ملاحظہ کیجیے : { لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ } ”اگر آپ بھی بالفرض شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔“ یہ سخت اسلوب دراصل حضور ﷺ کے لیے نہیں بلکہ مشرکین کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے دراصل انہیں سنانا مقصود ہے کہ قانونِ خداوندی اس سلسلے میں بہت واضح اور اٹل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

82 واضح رہے کہ انبیاء سے شرک کا صدور محال ہے۔ کیونکہ وہ جن مقاصد کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں ان میں اولین مقصد شرک کی بیخ کنی اور توحید کی ترویج ہوتا ہے۔ اسی بات پر وہ خود قائم رہتے اور دوسروں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہاں جو آپ کو مخاطب کرکے یہ بات کہی گئی ہے۔ تو اس سے شرک کی انتہائی مذمت مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 65–66

79۔ مطلب یہ کہ یہ توحید کی دعوت تو بالکل بنیادی اور عین مرکزی دعوت ہے، ہمیشہ ہی سے انبیاء کا معمول رہی ہے۔ (آیت) ” وکن من الشکرین “۔ شکر گزاری کی بڑی فرد توحید پر ایمان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–70

آیت نمبر 64 تا 70 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیجبطن عملک ولیکونن من الخسرین اور آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گذرے ہیں ‘ انکی طرف بھی یہ وحی بھیج دی گئی ہے کہ (اے عام مخاطب ! ) اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا سب غارت ہوجائے گا۔ یہ کلام مبنی برفرض ہے ‘ اس سے مراد ہے کافروں کو ناامید کرنا اور امت کو درپردہ متنبہ کرنا۔ اسی آیت کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ مرتد ہوجانے سے تمام گذشتہ نیکیوں کا ثواب ساقط کردیا جاتا ہے۔ جس طرح اسلام تمام سابق گناہوں کو ڈھا دیتا ہے ‘ اسی طرح ارتداد ساری گذشتہ نیکیوں کو اکارت کردیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مرتد ہونے کے بعد مسلمان ہوگیا اور ایسے وقت مسلمان ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیونکہ آپ کی طرف بھی قرآن کریم میں اور جو پیغمبر آپ سے پہلے گزرے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اے عام مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو حالت شرک میں تیرا سب کیا برباد ہوجائے گ اور تو سزا کے اعتبار سے نقصان اٹھائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ۔۔ : سلیمان الجمل نے فرمایا : ”ولقد“ اور ”لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ“ دونوں میں لام کے بعد قسم مقدر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بات قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ فرمائی ہے۔“ ”لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ“ (اگر تو نے شرک کیا) کے مخاطب نبی ﷺ بھی ہیں اور پہلے پیغمبروں میں سے ہر ایک پیغمبر بھی۔ یعنی آپ کو اور آپ سے پہلے ایک ایک پیغمبر کو مخاطب کرکے وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا توُ تو نے جو بھی اچھا کام کیا ہوگا یقیناً سب ضائع ہوجائے گا اور یقیناً تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (88)۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کوئی نبی شرک نہیں کرے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–66

65 ۔ 66:۔ و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لین اشرکت ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوئی لقد اوحی الیک لئن اشرکت و اوحی الی الذین من قبلک کذلک ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اپنے طریقہ پر ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی اپ کی طرف اور آپ سے قبل انبیاء کی طرف توحید کی وحی کی گئی اور توحید محذوف ہے پھر فرمایا : لئن اشرکت یا محمد۔ اے محمد ﷺ اگر آپ شرک کیں لیحبطن عملک تو تیرے عمل بربار ہوجائیں گے یہ خاض نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ ایک قولیہ کیا گیا ہے : خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ آپ شرک نہیں کرتے اور آپ سے شرک واقع نہیں ہوتا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 64–66

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے تو آپ مکہ کے سب سے مالدار آدمی بن جائیں گے۔ اور جس عورت سے چاہیں شادی کریں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے، لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے۔ انہوں نے ان سے کہا : اے محمد ! ہماری طرف سے یہ سب کچھ آپ کے لئے ہے اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز آجائیں اور ان کا تذکرہ برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم پر صرف ایک ہی چیز پیش کریں گے وہ ہمارے لئے اور تمہارے درمیان ہوگی اور انہوں نے اس بارے میں اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا یہاں تک کہ میں انتظار کروں گا کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ [حالانکہ ] لَقَدْ اُوْحِيَ [یقینا وحی کی جا چکی ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] وَاِلَى الَّذِيْنَ [اور ان کی طرف جو ] مِنْ قَبْلِكَ ۚ [آپ ﷺ سے پہلے تھے ] لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ [(کہ ہر امتی کو بتادو کہ) یقینا اگر تو نے شرک کیا ] لَيَحْبَطَنَّ [تو یقینا اکارت جائے گا ] عَمَلُكَ [تیرا عمل ] وَلَتَكُوْنَنَّ [اور تو لازما ہوجائے گا ] مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [خسارہ پانے والوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 64–65

آپ فرما دیجیے کہ اے جاہلو میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرسکتا مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اپنی جہالت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرنے لگو اگر ایسا کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے، اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ ) آخر تک نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو حکم دیا ان مشرکوں سے کہہ دیجیے کہ اے جاہلو ! کیا مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے لگوں ؟ مزید فرمایا (وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ ) کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–70

اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

62:۔ ” ولقد اوحی الخ “ یہ چھٹی دلیل وحی ہے۔ اور اس کے ضمن میں ” والی الذین من قبلک “ سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ فرمایا : میرے پیغمبر، تیری طرف بھی وحی کی جا رہی ہے اور تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی طرف بھی وحی کی جا چکی ہے کہ اگر بفرض محال تم نے شرک کا ارتکاب کرلیا تو تمہارے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور تم خسارہ پانے والوں یعنی اللہ کی رحمت و مغفرت سے محرومین شامل ہوجاؤ گے۔ انبیاء (علیہم السلام) سے شرک کا صدور محال ہے۔ لیکن یہ کلام فرض محال کے طریق پر ہے۔ تاکہ شرک قباحت علی الوجہ الاتم ظاہر ہوجائے اور مشرکین اس امید میں نہ رہیں کہ انہیں معافی مل جائے گی۔ وایاما کان فھو کلام علی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–70

(عبادت غیر اللہ کی ترغیب) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ۝ 0 ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ 65 وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 64–67

ترکیب : الاستفہام لانکار و الفاء للعطف علی مقدر افغیر اللہ منصوب اعبدو تامرونی اعتراض و معناہ افغیر اللہ اعبد بامرکم۔ ویمکن ان یکون منصوبابتا مرونی و اعبد بدلا منہ والتقدیر قل افتامرونی بعبادۃ غیر اللہ ھذا من بدل الاشتمال و من باب امر تک الخیر ویجوزان یکون منصوبا بفعل محذوف ای افتلزمونی غیر اللہ و فسرہ مابعدہ۔ ولقد اللام دالۃ علی قسم مقدر لئن جواب القسم و ھذا اللام ایضاد الۃ علی قسم لیحبطن ولتکونن وہاتان اللامان واقعۃ فی جواب القسم الثانی والثانی جو ابہ جواب الاول و جواب الشرط محذوف لد لالہ جواب القسم علیہ والارض مبتدء و قبضتہ الخبر و ان یکون خبر اثانیا۔ تفسیر : دلائلِ توحید بیان کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 64–66

قُلْ اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَاالْجٰھِلُوْنَ ۔ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ ج لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الزمر : 64 تا 66) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے جاہلو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ حالانکہ آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے، اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–65

فہم القرآن ربط کلام : جب ہر چیز کا خالق اور وکیل صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت اور تابعداری بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اس کے سوا کسی کی بندگی کی دعوت دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے آپ کو ہر حوالے سے کا ئنات کا خالق، مالک، بادشاہ اور وکیل ثابت کیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسی کا حکم تسلیم کرے اور اسی کی بندگی بجالائے۔ لیکن کافر اور مشرک ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مکہ کے مشرک نہ صرف اس بات کے انکاری تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ محمد ﷺ اس دعوت کو چھوڑ دیں یا کم از کم اس بات پر سمجھوتہ کرلیں کہ ہم اس کے الٰہ کی عبادت کریں گے اور یہ وہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ، اور آپ کی طرف بھی اور وہ پیغمبر جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ وحی بھیجی جا چکی یعنی انبیاء (علیہم السلام) کی طرف۔ کلام علی سبیل الفرض : لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ، کہ اے عام مخاطب اگر تو شرک کرے گا تو تیرا کیا کرایا کام غارت ہوجائے گا، اور تو خسارہ میں پڑے گا۔ اور بلاشبہ فرمایا لئن اشرکت علی التوحید، صیغہ مخاطب مفرد کا استعمال کیا۔ حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) تو بہت بڑی جماعت ہے۔ کیونکہ اس کا معنی اس طرح ہے اوحی الیک لئن اشرک لیحطبن عملک والی الذین من قبلک مثلہ آپ کی طرف وحی کی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65، ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین ، یعنی جو تونے شرک سے پہلے عمل کیا ہے اور یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور مراد اس سے آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کا ادب کے لیے دھمکی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کو شرک سے معصوم بنایا ہے۔ ، ولتکونن من الخاسرین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–66

64۔ 66۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیا کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اور سورة قد یایھا الکفرون کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نادانوں سے کہہ دو کہ مجھ کو اور مجھ سے پہلے سب انبیا کو اللہ تعالیٰ نے یہی جتلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی جو کوئی کسی کی عبادت کرے گا تو اس کی سب عبادت رائیگاں ہے۔ کیونکہ جس کی تعظیم کی جائے وہ صاحب تعظیم کی شان کے موافق ہونی چاہئے۔ اللہ کی شان اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–66

آیت 64 (قل) اے رسول ! ان جہلا سے، جو آپ کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے : (آیت) ” اے جاہلو ! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ “ یہ معاملہ تمہاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو ؟ شرک اعمال کو اسقط اور احوال کو فاسد کردیتا ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور (اے نبی ! ) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

115 شرک تمام اعمال کی بربادی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ تمام انبیائے کرام کی طرف یہی وحی کی گئی۔ پس اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عقیدئہ توحید کس قدر اہم چیز ہے اور شرک کی بیماری کس قدر خطرناک اور مہلک بیماری ہے کہ تمام انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی طرف سب سے پہلے اسی کی وحی کی گئی۔ اور ان کو اسی پیغام رسانی کی ہدایت فرمائی گئی۔ اور انہوں نے اپنی اپنی قوموں اور امتوں کو سب سے پہلے اسی کی دعوت دی اور تبلیغ فرمائی۔ مگر افسوس کہ اسی شرک کے منحوس سائے امت مسلمہ پر اس سب کے باوجود آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے چھائے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–66

شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 64–70

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70: آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اس سے مقصود مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اگر بغرض محال نبی ﷺ بھی جو اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں اس کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کا سب کیا کرایا اکارت ہوجائے۔ مرتد ہونے سے تمام نیک اعمال باطل اور ضائع ہوجاتے ہیں بشرطیکہ اس کی موت بھی کفر پر ہو۔ اگر تائب ہوجائے تو وہ عمل دوبارہ بحال کردیئے جاتے ہیں۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 217)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:65) ولقد واؤ حالیہ ہے لقد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ۔۔ الذین من قبلک سے مراد وہ پیغمبر و رسول جو آپ ﷺ سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔ والی الذین ای واوحی الی الدین۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین ۔ میں لام اول (لئن کی لام) کو اللام الموطئۃ للقسم کہتے ہیں۔ (وہ لام جو قسم کے لئے راہ ہموار کرے) اس سے قبل قسم محذوف ہے ای واللّٰہ لئن ۔۔ الخ لام دوم۔ لام سوم لیحبطن اور لتکونن کی لام جواب قسم کی لام ہیں۔ اور جواب قسم لیحبطن ۔۔ الخ قائم مقام دو جواب کے ہے۔ جواب قسم و جواب شرط۔ (لئن میں ان شرطیہ ہے اور ان اشرکت جملہ شرطیہ ہے اور لیحبطن ۔۔ الخ جواب شرط…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 64–70

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا) تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–66

شرک اور قیامت کابیان۔ (ف 2) شان نزول : مشرکین مکہ نبی ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر تم چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیاکریں اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ اے نامعقول جاہلو، کافرو، مجھ کو یہ حکم و رائے دیتے ہو کہ میں سوائے خدا کے غیروں کو پوجوں ، عجب نامعقول ہوا، انتہائی نادانی اور حماقت وجہالت ہے کہ آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرے اور اللہ کے رسول سے معاذ اللہ یہ امیدرکھے کہ وہ اس کے راستہ پر آجائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 63–66

[35] یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کا منتظم اور مدبر بھی ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–66

میں کیوں بت پرستی کروں ؟ 1: جب یہ بات ثابت اور متحقق ہے ۔ کہ آسمانوں اور زمین کے اختیارات محض اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور وہی ہماری کائنات کا رب ہے ۔ تو پھر تم کیوں کہتے ہو ۔ کہ میں اس کو چھوڑ کر تمہارے بتوں کی پوجا کروں ۔ کیا یہ جہالت نہیں ؟ اور اس کے مقام عظمت و رفعت سے ناواقفیت کی دلیل نہیں ؟ تم مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہو ۔ کہ میں توحید کو چھوڑ کر شرک اور بت پرستی کو قبول کرلوں گا ۔ اور تمہارے بتوں سے اسی طرح جاہلانہ عقیدت رکھوں گا ۔ جس طرح تم رکھتے ہو ۔ بات یہ ہے کہ جس طرح حضور ان لوگوں کو ایک خدا کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتے اسی طرح یہ بھی کہتے ۔ کہ باپ دادا کی روایات کو نہ چھوڑ ۔ اور انہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(65) اور بلا شبہ اے پیغمبر آپ کی طرف اور ان سب پیغمبروں کی طرف جو آپ سے پہلے ہوچکے ہیں یہ وحی کی جاچکی ہے اور یہ حکم بھیجا جاچکا ہے کہ اگر لوفرضنا تم نے بھی شرک کیا تو تمہارے اعمال اکارت اور نیست ونابود ہوجائیں گے اور تم یقینا خسارہ اور گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–65

ف 6۔ یعنی موجد بھی وہی اور حافظ بھی وہی، اور متصرف بھی وہی، پس ایسے اوصاف کمال رکھنے والا شریک سے بھی منزہ ہوگا، اور جزا و سزا کا بھی مالک ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میری اور میرے سے پہلے لوگوں کی طرف وحی کی گئی تھی کہ شرک کے قریب نہ جانا 65۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ اپنے ان جاہل مخاطبین کو ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم مجھے شرک کی طرف دعوت دیتے ہو اور میں تمہاری شرک کی دعوت کیونکہ قبول کرسکتا ہوں جب کہ تمہارے پاس کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے صرف اس ورطے سے تم کہہ رہے ہو کہ سارے لوگ اسی طرح کرتے ہیں حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کو سب لوگ کرتے ہیں دلیل تو میرے پاس ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے وحی کی گئی ہے اور پھر صرف مجھے ہی نہیں میرے سے پہلے سارے انبیاء ورسل کو بھی وحی کی گئی تھی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اور پھر صرف یہی نہیں کہ منع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–66

Commentary The word: مَقَالِيدُ (maqalid) in: لَّهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ (To Him belong the keys to the heavens and the earth.- 39:63) is the plural form of: مِقلاد (miqlad) or: مِقلِید (miqlid) meaning a key. It has been said that this word has really been Arabicized from the Persian language. In Persian, a key is called کَلِید (kalid). When Arabicized, it became: اِقلِید (iqlid) with its plural being: مَقَالِيدُ (maqalid) (Ruh-ul-Ma’ ani). Having keys in one's hand denotes ownership, possession and the ability to dispense at will. Therefore, the sense of the verse is that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

74 That is, "No act which is performed along with shirk will be adjudged as a righteous act, and no one who, being a mushrik, performs many acts as good acts in his personal judgement, will deserve any reward for them, and his whole life work will be deemed to have gone waste."

Read the full tafseer →