Explained with ayahs 62–66
تمام جاندار اور بےجان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہر چیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کارساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہر چیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کردیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
سورة الزُّمَر 73
یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے، بلکہ وہی ہر چیز کی خبر گیری اور نگہبانی کر رہا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جس طرح اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہیں اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہیں، اس کے پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہیں، اور اس کی حفاظت و نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
معارف و مسائل
(آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ مقالید جمع مقلاد یا مقلید کی ہے جو قفل کی کنجی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا دراصل یہ لفظ فارسی زبان سے معرب کیا گیا ہے۔ فارسی میں کنجی کو کلید کتے ہیں۔ معرب کر کے اس کو اقلید بنایا گیا پھر اس کی جمع مقالید لائی گئی (روح) کنجیوں کا کسی کے ہاتھ ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو خزانے نعمتوں کے مستور ہیں، ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے۔ کہ جب چاہے جس کو چاہے جس قدر چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔
اور بعض روایات…
Read the full tafseer →-10 آگے کا مضمون آیات 75-64
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں ﷺ کی زبان سے پہلے اعلان کرایا ہے کہ نادانوں کیا ان واضح حقائق کے بعد بھی تم مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا حکم دیتے ہو۔ حالانکہ اللہ نے تمام نبیوں پر یہی وحی نازل فرمائی ہے کہ جو اللہ کا شریک بنائے گا اس کے تمام اعمال حبط ہوجائیں گے۔ اس کے بعد یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ ان جاہلوں نے خدا کی شان بالکل نہیں سمجھی کہ ایسی چیزوں کو اس کی خدائی میں شریک بنائے بیٹھے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان کے بل پر آخرت سے باطل نچنت ہیں۔ خدا کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ وہ ایک دن آسمان و زمین سب کی بساط اپنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور جب اس کا صور…
Read the full tafseer →64۔ 1 یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 64
یہ ایک فطری سرزنش ہے اور ان لوگوں کی پوچ تجویز کا مناسب جواب ان کی اس تجویز ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر گہری جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے اور خالص اندھے تھے۔ چناچہ اس کے بعد مشرک لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس ڈراوے کے مخاطب اول حضور اکرم ﷺ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ حضرات انبیاء کے بارے میں تو شرک کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ دراصل یہ ڈراوا ان کی امتوں کو ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ اور بندگی صرف اللہ کی کریں اور تمام انسان جن میں انبیاء (علیہم السلام) بھی ہیں اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھیں۔
Read the full tafseer →5 یعنی انتہائی نادانی اور حماقت و جہالت یہ ہے کہ آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کرے اور پیغمبر خدا سے (معاذ اللہ) یہ طمع رکھے کہ وہ اس کے راستہ پر جائیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ مشرکین نے حضور ﷺ کو اپنے دیوتاؤں کی پرستش کی طرف بلایا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →آیت 64 { قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجٰہِلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟“
یہ انداز اس آیت کے علاوہ پورے قرآن میں اور کہیں نہیں پایا جاتا اور یہ خاص اسلوب دراصل مشرکین ِ مکہ کے اس دبائو کا جواب ہے جو انہوں نے حضور ﷺ پر ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے ڈال رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کریں اور ہمارے معبودوں میں سے کچھ کو تسلیم کرلیں تو اس کے جواب میں ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے ‘ بلکہ آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیں…
Read the full tafseer →81 کفار کے سمجھوتہ کی شکلیں :۔ کفار مکہ نے اسلام کی راہ روکنے کے لئے کئی قسم کے حربے استعمال کئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ عام طریقہ یہ تھا کہ اسلام لانے والوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھائے جائیں کہ اگر وہ اپنے دین پر واپس نہ آئیں تو دوسروں کو ضرور عبرت حاصل ہو اور وہ اسلام قبول کرنے کا نام تک نہ لیں۔ ان سختیوں کے باوجود بھی جب اسلام پھیلتا گیا تو پھر اس کے سیاسی حل سوچے جانے لگے اور مذاکرات کے سلسلے شروع ہوئے۔ کبھی ابو طالب کی وساطت سے آپ کو دھمکی دی گئی۔ کبھی لالچ کی راہیں دکھائی گئیں اور کبھی باہمی سمجھوتہ کی۔ پھر باہمی سمجھوتہ کی بھی کئی شکلیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم بھی لچک اختیار کرو کچھ ہم کرتے…
Read the full tafseer →78۔ یعنی اے مشرکو ! اب تمہارا اندھا پن اتنا بڑھ گیا ہے کہ تم مجھ سے فرمائش کرنے لگے ہو کہ میں توحید جیسے فطری اور سادہ دین کو چھوڑ کر شرک کیا احمقانہ وجاہلانہ وسفیہانہ راہ اختیار کرلوں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
آیت نمبر 64 تا 70
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے، اے جاہلو ! پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو کہتے ہو غَیْرَ ، تامُرونی کے معمول اَعْبُدُ کے ذریعہ منصوب ہے اَنْ کی تقدیر کے ساتھ ایک نون اور دو نونوں اور ادغام اور بدون ادغام کے یقیناً تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے گزر چکے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ واللہ، اگر بالفرض اے محمد ﷺ تو (بھی) شرک کرے گا تو بلاشبہ تیرا عمل (بھی) ضائع ہوجائے گا، اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا بلکہ تو اللہ وحدہٗ کی عبادت کر اور تیرے اوپر اس کے انعام کا شکر کرنے والوں میں سے رہ اور ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی عظمت نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننی…
Read the full tafseer →قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون آپ (ان کے جواب میں) کہہ دیجئے کہ اے جاہلو ! کیا پھر بھی تم
مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کا مشورہ دیتے ہو ؟ بیہقی نے دلائل میں حسن بصری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا : محمد ! ﷺ تم اپنے باپ دادا کو گمراہ قرار دیتے ہو ؟ اس پر آیت مذکورہ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ تک نازل ہوئی۔
بغوی نے مقاتل کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ کے کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے آباؤ اجداد کے مذہب پر واپس آنے کی دعوت دی تھی ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
اَفَغَیْرَ میں ہمزہ انکاری ہے اور فَ کا عطف محذوف پر ہے اور غَیْر ‘ اَعْبُد کا مفعول ہے اور تَاْمُرُوْٓنِّیْ جملۂ…
Read the full tafseer →جس وقت یہ مکہ والے آپ سے آبائی دین کے اختیار کرنے کو کہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو۔
شان نزول : قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ (الخ)
امام بیہقی نے دلائل میں حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ سے کہا کہ اے محمد کیا تم اپنے آباؤ اجداد کو گمراہ بتاتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کرنے کا حکم کرتے ہو۔
Read the full tafseer →قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ : ”قل“ کے بعد جملہ ”فاء“ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ”فاء“ کو اس کے بعد کردیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل ”تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ“ سے ہونا تھا اور ”غَیْرَ اللّٰہِ“ کو ”اعبد“ کے بعد ہونا تھا، مگر ”غَیْرَ اللّٰہِ“ کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں ؟
اَيُّهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے تو آپ مکہ کے سب سے مالدار آدمی بن جائیں گے۔ اور جس عورت سے چاہیں شادی کریں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے، لوگ آپ کے پیچھے چلیں گے۔ انہوں نے ان سے کہا : اے محمد ! ہماری طرف سے یہ سب کچھ آپ کے لئے ہے اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز آجائیں اور ان کا تذکرہ برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم پر صرف ایک ہی چیز پیش کریں گے وہ ہمارے لئے اور تمہارے درمیان ہوگی اور انہوں نے اس بارے میں اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا یہاں تک کہ میں انتظار کروں گا کہ میرے رب کی طرف سے کیا حکم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَفَغَيْرَ اللّٰهِ [تو کیا اللہ کے علاوہ کی ] تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ [تم لوگ ترغیب دیتے ہو مجھ کو ] اَعْبُدُ [(کہ) میں بندگی کروں ] اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ [اے جاہلو ] ۔
نوٹ۔ 1: جاہل اس کو کہتے ہیں جو علم وعقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ فرمایا کہ ان جاہلوں سے پوچھو کہ تمام دلائل و شواہد تو اس بات کے حق میں ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور اسی کے قبضہ میں تمام آسمانون اور زمین کی کنجیاں ہیں، تو کیا پھر تم لوگ مجھ سے اس بات کی ضد کرتے رہو گے کہ میں اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کروں۔ (تدبر قرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آپ فرما دیجیے کہ اے جاہلو میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرسکتا
مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اپنی جہالت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرنے لگو اگر ایسا کرو گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے، اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ ) آخر تک نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو حکم دیا ان مشرکوں سے کہہ دیجیے کہ اے جاہلو ! کیا مجھے حکم دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے لگوں ؟ مزید فرمایا (وَلَقَدْ اُوحِیَ اِِلَیْکَ ) کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
اعلان برأت از شرک وتنبیہ ووعید بحبط اعمال و خسران انجام برنافرمانی رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” قل افغیر اللہ تامرونی ...... الی ....... وھو اعلم بما یفعلون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت رحمت دی گئی اور یہ کہ دلائل حق واضح ہونے پر اگر کوئی شخص قبول حق سے محض اس وجہ سے اعراض کرتا ہے کہ اس کو اپنے سابق اعمال کا ڈر ہے اور یہ تصور ہے کہ اس کی نجات ممکن نہیں تو اس کا یہ خیال غلط ہے، اس کو چاہئے کہ مایوسی کا یہ تصور قلب و دماغ سے نکال دے، اب ان آیات میں اس امر کی ہدایت کی جارہی ہے کہ ہر حق پرست اور موحد انسان کو شرک سے برأت وبیزاری کا اعلان کردینا چاہئے، تاکہ…
Read the full tafseer →61:۔ ” قل افغیر الخ “ یہ تیسری بار ذکر دعوی ہے بطور زجر۔ نادانو ! کیا اللہ کی وحدانیت کے ایسے براہین قاطعہ اور دلائل واضحہ کے بعد اب بھی تمہیں مجھ سے یہ توقع ہے کہ میں تمہارے دین کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور تم مجھے غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہو ؟ یہ تمہاری سراسر نادانی ہے۔ اس خیال خام سے اپنے ذہنوں کو خالی کرلو۔ وذلک حین دعو وا النبی ﷺ الی ماھم علیہ امن عبادۃ الاوثان وقالوا ھودین آبائک (قرطبی ج 15 ص 276) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
(عبادت غیر اللہ کی ترغیب)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →قُلْ اَفَغَيْرَ اللہِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّہَا الْجٰہِلُوْنَ 64
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
غير
أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ،
( غ ی ر ) غیر
اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
ترکیب : الاستفہام لانکار و الفاء للعطف علی مقدر افغیر اللہ منصوب اعبدو تامرونی اعتراض و معناہ افغیر اللہ اعبد بامرکم۔ ویمکن ان یکون منصوبابتا مرونی و اعبد بدلا منہ والتقدیر قل افتامرونی بعبادۃ غیر اللہ ھذا من بدل الاشتمال و من باب امر تک الخیر ویجوزان یکون منصوبا بفعل محذوف ای افتلزمونی غیر اللہ و فسرہ مابعدہ۔ ولقد اللام دالۃ علی قسم مقدر لئن جواب القسم و ھذا اللام ایضاد الۃ علی قسم لیحبطن ولتکونن وہاتان اللامان واقعۃ فی جواب القسم الثانی والثانی جو ابہ جواب الاول و جواب الشرط محذوف لد لالہ جواب القسم علیہ والارض مبتدء و قبضتہ الخبر و ان یکون خبر اثانیا۔
تفسیر : دلائلِ توحید بیان کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
قُلْ اَفَغَیْرَاللّٰہِ تَاْمُرُوْٓنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَاالْجٰھِلُوْنَ ۔ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ ج لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَـکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ (الزمر : 64 تا 66)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے جاہلو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ حالانکہ آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے، اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ بلکہ آپ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فہم القرآن
ربط کلام : جب ہر چیز کا خالق اور وکیل صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت اور تابعداری بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اس کے سوا کسی کی بندگی کی دعوت دینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے آپ کو ہر حوالے سے کا ئنات کا خالق، مالک، بادشاہ اور وکیل ثابت کیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اسی کا حکم تسلیم کرے اور اسی کی بندگی بجالائے۔ لیکن کافر اور مشرک ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مکہ کے مشرک نہ صرف اس بات کے انکاری تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ محمد ﷺ اس دعوت کو چھوڑ دیں یا کم از کم اس بات پر سمجھوتہ کرلیں کہ ہم اس کے الٰہ کی عبادت کریں گے اور یہ وہ ہمارے…
Read the full tafseer →قل، کہہ دیجیے، اس کو جو آپ کو اپنے آباء کے دین کی طرف بلائے۔ افغیر اللہ تامرونی، کیا پھر بھی تم مجھ کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے۔
قراءت، مکی نے تامرونی، شامی نے اصل پر تامروننی پڑھا، مدنی نے تامرونیَ ۔
نحو، اور افغیر، اعبد کی وجہ سے منصوب ہے اور تامرونی جملہ معترضہ ہے اور اس کا معنی افغیر اللہ اعبد باکم بعد ھذا البیان۔ اس بیان کے بعد میں کیا تمہارے حکم و فرمائش سے غیر اللہ کی عبادت کروں۔ ایہا الجاہلون، اے جاہلو، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے۔
Read the full tafseer →64، قل افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجاھلون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کفار قریش نے آپ (علیہ السلام) کو اپنے آباء کے دین کی طرف بلایا۔ اہل شام نے، تامروننی، دونون خفیف کے ساتھ اصل پر پڑھا ہے اور اہل مدینہ نے ایک نون خفیف کے ساتھ پڑھا ہے حذف کی بناء پر اور دیگر حضرات نے ایک نون مشدد (شد کے ساتھ) کے ساتھ پڑھا ہے ادغام کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
64۔ 66۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیا کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اور سورة قد یایھا الکفرون کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نادانوں سے کہہ دو کہ مجھ کو اور مجھ سے پہلے سب انبیا کو اللہ تعالیٰ نے یہی جتلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی جو کوئی کسی کی عبادت کرے گا تو اس کی سب عبادت رائیگاں ہے۔ کیونکہ جس کی تعظیم کی جائے وہ صاحب تعظیم کی شان کے موافق ہونی چاہئے۔ اللہ کی شان اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 64
(قل) اے رسول ! ان جہلا سے، جو آپ کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے : (آیت) ” اے جاہلو ! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔ “ یہ معاملہ تمہاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمہیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو ؟
شرک اعمال کو اسقط اور احوال کو فاسد کردیتا ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور (اے نبی ! ) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →114 شرک جہالتوں کی جہالت اور حماقتوں کی حماقت ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا جہالتوں کی جہالت اور حماقتوں کی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مشرکوں کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ عظمت خدا وندی اور توحید ربانی کے یہ کھلے کھلے اور کھرے کھرے دلائل سننے اور جاننے کے باوجود خود راہ حق اختیار کرنے کی بجائے تم لوگ الٹا مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں بھی غیر اللہ کی پوجا کرنے لگوں ؟ تمہاری مت کیسی مار دی گئی اور تمہاری عقلیں کس درجہ مسنح ہوگئیں۔ یہ ارشاد اس وقت نازل ہوا جب کہ روایات کے مطابق کفار نے آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی
تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 64 تا 70:
آپ فرم ادیجیے کہ میری بات سمجھنے اور اس پر غور کرنے یا قبول کرنے کی بجائے تم مجھ سے امید کر رہے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی غیر اللہ کی عبادت کرنے لگوں اب اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ آپ کو اور آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اللہ نے وحی سے سرفراز فرمایا اور سب انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے رک جانے کا پیغام دینے کا حکم ہوا کہ اگر کوئی اللہ کا شریک بنانے سے باز نہ آیا تو جو دوسرے بھلے کام بھی کرے گا وہ بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہ بہت زیادہ نقصان میں رہے گا بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے کہ یہی طریق شکر ہے لہذا شکر کرنے والے میں شامل ہوا جائے۔ انہیں عظمت الہی کا شعور ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 5 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے اپنی جہالت کی بناء پر رسول اللہ ﷺ کو اپنے دیوتائوں کی پرستش کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(39:64) قل : ای قل للقریش یا محمد ﷺ اے محمد ﷺ قریش مکہ سے کہہ دیجئے۔
افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون : ای ایھا الجھلون افغیر اللّٰہ تامرونی اعبد۔ افغیر میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔حرف عطف ہے اور اس کا عطف محذوف پر ہے۔ ایء اکفر وغیر اللّٰہ اعبد پر غیر مفعول ہے اعبد کا۔ تامرونی جملہ معترضہ ہے محل انکار غیر اللہ کا لفظ ہے اس لئے فعل پر اس کو مقدم کردیا گیا (یعنی اہمیت کی وجہ سے مفعول کو فعل سے پہلے ذکر کردیا) ۔ مطلب اس طرح ہوگا :۔
اے جاہلو ! کیا میں کفر کروں اور غیر اللہ کی عبادت کروں۔ تم مجھے اس کام کا مشورہ دے رہے ہو۔
تامرونی۔ اصل میں تامروننی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم کا ہے اور نون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 70 :۔ تامرونی ( تم مجھے حکم دیتے ہو ، سکھاتے ہو) ما قدروا ( انہوں نے قدر نہ کی) مطویت (لپیٹ دی گئی) نفخ ( پھونک ماری گئی) صعق ( وہ گر پڑا) اشرقت ( روشن ہوگئی ، جگمگا اٹھی) وقیت ( پورا دیا گیا)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 70 :۔ کفار قریش نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب پر واپس آجائیں ، کبھی کہتے تھے کہ آپ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیجئے کہ جس سے ہمارے یہ اختلافات دور جائیں ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے اور ایک سال ہم آپ کے مبعود کی عبادت و بندگی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جاہل ، ناواقف اور بےعلم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
شرک اور قیامت کابیان۔
(ف 2) شان نزول : مشرکین مکہ نبی ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر تم چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیاکریں اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ اے نامعقول جاہلو، کافرو، مجھ کو یہ حکم و رائے دیتے ہو کہ میں سوائے خدا کے غیروں کو پوجوں ، عجب نامعقول ہوا، انتہائی نادانی اور حماقت وجہالت ہے کہ آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرے اور اللہ کے رسول سے معاذ اللہ یہ امیدرکھے کہ وہ اس کے راستہ پر آجائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
[35] یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کا منتظم اور مدبر بھی ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
میں کیوں بت پرستی کروں ؟
1: جب یہ بات ثابت اور متحقق ہے ۔ کہ آسمانوں اور زمین کے اختیارات محض اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور وہی ہماری کائنات کا رب ہے ۔ تو پھر تم کیوں کہتے ہو ۔ کہ میں اس کو چھوڑ کر تمہارے بتوں کی پوجا کروں ۔ کیا یہ جہالت نہیں ؟ اور اس کے مقام عظمت و رفعت سے ناواقفیت کی دلیل نہیں ؟ تم مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہو ۔ کہ میں توحید کو چھوڑ کر شرک اور بت پرستی کو قبول کرلوں گا ۔ اور تمہارے بتوں سے اسی طرح جاہلانہ عقیدت رکھوں گا ۔ جس طرح تم رکھتے ہو ۔ بات یہ ہے کہ جس طرح حضور ان لوگوں کو ایک خدا کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتے اسی طرح یہ بھی کہتے ۔ کہ باپ دادا کی روایات کو نہ چھوڑ ۔ اور انہیں…
Read the full tafseer →(64) اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے اے نادانو ! کیا اب بھی تم مجھ سے یہی کہتے ہو اور مجھ کو یہی حکم دیتے ہو کہ میں غیر اللہ کی پرستش کروں۔ یعنی تمام دلائل توحید جو اوپر بیان ہوئے سب کو سن کر سمجھ کر بھی مجھ کو یہی حکم کرتے ہو اور ترغیب دیتے ہو کہ میں بھی تمہاری طرح غیر اللہ کی عبادت کروں ، اے نادانو اور جاہلو ، کفار مکہ نے ایسا کہا تھا کہ آپ ہمارے ان معبودوں کی عبادت بھی کرکے دیکھئے اس کا جواب دربار رسالت سے دلوایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ف 6۔ یعنی موجد بھی وہی اور حافظ بھی وہی، اور متصرف بھی وہی، پس ایسے اوصاف کمال رکھنے والا شریک سے بھی منزہ ہوگا، اور جزا و سزا کا بھی مالک ہوگا۔
Read the full tafseer →اے جاہلو ! کیا مجھے بھی غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو ؟
64 جاہل کون ہے ؟ وہی جو ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر بغیر کسی دلیل کے اپیہ بات پر اڑا رہے جاہل ہے۔ عام طور پر لوگ ناخواندہ انسان کو اور ان پڑھ کو جاہل کہہ دیتے ہیں حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے بڑے بڑے پڑھے لکھے اور تعلیمی ڈگریاں رکھنے والے بھی اسلام کی نگاہ میں ناخواندہ اور ان پڑھ اور جاہل ہو سکتے ہیں بلکہ اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو پڑھے لکھے جاہل ہیں اور قرآن کیریم کی مراد بھی انہی جاہلوں سے ہے کیونکہ ان کی جہالت نہایت ہی سخت ہوتی ہے اور کوئی جاہل سے جاہل بھی جو اسلام کا نقشہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں اگرچہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
Commentary
The word: مَقَالِيدُ (maqalid) in: لَّهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (To Him belong the keys to the heavens and the earth.- 39:63) is the plural form of: مِقلاد (miqlad) or: مِقلِید (miqlid) meaning a key. It has been said that this word has really been Arabicized from the Persian language. In Persian, a key is called کَلِید (kalid). When Arabicized, it became: اِقلِید (iqlid) with its plural being: مَقَالِيدُ (maqalid) (Ruh-ul-Ma’ ani). Having keys in one's hand denotes ownership, possession and the ability to dispense at will. Therefore, the sense of the verse is that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
73 That is, "He did not just create the world and then left it alone, but He is constantly guarding and watching over everything. Just as everything in the world came into being by His act of creation so everything is living and surviving by His leave, and flourishing and functioning only under His protection and care."
Read the full tafseer →