Explained with ayahs 62–66
تمام جاندار اور بےجان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہر چیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کارساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہر چیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کردیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
سورة الزُّمَر 73
یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے، بلکہ وہی ہر چیز کی خبر گیری اور نگہبانی کر رہا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جس طرح اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہیں اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہیں، اس کے پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہیں، اور اس کی حفاظت و نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
معارف و مسائل
(آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ مقالید جمع مقلاد یا مقلید کی ہے جو قفل کی کنجی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا دراصل یہ لفظ فارسی زبان سے معرب کیا گیا ہے۔ فارسی میں کنجی کو کلید کتے ہیں۔ معرب کر کے اس کو اقلید بنایا گیا پھر اس کی جمع مقالید لائی گئی (روح) کنجیوں کا کسی کے ہاتھ ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے، اس لئے مراد آیت کی یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو خزانے نعمتوں کے مستور ہیں، ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے۔ کہ جب چاہے جس کو چاہے جس قدر چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔
اور بعض روایات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 63-62
خلاصہ بحث
یہ اپور کی ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اپنی دنیا پیدا کر کے اس کو چھوڑ نہیں بیٹھا ہے بلکہ وہی ہر چیز کا نگہبان بھی ہے اس وجہ سے بندوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ بندوں کو جو کچھ بھی آسمان اور زمین سے حاصل ہوتا ہے سب اسی کی بخشش سے حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ حاصل ہوگا اسی کی عنایت سے حاصل ہوگا۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور اپنے شرک پر جمے ہوتے ہیں وہی خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ ان کی اس حماقت کا وبال انہی پر پڑے گا۔ کسی دوسرے پر نہیں پڑے گا۔
Read the full tafseer →63۔ 1 مقالید، مقلید اور مقلاد کی جمع ہے فتح القدیر بعض نے اس کا ترجمہ چابیاں اور بعض نے خزانے کیا ہے مطلب دونوں میں ایک ہی ہے تمام معاملات کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔
63۔ 2 یعنی کامل خسارہ کیونکہ اس کفر کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
درس نمبر 222 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ، اس میں تخلیق کائنات کے حوالے سے حقیقت توحید کے مضمون کو لیا گیا ہے۔ یہ کہ اللہ نے تمام چیزوں کی تخلیق کی ہے۔ وہ تمام چیزوں میں مالکانہ تصرف رکھتا ہے۔ لہٰذا مشرکین کی یہ تجویز کہ حضور اکرم ﷺ ان کے الہوں کی بندگی کریں اور ہم اس کے مقابلے میں اللہ رب العالمین کی بندگی کریں۔ یوں ایک مشترکہ دین وجود میں آجائے ' یہ تجویز اور مطالبہ نہایت احمقانہ ہے اور عجیب و غریب ہے۔ اللہ تو خالق کائنات ہے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارات اور بادشاہت اسی کی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بندگی بھی کی جائے۔ جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
4 یعنی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد اس کی بقاء و حفاظت کا ذمہ دار بھی وہ ہی ہوا اور زمین و آسمان کی تمام چیزوں میں تصرف و اقتدار بھی اسی کو حاصل ہے کیونکہ سب خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ پھر ایسے خدا کو چھوڑ کر آدمی کہاں جائے۔ چاہیے کہ اسی کے غضب سے ڈرے اور اسی کی رحمت کا امید وار رہے۔ کفر و ایمان اور جنت و دوزخ سب اسی کے زیر تصرف ہیں۔ اس کی باتوں سے منکر ہو کر آدمی کا کہیں ٹھکانا نہیں۔ کیا اس سے منحرف ہو کر آدمی کسی فلاح کی امید رکھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 63 { لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہیں تمام کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔“
{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ } ”اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی ہیں گھاٹے میں رہنے والے۔“
اب اس سورت کے آخری دو رکوع ہمارے زیر مطالعہ ہوں گے۔ یہ دونوں رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں توحید فی العبادت کا مضمون بہت ُ پر جلال انداز میں بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
80 یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر آن ہر چیز کی نگرانی بھی کررہا ہے۔ جس سے یہ نظام کائنات باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ اس نظام کائنات کی باقاعدگی سے تمام جانداروں کا رزق وابستہ ہے۔ بارش سے زمین نباتات اگاتی ہے۔ نیز ہر طرح کی معدنیات اور دوسرے خزانے جو زمین میں مدفون ہیں سب اللہ ہی کے علم اور تصرف میں ہیں۔ آج بھی اس کے تصرف میں ہیں اور کل بھی اسی کے تصرف میں ہوں گے۔ نیز جنت اور دوزخ بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ لہذا جو شخص اللہ کی آیات کا منکر اور اس کا باغی ہے وہ کیسے فلاح کی امید رکھ سکتا ہے ایسے لوگ یقیناً خسارہ میں ہی رہیں گے۔
Read the full tafseer →77۔ (آخرت میں جو کشف حقائق کا وقت ہوگا) (آیت) ” بایت اللہ “۔ آیات الہی سے یہاں مراد اصول دین ہیں ..... عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، عقیدۂ حشر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →لہ مقالید السموت والارض اسی کے قبضہ میں ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔
مَقَالِیْدُ ‘ مقلاد یا مقلید کی جمع ہے ‘ جیسے مفتاح کی جمع مفاتیح اور مندیل کی جمع منادیل ہے۔ یعنی آسمانوں کے اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ‘ سارا جہان اسی کی ملک ہے ‘ کوئی بھی اس کے سوا ان خزانوں میں تصرف نہیں کرسکتا۔
قتادہ اور مقاتل نے کہا : مقالید سے مراد ہے رزق اور رحمت۔ کلبی نے کہا : (مقالید السمٰوٰت سے) مراد ہیں بارش کے خزانے اور (مقالید الارض سے مراد ہیں) سبزے کے خزانے۔ حضرت عثمان کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مقالید کی تفسیر پوچھی تو حضور ﷺ نے فرمایا : اس کی تفسیر ہے لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ…
Read the full tafseer →اسی کے اختیار میں آسمان و زمین کے خزانے یعنی بارش اور ہر قسم کی پیداوار ہے اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو نہیں مانتے وہ آخرت میں سزا کی وجہ سے بڑے خسارے میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ:”مَقَالِيْدُ“ ”مِقْلَدٌ“ یا ”مِقْلَادٌ“ کی جمع ہے، جس طرح قلادہ (ہار یا پٹا) گردن کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح چابی تالے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ ”إِقْلِیْدٌ“ کی جمع ہے اور عام قاعدے کے خلاف ہے۔ ”إِقْلِیْدٌ“ دراصل فارسی لفظ ”کلید“ سے عربی بنایا گیا ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے پاس ہیں، کسی اور کے پاس کچھ ہے ہی نہیں، تو اسے پکارنے اور اس سے فریاد کرنے کا کیا فائدہ ؟ یہ اکیلے اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی تیسری دلیل ہے۔
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ ”واؤ“ کے ساتھ عطف کس جملے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ (اس کے قبضہ میں ہیں چابیاں آسمان کی اور زمین کی) یعنی اس کی چابیاں۔
2:۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ سے مراد ہیں چابیاں فارسی زبان میں۔
3:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لہ مقالید السموت والارض “ سے مراد ہیں چابیاں۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اپنی اس…
Read the full tafseer →لَهٗ [اس کے لئے ہی ہیں ] مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کی کنجیاں ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [اور جنہوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی نشانیوں کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [ہی خسارہ پانے والے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: کنجیوں کا کسی کے ہاتھ میں ہونا اس کے مالک و متصرف ہونے کی علامت ہے۔ اس لئے آیت 63 کی مراد یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں نعمتوں کے جو خزانے چھپے ہوئے ہیں ان سب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان کا محافظ ہے اور وہی متصرف ہے کہ جب چاہے، جس کو چاہے، جتنا چاہے دے دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ بعض احادیث میں تیسرے کلمہ کو مقالید السموت…
Read the full tafseer →(لَہٗ مَقَالِید السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں) وہ تصرف کرنے والا بھی ہے اور محافظت فرمانے والا بھی ہے۔
(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْخَاسِرُوْنَ ) (اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا یہ لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →60:۔ ” والذین کفروا الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ الللہ کی آیتوں اور اس کی وحدانیت اور بلا شرکت غیرے کائنات میں متصرف و مختار ہونے کے دلائل کا انکار کرتے ہیں۔ حقیقت میں خسارہ پانے والے یہی لوگ ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کی رحمت اور ثواب سے محروم ہو کر ابد الآباد جہنم میں رہیں گے۔ والمراد بایات اللہ دلائل قدرتہ واستبدادہ بامر السموات والارض او کلمات توحیدہ و تمجیدہ، و تخصیص الخسار بہم لان غیرہم ذو حظ من الرحمۃ والثواب (بیضاوی ج 2 ص 260) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →لَہٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ 63ۧ
قلد
الْقَلْدُ : الفتل . يقال قَلَدْتُ الحبل فهو قَلِيدٌ ومَقْلُودٌ ، والْقِلَادَةُ : المفتولة التي تجعل في العنق من خيط وفضّة وغیرهما، وبها شبّه كلّ ما يتطوّق، وكلّ ما يحيط بشیء . يقال : تَقَلَّدَ سيفه تشبيها بالقِلادة، کقوله : توشّح به تشبيها بالوشاح، وقَلَّدْتُهُ سيفا يقال تارة إذا وشّحته به، وتارة إذا ضربت عنقه . وقَلَّدْتُهُ عملا : ألزمته . وقَلَّدْتُهُ هجاء : ألزمته، وقوله : لَهُ مَقالِيدُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الزمر/ 63] أي : ما يحيط بها، وقیل : خزائنها، وقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : وجوھھم مبتدء مسودۃ خبرد الجملۃ فی موضع الحال ھذا قول الاخفش ھذا علی تقدیر ان تکون تری من الرؤیۃ البصیریۃ و ان کانت قلبتہ فھی مفعول ثان بمفازتہم قرأ الجمہور علی الافراد قال المبر دالمفازۃ مفعلۃ من الفوز و ھو السعادۃ مصدر میمی من الفوز و ھوا لظفر و قری بمفازاتھم جمع مفازۃ کسعادۃ و سعادات الاعتبار الانواع والمعنی تنجیھم بفوزھم ای بنجاتھم من النار و فوزھم بالجنۃ لایمسہم الجملۃ مفسرۃ بمفازتھم او منصوبۃ علی الحال من الذین اتقوا۔ لہ مقالید جملۃ۔ مستانفۃ قال الجوہری المقالید المفاتح والمقالید جمع و قیل لا واحدلہ۔
تفسیر : یہ ان کی ایک اور سزا بیان فرماتا ہے۔ ویوم القیامۃ لخ کہ اللہ پر جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ ز وَّھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ وَّکِیْلٌ۔ لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الزمر : 62، 63)
(اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ )
خلاصہ بحث
اوپر کی آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کا خلاصہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ جو چیز بھی دنیا میں وجود میں آئی ہے وہ اسی کے خلق کرنے سے آئی ہے۔ اور یہ وہ بات ہے جسے مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ نے ظالموں کو سزا دینا اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جزا اور انہیں جنت میں داخل کرنا ہے وہی ” اللہ “ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس پر نگران ہے۔ زمین و آسمان کے اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
جاندار ہو یا غیر جاندار، چھوٹی ہو یا بڑی غرض کہ زمین و آسمانوں، ہواؤں اور فضاؤں میں ہو یا کوئی چیز تحت الثّریٰ میں ہو یا عرش معلی پر ہو۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اور صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے میں بہت فرق ہے۔ پیدا کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ چیز، اس کا نمو نہ اور اس کا…
Read the full tafseer →لہ مقالید السموات والارض، اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی وہ ان کے معاملے کا مالک اور ان کا محافظ ہے۔ یہ باب کنایہ میں سے ہے۔ کیونکہ خزانوں کے محافظ اور خزانوں کے معاملات کی تدبیر کرنے ولا ہی خزانوں کی چابیوں کا مالک ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں فلان القیت الیہ مقالید الملک۔ میں نے فلاں کو ملک کی چابیاں سپرد کردیں۔ المقالید جمع قلید اس کا معنی چابیاں۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظاً اس کا واحد مستعمل نہیں۔ یہ لفظ اصلاً فارسی ہے۔ آیت والذین کفروا بایت اللہ اولئک ہم الخسرون، اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں مانتے وہ بڑے خسارہ میں رہیں گے۔ یہ ینجی اللہ الذی اتقوا سے متصل ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →63، لہ مقالید السموات والارض، یعنی آسمانوں و زمین کے خزانوں کی کنجیاں۔ اس کا واحد مقلاد ہے مفتاح کی طرح اور مقلید ، مقالید، مندیل اور منادیل کی طرح اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کے رزق اور رحمت کی چابیاں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بارش اور نباتات کے خزانے، والذین کفروابایات اللہ اولئک ھم الخاسرون،
Read the full tafseer →63۔ مجاہد و قتادہ کا قول 4 ؎ ہے کہ مقالید زبان فارسی میں کنجیوں کو کہتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بھی اس کی تفسیر مفاتیحھا فرمایا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں آسمان و زمین کے خزانوں کی کنجیاں میں جو لوگ قرآن کی نصیحت کے منکر ہیں وہ بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ان خزانوں کے بہت بڑے حصہ سے وہ محروم ہیں ابن ماجہ ؎ 1 ؎ کے حوالہ کی ابوہریرہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے جو شخص اپنے شرک کے سبب سے ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائے گا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 62
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لئے خاسرے کا باعث ہے جس نے اس کا انکار کیا، چناچہ فرمایا : (آیت) ” یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء وصفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کے قائل ہے، مثلاً فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رو ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →111 سب خزانوں کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی "۔ پس جو کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ " مَقَالِیْد "، " مِقْلاد " کی جمع ہے۔ جیسے " مَفاتیح " جمع ہے " مَفتاح " کی۔ یا یہ " اِقلِیْد " کی جمع ہے خلاف قیاس۔ جیسا کہ " مَذاکیر "، " ذکر " کی جمع ہے۔ اور " اِقْلِیْد " دراصل فارسی کے کلمہ کلید کا معرب ہے جس کے معنیٰ " چابی " کے بھی آتے ہیں اور خزانے کے بھی۔ (جامع البیان، خازن، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت وغیرہ زائغین نے جو مشہور کر رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی
تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 5 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے اپنی جہالت کی بناء پر رسول اللہ ﷺ کو اپنے دیوتائوں کی پرستش کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(39:63) لہ میں لام ملک کے معنی میں آیا ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے وہی مالک ہے یعنی اللہ ہی مالک ہے۔ جیسے اور جگہ آیا ہے لہ ما فی السموت وما فی الارض (2:255) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔
مقالید : مقلاد یا مقلید کی جمع ہے جیسے مفتاح کی جمع مفاتیح اور مندیل کی جمع منادیل ہے۔ کنجیاں۔ لہ مقالید السموت والارض یعنی آسمانوں کے اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ سارا جہاں اسی کی ملک ہے کوئی بھی اس کے سوا ان خزانوں میں تصرف نہیں کرسکتا۔
ایت اللّٰہ سے مراد کلمات تمجید، و توحید یا قرآن مجید یا اللہ کی قدرت مستقلہ کے نشانات و علامات۔
ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(ف 1) حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس خزائن ورزق وبارش کی کنجیاں ہیں وہی ان کا مالک ہے جو لوگ قرآن کی نصیحت کے منکر ہیں وہ بہت بڑانقصان اٹھائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے خزانوں کے بہت بڑے حصے سے وہ محروم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
[35] یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کا منتظم اور مدبر بھی ہے اور تمام اختیارات بھی اسی کے پاس ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
افتراء علی اللہ کا انجام
1: اللہ کے متعلق جھوٹ بولنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے اس کی ذات عظمت صفات انکار کرتی ہے ۔ وہ گویا غلط باتوں کو غلط عقائد کو اس کی طرف سے پھیلاتے اور مشتہر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی کیفیت قیامت کے دن یہ ہوگی ۔ کہ ان کے چہرے بےنور ہونگے ۔ اور کفر وشرک کی ظلمت اور سیاہی نے ان کو بدزیب کررکھا ہوگا ۔ کیونکہ وہ دنیا میں اس نوع کے عقائد کی اس لئے اشاعت کرتے تھے ۔ کہ عوام میں ان کی عزت افزائی ہو ۔ اور موحدین کے مقابلہ میں ان کی زیادہ آؤ بھگت ہو ۔ اب مکافات عمل کے قانون کے ماتحت ان کا یہ اعزاز جس کی خاطر سے یہ لوگ کفر وشرک کی تلقین کرتے…
Read the full tafseer →(63) آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں اسی کے اختیار میں ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے منکر ہیں اور ان کو نہیں مانتے تو وہی وہ لوگ ہیں جو سخت نقصان اور گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کنجیاں اس کے اختیار میں ہیں تو وہی متصرف ہے اور چونکہ حضرت حق تعالیٰ کے یہ اوصاف موجد ہونا حافظ و متصرف ہونا آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مختار ہونا مخالفین کو مسلم تھا۔
اس لئے ایسی ذات کو شرک سے بھی منزہ ہوناتسلیم کرنا چاہیے لیکن جو لوگ باوجود ان تمام صفات جمیلہ کے اس کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے ان سے زیادہ خائب و خاسر کون ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ف 6۔ یعنی موجد بھی وہی اور حافظ بھی وہی، اور متصرف بھی وہی، پس ایسے اوصاف کمال رکھنے والا شریک سے بھی منزہ ہوگا، اور جزا و سزا کا بھی مالک ہوگا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کے لیے آسمان و زمین کی چابیاں ہیں ، کافر خسارہ میں ہیں
63۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا بلکہ وہ خود ہر ایک چیز کا نگہبان ہے اور ہرچیز کی خبر گیری وہ خود کر رہا ہے جس طرح وہ ہر ایک چیز کا خالق ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا منتظم ومنصرم بھی ہے جس طرح رب ذوالجلال والاکرام کے پیدا کرنے سے ہر ایک چیز وجود میں آئی اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہے ، اسی کی پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہے اور اسی کی حفاظت ونگرانی میں کام کر رہی ہے۔ (مقالید) قلد سے ہے اور قلادہ ہر وہ چیز ہے جو گلے میں لٹکائی جائے اور جو چیز کسی کا احاطہ کرلے اور مقالید کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
Commentary
The word: مَقَالِيدُ (maqalid) in: لَّهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (To Him belong the keys to the heavens and the earth.- 39:63) is the plural form of: مِقلاد (miqlad) or: مِقلِید (miqlid) meaning a key. It has been said that this word has really been Arabicized from the Persian language. In Persian, a key is called کَلِید (kalid). When Arabicized, it became: اِقلِید (iqlid) with its plural being: مَقَالِيدُ (maqalid) (Ruh-ul-Ma’ ani). Having keys in one's hand denotes ownership, possession and the ability to dispense at will. Therefore, the sense of the verse is that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
73 That is, "He did not just create the world and then left it alone, but He is constantly guarding and watching over everything. Just as everything in the world came into being by His act of creation so everything is living and surviving by His leave, and flourishing and functioning only under His protection and care."
Read the full tafseer →