Explained with ayahs 62–66
تمام جاندار اور بےجان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہر چیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کارساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہر چیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کردیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
سورة الزُّمَر 73
یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے، بلکہ وہی ہر چیز کی خبر گیری اور نگہبانی کر رہا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جس طرح اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہیں اسی طرح وہ اس کے باقی رکھنے سے باقی ہیں، اس کے پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہیں، اور اس کی حفاظت و نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے، اسی کے اختیار میں کنجیاں ہیں آسمان و زمین کی۔ یعنی ان سب چیزوں کا موجد و خالق بھی وہی ہے اور ان کو باقی رکھنے والا، حفاظت کرنے والا بھی وہی ہے۔ جو مفہوم ہے لفظ وکیل کا۔ اور ان سب مخلوقات میں تصرفات و انقلابات بھی اسی کا کام ہے۔ یہ مفہوم ہے (آیت) لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کا۔ کیونکہ جس کے ہاتھ میں خزانوں کی کنجیاں ہوتی ہیں، وہ ہی عادتاً ان میں تصرفات کا مالک ہوتا ہے۔ اور جب ساری کائنات کا خالق بھی بلاشرکت غیرے وہی ہے، محافظ بھی وہی ہے، مالک تصرفات کا بھی وہی ہے تو عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 63-62
خلاصہ بحث
یہ اپور کی ساری بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اپنی دنیا پیدا کر کے اس کو چھوڑ نہیں بیٹھا ہے بلکہ وہی ہر چیز کا نگہبان بھی ہے اس وجہ سے بندوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ بندوں کو جو کچھ بھی آسمان اور زمین سے حاصل ہوتا ہے سب اسی کی بخشش سے حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ حاصل ہوگا اسی کی عنایت سے حاصل ہوگا۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور اپنے شرک پر جمے ہوتے ہیں وہی خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ ان کی اس حماقت کا وبال انہی پر پڑے گا۔ کسی دوسرے پر نہیں پڑے گا۔
Read the full tafseer →یعنی ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی وہ جس طرح چاہے تصرف اور تدبیر کرے ہر چیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں وکیل بمعنی محافظ اور مدبر ہر چیز اس کے سپرد ہے اور وہ بغیر کسی کی مشارکت کے ان کی حفاظت اور تدبیر کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
درس نمبر 222 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ، اس میں تخلیق کائنات کے حوالے سے حقیقت توحید کے مضمون کو لیا گیا ہے۔ یہ کہ اللہ نے تمام چیزوں کی تخلیق کی ہے۔ وہ تمام چیزوں میں مالکانہ تصرف رکھتا ہے۔ لہٰذا مشرکین کی یہ تجویز کہ حضور اکرم ﷺ ان کے الہوں کی بندگی کریں اور ہم اس کے مقابلے میں اللہ رب العالمین کی بندگی کریں۔ یوں ایک مشترکہ دین وجود میں آجائے ' یہ تجویز اور مطالبہ نہایت احمقانہ ہے اور عجیب و غریب ہے۔ اللہ تو خالق کائنات ہے۔ آسمانوں اور زمین کے تمام اختیارات اور بادشاہت اسی کی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بندگی بھی کی جائے۔ جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
4 یعنی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد اس کی بقاء و حفاظت کا ذمہ دار بھی وہ ہی ہوا اور زمین و آسمان کی تمام چیزوں میں تصرف و اقتدار بھی اسی کو حاصل ہے کیونکہ سب خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ پھر ایسے خدا کو چھوڑ کر آدمی کہاں جائے۔ چاہیے کہ اسی کے غضب سے ڈرے اور اسی کی رحمت کا امید وار رہے۔ کفر و ایمان اور جنت و دوزخ سب اسی کے زیر تصرف ہیں۔ اس کی باتوں سے منکر ہو کر آدمی کا کہیں ٹھکانا نہیں۔ کیا اس سے منحرف ہو کر آدمی کسی فلاح کی امید رکھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 62 { اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍز وَّہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ } ”اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے ‘ اور وہی ہرچیز پر نگہبان ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
80 یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر آن ہر چیز کی نگرانی بھی کررہا ہے۔ جس سے یہ نظام کائنات باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ اس نظام کائنات کی باقاعدگی سے تمام جانداروں کا رزق وابستہ ہے۔ بارش سے زمین نباتات اگاتی ہے۔ نیز ہر طرح کی معدنیات اور دوسرے خزانے جو زمین میں مدفون ہیں سب اللہ ہی کے علم اور تصرف میں ہیں۔ آج بھی اس کے تصرف میں ہیں اور کل بھی اسی کے تصرف میں ہوں گے۔ نیز جنت اور دوزخ بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ لہذا جو شخص اللہ کی آیات کا منکر اور اس کا باغی ہے وہ کیسے فلاح کی امید رکھ سکتا ہے ایسے لوگ یقیناً خسارہ میں ہی رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
76۔ مشرکوں کی سمجھ میں یہی موٹی بات نہیں آتی تھی کہ حق تعالیٰ جس طرح دنیا کا خالق اکیلا ہے اسی طرح متصرف، مدبر بھی اکیلا ہی ہے، بغیر کسی شریک وسہیم کے، ہندو مذہب علاوہ خالق اکبر (برہما) کے دو اور مستقل خداؤں کا قائل ہے ایک محافظ ومبقی (ویشنو) اور دوسرے مہلک ومفنی (شیو) قرآن مجید اس قسم کے ہر شرک کی قدم قدم پر تردید کرتا جاتا ہے۔..... یہاں اس نے صراحۃ دو صفات باری کا اثبات کیا ہے۔ ایک یہ کہ وہی سب کا خالق وآفرید گار ہے، دوسرے وہی سب کا منتظم ومدبر۔ (آیت) ’ ’ اللہ خالق کل شیء “۔ نور وظلمت، خیروشر، سعادت وہدایت سب کا خالق وہی ایک ہے ثنویت کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ (آیت) وینجی ...... لاھم یحزنون “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیء وکیل اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
اَللّٰہُ خَالِقُ یعنی خیر ‘ شر ‘ ایمان ‘ کفر ‘ سب کا وہی خالق ہے۔ اس جملہ کا اتصال سابق آیت (اَﷲُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ ) سے ہے اور درمیان میں تمام جملے معترضہ ہیں۔
وَکِیْلٌ یعنی تمام چیزیں اسی کی سپردگی میں ہیں اور وہی سب کا نگران اور محافظ ہے۔
Read the full tafseer →اللہ ہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اور وہ ہی ہر ایک کو روزی پہنچانے کا ذمہ دار ہے یا یہ کہ وہ ہر ایک کے اعمال کا نگہبان ہے۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۔۔ : اہل توحید کے لیے وعدے اور مشرکین کے لیے وعید کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رد شرک کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا : ”وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ“ اور اس کے بعد والے دو جملے ”قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ“ کی تمہید ہیں اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دلیل ہیں۔ پہلا جملہ ”اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ“ ہے، ظاہر ہے کہ جب ہر چیز پیدا اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی دلیل کے طور پر اپنے ہر چیز کے خالق ہونے کو جا بجا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →1:۔ بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ تم سے ضرور پوچھیں گے ہر چیز کے بارے میں یہاں تک کہ وہ تم پر یہ سوال کریں گے کہ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے (اور) اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا اگر وہ تم سے یہ سوال کریں تو تم یوں کہو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کے بعد بھی ہوگا۔ واللہ اعلم۔
آسمان و زمین کی چابی اللہ کے پاس ہے :
Read the full tafseer →اَللّٰهُ خَالِقُ [اللہ پیدا کرنے والا ہے ] كُلِّ شَيْءٍ ۡ [ہر چیز کا ] وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [اور وہ ہر چیز پر ] وَّكِيْلٌ [نگران ہے ] ۔
Read the full tafseer →(اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ ) (اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے) چونکہ ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے ہر چیز میں اس کا تصرف بھی پورا پورا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →59:۔ ” اللہ خالق الخ “ یہ ساتویں عقلی دلیل اور دلائل سابقہ کے لیے بمنزلہ ثمرہ ہے۔ پہلی چار دلیلوں کا حاصل یہ تھا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ پانچویں دلیل کا حاصل یہ تھا کہ بندوں کی ارواح اللہ کے قبضے میں ہیں اور وہی سب کا محافظ ہے۔ چھٹی دلیل کا خالصہ یہ تھا کہ روزی رساں بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ روزی کی فراخی اور تنگی اسی کے اختیار میں ہے۔ ساتویں دلیل میں فرمایا کہ ہر چیز کا کالق بھی وہی ہے۔ اور ہر چیز کا محافظ اور نگہبان بھی وہی ہے۔ اور زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں بھی اسی کے قبضے میں ہیں۔ اس کائنات میں وہی متصرف و مختار اور قادر علی الاطلاق ہے۔ لا یملک امرھا ولا یتمکن من التصرف فیہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →اَللہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ 0ۡوَّہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ 62
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
شيء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : وجوھھم مبتدء مسودۃ خبرد الجملۃ فی موضع الحال ھذا قول الاخفش ھذا علی تقدیر ان تکون تری من الرؤیۃ البصیریۃ و ان کانت قلبتہ فھی مفعول ثان بمفازتہم قرأ الجمہور علی الافراد قال المبر دالمفازۃ مفعلۃ من الفوز و ھو السعادۃ مصدر میمی من الفوز و ھوا لظفر و قری بمفازاتھم جمع مفازۃ کسعادۃ و سعادات الاعتبار الانواع والمعنی تنجیھم بفوزھم ای بنجاتھم من النار و فوزھم بالجنۃ لایمسہم الجملۃ مفسرۃ بمفازتھم او منصوبۃ علی الحال من الذین اتقوا۔ لہ مقالید جملۃ۔ مستانفۃ قال الجوہری المقالید المفاتح والمقالید جمع و قیل لا واحدلہ۔
تفسیر : یہ ان کی ایک اور سزا بیان فرماتا ہے۔ ویوم القیامۃ لخ کہ اللہ پر جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ ز وَّھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ وَّکِیْلٌ۔ لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (الزمر : 62، 63)
(اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ )
خلاصہ بحث
اوپر کی آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کا خلاصہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ جو چیز بھی دنیا میں وجود میں آئی ہے وہ اسی کے خلق کرنے سے آئی ہے۔ اور یہ وہ بات ہے جسے مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ نے ظالموں کو سزا دینا اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جزا اور انہیں جنت میں داخل کرنا ہے وہی ” اللہ “ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اس پر نگران ہے۔ زمین و آسمان کے اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
جاندار ہو یا غیر جاندار، چھوٹی ہو یا بڑی غرض کہ زمین و آسمانوں، ہواؤں اور فضاؤں میں ہو یا کوئی چیز تحت الثّریٰ میں ہو یا عرش معلی پر ہو۔ ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اور صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اس کے سوا نہ کسی نے کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے میں بہت فرق ہے۔ پیدا کرنے کا معنٰی ہے کہ وہ چیز، اس کا نمو نہ اور اس کا…
Read the full tafseer →اللہ خالق کل شیء۔ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا۔ اس میں فرقہ معتزلہ اور ثنویہ پر رد کیا گیا۔ وھو علی کل شیء وکیل اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ وکیل بمعنی حافظ ہے۔
Read the full tafseer →62، اللہ خالق کل شیء وھو علی کل شیء وکیل، یعنی تمام اشیاء اسی کے سپرد ہیں ۔ پس وہ اس کی حفاظت پر قائم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
59۔ 62۔ مسند 2 ؎ امام احمد اور نسائی میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر ڈالیں گے اور فرشتوں سے سنیں گے کہ جنت میں ان دوزخیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مکان بنائے تھے اور ٹھکانہ مقرر کیا تھا لیکن دنیا میں ان لوگوں نے جنت میں جانے کے قابل کام نہیں کئے اس واسطے وہ ٹھکانے ان سے چھن کر دوسروں کو مل گئے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپر گزرا مثلاً کبھی کہیں گے کیا اچھا ہوتا کہ آج کو ہم لوگ بھی پرہیز گاروں میں ہوتے کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتا جو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
آیت 62
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لئے خاسرے کا باعث ہے جس نے اس کا انکار کیا، چناچہ فرمایا : (آیت) ” یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء وصفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کے قائل ہے، مثلاً فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رو ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →110 اللہ ہر چیز کا خالق اور ہر چیز پر نگہبان ہے : پس ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی اسی کے لئے بجا لائی جائے اور ہر حاجت و ضرورت کے لئے دست دعا وسوال بھی اسی وحدہ لاشریک کے حضور بلند کئے جائیں کہ خالق ومالک بھی سب کا وہی ہے اور ہر کسی کا نگہبان اور وکیل و کارساز بھی وہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور بھروسہ بھی ہر کسی کو اور ہر حال میں اسی پر کرنا چاہیئے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمان اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ سے منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
شرک کی نحوست تمام اعمال کی بربادی
تشریح : ان آیات میں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہی ہر چیز کا خالق ہے اور اسی کے اختیار میں آسمانوں زمین کی کنجیاں ہیں۔ اس کے نبی ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین کو مخاطب کرکے یہ اعلان فرمایا ہے کہ تم لوگ مجھے غیر اللہ کی عبادت کا حکم دیتے ہو حالانکہ میری طرف سے اور مجھ سے پہلے تمام نبیوں کی طرف یہی وحی آئی ہے کہ جو اللہ کا شریک ٹہرائے گا اس کے تمام اعمال برباد کر دے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جس طرح ہر چیز کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدیبر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ ہی ہے نہ اس کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر کرنے میں۔
Read the full tafseer →(39:62) وکیل۔ صفت مشبہ، وکل مصدر سے۔ نگہبان ، نگران ، کارساز۔ التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کرکے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں۔ اور وکیل بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے جس پر اعتماد کرکے اپنا کام اس کے سپرد کردیا جائے اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکفی باللّٰۃ وکیلا (4:81) اور خدا ہی کافی کارساز ہے یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے اور کارسازی کے لئے اسی کو کافی سمجھئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(ف 1) حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس خزائن ورزق وبارش کی کنجیاں ہیں وہی ان کا مالک ہے جو لوگ قرآن کی نصیحت کے منکر ہیں وہ بہت بڑانقصان اٹھائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے خزانوں کے بہت بڑے حصے سے وہ محروم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
[34] اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات اس نے نہیں کہی ہے وہ اس کی طرف منسوب کردی جائے۔ دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
افتراء علی اللہ کا انجام
1: اللہ کے متعلق جھوٹ بولنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے اس کی ذات عظمت صفات انکار کرتی ہے ۔ وہ گویا غلط باتوں کو غلط عقائد کو اس کی طرف سے پھیلاتے اور مشتہر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی کیفیت قیامت کے دن یہ ہوگی ۔ کہ ان کے چہرے بےنور ہونگے ۔ اور کفر وشرک کی ظلمت اور سیاہی نے ان کو بدزیب کررکھا ہوگا ۔ کیونکہ وہ دنیا میں اس نوع کے عقائد کی اس لئے اشاعت کرتے تھے ۔ کہ عوام میں ان کی عزت افزائی ہو ۔ اور موحدین کے مقابلہ میں ان کی زیادہ آؤ بھگت ہو ۔ اب مکافات عمل کے قانون کے ماتحت ان کا یہ اعزاز جس کی خاطر سے یہ لوگ کفر وشرک کی تلقین کرتے…
Read the full tafseer →(62) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کانگہبان ہے۔ یعنی ہر چیز کا موجد اور باقی رکھنے والا حفاظت کرنے والا وہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 5۔ اس میں دو امر آگئے۔ جو بات خدا نے نہیں کہی مثل شرک وغیرہ اس کو کہنا کہ خدا نے کہی ہے۔ اور جو بات خدا نے کہی جیسے قرآن، اس کو کہنا کہ خدا نے نہیں کہی۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا پیدا کرنے والا اور حقیقی کارساز ہے
62۔ انسان اچھے ہوں یا برے ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا اور ہر اس چیز کا جس سے وہ مستفید ہو رہے ہیں سب کا خالق اور سب کا پیدا کرنے والا ، محافظ و نگہبان اللہ تعالیٰ ہی ہے اور سب کی بگڑی وہی بنانے والا ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو کسی دوسرے کی یا خود اپنی ہی بگڑی بنانے والے سمجھتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں نے کبھی اس بات کا درس نہیں دیا بلکہ وہ تو ہمیشہ اپنا خالق ومالک بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کو سمجھتے ہیں اور اسی کو بندگی کی تعلیم بھی دیتے رہے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثریت میں جو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
In verse 59, it was said: بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا (Why not? My verses had reached you, but you called them untrue, and waxed proud, and became of those who disbelieved...). In this verse, what the disbelievers said in: (If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah",- 39:57) has been answered. The outcome of this verse is that Allah had already given the necessary guidance, fully and conclusively. He had sent His books, verses and signs. Therefore, their claim that Allah gave them no guidance was absurd. Of course, once He had…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
73 That is, "He did not just create the world and then left it alone, but He is constantly guarding and watching over everything. Just as everything in the world came into being by His act of creation so everything is living and surviving by His leave, and flourishing and functioning only under His protection and care."
Read the full tafseer →