Az-Zumar 39:61

Az-Zumar · from ayah 61

39:61

وَیُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ ؗ— لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ۟وَيُنَجِّىۡ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‏

اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah will save those who feared Him by their attainment; no evil will touch them, nor will they grieve.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:61

اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے تقوی اختیار کیا ہے، اللہ ان کو نجات دے کر ان کی مراد کو پہنچا دے گا، انہیں کوئی تکلیف چھوے گی بھی نہیں، اور نہ انہیں کسی بات کا غم ہوگا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی ہے اُن کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا نہ انہیں کوئی برائی پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ ان لوگوں کو جو ڈر گئے، ان کے کامیاب ہونے کی وجہ سے نجات دے گا، نہ انھیں برائی پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے رہے اللہ انہیں ان کی کامیابی کی (وجہ سے) ہر جگہ پر نجات دے گا، انہیں نہ تو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے ان کے مامن میں نہ ان کو کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) اللہ نجات دے دے گا ان (خوش نصیبوں) کو جنہوں نے تقوی (و پرہیزگاری) کی زندگی گزاری ہوگی ان کی کامیابی کی بناء پر نہ تو ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ بچ رہے تھے اللہ ان لوگوں کو کامیابی کے ساتھ نجات دے گا ان کو نہ تکلیف پہنچے گی اور نہ یہ غمگین ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی (اور انہیں پہنچا دے گا) ان کی کامیابی کی جگہوں پر نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو پرہیز گـارہیں ان کی سعادت اور کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔ نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غم ناک ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

But as for the God-fearing, Allah will deliver them on account of their achievements: no harm shall visit them nor shall they grieve.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Allah will save the God-fearing (from Jahannam ), with utmost success granted to them, so as no evil will touch them, nor will they grieve.

— Muhammad Taqi Usmani

And Allah will save the God-fearing (from Jahannam ), with utmost success granted to them, so as no evil will touch them, nor will they grieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah will deliver those who have Taqwa to their places of success. Evil shall touch them not, nor shall they grieve.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah delivereth those who ward off (evil) because of their deserts. Evil toucheth them not, nor do they grieve.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah will save those who feared Him by their attainment; no evil will touch them, nor will they grieve.

— Saheeh International

God will save the pious ones because of their virtuous deeds. No hardship will touch them nor will they be grieved.

— Muhammad Sarwar

And Allah shall deliver those who guard (against evil) with their achievement; evil shall not touch them, nor shall they grieve.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah will deliver those who feared Him to their place of safety. Evil will not touch them, nor will they grieve.

— Abdul Majid Daryabadi

But Allah will deliver the righteous to their place of salvation: no evil shall touch them, nor shall they grieve.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–61

مشرکین کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔ قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑجائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہوجائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ " تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہوگا ہر چھوٹی سے چھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–61

سورة الزُّمَر 72 کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 59–61

(آیت) بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا۔ اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اگر اللہ ہدایت کردیتا تو ہم متقی ہوجاتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پوری ہدایت کردی تھی اپنی کتابیں اور آیتیں بھیجی تھیں۔ اس لئے ان کا یہ کہنا غلط اور لغو ہے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت نہیں کی۔ ہاں ہدایت کرنے کے بعد نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ بلکہ بندہ کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جس راستے حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندہ کا امتحان تھا، اس پر اس کی کامیابی یا ناکامی موقوف تھی جس نے اپنے اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 61 اللہ سے ڈرنے والوں کو صلہ متکبرین کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ سے ڈرنے والے بنے رہے۔ فرمایا کہ اللہ غرور سے پاک بندوں کو ان کے امن میں پناہ دے گا۔ بمفازۃ میں ب ظرفیہ اور مفازۃ کے معنی مامن اور مفلح کے ہیں جس سے مراد جنت ہے۔ یعنی اس ہوں کے دن میں یہ لوگ ایسے ٹھکانوں میں پہنچا دیئے جائیں گے جہاں نہ ان کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ان کو کسی بات کا غم ہوگا۔ وہ ماضی کے تمام پچھتا دوں اور مستقبل کے تمام اندیشوں سے بالکل محفوظ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61۔ 1 مفازۃ مصدر میمی ہے یعنی فوز کامیابی شر سے بچ جانا اور خیر سے سعادت سے ہم کنار ہوجانا، مطلب ہے، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اس فوز وسعادت کی وجہ سے نجات عطا فرما دے گا جو اللہ کے ہاں ان کے لئے پہلے سے ثبت ہے۔ 61۔ 2 وہ دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے ہیں، اس پر انہیں کوئی غم نہ ہوگا، وہ چونکہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہونگے، اس لئے انہیں کسی بات کا غم نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–61

آیت نمبر 60 تا 61 یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے ازلی فوزو سعادت کی بدولت کامیابی کے اس بلند مقام پر پہنچائے گا۔ جہاں ہر قسم کی برائیوں سے محفوظ اور ہر طرح کے فکر و غم سے آزاد ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 { وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِہِمْ } ”اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی اور انہیں پہنچا دے گا ان کی کامیابی کی جگہوں پر۔“ جنت میں ان کے درجات اور مراتب کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مقامات تک پہنچا دے گا۔ انبیاء کرام علیہ السلام اپنے مراتب پر پہنچیں گے اور اسی طرح صدیقین ‘ شہداء اور صالحین اپنے اپنے مقامات کو پالیں گے۔ { لَا یَمَسُّہُمُ السُّوْٓئُ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ } ”نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 یعنی اللہ تعالیٰ نیکوکار لوگوں کو اتنے بلند مقام پر پہنچا دے گا۔ جہاں انہیں روز محشر کی لو اور تپش نہ پہنچ سکے گی۔ وہاں وہ ہر طرح کی تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ جو اعمال انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے ان پر وہ مطمئن ہوں گے اور انہیں کسی قسم کا غم لاحق نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 61–62

76۔ مشرکوں کی سمجھ میں یہی موٹی بات نہیں آتی تھی کہ حق تعالیٰ جس طرح دنیا کا خالق اکیلا ہے اسی طرح متصرف، مدبر بھی اکیلا ہی ہے، بغیر کسی شریک وسہیم کے، ہندو مذہب علاوہ خالق اکبر (برہما) کے دو اور مستقل خداؤں کا قائل ہے ایک محافظ ومبقی (ویشنو) اور دوسرے مہلک ومفنی (شیو) قرآن مجید اس قسم کے ہر شرک کی قدم قدم پر تردید کرتا جاتا ہے۔..... یہاں اس نے صراحۃ دو صفات باری کا اثبات کیا ہے۔ ایک یہ کہ وہی سب کا خالق وآفرید گار ہے، دوسرے وہی سب کا منتظم ومدبر۔ (آیت) ’ ’ اللہ خالق کل شیء “۔ نور وظلمت، خیروشر، سعادت وہدایت سب کا خالق وہی ایک ہے ثنویت کا اس کے ہاں گزر نہیں۔ (آیت) وینجی ...... لاھم یحزنون “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–63

آیت نمبر 53 تا 63 ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم لا یمسھم السوء ولا ھم یحزنون اور جو لوگ (شرک و کفر) سے بچتے تھے ‘ ان کو کامیابی کے ساتھ اللہ (جہنم سے) بچا لے گا ‘ ان کو تکلیف چھوئے گی بھی نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ مَفَازَۃ فلاح ‘ کامیابی۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد ہے نجات ‘ کیونکہ سب سے بڑی اور اہم کامیابی یہی ہے۔ بعض کے نزدیک خوش نصیبی اور عمل صالح مراد ہے۔ یہ دونوں کامیابی کے اسباب ہیں ‘ مسبب بول کر سبب مراد لیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو لوگ اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ان کی اطاعت کی تھی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور نیکیوں کی وجہ سے ان کو نجات دے گا اور ان کو سختی اور عذاب نہیں پہنچے گا اور جس وقت دوسرے غمگین و پریشان ہوں گے تو وہ لوگ غمگین نہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا۔۔ : متکبرین کا انجام بیان فرمانے کے بعد متقین کا انجام بیان فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ تکبر کے منافی ہے، کیونکہ تقویٰ اللہ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کے سامنے عاجز ہوجانے کا نام ہے، جیسا کہ فرمایا : (تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ) [ القصص : 83 ]”یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔“ : ”بِمَفَازَتِهِمْ مَفَازَۃٌ“ ”فَازَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–64

60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–61

1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد و بخاری (رح) (فی الادب) و ترمذی (رح) (وحسنہ) و نسائی (رح) وابن ومردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمرو بن شعیب (رح) سے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تکبیر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹی کی طرح آدمیوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرح سے ان پر ذلت چھائی ہوتی جہنم میں جیل کی طرف جانکے جائیں گے دوزخ والوں کا نچوڑ (یعنی دوزخیوں کے زخموں کی پیپ) ان کو پلائی جائے گی۔ 2:۔ عبد بن حمید و بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا اور ان کو بند کردیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيُنَجِّي اللّٰهُ [اور نجات دے گا اللہ ] الَّذِيْنَ [ان کو جنہوں نے ] اتَّــقَوْا [تقوی اختیار کیا ] بِمَفَازَتِهِمْ ۡ [ان کی نجات کی جگہ میں ] لَا يَمَسُّهُمُ [(جہاں) نہیں چھوئے گی ان کو ] السُّوْۗءُ [برائی ] وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ [اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد اہل ایمان کا ثواب بیان فرمایا (وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوا) (الآیۃ) ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا کفر اور شرک سے بھی بچے اور گناہوں سے بھی، اللہ تعالیٰ انہیں ان کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا اور اہل تکبر کے ٹھکانہ یعنی دوزخ سے بچالے گا انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–63

بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔ (ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

58:۔ ” وینجی الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی سے اور تمام متکبرانہ اوصاف سے بچتے رہے ان کو اللہ تعالیٰ جہنم سے بچا کر فوز و فلاح سے ہمکنار فرمائے گا اور عذاب یا حزن و غم انہیں چھوئے گا بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–63

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيُنَجِّي اللہُ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا بِمَفَازَتِہِمْ۝ 0 ۡلَايَمَسُّہُمُ السُّوْۗءُ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ 61 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–63

ترکیب : وجوھھم مبتدء مسودۃ خبرد الجملۃ فی موضع الحال ھذا قول الاخفش ھذا علی تقدیر ان تکون تری من الرؤیۃ البصیریۃ و ان کانت قلبتہ فھی مفعول ثان بمفازتہم قرأ الجمہور علی الافراد قال المبر دالمفازۃ مفعلۃ من الفوز و ھو السعادۃ مصدر میمی من الفوز و ھوا لظفر و قری بمفازاتھم جمع مفازۃ کسعادۃ و سعادات الاعتبار الانواع والمعنی تنجیھم بفوزھم ای بنجاتھم من النار و فوزھم بالجنۃ لایمسہم الجملۃ مفسرۃ بمفازتھم او منصوبۃ علی الحال من الذین اتقوا۔ لہ مقالید جملۃ۔ مستانفۃ قال الجوہری المقالید المفاتح والمقالید جمع و قیل لا واحدلہ۔ تفسیر : یہ ان کی ایک اور سزا بیان فرماتا ہے۔ ویوم القیامۃ لخ کہ اللہ پر جھوٹ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِہِمْ ز لاَ یَمَسُّھُمُ السُّوْٓئُ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (الزمر : 61) (اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے، ان کے مامن میں، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام کفار کے انجام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے جو زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ سے ڈرتے رہے اور ہمیشہ اس کے احکام کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کا اتباع کیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے پر ہول دن میں انھیں ان کے مامن میں یعنی جنت میں پہنچا دے گا۔ اور اس طرح سے وہ ہر دکھ اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 59–61

فہم القرآن ربط کلام : کفر و شرک اور بڑے گناہوں سے توبہ نہ کرنے کا نقصان۔ ” اللہ “ کے نافرمان عذاب اور موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر زبان سے یا دل ہی دل میں ان حسرتوں کا اظہار کرتے ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیات میں ہوا ہے۔ اس وقت ملائکہ اپنے رب کی طرف سے جواب دیتے ہیں کہ تیرے پاس تیرے رب کے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا۔ اے نبی ﷺ آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا۔ ان کے چہرے کا لے ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک اور نافرمانیوں سے بچے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایمان والوں کی کامیابی۔ وینجی اللہ، اور اللہ تعالیٰ نجات دے گا، چھٹکارا، وینجی بھی پڑھا گیا۔ الذین اتقوا، ان لوگوں کو جو بچتے تھے۔ یعنی شرک سے۔ بمفازتہم، کامیابی کے ساتھ، فلاح کے ساتھ۔ کہا جاتا ہے فاز بکذا جبکہ وہ اپنی مراد کو پالے اور اس کو پانے میں کامیاب ہوجائے۔ لا یمسہم السوء (ان کو تکلیف نہ پہنچے گی) یہ مفازۃ کی تفسیر ہے۔ السوء سے آگ مراد ہے۔ ولا ھم یحزنون (اور نہ وہ غمگین ہوں گے) گویا اس طرح کہا گیا کہ ان کی کامیابی کیا ہے، تو جواب دیا گیا کہ ان کو تکلیف چھو تک نہ سکے گی، یعنی ان کی نجات ان سے نفی سوء و حزن سے ہوگی مطلب یہ ہوا ان کے ابدان کو ایذاء مس نہ کرے گی اور نہ ان کے دلوں کو غم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61، وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم ، حمزۃ، کسائی اور ابوبکررحمہم اللہ نے ، بمفازاتھم، الف کے ساتھ پڑھا ہے جمع ہونے کی بناء پر یعنی ان راستوں کے ساتھ جوان کو کامیابی اور نجات تک پہنچادیں اور دیگر حضرات نے، بمفازتھم، مفرد ہونے بناء پر پڑھا ہے۔ اس لیے کہ مفازۃ فوز (کامیابی) کے معنی میں ہے۔ یعنی ان کو ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے آگ سے نجات دے کر کامیاب کریں لیے گے۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ مفازۃ مفعلۃ کے وزن پر فوز سے مشتق ہے اور جمع حسن ہے جیسے سعادۃ اور سعادات، لایمسھم السوء ، ان کو کوئی ناپسند چیزنہ پہنچے گی۔ ، ولا ھم یحزنون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 59–62

59۔ 62۔ مسند 2 ؎ امام احمد اور نسائی میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر ڈالیں گے اور فرشتوں سے سنیں گے کہ جنت میں ان دوزخیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مکان بنائے تھے اور ٹھکانہ مقرر کیا تھا لیکن دنیا میں ان لوگوں نے جنت میں جانے کے قابل کام نہیں کئے اس واسطے وہ ٹھکانے ان سے چھن کر دوسروں کو مل گئے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپر گزرا مثلاً کبھی کہیں گے کیا اچھا ہوتا کہ آج کو ہم لوگ بھی پرہیز گاروں میں ہوتے کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتا جو ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 61 جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کے مانند سیاہ ہوں گے ان کے سیاہ چہروں سے اہل موقف انہیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہوگا۔ جس طرح انہوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کردیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کردیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لئے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہوگا، اس لئے فرمایا : (الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین) کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ان لوگوں کو نجات دے دے گا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا "۔ یعنی انہوں نے اللہ پاک کے اوامر پر عمل کیا ہوگا اور اس کی نواہی سے بچتے رہے ہوں گے۔ اور ہمیشہ اسی کی رضا و خوشنودی کو اپنے پیش نظر رکھا ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ ۔ بہرکیف اس سے مستکبرین کے مقابلے میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کا صلہ اور انکا انجام بیان فرمایا گیا ہے کہ انکو اللہ تعالیٰ انکے درجہ و مرتبہ کے لائق خاص پناہ گاہ میں جگہ عطا فرمائے گا۔ " مفازہ " کے معنیٰ " مامن " اور " پناہ گاہ " کے ہیں۔ مراد ہے جنت جہاں ہر طرف سے اور ہر طرح کا امن ہی امن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔ 1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔ 2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔ 3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔ 4 ۔ جو نیک کام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–63

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63: اسرار و معارف : نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:61) ینجی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر نجو مادہ وہ بچا لے گا۔ وہ نجات دیگا۔ اتقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ ڈرے۔ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔ اتقاء افتعال مصدر وقی مادہ۔ وقیت الشی (باب ضرب) وقایہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں۔ جیسے ووقہم عذاب الجحیم (44:56) اور (خدا) ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیگا۔ اسی سے تقوی ہے نفس کو ہراس چیز سے بچانا جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ کبھی کبھی تقوی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلا فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون (7:35) جو شخص (ان پر ایمان لاکر) خدا سے ڈرتا رہیگا۔ اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–63

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–61

(ف 1) جب کافر کو مصیبت، شدت بلا پہنچتی ہے تو ہم کو یاد کرتا ہے عاجزی سے پکارتا ہے یہ بات ان لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سو اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے، اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہیے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے سمجھنے لگتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں اللہ کے احسانات اس آزمائش کے لیے ہیں کون شخص اس کے احسانات کا شکر ادا کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–62

[34] اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات اس نے نہیں کہی ہے وہ اس کی طرف منسوب کردی جائے۔ دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–63

افتراء علی اللہ کا انجام 1: اللہ کے متعلق جھوٹ بولنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے اس کی ذات عظمت صفات انکار کرتی ہے ۔ وہ گویا غلط باتوں کو غلط عقائد کو اس کی طرف سے پھیلاتے اور مشتہر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی کیفیت قیامت کے دن یہ ہوگی ۔ کہ ان کے چہرے بےنور ہونگے ۔ اور کفر وشرک کی ظلمت اور سیاہی نے ان کو بدزیب کررکھا ہوگا ۔ کیونکہ وہ دنیا میں اس نوع کے عقائد کی اس لئے اشاعت کرتے تھے ۔ کہ عوام میں ان کی عزت افزائی ہو ۔ اور موحدین کے مقابلہ میں ان کی زیادہ آؤ بھگت ہو ۔ اب مکافات عمل کے قانون کے ماتحت ان کا یہ اعزاز جس کی خاطر سے یہ لوگ کفر وشرک کی تلقین کرتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(61) اور جو لوگ شرک وکفر سے بچتے تھے اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو کامیابی کے ساتھ جہنم سے بچائیگا نہ ان کو کس طرح کی تکلیف چھوئے گی نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ تقویٰ کے مختلف درجے ہیں کم از کم یہ کہ شرک سے بچتا رہے تو اس آیت میں عام مسلمانوں کو بڑی بشارت ہے اور جو تقویٰ کے اعلیٰ درجات کو طے کرچکے ہیں تو ان کی تو کامیابی کا اندازہ کیا ہوسکتا ہے۔ بہرحال اہل تقویٰ کو کامیابی کے ساتھ محفوظ رکھا جائے گا ان کو نہ برائی اور تکلیف اور عذاب مس کریں گی اور نہ وہ غم زدہ اور غمگین ہوں گے کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–62

ف 5۔ اس میں دو امر آگئے۔ جو بات خدا نے نہیں کہی مثل شرک وغیرہ اس کو کہنا کہ خدا نے کہی ہے۔ اور جو بات خدا نے کہی جیسے قرآن، اس کو کہنا کہ خدا نے نہیں کہی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو عذاب الہٰی سے نجات دی جائے گی 61۔ ان جھٹلانے والوں اور کفروشرک کرنے والوں کے مقابلہ میں اہل توحید اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو بسر و چشم قبول کرنے والے ہوں گے جو قیامت کے روز کامیاب قرار پائیں گے اور برائی ان کے قریب ہی نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے بحمد اللہ دنیا میں کوئی برائی کی ہی نہ ہوگی یا برائی ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے معاف کرائی ہوگئی یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہر طرح کے غم واندوہ سے مصئون ہو گے اور یہی ہیںٰ وہ لوگ جن کے چہرے ہشاش بشاش اور خوش وخرم ہوں گے اور بلاشبہ وہ اس روز مبارکبادیوں کے مستحق ٹھہریں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 59–62

In verse 59, it was said: بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا (Why not? My verses had reached you, but you called them untrue, and waxed proud, and became of those who disbelieved...). In this verse, what the disbelievers said in: (If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah",- 39:57) has been answered. The outcome of this verse is that Allah had already given the necessary guidance, fully and conclusively. He had sent His books, verses and signs. Therefore, their claim that Allah gave them no guidance was absurd. Of course, once He had…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–61

72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.

Read the full tafseer →