Explained with ayahs 60–61
مشرکین کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے۔
قیامت کے دن دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ کالے منہ والے اور نورانی چہرے والے۔ تفرقہ اور اختلاف والوں کے چہرے تو سیاہ پڑجائیں گے اور اہل سنت والجماعت کی خوبصورت شکلیں نورانی ہوجائیں گی۔ اللہ کے شریک ٹھہرانے والوں اس کی اولاد مقرر کرنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے جھوٹ اور بہتان کی وجہ سے منہ کالے ہوں گے۔ اور حق کو قبول نہ کرنے اور تکبر و خودنمائی کرنے کے وبال میں یہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ جہاں بڑی ذلت کے ساتھ سخت تر اور بدترین سزائیں بھگتیں گے۔ ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے کہ " تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی صورت میں ہوگا ہر چھوٹی سے چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سورة الزُّمَر 72
کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
(آیت) بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا۔ اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اگر اللہ ہدایت کردیتا تو ہم متقی ہوجاتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پوری ہدایت کردی تھی اپنی کتابیں اور آیتیں بھیجی تھیں۔ اس لئے ان کا یہ کہنا غلط اور لغو ہے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت نہیں کی۔ ہاں ہدایت کرنے کے بعد نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ بلکہ بندہ کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جس راستے حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندہ کا امتحان تھا، اس پر اس کی کامیابی یا ناکامی موقوف تھی جس نے اپنے اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔
Read the full tafseer →آیت 60
مشرکین کا انجام
کذبوا علی اللہ سے مراد شرک ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ بولیں کہ خدا نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے اور جب اللہ کی طرف سے ان کو تنبیہ کی گئی کہ خدا کا کوئی شریک و سبیہم نہیں ہے تو بالکل بےدلیل محض اپنے غرور کی بنا پر اپنی بات کی پیچ کی، قیامت کے دن ان کے چہرے ان کے اس غرور کی پاداش میں سیاہ ہوں گے۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین یہ سوال کیا ہے کہ کیا ان متکبروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے خود سروں کا سزا وار جہنم ہونا تو ایک ایسی واضح بات ہے جس میں کسی کے لئے بھی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ چناچہ یہ…
Read the full tafseer →60۔ 1 جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہوگا۔
60۔ 1 حدیث میں ہے الکبر بطر الحق وغمط الناس حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا کبر ہے یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ کی اطاعت سے تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت نمبر 60 تا 61
یہ ہے آخری انجام ، ایک گروہ ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے۔ نیز غم کی وجہ سے اور جہنم کی شعلوں کی وجہ سے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زمین میں اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے تھے۔ ان کو رات اور دن اللہ کی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ دعوت اس وقت بھی برقرار تھی جب یہ گناہوں میں گردن تک ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے داعی کی پکار پر کان نہ دھرا۔ آج یہ گروہ بہت ہی شرمندہ ہے۔ شرمندگی اور کبیدگی کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہے اور دوسرا فریق نجات پاچکا ہے ، کامیاب ہوگیا ہے۔ اب اسی کوئی گزند پہنچنے کا امکان ہی باقی نہیں رہا ۔ نہ اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگی۔ یہ میقین کا فریق ہے جو دنیا میں اس طرح…
Read the full tafseer →1 اللہ کی طرف سے جو سچی بات آئے اس کو جھٹلانا یہ ہی اللہ پر جھوٹ بولنا ہے۔ کیونکہ جھٹلانے والا دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے فلاں بات نہیں کہی حالانکہ واقع میں کہی ہے۔ اس جھوٹ کی سیاہی قیامت کے دن ان کے چہروں پر ظاہر ہوگی۔
2 پہلے فکذبت بہا واستکبرت میں دو صفتیں کافر کی بیان ہوئی تھیں۔ تکذیب جو مشتمل ہے کذب پر اور استکبار و غرور، یہاں بتلا دیا کہ کذب و دروغ سے ان کے منہ کالے ہوں گے اور غرور وتکبر کا ٹھکانہ دوزخ کے سوا کہیں نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 60 { وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْہُہُمْ مُّسْوَدَّۃٌ} ”اور قیامت کے دن تم دیکھو گے ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔“
{ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے متکبرین کا ؟“
Read the full tafseer →77 اللہ پر افترا کی صورتیں :۔ اللہ پر جھوٹ بولنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں معبودوں یا بتوں یا پیاروں کو فلاں فلاں اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ لہذا رزق کے لئے فلاں کے پاس اور اولاد کے لئے فلاں درگاہ پر اور شفا کے لئے فلاں آستانے پر حاضری دینے سے مراد حاصل ہوجاتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے اور کہا جائے کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل نہیں کی۔ حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ تھی۔
78 ان کے جھٹلانے کی سزا یہ ہے کہ ان کے منہ کالے کردیئے جائیں گے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ جھوٹے کا منہ کالا اور تکبر کی سزا جہنم کے سوا اور کوئی ہو نہیں سکتی تاکہ…
Read the full tafseer →75۔ (ہے اور ضرور ہے) (آیت) ” الذین کذبوا علی اللہ “۔ اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات نہیں فرمائی گئی ہے وہ اس کی جانب منسوب کردی جائے دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیاجائے، (آیت) ” وجوھھم مسودۃ “۔ یہ چہرہ کی سیاہی آگ سے جلنے کا اثر بھی ہوسکتی ہے۔ اور خوف رسوائی کا نتیجہ بھی اور قلب کی سیاہی کا عکس بھی۔ قیل ھو سواد قلوبھم ینعکس علی وجوھھم (روح) ہوسکتا ہے کہ یہ سیاہی ان کے قلوب کی ہو جو چہرہ پر منعکس ہوگئی ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ عالم معاد کشف حقائق ہی کا تو عالم ہوتا ہے، اس لئے اس میں عجب کیا جو چہرہ پر عکس قلب کا نظر آنے لگا ہو،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →ویوم القیمۃ تری الذی کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین
اور جن لوگوں نے اللہ پر دروغ بندی کی (یعنی اللہ کو صاحب اولاد مانا ‘ یا ان صفات کی اس کی طرف نسبت کی جو اس کی شان کے مناسب نہیں ہیں) تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے چہرے کالے ہوں گے۔ کیا جو لوگ (ایمان سے روگردانی کرتے ہیں اور) غرور کرنے والے ہیں ‘ ان کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟
استفہام تقریری ہے ‘ یعنی ضرور ان کی یہ حالت نظر آئے گی۔
Read the full tafseer →اور آپ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور حضرت عزیر اور عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہا تھا کیا ان کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا۔۔ : اللہ پر جھوٹ باندھنے میں اگرچہ اس کے ساتھ شرک کرنا، اس کے لیے بیوی یا اولاد قرار دینا، اپنے آپ کو اس کا محبوب قرار دینا اور ان کے علاوہ دوسرے سب جھوٹ شامل ہیں، مگر آیات کے سیاق کے لحاظ سے اس کے اولین مصداق وہ دو جھوٹ ہیں جو اس سے پہلی آیات کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں، یعنی ایک ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت نہیں دی۔
وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ: قیامت کے دن کفار کے چہروں کے سیاہ ہونے کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (106، 107) ، یونس (27) اور عبس (40 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
60 ۔ 64:۔ و یوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجو ھھم مسودۃ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عضب اور ناراضگی نے گھیر رکھا ہے۔ اخفش نے کہا : تری ‘ وجوھھم مسودۃ میں عمال نہیں کیونکہ وہ مبتدا اور خبر ہے۔ زمحشری نے کہا : اگر تری سے مراد رویۃ بصر لال جائے تو یہ جملہ حال ہوگا اگر رویۃ قلب مراد ہو تو یہ اس کا دوسرا مفعول ہوگا (1) ۔
الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ رسول اللہ ﷺ نے کبر کے معنی کی وضاحت کی فرمایا : سفہ الحق و غمص الناس حق کی ناقدری کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا اور ان کی حقارت بیان کرنا۔ سورة بقرہ اور دوسری آیات میں یہ بحث گزر چکی ہے ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد و بخاری (رح) (فی الادب) و ترمذی (رح) (وحسنہ) و نسائی (رح) وابن ومردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمرو بن شعیب (رح) سے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تکبیر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹی کی طرح آدمیوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرح سے ان پر ذلت چھائی ہوتی جہنم میں جیل کی طرف جانکے جائیں گے دوزخ والوں کا نچوڑ (یعنی دوزخیوں کے زخموں کی پیپ) ان کو پلائی جائے گی۔
2:۔ عبد بن حمید و بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا اور ان کو بند کردیا…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ [اور قیامت کے دن ] تَرَى الَّذِيْنَ [آپ ﷺ دیکھیں گے ان کو جنہوں نے ] كَذَبُوْا عَلَي اللّٰهِ [جھوٹ کہا اللہ پر (کہ)] وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ ۭ [ان کے چہرے سیاہ پڑنے والے ہیں ] اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ [کیا جہنم میں نہیں ہے ] مَثْوًى [مستقل قیام گاہ ] لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →57:۔ ” ویوم القیمۃ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ مثلاً اس کے لیے شریک اور نائب متصرف ثابت کرتے ہیں، قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں اور جہنم میں ان کا ٹھکانا ہے کیا ایسے متکبر لوگوں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا۔ جو غرور و نخوت کے نشے میں حق کا انکار کرتے ہیں۔ کذبہم علی اللہ تعالیٰ لوصفہم لہ سبحانہ بان لہ شریکا و نحو ذلک تعالیٰ عما یصفون علوا کبیرا (روح ج 4 24 ص 19) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَي اللہِ وُجُوْہُہُمْ مُّسْوَدَّۃٌ 0 ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَہَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ 60
قِيامَةُ
والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ
[ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ،
القیامتہ
سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : وجوھھم مبتدء مسودۃ خبرد الجملۃ فی موضع الحال ھذا قول الاخفش ھذا علی تقدیر ان تکون تری من الرؤیۃ البصیریۃ و ان کانت قلبتہ فھی مفعول ثان بمفازتہم قرأ الجمہور علی الافراد قال المبر دالمفازۃ مفعلۃ من الفوز و ھو السعادۃ مصدر میمی من الفوز و ھوا لظفر و قری بمفازاتھم جمع مفازۃ کسعادۃ و سعادات الاعتبار الانواع والمعنی تنجیھم بفوزھم ای بنجاتھم من النار و فوزھم بالجنۃ لایمسہم الجملۃ مفسرۃ بمفازتھم او منصوبۃ علی الحال من الذین اتقوا۔ لہ مقالید جملۃ۔ مستانفۃ قال الجوہری المقالید المفاتح والمقالید جمع و قیل لا واحدلہ۔
تفسیر : یہ ان کی ایک اور سزا بیان فرماتا ہے۔ ویوم القیامۃ لخ کہ اللہ پر جھوٹ…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْھُھُمْ مُّسْوَدَّۃٌ ط اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّـلْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (الزمر : 60)
(تم قیامت کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں، کیا ان متکبرین کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا۔ )
مشرکین کی دروغ گوئی کا انجام
جو لوگ قیامت کے دن یہ کہیں گے کہ کاش ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا تو ہم بھی اس سے ڈرنے والوں میں سے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کی ہدایت کے لیے اپنی آیات نازل کیں۔ لیکن بجائے ان سے فائدہ اٹھانے کے انھوں نے اپنے تکبر کے باعث اپنے شرک اور اپنے غلط عقائد کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک اور بڑے گناہوں سے توبہ نہ کرنے کا نقصان۔
” اللہ “ کے نافرمان عذاب اور موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر زبان سے یا دل ہی دل میں ان حسرتوں کا اظہار کرتے ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیات میں ہوا ہے۔ اس وقت ملائکہ اپنے رب کی طرف سے جواب دیتے ہیں کہ تیرے پاس تیرے رب کے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا۔ اے نبی ﷺ آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا۔ ان کے چہرے کا لے ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک اور نافرمانیوں سے بچے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت…
Read the full tafseer →آیت، اور قیامت کے دن آپ دیکھیں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کیں جو اس کے لائق نہیں کہ اس کا شریک اور بیٹا بنادیا اور حقیقی صفات کی نفی کرتے رہے۔ آیت، ان کے چہرے سیاہ ہونگے۔ وجوہہم مبتداء اور مسودۃ خبر ہے اور یہ جملہ محل نصب میں حال ہے جبکہ تری کو رویت بصر سے لیا جائے۔ اور اگر رویت سے رویت قلب مراد ہو تو پھر یہ جملہ محل نصب میں مفعول ثانی بنے گا۔ آیت، کیا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے۔ للمتکبرین، ان متکبرین کا، اس میں استکبرت کے قول کی طرف اشارہ ہے۔ اور مثوی بمعنی مکان و ٹھکانہ۔
Read the full tafseer →تفسیر 60۔ ، ویوم القیامۃ تری الذی کذبواعلی اللہ، پس انہوں نے گمان کیا کہ اللہ کی اولاد اور شریک ہیں۔ ، وجوھھم مسودۃ الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین، ایمان والوں سے تکبر کرنے کی وجہ سے یا ایمان لانے سے تکبر کرنے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
59۔ 62۔ مسند 2 ؎ امام احمد اور نسائی میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر ڈالیں گے اور فرشتوں سے سنیں گے کہ جنت میں ان دوزخیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مکان بنائے تھے اور ٹھکانہ مقرر کیا تھا لیکن دنیا میں ان لوگوں نے جنت میں جانے کے قابل کام نہیں کئے اس واسطے وہ ٹھکانے ان سے چھن کر دوسروں کو مل گئے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپر گزرا مثلاً کبھی کہیں گے کیا اچھا ہوتا کہ آج کو ہم لوگ بھی پرہیز گاروں میں ہوتے کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتا جو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت 53
اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →107 اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کی بدحالی کا بیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کے چہرے قیامت کے روز سیاہ ہوں گے۔ کہ ان کے قلب و باطن میں پائی جانے والی کفر و باطل کی سیاہی، مشاہدے اور کشف حقائق کے اس روز ان کے چہروں پر عیاں اور نمایاں ہوجائے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پر جھوٹ باندھنا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ کذب علی اللہ کا عموم اگرچہ ہر قسم کے جھوٹ کو شامل ہے لیکن اس کا سب سے بڑا اور واضح مصداق شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے یہاں پر اس سے مراد شرک ہی لیا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرما گیا کہ " جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں گے کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات
تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔
2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔
4 ۔ جو نیک کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
۔2 یقینا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →(39:60) یوم القیمۃ مسودۃ : یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر کذبوا علی اللّٰہ بدل ہے الذین سے
وجوہہم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا ۔ مسودۃ اسم فاعل واحد مؤنث اسوداد افعلال مصدر سے ۔ سیاہ ۔ خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یہ جملہ موضع حال میں ہے لہٰذا محل نصب میں ہے۔ یعنی قیامت کے دن تو دیکھے گا۔ ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر دروغ گوئی کی درآں حالیکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
اللہ پر دروغ گوئی سے مراد اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اسے صاحب اولاد ماننا۔ یا ان صفات کی اس کی طرف نسبت کرنا جو اس کی شان کے شایان نہیں ہیں۔
الیس۔ الف استفہام انکاری کے لئے ہے لیس فعل ناقص ماضی واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
(ف 1) جب کافر کو مصیبت، شدت بلا پہنچتی ہے تو ہم کو یاد کرتا ہے عاجزی سے پکارتا ہے یہ بات ان لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سو اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے، اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہیے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے سمجھنے لگتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں اللہ کے احسانات اس آزمائش کے لیے ہیں کون شخص اس کے احسانات کا شکر ادا کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
[34] اللہ پر جھوٹ بولنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جو بات اس نے نہیں کہی ہے وہ اس کی طرف منسوب کردی جائے۔ دوسرے یہ کہ جو اس نے کہا ہے اسے اس کی جانب نسبت دینے سے انکار کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
افتراء علی اللہ کا انجام
1: اللہ کے متعلق جھوٹ بولنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے اس کی ذات عظمت صفات انکار کرتی ہے ۔ وہ گویا غلط باتوں کو غلط عقائد کو اس کی طرف سے پھیلاتے اور مشتہر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی کیفیت قیامت کے دن یہ ہوگی ۔ کہ ان کے چہرے بےنور ہونگے ۔ اور کفر وشرک کی ظلمت اور سیاہی نے ان کو بدزیب کررکھا ہوگا ۔ کیونکہ وہ دنیا میں اس نوع کے عقائد کی اس لئے اشاعت کرتے تھے ۔ کہ عوام میں ان کی عزت افزائی ہو ۔ اور موحدین کے مقابلہ میں ان کی زیادہ آؤ بھگت ہو ۔ اب مکافات عمل کے قانون کے ماتحت ان کا یہ اعزاز جس کی خاطر سے یہ لوگ کفر وشرک کی تلقین کرتے…
Read the full tafseer →(60) اے مخاطب تو قیامت کے دن لوگوں کے چہرے کالے اور سیاہ دیکھے گا جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا تھا کیا ان تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتوں کا اثبات کیا جس کا اس نے انکار کیا اور ان باتوں کا انکار کیا جس کا اس نے حکم دیا تو ایسے لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان متکبروں کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ وتریٰ میں مفسروں کے دو قول ہیں اس لئے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کی رعایت کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 5۔ اس میں دو امر آگئے۔ جو بات خدا نے نہیں کہی مثل شرک وغیرہ اس کو کہنا کہ خدا نے کہی ہے۔ اور جو بات خدا نے کہی جیسے قرآن، اس کو کہنا کہ خدا نے نہیں کہی۔
Read the full tafseer →اس طرح افسوس کرنے والوں کے ساتھ قیامت کے روز جو کچھ ہونے والا ہے اس کا ذکر
60۔ کسی طرح صاف صاف بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے روز پچھتانے والوں کو پچھتانے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور ان کے جھوٹ گھڑنے اور جھوٹ بولنے کی پوری پوری سزا دی جائے گی اور عذاب الہٰی کو دیکھتے ہی ان کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس طرح تکبر کرنے والوں کے لیے جو دنیا میں ہم چوما دیگریء نیست کی ڈینگیں مارتے رہے دوزخ بھڑکا دی گئی ہے اور وہی ان کا ٹھکانہ قرار پایا ہے خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں ؟ اس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے مثلا عروۃ الوثقی جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 107 ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
In verse 59, it was said: بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا (Why not? My verses had reached you, but you called them untrue, and waxed proud, and became of those who disbelieved...). In this verse, what the disbelievers said in: (If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah",- 39:57) has been answered. The outcome of this verse is that Allah had already given the necessary guidance, fully and conclusively. He had sent His books, verses and signs. Therefore, their claim that Allah gave them no guidance was absurd. Of course, once He had…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.
Read the full tafseer →