Explained with ayahs 53–59
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سورة الزُّمَر 72
کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
(آیت) بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا۔ اس آیت میں کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ اگر اللہ ہدایت کردیتا تو ہم متقی ہوجاتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پوری ہدایت کردی تھی اپنی کتابیں اور آیتیں بھیجی تھیں۔ اس لئے ان کا یہ کہنا غلط اور لغو ہے کہ اللہ نے ہمیں ہدایت نہیں کی۔ ہاں ہدایت کرنے کے بعد نیکی اور اطاعت پر اللہ نے کسی کو مجبور نہیں کیا۔ بلکہ بندہ کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جس راستے حق یا باطل کو اختیار کرنا چاہے کرے یہی بندہ کا امتحان تھا، اس پر اس کی کامیابی یا ناکامی موقوف تھی جس نے اپنے اختیار سے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔
Read the full tafseer →آیت 59
یہ اس عذر کا جواب ہے جو آیت 57 میں مذکور ہے کہ اس دن یہ عذر پیش کرنے والوں کو یہ جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنی آیتیں اتاری تو تھیں لیکن تم نے ان کو جھٹلایا تکبر کیا اور کا دوں میں سے بنے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہدایت دینے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کہ لوگوں کے دلوں میں زبردستی اتار دے بلکہ وہ اپنی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کا سامان فرمت ایہ اور یہ چیز وہ لوگوں پر چھوڑتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرتے ہیں یا رو سو یہ کام اللہ نے کردیا تھا لیکن تم نے اپنے تکبر کے سبب سے اس کی قدر نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
59۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ان کی خوا ہش کے جواب میں فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 59
سیاق کلام اب قیامت میں متقین اور منکرین کا ایک منظر پیش کرتا ہے۔ عین اس وقت جب قارئین کو قیامت کے برپا ہونے کے آخری لمحات تک پہنچادیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →8 یعنی غلط کہتا ہے کہ کیا اللہ نے راہ نہیں دکھلائی تھی اور اپنے پیغمبروں کو نشانات اور احکام دے کر نہیں بھیجا تھا مگر تو نے تو ان کی کوئی بات ہی نہیں سنی۔ جو کچھ کہا گیا غرور اور تکبر سے اسے جھٹلاتا رہا تیری شیخی قبول حق سے مانع رہی۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ کو ازل سے معلوم تھا کہ تو اس کی آیات کا انکار کرے گا۔ اور تکبر و سرکشی سے پیش آئے گا، تیرے مزاج و طبیعت کی افتاد ہی ایسے ہے۔ اگر ہزار مرتبہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے تب بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آسکتا۔ (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28) ایسے لوگوں کی نسبت خدا کی عادت نہیں کہ ان کو عروس…
Read the full tafseer →آیت 59 { بَلٰی قَدْ جَآئَ تْکَ اٰیٰتِیْ فَکَذَّبْتَ بِہَا وَاسْتَکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ”کیوں نہیں ! تیرے پاس میری آیات آئی تھیں تو تو ُ نے ان کو جھٹلا دیا تھا اور تکبر کیا تھا اور تو کافروں میں سے تھا۔“
Read the full tafseer →76 یعنی تو جھوٹ بکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے ایک بار پھر موقعہ دیا جائے تو میں نیکوکار بن جاؤں گا۔ جب تو دنیا میں تھا تو اس وقت تجھے میری آیات پہنچی تھیں۔ لیکن تیری فطرت ہی ایسی ہے جس میں اکڑ اور تکبر ہے جس کی وجہ سے تو میری آیات کو جھٹلاتا رہا۔ اور اب بھی تیری طبیعت ویسی کی ویسی ہے۔ وہ دوبارہ دنیا میں جاکر بدل نہیں جائے گی۔ آج جو کچھ تو کہہ رہا ہے وہ صرف عذاب کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔ جب تو نے اس سے نجات پالی تو تیری اصل فطرت پھر عود کر آئے گی۔
Read the full tafseer →74۔ جواب یہ ملے گا کہ ہدایت کا سامان تو دنیا میں پورا مل چکا تھا۔ پھر جو تو ایمان نہیں لایا، اس کی تہ میں کوئی اشتباہ عقلی نہ تھا، صرف تیرے نفس کی شرارت وخباثت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →بلی قد جاء تک اتی فکذبت بھا واستکبرت وکنت من الکفرین ہاں ! بیشک تیرے پاس میری
آیات پہنچی تھیں (مگر) تو نے ان کو جھوٹ سمجھا اور تو نے غرور کیا (اسلئے سرتابی کی) اور کافروں میں شامل رہا۔
یہ آیت گذشتہ آیت لَوْ اَنَّ اللہ ھَدٰں نِیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ کی مکمل تردید ہے ‘ کیونکہ سابق آیت میں اگر ہدایت سے رہنمائی مراد ہو تو اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے اللہ نے رہنمائی تو کردی تھی مگر تو نے سب کی تکذیب کی ‘ اس صورت میں لَوْ اَنَّ اللہ ھَدٰں نِیْ کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس کوئی پیغمبر ہی نہیں آیا ‘ نہ کسی پیغمبر نے مجھے اللہ کا پیام پہنچایا۔ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا ہاں بیشک تمہارے پاس میری کتاب اور رسول پہنچا تھا سو تم نے ان کو جھٹلایا اور ایمان لانے سے تکبر کیا اور کافروں کے ساتھ ان ہی کے طریقہ پر قائم رہے۔
Read the full tafseer →بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ۔۔ : لفظ ”اٰيٰتِيْ“ (کیوں نہیں) اس شخص کی تردید کے لیے کہا جاتا ہے جو کسی ثابت شدہ چیز کی تردید کر رہا ہو۔ کفار کے قول ”لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ“ (اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا) کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور ”لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّةً“ کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ اس نے انھیں وقت نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آئیں (یعنی میں نے اپنی آیات کے ذریعے سے تجھے ہدایت دی اور وقت بھی دیا) مگر تو نے انھیں جھٹلا دیا اور تکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد و بخاری (رح) (فی الادب) و ترمذی (رح) (وحسنہ) و نسائی (رح) وابن ومردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عمرو بن شعیب (رح) سے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تکبیر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹی کی طرح آدمیوں کی صورت میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرح سے ان پر ذلت چھائی ہوتی جہنم میں جیل کی طرف جانکے جائیں گے دوزخ والوں کا نچوڑ (یعنی دوزخیوں کے زخموں کی پیپ) ان کو پلائی جائے گی۔
2:۔ عبد بن حمید و بیہقی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن آگ کے تابوتوں میں رکھا جائے گا اور ان کو بند کردیا…
Read the full tafseer →بَلٰى [کیوں نہیں ] قَدْ جَاۗءَتْكَ [آچکیں تیرے پاس ] اٰيٰتِيْ [میری نشانیاں ] فَكَذَّبْتَ بِهَا [تو تو نے جھٹلایا ان کو ] وَاسْتَكْبَرْتَ [اور تو نے گھمنڈ کیا ] وَكُنْتَ [اور تو تھا ہی ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [ناشکری کرنے والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →56:۔ ” بلی الخ “ قیامت کے دن جب نافرمان لوگ مذکورہ بالا حیلے بہانے بنائیں گے تو جواب دیا جائے گا دنیا میں اللہ کی روشن کتاب تمہارے پاس آئی جس نے تم پر ہدایت کی راہ واضح کردی لیکن تم نے اس کو جھٹلایا اور غرور وتکبر سے اس کا انکار کیا اور ضد وعناد میں آکر حق بات کا اقرار نہ کیا۔ الکافرین ای الساترین للحق عناداً ۔ قالہ الشیخ (رح)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِہَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ 59
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔
تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…
Read the full tafseer →بَلٰی قَدْ جَآئَ تْـکَ اٰیٰـتِیْ فَـکَذَّبْتَ بِھَا وَاسْتَـکْبَرْتَ وَکُنْتَ مِنَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (الزمر : 59)
(کیوں نہیں، میری آیات تمہارے پاس آئیں، پر تم نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے بنے رہے۔ )
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں جو عذر پیش کیا گیا، یہ اس کا جواب ہے، کہ تم یہ کہتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم متقین میں سے ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے تو تم میں سے ایک ایک کے پاس اپنی آیات بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ایک ایک کا گریبان پکڑ کر کھینچا۔ دکھ اٹھا کر بھی اللہ تعالیٰ کا دین اس کے بندوں تک پہنچایا۔ لیکن تم نے اسے قبول کرنے کی بجائے ان آیات کو جھٹلایا اور تکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک اور بڑے گناہوں سے توبہ نہ کرنے کا نقصان۔
” اللہ “ کے نافرمان عذاب اور موت کی سختیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر زبان سے یا دل ہی دل میں ان حسرتوں کا اظہار کرتے ہیں جن کا ذکر اس سے پہلی آیات میں ہوا ہے۔ اس وقت ملائکہ اپنے رب کی طرف سے جواب دیتے ہیں کہ تیرے پاس تیرے رب کے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا۔ اے نبی ﷺ آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا۔ ان کے چہرے کا لے ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک اور نافرمانیوں سے بچے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت…
Read the full tafseer →آیت، (ہاں بیشک تیرے پاس میری آیات پہنچی تھیں پس تو نے ان کو جھٹلادیا۔ اور تو نے تکبر کیا اور کافروں میں شامل رہا) بلی قدجاء تک آیاتی و بینت لک الھدایۃ من الغرابۃ وسبیل الحق من الباطل و مکنتک من اختیار الہدایۃ علی الغوایۃ واختیار الحق علی الباطل۔ ولکن ترکت ذلک وضیعتہ واستکبرت عن قبلہ واثرت الضلالۃ علی الھدی واشتغلت بضد ما امرت بہ فانما جاء التضییع من قبلک فلا عذر لک۔ ہا تیرے پاس میری آیات پہنچیں اور ہدایت وغوایت کو تیرے سامنے کھول دیا گیا اور حق کو باطل سے ممتاز کردیا گیا اور ہدایت کو گمراہی کے مقابلے میں اختیار کرنے پر تجھے میں نے قدرت دی اور حق کو باطل کے مقابلے میں چناؤ کرنے کا موقعہ دیا…
Read the full tafseer →59۔۔۔۔۔۔ اس کہنے والے کو کہاجاء گا، بلی قد جاء تک ایاتی، یعنی قرآن مجید ، فکذبت بھا، اور تو نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ ، واستکبرت، تو نے اس پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ ، وکنت من الکافرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
59۔ 62۔ مسند 2 ؎ امام احمد اور نسائی میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر ڈالیں گے اور فرشتوں سے سنیں گے کہ جنت میں ان دوزخیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مکان بنائے تھے اور ٹھکانہ مقرر کیا تھا لیکن دنیا میں ان لوگوں نے جنت میں جانے کے قابل کام نہیں کئے اس واسطے وہ ٹھکانے ان سے چھن کر دوسروں کو مل گئے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپر گزرا مثلاً کبھی کہیں گے کیا اچھا ہوتا کہ آج کو ہم لوگ بھی پرہیز گاروں میں ہوتے کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتا جو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت 53
اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →105 استکبار خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے معلوم ہوا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ حق سے محرومی کا ایک بنیادی عنصر اور بڑا سبب ہے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف اس روز عذر کرنے والوں کو جواب دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمہاری ہدایت کیلئے اپنی آیتیں تو ضرور نازل فرمائی تھیں لیکن تم نے اپنے استکبار کی بنا پر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں انکا انکار کیا۔ اور تم کافروں ہی میں سے بنے رہے جسکے نتیجے میں تم اس انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو اب تم اپنے اس استکبار اور کیے کرائے کا بھگتان بھگتو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے ایسے بدبختوں کی بیماری اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات
تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔
2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔
4 ۔ جو نیک کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
۔2 یقینا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →(39:59) بلی۔ حرف اضراب ہے۔ یہاں شرک و معاصی کا ارتکاب کرنے والے کے اس قول کی تردید ہے جس کی طرف آیۃ مذکورہ لو ان اللّٰہ ھدنی لکنت من المتقین میں اشارہ ہے علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔
یہ آیت گزشتہ آیت لو ان اللّٰہ ۔۔ کی مکمل تردید ہے کیونکہ سابق آیت میں اگر رہنمائی مراد ہے تو اس آیت کا مطلب ہوگا کہ پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے اللہ نے رہنمائی تو کردی تھی مگر تو نے سب کی تکذیب کی تو اس صورت میں آیت لو ان اللّٰہ ھدنی کا یہ مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس پیغمبر آیا ہی نہیں نہ کسی پیغمبر نے مجھے اللہ کا پیغام پہنچایا ۔۔ اور اگر ہدایت سے تخلیق ہدایت اور منزل مقصود تک پہنچانا مراد ہو تو اس صورت میں لو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
(ف 1) جب کافر کو مصیبت، شدت بلا پہنچتی ہے تو ہم کو یاد کرتا ہے عاجزی سے پکارتا ہے یہ بات ان لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سو اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے، اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہیے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے سمجھنے لگتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں اللہ کے احسانات اس آزمائش کے لیے ہیں کون شخص اس کے احسانات کا شکر ادا کرتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
وہاں مہلت نہیں ملے گی
3: غرض یہ ہے ۔ کہ اللہ کے تمام احکام حسن و جمال منطق سے آراستہ ہیں ۔ ان کی اطاعت کی صورت یہ ہے کہ دنیا میں ان کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانی کے بدلے اچانک اور غیر متوقع طور پر اللہ کا عذاب آجائے ۔ اور تم اس کی تلافی نہ کرسکو ۔ جب تم پر اچانک اللہ کا عذاب آجائے ۔ اس وقت تمہیں افسوس ہو ۔ اور تم کہو کہ ہم نے کیوں اللہ کے باب میں کوتاہی سے کام لیا ۔ تمہیں اس وقت یہ خیال نہ آئے ۔ کہ اگر اللہ دنیا میں ہمیں توفیق ہدایت سے بہرہ مند کرتا ۔ تو ہم ضرور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرتے ۔ یا تم یوں کہنے لگو ۔ کہ اگر اب کے مہلت ملے ۔ تو قطعاً صالح بننے کی کوشش…
Read the full tafseer →(59) ہاں یہ واقعہ ہے کہ میرے احکام تجھ تک پہنچے تھے پھر تونے ان کو جھٹلایا اور تونے میری آیتوں کے مقابلے میں تکبر کیا اور تو منکروں میں شامل رہا۔ یعنی تو غلط کہتا ہے کہ تو ہدایت نہیں کیا گیا بلکہ پیغمبروں کا بھیجنا اور آیات کا نزول یہ سب کچھ ہدایت کے اسباب تھے تو خود ہی تکذیب کرتا رہا اور خود ہی تونے تکبر کا اظہار کیا اور خود ہی کافروں میں شامل رہا پھر ہم پر کیوں الزام لگاتا ہے۔
جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جبرفی الہدایت نہیں کیا جاتا یہی جواب پہلے اور تیسرے جملے کا ہوسکتا ہے مگر ذرا تفصیل کے ساتھ جس کی تیسیر گنجائش نہیں چونکہ لوان اللہ ھدئنی کا جواب ظاہر تھا اس لئے ہم نے اس پر کفایت کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ف 4۔ مراد اس سے عذاب آخرت ہے۔
Read the full tafseer →افسوس کرنے والے کو قبل از وقت ہی جواب دیا جا رہا ہے جس کی یاد دہانی کرائی جائے گی
59۔ کتنا واضح اور دوٹوک جواب اس کو دیا جا رہا ہے اور اس کی بھلائی کے لیے قرآن کریم نے اس جواب کو پڑھ کر سنا دیا ہے کہ اے افسوس کرنے والے ! اب تیرے اس طرح افسوس کرنے کا کیا فائدہ ؟ ہم نے تو تیرے سامنے اپنی آیات رکھیں اور تجھے بار بار بتایا لیکن تو نے ہماری ہر بات کو جھٹلایا اور تکبر کرتے ہوئے تو نے اپنے وسیلوں اور آسروں کا ذکر کیا اور میرے بھیجے ہوئے رسولوں کی اور میری کتابوں کی تکذیب کی اور اب تیرے اس پچھتاوے کا تجھے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ وسیلے اور آسرے تیرے کچھ کام آئیں گے ، اس مضمون کو گزشتہ آیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
In verse 59, it was said: بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا (Why not? My verses had reached you, but you called them untrue, and waxed proud, and became of those who disbelieved...). In this verse, what the disbelievers said in: (If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah",- 39:57) has been answered. The outcome of this verse is that Allah had already given the necessary guidance, fully and conclusively. He had sent His books, verses and signs. Therefore, their claim that Allah gave them no guidance was absurd. Of course, once He had…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.
Read the full tafseer →