Explained with ayahs 53–59
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سورة الزُّمَر 72
کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
(آیت) اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى سے مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ تک۔ کی تین آیتوں میں اسی مضمون کی تشریح و تاکید ہے، جو اس سے پہلے کی تین آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے مجرم کافر عاجز کو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اگر وہ توبہ کرلے گا تو اللہ اس کے سب پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔ ان تقول نفس سے تین آیتوں میں یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ یہاں تک کفر و شرک کو بھی توبہ سے معاف فرما دیتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ توبہ کا وقت مرنے سے پہلے ہے، مرنے کے بعد قیامت کے روز کوئی توبہ کرے یا اپنے کئے پر حسرت کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
جیسا کہ بعض کفار فجار قیامت کے روز…
Read the full tafseer →آیت 58
یا یہ عذر کریں کہ اگر اللہ نے ہم کو ہدایت دی ہوتی تو ہم اس سے ڈرنے والوں میں سے بنتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے عذرات کا سدباب کرنے کے لئے اللہ نے اپنی ہدایت نازل فرما دی ہے۔ اب جو لوگ اس سے اعراض کریں گے ان کی گمراہی کی ذمہ داری تمام تر انہی پر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
59۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ان کی خوا ہش کے جواب میں فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 58
اور یہ تو ایک ایسی آرزو ہے ، جسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ جب یہ زندگی ختم ہوگی تو دوبارہ اس جہاں میں کسی کے بھیجے جانے کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیا تم دارالعمل میں موجود نہیں ہو۔ یہ ایک فرصت ہے اور جب یہ ختم ہوجائے تو پھر وقت لوٹ کر نہیں آتا۔ اور اس وقت کے بارے میں تم سے نہایت ہی سرزنش کے انداز میں بازپرس ہوگی !
Read the full tafseer →7 جب حسرت و اعتذار دونوں بیکار ثابت ہوں گے اور دوزخ کا عذاب آنکھوں کے سامنے آجائے گا اس وقت شدت اضطراب سے کہے گا کہ کس طرح مجھ کو ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے تو دیکھو میں کیسا نیک بن کر آتا ہوں۔
Read the full tafseer →آیت 58 { اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ } ”یا جب وہ عذاب کو دیکھے تو یوں کہے کہ اگر مجھے ایک بار لوٹنا نصیب ہوجائے تو میں محسنین میں سے ہو جائوں !“
یعنی اگر مجھے ایک دفعہ دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو میں صرف مسلم ‘ صرف مومن یا صرف متقی ہی نہیں بنوں گا بلکہ محسنین کی صف میں جگہ بنا لوں گا۔
Read the full tafseer →75 مگر اس حسرت کا کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اس طرف سے مایوس ہونے کے بعد اب وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے ایک بار پھر دنیا میں بھیج کر موقعہ دیا جائے۔ تو میں یقیناً اچھے عمل کروں گا تاکہ میں بھی نیک لوگوں میں شامل ہوسکوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
73۔ یہ سب کافروں کی طرف سے قیامت میں پیش ہونے والے ممکن عذرات ہیں، یہاں ان سب کی جڑ ہی کاٹ دی گئی ہے۔ (آیت) ” احسن ماانزل الیکم “۔ مراد قرآن مجید ہے، اضافت محض بیانیہ ہے۔ یعنی وہ (آیت) ” احسن “ جو (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کی طرف منسوب ہے، یا قرآن کو غیر قرآن سے ممتاز کرتی ہے۔ ھو القران وکلہ حسن (قرطبی) (آیت) ” من ربکم “۔ رب کا لفظ لانے میں خود ایک بڑا ترغیبی پہلو آگیا ہے۔ یعنی وہ کلام تو اس کا نازل کیا ہوا ہے جو خود تمہارے حق میں سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ (آیت) ” ان تقول “۔ ان یہاں لئلا کے مرادف ہے۔ اے لئلا تقول (مدارک) (آیت) ” نفس “۔ نفس صیغہ نکرہ میں اس لئے ہے کہ صرف نفس کافر مراد ہے۔ انما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →او تقول حین تری العذاب لو ان لی کرۃ فاکون من المحسنین یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے
لگے کہ کاش ! دنیا میں ایک بار مجھے لوٹ جانا مل جائے تو میں بھی نیک بندوں میں سے ہوجاؤں۔
فَاکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ نیک عمل مؤمنوں میں سے ہوجاؤں ‘ یعنی قیامت کے دن حسرت سے اس قسم کی باتیں کہنے کی گنجائش نہ رہے ‘ یا اس قسم کی بیکار باتیں نہ کہنے پائے۔
Read the full tafseer →یا کوئی عذاب دیکھ کر یوں نہ کہنے لگے کہ کاش میرا دنیا میں لوٹ جانا ہوجائے پھر میں موحدین میں سے ہوجاؤں۔
Read the full tafseer →اَوْ تَـقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ۔۔ : پچھلی آیت کے ضمن میں کفار کے اللہ تعالیٰ پر اس جھوٹ کا ذکر تھا کہ اس نے انھیں ہدایت نہیں دی، اس آیت کے ضمن میں ان کے ایک اور جھوٹ کا ذکر ہے کہ اس نے انھیں نیک بننے کے لیے وقت نہیں دیا، اگر انھیں دوبارہ بھیجا جائے تو وہ نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجائیں گے۔ چناچہ وہ عذاب دیکھ کر دنیا میں ایک دفعہ واپس جانے کی ناکام تمنا کریں گے۔ (دیکھیے انعام : 27، 28) طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے وہ بات جو بندے کہنے والے ہیں، ان کے کہنے سے پہلے بتادی ہے اور (دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
اعمال صالحہ کی پابندی :
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموالہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے لئے اسلام لے آؤ) یعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے عبید بن یعلی (رح) سے روایت کیا کہ انابت سے مراد ہے دعا کرنا۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ (کبھی کل قیامت کے دن کوئی کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی) یعنی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے لوگوں کی بات کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا بات کریں گے اور ان کے عمل کرنے سے…
Read the full tafseer →اَوْ [یا (اس سے پہلے کہ)] تَـقُوْلَ [وہ (جان) کہے ] حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ [جس وقت وہ دیکھے عذاب کو ] لَوْ اَنَّ [کاش کہ ] لِيْ كَرَّةً [میرے لئے ایک اور باری ہوتی ] فَاَكُوْنَ [نتیجتاً میں ہوجاتا ] مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ [نیکوکاروں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55:۔ ” واتبعوا الخ “ یہ پانچویں دلیل وحی ہے علی سبیل الترقی من الادنی الی الاعلی۔ پہلے فرمایا اعلان کرو میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا جو کچھ کہتا ہوں اللہ کی وحی سے کہتا ہوں۔ پھر فرمایا یہ کیسی عمدہ اور پر تاثیر کتاب ہے (دلیل وحی سوم) یہاں رمایا اس احسن واعلیٰ کتاب کی دل و جان سے پیروی کرو جو تمہارے خالق ومالک کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ قبل اس کے کہ اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے اچانک ہی تم پر اللہ کا عذاب آپہنچے اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ ” ان تقول الخ ای لئلا تقول الخ “ (روح) ۔ ” فی جنب اللہ “ اللہ کی جانب میں یعنی اس کی اطاعت اور توحید میں۔ یعنی اس احسن و اعلیٰ کتاب کی پیروی کرو تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →اَوْ تَـقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِيْ كَرَّۃً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِـنِيْنَ 58
حين
الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3]
( ح ی ن ) الحین
۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔
تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…
Read the full tafseer →اَوْتَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الزمر : 58)
(یا کوئی یہ کہے جس وقت وہ عذاب کو دیکھے کہ کاش مجھے (دنیا میں جانے کا) ایک موقع ملے تو میں نیک عمل کرنے والوں میں سے بن جاؤں گا۔ )
حق کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھیں تو اس تمنا کا اظہار کرنے لگیں کہ کاش ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم اللہ تعالیٰ کے نیکوکار بندوں میں سے بن جائیں گے۔ لیکن ان کی اس تمنا کی کوئی قیمت نہیں ہوگی کیونکہ یہ دارالجزا ہے، دارالعمل نہیں، اس کا دور گزر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔
گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا…
Read the full tafseer →آیت، یا کوئی عذاب دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ کاش۔ آیت، کہ میں واپس لوٹ جاؤ۔ کرۃ کا معنی دنیا کی طرف لوٹنا۔ آیت، فاکون من المحسنین، پھر میں نیک بندوں میں سے ہوجاؤ۔ المحسنین یہاں موحدین کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →(58) اوتقول حین تری العذاب، سامنے ، لوان لی کرۃ، دنیا کی طرف لوٹنا۔ ، فاکون من المحسنین، موحد ین میں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت 53
اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
104 قرآن حکیم کے نزول سے منکرین پر حجت تمام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب ہدایت کے نزول سے منکرین کے تمام عذرات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اب کسی کے لیے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اپنے کئے کا انجام دیکھ کر اپنی ماضی پر افسوس کرنے لگے یا تقدیر کا بہانہ کرنے لگے۔ یا دنیا میں پھر واپس آنے کی آرزو و تمنا کرنے لگے۔ سو ایسی کسی بات کا اس وقت اس کو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کتاب ہدایت کے نزول کے ذریعے منکرین و مکذبین کے ایسے تمام عذرات کا خاتمہ فرما دیا گیا کہ اس کے نزول کے بعد ان کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ سکے گی۔ اور کرم بالائے کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات
تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔
2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔
4 ۔ جو نیک کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
۔2 یقینا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →(39:58) او تقول۔ اس کی تشریح آیات 56:57 متذکرہ بالا۔ میں دیکھیں۔
تری مضارع واحد مؤنث غائب۔ ر أ ی مادہ رؤیۃ مصدر۔ وہ دیکھتی ہے وہ دیکھے گی۔
لو ان لی کرۃ۔ جملہ تمنائی ہے فاکون من المحسنین اس کا جواب ہے لو کاش کرۃ (منصوب بوجہ عمل ان) ۔
الکر : کر یکر (باب نصر) سے مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ مصدر بمعنی مڑنا۔ لوٹنا۔ جیسے انھزم عنہ ثم کر علیہ۔ اس نے اس سے شکست کھائی اور پھر حملہ کے لئے لوٹ پڑا۔ یعنی پینترا بدلنے کے لئے وہ بھاگا پھر اس نے دوبارہ حملہ کیا۔ کرار اسم صفت ہے پھر پھر کر حملہ کرنے والا۔ اور تکرار کسی شے کو بار بار کرنا۔
کرۃ میں تا وحدت کی ہے یعنی ایک بار۔ گویا کرۃ کے معنی ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
(ف 2) قیامت کے دن جب ان اختلافات کا فیصلہ سنایاجائے گا اس قوت جو ظالم کفر کرکے اللہ کی شان گھٹاتے ہیں ان کا سخت براحال ہوگا اگر اس روز فرض کیجئے کل روئے زمین کے خزانے بلکہ اس سے دوگنا ان کے پاس ہوں تو چاہیں گے کہ سب دے دلا کر کسی طرح اپنا پیچھا چھڑا لیں، جو بدمعاشیاں دنیا میں کی تھیں سب ایک ایک کرے ان کے سامنے ہوں گی اور ایسے قسم قسم کے ہولناک عذابوں کا مزہ چکھیں گے جو کبھی ان کے خیال و گمان میں نہ گزرے تھے غرض توحید خالص اور دین حق سے جو ہنسی کرتے تھے اس کا وبال پڑ کررہے گا اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
وہاں مہلت نہیں ملے گی
3: غرض یہ ہے ۔ کہ اللہ کے تمام احکام حسن و جمال منطق سے آراستہ ہیں ۔ ان کی اطاعت کی صورت یہ ہے کہ دنیا میں ان کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانی کے بدلے اچانک اور غیر متوقع طور پر اللہ کا عذاب آجائے ۔ اور تم اس کی تلافی نہ کرسکو ۔ جب تم پر اچانک اللہ کا عذاب آجائے ۔ اس وقت تمہیں افسوس ہو ۔ اور تم کہو کہ ہم نے کیوں اللہ کے باب میں کوتاہی سے کام لیا ۔ تمہیں اس وقت یہ خیال نہ آئے ۔ کہ اگر اللہ دنیا میں ہمیں توفیق ہدایت سے بہرہ مند کرتا ۔ تو ہم ضرور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرتے ۔ یا تم یوں کہنے لگو ۔ کہ اگر اب کے مہلت ملے ۔ تو قطعاً صالح بننے کی کوشش…
Read the full tafseer →(58) یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کاش مجھے دنیا میں پھرجانے کا موقعہ مل جائے تو میں بھی نیکوکاروں میں سے ہوجائوں - یعنی عذات کا معائنہ کرنے کے بعد یا دوزخ میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا کرنے لگے کہ مجھ کو دوبارہ جانے کا موقعہ مل جائے تو میں نیکوں میں سے ہوجائوں بہرحال یہ باتیں سب ہی کہیں گے یا بعض پہلا اور دوسرا جملہ کہیں گے اور بعض پہلا بعض دوسرا بعض تیسرا۔
غرض تردید علی سبیل مانعتہ الخلو ہے یہ جملے کہے ضرور جائیں گے خواہ سب کہیں یا کوئی کچھ کہے آگے ان کہنے والوں کا رد ہے اگرچہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے کا قول ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے اپنی گمراہی پر تقدیر کی آڑ پکڑی اور لوان اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ف 4۔ مراد اس سے عذاب آخرت ہے۔
Read the full tafseer →عذاب کو دیکھیں گے تو افسوس سے کہیں گے کہ کاش ہم ایک بار دنیا میں لوٹ جائیں
58۔ مقام غور ہے کہ اگر مرنے کے بعد مرنے والے کو عذاب سے اس کے پیچھے رہ جانے والے چھڑا سکتے ہوتے تو کسی ایک جگہ تو قرآن کریم اس کا ذکر کرتا اور مرنے والے کی عذاب کو دیکھ کر یہ خواہش ہوتی کہ اب تو ایک صورت ہے کہ میرے پیچھے والوں کو خیال آجائے اور وہ میرا فدیہ دے کر مرنے والا جب عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا تو پکار پکار کر کہے گا کہ کاش میرے لیے ایک بار دنیا میں دوبارہ لوٹائے جانے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے تو میں نیکوکاروں میں ہو جائوں۔ زیر نظر آیت کے الفاظ کو بار بار پڑھو اور ایک ایک لفظ کے معنی سمجھ کر ان پر غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
The next three verses (56-58), beginning from: أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ (Pity on me, because I fell short in respect of Allah... 39:56) and concluding on: مِنَ الْمُحْسِنِينَ (...become one of those who are good in deed - 39:58), have elaborated and emphasized the subject of the three verses earlier to it (53-55), that no sinner of any description should despair of the mercy of Allah, for should he repent, Allah will forgive all his past sins. But through the use of the expression: أَن تَقُولَ نَفْسٌ (lest someone should say) at the head of the three verses: 56, 57 and 58, it was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.
Read the full tafseer →