Az-Zumar 39:57

Az-Zumar · from ayah 57

39:57

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ۟ۙاَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰٮنِىۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَۙ

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or [lest] it say, "If only Allah had guided me, I would have been among the righteous."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:57

یا کہے "کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا کوئی یہ کہے کہ : اگر مجھے اللہ ہدایت دیتا تو میں بھی متقی لوگوں میں شامل ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا کہے کہ اگر واقعی اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا یوں کہے کہ : اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیزگاروں سے ہوتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا کوئی یہ کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی ڈرنے والوں میں سے ہوتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے (نور) ہدایت سے نوازا ہوتا تو یقینا میں بھی ہوجاتا پرہیزگاروں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دیدی ہوتی تو میں (بھی) پرہیزگاروں میں ہوتا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہوجاتا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا یہ کہنے لگے کہا گر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and lest a person should say: “If only Allah had guided me, I should have been one of the God-fearing”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

or, (lest) someone should say, :If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah ,

— Muhammad Taqi Usmani

or, (lest) someone should say, :If Allah were to show me the way, I would have surely been among those who fear Allah ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or (lest) he should say: "If only Allah had guided me, I should indeed have been among those who have Taqwa."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or should say: If Allah had but guided me I should have been among the dutiful!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or [lest] it say, "If only Allah had guided me, I would have been among the righteous."

— Saheeh International

Or before the soul says, "Had God guided me, I could have been a pious man".

— Muhammad Sarwar

Or it should say: Had Allah guided me, I would certainly have been of those who guard (against evil);

— Muhammad Habib Shakir

Or, lest it should say: had Allah but guided me, I should surely have been of the God-fearing!

— Abdul Majid Daryabadi

"Or (lest) it should say: 'If only Allah had guided me, I should certainly have been among the righteous!'-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–59

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔ اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–61

سورة الزُّمَر 72 کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–58

(آیت) اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى سے مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ تک۔ کی تین آیتوں میں اسی مضمون کی تشریح و تاکید ہے، جو اس سے پہلے کی تین آیتوں میں بیان فرمایا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے مجرم کافر عاجز کو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے، اگر وہ توبہ کرلے گا تو اللہ اس کے سب پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔ ان تقول نفس سے تین آیتوں میں یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ یہاں تک کفر و شرک کو بھی توبہ سے معاف فرما دیتا ہے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ توبہ کا وقت مرنے سے پہلے ہے، مرنے کے بعد قیامت کے روز کوئی توبہ کرے یا اپنے کئے پر حسرت کرے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بعض کفار فجار قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–57

آیت 56 ان سے پہلے مضاف یہاں محذوف ہے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا اہتمام اس لئے فرمایا ہے کہ مباد محاسبہ کا وقت آجائے اور جو لوگ غافل ہیں ان کو پچھتانا پڑے کہ ان سے خدا کے باب میں بڑی کتواہی ہوئی کہ دنیا کی خود فراوشیوں میں گم ہو کر انہوں نے روز آخرت کو بھلائے رکھا اور مزید ظلم یہ کیا کہ جن لوگوں نے اس کی یاد دہانی کی ان کا مذاق اڑانے والے بنے رہے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

57۔ 1 یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا، (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا) (6۔ الانعام :148) اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، ان کا قول کَلِمَۃُ حَقٍّ بِھَا الْبَاطِلُ کا مصداق ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 57 یہ استدلال بادی النظر میں غلط ہے۔ فرصت کی گھڑی موجود ہے ، ہدایت کے ذرئع موجود ہیں ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور تمہیں آزادی دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 جب حسرت و افسوس سے کام نہ چلے گا تو اپنا دل بہلانے کے لیے یہ عذر پیش کرے گا کہ کیا کہوں خدا نے مجھ کو ہدایت نہ کی۔ وہ ہدایت کرنا چاہتا تو میں بھی آج متقین کے درجہ میں پہنچ جاتا (اس کا جواب آگے آتا ہے۔ (بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ) 39 ۔ الزمر :5) اور ممکن ہے یہ کلام بطریق اعتذار واحتجاج نہ ہو بلکہ محض اظہار یاس کے طور پر ہو۔ یعنی میں اپنی سوء استعداد اور بدتمیزی کی وجہ سے اس لائق نہ تھا کہ اللہ مجھ کو راہ دکھا کر منزل مقصود تک پہنچا دیتا۔ اگر مجھ میں اہلیت و استعداد ہوتی اور اللہ میری دستگیری فرماتا تو میں بھی آج متقین کے زمرہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 { اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰٹنِیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ } ”یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہوجاتا !“ اگر کوئی شخص ایسے کہے گا تو گویا وہ اپنے اس اختیار کی نفی کرے گا جو اسے انسان کی حیثیت سے دنیا میں عطا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنایا تھا اور اختیار دیا تھا : { اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا } الدھر کہ چاہو تو میرے شکر گزار بندے بن کر رہو اور چاہو تو نافرمان اور ناشکرے بن جائو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–57

74 یعنی میں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے آباء کی تقلید کو ترجیح دی۔ اللہ کے حقوق دوسروں کو دیتا رہا۔ اللہ کے بجائے دوسروں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا رہا۔ اللہ کے دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا اور اللہ کی آیات اور اس کی وعید کا مذاق اڑاتا رہا۔ اور ان چیزوں کی کوئی حقیقت ہی نہ سمجھی۔ کاش ! میں ایسے ایسے کام نہ کرتا جس کے نتیجہ میں مجھے آج یہ برا وقت دیکھنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 55–58

73۔ یہ سب کافروں کی طرف سے قیامت میں پیش ہونے والے ممکن عذرات ہیں، یہاں ان سب کی جڑ ہی کاٹ دی گئی ہے۔ (آیت) ” احسن ماانزل الیکم “۔ مراد قرآن مجید ہے، اضافت محض بیانیہ ہے۔ یعنی وہ (آیت) ” احسن “ جو (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کی طرف منسوب ہے، یا قرآن کو غیر قرآن سے ممتاز کرتی ہے۔ ھو القران وکلہ حسن (قرطبی) (آیت) ” من ربکم “۔ رب کا لفظ لانے میں خود ایک بڑا ترغیبی پہلو آگیا ہے۔ یعنی وہ کلام تو اس کا نازل کیا ہوا ہے جو خود تمہارے حق میں سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ (آیت) ” ان تقول “۔ ان یہاں لئلا کے مرادف ہے۔ اے لئلا تقول (مدارک) (آیت) ” نفس “۔ نفس صیغہ نکرہ میں اس لئے ہے کہ صرف نفس کافر مراد ہے۔ انما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–63

آیت نمبر 53 تا 63 ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر (دنیا میں) اللہ مجھے ہدایت کردیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ المتقین سے مراد ہیں بچنے والے۔ یعنی شرک اور گناہوں سے بچنے والے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 56–57

(56۔ 57) ایسا نہ ہو کہ تم میں پھر کوئی کہنے لگے ہائے افسوس کہ میں نے اطاعت خداوندی کو چھوڑا تھا اور میں تو کتاب اللہ اور اس کے رسول کا مذاق ہی اڑاتا رہا اور تاکہ پھر کوئی یوں نہ کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ایمان کو بیان فرماتے تو میں بھی موحدین میں سے ہوتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِي۔۔ : یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے : (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۭ) [ الأنعام : 148 ] ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔“ دیکھیے سورة انعام (148) اور سورة نحل (35) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 53–59

53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 54–58

اعمال صالحہ کی پابندی : 1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموالہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے لئے اسلام لے آؤ) یعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عبید بن یعلی (رح) سے روایت کیا کہ انابت سے مراد ہے دعا کرنا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ (کبھی کل قیامت کے دن کوئی کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی) یعنی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے لوگوں کی بات کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا بات کریں گے اور ان کے عمل کرنے سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَوْ [یا (اس سے پہلے کہ)] تَقُوْلَ [وہ (جان) کہے ] لَوْ اَنَّ [اگر یہ کہ ] اللّٰهَ هَدٰىنِيْ [اللہ ہدایت دیتا مجھ کو ] لَكُنْتُ [تو میں ضرور ہوتا ] مِنَ الْمُتَّقِيْنَ [تقوی اختیار کرنے والوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 56–60

(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ) (الآیات الثلاث) ان آیات میں یہ بتادیا کہ اسی دنیا میں اپنے اعمال درست کرلیے جائیں گناہوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص پچھتاتے ہوئے یوں نہ کہے کہ ہائے ہائے میں نے کیا کیا اللہ تعالیٰ شانہٗ کے احکام کے بارے میں تقصیر کی اب مجھے یہاں اس کی سزا مل رہی ہے اور نہ صرف یہ کہ میں نافرمان تھا بلکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے دین کا مذاق بنانے والوں میں سے تھا اور اس کے نیک بندوں کی ہنسی اڑاتا تھا اور کوئی شخص میدان قیامت میں یوں نہ کہنے لگے کہ اے اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا یعنی گناہ نہ کرتا (اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج دیا قرآن نازل فرما دیا ایمان کی دعوت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–63

بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔ (ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 55–58

55:۔ ” واتبعوا الخ “ یہ پانچویں دلیل وحی ہے علی سبیل الترقی من الادنی الی الاعلی۔ پہلے فرمایا اعلان کرو میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا جو کچھ کہتا ہوں اللہ کی وحی سے کہتا ہوں۔ پھر فرمایا یہ کیسی عمدہ اور پر تاثیر کتاب ہے (دلیل وحی سوم) یہاں رمایا اس احسن واعلیٰ کتاب کی دل و جان سے پیروی کرو جو تمہارے خالق ومالک کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ قبل اس کے کہ اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے اچانک ہی تم پر اللہ کا عذاب آپہنچے اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ ” ان تقول الخ ای لئلا تقول الخ “ (روح) ۔ ” فی جنب اللہ “ اللہ کی جانب میں یعنی اس کی اطاعت اور توحید میں۔ یعنی اس احسن و اعلیٰ کتاب کی پیروی کرو تاکہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–63

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللہَ ہَدٰىنِيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ۝ 57ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔ تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوْتَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدٰنِیْ لَـکُنْتُ مِنَ الْمَتَّقِیْنَ ۔ (الزمر : 57) (یا کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت عطا فرماتا تو میں بھی ڈرنے والوں میں سے ہوتا۔ ) انسان جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو پھر اس کے پچھتاو وں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ اپنی کوتاہیوں میں سے کبھی کسی کا ذکر کرتا ہے اور کبھی کسی کا۔ اسی طرح اس مصیبت سے بچنے کے جو اسباب ہوسکتے تھے ان میں سے بھی کبھی کسی کی بات چھیڑتا ہے اور کبھی کسی کی۔ یہاں ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر قرآن کریم کی پیروی نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ کل کو جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔ گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت، یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت کرتا۔ یعنی ہدایت دینتا، آیت، تو میں بھی پرہیز گاروں میں سے ہوتا، ان لوگوں میں سے ہوتا جو شرک سے بچتے ہیں۔ شیخ ابو منصور (رح) کا قول : یہ کافر معتزلہ کی بنسبت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو زیادہ جاننے والا ہے اور اسی طرح وہ کفار بھی ان سے زیادہ ہدایت الٰہی سے آگاہ ہیں جنہوں نے اپنے متبعین کو یہ کہا، لو ھدانا اللہ لھدینا کم، وہ یہ کہیں گے اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق دیتے اور ہدایت عنایت فرماتے تو ہم تمہیں بھی اس کی طرف دعوت دیتے اور بلاتے۔ لیکن اس نے ہم سے ضلالت وغوایت کا اختیار کرنا جانا، پس ہمیں ذلیل کردیا اور ہمیں توفیق نہ دی۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 56–57

56، ان تقول نفس، یعنی تاکہ کوئی نفس یہ نہ کہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ، والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم، یعنی تاکہ وہ تم کو لے کر نہ ہلے۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ جلدی کرو اور ڈرو اس سے کہ کوئی نفس یہ نہ کہہ دے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے ڈرایا ہے کہ تم اس حال تک پہنچ جاؤ کہ تم یہ بات کہنے لگو، یاحسرتی، اے ندامت ! ، تحسر، کا معنی ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر غم کرنا اور آیت میں ، یاحسرتی، اضافت کی بناء پر ہے لیکن عرب یاء ضمیر کو استغاثہ میں الف سے تبدیل کردیتے ہیں ۔ پس تو کہے گا، یاویلتی ، اور یا، ندامتا، اور بسا اوقات اس کے ساتھ الف کے بعد یاء لاحق کردیتے ہیں تاکہ وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–58

53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–60

آیت 53 اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–58

104 قرآن حکیم کے نزول سے منکرین پر حجت تمام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب ہدایت کے نزول سے منکرین کے تمام عذرات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اب کسی کے لیے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اپنے کئے کا انجام دیکھ کر اپنی ماضی پر افسوس کرنے لگے یا تقدیر کا بہانہ کرنے لگے۔ یا دنیا میں پھر واپس آنے کی آرزو و تمنا کرنے لگے۔ سو ایسی کسی بات کا اس وقت اس کو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس کتاب ہدایت کے نزول کے ذریعے منکرین و مکذبین کے ایسے تمام عذرات کا خاتمہ فرما دیا گیا کہ اس کے نزول کے بعد ان کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ سکے گی۔ اور کرم بالائے کرم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔ 1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔ 2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔ 3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔ 4 ۔ جو نیک کام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–63

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63: اسرار و معارف : نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–57

ف 1 یعنی جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر الزام دھرنے لگے کہ اسی نے مجھے ہدایت نہ دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ اور قرآن کو اپنی طرف سے حجت تمام کردی ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:57) او تقول : او حرف عطف ، تقول مضارع منصوب واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے جو یہاں محذوف ہے۔ فعل مضارع سے قبل عامل ان (مصدریہ، ناصبہ) محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی :۔ او ان تقول نفس ۔۔ الخ نحوی تشریح کے لئے آیت 56 متذکرہ بالا ملاحظہ فرمائیں۔ لو ان اللّٰہ ھدنی۔ جملہ شرطیہ ہے لکنت من المتقین۔ اس کی جزاء (یا کوئی جان یا نفس یا شخص یہ کہے کہ) اگر (دنیا میں) اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا ۔ یعنی شرک اور معاصی سے بچا رہتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–63

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–58

(ف 2) قیامت کے دن جب ان اختلافات کا فیصلہ سنایاجائے گا اس قوت جو ظالم کفر کرکے اللہ کی شان گھٹاتے ہیں ان کا سخت براحال ہوگا اگر اس روز فرض کیجئے کل روئے زمین کے خزانے بلکہ اس سے دوگنا ان کے پاس ہوں تو چاہیں گے کہ سب دے دلا کر کسی طرح اپنا پیچھا چھڑا لیں، جو بدمعاشیاں دنیا میں کی تھیں سب ایک ایک کرے ان کے سامنے ہوں گی اور ایسے قسم قسم کے ہولناک عذابوں کا مزہ چکھیں گے جو کبھی ان کے خیال و گمان میں نہ گزرے تھے غرض توحید خالص اور دین حق سے جو ہنسی کرتے تھے اس کا وبال پڑ کررہے گا اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–59

[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–59

وہاں مہلت نہیں ملے گی 3: غرض یہ ہے ۔ کہ اللہ کے تمام احکام حسن و جمال منطق سے آراستہ ہیں ۔ ان کی اطاعت کی صورت یہ ہے کہ دنیا میں ان کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانی کے بدلے اچانک اور غیر متوقع طور پر اللہ کا عذاب آجائے ۔ اور تم اس کی تلافی نہ کرسکو ۔ جب تم پر اچانک اللہ کا عذاب آجائے ۔ اس وقت تمہیں افسوس ہو ۔ اور تم کہو کہ ہم نے کیوں اللہ کے باب میں کوتاہی سے کام لیا ۔ تمہیں اس وقت یہ خیال نہ آئے ۔ کہ اگر اللہ دنیا میں ہمیں توفیق ہدایت سے بہرہ مند کرتا ۔ تو ہم ضرور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرتے ۔ یا تم یوں کہنے لگو ۔ کہ اگر اب کے مہلت ملے ۔ تو قطعاً صالح بننے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) یا کوئی کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ میری رہنمائی کرتا اور مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیز گاروں میں سے ہوتا - یعنی اگر اللہ تعالیٰ میری دستگیری فرماتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا اور ساخرین میں شامل نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یا یوں کہنا پڑے کہ کاش میں ہدایت یافتہ ہو کر متقین میں داخل ہوتا 57۔ انسان جب پھنس جاتا ہے تو اس کے منہ سے افسوس کے کلمات نکلتے ہیں اور اس وقت وہ اپنی نالائقیوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے منہ سے کبھی کچھ اور کبھی کچھ الفاظ نکالتا ہے اور اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ اس فطری تقاضا کا بیان جاری ہے اور افسوس کرنے والا کبھی کوئی بات منہ سے نکالے گا اور کبھی کوئی بات۔ زیر نظر آیت میں وہ کہہ رہا ہے کہ ” اے کاش ! اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی “ افسوس کے کلمات انسان جب منہ سے نکالتا ہے تو ان کی کیفیت کچھ عجیب سے ہوتی ہے اور وہ کبھی بھی کلمات منہ سے نکالتے وقت نہیں سوچتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں مثلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–58

The next three verses (56-58), beginning from: أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَ‌تَىٰ (Pity on me, because I fell short in respect of Allah... 39:56) and concluding on: مِنَ الْمُحْسِنِينَ (...become one of those who are good in deed - 39:58), have elaborated and emphasized the subject of the three verses earlier to it (53-55), that no sinner of any description should despair of the mercy of Allah, for should he repent, Allah will forgive all his past sins. But through the use of the expression: أَن تَقُولَ نَفْسٌ (lest someone should say) at the head of the three verses: 56, 57 and 58, it was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–61

72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.

Read the full tafseer →