Az-Zumar 39:54

Az-Zumar · from ayah 54

39:54

وَاَنِیْبُوْۤا اِلٰی رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ۟وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And return [in repentance] to your Lord and submit to Him before the punishment comes upon you; then you will not be helped.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:54

پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اُس کے قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آ جائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اپنے پروردگار سے لو لگاؤ، اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تمہارے پاس عذاب آپہنچے، پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ اور اس کے حضور گردن رکھو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اپنے رب کی طرف توبہ و انابت اختیار کرو اور اس کے اطاعت گزار بن جاؤ قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہوجاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے، پھر تمھا ری مدد نہیں کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کا حکم مان لو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہیں کہیں سے مدد بھی نہ مل سکے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مرجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے مطیع بن جائو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آدھمکے، پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رجوع کرو تم لوگ اپنے رب کی طرف اور اسی کے حوالے کردو اپنے آپ کو اس سے پہلے کہ آپہنچے تم کو اس کا عذاب پھر تمہیں (کہیں سے بھی) کوئی مدد نہ مل سکے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے جب تمہیں کوئی مدد نہ پہنچ سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

Turn to your Lord and surrender yourselves to Him before the chastisement over-takes you; for then you will receive no help.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Turn passionately towards your Lord, and submit to Him before the punishment comes to you, after which you will not be helped.

— Muhammad Taqi Usmani

Turn passionately towards your Lord, and submit to Him before the punishment comes to you, after which you will not be helped.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And turn in repentance (and in obedience with true faith) to your Lord and submit to Him before the torment comes upon you, (and) then you will not be helped."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Turn unto your Lord repentant, and surrender unto Him, before there come unto you the doom, when ye cannot be helped.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And return [in repentance] to your Lord and submit to Him before the punishment comes upon you; then you will not be helped.

— Saheeh International

Turn in repentance to your Lord and submit to His will before you are afflicted with the torment after which you can receive no help.

— Muhammad Sarwar

And return to your Lord time after time and submit to Him before there comes to you the punishment, then you shall not be helped.

— Muhammad Habib Shakir

And turn penitently Unto your Lord and submit Unto Him ere there cometh Unto you the torment, and then ye shall not be succoured.

— Abdul Majid Daryabadi

"Turn ye to our Lord (in repentance) and bow to His (Will), before the Penalty comes on you: after that ye shall not be helped.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–59

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔ اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–54

سورة الزُّمَر 70 بعض لوگوں نے ان الفاظ کی یہ عجیب تاویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خود " اے میرے بندو " کہہ کر لوگوں سے خطاب کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا سب انسان نبی ﷺ کے بندے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک ایسی تاویل ہے جسے تاویل نہیں بلکہ قرآن کی بد ترین معنوی تحریف اور اللہ کے کلام کے ساتھ کھیل کہنا چاہیے۔ جاہل عقیدت مندوں کا کوئی گروہ تو اس نکتے کو سن کر جھوم اٹھے گا، لیکن یہ تاویل اگر صحیح ہو تو پھر پورا قرآن غلط ہوا جاتا ہے، کیونکہ قرآن تو از اول تا آخر انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ قرار دیتا ہے، اور اسکی ساری دعوت ہی یہ ہے کہ تم ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ محمد ﷺ خود بندے تھے۔ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–54

خلاصہ تفسیر آپ (ان سوال کرنے والوں کے جواب میں میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو (اور خیال نہ کرو کہ ایمان لانے کے بعد گزشتہ کفر و شرک پر مواخذہ ہوگا سو یہ بات نہیں بلکہ) بالیقین اللہ تعالیٰ (اسلام کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہوں کو (گو کفر و شرک ہی کیوں نہ ہو) معاف فرما دے گا واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے اور (چونکہ اس معافی کی شرط اور طریقہ کفر سے توبہ کرنا اور اسلام لانا ہے، اس لئے) تم (کفر سے توبہ کرنے کے لئے) اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 54 اللہ تعالیٰ رحمت کے طالبوں کے لئے صحیح راستہ یہ اس طریقہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے طالبوں کو اختیار کرنا چاہئے فرمایا کہ دوسرے مزعومہ وسائط و وسائل سے کٹ کر اپنے رب کی طرف رجوع کرو، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت و مغفرت کے طلب بنو اور خدا کے عذاب کے ظہور سے پہلے بالکلیہ اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دو۔ یعنی عبادت اور اطاعت دونوں بلاشرکت غیرے اسی کی کرو۔ من قبل ان یاتیکو العذاب سے عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے اتمام حجت کے بعد اس کے مکذبین پر لازماً آتا ہے۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–55

55۔ 1 یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کرلو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا علم و شعور بھی نہیں ہوگا، اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–55

آیت نمبر 54 تا 55 انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔ اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 مغفرت کی امید دلا کر یہاں سے توبہ کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی گذشتہ غلطیوں پر نادم ہو کر اور اللہ کے بےپایاں جود و کرم سے شرما کر کفر و عصیان کی راہ چھوڑو، اور اس رب کریم کی طرف رجوع ہو کر اپنے کو بالکلیہ اسی کے سپرد کردو۔ اس کے احکام کے سامنے نہایت عجزو اخلاص کے ساتھ گردن ڈال دو ۔ اور خوب سمجھ لو کہ حقیقت میں نجات محض اس کے فضل سے ممکن ہے۔ ہمارا رجوع وانابت بھی بدون اس کے فضل و کرم کے میسر نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کیا۔ جو کفار دشمنی میں لگے رہے تھے سمجھے کہ لاریب اس طرف اللہ ہے۔ یہ سمجھ کر اپنی غلطیوں پر پچھتائے۔ لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 { وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ } ”اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو ‘ اور اس کے فرمانبردار بن جائو“ { مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے ‘ پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

72 یعنی اللہ کی معافی کی دو شرطیں ہیں۔ ایک تو اس کی طرف رجوع کرو یعنی اسلام لے آؤ اور دوسری اس کے احکام بجا لاؤ۔ یعنی آئندہ ایسے گناہوں سے پرہیز کرو گے تو پھر تمہارے سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کا اعلان عام ہے۔ لہذا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ اور یہ خطاب صرف مشرکین مکہ سے ہی نہیں بلکہ اس کا حکم عام ہے اور ہر غیر مسلم کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ یعنی اس مغفرت و رحمت کے لئے شرط بس یہی ہے کہ کفر سے رجوع کرو اور اسلام قبول کرو۔ قبل اس کے کہ اسلام نہ لانے کی صورت میں عذاب سے دو چار ہونا پڑے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–63

آیت نمبر 53 تا 63 ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانیبوا الی ربکم واسلموا لہ من قبل ان یاتیکم العذاب ثم لا تنصرون اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو (یعنی شرک سے توبہ کرو) اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو ‘ قبل اس کے کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے (اور) پھر (کسی کی طرف سے) تمہاری مدد نہ کی جائے۔ اَسْلِمُوْا لَہٗ اس کی فرمانبرداری کرو۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمْ الْعَذَابُ (حضرت مفسر کے نزدیک) العذاب سے مراد ہے قبر کا عذاب ‘ یا قیامت کے دن کا عذاب جبکہ ایمان سودمند نہ ہوگا۔ یعنی قبر کے اندر یا قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے سے پہلے توبہ کرلو اور فرمانبردار ہوجاؤ ‘ کیونکہ اس وقت تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کفر سے توبہ کر کے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب نازل ہونے لگے کیونکہ عذاب الہی تم سے نہیں روکا جائے گا۔ یہ آیت مبارکہ قاتل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ۔ : ”أَنَابَ یُنِیْبُ إِنَابَۃً“ رجوع کرنا، پلٹ آنا۔ ”تَابَ یَتُوْبُ“ کا معنی بھی یہی ہے۔ چونکہ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو حالت کفر میں اپنے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے اسلام لانے سے ہچکچا رہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ اس کے لیے تمہیں موت سے پہلے پہلے کفر سے توبہ کرنا ہوگی، کیونکہ اس کے بعد توبہ کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی پھر کوئی تمہاری مدد کرے گا۔ ہاں ! تم کفر سے توبہ کرلو تو تمہارے پہلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 53–59

53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 54–58

اعمال صالحہ کی پابندی : 1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموالہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے لئے اسلام لے آؤ) یعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے عبید بن یعلی (رح) سے روایت کیا کہ انابت سے مراد ہے دعا کرنا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ (کبھی کل قیامت کے دن کوئی کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی) یعنی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے لوگوں کی بات کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا بات کریں گے اور ان کے عمل کرنے سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنِيْبُوْٓا [اور تم لوگ رخ کرو ] اِلٰى رَبِّكُمْ [اپنے رب کی طرف ] وَاَسْلِمُوْا لَهٗ [اور فرمانبرداری کرو اس کی ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ [پہنچے تمہارے پاس عذاب ] ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ [پھر تمہاری مدد نہ کی جائے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَاَنِیبُوْا اِِلٰی رَبِّکُمْ ) (اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے) اس آیت میں اللہ کی طرف رجوع ہونے اور اس کا فرمانبردار بننے کا حکم دیا اور فرمایا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت مدد نہ کی جائے گی۔ لفظ ” وَاَنِیبُوْا “ اِنَابَۃٌ سے مشتق ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ انابۃ اور توبہ میں یہ فرق ہے کہ توبہ کرنے والا عذاب کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے اور انابت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے کرم اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–63

بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔ (ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 53–54

54:۔ ” قل یٰعبادی الخ “ یہ ترغیب الی التوحید ہے۔ میرے پیغمبر ! میرے ان بندوں سے کہہ دیں جنہوں نے شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ بلکہ شرک سے سچی توبہ کر کے صرف مجھے ہی پکاریں تو میں ان کے سارے گناہ معاف کردوں گا۔ کیونکہ غفور و رحیم میں ہی ہوں۔ ان اھل مکۃ قالوا یزعم محمدان من عبدالوثن وقتل النفس بغیر حق لم یغفر لہ فکیف ولم نہاجر و قد عبدانا الاوثان و قتلنا النفس فنزلت (بیضاوی) ۔ شان نزول اگرچہ خاص ہے لیکن مفہوم کے لحاظ سے آیت کا حکم عام ہے۔ اور اس میں ہر گنہگار کو اللہ کی رحمت ومغفرت کی امید دلائی گئی ہے۔ ” وانیبوا الی ربکم الخ “ اور معاصی کو ترک کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–63

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۝ 54 نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طررجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔ تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنِیْبُـوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَـہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُوْنَ ۔ (الزمر : 54) (اور لوٹ آئو اپنے رب کی طرف، اور اس کے مطیع بن جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آدھمکے، پھر تم مدد نہیں کیے جاؤ گے۔ ) رحمت کے طلب گاروں کے لیے رہنمائی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس طریقے کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف متوجہ ہونے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی شخصیت، اپنی صلاحیتوں، اپنے رویوں اور اپنے رجحانات کا رخ بدلو۔ آج تک تم نے کبھی تو خواہشات کی پیروی کی، کبھی شیطان کی اطاعت کی، کبھی مفادات کی ہوس نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–58

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔ گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت، اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ یعنی توبہ کرو، آیت، اور اس کی فرماں برداری کرو۔ اس کی خاطر مخلصانہ عمل کرو۔ آیت، اس سے قبل کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے پھر تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔ اگر تم نزول عذاب سے قبل توبہ نہ کرو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 54۔ ، وانیبوالی ربکم، متوجہ ہوجاؤ اور لوٹواسی کی طرف فرمانبر داری کے ساتھ ، واسلموالہ، اور تم خالص کرو اس کے لیے توحید کو، من قبل ان یاتیکم العذاب ثم لاتنصرون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–58

53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–60

آیت 53 اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

101 انابت و رجوع الی اللہ کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رجوع کرو تم لوگ اپنے رب کی طرف اور اسی کے حوالے کردو اپنے آپ کو "۔ ایمان صحیح اور عمل صالح کے ذریعے کہ اس کے قرب اور اس کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہونے کیلئے یہی دو اہم اور بنیادی شرطیں ہیں۔ پس تم صدق دل سے انکے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرو کہ اس کی رحمت و بخشش سے سرفرازی کا یہی ذریعہ ہے۔ سو اس ارشاد سے اس طریقے کی ہدایت و راہنمائی فرما دی گئی جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی بخشش کے حصول اور اس کے یہاں سرفرازی اور فائز المرامی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے مزعومہ اور خود ساختہ وسائل و وسائط کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔ 1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔ 2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔ 3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔ 4 ۔ جو نیک کام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–63

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63: اسرار و معارف : نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 54–57

ف 1 یعنی جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر الزام دھرنے لگے کہ اسی نے مجھے ہدایت نہ دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ اور قرآن کو اپنی طرف سے حجت تمام کردی ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:54) وانیبوا۔ میں واؤ عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ ماقبل لاتقنطوا پر ہے۔ انیبوا فعل امر، جمع مذکر حاضر انایۃ (افعال) مصدر سے۔ تم رجوع ہوجاؤ اس کا مادہ نوب ہے۔ النوب کی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ شہد کی مکھی کو توب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قرار گاہ کی طرف لوٹ لوٹ کر جاتی ہے الانابۃ الی اللّٰہ توبہ اور اخلاص عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔ اسلموالہ : اسلموا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اسلام (افعال) مصدر تم اس کے تابع فرماں رہو۔ تم اس کے فرمانبردار رہو۔ ان یاتیکم میں ان مصدریہ ہے یاتی مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر من قبل ان یاتیکم العذاب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–63

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–55

مصیبت کے وقت خدا کو یاد کرنا چاہیے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور کلمہ توحید ، لا الہ الا اللہ کہا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت وقیامت کے قائل نہیں نفرت کرتے ہیں اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے اور جب خدا کے اور شریکوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی لات وعزی منات وغیرہ بتوں کا تو وہ خوش ہوتے ہیں آگے فرمایا تم جو اللہ سے دعا مانگو اسی کی طرف متوجہ ہو اور کہواے اللہ ہم کو خبر دے بہتری کا ارادہ ہمارے ساتھ ہو تو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو باتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا بھی واقف عالم ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–59

[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یہ آیت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مایوسی گناہ ہے ۔ اور ناامیدی کفر ہے ۔ اللہ کی مغفرت کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اور اس کا عفو ہر معصیت پر چھا رہا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو گناہوں کے بوجھتلے دبے ہوئے ہیں ازراہ مایوسی کفر کی راہ اختیار نہ کرلیں ۔ خدا کی طرف آئیں ۔ اس سے باتیں کریں ۔ اس کو ان گناہ گاروں سے زیادہ محبت ہے جو شرم وندامت کے احساس کے ساتھ اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکتے ہیں ۔ اور وہ ان بندوں کو زیادہ پسند کرتا ہے ۔ جو بار بار اپنے نقائص کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اور اس کی کبریائی اور رفعت کا اعلان کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) اور تم توبہ کرنے کی غرض سے اپنے پروردگار کی جانب رجوع ہو اور اس کے فرمانبردار اور اطاعت گزار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب واقع ہو پھر تم کہیں سے مدد بھی نہ کئے جاسکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اسلام غالب کیا جو کافر دشمنی میں لگے تھے سمجھے کہ برحق اس طرح اللہ ہے اور پچھتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہوگی دشمنی کی لڑائی لڑے جانیں ماریں تب اللہ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ نہیں جس کی توبہ اللہ قبول نہ کرے ناامید مت ہو توبہ کرو اور رجوع ہوئو بخشے جائو گے مگر جب سر پر عذاب آیا یا موت نظر آنے لگی تب کی توبہ قبول نہیں۔ خلاصہ : یہ کہ قبل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی معانی کی شرط طریق کفر سے تو بہ کرنا اور اسلام لانا ہے۔ 3۔ یعنی جیسا اسلام لانے کی صورت میں اب کفر و شرک معاف ہوجاوے گا اسی طرح اسلام نہ لانے کی صورت میں اس کفر و شرک پر عذاب ہوگا جس کا کوئی دفعیہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ایسا نہ ہو کہ تم کو عذاب الہٰی لپیٹ لے لے 54 گزشتہ آیت میں جو کفار ومشرکین اور دوسرے سارے انسانوں سے خطاب تھا خواہ وہ کون ، کہاں اور کیسے ہوں جب سارے انسانوں کے ساتھ رحمت الہٰی کا یہ برتائو ہے تو اہل ایمان کے ساتھ خواہ وہ کتنے گنہگار کیوں نہ ہوں اگر وہ سچے دل سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور شفقت کا کون اندازہ کرسکتا ہے گویا زیر نظر آیت میں بھی ان سب ہی انسانوں سے خطاب ہے بشمول مسلمانوں کے کہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئو اور اس کے حضور سر تسلیم خم کر دو اس روز سے پہلے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب بطور نشان بن کر آجائے۔ پہلے تم اپنے رب ِ کریم کی جانب رخ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

Commentary Verse 53 opens with the words: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا (0 servants of Mine who have acted recklessly against their own selves, do not despair of Allah's mercy. Surely, Allah will forgive all sins.). Taba` i, Said Ibn Jubayr reports from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that there were some people who had killed a lot of people unjustly and had committed a lot of shameful acts. They came to the Holy Prophet ﷺ and submitted before him, 'The religion you invite us to is, no doubt, very good, but we have a problem. We think about all those major sins we have already committed.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

70 Some commentators have given a strange interpretation to these words. They say that Allah Himself has commanded the Holy Prophet to address the people as "My servants" therefore, all men are the servants of the Holy Prophet. This interpretation is no interpretation at all but a worst distortion of the meaning of the Qur'an and indeed tampering with the Word of Allah. If this interpretation were correct, it would falsify and negate the whole Qur'an. For the Qur'an, from the beginning to the end, establishes the concept that men are the servants of Allah alone, and its whole message revolves…

Read the full tafseer →